میرا نام اکشے ہے اور یہ 2021 کی بات ہے جب میری عمر صرف تئیس سال تھی۔ میں دہلی سے جموں ٹرک چلاتا تھا اور میرا اپنا ٹرک تھا جس پر میں اناج اور سامان کی سپلائی کا کام کرتا تھا۔ آج پانچ سال بعد بھی جب اُس رات کو یاد کرتا ہوں تو میرا پورا جسم کانپنے لگتا ہے۔
وہ جون کا مہینہ تھا، گرمی اپنے عروج پر تھی۔ میں پٹھانکوٹ سے اپنا ٹرک لے کر واپس پہاڑی علاقے کی طرف جا رہا تھا کیونکہ وہاں ایک کنٹریکٹر کو سیمنٹ کا سامان پہنچانا تھا۔ میرا ہیلپر رام میرے ساتھ تھا لیکن پٹھانکوٹ کے بس اڈے کے قریب اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اس لیے میں نے اسے وہیں اتار دیا۔
شام چھ بجے مجھے نکلنا تھا لیکن ٹرک پنکچر ہو گیا اور دیر ہو گئی۔ جب واپس سفر شروع کیا تو رات کے ساڑھے دس بج چکے تھے۔ میں نے سوچا کہ ہائی وے سے جانے کی بجائے پہاڑی جنگلی راستہ لے لوں جو سیدھا اودھم پور نکل جاتا ہے تاکہ وقت بچ جائے۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس نے میری پوری زندگی بدل کر رکھ دی اور مجھے ایسا تجربہ دیا جس کے بارے میں سوچ کر آج بھی میری روح کانپ جاتی ہے۔
رات کے گیارہ بجنے والے تھے جب میں نے مین روڈ چھوڑا اور اپنا بھاری ٹرک پہاڑوں کی کچی سڑک کی طرف موڑا۔ وہاں سے جنگل کا کچا اور تنگ راستہ شروع ہوتا ہے جہاں بمشکل ایک ٹرک گزر سکتا تھا۔ چاروں طرف چیڑ اور بانجھ کے بہت بڑے بڑے پرانے درخت تھے جن کی موٹی شاخیں سڑک کے اوپر جھک کر ایک دوسرے سے مل رہی تھیں جیسے کوئی قدرتی اندھیری سرنگ بنا دی ہو۔ چاند پورا چودھویں کا روشن تھا لیکن اس کی روشنی درختوں کی موٹی شاخوں اور گھنے پتوں کی وجہ سے زمین تک بہت کم آ رہی تھی۔ صرف میرے ٹرک کی دو بڑی ہیڈ لائٹیں سامنے کا ٹیڑھا میڑھا راستہ دکھا رہی تھیں۔
میں آہستہ آہستہ گیئر بدل کر ٹرک چلا رہا تھا کیونکہ راستہ بہت خطرناک تھا، ایک طرف پہاڑ تھا اور دوسری طرف گہری کھائی۔ میں تقریباً بیس منٹ چلا تھا کہ اچانک ایک تیز موڑ پر پہنچا تو ٹرک کی دونوں لائٹیں ٹمٹمائیں اور بند ہو گئیں۔ پھر انجن میں سے عجیب آوازیں آنے لگیں اور وہ بھی آہستہ آہستہ بند ہونے لگا۔ میں نے گھبرا کر ایکسلریٹر دبایا، کلچ چھوڑا، گیئر بدلا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ٹرک مکمل طور پر بند ہو گیا اور اس کا وزن اتنا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف کھسکنے لگا۔ میں نے فوراً ہینڈ بریک کھینچی تاکہ ٹرک کھائی میں نہ گر جائے۔
میں نے اپنا موبائل نکالا تو نیٹ ورک بالکل صفر تھا اور بیٹری بھی صرف دس فیصد باقی تھی۔ میں نے ٹرک سے اتر کر بونٹ کھولا اور موبائل کی روشنی میں انجن دیکھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آیا کہ مسئلہ کیا ہے۔ کوئی آواز نہیں تھی، نہ کوئی گاڑی، نہ جانور، نہ پرندے، نہ جھینگروں کی آواز، بالکل مکمل اور خوفناک خاموشی تھی جو مجھے بہت بے چین کر رہی تھی کیونکہ عام طور پر پہاڑوں میں رات کو کوئی نہ کوئی آواز ضرور ہوتی ہے۔
