منہ زور مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ

منہ زور – مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ

​منگل کی شام میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ میری سیکریٹری فوزیہ نے بذریعہ انٹرکام مجھے اطلاع دی۔ “سر! زیب النساء آئی ہیں۔”
“کون زیب النساء……؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
“سر! وہ جو پہلے بھی دو تین بار آپ کا پوچھ کر گئی ہیں۔” فوزیہ نے بتایا۔
“اوہ. اچھا وہ۔” میں نے کہا۔ “ٹھیک ہے انہیں اندر بھیج دو۔”
آج جب میں عدالتی بکھیڑوں سے نمٹ نمٹا کر اپنے آفس آیا تو میری سیکریٹری فوزیہ نے مجھے بتایا تھا کہ کورنگی سے زیب النساء نامی کوئی عورت مجھ سے ملنے آئی تھی۔ اس نے کچھ دیر میرا انتظار کیا پھر دوبارہ آنے کا کہہ کر چلی گئی تھی اور وہ اب آئی تھی۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد زیب النساء میرے چیمبر میں داخل ہوئی۔ وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ بائیس تئیس سال کی ایک دبی پتلی لڑکی بھی تھی۔ فوزیہ یا تو مجھے اس لڑکی کے بارے میں بتانا بھول گئی تھی یا پھر ہو سکتا ہے پہلے پھیرے میں زیب النساء اکیلی ہی آئی ہو.
میں نے انہیں بٹھایا اور رسمی علیک سلیک کے بعد زیب النساء کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ “جی فرمائیں…… میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”
زیب النساء کی عمر پچاس سے متجاوز تھی۔ وہ ایک عام سی گھریلو عورت نظر آتی تھی۔ اس کے ہمراہ آنے والی لڑکی کے نقش و نگار بڑی حد تک زیب النساء سے مشابہت رکھتے تھے۔ میرے محتاط اندازے کے مطابق وہ زیب النساء کی بیٹی ہو سکتی تھی۔
“وکیل صاحب! عباسی صاحب نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے۔” اس نے پریشانی سے بھرے انداز میں کہا، پھر وہ میرے اندازے کی تصدیق کرتے ہوئے بولی۔ “یہ میری بیٹی ہے نورین!”

​میں نے نورین کی طرف دیکھتے ہوئے زیب النساء سے پوچھا۔ “آپ کون سے عباسی صاحب کا تذکرہ کر رہی ہیں؟”
“خورشید عباسی صاحب۔” اس نے جواب دیا۔ “وہ جو اخبار میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ آپ ہمارا مسئلہ حل کر دیں گے۔”
مجھے فوراً یاد آ گیا وہ خاتون کس عباسی کا ذکر کر رہی تھی۔ خورشید عباسی صاحب ایک سینئر صحافی تھے اور ان کی رہائش بھی کورنگی ہی کے علاقے میں تھی۔ خورشید عباسی سے میری بہت پرانی یاد اللہ تھی۔
میں نے کاغذ قلم سنبھال لیا اور گہری سنجیدگی سے پوچھا۔ “آپ کا مسئلہ کیا ہے؟”
“مسئلہ دراصل کاشف کا ہے” وہ ہچکچاہٹ آمیز لہجے میں بولی۔
“کاشف کون؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“کاشف محمود میرے بیٹے کا نام ہے جناب!” اس نے جواب دیا۔
“کاشف کو کیا ہو گیا ہے؟” میں نے پوچھا۔
“کاشف کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔” وہ بھرائی آواز میں بولی۔
“کس الزام میں؟” میں پوچھتے بنا نہ رہ سکا۔
“کاشف پر پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے نادرہ کو قتل کیا ہے۔” وہ روہانسی ہو گئی۔ “وکیل صاحب میں جانتی ہوں کاشف اس قسم کی حرکت نہیں کر سکتا۔ اس کی گرفتاری کے پیچھے مجھے کوئی گہری سازش نظر آ رہی ہے۔”
“ہوں.” میں گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر پوچھا۔ “یہ نادرہ کون تھی اور آپ کے بیٹے کا شف سے اس کا کیا کنکشن تھا؟”
“نادرہ!” وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بتانے لگی۔ “نادرہ بھی کورنگی ہی میں رہتی تھی۔ ہم سے دو گلیاں چھوڑ کر اس کا گھر ہے اور جہاں تک کاشف سے اس کے کنکشن کا تعلق ہے تو.” لمحاتی توقف کر کے اس نے گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولی۔
​”کاشف نادرہ کو پسند کرتا تھا۔”
“یعنی یہ محبت والا معاملہ تھا؟”
“کچھ ایسا ہی سمجھ لیں وکیل صاحب۔” زیب النساء نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔
“اگر آپ کا بیٹا مقتولہ نادرہ سے محبت کرتا تھا تو پھر اسے قتل کیسے کر سکتا ہے؟” میں نے الجھن زدہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“جناب! میں تو پہلے ہی آپ کو بتا چکی ہوں کہ کاشف ایسا کام کر ہی نہیں سکتا۔” وہ باری باری سے میری جانب دیکھتے ہوئے بولی۔ “یا تو پولیس کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یا پھر کاشف کو اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میرا بیٹا بالکل بے گناہ ہے.”
“پولیس کی غلط فہمیاں اور غرض نمائیاں تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “البتہ کسی سازش کے ذریعے پھنسانے والی بات کسی خفیہ دشمن کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ آپ کی نظر میں کاشف کا دشمن کون شخص ہو سکتا ہے؟”
“کوئی نہیں جی۔” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ “آج تک کسی سے اس کا لڑائی جھگڑا نہیں ہوا اور کام سے کام رکھنے والا بچہ ہے وکیل صاحب صبح ڈیوٹی پر جاتا ہے اور شام کو واپس آتا ہے۔”
میرے استفسار پر زیب النساء نے بتایا کہ کاشف صدر کے علاقے میں واقع جیولری کی ایک دکان میں کام کرتا تھا، وہ انگوٹھیاں وغیرہ بنانے کا ماہر کاریگر تھا۔ اس کی ڈیوٹی دن کے گیارہ بجے سے شام سات بجے ہوتی تھی۔ وہ گھر کا واحد کفیل بھی تھا پھر اس کے مرحوم والد کی پنشن کی مخصوص رقم آتی تھی کاشف کا باپ افتخار حسین ایک سرکاری محکمے سے ریٹائر ہوا تھا اور ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصے کے بعد اس کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا تھا۔ یہ صرف تین افراد کی فیملی تھی کاشف اس کی بہن نورین اور ان کی والدہ زیب النساء افتخار حسین نے دورانِ ملازمت میں سب سے اچھا کام یہ کیا تھا کہ ایک چھوٹا سا ذاتی گھر بنا لیا تھا جو ایک پلس پوائنٹ تھا۔
میں نے زیب النساء کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
​”کیا نادرہ کے گھر والوں کو اس عشقیہ معاملے کی خبر تھی؟”
“جی. یہ معاملہ کوئی چھپا ہوا نہیں تھا۔” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔
“مقتولہ نادرہ کے گھر والوں کی کاشف کے بارے میں کیا رائے تھی؟” میں نے پوچھا۔ “میرا اشارہ نادرہ اور کاشف کے معاملاتِ محبت کی طرف ہے.”
“وہ لوگ کاشف کو پسند نہیں کرتے تھے.” میں نے جواب دیا۔
“نادرہ کا کاشف کے ساتھ رشتہ طے تھا؟”
“جی بالکل۔” وہ تائیدی انداز میں بولی۔ “اور یہی بات تو نادرہ کے گھر والوں کو پسند نہیں تھی۔ اسی لیے انہوں نے.” وہ بولتے بولتے اچانک خاموش ہو گئی تو میں نے پوچھا۔
“اسی لیے انہوں نے کیا.؟”
“اسی لیے انہوں نے نادرہ کا رشتہ کہیں اور طے کر دیا تھا۔” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ “ایک ماہ بعد نادرہ اور فیصل کی شادی ہونے والی تھی۔” وہ لمحے بھر کے لیے ٹھہری پھر ایک بو جھل سانس خارج کرتے ہوئے بتایا۔
“فیصل نادرہ کا کزن ہے۔ وہ لوگ ادھر ہی انوکھیت (لیاقت آباد) میں رہتے ہیں۔ نادرہ فیصل کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اس نے اس رشتے سے صاف انکار کر دیا تھا لیکن گھر والوں نے زبردستی پہلے اس کی منگنی اور بعد میں شادی کی تاریخ پکی کر دی تھی”
“مقتولہ نادرہ کی شادی اس کے کزن فیصل سے ہونے والی تھی اور مقتولہ آپ کے بیٹے کاشف سے محبت کرتی تھی۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “اور شادی سے ایک ماہ پہلے نادرہ کا قتل ہو گیا۔ الزام آپ کے بیٹے کے سر ہے. نادرہ کو کب اور کہاں قتل کیا گیا ہے؟”
“ہمارے گھر سے ایک گھر چھوڑ کر ایک زیر تعمیر عمارت ہے۔ نادرہ کی لاش اسی عمارت میں سے ملی ہے۔” زیب النساء نے جواب میں بتایا۔ “اسے گزشتہ رات کسی وقت موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے.”
“نادرہ کا گھر سے دو گلیوں کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جائے وقوعہ یعنی وہ زیر تعمیر عمارت بھی نادرہ کے گھر سے دو گلیوں کے فاصلے پر ہے۔” میں نے سوالیہ انداز میں زیب النساء کی طرف دیکھا۔ “اگر مذکورہ عمارت میں سے نادرہ کی لاش دریافت ہوئی ہے تو اس کے قتل کے الزام میں آپ کے بیٹے کو کیوں گرفتار کیا گیا.؟”

​”یہ سب کارروائی صوفیہ کے بیان پر کی گئی ہے وکیل صاحب!” نورین نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔ “نادرہ کی لاش ملنے پر جب پولیس موقع پر پہنچی تو اس نے نادرہ کے گھر والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی صوفیہ نے پولیس کو جو بیان دیا اس کی روشنی میں آج دوپہر میں بھائی کو دکان پر سے گرفتار کر لیا گیا۔ ہمیں سہ پہر میں گرفتاری والے اس واقعے کی خبر ہوئی۔ ہم جو بھاگ دوڑ کر سکتے تھے وہ کی پھر عباسی صاحب نے ہمیں آپ کے بارے میں بتایا اور ہم آپ کے پاس آ گئے.”
نورین ایک ہی سانس میں بہت کچھ بتانے کے بعد خاموش ہوئی تو میں نے پوچھا۔ “یہ صوفیہ کون ہے؟”
“صوفیہ ہمارے پڑوس میں رہتی ہے وکیل صاحب!” نورین نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
“اس کا گھر نادرہ کے گھر اور زیر تعمیر عمارت کے بیچ میں ہے اور یوں صوفیہ نادرہ کی بہت گہری دوست ہے۔ اور وہ اکثر صوفیہ سے ملنے اس کے گھر آتی رہتی تھی۔”
“ہوں. میں نے سوچ میں ڈوبے لہجے میں کہا۔
“صوفیہ نے پولیس والوں کو بتایا ہے کہ نادرہ اور کاشف اکثر رات کی تاریکی میں اس زیر تعمیر عمارت میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔” زیب النساء وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ “اس کے اسی بیان پر پولیس والوں نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا، ہم سے نادرہ کے قتل کے بارے میں سوالات کیے۔ جب ہم نے لا علمی ظاہر کی تو وہ سیدھے کاشف کی دکان پر پہنچے اور اسے نادرہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ کاشف کی گرفتاری کے بارے میں دکان پر پہنچنے والے سہ پہر میں فون کر کے ہمیں بتایا اور ہم اس بنی بنائی پریشانی میں بھاگ دوڑ کرتے ہوئے بالآخر آپ تک پہنچ گئے ہیں۔”
“اس کے علاوہ آپ اس واقعے کے بارے میں اور کیا جانتی ہیں؟” میں نے اہم گواہ صوفیہ کے بارے میں گھماتے ہوئے سوال کیا۔
“ہمیں جو کچھ معلوم تھا وہ آپ کو بتا دیا۔” زیب النساء بڑی رحمان سے بولی۔ “اس کے علاوہ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ کاشف قاتل نہیں ہو سکتا۔ وہ تو نادرہ سے محبت کرتا تھا اس کی جان کیسے لے سکتا ہے۔”

​ایک بیٹے کے لیے اس کی ماں کے جذبات کی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن عدالت جذبات و احساسات کے بجائے ٹھوس ثبوت اور منطقی دلائل کو اہمیت دیتی ہے لہٰذا میں نے توجہ سے زیب النساء کی بات سنی اور سوال کیا۔
“نادرہ کی فیصل سے منگنی ہو جانے پر کاشف کا ردعمل کیا تھا؟”
“اسے اس منگنی اور بعد ازاں شادی کی تاریخ مقرر ہو جانے کا دکھ ہوا تھا۔” زیب النساء نے جواب دیا۔ “وہ بہت ہی اداس اور کھویا کھویا سا رہنے لگا تھا۔”
“اور نادرہ کی کیا کیفیت تھی؟” میں نے پوچھا۔
“ظاہر ہے جناب اسے بھی یہ شادی پسند نہیں تھی۔” زیب النساء نے سادہ سے لہجے میں بتایا۔ “وہ کاشف کو چاہتی تھی اور شادی بھی اس کے ساتھ کرنے کی خواہاں تھی لیکن بے چاری گھروالوں کی مرضی کے سامنے مجبور تھی۔”
“کیا کاشف نے نادرہ کو کسی جرات مندانہ اقدام کے لیے اکسانے کی کوشش نہیں کی تھی؟” میں نے معنی خیز انداز میں باری باری دونوں کی جانب دیکھا۔
“میں کچھ سمجھی نہیں وکیل صاحب!” زیب النساء نے الجھن زدہ نظر سے مجھے دیکھا۔
نورین میرا اشارہ بخوبی سمجھ گئی تھی جلدی سے بولی۔ “بھائی بہت ہی مصلح پسند انسان ہیں۔ ان کے اندر کسی انقلابی اقدام کی جرات نظر نہیں آتی۔ اس موقع پر انہوں نے نادرہ ہی کو سمجھانے کی کوشش کی تھی جو قسمت میں لکھا ہو گا ہو گا تو وہی ہے۔ کسی احتجاج وادیلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں.”
“اگر کاشف اس انداز میں سوچنے کا عادی ہے تو پھر واقعی وہ انتہائی امن پسند اور مصلح جو انسان ہے۔” میں نے کہا۔ “عرفِ عام میں فی زمانہ ایسے لوگوں کو بے وقوف یا بزدل بھی کہا جاتا ہے۔” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“ورنہ ایسے مواقع پر عموماً لڑکا اسٹینڈ لیتا ہے اور اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے کاشف نے نادرہ کو یہ سمجھایا کہ اس کے گھر والے جہاں چاہتے ہیں وہ چپ چاپ شادی کر لے. ہیں جی؟”
میں نے سوالیہ نظر سے نورین کی طرف دیکھا تو وہ اثبات میں گردن ہلا کر رہ گئی۔
میں نے زیب النساء سے سوال کیا۔ “گزشتہ رات کا شف کتنے بجے گھر آیا تھا؟”

​”یہی کوئی آٹھ بجے۔” اس نے جواب دیا۔ “دکان سے اس کی چھٹی سات بجے تک ہو جاتی ہے۔ وہ ساڑھے سات یا زیادہ سے زیادہ آٹھ بجے گھر پہنچ جاتا ہے۔”
“کاشف گزشتہ رات آٹھ بجے گھر آ گیا تھا۔” میں نے رف پیڈ پر قلم چلاتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا پھر زیب النساء کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ “اس کے بعد وہ گھر سے باہر تو نہیں گیا تھا؟”
“جی گیا تھا.” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں نے پوچھا۔ “کہاں گیا تھا؟”
“اپنے دوستوں سے گپ شپ کرنے۔” اس نے بتایا۔ “یہ اس کا معمول ہے کہ دکان سے آنے کے بعد وہ ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوتا ہے پھر ہم لوگ مل کر ایک ساتھ رات کا کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ محلے کے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے کے لیے گھر سے نکل جاتا ہے۔”
“اور اس کی واپسی کب تک ہوتی ہے؟”
“وہ دس ساڑھے دس بجے تک واپس آ جاتا ہے۔”
“کیا گزشتہ رات بھی وہ دس ساڑھے دس بجے تک واپس آ گیا تھا؟”
“میں بہت تھکی ہوئی تھی۔” زیب النساء نے جواب دیا۔ “اس لیے رات کے کھانے کے فوراً بعد سو گئی تھی۔” پھر اس نے نورین کی جانب دیکھتے ہوئے اضافہ کیا۔ “پچھلی رات وہ کب واپس آیا تھا تمہیں پتا ہو گا.”
“بھائی آدھی رات کو واپس آئے تھے۔” نورین نے بڑی رحمان سے جواب دیا۔ “میں اس وقت جاگ رہی تھی اور میں نے ہی ان کے لیے دروازہ کھولا تھا اس وقت رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔”
“کیا آپ نے بھائی سے پوچھا تھا کہ وہ اتنی رات تک کہاں تھا؟” میں نے نورین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ “روٹین کے مطابق تو وہ دس ساڑھے دس بجے تک واپس آ جایا کرتا تھا”
“جی نہیں۔” نورین نے نفی میں گردن ہلائی۔ “میں نے اس بارے میں ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔”

