جوانی کے دن تھے۔ میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا جو عشق پر دل و جان سے یقین رکھتے ہیں۔ آج سے تقریباً بارہ سال پہلے ایک لڑکی میرے کلینک میں آئی۔ وہ بہت بیمار تھی، بے حد کمزور اور نڈھال۔ میں نے اس کا معائنہ کیا اور علاج شروع کیا۔ وہ غیر معمولی طور پر خوبصورت تھی۔ اُس کی نیلگوں آنکھیں، گندمی رنگت اور معصوم چہرہ دل کو چھو لینے والا تھا۔ نہ جانے مجھے کیا ہوا، پہلی ہی نظر میں میرا دل اُس کے لیے دھڑکنے لگا، مگر میں نے اپنے جذبات کو خاموشی کے پردے میں چھپا لیا۔ علاج جاری رہا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی۔ جب وہ آخری بار معائنے کے لیے آئی تو میں نے بڑی ہمت کرکے کہا، “اگر آپ مناسب سمجھیں تو کیا اپنا نمبر دے سکتی ہیں؟” یہ میری پیشہ ورانہ حدود کے خلاف تھا، مگر میں جوان بھی تھا اور نادان بھی۔ اُس نے چند لمحے میری طرف دیکھا، ہلکا سا مسکرائی، پھر خاموشی سے اپنا نمبر میرے حوالے کر دیا۔
میں نے شام کو اسے فون کیا۔ اُس نے فوراً میری آواز پہچان لی اور مسکراتے ہوئے بولی، “جی ڈاکٹر صاحب، مجھے یقین تھا آپ کا فون ضرور آئے گا۔” میں نے پوچھا، “آپ کیا کر رہی ہیں؟” وہ آہستہ سے بولی، “بس… حالات سے لڑ رہی ہوں۔” میں نے بات کو ہنسی میں اُڑا دیا اور کہا، “بھلا حالات سے بھی کوئی لڑتا ہے؟” پھر میں نے پوچھا، “آپ کہاں رہتی ہیں؟” اُس نے بات بدلتے ہوئے کہا، “ڈاکٹر صاحب، یہ چھوڑیں کہ میں کہاں رہتی ہوں، آپ یہ بتائیں کہ آپ نے مجھے فون کیوں کیا؟ میرا نمبر کیوں لیا؟” میں کچھ لمحے خاموش رہا، پھر دل کی بات زبان پر آ ہی گئی۔ میں نے کہا، “آپ جانتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنی خوبصورتی عطا کی ہے؟ آپ بہت پیاری ہیں۔” میری بات سن کر وہ خاموش ہو گئی، پھر دھیرے سے بولی، “ڈاکٹر صاحب، صرف پیارا ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ کاش نصیب بھی اتنے ہی خوبصورت ہوتے۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “کیوں؟ آپ کے نصیب کو کیا ہوا؟” وہ خاموش ہو گئی اور پھر بولی، “ڈاکٹر صاحب، کہیں آپ مجھ سے صرف وقت گزارنے کے لیے تو بات نہیں کر رہے؟” اتنے میں میرے پاس مریض آ گئے اور مجھے مجبوری میں فون بند کرنا پڑا۔
وقت گزرتا گیا اور ہماری باتوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن اُس نے اچانک کہا، “ڈاکٹر صاحب، میں آپ کے عشق کی حقیقت جانتی ہوں۔ آپ صرف یہ بتا دیں کہ کب اور کہاں ملنا ہے۔” اُس کی یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے فوراً جواب دیا، “تمہیں یہ بات کہنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، میں ایسا انسان نہیں ہوں۔” پھر میں نے اُس سے اُس کے گھر والوں کے بارے میں پوچھا۔ اُس نے آہستہ آواز میں بتایا، “میرے ساتھ صرف میری والدہ اور دو چھوٹی بہنیں ہیں۔ والد صاحب دنیا میں نہیں، اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں۔” میں نے پوچھا، “پھر گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟” وہ خاموش ہو گئی۔ اتنے میں عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تو اُس نے کہا، “ڈاکٹر صاحب، میں نماز پڑھ لوں؟” میں نے مسکرا کر کہا، “جی ضرور۔” وہ صرف دن کے وقت مجھ سے بات کرتی تھی، رات کو کبھی فون نہیں کرتی تھی۔ میں نے کئی بار کہا کہ رات کو بھی بات کر لیا کرو، مگر وہ ہمیشہ یہی کہتی، “میں رات کو جلدی سو جاتی ہوں، اس لیے بات نہیں کر سکتی۔” یوں ہماری گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر شادی کروں گا تو صرف اُسی سے۔
