Urdu Short Stories 15

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 15

مزارعوں کے اس ویران اور پرانے کچے ڈیرے کے باہر اس وقت جیسے چولستان کے گہرے اندھیرے نے بارود کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ کامران احمد کی ہولناک اور مکارانہ گرج جیسے ہی دالان کی کچی کھڑکیوں کے سوراخوں سے ہوتی ہوئی اندر پہنچی، تو کمرے میں جلتی ہوئی پرانی لالٹین کی زرد لو خوف سے بری طرح تھر تھرا اٹھی۔ حویلی کے غنڈوں کی گاڑیوں کی تیز، سفید ہیڈ لائٹس کی شعاعیں کچے دالان کے اندرونی فرش پر پڑ رہی تھیں، جس سے صلاح الدین کے خون سے لت پت سفید کرتے کا سرخ رنگ مزید خوفناک اور واضح دکھائی دینے لگا تھا۔
“شوکت۔۔۔!!! رائفل کی پوزیشن سنبھال، حویلی کے کتوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے!” بابا رحیمو کی بوڑھی لیکن شیر جیسی گرجدار آواز دالان کے دروازے پر گونجی۔ انہوں نے اپنی پرانی، سنگل بیرل دیسی بندوق کو مضبوطی سے تھاما جس کا لکڑی کا بٹ ان کے بوڑھے ہاتھوں کی گرفت میں کانپ رہا تھا، لیکن ان کی غیرت مند آنکھوں میں جاگیرداروں کے لیے صرف اور صرف موت کا پیغام تھا۔ شوکت نے فورا آگے بڑھ کر دالان کے بھاری لکڑی کے پٹ کو اندر سے بند کر کے لوہے کی کنڈی چڑھا دی اور کھڑکی کے کچے سوراخ میں اپنی رائفل کی نال باہر کی طرف نکال دی۔
باہر ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے کامران احمد کے اشارے پر منور اور خان بخش نے اپنی کلاشنکوفوں کے منہ کھول دیے۔ ایک لمحے میں پورا چولستان کلاشنکوفوں کی وحشیانہ اور پے در پے تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ گولیوں کی ایک اندھا دھند بوچھاڑ ڈیرے کی مٹیالی دیواروں سے آ کر ٹکرائی۔ کچی مٹی کے ڈھیلے اور پلاسٹر ٹوٹ ٹوٹ کر چارپائی پر لیٹے صلاح الدین کے بے جان وجود اور بانو کے گلابی دوپٹے پر گرنے لگے۔ سوراخوں سے گزرنے والی گولیاں دالان کی چھت کے پرانے شہتیروں کو چیرتی ہوئی پار نکل رہی تھیں، جس سے پورا ڈیرہ کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کے مہیب خطرے میں گھرا ہوا تھا۔
“ڈاکٹر سائیں! رکنا مت! اپنے ہاتھ چلاتے رہو!” عثمان نے روتے ہوئے، دیوانہ وار اپنے دونوں ہاتھوں سے لالٹین کی روشنی کو صلاح الدین کے پیٹ کے بالکل قریب کیا، جہاں ڈاکٹر اکرام کے لرزتے ہوئے ہاتھ سوئی اور دھاگے سے اس کے پھٹے ہوئے گوشت کو سی رہے تھے۔ ڈاکٹر اکرام کے ماتھے سے پسینے کی موٹی موٹی بوندیں ٹپک کر صلاح الدین کے سینے پر گر رہی تھیں، باہر ہونے والی ہر گولی کی دھمک پر ڈاکٹر کا ہاتھ لرز جاتا تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ایک ٹانکا بھی غلط لگایا تو افتخار احمد کا یہ بیٹا اسی لکڑی کی چارپائی پر آخری سانس لے لے گا۔
“سائیں۔۔۔ میری جان، میرے سائیں!” بانو چارپائی کے بالکل نیچے، ریت کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی، صلاح الدین کے برف کی طرح ٹھنڈے پیروں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑے ہوئے تھی، اس کا پورا وجود ہچکیوں اور سسکیوں سے لرز رہا تھا، “آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ناں سائیں کہ آپ مریں گے نہیں! دیکھیں، باہر موت کھڑی ہے، لیکن بانو آپ کے پیروں سے لپٹی ہے۔ اگر ان غنڈوں کی کوئی گولی اندر آئی ناں سائیں، تو وہ پہلے بانو کی روح کو چیرے گی، پھر آپ تک پہنچے گی! اپنے عشق کی لاج رکھ لیں سائیں، اپنی بانو کے لیے سانسیں واپس لے آئیں!”