​میں نے زیب النساء سے پوچھا۔ “کیا آپ کاشف کے ان دوستوں کو گواہی کے لیے آمادہ کر سکتی ہیں گزشتہ رات جن کے ساتھ وہ گپ شپ کر رہا تھا؟”
“جی. میں یہ کام کر لوں گی۔”
“ٹھیک ہے.” میں نے مطمئن انداز میں کہا پھر پوچھا۔ “کاشف کو کس تھانے کی حوالات میں رکھا گیا ہے؟”
اس نے متعلقہ تھانے کا نام بتا دیا۔
“کیا آپ لوگ کاشف سے ملاقات کے لیے تھانے گئی تھیں؟”
“گئے تھے. مگر پولیس والوں نے ہمیں اس سے ملنے نہیں دیا۔”
“انہوں نے کیا کہا تھا؟” میں نے استفسار کیا۔
“وہ کہتے ہیں کل صبح کاشف کو عدالت میں پیش کیا جائے گا تو وہاں جس کو ملنا ہو اس سے مل لے۔” زیب النساء نے جواب دیا۔
میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
“دیکھیں خاتون میں ایک بات واضح کر دوں کہ قتل کے ملزم کی ضمانت نامکن حد تک مشکل ہوتی ہے مگر آپ پریشان نہ ہوں میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔ آگے اللہ کو جو بھی منظور ہو.”
“بہت بہت شکریہ وکیل صاحب!” وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولی۔
اس کے بعد میں نے زیب النساء سے اپنی فیس وصول کی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “میں آج رات ہی کسی وقت تھانے جا کر کاشف سے ملاقات کر لیتا ہوں۔ ممکن ہے اس سے کوئی نئی بات پتا چل جائے۔ اب ہماری ملاقات کل صبح عدالت میں ہو گی”
اس نے ایک بار پھر میرا شکریہ ادا کیا اور سلام کر کے اپنی بیٹی کے ساتھ میرے دفتر سے رخصت ہو گئی۔
​ ❖❖❖
​بعض مقتدرین کو اس بات پر اعتراض ہے میں اپنے آفس کے چیمبر کو ہی عدالت کا کمرا بنا لیتا ہوں۔ جو بھی شخص کلائنٹ کی حیثیت سے میرے پاس آتا ہے میں اس پر ہی جرح شروع کر کے درجنوں سوالات پوچھ ڈالتا ہوں تو اس سلسلے میں وضاحت عرض کرتا چلوں ​کہ ہر شخص کا اپنا ایک اسٹائل ہوتا ہے کام کرنے کا۔ سنہرا بھی ہے چونکہ یہ دوسرے دکلاہ سے بہت مختلف ہے اس لیے بھی لوگوں کو عجیب سا لگتا ہے۔

اللہ کا مجھ پر لاکھ لاکھ کرم رہا ہے کہ پریکٹس شپ کے زمانے ہی میں سے میرے پاس کلائنٹس کی کبھی کمی نہیں رہی لہٰذا میں برائے غیرے نتھو خیرے کا کیس نہیں پکڑتا۔ جب تک میں خود اپنے کلائنٹ سے مطمئن نہ ہو جاؤں میں اس کا کیس ہاتھ میں نہیں لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آج تک کسی بھی بے گناہ کو سزا دلوائی ہے اور نہ ہی کوئی گناہ گار میری وکالت کے نتیجے میں بری ہوا ہے۔ میں اس احسان کے لیے اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔
آفس کی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد میں کاشف سے ملنے متعلقہ تھانے پہنچ گیا۔ میں نے اپنی کار کو تھانے کی باؤنڈری وال کے ساتھ پارک کیا اور بڑے سکون کے ساتھ ٹہلتے ہوئے انچارج صاحب کے کمرے تک رسائی حاصل کر لی۔
تھانہ انچارج اس وقت اپنے کمرے میں موجود نہیں تھا۔ مذکورہ کمرے میں بیٹھے ایک اے ایس آئی سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا۔
“انچارج صاحب کہاں ہیں؟”
جواب دینے سے پہلے اے ایس آئی نے سر تا پا گہری نظر سے میرا جائزہ لیا پھر اکھڑے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ “آپ کون؟اور انچارج صاحب سے آپ کو کیا کام ہے؟”
“میرا نام امجد ہے.” میں نے دانستہ اپنا ادھورا تعارف کرایا۔ “اور کام تو میں انچارج صاحب ہی کو بتاؤں گا۔”
“انچارج صاحب اس وقت راؤنڈ پر ہیں۔” وہ سرسری لہجے میں بولا۔ “ان سے ملنا ہے تو رات میں کسی وقت آ جائیں.”
مجھے تفریح کی سوجھی۔ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
“تو آپ کے خیال میں اس وقت دن ہے.؟”
اس نے تپلی آمیز نظر سے مجھے گھورا اور بولا۔ “میرا مطلب تھا جب انچارج صاحب تھانے میں موجود ہوں آپ اس وقت آ جائیں.”
“جب تک تو بہت دیر ہو جائے گی.” میں نے متاسفانہ انداز میں کہا۔
​”کیا مطلب ہے آپ کا؟” وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“کس بات کی دیر ہو جائے گی.؟”
“کاشف سے ملاقات میں دیر ہو جائے گی۔” میں نے سنجیدگی کا انداز برقرار رکھتے ہوئے کہا۔
“کاشف!” اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
“کون کاشف.؟”
“میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ “وہ نوجوان جسے آپ لوگوں نے آج سہ پہر دو بجے صدر میں واقع جیولری دکان سے گرفتار کیا ہے. قتل کے الزام میں۔”
“آ.. آپ اس ملزم سے نہیں مل سکتے۔” وہ انتہائی روکھے لہجے میں بولا۔
“میں کاشف کا وکیل ہوں مرزا امجد بیگ ایڈووکیٹ۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ “آپ مجھے ملزم سے ملنے سے نہیں روک سکتے۔”
یہ سنتے ہی کہ میں ایک وکیل ہوں وہ بے حد محتاط ہو گیا اور خاصے جارحانہ لہجے میں بولا۔ “آپ جو کوئی بھی ہیں رات میں آ جائیں جب انچارج صاحب تھانے میں موجود ہوں، ان کی اجازت نہیں ہے۔”
میں نے میز پر رکھے ٹیلی فون کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ “اجازت کا مسئلہ بھی ابھی حل کر لیتے ہیں۔”
وہ گڑ بڑا گیا۔ “آپ انچارج صاحب کو فون کریں گے.”
“نہیں..” میں نے ریسیور اٹھاتے ہوئے کہا۔
“پھر…؟” اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“میں آپ کے انچارج صاحب کے انچارج صاحب کو فون کروں گا۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
“اس مسئلے کو آئی جی صاحب ہی حل کریں گے۔”
“او صاحب! یہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں،” اس نے میرے ہاتھ سے ریسیور چھینتے ہوئے کہا۔ “آپ کو حوالاتی سے ملنا ہے مل لیں۔ اللہ اللہ خیر صلا.”
میں نے ایک اطمینان بھری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ ” آئی جی صاحب کی​بڑی پاور ہے، فون کرنے سے پہلے ہی میرا مسئلہ حل ہو گیا۔”
اے ایس آئی نے کھا جانے والی نظر سے مجھے دیکھا اور دروازے کی جانب منہ کر کے آواز لگائی۔ “خادم حسین!”
اگلے ہی لمحے ایک کانسٹیبل کمرے کے اندر حاضر ہو گیا۔ یقیناً وہ خادم حسین ہی تھا، اے ایس آئی نے مذکورہ کانسٹیبل سے کہا۔
“خادم حسین.. امجد صاحب کو اس حوالاتی کے پاس لے جاؤ جسے آج دن میں قتل کے الزام میں گرفتار کر کے تھانے لایا گیا ہے۔”
خادم حسین نے اثبات میں سر ہلایا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد میں کاشف کے سامنے کھڑا تھا، آہنی سلاخوں کی دوسری جانب وہ حوالات کی برہنہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا، کاشف کی عمر تئیس کے آس پاس رہی ہو گی۔ وہ ایک صحت مند شخص تھا، اسے بلا شبہ وجیہ و شکیل کہا جا سکتا تھا تاہم اس وقت وہ بڑی کسمپرسی کی حالت میں ، گھٹنوں میں سر دیے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
مجھے اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر اس نے نگاہ اٹھائی پھر وہ کانسٹیبل خادم حسین کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھنے لگا، کانسٹیبل نے اس سے کہا۔
“تمہاری ملاقات آئی ہے، ان سے بات کرو.”
ظاہر ہے وہ مجھے نہیں جانتا تھا، اس سے پہلے ہمارا کبھی سامنا نہیں ہوا تھا۔ وہ فرش سے اٹھا اور تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد چلتے ہوئے آہنی سلاخوں کے قریب آ گیا۔ میں نے گردن گھما کر کانسٹیبل کی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ ہپ پاکٹ کی طرف لے جاتے ہوئے اس سے کہا۔
“خادم حسین! سنا ہے آج کل بہت مہنگائی ہو گئی ہے.؟”
“جی صاحب! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں،” وہ جلدی سے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “دودھ چار سے چھ روپے لیٹر اور گوشت آٹھ سے دس روپے سیر ہو گیا ہے۔ باقی چیزوں کا بھی کچھ نہ پوچھیں جناب!”
میں نے جیب میں سے پچاس کا ایک کرارا سا نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
​”خادم حسین! یہ تمہارا انعام ہے، ذرا ہمیں حوالاتی سے دس منٹ تک تنہائی میں بات کرنا چاہتا ہوں، اتنی دیر میں تم باہر گھوم پھر آؤ اور ایک کڑک سی دودھ پتی بھی پی لینا”
اس نے خوش ہو کر میرے ہاتھ سے پچاس کا نوٹ پکڑ لیا اور جانے کے لیے پلٹا، میں کانسٹیبل کی جانب سے مطمئن ہو کر کاشف کی جانب متوجہ ہو گیا اور اپنا تعارف کرتے ہوئے کہا۔
“میرا نام مرزا امجد بیگ ایڈووکیٹ ہے۔ تمہاری والدہ نے مجھے تمہارا وکیل مقرر کیا ہے، میں تمہیں اس مصیبت سے نجات دلاؤں گا جس میں اس وقت تم گرفتار ہو لیکن.”
اس نے لکنتانہ نظر سے مجھے دیکھا اور پوچھا۔ “لیکن کیا وکیل صاحب.؟”
“لیکن یہ کہ.. میں تم سے جو بھی پوچھوں گا تم اس کا سچا اور سیدھا جواب دو گے۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“جی…… بالکل……” وہ جلدی سے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔
میں نے اپنے بریف کیس میں سے چند کاغذات نکال کر اس کی جانب بڑھائے اور مخصوص مقامات کی نشاندہی کر کے اس سے دستخط کرنے کے لیے کہا، ان کاغذات میں وکالت نامہ اور درخواست ضمانت سر فہرست تھیں۔
جب اس نے میری ہدایت کے مطابق دستخط کر دیے تو میں نے کاغذات واپس بریف کیس میں رکھ دیے اور اس کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔
“کاشف مجھے بتاؤ اصل معاملہ کیا ہے.؟”
“اصل معاملہ……” وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔
“اصل معاملہ یہ ہے جناب کہ میں بے گناہ ہوں، میں نے نادرہ کو قتل نہیں کیا.”
“یہ تو میں بھی جانتا ہوں،” میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ “اگر تم نے نادرہ کو قتل کیا ہوتا تو میں تمہارا کیس ہرگز نہیں لیتا.” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب تم نادرہ کے قاتل نہیں ہو تو پھر پولیس نے کس بنیاد پر تمہیں اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے؟”
“پولیس والوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے جناب۔” وہ بیزاری سے سر جھٹکتے ہوئے​بولا۔ “اور ان کا دماغ صوفیہ نے خراب کیا ہے۔”
“یہ صوفیہ وہی لڑکی ہے نا……” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ “جو نادرہ کی راز دار سہیلی ہے، وہ تمہارے اور نادرہ کے خفیہ معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اسی صوفیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ تم نادرہ سے زیر تعمیر عمارت میں چھپ چھپ کر ملاقاتیں کیا کرتے تھے؟”
“جی ہاں…… یہ ساری آگ اسی صوفیہ کی لگائی ہوئی ہے۔” وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا۔
“کیا یہ سچ ہے کہ تم اس زیر تعمیر عمارت میں نادرہ سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے جہاں سے اس کی لاش دریافت ہوئی ہے؟” میں نے بے دستور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
وہ بزدل ہوتے ہوئے بولا۔ “ہاں…… یہ بات درست ہے۔”
“اس کا مطلب ہے تمہارے اور نادرہ کے بیچ خاصا سفید و تعلق تھا؟”
“جی…… ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔” اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“میں نے سنا ہے نادرہ کے گھر والے تم دونوں کی محبت کے سخت خلاف تھے،” میں نے سوالات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “اور انہوں نے نادرہ کا رشتہ اس کے کزن فیصل سے طے کر دیا تھا اور…… ایک ماہ کے بعد ان کی شادی ہونے والی تھی؟”
“جی ہاں، یہی حقیقت ہے۔”
“اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ نادرہ فیصل کو سخت نا پسند کرتی تھی؟”
“جی ہاں، آپ کو بالکل ٹھیک پتا چلا ہے……”
میں نے کاشف کے دل کا حال ٹٹولنے کے لیے اندھیرے میں ایک تیر چھوڑا اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ تم نادرہ اور فیصل کے رشتے کے سخت خلاف تھے، تم نے نادرہ کو فیصل کے خلاف خوب بھڑکایا، اسے اکساتے رہے تھے کہ وہ تمہارے ساتھ کہیں فرار ہو جائے؟”
“یہ سراسر بکواس اور جھوٹ ہے۔” وہ برہمی سے بولا۔ “میں نے ہمیشہ نادرہ کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی تھی۔ بھاگ جانے کا آئیڈیا اسی کا تھا لیکن میں نے اس کی مخالفت کی​تھی، وکیل صاحب……” لمحاتی توقف کر کے اس نے گہری نظر سے میری آنکھوں میں دیکھا اور ٹھوس لہجے میں بولا۔ “میں ایک جوان بہن کا بھائی ہوں، میں کسی لڑکی کو گھر سے بھگانے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہوں……؟”
“یہ میرا نہیں پولیس کا خیال ہے۔” میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا پھر پوچھا۔ “نادرہ کے روز یعنی گزشتہ رات کھانا کھانے کے بعد تم اپنے دوستوں سے گپ شپ کرنے گھر سے باہر نکلے تھے، میں تمہارے ان دوستوں کے نام جاننا چاہتا ہوں؟”
“ان دوستوں کے نام وسیم، آفتاب اور عارف ہیں۔” اس نے جواب دیا۔
“تمہاری چھوٹی بہن نورین نے مجھے بتایا ہے کہ گزشتہ رات تم لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے گھر واپس آئے تھے۔” میں نے پوچھا۔ “اتنی دیر تک تم اپنے دوستوں کے ساتھ کون سی گپ شپ کرتے رہے تھے……؟”
“وہ بات دراصل یہ ہے وکیل صاحب،” وہ ایک بو جھل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “میں نے پچھلی رات وسیم، آفتاب اور عارف کے ساتھ تو بس تھوڑی دیر تک گپ شپ کی تھی پھر میں عارف کے ساتھ چلا گیا تھا……”
“کہاں…… تم عارف کے ساتھ کہاں چلے گئے تھے؟”
“پکچر دیکھنے۔” اس نے جواب دیا۔
“اوہ……” میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“تم دونوں کون سی پکچر دیکھنے گئے تھے؟”
اس نے ایک انگلش پکچر کا نام بتایا۔
میں نے پوچھا۔ “کیا عارف اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہو جائے گا کہ تم گزشتہ رات اس کے ساتھ آخری شو دیکھنے پکچر ہاؤس گئے تھے؟”
“کیوں نہیں،…… وہ ضرور گواہی دے گا۔” وہ پورے یقین سے بولا۔
“اور وسیم و آفتاب…… کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
میں نے استفساریہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ “وہ دونوں اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان کے سامنے تم دونوں پکچر دیکھنے کے لیے گئے تھے اور اس سے پہلے انھی کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے.؟”
​اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
میں نے اس سے مزید دو چار سوالات پوچھے، پھر کانسٹیبل خادم حسین واپس آ گیا اور مجھے کاشف کو فارغ کرنا پڑا۔ میں نے مناسب الفاظ میں اسے تسلی و دلاسا دیا اور وہاں سے واپس آ گیا۔
​ ❖❖❖
​آئندہ روز پولیس نے ملزم کاشف کو عدالت میں پیش کر کے اس کا ریمانڈ لینے کی کوشش کی۔ اس موقع پر میں نے اپنے مؤکل کی ضمانت کے لیے زور دار لیکن مجھے اس مقصد میں کامیابی نہ ہو سکی جس بات کا مجھے پہلے سے بخوبی اندازہ تھا۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت کو رد کرتے ہوئے اسے سات روز کے ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں دے دیا۔
گزشتہ رات جب میں کاشف سے ملاقات کرنے تھا نے گیا تھا تو یہ بات میرے ذہن میں موجود تھی کہ اس کی ضمانت کی درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے لہذا میں نے اسے پولیس کی “خاطر داری” سے محفوظ رہنے کے کئی ایک مفید گر بتا دیے تھے۔ مجھے امید تھی کہ ریمانڈ کی مدت کے دوران میں وہ پولیس کی مشقِ ستم بننے سے خود کو بچا لے گا۔
اس ایک ہفتے میں میں اس کیس کے مختلف پہلوؤں پر غور فکر کرتا رہا اور اس سلسلے میں میں نے اپنے دیرینہ دوست اور زیب النساء کے خیر خواہ معروف صحافی خورشید عباسی سے بھی بہت مدد لی۔ عباسی صاحب ایک چلتا پرزہ قسم کے انسان تھے، اگر ان کے ذمے کوئی کام لگا دیا جاتا تو وہ اس کے بارے میں پاتال سے بھی معلومات نکال کر لے آتے تھے۔
اس دوران میں دو مرتبہ زیب النساء بھی مجھ سے ملنے دفتر آئی۔ ایک دفعہ اکیلی اور ایک مرتبہ نورین کے ساتھ، وہ خاصی پریشان اور گھبرائی ہوئی تھی۔ اس بے چاری کا متمول درجہ پولیس اور عدالتی معاملات سے واسطہ پڑا تھا، میں نے اس کی تسلی اور اطمینان کے لیے اسے کیس کے مختلف زاویوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ میری وضاحت سے اسے خاصی حد تک سکون حاصل ہوا تھا۔
ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد پولیس نے اس کیس کا چالان عدالت میں پیش کر دیا، تھا نے کے دیگر گواہان کے بیانات کے ساتھ ہی ملزم کا بیان بھی شامل تھا، ریمانڈ کے​دوران میں پولیس کسٹڈی میں ملزم جو بھی بیان ریکارڈ کرتا ہے اسے ملزم کا “اقبالِ بیان” کہا جاتا ہے۔ میں نے اپنے موکل کو پولیس کی “مہربانیوں” سے محفوظ رہنے کے لیے جو ہدایات دی تھیں ان کے نتیجے میں میرے موکل نے پولیس کے حسبِ منشا بیان لکھوا دیا تھا، یہ بات آپ جانتے ہیں کہ پولیس کی تحویل میں دیے گئے کسی بیان کی عدالت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ عدالت کے کام کا اپنا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جہاں واقعاتی شہادتوں، گواہوں کے بیانات، ٹھوس حقائق، قاتل تردید ثبوت اور وکلاء کے زور دار دلائل کی روشنی میں فیصلے کیے اور سنائے جاتے ہیں۔
عدالت کی ابتدائی کارروائی نہایت ہی غیر دلچسپ اور خشک ہوتی ہے لہٰذا میں آپ کو بوریت سے بچاتے ہوئے دو چار قدم آگے لے جاتا ہوں یعنی عدالت کی با قاعدہ کارروائی کی جانب، کوئی دو ماہ کے بعد اس مرحلے کی نوبت آئی تھی۔
اس روز عدالت کے کمرے میں اس کیس سے متعلق تمام افراد موجود تھے۔ جج اپنی مخصوص نشستِ انصاف پر براجمان ہو چکا تو اس کے حکم پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی، ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کر دیا اس کے بعد استغاثہ کی جانب سے گواہوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
استغاثہ نے نصف درجن سے زیادہ گواہان کی فہرست عدالت میں دائر کی تھی لیکن میں ان صفحات پر صرف انہی گواہوں کا ذکر کروں گا جن کا بیان یا گواہی کسی اہمیت کی حامل ہو گی…… اور اس سے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ استغاثہ کے موقف اور ملزم کے بیان کا مختصراً تذکرہ کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ نادرہ کی موت وقوعہ کی رات دس اور بارہ بجے کے دوران میں واقع ہوئی تھی۔ اسے کسی بھاری کھر کھر موٹ سے گھاٹ اتارا گیا تھا، میڈیکل ایگزام کی رپورٹ میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا تھا کہ مقتولہ کی موت کے حوالے کرنے سے پہلے مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، مقتولہ کے بدن پر موجود لباس کی ابتری سے بھی یہی ظاہر ہوتا تھا کہ قاتل نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے قبل بے رحمی سے کچلا بھی تھا۔ مقتولہ کے جسم کے بعض حصوں پر زدوکوب کے آثار بھی پائے گئے تھے۔ ان تذکرہ بالا رپورٹ میں چند اور انکشافات بھی کیے گئے تھے مگر اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ یوں کھلے عام​انہیں ضابطہ تحریر میں نہ لایا جائے۔