میں ٹرک کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں، رات بہت گہری ہو چکی تھی اور یہاں کوئی آنے والا نہیں تھا۔ اچانک ہوا کا ایک بہت تیز اور ٹھنڈا جھونکا آیا جس نے ٹرک کو بھی ہلا دیا اور اس کے ساتھ ایک بہت عجیب اور خوفناک سڑی ہوئی بو آئی جیسے کوئی بڑا جانور مرا ہوا پڑا ہو اور کئی دن سے سڑ رہا ہو۔ میں نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھا اور گھبرا گیا۔
پھر تقریباً پانچ منٹ بعد میں نے دور سے ڈھول کی آواز سنی . ڈھم ڈھم ڈھم ڈھم . ایک ہی رفتار سے مسلسل۔ میرے چہرے پر فوراً راحت کی مسکراہٹ آ گئی اور میں نے سوچا ضرور کسی گاؤں میں شادی ہو رہی ہوگی اور وہاں سے مدد مل جائے گی، شاید کوئی میکینک بھی مل جائے یا کم از کم کوئی جیپ والا مجھے آگے لے چلے۔
آواز میری طرف ہی آ رہی تھی اس لیے میں ٹرک کے پاس کھڑا انتظار کرنے لگا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ کوئی گانے کی آواز نہیں تھی، نہ شہنائی کی آواز، نہ کوئی شور شرابہ، نہ لوگوں کی بات چیت، صرف ڈھول ایک ہی رفتار سے مسلسل بج رہا تھا جو آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا تھا۔
تقریباً دس منٹ بعد جب میں نے روشنی دیکھی اور بارات قریب آئی تو منظر دیکھ کر میری سانسیں رک گئیں اور میری روح کانپ گئی۔ وہاں ایک سو سے زیادہ لوگ تھے، سب کے سب بالکل سفید پرانے زمانے کے کپڑوں میں ملبوس تھے جیسے میں نے آزادی سے پہلے کی پرانی تصویروں میں دیکھے تھے۔ درمیان میں ایک بہت بڑا، غیر معمولی طور پر بڑا کالا گھوڑا تھا جس کی آنکھیں بالکل سرخ تھیں جیسے خون سے بھری ہوں اور اس پر دولہا سفید شیروانی اور پگڑی میں بیٹھا تھا۔
لوگ ہاتھوں میں لالٹین پکڑے ہوئے تھے جو جل رہی تھیں لیکن کوئی ناچ نہیں رہا تھا، کوئی گا نہیں رہا تھا، کوئی بات نہیں کر رہا تھا، سب بالکل خاموش اور بے تاثر چہروں کے ساتھ چل رہے تھے اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ جب میں نے غور سے دیکھا تو ان میں سے کسی کے بھی پاؤں زمین کو نہیں چھو رہے تھے . وہ سب زمین سے تقریباً آدھا فٹ اوپر ہوا میں تیر رہے تھے اور کوئی چلنے کی آواز نہیں تھی۔
میرے دل نے چیخ کر کہا کہ اکشے فوراً ٹرک میں چڑھ جا اور دروازہ بند کر لے لیکن میری زبان نے ساتھ نہ دیا اور میرے منہ سے زور سے نکل گیا:
“بھائی لوگو! ذرا رکو! میری مدد کر دو! اور جیسے ہی یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے، ڈھول کی آواز اچانک بالکل بند ہو گئی، سارے لوگ ایک ہی لمحے میں رک گئے جیسے کسی نے ٹائم فریز کر دیا ہو اور پھر بہت آہستہ آہستہ، بہت ڈرانے والے انداز میں سب نے بالکل ایک ساتھ، ایک ہی وقت میں اپنی گردنیں میری طرف گھمائیں اور جب میں نے ان کے چہرے دیکھے تو میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے کیونکہ ان میں سے کسی کی بھی آنکھوں میں کوئی پتلی نہیں تھی، صرف دودھ جیسی سفیدی تھی، بالکل خالی۔