اسی لمحے، باہر سے شوکت کی دیسی رائفل نے ایک زوردار فائر کیا جس کی دھمک سے ڈیرے کا صحن کانپ اٹھا۔ شوکت کی گولی سیدھی حویلی کے ایک غنڈے کے سینے کو چیرتی ہوئی نکل گئی اور وہ ایک ہولناک چیخ کے ساتھ ریت کے ٹیلے سے نیچے جا گرا۔ “بابا! ان کے پاس کلاشنکوفیں ہیں، ہماری دیسی بندوقیں زیادہ دیر ان کا راستہ نہیں روک سکتیں! ہمارا بارود ختم ہو رہا ہے!” شوکت نے ہانپتے ہوئے کھڑکی سے چیخ کر کہا۔
کامران احمد نے جب دیکھا کہ مزارعے اندر سے مقابلہ کر رہے ہیں، تو اس کے چہرے پر ایک وحشیانہ جلال ابھر آیا۔ اس نے ریت پر کھڑے ہو کر اپنے غنڈوں کو گرج کر حکم دیا، “منور! گاڑیوں سے پٹرول کے کین نکالو! اس پورے کچے ڈیرے کو آگ لگا دو! میں صلاح الدین اور اس مزارعے کی دھی کو اسی ڈیرے کے اندر زندہ جلا کر راکھ کر دوں گا! شاہینہ بیگم کا حکم ہے کہ چولستان میں ہمارے خلاف اٹھنے والا ہر سر ہمیشہ کے لیے مٹی میں مل جانا چاہیے!”
غنڈوں نے فورا گاڑیوں سے پٹرول کے کین نکالے اور ڈیرے کی کچی دیواروں پر پٹرول پھینکنا شروع کر دیا۔ پٹرول کی تیز، چبھتی ہوئی بو کھڑکی کے سوراخوں سے ہوتی ہوئی دالان کے اندر تک پھیل گئی، جس نے اندر بیٹھے عثمان، بانو اور ڈاکٹر اکرام کے حلق میں کانٹے چبھا دیے۔ موت اب ان کے بالکل سر پر کھڑی تھی، آگ کا ایک شعلہ اس پورے ڈیرے کو ان سب کی مشترکہ قبر بنانے کے لیے کافی تھا۔
ڈاکٹر اکرام نے صلاح الدین کے پیٹ پر آخری، تیرہواں ٹانکا لگایا اور جلدی سے میڈیکل پٹی کو اس کے پورے وجود پر لپیٹتے ہوئے عثمان کی طرف دیکھا، “عثمان! میں نے اندرونی خون بہنا (Internal Bleeding) روک دی ہے اور آخری ٹانکے لگا دیے ہیں! لیکن اس جوان کے جسم میں اب ایک قطرہ بھی خون باقی نہیں بچا۔ اس کی نبض ڈوب رہی ہے! اگر اگلے بیس منٹ کے اندر اسے شہر کے بڑے ہسپتال لے جا کر بلڈ ٹرانسفیوژن (خون چڑهانا) نہ شروع کیا گیا، تو میرا یہ آپریشن بھی اسے نہیں بچا سکے گا! یہ کوما (Coma) میں جا رہا ہے عثمان!”