پولیس نے استغاثہ کی زبان اور چالان کی شکل میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مقتول کاشف سے محبت کرتی تھی لیکن ملزم اس کے ساتھ سنجیدہ نہیں تھا۔ مقتولہ ملزم کے ہاتھ شادی کر کے ایک معتبر اور باعزت زندگی گزارنے کی خواہاں تھی مگر ملزم نے کبھی اس معاملے میں سنجیدہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی، اسی دوران میں جب مقتولہ کے گھر والوں نے اس کی شادی اس کے کزن فیصل سے کرنے کا نہ صرف فیصلہ کر لیا بلکہ اس شادی کی تاریخ بھی مقرر کر دی تو ملزم کو یقین ہو گیا کہ مقتولہ بہت جلد اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی، یہ لوگ زیر تعمیر عمارت (جائے وقوعہ) پر اکثر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ جب مقتول کی شادی میں ایک ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا تو ملزم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نادرہ کی رات مقتولہ سے ملاقات کا پروگرام سیٹ کیا۔ جب مقتولہ حسبِ پروگرام ملزم سے ملنے زیر تعمیر عمارت میں پہنچی تو پہلے وہ اس سے پیار محبت کی باتیں کرتا رہا پھر اس کے اندر کا شیطان جاگ اٹھا اور اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مقتولہ کو زیر کرنے کے بعد اپنی ناپاک اور مذموم خواہش پوری کی، یہ اس منصوبے کا پہلا حصہ تھا، دوسرے حصے پر عمل کرتے ہوئے اس نے پکڑے جانے کے خوف سے بعد ازاں مقتولہ کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے سپرد کر دیا۔ ملزم کو کسی بھی قیمت پر یہ گوارا نہیں تھا کہ مقتولہ کی شادی ہو اور وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے لہٰذا اپنے ہوس ناک عزائم کی تکمیل کے بعد مقتولہ کا ٹھکانے لگا کر اس نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔

عدالت کے روبرو اپنے بیان کو ریکارڈ کراتے ہوئے اس کیس کے ملزم اور میرے مؤکل کاشف محمود نے بتایا تھا کہ وہ مقتولہ سے سچی اور سفید و محبت کرتا تھا۔ اس نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ وہ زیر تعمیر عمارت میں چھپ چھپ کر مقتولہ سے ملاقات کیا کرتا تھا لیکن مقتولہ کے حوالے سے کبھی اس کے ذہن میں شیطانی خیالات کا گزر نہیں ہوا، اس کی محبت پاکیزہ تھی اور وہ کسی قیمت پر اپنی محبت کو داغدار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، ملزم نے اس امر کی تصدیق بھی کی کہ مقتولہ کی گہری سہیلی صوفیہ ان کے معاملاتِ محبت کی راز دار تھی، اپنے بیان میں اس نے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ مقتولہ کی منگنی سے پہلے اس نے مقتولہ کے والدین کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے واضح کیا تھا کہ وہ مقتولہ کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کا خواہاں ہے، مقتولہ کے والدین نے اس کے خط کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ چند ​روز کے بعد پتا چلا کہ انہوں نے مقتولہ کو اس کے کزن فیصل سے منسوب کر دیا ہے۔ اس بات کا ملزم کو دکھ تو بہت ہوا تھا لیکن وہ چونکہ فطری طور پر ایک مصلح پسند انسان تھا اس لیے اس نے کوئی جارحانہ ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے حالات سے سمجھوتہ کر لیا اور مقتولہ شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی۔ مقتولہ نے ملزم کو وہی راہ سجھائی کہ وہ دونوں چپ چاپ کہیں بھاگ جاتے ہیں لیکن ملزم اس آئیڈیا پر عمل کرنے کے لیے راضی نہ ہوا، وقوعہ کی رات بھی انہوں نے زیر تعمیر عمارت میں ایک مختصر سی ملاقات کی تھی اور اس (کاشف) نے مقتولہ کو ایک بار پھر اچھار سمجھانے کی کوشش کی تھی اور پھر اسے وہیں چھوڑ کر وہ اپنے دوست کے ساتھ پکچر دیکھنے چلا گیا تھا۔