بارات کے بالکل پیچھے سے ایک بہت بوڑھا آدمی آہستہ آہستہ میری طرف چلتا ہوا آگے آیا جس کی بہت لمبی سفید داڑھی سینے سے نیچے گھٹنوں سے بھی آگے تک لٹک رہی تھی اور بال بکھرے ہوئے اور گندے تھے۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُس کی آنکھیں بھی باقیوں کی طرح سفید تھیں اُس نے بہت گہری اور خوفناک آواز میں جو کسی اندھے کنویں سے آتی معلوم ہو رہی تھی، پوچھا “کون ہے تو؟ اتنی رات گئے اس جنگل میں؟”
میں پوری طرح کانپ رہا تھا، میرے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے لیکن میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا “جی میرا نام اکشے ہے، میں ٹرک ڈرائیور ہوں اور میرا ٹرک یہاں خراب ہو گیا ہے۔”
بوڑھے نے میری طرف بڑھ کر میرے کندھے کو چھوا اور اُس کا ہاتھ برف سے بھی ہزار گنا زیادہ ٹھنڈا تھا، ایسا لگا جیسے کسی مردے نے مجھے چھوا ہو۔ میں نے کانپتے ہوئے کہا “اگر آپ کے پاس موبائل ہو تو ایک فون کر لوں یا کوئی میکینک کا پتہ بتا دیں یا کوئی گاڑی ہو تو مجھے آگے چھوڑ دیں۔”
بوڑھے نے ایک نہایت عجیب اور خوفناک ہنسی نکالی ، جس سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی، اور کہا: “موبائل؟ مکینک؟ بیٹا، ہمارے پاس تو وقت ہی نہیں رکتا۔ ہم ستر سال سے اسی جنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
پھر وہ میری طرف قریب آتے ہوئے بولا: “لیکن چونکہ تم خود ہمارے سامنے آ گئے ہو، تم نے ہمیں بلایا ہے، تو اب تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ بارات مکمل کرنی ہوگی۔
میں نے فوراً انکار کیا اور کہا “نہیں نہیں، معاف کیجیے، میں غلطی سے آ گیا، میں چلا جاتا ہوں” اور میں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اسی لمحے دو بہت طاقتور آدمیوں نے آ کر میرے دونوں بازو اتنی سختی اور مضبوطی سے پکڑ لیے کہ مجھے بہت درد ہوا۔ ان کے ہاتھ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈے، اور بے جان تھے جیسے مردہ مچھلی کی کھال ہو۔ میں نے بہت زور سے چیخ کر کہا “بھگوان کے واسطے چھوڑ دو مجھے! میری ماں گھر میں انتظار کر رہی ہے!” لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، ان کی پکڑ لوہے کی زنجیروں سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔
پھر ایک بہت عجیب اور خوفناک چیز ہوئی، میرے پاؤں میری مرضی کے بغیر خود بخود چلنے لگے، میں رکنا چاہتا تھا لیکن میرا جسم میرے قابو میں نہیں تھا، جیسے کسی نے میرے جسم پر قبضہ کر لیا ہو۔ ڈھول دوبارہ اسی ایک رفتار سے بجنے لگا . ڈھم ڈھم ڈھم ڈھم . اور پوری بارات آگے چلنے لگی اور میں مجبوری میں ان کے بیچ میں تھا۔
ہم جنگل میں مزید گہرائی میں جاتے رہے، کانٹوں میں سے، جھاڑیوں میں سے، بڑے بڑے درختوں کے درمیان سے لیکن وہ سب تیرتے ہوئے جا رہے تھے اور ان میں سے کسی کو بھی کوئی چیز نہیں روک رہی تھی جبکہ میرے پاؤں زمین پر تھے اور لہولہان ہو رہے تھے، کانٹے چبھ رہے تھے، پتھر لگ رہے تھے۔