“میں اپنے بھائی کو مرنے نہیں دوں گا ڈاکٹر!” عثمان نے پاگلوں کی طرح چیخ کر صلاح الدین کے بے جان ہاتھ کو چوما۔
باہر منور نے جیسے ہی ماچس کی تیلی جلائی اور ڈیرے کے کچے دروازے پر پھینکنے ہی والا تھا کہ اچانک چولستان کے دور افق سے، بہاولپور شہر کی طرف جانے والی کچی سڑک پر درجنوں گاڑیوں کے سائرن کی فلک شگاف آوازیں رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی گونج اٹھیں۔ گاڑیوں کی تیز ہیڈ لائٹس کے سیلاب نے چولستان کے اندھیرے کو ایک ہی سیکنڈ میں دن کے اجالے میں بدل دیا۔ افتخار احمد کی کال پر، شہر سے رینجرز کے بھاری ڈالے اور پولیس کی ایک بہت بڑی نفری، خود افتخار احمد کی قیادت میں مزارعوں کے ڈیرے پر پہنچ چکی تھی!
“کامران احمد۔۔۔!!! ہتھیار پھینک دو! تم چاروں طرف سے قانون کے گھیرے میں ہو!” پولیس کے میگافون سے گونجنے والی یہ آواز جیسے ہی کامران کے کانوں سے ٹکرائی، اس کے ہاتھ سے ماچس کی جلتی ہوئی تیلی ریت پر گر کر بجھ گئی۔ رینجرز کے جوانوں نے گاڑیوں سے چھلانگیں لگا کر حویلی کے غنڈوں پر چاروں طرف سے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا۔
“منور! خان بخش! بھاگو یہاں سے! پولیس آ گئی ہے!” کامران احمد کا پورا تکبر، اس کی پوری ماری ہوئی چال ایک ہی سیکنڈ میں ہوا میں اڑ گئی۔ وہ اپنے غنڈوں کو چھوڑ کر، ریت کے ٹیلوں کی اوٹ میں چھپتا ہوا حویلی کی پچھلی گاڑی کی طرف دیوانہ وار بھاگا، جبکہ رینجرز کے جوانوں نے حویلی کے پانچ غنڈوں کو وہیں ریت پر دبوچ کر ہتھکڑیاں پہنا دیں۔
ڈیرے کا کچا دروازہ جیسے ہی عثمان نے باہر سے کھولا، افتخار احمد اپنے سفید بالوں کو ہوا میں اڑاتے، اپنے محافظوں کے ساتھ دالان کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے جیسے ہی اپنے بڑے بیٹے صلاح الدین کو اس لکڑی کی چارپائی پر، خون سے نہائے ہوئے، بے ہوش دیکھا، تو اس بوڑھے سیاستدان کے پیروں سے طاقت جیسے سلب ہو گئی۔ وہ لرزتے ہوئے اپنے بیٹے کے پاس بیٹھے اور اس کے زرد ماتھے پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھ دیے۔
“صلاح الدین۔۔۔ میرے شیر بیٹے! اپنے باپ کی طرف دیکھو!” افتخار احمد کی آنکھوں سے بوڑھے آنسو نکل کر صلاح الدین کے چہرے پر گرے۔ انہوں نے فورا اپنے گارڈز کو اشارہ کیا، “سٹریچر لے کر آؤ! ملٹری ہسپتال کے ڈاکٹروں کو الرٹ کرو! چولستان کا پورا راستہ خالی کرواؤ، میرے بیٹے کی سانسیں چلنی چاہئیں!”