وکیل استغاثہ کی فرمائش پر ملزم کو اس کے حوالے کر دیا گیا، ملزم نے جیسے ہی اپنا بیان ریکارڈ کرایا وکیل استغاثہ جرح کے لیے ایکڑ ڈ باکس کے قریب پہنچ گیا پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“کیا یہ سچ ہے کہ تم چھپ چھپ کر مقتول سے زیر تعمیر عمارت میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے؟”
“جی ہاں…… یہ سچ ہے،” اس نے بڑی رحمان سے جواب دیا۔ “میں اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت کر چکا ہوں.”
“کیا یہ بھی درست ہے کہ مقتولہ کی شادی اس کے کزن کے ساتھ طے ہونے کا سن کر تمہیں بہت دکھ ہوا تھا؟”
“فطری بات ہے،” اس نے جواب دیا۔ “میں مقتولہ کے ساتھ سچی اور کھری محبت کرتا تھا، اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، اس کی شادی کہیں اور ہونے کا سن کر مجھے یقیناً دکھ تو ہونا ہی چاہیے تھا.”
“سچی اور کھری محبت!” وکیل استغاثہ نے طنزیہ لہجے میں کہا پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“مقتولہ کے ساتھ وقوعہ کی رات زیر تعمیر عمارت میں جو کچھ پیش آیا وہ تمہاری سچی اور کھری محبت کا نتیجہ تھا…… ہیں نا؟”
ملزم نے قدرے بہادری سے جواب دیا۔ “وکیل صاحب! جو حقیقت تھی وہ میں نے​آپ کو بتا دی ہے اب…… آپ اس سے جو بھی نتیجہ اخذ کریں آپ کی مرضی ہے۔”
“تم نے اپنے حلفیہ بیان میں معزز عدالت کو بتایا ہے کہ تم نے مقتولہ کا اس کے کزن فیصل سے رشتہ طے ہو جانے کے بعد مقتولہ کے والدین کو کوئی خط لکھا تھا؟”
“جی ہاں……” ملزم نے اثبات میں گردن ہلائی۔
“میں نے خط ضرور لکھا تھا مگر مقتولہ کا رشتہ طے ہونے سے پہلے.”
وکیل استغاثہ نے اس کے جواب پر کوئی توجہ نہیں دی اور سلسلہ جرح کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔ “اور اس خط میں تم نے مقتولہ کے والدین کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دیں.”
“اس بات میں کوئی حقیقت نہیں،” ملزم نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ “میں نے مقتولہ کے والدین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ میں ان کی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے سنجیدہ ہوں اور مقتولہ بھی مجھے دل و جان سے چاہتی ہے لہٰذا وہ لوگ ہماری محبت سے دشمنی کرنے کے بجائے ہمیں ایک معتبر رشتے میں باندھنے کی کوشش کریں۔”
“یہ تو تم کہہ رہے ہو نا……” وکیل استغاثہ نے فلک شگاف نظر سے ملزم کی جانب دیکھا۔ ” جبکہ مقتولہ کے والدین کا موقف اس کے برعکس ہے، تم نے انہیں نتائج سے ڈرانے کی کوشش کی تھی اور وقوعہ کی رات بالآخر تم نے ان پر عمل بھی کر ڈالا۔”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو آپ بیان کر رہے ہیں،” ملزم نے بڑے اعتماد سے کہا۔ “میں مقتولہ کو کانٹا چھونے کے برابر بھی تکلیف دینے کا تصور نہیں کر سکتا، اسے بے آبرو کر کے قتل کرنا……” لمحاتی توقف کر کے اس نے ایک جھری جھری لی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ ” اس گھناؤنے فعل کے بارے میں سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں سمجھتا ہوں مجھے کسی گہری سازش کے تحت اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔”
اس کیس کا ملزم اور میرا مؤکل بڑی بہادری کے ساتھ وکیل استغاثہ کے سوالات کے جواب دے رہا تھا، مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اس انتہا کا مظاہرہ کر پائے گا۔
“جب کوئی مخلص قانون کے جال میں بری طرح جکڑ جاتا ہے تو اسے فرار کے لیے کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو وہ اسی قسم کی باتیں کرتا ہے،” وکیل استغاثہ نے جارحانہ انداز میں کہا۔ ” وہ سارے کا سارا الزام کسی نامعلوم شخص کی سازش پر ڈال دیتا ہے اور خود کو معصوم بے گناہ کرنے کے لیے ایسی کہانیاں گھڑ لیتا ہے جس سے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکے۔ لیکن……‘‘ لمحاتی توقف کر کے اس نے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’لیکن عدالت لوگوں کے جذباتی بیانات کی روشنی میں فیصلے صادر نہیں کرتی بلکہ عدالت کی کسوٹی ہر بات کو ٹھوس حقائق اور دلائل کی بنا پر پرکھتی ہے۔‘‘
وکیل استغاثہ کی اس تقریر پر ملزم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وکیل استغاثہ نے استفسار کیا۔ ’’کیا یہ سچ ہے کہ مقتولہ کی ایک سہیلی تمہارے پڑوس میں رہتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں…… یہ سچ ہے۔‘‘ ملزم نے اثبات میں جواب دیا۔ ’’اس لڑکی کا نام صوفیہ ہے۔ صوفیہ کا ہمارے گھر میں بھی آنا جانا ہے……‘‘
’’صوفیہ نامی وہ لڑکی تم دونوں کے معاملاتِ محبت سے اچھی طرح آگاہ تھی؟‘‘ وکیل استغاثہ نے جرح کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے کہا۔ ’’اسی صوفیہ کے توسط سے تم لوگوں کی ملاقات ہوا کرتی تھی؟‘‘
’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ ملزم نے مختصر جواب پر اکتفا کیا۔
’’کیا وقوعہ کی رات بھی تم دونوں صوفیہ کے توسط سے ملے تھے؟‘‘ وکیل استغاثہ نے بڑے جارحانہ انداز میں سوال کیا۔
’’جی ہاں.‘‘
وکیل استغاثہ نے اسی طرح کے مزید دو تین تیز و تند سوالات کے پھر جرح ختم کر دی۔ اپنی باری پر میں نے جج کی اجازت حاصل کر کے ایکوزڈ باکس کے قریب چلا گیا۔ میں نے ملزم سے نہایت ہی مختصر سی جرح کی۔
’’کاشف! تم نے معزز عدالت کے روبرو مقتولہ کے والدین کو کوئی خط لکھنے کا اقرار کیا ہے۔‘‘ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ’’تمہارا موقف یہ ہے کہ تم نے اس کے والدین کو اپنی اور مقتولہ کی شادی کے لیے ہموار کرنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دھمکی آمیز خط تھا۔ یہ کیا قصہ ہے؟‘‘
’’قصہ یہ ہے جناب کہ……‘‘ وہ سادہ سے لہجے میں بولا۔ ’’میں نے جو کہا وہ سچ ہے۔ استغاثہ کا دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر میں نے مقتولہ کے والدین کو کوئی دھمکی آمیز خط لکھا تھا تو وہ ثبوت کے طور پر اس خط کو عدالت میں پیش کر دیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔‘‘
’’ویری گڈ!‘‘ میں نے تعریفی نظر سے ملزم کی طرف دیکھا پھر روئے سخن استغاثہ کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔ ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرنے کے لیے ملزم نے بڑی عمدہ تجویز دی ہے۔ پھر میں نے جج کی طرف دیکھتے ہوئے یوں اضافہ کیا۔
’’جنابِ عالی! استغاثہ کے گواہوں کی فہرست میں مقتولہ کے والدین کے نام بھی شامل ہیں۔ میں معزز عدالت سے استدعا کروں گا کہ جب وہ گواہی کے لیے عدالت میں پیش ہوں تو وہ مذکورہ خط بھی اپنے ساتھ لے کر آئیں۔‘‘
جج نے بڑی توجہ سے میری بات سنیں اور میرے خاموش ہونے پر اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے وکیل استغاثہ کو خط کے حوالے سے ہدایات جاری کر دیں۔ میں دوبارہ ملزم کی جانب متوجہ ہو گیا۔
’’کاشف محمود! تم نے بتایا ہے کہ تم اور مقتول صوفیہ نامی کسی لڑکی کے توسط سے زیرِ تعمیر عمارت میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔‘‘ میں نے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔ ’’تم اس لفظ ’’توسط‘‘ کی کچھ وضاحت کرو گے؟‘‘
’’توسط……‘‘ اس نے زیرِ لب دہرایا اور بتانے لگا۔ ’’جناب بات دراصل یہ ہے کہ صوفیہ میرے پڑوس میں رہتی ہے اور اس کے گھر میں مقتولہ کا اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ مقتولہ صوفیہ کی راز دار اور گہری سہیلی بھی تھی چنانچہ صوفیہ کو ہم دونوں کے معاملات کا بخوبی علم تھا اور جہاں تک ملاقات اور توسط کا معاملہ ہے تو….‘‘ لمحاتی توقف کر کے اس نے ایک گہری سانس لیے پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
’’در اصل ملاقات کے بارے میں تو میں اور نادرہ ہی آپس میں طے کرتے تھے بس صوفیہ نادرہ کو اخلاقی طور پر ایک مضبوط کور فراہم کرتی تھی۔ نادرہ صوفیہ سے ملنے کا بہانہ کر کے گھر سے نکلتی تھی۔ اس طرح نادرہ کے گھر والے مطمئن رہتے تھے کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر میں محفوظ ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘
’’اچھا……‘‘ میں نے ملزم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا پھر پوچھا۔ ’’کیا یہ ملاقاتیں رات کی تاریکی میں ہوا کرتی تھیں یا……؟‘‘
میں نے دانستہ سوالیہ انداز میں جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ جلدی سے بولا۔ ’’زیادہ تر رات کی تاریکی میں اور کبھی کبھار دن میں بھی۔‘‘
’’وقوعہ کی رات زیرِ تعمیر عمارت میں کیا واقعہ پیش آیا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہم دونوں نے تقریباً نو بجے رات زیرِ تعمیر عمارت میں ملاقات کی تھی۔‘‘ ملزم نے بتایا۔ ’’دس پندرہ منٹ تک ہم دونوں میں بحث ہوتی رہی پھر میں اسے وہیں چھوڑ کر اپنے دوستوں کی طرف نکل گیا تھا۔‘‘
’’بحث و تکرار……‘‘ میں نے ایک ایک لفظ پر روز دیتے ہوئے کہا۔ ’’تم دونوں میں کس بات پر بحث ہوئی تھی؟‘‘
’’نادرہ کی ایک ماہ کے بعد شادی ہونے والی تھی۔‘‘ ملزم نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بتایا۔ ’’اور وہ اس بات پر سخت پریشان تھی۔ وہ اپنے کزن فیصل سے ہرگز ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے وہ ایک سنسنی خیز آئیڈیا لے کر میرے پاس آئی تھی۔‘‘
’’آئیڈیا……‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیسا آئیڈیا؟‘‘
’’گھر سے فرار ہونے کا آئیڈیا۔‘‘ ملزم نے سرسراتی ہوئی آواز میں بتایا۔ ’’اس کا خیال تھا کہ ہمیں گھر سے فرار ہو جانا چاہیے……‘‘
’’پھر…… تم نے اس کا آئیڈیا سننے کے بعد کیا کہا؟‘‘
’’میں نے سختی کے ساتھ اس کے آئیڈیا کی مخالفت کی تھی۔‘‘ وہ ٹھوس انداز میں بولا۔ ’’میں نے بڑے واضح الفاظ میں اسے سمجھا دیا تھا کہ گھر سے فرار ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا وہ چپ چاپ گھر چلی جائے اور خود کو تقدیر کے دھارے پر چھوڑ دے۔‘‘
’’کیا مقتولہ نے تمہاری بات مان لی تھی؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’تمہارے سمجھانے پر وہ واپس چلی گئی تھی؟‘‘
’’میں اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’کیوں……؟‘‘
’’کیونکہ میں اسے وہیں چھوڑ کر عمارت سے نکل گیا تھا۔‘‘ اس نے بتایا۔ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے جانے کے فوراً بعد اس عمارت سے چلی گئی تھی یا وہاں کچھ دیر ٹھہری تھی۔ اس کی باتیں سن کر میرا ذہن الجھ گیا تھا۔‘‘
’’تم مقتولہ کو زیرِ تعمیر عمارت میں چھوڑ کر کہاں گئے تھے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دوسری گلی میں اپنے دوستوں کے پاس۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’دس پندرہ منٹ تک میں نے ان سے بات چیت کی لیکن میرا ذہن بدستور الجھن کا شکار رہا۔ پھر میں اپنے ایک دوست کے ساتھ پکچر دیکھنے سینما چلا گیا تھا۔‘‘
’’کس دوست کے ساتھ……؟‘‘
’’میرے اس دوست کا نام عارف ہے۔‘‘
’’کیا تمہارا دوست عارف اس بات کی گواہی دینے عدالت میں آ سکتا ہے کہ وقوعہ کی رات تم لوگوں نے کسی انگلش پکچر کا آخری شو دیکھا تھا……؟‘‘
’’مجھے یقین ہے وہ گواہی سے انکار نہیں کرے گا۔‘‘
’’مجھے اور کچھ نہیں پوچھنا جنابِ عالی!‘‘ میں نے روئے سخن کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔ ’’پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ نادرہ کی موت وقوعہ کی رات دس اور بارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی اور یہ وہی وقت ہے جب میرا موکل اور اس کیس کا ملزم کاشف محمود اپنے دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے پکچر ہاؤس گیا ہوا تھا۔ اگر معزز عدالت کا حکم ہو گا تو ڈیفنس کی جانب سے ملزم کے دوست عارف کو گواہی کے لیے عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔‘‘
جج نے اثبات میں گردن ہلائی اور وکیل استغاثہ کی جانب دیکھا۔ مطلب یہی تھا کہ استغاثہ کا اگلا گواہ پیش کیا جائے۔ قبل اس کے کہ وکیل استغاثہ جج کی نگاہ کے اشارے کی تعمیل کرتا میں نے بہ آوازِ بلند کہا۔
’’یور آنر! اگر معزز عدالت کی اجازت ہو تو میں اس کیس کے انکوائری آفیسر سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘
جج نے بلا تاخیر اجازت دے دی ۔ کسی بھی کیس کے انکوائری آفیسر کو ہر پیشی پر عدالت میں حاضر رہنا پڑتا ہے اور اس کی حیثیت استغاثہ کے گواہ ایسی ہوتی ہے۔ جج کے حکم پر آئی۔ او وٹنس باکس میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ عہدے کے اعتبار سے ایک سب انسپکٹر تھا۔ میں وٹنس باکس کے قریب پہنچا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’تفتیشی افسر صاحب! کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’بشیر احمد!‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’بشیر صاحب!‘‘ میں نے آئی او کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آپ نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا تو بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہو گا……؟‘‘
’’ظاہر ہے۔‘‘ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ ’’یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟‘‘
’’پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ نادرہ کی موت وقوعہ کی رات دس اور بارہ بجے کے دوران میں واقع ہوئی تھی۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟‘‘
’’نہیں جناب! آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔‘‘
اس نے جواب دیا۔
’’اس رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل مقتولہ کو بے آبرو بھی کیا گیا تھا۔‘‘ میں نے بدستور گہری سنجیدگی سے کہا۔ ’’اور جائے وقوعہ پر مقتولہ کی لاش جس لباس میں ملی تھی اس کی حالت بھی یہی بتاتی ہے کہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنانے سے قبل مقتولہ کو زد و کوب بھی کیا گیا تھا……؟‘‘
’’جی ہاں…… آپ بجا فرماتے ہیں۔‘‘ آئی او نے معاندانہ نظر سے ایکوزڈ باکس میں کھڑے ملزم کی جانب دیکھا۔ ’’قاتل نے اپنی ہوس کی تسکین کے بعد بڑی بے دردی سے مقتولہ کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔‘‘
’’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ مقتولہ کی موت سانس کی آمد و شد کے منقطع ہونے سے واقع ہوئی تھی۔‘‘ میں نے جرح کے سلسلے کو سمیٹتے ہوئے کہا۔ ’’یعنی مقتول کو گلا گھونٹ کر فنا کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں……؟‘‘
’’میں……‘‘
اس نے عجیب سی نظر سے میری طرف دیکھا اور بولا۔ ’’میں بھی وہی کہوں گا جو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا ہے۔‘‘
’’جن ماہرین نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی ہے انہوں نے تو باقاعدہ مقتولہ کے جسم کی چیر پھاڑ اور مختلف ٹیسٹ کیے تھے جبھی وہ مقتولہ کی موت کے حوالے سے اس نتیجے میں کامیاب ہو سکے تھے ۔‘‘ میں نے خاصے تیکھے انداز میں کہا۔ ’’آپ نے اس سلسلے میں کون سا کارنامہ انجام دیا تھا……؟‘‘
میرے اس طنزیہ استفسار پر وہ جیسے بوکھلا پھر بڑے فخر سے بولا۔ ’’میں نے بڑی گہری تفتیش کی تھی۔‘‘
’’بہر صورت تفتیش……‘‘
میں نے مضحکہ اڑانے والے انداز میں کہا۔ ’’کیا آپ اس تفتیش کی تفصیلات معزز عدالت کے سامنے لانا پسند کریں گے؟‘‘
آنے والے پانچ منٹ میں تفتیشی افسر نے اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی تو مزید طوالت سے بچنے کے لیے مجھے مجبراً اسے روکنا پڑا۔
’’بشیر صاحب! آپ کی اس محکمہ جاتی تقریر سے میری تشفی نہیں ہو گی اور نہ ہی یہ معزز عدالت کے لیے تسلی بخش ہے۔‘‘
’’پھر……‘‘
اس نے سوالیہ نظر سے میری طرف دیکھا۔ ’’پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’بات میرے چاہنے یا نہ چاہنے کی نہیں ہے آئی او صاحب۔‘‘ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’پھر کس چیز کی بات ہے……؟‘‘
’’استغاثہ کے نامکمل اور ادھورے پن کی بات ہے۔‘‘
’’کیا مطلب……؟‘‘
اس نے حیرت انگیز نظر سے مجھے دیکھا۔
’’میں سمجھاتا ہوں۔‘‘
میں نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’آئی او صاحب! یہ بات آپ کو بھی اچھی طرح معلوم ہو گی کہ جب گلا دبا کر کسی شخص کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے تو قاتل کو اچھی خاصی جان ماری کرنا پڑتی ہے۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟‘‘
’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں،‘‘ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔
’’جب قاتل مقتول کا گلا دبانے کے لیے جان ماری کرتا ہے تو اس کی انگلیوں کے واضح نشانات مقتولہ کی گردن کے مختلف حصوں پر گویا ’’چھپ‘‘ جاتے ہیں جنہیں فنگر پرنٹس یا آسان زبان میں ’ایف پی‘ کہا جاتا ہے……‘‘ میں نے اپنے مقصد کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔
’’مقتولہ نادرہ کو بھی گلا گھونٹ کر موت سے ہمکنار کیا گیا ہے لہذا قاتل کے فنگر پرنٹس مقتولہ کی گردن کے مختلف حصوں پر لازماً پائے جانا چاہئیں……‘‘ میں نے لمحاتی توقف کر کے معنی خیز انداز میں یکے بعد دیگرے وکیلِ استغاثہ اور جج کی طرف دیکھا پھر ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے دوبارہ انکوائری آفیسر کی جانب متوجہ ہو گیا۔
’’بشیر صاحب! استغاثہ کی رپورٹ میں ملزم کے فنگر پرنٹس کا نہ تو کہیں ذکر ہے اور نہ ہی فنگر پرنٹس سے متعلق کوئی رپورٹ موجود ہے۔ آخر یہ کیا ماجرا ہے۔ ذرا اس کی تو وضاحت فرمائیں……؟‘‘
پہلے تو اس نے گھبراہٹ بھرے انداز میں وکیلِ استغاثہ کی جانب دیکھا پھر میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’وہ دراصل اس کی ہم نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔‘‘
’’ویری گڈ!‘‘ میں نے استہزائیہ انداز میں کہا۔
’’اتنے بڑے اور اہم ٹیسٹ کی آپ نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ آپ کی اس بات سے تو ہی محسوس ہوتا ہے کہ……‘‘ میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں یوں اضافہ کیا۔
’’قتل کی اس واردات میں آپ کو چشم دید گواہ کا مقام حاصل ہے جب ہی آپ نے مقتولہ کی گردن پر سے فنگر پرنٹس اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔‘‘
میری اس چوٹ کے جواب میں انکوائری آفیسر نے کچھ نہیں کہا اور بوکھلاہٹ آمیز انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’آئی او صاحب! اس واقعے کی اطلاع آپ کو کب اور کس نے دی تھی؟‘‘
’’مقتولہ کے گھر والوں نے تھانے فون کر کے اس واقعے کی اطلاع دی تھی۔‘‘ اس نے بتایا۔ ’’وقوعہ کے دوسرے روز صبح کے وقت……‘‘
میں نے انکوائری آفیسر کو مزید ایک دو سوالات کے بعد فارغ کر دیا اور روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔
’’جنابِ عالی! مقتولہ کی گردن کے مختلف حصوں سے قاتل کے فنگر پرنٹس نہ اٹھائے جانا اور ملزم کی انگلیوں کے نشانات سے ان کا موازنہ نہ کرنا استغاثہ کا ایک بنیادی سقم ہے۔ معزز عدالت سے میری درخواست ہے کہ استغاثہ کی اس غفلت نما کوتاہی کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیا جائے۔ دیس آل یور آنر!‘‘
عدالت نے میری درخواست کو منظور کرتے ہوئے آئندہ پیشی کے لیے پندرہ دن بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔
’’دی کورٹ از ایڈ جرنڈ……‘‘

استغاثہ کی جانب سے اگلی پیشی پر مقتولہ کا باپ یعقوب علی گواہی کے لیے سب سے پہلے عدالت میں حاضر ہوا۔ اس نے سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا تو وکیلِ استغاثہ جرح کے لیے وٹنس باکس کے قریب پہنچ گیا۔
یعقوب علی کی عمر پچاس کے آس پاس تھی۔ وہ عام سی شکل و صورت کا مالک ایک سیدھا سادا انسان تھا۔ وکیلِ استغاثہ نے مختصر سی جرح کے بعد اسے فارغ کیا تو میں نے جج کی اجازت سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا ضروری جانا۔
’’یعقوب صاحب! میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ ’’مجھے آپ کی بیٹی کی الم ناک موت سے گہرا صدمہ ہے لیکن جرح بھی ضروری ہے……‘‘
وہ منہ سے کچھ نہیں بولا بس گھائل نظر سے مجھے دیکھتا چلا گیا۔
میں نے پوچھا۔ ’’آپ کو کب پتا چلا کہ آپ کی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے؟‘‘
’’اس کی گمشدگی کی اگلی صبح……‘‘
’’گمشدگی……‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘
’’نادرہ اپنی سہیلی صوفیہ سے ملنے اس کے گھر گئی تھی۔‘‘ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ’’یہ وقوعہ والی رات کی بات ہے۔ وہ پہلے بھی صوفیہ سے ملنے جاتی رہتی تھی۔ دونوں میں گہری دوستی تھی۔ صوفیہ بھی اکثر و بیشتر نادرہ سے ملنے آتی رہتی تھی……‘‘ وہ سانس ہموار کرنے کے لیے متوقف ہوا پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’وقوعہ کی رات جب نادرہ واپس نہیں آئی تو ہمیں تشویش ہوئی۔ وہ ہماری اکلوتی اولاد تھی، بس نے اپنی بیوی سلطانہ سے گھر میں رکنے کو کہا اور خود نادرہ کو دیکھنے صوفیہ کی طرف چلا گیا، صوفیہ کا گھر دو گلیوں کے فاصلے پر ہے۔ جب میں نے صوفیہ سے نادرہ کے بارے میں پوچھا کیا تو اس نے بتایا کہ نادرہ لگ بھگ دس بجے رات اس کے گھر سے واپس چلی گئی تھی۔‘‘
’’پھر…… پھر آپ نے کیا کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہم رات بھر نادرہ کو ادھر ادھر تلاش کرتے رہے۔‘‘ اس نے بتایا۔ ’’اپنے علاقے میں اور شہر بھر میں جہاں جہاں بھی ہمارے رشتے دار تھے ہم نے فون کے ذریعے اور خود جا کر بھی نادرہ کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ تھک ہار کر صبح ہم نے تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پولیس والوں نے زیرِ تعمیر عمارت میں سے نادرہ کی لاش برآمد کر لی۔‘‘
’’دیکھتے ہی دیکھتے……‘‘ میں نے یعقوب کے کہے ہوئے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’کیا پولیس والوں نے کوئی جادو منتر کیا تھا جو انہیں پتا چل گیا کہ نادرہ کی لاش زیرِ تعمیر عمارت کے اندر سے دستیاب ہو سکتی ہے……؟‘‘
’’نہیں جناب جادو وادو تو نہیں کیا تھا، وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’اس سلسلے میں دو افراد کے بیانات نے پولیس کی بھرپور مدد کی تھی۔‘‘
’’دو افراد……‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’کون دو افراد؟‘‘
’’صوفیہ اور بشارت مرزا۔‘‘ یعقوب نے جواب دیا۔
’’صوفیہ تو نادرہ کی سہیلی ہے۔‘‘ میں نے الجھن زدہ انداز میں کہا۔ ’’یہ بشارت مرزا کون ہے……؟‘‘ پھر میں نے ایک فوری خیال کے تحت استغاثہ کے گواہوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی اور خود کلامی کے انداز میں کہا۔ ’’اس شخص کا نام تو گواہوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ یعقوب نے اثبات میں گردن ہلائی اور وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ’’بشارت مرزا کا مکان زیرِ تعمیر عمارت کی عقبی جانب واقع ہے یعنی دونوں گھروں کی پشت آپس میں ملی ہوئی ہے۔ یہ بندہ پراپرٹی کا کام کرتا ہے اور گھر میں اکیلا ہی رہتا ہے۔‘‘
’’مجھے کردید ہوئی تو میں پوچھنے بنا نہ رہ سکا۔ ‘‘یعقوب علی! اس بندے نے پولیس کی کس انداز میں بھرپور مدد کی تھی؟‘‘
​”وہ بات دراصل یہ ہے جناب کہ……” وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “پولیس نے ہمارے گھر پہنچ کر جب تفتیش کا آغاز کیا تو صوفیہ کا نام سامنے آیا۔ پولیس نے صوفیہ سے پوچھ گچھ کی اور پندرہ بیس منٹ کی ‘محنت’ کے بعد صوفیہ سے یہ اگلوا لیا کہ وقوعہ کی رات نادرہ اور ملزم کاشف کو زیرِ تعمیر عمارت میں ملاقات کرنا تھی۔ یہ ایک بہت بڑا انکشاف تھا۔ ملزم کاشف کی گرفتاری بھی صوفیہ کے اسی بیان کا نتیجہ تھی لیکن یہ دوپہر کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے زیرِ تعمیر عمارت کے اندر سے نادرہ کی لاش برآمد کر لی تھی۔”
​”معزز عدالت یہی تو جاننا چاہ رہی ہے۔” وہ لمحے بھر کے لیے تھما تو میں نے سوال داغ دیا۔ “پولیس نے زیرِ تعمیر عمارت کا رخ کیسے کیا تھا؟”
​”میں وہی بتانے جا رہا ہوں جناب۔” وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔ “صوفیہ کے بیان پر یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی تھی کہ نادرہ اور کاشف رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر زیرِ تعمیر عمارت میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ اس نشاندہی پر پولیس نے فوراً مذکورہ عمارت کی تلاشی لی اور پھر انہیں نادرہ کی لاش دریافت کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بعد ازاں……” وہ سانس درست کرنے کے لیے رکا تو میں منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
​”بعد ازاں جب پولیس نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کی تو بشارت مرزانے گواہی دی کہ وقوعہ کی رات اس نے ملزم کو افراتفری کے عالم میں زیرِ تعمیر عمارت میں سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔”
​”ٹھیک ہے۔” میں نے مقتولہ کے باپ کی وضاحت کے بعد اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے پوچھا۔
​”کیا آپ نے اپنی بیٹی کی سہیلی صوفیہ سے یہ نہیں پوچھا کہ اس نے مقتول اور ملزم کی محبت والے معاملے کو آپ سے کیوں چھپائے رکھا خصوصاً زیرِ تعمیر عمارت کے اندر ملاقاتوں کے سلسلے کے بارے میں۔”
​”پوچھا تھا،” وہ ایک مضمحل سی سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “وہ آہیں بائیں شائیں کر کے رہ گئی تھی۔ اس نے دانستہ ان کی ملاقاتوں والا راز ہم سے چھپایا تھا۔ وہ نادرہ کی سہیلی تھی اس لیے اس نے اس معاملے کو آؤٹ نہیں کیا تھا۔”