تقریباً آدھا گھنٹہ اسی طرح چلنے کے بعد ہم ایک کھلی جگہ پر پہنچے جہاں ایک بہت پرانی اور خوفناک حویلی تھی جس کی دیواریں جگہ جگہ سے گری ہوئی تھیں، کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، دروازہ زنگ آلود تھا اور چھت کے بڑے بڑے حصے گرے ہوئے تھے لیکن اندر سے لالٹین کی پیلی اور لرزتی ہوئی روشنی آ رہی تھی۔
حویلی کا بہت بڑا لکڑی اور لوہے کا پرانا دروازہ اپنے آپ بہت خوفناک آواز کے ساتھ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ میں نے بہت زور سے چیخ کر کہا “نہیں! میں اندر نہیں جاؤں گا! مجھے جانے دو!” لیکن مجھے زبردستی اندر کی طرف کھینچا گیا۔ جب میں دروازے کے بالکل قریب پہنچا تو میں نے دروازے کی لکڑی کی موٹی چوکھٹ پر سوکھے ہوئے خون سے لکھا دیکھا . “جو یہاں داخل ہوا، وہ کبھی واپس نہ گیا۔” یہ پڑھ کر میری آتما نکل گئی۔
اندر ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں دیواروں پر پرانے زنگ آلود فانوس جل رہے تھے، ان کی لرزتی روشنی میں سایے ناچ رہے تھے اور زمین پر پھٹے بوسیدہ اور گندے قالین بچھے تھے۔ کونوں میں مکڑی کے بہت موٹے جالے تھے اور ہر طرف مٹی اور کوڑے کا ڈھیر تھا۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک پرانی لکڑی کی چارپائی رکھی تھی، جس پر سرخ بوسیدہ کپڑا بچھا ہوا تھا، اور اس پر ایک لڑکی دلہن کے لباس میں بالکل مجسمے کی طرح بیٹھی تھی۔
اس نے بھاری سرخ لہنگا پہن رکھا تھا، سر پر دوپٹہ تھا، چہرے پر گھونگھٹ ڈلا ہوا تھا، ہاتھوں میں پرانی مہندی کے نشانات تھے اور گلے میں سونے کے بھاری زیورات تھے۔ لیکن وہ بالکل بھی نہیں ہل رہی تھی، سانس تک نہیں لے رہی تھی.بالکل ایک مجسمے کی طرح۔ بارات کے تمام لوگ ہال میں داخل ہو کر دونوں طرف لمبی لائنوں میں کھڑے ہو گئے اور ڈھول کی آواز بند ہو گئی، پھر لالٹین دیوار پر لٹکا دی گئیں اور ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ وہ بوڑھا آہستہ آہستہ میرے پاس آیا اور اس کا چہرہ لالٹین کی روشنی میں اور بھی زیادہ خوفناک لگ رہا تھا۔ اس نے بہت آہستہ اور دردناک آواز میں کہا “بیٹا اکشے، یہ میری بیٹی رادھا ہے” اور پھر اس نے بہت آہستہ سے آگے بڑھ کر دلہن کا سرخ گھونگھٹ اٹھایا۔
میں چیخنا چاہتا تھا، بھاگنا چاہتا تھا لیکن میری آواز میرے گلے میں ہی اٹک گئی اور میرے پاؤں جم گئے کیونکہ دلہن کا چہرہ دیکھ کر میری جان نکل گئی۔ اس کا پورا چہرہ گہرا نیلا اور جامنی رنگ کا تھا، آنکھیں بند تھیں لیکن پلکیں بہت پھولی ہوئی تھیں، گلے پر بہت واضح طور پر پانچ انگلیوں کے گہرے نیلے نشانات تھے جیسے کسی نے بہت مضبوطی سے گلا دبایا ہو، منہ تھوڑا سا کھلا تھا اور زبان تھوڑی باہر نکلی ہوئی تھی۔ یہ کوئی زندہ لڑکی نہیں تھی، یہ ایک بہت پرانی لاش تھی لیکن کیسے ستر سال بعد بھی ایسی حالت میں تھی؟
بوڑھے نے گہری سانس لی اور اس کی سفید آنکھوں سے خون کے آنسو نکلنے لگے اور اس نے پوری کہانی سنانی شروع کی۔ اس نے بتایا کہ یہ 1947 کی بات ہے جب تقسیم ہند کے خونی دن تھے۔ اس کی بیٹی دیویا کی شادی پٹھانکوٹ کے ایک بہت امیر تاجر خاندان کے لڑکے لکشمن سے طے ہوئی تھی۔ شادی کی بہت تیاریاں ہوئیں، یہ حویلی سجائی گئی، دور دور سے مہمان آئے، کھانا بنا، گانے ہوئے۔ لیکن لکشمن کو کسی اور لڑکی سے محبت تھی جو فسادات کی آگ میں بچھڑ گئی تھی اور کسی نے نہیں جانا کہ وہ زندہ تھی یا مر گئی۔