میں اُس کی بے حد عزت کرتا تھا، کیونکہ وہ پانچ وقت کی پابندی سے نماز ادا کرتی تھی۔ اُس کی دینداری کا اثر مجھ پر بھی ایسا ہوا کہ میں بھی باقاعدگی سے پانچ وقت نماز پڑھنے لگا۔ آہستہ آہستہ مجھے اُس پر اپنا سا حق محسوس ہونے لگا۔ وہ کھانے کے وقت مجھے پیغام بھیجتی اور بڑے پیار سے پوچھتی، “آپ نے کھانا کھا لیا؟” اگر میں کبھی دیر کر دیتا تو وہ ناراض ہو کر ڈانٹ بھی دیتی۔ مگر ایک بات وہ ہمیشہ کہا کرتی تھی، “ڈاکٹر ابرار، آپ بہت اچھے انسان ہیں۔ میں ہر نماز کے بعد دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک بہت اچھی ہمسفر عطا فرمائے۔” میں بے اختیار کہتا، “ایمان! میری ہمسفر تو صرف تم ہو، میں شادی بھی تم ہی سے کروں گا۔” وہ زور سے ہنس پڑتی اور کہتی، “نہیں ڈاکٹر صاحب، میں آپ کے قابل نہیں ہوں۔” پھر وہ بات ادھوری چھوڑ دیتی۔ مجھے آج بھی یاد ہے، میں جتنا بھی غصہ کرتا یا سخت لہجے میں بات کرتا، وہ کبھی ناراض نہ ہوتی۔ ایک مرتبہ اُس نے میرا فون نہیں اٹھایا، تو میں نے غصے میں اُسے بہت ڈانٹا۔ وہ خاموشی سے سب سنتی رہی، پھر آہستہ سے بولی، “ڈاکٹر صاحب، میں آپ پر قربان۔ جتنا چاہیں غصہ کر لیں، میں آپ کے قدموں سے لپٹ جاؤں گی۔” اُس کی یہ بے لوث محبت میرے دل کو مزید اُس کا اسیر بنا دیتی تھی۔ اسی دوران گھر میں میری شادی کی بات چلنے لگی۔ میں نے اپنے والدین سے صاف کہہ دیا، “مجھے ایک لڑکی پسند ہے، وہ مجھے بہت عزیز ہے، اور اگر شادی کروں گا تو صرف اُسی سے۔”
میرے والدین نے میری بات بڑے سکون سے سنی، پھر مسکرا کر کہا، “ٹھیک ہے پتر، جیسے تم چاہو۔ زندگی تو تم نے گزارنی ہے۔” اُن کی یہ بات سن کر میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ میں نے اپنی بہن، بھابھی اور امی کو ایمان کی تصویر دکھائی۔ سب نے ایک ہی بات کہی، “لڑکی بہت خوبصورت ہے۔” واقعی وہ بے حد حسین تھی۔ میں خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ گھر میں سب یہی منصوبہ بنا رہے تھے کہ جلد ہی ایمان کے گھر رشتہ لے کر جائیں گے۔ اسی خوشی میں میں نے ایمان کو فون کیا اور کہا، “ایمان! اپنے گھر کا پتہ بتا دو، میرے امی ابو آپ کے رشتے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔” میری بات سنتے ہی اُس نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔ میں بار بار کال کرتا رہا، مگر اُس کا نمبر بند آتا رہا۔ پانچ دن گزر گئے، نہ اُس کا فون کھلا، نہ کوئی خبر ملی۔ اُس نے کبھی اپنے گھر کا پتہ بھی نہیں بتایا تھا۔ میں شدید پریشان اور بے حد اداس ہو گیا۔