​”یعقوب صاحب! میں نے جرح کے سلسلے کو سمیٹتے ہوئے گواہ سے سوال کیا۔ “اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ آپ لوگوں کو مقتولہ اور ملزم کے تعلقات کا علم مقتولہ کی موت سے بہت پہلے ہو گیا تھا جب ملزم نے ایک خط لکھ کر آپ کو بتایا تھا کہ وہ مقتولہ سے شادی کا خواہاں ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں……؟”
​”آپ غلط نہیں کہہ رہے۔” اس نے جواب دیا۔
​”لیکن خط کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں ہیں……”
​”کیسی غلط فہمیاں؟” میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
​وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “ملزم کا دعویٰ ہے کہ اس نے خط نادرہ کی منگنی اور شادی کی تاریخ طے ہو جانے سے پہلے لکھا تھا اور اس میں اپنی اور نادرہ کی باہم پسندیدگی کا ذکر کیا تھا جبکہ ہمارے مطابق وہ خط نادرہ کی شادی کی بات پکی ہونے کے بعد موصول ہوا تھا جس میں ملزم نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ اگر ہم نے نادرہ کی شادی اس کے ساتھ نہیں کی تو ہمیں خطرناک نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
​”ایک منٹ……” میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔ “ملزم نے اپنے خط کے ذریعے آپ لوگوں کو کس نوعیت کے خطرناک نتائج کی دھمکی دی تھی؟”
​”یہی کہ…… اگر ہم نے اس کی خواہش پوری نہیں کی تو وہ کوئی بھی سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔” استغاثہ کے گواہ یعقوب نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔
​”مثلاً نادرہ کا اغوا اور کورٹ میرج وغیرہ……”
​”کیا واقعی یہ دھمکی دار باتیں اس خط میں لکھی ہوئی تھیں؟” میں نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے سوال کیا۔ “یعقوب صاحب! کیا آپ نے خود وہ خط پڑھا تھا؟”
​”نہیں جناب!” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ وہ خط میری بیوی سلطانہ نے مجھے پڑھ کر سنایا تھا۔”
​میں نے مزید دو چار سوالات کے بعد جرح ختم کر دی۔
​استغاثہ کی جانب سے اگلا گواہ مقتولہ کی والدہ سلطانہ تھی۔ سلطانہ نے سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ وکیلِ استغاثہ نے رہی سہی جرح کے بعد سلطانہ کو فارغ کر دیا تو جرح کی اجازت حاصل کرنے کے بعد میں وٹنس باکس کے قریب چلا گیا۔

​سلطانہ ایک ادھیڑ عمر اور فربہ اندام عورت تھی۔ اس کی آنکھوں کی حرکات سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بہت ہی چنٹ اور تیز طرار عورت ہے۔ جب وہ اپنا حلفیہ بیان ریکارڈ کرا رہی تھی تو اندازِ تکلم سے بھی یہی اندازہ ہوتا تھا کہ ایک زبان دراز منہ پھٹ عورت تھی۔
​سلطانہ نے اپنا بیان دیتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم ایک آوارہ اور لفنگا شخص تھا۔ وہ ہاتھ دھو کر اس کی بیٹی کے پیچھے پڑ گیا تھا اور ہر وقت اسے ورغلانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ نادرہ پوری طرح اس کی مٹھی میں تھی۔ اس دوران میں جب انہوں نے مقتولہ نادرہ کی منگنی اس کے کزن فیصل سے کر دی تو ملزم چراغ پا ہو گیا اور مقتولہ کی شادی کی تاریخ طے ہو جانے کے بعد تو ملزم نے انہیں ایک خطرناک دھمکی بھرا خط لکھ مارا تھا۔ اس نے واضح الفاظ میں ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اگر ہم نے نادرہ کی شادی اس کے کزن سے کرنے کی کوشش کی تو ہمیں بڑے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وغیرہ وغیرہ……”
​میں نے جرح کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ “سلطانہ صاحبہ! میں آپ سے یہ بحث نہیں کروں گا کہ ملزم نے وہ دھمکی والا خط مقتولہ کی شادی کی تاریخ طے ہو جانے کے بعد لکھا تھا یا بہت پہلے میں……”
​”جناب! اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ اس نے خطرناک نتائج کی دھمکی والا خط شادی کی تاریخ طے ہو جانے کے بعد لکھا تھا۔” وہ قطع کلامی کرتے ہوئے تیز لہجے میں بولی اور ناپسندیدہ انداز میں ملزم کو گھورنے لگی۔
​مجھے یہ سمجھنے میں کوئی دشواری محسوس نہ ہوئی کہ وہ میرے موکل سے شدید نوعیت کی نفرت کرتی تھی میں نے اس کی قطع کلامی کا برا منائے بغیر معتدل لہجے میں کہا۔
​”ٹھیک ہے میں آپ کی بات کو تھوڑی دیر کے لیے درست مان لیتا ہوں۔ ملزم نے آپ لوگوں کو ویسا ہی خط لکھا ہو گا جیسا آپ نے اپنے بیان میں حلفیہ ریکارڈ کرایا ہے۔ کیا آپ مذکورہ خط کو معزز عدالت میں پیش کر سکتی ہیں……؟”
​پھر سلطانہ کا جواب سنے بغیر میں نے جج کی جانب دیکھا اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ کچھ اس طرح اضافہ کیا۔
​”جناب عالی! پچھلی پیشی پر میری درخواست کو درست جانتے ہوئے معزز عدالت نے استغاثہ کو اس بات کی تاکید کی تھی کہ وہ اس پیشی پر ملزم کے لکھے ہوئے خط کو عدالت میں پیش کرے۔”

​جج نے اپنی میز پر پھیلے ہوئے کاغذات پر ایک نگاہ ڈالی پھر وکیلِ استغاثہ کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ “وکیل صاحب! کیا مذکورہ خط عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے؟”
​”نہیں جنابِ عالی!” وکیلِ استغاثہ نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بے بسی سے کہا۔ “بدقسمتی سے وہ خط ضائع ہو چکا ہے۔”
​جج کی پیشانی پر ناگواری کے تاثرات نمودار ہوئے پھر اس نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ “بیگ صاحب! پلیز پروسیڈ……”
​میں استغاثہ کی معزز گواہ اور مقتول کی والدہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ “سلطانہ صاحبہ! میں نے بڑی کراری آواز میں اسے مخاطب کیا۔ “ملزم کے بھیجے ہوئے خط کے ضائع ہونے کی ہسٹری کیا ہے؟”
​”وہ جناب! وہ جناب!” وہ سنبھلتے ہوئے بولی۔ “وہ ایسا بیہودہ اور واہیات خط تھا کہ میں نے نادرہ کے ابا کو پڑھ کر سنایا پھر پرزے پرزے کر کے اسے چولہے میں ڈال دیا تھا۔”
​”خط گیا چولہے میں۔” میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
​”اب اس بات کا فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہا کہ ملزم نے اس خط میں کیا لکھا تھا بہرحال……” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
​”سلطانہ صاحبہ! آپ نے ابھی ابھی اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے معزز عدالت کو بتایا ہے کہ ملزم ہاتھ دھو کر آپ کی بیٹی نادرہ کے پیچھے پڑ گیا تھا اور بسا اوقات مقتولہ کو ورغلانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ آپ نے یہاں تک بھی کہا کہ مقتولہ پوری طرح ملزم کی مٹھی میں تھی۔ اس سے تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مقتولہ ملزم کو پسند کرتی تھی اور اس کے ساتھ شادی کر کے ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
​”آپ غلط نہیں کہہ رہے بصورتِ حال کچھ ایسی ہی تھی۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا پھر خوشگوار انداز میں کاشف محمود کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “میری بچی تو معصوم اور نادان تھی۔ اس شیطان نے اسے پوری طرح اپنے چنگل میں جکڑ رکھا تھا۔ وہ اس کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی تھی اور ہماری نصیحت پر بالکل کان نہیں دھرتی تھی۔ اس منحوس نے پتہ نہیں میری بچی کے ذہن میں کیسا زہر بھر دیا تھا کہ وہ اس کے اشاروں پر ناچنے لگی تھی۔ یہ میں کاشف کی جانب انگلی سے اشارہ کر دیا اور پھر جذباتی بیان کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔

​”اس بدبخت کی نیت شروع ہی سے ٹھیک نہیں تھی۔” اس نے ایک مرتبہ پھر ایکوزڈ باکس میں کھڑے ملزم کاشف محمود کی طرف اشارہ کیا۔ “اس نے بڑی صفائی سے نادرہ کو غلط راستے پر ڈال دیا تھا۔ ہم نے اس کی اوچھی حرکتوں سے تنگ آ کر ہی نادرہ کی فیصل سے منگنی کر دی تھی اور پھر شادی کی تاریخ بھی طے کر دی تھی۔ جب اس کمینے کو محسوس ہوا کہ نادرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے ہاتھ سے نکلنے والی تو اس نے دھوکے کے بہانے سے اسے زیرِ تعمیر عمارت میں بلایا اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد میری بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہمارا ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔ وہ روہانسی ہو گئی۔ “یہ درندہ سخت سے سخت سزا کا حق دار ہے۔ میں تو کہتی ہوں اس مردود کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔”
​میں نے اس کی جذباتی تقریر کے جواب میں ایک لفظ نہیں کہا۔ جب وہ قدرے معتدل ہوئی تو میں نے پوچھا۔
​”سلطانہ صاحبہ! جب یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ ملزم مقتولہ کو کسی غلط راہ پر چلا رہا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنی بیٹی کی آمد و شد کا تنقیدی جائزہ کیوں نہیں لیا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مقتولہ کی سہیلی صوفیہ کا گھر ملزم کے گھر کے ساتھ جڑا ہوا ہے آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مقتولہ کو صوفیہ کے گھر جانے سے روک دیتے۔ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟”
​”ہم نے اسے روکا تھا بہت روکا تھا۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔ “اور نادرہ بڑی حد تک باز بھی آ گئی تھی لیکن وقوعہ کی رات پتہ نہیں وہ کس وقت نکل گئی۔ مجھے صبح سے بخار تھا۔ ڈاکٹر نے لیریا بتایا تھا۔ میں رات کو جلدی سو گئی تھی اور……” وہ سانس درست کرنے کے لیے تھی پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔
​”اور…… یہ بات تو نادرہ کی موت کے بعد کھلی ہے کہ ملزم کے ساتھ وہ زیرِ تعمیر عمارت میں ملاقاتیں کرتی تھی۔ صوفیہ نے اگر ہمیں پہلے بتایا ہوتا تو شاید یہاں تک نوبت ہی نہیں آتی۔ صوفیہ ہمیں اندھیرے میں رکھ کر نادرہ سے اپنی دوستی نبھاتی رہی اور…… اور……” اس کی آواز رُندھ گئی۔

​”صوفیہ نے آپ لوگوں کو اندھیرے میں رکھ کر نادرہ سے دوستی نبھائی۔” میں نے ایک باوقار اور دھیمے ہوئے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “جس کے نتیجے میں بالآخر نادرہ موت کے منہ میں چلی گئی۔ سلطانہ صاحبہ! آپ کے خیال میں کیا صوفیہ کو بھی کوئی سزا نہیں ملنی چاہیے؟”
​”ہاں ضرور ملنی چاہیے۔” وہ بے ساختہ بولی۔
​”صوفیہ کو بھی ضرور کوئی سزا ملنی چاہیے۔” میں نے وکیلِ استغاثہ کے الفاظ دہرائے پھر دوبارہ استغاثہ کی گواہ کی جانب متوجہ ہو گیا۔
​”سلطانہ صاحبہ!” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ “آپ نے ملزم کے خط کو چولہے میں ڈال کر ایک جیتا جاگتا ثبوت جلا کر خاکستر کر دیا۔ کیا آپ معزز عدالت کو بتانا پسند کریں گی کہ وہ خط کس نے پڑھا تھا؟”
​”میں نے اور نادرہ نے۔” اس نے ترت جواب دیا۔ “اور نادرہ کے ابا کو میں نے خود پڑھ کر سنایا تھا۔”
​”خط نذرِ آتش ہو چکا اور نادرہ زیرِ زمین اوڑھ کر سو گئی ہے۔” میں نے سلطانہ کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ “کیا آپ کسی ایسے شخص کو گواہی کے لیے عدالت میں پیش کر سکتی ہیں جس نے آپ لوگوں کے علاوہ خط پڑھا ہو؟”
​”آبجیکشن یور آنر!” وکیلِ استغاثہ نے نیم احتجاجی انداز میں آواز بلند کی۔ “استغاثہ کی معزز گواہ دو ٹوک الفاظ میں معزز عدالت کے روبرو بتا چکی ہے کہ مذکورہ خط کے بارے میں صرف گھر کے انہیں تین افراد کو علم تھا۔ وکیلِ صفائی الٹے سیدھے سوالات کر کے خوامخواہ گواہ کو انڈوز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں اس قسم کی حرکت سے باز رہنے کی تاکید کی جائے۔……؟”
​”بیگ صاحب!” وکیلِ استغاثہ کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے جج نے مجھ سے کہا۔ “کیا استغاثہ کی گواہ سلطانہ کے جواب سے صورتِ حال واضح نہیں ہو جاتی……؟”
​”ایس اوکے یور آنر۔” میں نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا اور دوبارہ گواہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
​”سلطانہ صاحبہ!” میں نے اپنی جرح میں تندی بھرتے ہوئے کہا۔ “آپ نے بڑے زور دار انداز میں معزز عدالت کے سامنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے نہایت ہی چال بازی سے آپ کی بیٹی نادرہ کو ورغلا رکھا تھا اور وہ گاہے بگاہے مقتولہ کے ذہن میں زہر بھر کر اسے آپ لوگوں سے متنفر کرتا رہتا تھا۔ کیا آپ اس الزام کے سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت یا غیر جانبدار گواہ عدالت میں پیش کر سکتی ہیں؟”