شادی سے ایک رات پہلے، بالکل چودھویں کی رات، لکشمن یہاں آیا اور اس نے رادھا سے کہا کہ وہ اس سے شادی نہیں کر سکتا۔ رادھا نے روتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، وہ سمجھتی ہے، شادی توڑ دیں۔ لیکن لکشمن پاگل ہو چکا تھا، اس نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اس نے رادھا کا گلا پکڑ کر اسے قتل کر دیا۔
اگلی صبح جب بوڑھے کو حقیقت کا پتا چلا تو اس نے، اس کی بیوی نے اور تمام رشتہ داروں نے اسی حویلی میں زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ اُس دن سے وہ سب یہیں پھنسے ہوئے ہیں اور ہر چودھویں کی رات بارات نکالتے ہیں تاکہ رادھا کی شادی ہو سکے، لیکن ستر سال گزر جانے کے باوجود انہیں کوئی دولہا نہیں ملا۔
بوڑھے نے میرے دونوں کندھے بہت مضبوطی سے پکڑے اور کہا “آج ستر سال بعد قسمت نے تمہیں بھیجا ہے، تم رادھا سے شادی کرو گے اور پھر ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ یہاں رہو گے۔”
دو بہت طاقتور آدمیوں نے مجھے زبردستی پکڑ کر چارپائی کے بالکل سامنے کھڑا کر دیا اور میں کتنی بھی مزاحمت کرتا رہا لیکن میرا جسم میرے قابو میں نہیں تھا۔ پھر ایک بہت بوڑھی عورت جو شاید بوڑھے کی بیوی تھی، آئی اور اس نے ایک بہت پرانا پھولوں کا سہرا اٹھایا جس سے بہت خراب بو آ رہی تھی اور اسے میرے سر پر رکھنے لگی۔ میں نے بہت زور سے چیخ کر کہا “نہیں! نہیں! میں یہ شادی نہیں کروں گا! میری ماں ہے، میرا پریوار گھر میں انتظار کر رہا ہے!” لیکن کسی نے نہیں سنا۔
سہرا میرے سر پر رکھ دیا گیا اور پھر سب سے خوفناک چیز ہوئی . رادھا کی وہ نیلی لاش آہستہ آہستہ کھڑی ہونے لگی، اس کی بند آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں اور وہ بالکل سفید تھیں وہ سیدھی میری طرف گھور رہی تھیں۔ اس کے نیلے اور ٹھنڈے ہاتھ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھنے لگے۔
میں بہت کانپ رہا تھا اور میری سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔ بوڑھے نے کہا “اب جلدی سے ہاں کہو، قبول کرو اسے۔” میں نے سر ہلا کر انکار کیا لیکن پھر میرے اپنے منہ نے میری مرضی کے بغیر بولنا شروع کیا “مجھے قبول ہے…” اور میں خود اپنی آواز سن کر گھبرا گیا کیونکہ یہ میں نہیں تھا، کوئی اور میری زبان استعمال کر رہا تھا۔
رادھا کی لاش بالکل میرے سامنے آ گئی، اس کے ٹھنڈے ہاتھ میرا چہرہ چھونے والے تھے اور میں اس کے منہ سے آنے والی مردار کی خوفناک بو محسوس کر سکتا تھا۔ اسی خوفناک لمحے میں مجھے اچانک اپنی ماں یاد آئی جنہوں نے مجھے بچپن میں ٹرک چلانے سے پہلے ہمیشہ کہا تھا — “بیٹا اکشے، سفر پر جانے سے پہلے ہنومان چالیسہ پڑھ لیا کرو اور اگر کبھی کسی بھی بڑی سے بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ تو بجرنگ بلی کا نام لینا، وہ ضرور مدد کریں گے۔”