انہی دنوں میرے ایک قریبی دوست کی شادی تھی۔ اُس نے بہت اصرار کیا کہ مجھے ضرور آنا ہے۔ میرا دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا، مگر اُس کی ضد کے آگے مجبور ہو کر دوسرے شہر جانا پڑا۔ وہاں پہنچا تو دوست بڑے جوش سے کہنے لگے، “یار! آج بہت زبردست ڈانسر بلائی ہے، ایسا رقص کرتی ہے کہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں۔” مگر میرا دل تو کہیں اور ہی بھٹک رہا تھا۔ میں ایمان کی یاد میں گم تھا، یہی سوچ رہا تھا کہ وہ اچانک کہاں غائب ہو گئی۔ پروگرام شروع ہوا، میوزک بجا، لوگ سیٹیاں بجانے لگے، شور سے ہال گونج اٹھا۔ چند لڑکیاں ناچتی ہوئی اسٹیج پر آئیں، اور پھر اچانک میری نگاہ ایک چہرے پر جا کر ٹھہر گئی۔ وہ ایمان تھی… میرے سامنے، اسٹیج پر رقص کر رہی تھی۔ ایک لمحے میں جیسے میری پوری دنیا بکھر گئی۔ میری سانس رک گئی، جسم کانپنے لگا اور دل ٹوٹ کر رہ گیا۔
اُس کی بھی نظر مجھ پر پڑی تو اُس کے قدم وہیں رک گئے۔ اُس کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ فوراً اسٹیج سے نیچے اتری اور میری طرف بڑھنے لگی، شاید کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر غصے نے میری عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں نے اُس کے قریب آتے ہی زور سے ایک تھپڑ مار دیا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کرتی رہی، مگر میں نے دوسرا تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ اُس کی نظریں جھک گئیں، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے اُسے دھکا دیا۔ پورا ہال ہماری طرف دیکھ رہا تھا، ہر شخص حیران تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ ایمان وہیں زمین پر بیٹھ گئی، اپنا سر گھٹنوں میں چھپا کر رونے لگی، مگر میں نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور وہاں سے چلا آیا۔ گھر پہنچا تو دل میں شدید غصہ اور نفرت تھی۔ پوری رات بے چین رہا، دوست پوچھتے رہے کہ کیا ہوا ہے، مگر میں کسی کو کچھ نہ بتا سکا۔ اگلے دو دن میں ڈیوٹی پر بھی نہ جا سکا۔
دو دن بعد جب ہسپتال پہنچا اور مریض دیکھ رہا تھا تو ایک نوجوان لڑکی میرے کمرے میں آئی۔ اُس نے کہا، “ڈاکٹر صاحب، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” میں نے سر ہلا کر اجازت دی۔ وہ آہستہ سے بولی، “بات ایمان کی ہے۔” یہ نام سنتے ہی میرا ضبط ٹوٹ گیا۔ میں غصے سے چلایا، “اس کا نام مت لو!” وہ گھبرا گئی، مگر پھر بھی ہمت کرکے بولی، “ڈاکٹر صاحب، بس ایک بار میری بات سن لیں۔ وہ کوئی گندی لڑکی نہیں ہے، وہ حالات کی ماری ہوئی ہے، مجبور ہے۔ آپ صرف ایک بار اُس کے گھر جا کر دیکھ لیں، سب حقیقت سمجھ جائیں گے۔” پھر اُس کی آواز بھر آئی، “وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے، مگر ہمیشہ خود کو آپ کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔ ہر وقت آپ ہی کا ذکر کرتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب، وہ بہت اچھی لڑکی ہے، بس زندگی سے لڑتے لڑتے تھک گئی ہے۔ اُس کی والدہ کینسر کی مریضہ ہیں، دو چھوٹی بہنیں اسکول میں پڑھتی ہیں۔ وہ عزت کی زندگی گزارنا چاہتی تھی، مگر حالات نے اُسے ایسے راستے پر دھکیل دیا جہاں سے واپسی آسان نہ تھی۔ اس سے آگے میں کچھ نہیں کہوں گی… بس اتنا کہ اگر ہو سکے تو اُسے معاف کر دیجیے۔” میں خاموش بیٹھا رہا۔ اُس رات جب گھر واپس آیا تو میرے دل میں پہلی بار غصے کی جگہ بے شمار سوال، بے بسی اور گہرا دکھ اتر آیا۔