​”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “ابھی ابھی آپ نے جو کچھ فرمایا ہے آپ کا ذاتی خیال ہے لیکن ملزم کا دعویٰ اس سے قطعی مختلف بلکہ اس کے برعکس ہے۔ اس کے مطابق مقتولہ اس سے سچی محبت کرتی تھی اور اس سے شادی کی خواہاں تھی لیکن آپ لوگوں کی مخالفت نے انہیں ایک نہیں ہونے دیا۔ آپ نے مقتولہ کی منگنی اس کے کزن سے کر دی اور مقتولہ اس شادی کے قطعاً تیار نہیں تھی۔ وہ ملزم کے ساتھ کہیں بھاگ جانا چاہتی تھی مگر ملزم نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا پھر…… آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا۔”
​”یہ وہ کہانی ہے جو ملزم نے آپ کو سنائی ہے۔” وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔ “جبکہ حقیقت وہی ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے۔……”
​”اور اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی معتبر گواہ نہیں ہے۔” میں نے ترکی بہ ترکی جواب میں کہا۔
​”شاید آپ کو معلوم نہیں کہ عدالت کسی بھی بات کی صحت جاننے کے لیے ٹھوس ثبوت مانگتی ہے……” لمحاتی توقف کر کے میں نے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
​”ملزم کا لکھا ہوا خط آپ نے نذرِ آتش کر دیا۔ ملزم کی ذات سے دیگر شکایات کے حوالے سے آپ کے پاس کوئی شہادت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں آپ ایسا کوئی بھی ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکیں کہ ملزم کو آپ کی بیٹی کا قاتل ثابت کرتا ہو……” میں نے روئے سخن جج کی جانب موڑا اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
​”یور آنر! تمام حالات اور واقعات معزز عدالت کے سامنے ہیں۔ مجھے استغاثہ کی گواہ سلطانہ سے اور کچھ نہیں پوچھنا۔”
​اس کے ساتھ ہی معزز عدالت کا وقت مقررہ ختم ہو گیا۔ جج نے دس روز بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔

​منظر اسی عدالت کا تھا اور گواہوں والے کٹہرے میں استغاثہ کی ایک اہم گواہ اور مقتولہ کی راز دار سہیلی صوفیہ کھڑی تھی۔ صوفیہ کی عمر تیس سال کے درمیان نظر آتی تھی۔ وہ پرکشش خدو خال کی مالک ایک دبلی پتلی اور سانولی سلونی لڑکی تھی۔
​جج بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اس نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے وقت معزز عدالت کو بتایا کہ وہ مقتولہ نادرہ کو بچپن سے جانتی تھی۔ دونوں نے ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور یہ کہ نادرہ اس کی راز دار سہیلی تھی۔ وہ صوفیہ سے اپنی کوئی بات چھپاتی نہیں تھی۔ صوفیہ نے اپنے بیان میں اس بات کا کھلم کھلا اقرار کیا کہ وہ مقتولہ اور ملزم کی محبت کے معاملات سے بخوبی آگاہ تھی۔ ان دونوں کی زیرِ تعمیر عمارت میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں سے بھی اچھی طرح واقف تھی۔ صوفیہ نے عدالت کو بتایا کہ اپنی موت سے چند دن پہلے نادرہ بہت پریشان اور الجھی ہوئی رہتی تھی اور اس کا سبب یہ تھا کہ اس کے گھر والوں نے اس کے کزن فیصل سے اس کی شادی کی تاریخ پکی کر دی تھی۔ وقوعہ کے روز بھی مقتولہ پہلے صوفیہ کے گھر آئی تھی اور پھر وہاں سے زیرِ تعمیر عمارت میں ملزم سے ملاقات کرنے چلی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اس قتل کی واردات کے بارے میں وہ اور کچھ نہیں جانتی تھی۔
​صوفیہ کا بیان مکمل ہوا تو وکیلِ استغاثہ جرح کے لیے وٹنس باکس کے قریب چلا گیا۔ اس نے گواہ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی جرح کا آغاز کیا۔
​”صوفیہ صاحبہ! آپ اس بات کی گواہ ہیں نا کہ ملزم اور مقتولہ کے درمیان بڑا دھانسو قسم کا عشق چل رہا تھا اور وہ دونوں دنیا والوں کی نظروں سے چھپ کر رات کی تاریکی میں چوری چوری ملاقاتیں کیا کرتے تھے……؟”
​”جی ہاں یہ بات بالکل درست ہے۔” اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ “اور میں اس کی حلفیہ گواہی دے چکی ہوں۔”
​”کیا یہ بھی درست ہے کہ مقتولہ کو جب بھی ملزم سے ملاقات کرنا ہوتی تھی وہ آپ سے ملنے کا بہانہ کر کے گھر سے نکلتی تھی؟” وکیلِ استغاثہ نے پوچھا۔
​”جی ہاں۔” صوفیہ نے سر کو اثباتی جنبش دی۔ “وہ صرف ملزم سے ملاقات کرنے ہی نہیں بلکہ ویسے بھی مجھ سے ملنے میرے گھر آتی رہتی تھی۔”
​”وقوعہ کے روز بھی وہ ملزم سے ملنے کے لیے ہی آپ کے پاس آئی تھی۔” وکیلِ استغاثہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معتدل انداز میں کہا۔ “اس کے بعد سے تم نے اپنی سہیلی کو زندہ نہیں دیکھا……؟”
​”جی ہاں…… یہی حقیقت ہے۔” صوفیہ نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
​وکیلِ استغاثہ نے مزید چند سوالات کے بعد جرح موقوف کر دی۔
​جج نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ “بیگ صاحب! آپ استغاثہ کی گواہ سے کوئی سوال کرنا چاہیں گے؟”
​میں نے اثبات میں گردن ہلائی اور اٹھ کر وٹنس باکس کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور اپنی جرح کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
​”صوفیہ صاحبہ! آپ نے معزز عدالت کو تھوڑی دیر پہلے بیان دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مقتولہ آپ کی بچپن کی دوست تھی۔ آپ دونوں سے اسکول میں ایک ساتھ پڑھا اور ایک دوسرے کی راز دار تھیں۔ آپ مقتولہ اور ملزم کی عشقیہ داستان سے بھی اچھی طرح واقف تھیں اور انہیں چوری چھپے ملاقاتوں کے لیے مواقع بھی فراہم کرتی تھیں۔ میں کچھ غلط تو نہیں کہہ رہا……؟”
​”نہیں جناب! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔” اس نے مختصر جواب دیا۔
​”کیا یہ بات درست ہے کہ مقتولہ ملزم کو دل و جان سے پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کی خواہاں تھی؟”
​”جی ہاں…… یہ بات درست ہے۔” اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔
​”اور کیا یہ بھی درست ہے کہ ملزم نے اپنی پسند کے حوالے سے خط کے ذریعے مقتولہ کے والدین کو آگاہ کر دیا تھا؟” میں نے جرح کے سلسلے میں تیزی لاتے ہوئے پوچھا۔
​”خط کا تو مجھے کوئی علم نہیں۔” وہ ہچکچاہٹ آمیز انداز میں بولی۔ “البتہ یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ نادرہ کے والدین تک ان کی محبت کا معاملہ ضرور پہنچ چکا تھا اور وہ ان دونوں کی شادی کے سخت خلاف تھے۔”
​خط کے ذکر پر اس کی ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے میں نے وضاحت ضروری سمجھی اور کہا۔ “میں اس خط کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو ملزم کے مطابق ایک درخواست کی حیثیت رکھتا تھا کہ وہ مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا ہے جبکہ مقتولہ کی والدہ کے مطابق وہ ایک دھمکی آمیز خط تھا جس میں ملزم نے انہیں خطرناک نتائج سے ڈرانے کی کوشش کی تھی۔”
​”میں ایسے کسی خط کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔” وہ نظر چراتے ہوئے بولی۔
​مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعاً کوئی دشواری نہ ہوئی کہ وہ مذکورہ خط کے حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ مقتول کو اس خط کی خبر ہو اور اس نے اپنی راز دار سہیلی صوفیہ کو نہ بتایا ہو۔ صوفیہ کے رویے سے واضح ہوتا تھا کہ وہ مقتولہ کی ماں سے تعاون کی پالیسی پر کاربند تھی۔ اس سے ایک بات کھل کر سامنے آ جاتی تھی کہ خط کے معاملے میں ملزم کا موقف ہی درست تھا۔
​”خط تو مقتول کی والدہ نے پرزے پرزے کر کے چولہے میں ڈال دیا تھا لہٰذا اس کے ذکر پر مٹی ڈالتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔” میں نے سرسری انداز میں کہا۔ پھر استغاثہ کی گواہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
​”اس امر کی تو آپ تصدیق کرتی ہیں نا کہ مقتولہ ملزم کی منگنی اس کے کزن فیصل سے کر دی بلکہ ایک ماہ کے بعد ان کی شادی کی تاریخ بھی مقرر کر دی تھی؟”
​صوفیہ نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ “جی ہاں۔”
​”فیصل سے شادی کی تاریخ طے ہونے پر مقتولہ سخت پریشان ہو گئی تھی۔” میں نے کہا۔ “اس موقع پر ملزم کا کیا ردِ عمل تھا؟”
​”جہاں تک میری معلومات ہیں ‘ملزم کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا تھا ۔”
​”آپ کی معلومات کا ذریعہ کیا ہے؟”
​”مجھے سب کچھ مقتولہ کی زبانی پتا چلا تھا۔” اس نے جواب دیا۔
​”ملزم کو صرف دکھ ہوا تھا یا اس نے کسی شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا؟” میں نے پوچھا۔
​اس نے میری توقع کے برعکس اور ملزم کی حمایت میں جواب دیا۔ “ملزم نے کسی منفی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ الٹا اس نے مقتولہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ والدین کی خواہش کے سامنے سر جھکا دے۔”
​”پھر ملزم کی اس نصیحت پر مقتولہ نے کیا جواب دیا تھا؟”
​”مقتولہ اپنے کزن فیصل کو سخت ناپسند کرتی تھی۔” گواہ نے گہری سنجیدگی سے جواب دیا۔ “ملزم کی بزدلانہ پالیسی کے باعث وہ مجبور ہو گئی تھی۔ ورنہ وہ تو ایک سنگین قدم اٹھانے کو بھی تیار تھی……”
​”صوفیہ صاحبہ! میں نے نہایت ہی نرمی کے ساتھ اسے مخاطب کیا۔ “معزز عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ مقتولہ کس نوعیت کا سنگین قدم اٹھانے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ آپ کی راز دار سہیلی تھی۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اس کے ارادے سے واقف نہ ہوں……”
​”وہ ملزم کے ساتھ گھر سے بھاگنے کا پروگرام بنا رہی تھی۔” صوفیہ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بتایا۔ “اس نے وقوعہ کے روز مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنی خواہش کے بارے میں آج رات ملزم کو بتائے گی اور اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی کہ وہ لوگ گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کر لیں۔ بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
​”مقتولہ کے اس باغیانہ منصوبے پر ملزم نے کس ردِ عمل کا اظہار کیا تھا؟” میں نے استفسار کیا۔
​”اس بارے میں مجھے معلوم نہیں۔” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ “وقوعہ کی رات جب مقتولہ میرے گھر سے رخصت ہوئی تو پھر اس کے بعد میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اگلی صبح مجھے پتا چلا کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔”
​”آپ کی مقتولہ سے ملاقات نہیں ہوئی’ لیکن میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ وقوعہ کی رات مقتولہ نے ملزم کے سامنے اپنی تجویز رکھی تھی مگر ملزم نے ایسی حماقت سے صاف انکار کرتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی اور پھر اسے زیرِ تعمیر عمارت میں چھوڑ کر وہ اپنے دوستوں کی طرف چلا گیا تھا۔ جب ملزم مقتولہ سے رخصت ہوا تو وہ زندہ سلامت اور ٹھیک ٹھاک تھی۔”
​وہ لا تعلقی سے انداز میں بولی۔ “ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوا ہو۔”
​”صوفیہ صاحبہ! آپ کو مقتولہ اور ملزم کے عشقیہ مراسم کی پل پل کی خبر تھی۔” میں نے اپنے جارحانہ انداز میں سوال کیا۔ “جب آپ کو یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ان کے ایک ہونے کے امکانات نہیں ہیں اور مقتولہ کی اس کے کزن سے شادی کی تاریخ بھی طے ہو چکی ہے تو ایسی صورتِ حال میں جب مقتولہ نے گھر سے بھاگ جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپ کا فرض بنتا تھا آپ فوری طور پر مقتولہ کے والدین کو اس کے خطرناک منصوبے سے آگاہ کرتیں۔ آپ نے اس معاملے کو کیوں چھپائے رکھا۔ ہو سکتا ہے آپ اس بات کو کھول دیتیں تو مقتولہ جان سے نہ جاتی……”
​”موت کا ایک وقت مقرر ہے وکیل صاحب!” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ “میرے اس معاملے کو کھولنے یا چھپانے سے وہ وقت بدل نہیں سکتا تھا اور جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میری زبان نہ کھلنے کا سبب یہ تھا کہ مقتولہ نے اس سلسلے میں مجھے بڑی پکی قسم دے رکھی تھی۔”
​”کیا مقتولہ کی وہ قسم اس کی زندگی سے زیادہ اہم تھی؟” میں نے پوچھا۔
​”ہرگز نہیں!” وہ قطعیت سے بولی۔ “اگر مجھے پتا ہوتا کہ وقوعہ کی رات میری سہیلی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا تو میں کبھی اور کسی قیمت پر اسے زیرِ تعمیر عمارت میں نہ جانے دیتی اور اگر وہ زبردستی ملزم سے ملنے کی ضد کرتی تو میں فی الفور اس کے والدین کو صورتِ حال سے آگاہ کر دیتی۔”
​”ٹھیک ہے…… اپنی سہیلی مرحومہ نادرہ کے لیے میں آپ کے دلی جذبات کی قدر کرتا ہوں۔” میں نے معتدل انداز میں کہا پھر پوچھا۔ “آپ کے خیال میں مقتولہ اور ملزم کے درمیان یہ پیار و محبت کا سلسلہ کتنے عرصے سے چل رہا تھا؟”
​”لگ بھگ ایک سال سے۔” اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
​”ایک سال اچھا خاصا عرصہ ہوتا ہے۔” میں نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔ “مقتولہ آپ کی گہری اور راز دار سہیلی تھی۔ وہ اپنے اور ملزم کے مابین ہونے والی پیار بھری باتوں کے بارے میں یقیناً آپ کو بتاتی ہو گی؟”
​”جی ہاں وہ مجھ سے ہر بات شیئر کرتی تھی۔” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ “جیسا میں نے بتایا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو بڑی شدت کے ساتھ چاہتے تھے۔”

​”مقتولہ ملزم کے مزاج ‘عادات اور عمومی رویے کا بھی ذکر کرتی ہو گی۔” میں نے بظاہر ہوشیاری سے اپنے مقصد کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔ “کیا کبھی تنہائی میں ملزم نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی…… مطلب یہ کہ مقتولہ نے کبھی آپ کو ملزم کے جارحانہ فعل یا طرزِ عمل کے بارے میں بھی کچھ بتایا تھا؟”
​”نہیں” اس نے بڑی شدت سے نفی میں گردن جھٹکی۔ “مقتول نے ملزم کی ایسی کسی حرکت کے بارے میں مجھ سے کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔”
​”مجھے اور کچھ نہیں پوچھنا جنابِ عالی!” میں نے جج کی جانب مڑتے ہوئے کہا۔ “استغاثہ کو معزز گواہ کے بیان سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ملزم ہوس پرست یا شیطانی ذہنیت کا مالک ہرگز نہیں۔ ملزم اور مقتولہ کے درمیان کم و بیش ایک سال تک عشق و محبت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران وہ دونوں دنیا والوں کی نظروں سے چھپ کر تنہائی میں بھی وقت گزارتے رہے لیکن ملزم نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر کبھی حد سے تجاوز کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ ملزم کی طرف سے کسی بے ہودگی یا بدتمیزی کا ریکارڈ بھی نہیں ملتا۔ دستِ درازی اور مجرمانہ حملہ تو بہت دور کی بات ہے ملزم نے کبھی تنہائی میں مقتولہ سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔ استغاثہ کی گواہ صوفیہ کا بیان ملزم کے شریف النفس اور باکردار ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ ایسا امن پسند اور مصلح جو انسان اپنی محبت کو نہ تو داغ دار کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کا گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔……” میں نے لمحاتی توقف کر کے حاضرینِ عدالت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی پھر ایک گہری سانس خارج کرنے کے بعد دوبارہ جج کی جانب متوجہ ہو گیا۔
​جناب عالی! اس کیس میں پے در پے سامنے آنے والے متعدد جھول سے ثابت ہوتا ہے کہ میرا موکل ملزم کاشف محمود بالکل بے گناہ اور محبت کرنے والا ایک مصلح جو اور باکردار شخص ہے۔ اسے کسی گہری سازش کے تحت قتل کے اس مقدمے میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثال کے طور پر……”
​میں نے ایک مرتبہ پھر تھوڑا توقف کر کے یکے بعد دیگرے وکیل استغاثہ اور اس کیس کے انکوائری آفیسر سب انسپکٹر بشیر احمد کی جانب طنزیہ نظر سے دیکھا اور بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔

​”مثال کے طور پر استغاثہ کی جانب سے جو چالان پیش کیا گیا ہے اس کے ساتھ امر پرنس کی رپورٹ منسلک نہیں ہے جبکہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جب کسی شخص کو گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے تو مقتول کی گردن پر قاتل کی انگلیوں کے بڑے واضح نشانات بن جاتے ہیں۔ ان فنگر پرنٹس کو مخصوص طریقے سے اٹھا کر گرفتار شدہ کسی بھی مشتبہ شخص کے فنگر پرنٹس سے میچ کیا جا سکتا ہے لیکن زیرِ سماعت کیس میں استغاثہ کی طرف سے ایسی کوئی زحمت نہیں کی گئی اور جب میں نے معزز عدالت کے روبرو اس کے تفتیشی افسر سے یہی سوال کیا تو اس کا جواب تھا۔ “ہم نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی……” میری اور قانون کی نظر میں یہ خاصا نامعقول جواب ہے بہرحال آگے بڑھتے ہیں……” میں نے سانس ہموار کرنے کے لیے توقف کیا پھر سلسلہ دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
​”مقتولہ کے والدین خصوصاً مقتول کی والدہ سلطانہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ملزم نے انہیں ایک دھمکی آمیز خطرناک خط لکھا تھا جس میں اس نے مقتولہ کے والدین کو خطرناک نتائج سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے مقتولہ کی شادی اس سے نہ کی تو انہیں زندگی بھر پچھتانا پڑے گا۔ افسوس کا پہلو یہ ہے کہ استغاثہ کی جانب سے اس خط کے متن کو بنیاد بنا کر ملزم کو قاتل ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ملزم نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پہلے مقتول کی عزت کو پامال کیا پھر گلا گھونٹ کر اسے موت سے ہمکنار کر دیا تا کہ اس کے والدین کو نمونہ عبرت دیکھا سکے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ استغاثہ ملزم سے منسوب اس خط کو دستاویزی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کرنے سے قاصر رہا ہے۔ مذکورہ خط مقتولہ کی موت سے کئی روز پہلے نذر آتش کر دیا گیا تھا اور آخری بات……” میں نے ایک مرتبہ پھر ڈرامائی انداز میں رک کر ایک اوجھل سانس خارج کی پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
​”آخری بات ملزم کے کردار اور فطرت کے حوالے سے ہے۔ استغاثہ کی معزز گواہ صوفیہ کا بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ ملزم اور مقتولہ کو کئی مرتبہ تنہائی میں ملاقات کے مواقع میسر آئے مگر ملزم نے کبھی ان مواقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جو اس کے مضبوط کردار کو ثابت کرتی ہے لہٰذا معزز عدالت سے میری پرزور اپیل ہے کہ حالات و واقعات کی روشنی میں میرے موکل کو بے گناہ و بے قصور جانتے ہوئے اس کی رہائی کے احکامات صادر فرمائے۔
“آبجیکشن یور آنر!” وکیل استغاثہ نے اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک نعرہ مستانہ بلند کیا۔
جج نے چونک کر سوالیہ نظر سے وکیل استغاثہ کی جانب دیکھا۔
“وہ اپنے ‘آبجیکشن’ کی وضاحت کرتے ہوئے بولا “یور آنر! میرے فاضل دوست نے قبل از وقت دلائل کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ابھی استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کا سلسلہ مکمل نہیں ہوا۔”
جج نے استغاثہ کی جانب سے دائر گواہوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی اور خود کلامی کے انداز میں بولا “بشارت مرزا کی گواہی ابھی باقی ہے……” پھر اس نے گردن اٹھا کر وکیل استغاثہ کی جانب دیکھا اور استفسار کیا۔
“وکیل صاحب! آپ اپنے گواہ بشارت مرزا کو کب پیش کر رہے ہیں؟”
“آئندہ پیشی پر جناب عالی!” وکیل استغاثہ نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے۔” جج نے اثبات میں گردن ہلائی اور میری جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا “بیگ صاحب! آپ ڈیفنس میں کتنے گواہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟”
“میں سمجھتا ہوں ایک ہی گواہ سے کام چل جائے گا۔” میں نے بڑے اعتماد سے کہا۔
“اوکے……” جج نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“استغاثہ اور ڈیفنس آئندہ پیشی پر ان مذکورہ گواہوں کو عدالت میں پیش کر دیں تاکہ اس کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنایا جا سکے۔”
اس کے ساتھ ہی عدالت کا مقررہ وقت اختتام پذیر ہو گیا۔ جج نے پندرہ روز بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔

​آئندہ پیشی پر میں نے صفائی کے گواہ اور ملزم کے دوست عارف کو پہلے بھگتانے کی درخواست کی جسے عدالت نے فوراً قبول کر لیا۔ میں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ گواہ کا آج بروقت اپنی نوکری پر پہنچنا ضروری ہے لہذا اس کا بیان پہلے ریکارڈ کر لیا جائے۔ عدالت نے اس بات کی بخوبی اجازت دے دی تھی۔

​عارف وہی نوجوان تھا جو ملزم کے ساتھ وقوعہ کی رات ایک انگلش فلم کا آخری شو دیکھنے گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ نادرہ کی موت وقوعہ کی رات دس اور بارہ کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ یہ وہی وقت تھا جب ملزم عارف کے ساتھ ایک مقامی پلے ہاؤس میں بیٹھا فلم دیکھ رہا تھا لہذا اس کے نادرہ کے قتل میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
عارف سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرا چکا تھا تو میں ضروری جرح کے لیے وٹس باکس کے قریب چلا گیا۔ میں نے گواہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوستانہ لہجے میں سوال کیا۔
“عارف صاحب! جس رات مقتولہ نادرہ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا وہ رات آپ کی یادداشت میں محفوظ تو ہو گی؟”
“جی ہاں مجھے سب یاد ہے۔” اس نے اثبات میں جواب دیا۔
“وقوعہ کی رات ملزم کاشف سے آپ کی ملاقات کتنے بجے ہوئی تھی؟”
“لگ بھگ پونے دس بجے رات۔”
“آپ اس سے ملنے گئے تھے یا یہ آپ کے پاس آیا تھا۔”
“یہ ہمارے پاس آیا تھا۔”
“ہمارے پاس……” میں نے چونکتے ہوئے لہجے میں جواباً پوچھا “کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ……” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا “میں اس وقت اپنے دوستوں وسیم اور آفتاب کے ساتھ اپنی گلی کے نکر پر کھڑا تھا کہ کاشف ہمارے پاس آیا اور اور ہمارے درمیان ہلکی پھلکی گفتگو ہونے لگی۔ یہ مجھے خاصا اداس اور الجھا ہوا نظر آیا۔ میں بھی اس دن کافی بور ہو رہا تھا۔ میں نے کاشف کی اداسی اور اپنی بوریت دور کرنے کے لیے اس کے سامنے پکچر کا منصوبہ رکھا۔ یہ فوراً تیار ہو گیا پھر ہم وسیم اور آفتاب کو وہیں چھوڑ کر پکچر دیکھنے چلے گئے تھے۔
“اس رات تم لوگوں نے کون سی پکچر دیکھی تھی؟” میں نے پوچھا۔
“وہ ایک انگلش پکچر تھی۔” گواہ نے بتایا “بروس لی کی…… مار دھاڑ سے بھرپور…… فلم کا نام تھا ‘وے آف دی ڈریگن’……”
“اوکے……” میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے استفسار کیا۔ “وقوعہ کی رات تم لوگ کتنے بجے پکچر ہاؤس پہنچے تھے؟”

​”میرا خیال ہے اس وقت رات کے پونے دس بجے ہوں گے۔” اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
“کیونکہ جب ہم ٹکٹ لے کر ہال کے اندر داخل ہوئے تو اسکرین آن ہو چکا تھا اور آنے والی فلموں کے ٹریلر دکھائے جا رہے تھے۔”
“تم لوگ فلم دیکھ کر کتنے بجے پکچر ہاؤس سے باہر نکلے تھے؟”
“بارہ بجنے میں دس منٹ باقی تھے……”
“تم لوگ اس رات گھر کتنے بجے پہنچے تھے؟”
“کم و بیش ساڑھے بارہ بجے رات۔”
“ذرا سوچ کر بتائیں عارف صاحب!” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے استفسار کیا۔ “وقوعہ کی رات ملزم کاشف سوانو بجے سے لے کر ساڑھے بارہ بجے تک آپ کے ساتھ رہا تھا۔ کیا اس دوران تھوڑی دیر کے لیے بھی آپ کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہوا تھا؟”
“جی ہاں میں اس حقیقت کے بیان کے لیے بڑی سے بڑی قسم کھانے کو تیار ہوں۔” وہ پر اعتماد لہجے میں بولا.
“آخری سوال……” میں نے صفائی کے گواہ عارف کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا “وقوعہ کی رات ملزم کاشف نے لگ بھگ تین گھنٹے آپ کے ساتھ گزارے تھے۔ آپ کو اچھی طرح یاد ہونا چاہیے کہ مذکورہ رات آپ کے دوست اور اس کیس کے ملزم کاشف محمود نے کس قسم کا لباس پہن رکھا تھا؟”
“جی ہاں…… اچھی طرح یاد ہے۔” اس نے بڑے وثوق سے اثبات میں گردن ہلائی۔
“معزز عدالت کے سامنے اس لباس کی تفصیل بیان کریں؟” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“کاشف نے اس رات سیاہ پینٹ اور چیک دار شرٹ پہن رکھی تھی۔” گواہ نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔ “شرٹ والے چیک کی دھاریاں سبز اور جامنی رنگ کی تھیں۔”
“آر یو شیور……؟” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

​”یس ! ” وہ دو ٹوک انداز میں بولا “آئی ایم شیور……”
میں نے روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے کہا۔
“جناب عالی! صفائی کا گواہ اس امر کا دیدہ ور ہے کہ وقوعہ کی رات ملزم کاشف دس اور بارہ بجے کے دوران جائے وقوعہ سے کافی دور ایک مقامی پکچر ہاؤس میں سو فیصد اس کے ساتھ تھا لہذا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی زاویے سے مقتولہ نادرہ کے قتل میں ملوث رہا ہو۔” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“دیٹس آل یور آنر……”
صفائی کے گواہ عارف کو عدالت سے جانے کی اجازت مل گئی۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد وٹس باکس میں استغاثہ کا گواہ بشارت مرزا آ کر کھڑا ہو گیا۔
بشارت مرزا کی عمر پینتیس کے قریب تھی۔ وہ پست قامت کا مالک ایک فربہ اندام معمر ہے۔ سر کے بال کھچڑی اور توند باہر کو نکلی ہوئی۔ پیشے کے اعتبار سے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے وہ ایک پراپرٹی ایجنٹ تھا۔ اس کی پراپرٹی کی دکان لانڈھی کے علاقے میں واقع تھی جبکہ رہائش زیر تعمیر عمارت کے پچھواڑے تھی ۔ اس کے مکان کی پشت زیر تعمیر عمارت کے پچھواڑے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ بشارت مرزا اس مکان میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ اس کی فیملی اندرونِ سندھ کے علاقے میر پور خاص میں تھی۔
استغاثہ کے آخری اور سب سے اہم گواہ بشارت مرزا نے اپنا حلفیہ بیان ریکارڈ کرا دیا تو جرح کی غرض سے وکیل استغاثہ نے اسے گھیر لیا۔ یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ ملزم کے ایک خیر خواہ معروف اور جید صحافی خورشید عباسی نے اس کیس کے سلسلے میں مجھ سے گراں قدر تعاون کیا تھا اور کیس کے جن مختلف کرداروں کے حوالے سے اس نے مجھے معلومات فراہم کی تھیں ان میں سرفہرست استغاثہ کا گواہ بشارت مرزا ہی تھا۔
“بشارت صاحب!” وکیل استغاثہ نے جرح کا آغاز کرتے ہوئے کہا “کیا یہ درست ہے کہ ملزم کو آپ پہلے سے جانتے تھے؟”
“جی ہاں میں تو اسے اکثر ادھر محلے میں دیکھا کرتا تھا۔” گواہ نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
“لیکن کبھی میرے اس کے ساتھ مراسم وغیرہ نہیں رہے۔”

​”یہاں مراسم وغیرہ کا کوئی تذکرہ بھی نہیں۔” وکیل استغاثہ نے سرسری انداز میں کہا۔
“میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے وقوعہ کی رات ملزم کو جائے واردات سے جاتے ہوئے دیکھا تو آپ کو پہچاننے میں کوئی دشواری یا مغالطہ تو نہیں ہوا تھا؟”
“مغالطے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا جناب۔” وہ بڑے اعتماد سے بولا “میں نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔”
“بشارت صاحب! معزز عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ جب آپ نے وقوعہ کی رات ملزم کو زیر تعمیر عمارت سے نکلتے دیکھا اس وقت رات کا کیا بجا تھا؟” وکیل استغاثہ نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال کیا۔
“میرا خیال ہے اس وقت رات کے ساڑھے دس یا گیارہ بجے کا وقت تھا۔” گواہ نے جواب دیا۔
“زیر تعمیر عمارت سے نکلتے ہوئے ملزم کی کیفیت کیا تھی……؟”
“یہ بہت گھبرایا ہوا نظر آتا تھا۔” گواہ نے ملزم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ “چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے اور سر کے بال بری طرح بکھرے ہوئے تھے۔ یہ ایسی افراتفری کے عالم میں زیر تعمیر عمارت سے نکلا تھا جیسے اسے کہیں جانے کی جلدی ہو۔”
اس دوران میں میرا مؤکل اور اس کیس کا ملزم کاشف چپ چاپ ایکوزڈ باکس میں کھڑا تھا ۔ کسی بھی کیس کی سماعت کے وقت ملزم کی کیفیت بڑی حسرت ناک ہوتی ہے۔ اس کا جی تو بہت کچھ کہنے کو مچل رہا ہوتا ہے مگر اپنے خلاف ہر تلخ و ترش بات سن کر اسے خاموش رہنا پڑتا ہے۔ یہ دراصل اس کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ عدالت کی جانب سے اسے ازخود کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ عام زندگی میں انسان اپنے خلاف جھوٹ سن کر چند سیکنڈ کے لیے بھی خاموش نہیں رہ سکتا، لیکن کٹہرے میں کھڑے ملزم کو سننا پڑتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ میری ہدایت کے عین مطابق کاشف بڑے عزم کے ساتھ با مخالفت کے سامنے ثابت قدم کھڑا تھا۔
وکیل استغاثہ نے مزید دو چار سوالات کے بعد جرح ختم کی تو جج کی اجازت پا کر میں نے بشارت مرزا کو گھیر لیا۔ میں نے ہلکے پھلکے انداز میں جرح کا آغاز کیا اور اسے ذرا سا بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ آگے چل کر میں اسے دھوبی پچھاڑ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
​”بشارت مرزا صاحب!” میں نے اسے دوستانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ “کیا میں آپ کو مرزا صاحب کہہ کر مخاطب کر سکتا ہوں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو……؟”
“میں بھلا کیوں اعتراض کروں گا وکیل صاحب!” وہ سادہ لہجے میں بولا “اکثر لوگ مجھے مرزا صاحب ہی کہتے ہیں۔”
“مرزا صاحب! ادھر میر پور خاص کا کیا حال احوال ہے؟”
میرے سوال پر وہ چونک اٹھا “کیا مطلب جناب؟”
“مطلب صاف اور واضح ہے۔” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “میری معلومات کے مطابق آپ کراچی میں بالکل اکیلے رہتے ہیں۔ آپ کی فیملی ادھر میر پور خاص میں ہے۔”
“جی…… جی ہاں۔” وہ سنبھلے ہوئے لہجے میں بولا۔
“وہ لوگ ٹھیک ٹھاک ہیں۔”
“آپ کتنا عرصہ پہلے میر پور خاص اپنی فیملی سے ملنے گئے تھے؟”
“کوئی دو ماہ پہلے……” اس نے جواب دیا اور الجھن زدہ انداز میں دیکھنے لگا۔
میں نے پوچھا “اگر مائنڈ نہ کریں تو اپنی بیوی اور بچوں کے نام بتا دیں؟”
“میری بیوی کا نام عروسہ اور بچوں کے نام شفقت اور صبا ہیں؟” اس نے تعامل کرتے ہوئے جواب دیا۔
“ہیں…… یا…… تھے؟” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے سوال کیا۔
“تھے…… کیا…… مطلب……” وہ بوکھلا گیا۔
“آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟”
“بچے تو ہر حال میں باپ ہی کے رہتے ہیں۔” میں نے خورشید عباسی سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کہا “چاہے وہ ماں کے پاس پروان چڑھیں یا باپ کی نگرانی میں پرورش پائیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عروسہ پچھلے ایک سال سے آپ کی بیوی نہیں رہی۔”
“یہ…… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں……؟” وہ جھرجھری ہوئی آواز میں بولا۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔” میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔

​”ایک سال پہلے عروسہ نے آپ سے طلاق لے لی تھی…… آپ کی بدکرداری کے سبب……”
“آبجیکشن یور آنر!” وکیل استغاثہ نے احتجاجی لہجے میں کہا “جناب عالی! اس وقت عدالت میں نادرہ مرڈر کیس زیر سماعت ہے اور میرے فاضل دوست استغاثہ کے معزز گواہ کے خانگی حالات کا ذکر چھیڑ کر غیر متعلقہ بحث میں عدالت کا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں…… یہ گواہ کی عزت کو سرِ عام اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
“ایسی کوئی بات نہیں ہے جناب عالی! میں نے وکیل استغاثہ کے سوال کے جواب میں جج سے کہا۔ “میں نے ایک تلخ حقیقت کی تصدیق چاہی ہے۔ اگر استغاثہ کا گواہ میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا تو میں اصرار نہیں کروں گا کیونکہ زبردستی میر پور خاص والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ عروسہ نے کن وجوہات کی بنا پر بشارت مرزا سے طلاق لی تھی……”
جج نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں مجھ سے کہا “بیگ صاحب! آپ گواہ کے ماضی کو ایک طرف رکھ کر زیر تعمیر عمارت کے حوالے سے گواہ پر جرح کریں۔”
میں نے جج کی تازہ ترین ہدایت کے مطابق استغاثہ کے گواہ بشارت مرزا سے پوچھا “مرزا صاحب! آپ کا مکان زیر تعمیر عمارت کے پچھواڑے واقع ہے۔ جس وقت آپ نے ملزم کو زیر تعمیر عمارت سے نکلتے دیکھا آپ کہاں تھے؟”
“میں اپنے مکان کی چھت پر ٹہل رہا تھا” گواہ نے جواب دیا۔
“چھت پر ٹہل رہے تھے…… خیریت؟”
“اس رات بہت زیادہ گرمی اور حبس تھا” اس نے بتایا “مجھے نیند نہیں آ رہی تھی لہذا میں تازہ ہوا کی تلاش میں چھت پر چڑھ گیا تھا……”
“آپ نے تھوڑی دیر پہلے وکیل استغاثہ کے ایک سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ جب آپ نے ملزم کو زیر تعمیر عمارت سے نکلتے دیکھا اس وقت رات کے ساڑھے دس یا گیارہ بجے تھے……؟”
“جی ہاں…… میں نے یہی بتایا ہے”۔ وہ تھوک نگل کر اپنے حلق کو تر کرتے ہوئے بولا۔
“لیکن اس وقت تو ملزم اپنے ایک دوست عارف کے ساتھ مقامی سینما میں بیٹھا ایک​انگلش پکچر سے لطف اندوز ہو رہا تھا” میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا “اور مذکورہ بالا ہاؤس جائے وقوعہ سے کافی فاصلے پر واقع ہے……” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“مرزا صاحب! آپ نے وقوعہ کی رات زیر تعمیر عمارت میں سے کسی اور کو تو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا تھا……؟”
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔” وہ بڑے قطعی لہجے میں بولا “میں اس کو پہچاننے میں غلطی کر ہی نہیں سکتا۔”
“تو آپ کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کے دوست عارف نے غلط بیانی سے کام لیا ہے……؟”
“جی…… بالکل…… ظاہری بات ہے……”
“لیکن مرزا صاحب!” میں نے غیر محسوس انداز میں اسے پٹخ کرتے ہوئے کہا۔ “عارف کے علاوہ وسیم اور آفتاب نامی دو ایسے افراد بھی اس دنیا میں موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر عدالت میں گواہی دینے بھی آ سکتے ہیں جنہوں نے وقوعہ کی رات پونے دس بجے کے درمیان ملزم سے گپ شپ کی تھی اور ملزم کو عارف کے ساتھ پکچر ہاؤس کی جانب روانہ ہوتے دیکھا تھا……؟”
“یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔” وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا۔ “عارف وسیم اور آفتاب چونکہ ملزم کے گہرے دوست ہیں اس لیے وہ اسے بے گناہ ثابت کرنے کی خاطر کوئی بھی جھوٹ بول سکتے ہیں۔”
“لیکن آپ کی نظر میں ملزم بے گناہ نہیں”۔ میں نے اسے پھانستے کے لیے جال پھینکا۔ “آپ کے خیال میں نادرہ کو بے آبرو کر کے اسی شخص نے موت کے گھاٹ اتارا ہے؟”
“جی ہاں…… یہی حقیقت ہے۔” وہ بے ساختہ بولا۔
“کیا آپ نے ملزم کو مقتولہ کی آبرو ریزی کرتے ہوئے یا اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟” میں نے درشت لہجے میں استفسار کیا۔
“نن…… نہیں……” وہ گڑ بڑا گیا “مم…… میں نے…… ایسا کب کہا ہے……”
​”ابھی…… چند سیکنڈ پہلے……” میں نے جارحانہ انداز میں کہا “آپ نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ ملزم نے مقتولہ نادرہ کو بے آبرو کر کے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ آپ کے بیان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اس دوہری سنگین واردات کے یا تو چشم دید گواہ ہیں یا پھر اس سلسلے میں آپ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے……”
“ایسی کوئی بات نہیں وکیل صاحب!” وہ کٹی کٹی ہوئے بولا “میں نے بس اس رات ملزم کو زیر تعمیر عمارت سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا”۔
“آپ کے بیان کے مطابق ملزم جب وقوعہ کی رات زیر تعمیر عمارت میں سے نکلا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔” میں نے آہستہ آہستہ پھندا کستے ہوئے کہا “اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے اور سر کے بال بری طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ افراتفری کے عالم میں تھا جیسے اسے کہیں جانے کی بہت جلدی ہو…… میں غلط تو نہیں کہہ رہا……؟”
“نہیں جناب! آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔” وہ تائیدی انداز میں بولا “ملزم کی یہی کیفیت تھی۔”
“ملزم کو دیکھ کر فوری طور پر آپ کے ذہن میں کیا خیال آیا تھا؟”
“یہی کہ اس نے…… زیر تعمیر عمارت میں کوئی گڑ بڑ کی ہو گی”۔ وہ جواب دیتے ہوئے بولا “تبھی وہاں سے جلدی میں فرار ہو رہا تھا۔”
“ملزم کے جانے کے بعد آپ نے زیر تعمیر عمارت میں جا کر صورتِ حال جاننے کی کوشش کی تھی؟” میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
“نن…… نہیں……” اس نے الجھن زدہ لہجے میں کہا۔
“کیوں……؟” میں نے اس پر چڑھائی کر دی۔ “یہ تو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ جس انداز میں ملزم وہاں سے نکلا تھا اس سے آپ کے اندر بے پناہ تجسس پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔ انسانی فطرت سے مجبور ہو کر یا تو آپ کو زیر تعمیر عمارت کے اندر جا کر صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہیے تھا یا کسی اور شخص کو اس واقعے سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ آپ کو تو ویسے بھی وقوعہ کی رات نیند نہیں آ رہی تھی پھر آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟”
“وہ جناب! بات دراصل یہ ہے کہ……” وہ برا سا منہ بنا کر وضاحت کرتے ہوئے بولا “مجھے پرائے پھڈوں میں ٹانگ پھنسانے کا بالکل شوق نہیں۔ یہ تو پولیس نے پوچھ گچھ کی​تو مجھے زبان کھولنا پڑی۔”
“بہت اچھی بات ہے۔” میں نے اثبات میں گردن ہلائی اور بڑے ڈرامائی انداز میں کہا۔ “آپ سے آخری سوال مرزا صاحب!”
وہ چونک کر ہوشیاری سے سوالیہ انداز میں مجھے تکنے لگا۔ میں نے سنسنی خیز انداز میں کہا۔
“مرزا صاحب! وقوعہ کی رات جب گرمی، حبس اور بے خوابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر آپ گھر کی چھت پر ٹہل رہے تھے اور آپ نے اپنے مکان کے پچھواڑے واقع زیر تعمیر عمارت کے اندر سے ملزم کو کافی افراتفری کے عالم میں نکلتے ہوئے دیکھا تھا تو اس وقت ملزم کے تن پر کون سا لباس تھا؟”
“مم…… میرا خیال ہے……” وہ گڑ بڑائے ہوئے لہجے میں بولا۔ “اس نے سفید شلوار اور قمیص پہن رکھا تھا۔”
“تو یہ آپ کا خیال ہے…… یقین نہیں؟” میں نے جارحانہ انداز میں کہا۔
اسی لمحے حاضرین عدالت میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں بعض سامعین اور ناظرین کی ہنسی بھی چھوٹ گئی کیونکہ تھوڑی دیر پہلے صفائی کا گواہ عارف ملزم کے لباس کی تشریح کر کے جا چکا تھا۔ حاضرینِ عدالت کے طرِ عمل نے گواہ کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ وہ پریشان ہو کر وکیل استغاثہ کی جانب دیکھنے لگا۔ میں نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
“ادھر ادھر نہیں ادھر دیکھو۔”
وہ گھبرا کر میری جانب متوجہ ہو گیا۔ میں نے آپ سے تم پر آتے ہوئے پوچھا۔
“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نے وقوعہ کی رات ملزم کو سفید شلوار قمیص میں ملبوس زیر تعمیر عمارت سے افراتفری کے عالم میں نکلتے دیکھا تھا……؟”
“وج…… جی…… جی ہاں۔” وہ پیشانی کا پسینہ پونچھتے ہوئے بولا کمزوری آواز میں بولا۔
“لیکن ملزم کا تو دعویٰ ہے کہ وقوعہ کی رات میں نے نیلے رنگ کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا،” میں نے کہا۔ “اور صفائی کے گواہ عارف نے ملزم کے بیان کی تصدیق بھی کی ہے۔”
“یہ…… دونوں…… جھوٹ بولتے ہیں۔” وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔
“سائنسی اور میڈیکل ریسرچ کے مطابق جب کوئی شخص دروغ گوئی سے کام لے رہا​ہوتا ہے تو اس کے منہ کے اندر پایا جانے والا سلائیا (لعاب دہن) خشک ہو جاتا ہے اور اسے اپنا حلق سوکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اس وقت آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خاصے جارحانہ انداز میں کہا۔ “جبکہ تھوڑی دیر پہلے صفائی کے گواہ عارف نے بڑی رسان سے معزز عدالت کو بتایا ہے کہ وقوعہ کی رات ملزم کاشف محمود سیاہ پتلون اور چیک دار شرٹ میں ملبوس تھا……”
“دل…… لیکن آپ نے تو…… ابھی بتایا ہے کہ…… ملزم نے نیلے رنگ کا شلوار سوٹ……” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر حواس باختہ لوگوں کی طرح مجھے تکنے لگا۔
“میں نے جو بھی کہنا تھا وہ کہہ دیا۔” میں نے سنسناتے ہوئے انداز میں کہا۔ “اب آپ معزز عدالت کو بتائیں گے کہ وقوعہ کی رات آپ نے ملزم کو کس لباس میں زیر تعمیر عمارت سے نکلتے دیکھا تھا کیونکہ لباس کے حوالے سے آپ کی آنکھیں دھوکا کھا ہی نہیں سکتیں…… آپ نے تو اس رات اپنے مکان کی چھت پر کھڑے کھڑے ملزم کے چہرے پر ہے پریشانی کے تاثرات اور سر کے بکھرے ہوئے بالوں کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ دیکھ لیا تھا……”
وہ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
“پ…… پانی……”
پانی ملے گا مگر…… میرے سوال کے جواب کے بعد……”
“مجھے…… سوچنے دیں۔” وہ سراسیمہ نظر سے چاروں جانب دیکھتے ہوئے بولا۔ “مم…… میں ابھی بتاتا ہوں……”
“دیٹس آل یور آنر!” میں نے جج کی جانب دیکھتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا “استغاثہ کے گواہ بشارت مرزا کی دروغ گوئی روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے۔ معزز عدالت سے میری درخواست ہے کہ مرزا صاحب کو تفتیش کی غرض سے اگر حوالہ پولیس کیا جائے تو نہایت ہی کارآمد معلومات حاصل ہو سکتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کا کارآمد معلومات کی روشنی میں نادرہ کے اصل قاتل کا چہرہ بھی چمک اٹھے گا……”
پولیس کے حوالے کرنے کا سن کر بشارت مرزا بری طرح حراساں ہو گیا۔ وہ کٹہرے سے باہر نکلتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بڑ بڑایا۔
​”مم…… میں نے نادرہ کو…… قتل نہیں کیا…… مجھے جانے دیں۔…… میں خود کو پولیس کے حوالے نہیں کروں گا…… میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔…… میں جا رہا ہوں۔”
بدلی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر حکم دیا کہ استغاثہ کے گواہ بشارت مرزا کو گرفتار کیا جائے۔
جج کا حکم سن کر ایک جانب پولیس حرکت میں آئی تو دوسری طرف تماشائیوں نے وہاں عدالت کا دروازہ بند کر دیا۔ اگلے ہی لمحے پولیس نے فوری کارروائی کر کے بشارت مرزا کو گرفتار کر لیا۔
​جب کوئی شخص اپنے جرم کے ٹھوس شواہد کے ساتھ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے تو پھر طوطی زبان کہلوانے کے لیے پولیس کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ بشارت نے بھی نادرہ کے قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔
واقعات کے مطابق بشارت مرزا کو اس راز سے آگاہی ہو گئی تھی کہ مقتولہ اور ملزم زیر تعمیر عمارت میں چھپ چھپ کر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ اس نے اپنے گھر کی عقبی دیوار کا ایک بلاک توڑ کر چھوٹا سا روزن بنا لیا تھا جہاں کان لگا کر وہ ان کی محبت بھری باتیں سنا کرتا تھا۔ وقوعہ کی رات مقتولہ اور ملزم کی گفتگو نے بشارت مرزا کو چونکا دیا ۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ مقتولہ ملزم کے ساتھ گھر سے بھاگ جانے پر اصرار کر رہی تھی لیکن ملزم اسے سمجھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا بالآخر ان کے بیچ تلخی کلامی بھی ہوئی اور ملزم مقتولہ کو زیر تعمیر عمارت میں چھوڑ کر چلا گیا۔ مقتولہ اسے بزدلی کے طعنے دیتے ہوئے وہیں بیٹھ کر رونے لگی۔
اسی لمحے بشارت مرزا پر شیطان سوار ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ مقتولہ زیر تعمیر عمارت سے نکل کر اپنے گھر کا رخ کرتی، وہ اس کے سر پر پہنچ گیا۔ اپنے گھر کے اندر رہتے ہوئے مرزا نے نہ تو ملزم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے لباس کے بارے میں کچھ جانتا تھا اسی لیے جب مجھ سے ملزم کو دیکھنے اور اس کی کیفیت اور لباس کے بارے میں اس نے جو کچھ بھی بیان کیا تھا وہ جھوٹ کا پلندہ تھا اور یہ جھوٹ اس نے اپنی بلا ملزم کے سر ڈالنے کے لیے بولا تھا۔
جب بشارت مرزا مقتولہ کے پاس پہنچا تو اس کی خواہش اور حواس مکمل طور پر شیطان​کے قبضے میں تھے۔ مقتولہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے جانے ہی والی تھی کہ بشارت نے اسے اپنی گرفت میں جکڑ لیا۔ مقتولہ نے چیخنے چلانے اور بشارت کی گرفت سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن بشارت کے اندر جاگتے چنگھاڑتے شیطان نے اس کی پیش نہ چلنے دی۔ بشارت نے ایک ہاتھ کو بڑی مضبوطی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک پر جما کر رکھا تھا تاکہ اس کی آواز اس عمارت سے باہر نہ نکل سکے، دوسرے ہاتھ سے وہ مقتولہ کو زیر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس چھینا جھپٹی میں مقتولہ کا لباس جگہ جگہ سے پھٹ گیا اور اسے چوٹیں بھی آئیں۔ سانس کی آمد و شد معطل ہونے کے باعث مقتولہ بے دم سی ہو کر ڈھہ گئی۔ اس کے بعد بشارت مرزا کو اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔
جب بشارت مرزا کے حواس ٹھکانے پر آئے تو وہ پکڑے جانے کے ڈر سے یک دم ہل کر رہ گیا۔ مقتولہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں سب کو بتاتی پھر اس کا بچنا ممکن نہ رہتا۔ پکڑے جانے کے خوف سے اس نے اضطراری انداز میں، گلا گھونٹ کر مقتولہ نادرہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
عدالت نے آئندہ پیشی پر میرے مؤکل کو باعزت بری کر دیا۔ بشارت مرزا کے اقبالِ جرم کے بعد عدالت کے لیے فیصلہ سنانا بہت آسان ہو گیا تھا۔
نادرہ ایک خودسر اور منہ زور لڑکی تھی۔ اگر اس نے کاشف کی بات مان لی ہوتی تو ایسی عبرت ناک موت اس کے حصے میں نہ آتی، لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ مقدر میں جو دکھ اور پریشانی لکھی ہو وہ بالآخر مل کر رہتی ہے.”
ختم شدہ

مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے کلک کریں