میں نے اپنی آنکھیں زور سے بند کیں اور دل ہی دل میں بھگوان کو یاد کرنے لگا۔ اچانک میرے اردگرد عجیب سی چیخیں گونجنے لگیں، جیسے بہت سے لوگ ایک ساتھ درد سے چلا رہے ہوں۔ بوڑھا گھبرا کر چیخا،
“نہیں! اسے روکو!” لیکن میں رکا نہیں۔ میں مسلسل دعا مانگتا رہا۔ لالٹین کی روشنیاں تیز ہو کر جھلملا نے لگیں۔ رادھا پیچھے دیوار سے جا لگی۔ باقی سب لوگ تڑپنے لگے اور زمین پر گر گئے۔
میں اونچی آواز میں بھگوان کو پکارتا رہا، یہاں تک کہ اچانک سب کچھ خاموش ہو گیا۔ بوڑھا میرے پاؤں میں گر گیا اور خون کے آنسو روتے ہوئے کہنے لگا “براہ کرم ہماری مدد کرو! ہم سب یہاں ستر سال سے پھنسے ہیں! ہمیں آزاد کرو!” لیکن میں رکا نہیں اور پڑھتا رہا۔
حویلی بہت زور سے کانپنے لگی، دیواریں ہلنے لگیں، پتھر اور اینٹیں گرنے لگیں، چھت سے مٹی کا مسلسل برساؤ ہونے لگا اور پھر اچانک ایک بہت زور کا دھماکہ ہوا جیسے کوئی بہت بڑا بم پھٹ گیا ہو۔ ایک بہت تیز اور چمکیلی سنہری روشنی پوری حویلی میں پھیل گئی جس نے سب کچھ ڈھانپ دیا اور میں نے اپنی آنکھیں بہت مضبوطی سے بند کر لیں
جب میری آنکھ کھلی تو صبح کی تازہ روشنی تھی، سورج آسمان پر نکل آیا تھا میں سڑک کے کنارے گھاس پر لیٹا ہوا تھا، بالکل وہی جگہ جہاں میرا ٹرک خراب ہوا تھا۔
میں نے فوراً اٹھ کر چاروں طرف دیکھا . میرا ٹرک وہیں کھڑا تھا، کوئی حویلی نہیں تھی، کوئی بارات نہیں تھی، کوئی بوڑھا نہیں تھا، صرف خوبصورت سبز جنگل تھا جو صبح کی روشنی میں بالکل پرسکون لگ رہا تھا۔
لیکن جب میں نے اپنے کپڑے دیکھے تو وہ پھٹے ہوئے تھے، مٹی سے اٹے ہوئے تھے اور میرے پاؤں زخمی اور لہولہان تھے۔ پھر میں نے اپنی قمیض کی آستینیں اوپر کیں تو دونوں بازوؤں پر بہت گہرے نیلے اور جامنی رنگ کے نشانات تھے، بالکل پانچ پانچ انگلیوں کے نشانات جیسے کسی نے بہت مضبوطی اور طاقت سے پکڑا ہو۔ اور جب میں نے اپنے ٹرک کے پاس زمین پر دیکھا تو وہاں ایک بہت پرانا پھولوں کا سہرا پڑا تھا جو میں نے جیسے ہی اٹھانے کی کوشش کی، مٹی ہو کر بکھر گیا۔
میری آنکھوں میں شکر گزاری کے آنسو آ گئے، میں نے فوراً زمین پر گھٹنے ٹیکے اور ہاتھ جوڑ کر کہا بھگوان تیرا لاکھ لاکھ شکریہ، تو نے آج مجھے بچا لیا۔”
پھر میں نے کانپتے ہاتھوں سے ٹرک کا دروازہ کھولا، اندر بیٹھا اور چابی گھمائی تو ٹرک کا انجن فوراً چل پڑا جیسے کبھی کوئی خرابی ہوئی ہی نہ ہو۔ میں نے پیچھے مڑ کر بالکل نہیں دیکھا اور تیز رفتاری سے گیئر بدلتے ہوئے سیدھا مین ہائی وے کی طرف ٹرک دوڑا دیا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنی ماں کو سارا واقعہ تفصیل سے سنایا تو سب گھبرا گئے۔
لیکن آج تک مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ سب کچھ صرف ایک خواب تھا یا حقیقت۔ کبھی دل کہتا ہے یہ واقعی ہوا، اور کبھی دماغ کہتا ہے کہ شاید سفر کی تھکن نے مجھے دھوکہ دیا۔ لیکن ایک بات طے ہے… اُس رات کے بعد میں پہلے جیسا کبھی نہیں رہا، اور آج تک وہ واقعہ میرے ذہن میں ایک راز کی طرح موجود ہے۔