اگلے ہی دن میں اُس لڑکی سے لیا ہوا پتا لے کر اپنے والدین کے ساتھ ایمان کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو اُس کی چھوٹی بہن نے دروازہ کھولا۔ ہم اندر داخل ہوئے تو ایک سادہ سا گھر تھا۔ ایمان کی والدہ چارپائی پر لیٹی شدید کھانسی میں مبتلا تھیں۔ ہم اُن کے قریب گئے تو وہ مشکل سے اُٹھ کر بیٹھ گئیں اور بولیں، “آپ لوگ کون ہیں؟” میں نے اپنا تعارف کروایا، “میں ڈاکٹر ابرار ہوں۔” اسی دوران ایمان اپنے کمرے میں نماز ادا کر رہی تھی۔ میرے والدین نے نرمی سے کہا، “ہم آپ کی بیٹی کا رشتہ لینے آئے ہیں۔” نماز مکمل کرکے جب ایمان باہر آئی اور اُس نے مجھے دیکھا تو حیرت سے اُس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ آہستہ سے بولی، “ڈاکٹر صاحب… آپ یہاں؟” میں نے صرف ہلکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
میں نے اُس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ نہ اُس کے ماضی کا ذکر کیا، نہ اُس کی مجبوریوں کا۔ ایمان نے مجھے ایک طرف لے جا کر بار بار کہا، “ابرار، ایسا مت کریں۔ میں اچھی لڑکی نہیں ہوں، میں آپ کے قابل نہیں ہوں۔” میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا، “جس لڑکی کی وجہ سے میں پانچ وقت کا نمازی بن گیا، وہ بھلا بری کیسے ہو سکتی ہے؟ انسان کو اس کے حالات نہیں، اس کا کردار پہچان دیتا ہے۔ تم نے رزقِ حلال کی خاطر زندگی کی سختیاں برداشت کیں، مجبوریوں نے تمہیں ایک ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جسے تم نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ اب میں ہوں نا… سب کچھ بھول جاؤ۔ آج سے تمہارا ماضی نہیں، تمہارا مستقبل میری ذمہ داری ہے۔ آج سے تم میری عزت ہو۔” میری یہ بات سنتے ہی ایمان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کچھ ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا نکاح ہو گیا اور پھر ہم ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے شریکِ حیات بن گئے۔ بہت سے لوگوں کو شاید یہ فیصلہ ناممکن لگتا، مگر میرے نزدیک محبت صرف خوبصورتی کا نام نہیں، بلکہ عزت، اعتماد اور قبولیت کا نام ہے۔ میں نے کبھی کسی کے سامنے یہ بات ظاہر نہیں کی کہ ایمان نے اپنی زندگی میں کن حالات کا سامنا کیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ اپنی خواہش سے اُس راستے پر نہیں گئی تھی، بلکہ وقت، غربت اور مجبوریوں نے اُسے وہاں پہنچایا تھا۔ ایسے میں اگر میں بھی اُس کے ماضی کو لوگوں کے سامنے اچھالتا تو یہ اُس پر نہیں، بلکہ اپنی انسانیت پر کیچڑ اچھالنے کے برابر ہوتا۔
ایک دن ایمان میرے سینے سے لگ کر بہت دیر تک روتی رہی۔ پھر آنسوؤں میں بھیگی آواز میں بولی، “ابرار… کیا واقعی دنیا میں آپ جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں؟ میں نے تو ہمیشہ یہی دیکھا کہ لوگ عورت کی عزت چھین لیتے ہیں، مگر آپ نے میری عزت کو اپنا وقار بنا لیا۔” میں نے محبت سے اُس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، “اصل مرد وہ نہیں جو کسی باحیا عورت کی عزت پامال کر دے، بلکہ اصل مرد وہ ہے جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے، کسی مجبور عورت کی عزت کی حفاظت کرے اور اُسے دوبارہ باوقار زندگی جینے کا حوصلہ دے۔ انسان کا ماضی اُس کی آخری پہچان نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا کردار، اُس کی توبہ اور اُس کا حال ہی اُس کی اصل شناخت ہوتے ہیں۔” (ختم شد)