سرکاری گارڈز نے فورا صلاح الدین کے وزنی اور بے حس و حرکت جسم کو چارپائی سے اٹھا کر سٹریچر پر ڈالا اور اسے باہر کھڑی ایمبولینس کی طرف لے جانے لگے۔ بانو، جو اب تک صلاح الدین کے پیروں سے لپٹی ہوئی تھی، وہ بھی روتی ہوئی سٹریچر کے ساتھ ساتھ باہر آئی۔ اس کا گلابی دوپٹہ اور ہاتھ صلاح الدین کے خون سے سرخ ہو چکے تھے۔ جیسے ہی صلاح الدین کو ایمبولینس کے اندر منتقل کیا گیا، بانو نے ایمبولینس کے لوہے کے دروازے کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا۔
بہاولپور کے ملٹری ہسپتال کی وہ لمبی، سنسان اور سفید کوریڈور اس وقت کسی قبرستان کی طرح خاموش تھی، جہاں صرف دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک اور آئی سی یو (ICU) کے بھاری شیشے کے دروازے کے اوپر جلنے والا سرخ لیمپ فضا میں ایک عجیب سی دہشت پھیلا رہا تھا۔ ہسپتال کی اس سرد ہوا میں دواؤں کی کڑوی بو رچی ہوئی تھی، اور اس کوریڈور کے ایک کونے میں، پکے فرش پر سر جھکائے افتخار احمد بیٹھے تھے—وہ سیاستدان جس کے ایک اشارے پر پورا شہر رک جاتا تھا، آج اپنے بڑے بیٹے کی زندگی کے لیے کسی عام، بے بس باپ کی طرح اندرونی طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ ان کے برابر میں عثمان سر تھامے بیٹھا تھا، جس کی آنکھیں اپنے بھائی کی اس حالت پر رو رو کر سوج چکی تھیں۔
لیکن اس پوری کوریڈور میں سب سے رقت آمیز اور سحر انگیز وجود بانو کا تھا۔ وہ آئی سی یو کے اس چمکدار شیشے کے بالکل سامنے، پکے فرش پر دونوں گھٹنے ٹیکے، اپنے ہاتھ جوڑے ساکت بیٹھی تھی۔ اس کی گلابی چادر کا ایک بڑا حصہ صلاح الدین کے پیٹ کے زخم کے خون سے سرخ ہو کر اب سوکھ چکا تھا، اس کے نازک ہاتھوں کی انگلیوں پر جمی مٹی اور خون کے نشان اب بھی ویسے ہی تھے، لیکن اس کی آنکھیں اب شیشے کے پار اس منظر پر جمی تھیں جہاں ڈاکٹروں کی ایک پوری ٹیم صلاح الدین کے وجود کو مشینوں، نالیوں اور خون کی بوتلوں کے جال میں جکڑے ہوئے اس کے دل کی ڈوبتی ہوئی دھڑکنوں کو واپس لانے کی آخری کوشش کر رہی تھی۔ صلاح الدین کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا تھا، اور مانیٹر پر چلنے والی لکیر کی مدہم رفتار یہ بتا رہی تھی کہ وہ اس وقت دنیا اور آخرت کے کسی گہرے، تاریک کوما (Coma) کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔
“بیٹی بانو۔۔۔ تم کچھ کھا پی لو، کل رات سے تم نے پانی کا ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے نہیں اتارا،” بوڑھے اللہ دتا نے لرزتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنی دھی کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اس کی اپنی کمر پر حویلی کے کوڑوں کے نیلے نشان اب بھی درد کر رہے تھے، “وکیل سائیں نے اپنی جان پر کھیل کر ہمیں اس جہنم سے نکالا ہے، اب اگر تم بھی اس طرح اپنے وجود کو مٹا دو گی، تو اس جوان کی اس قربانی کا کیا مان رہے گا دھی؟”
بانو نے اپنے باپ کی آواز پر اپنا سر آہستہ سے اوپر اٹھایا۔ جب اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، تو اللہ دتا کے پورے وجود میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بانو کی آنکھوں میں اب وہ روایتی، ڈری سہمی ہوئی چولستانی مزارعے کی لڑکی نہیں تھی جس کے ہونٹ جاگیرداروں کے نام پر کانپنے لگتے تھے۔ اس کی لال انگارہ آنکھوں میں آنسو اب جم کر پتھر ہو چکے تھے، اور اس کے چہرے کی معصومیت پر اب ایک ایسا عبرت ناک، فولادی اور چٹان جیسا عزم لکھ چکا تھا جسے دنیا کا کوئی طوفان نہیں ہلا سکتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ اللہ دتا دنگ رہ گیا۔
“ابا سائیں!” بانو کی آواز اس کوریڈور کی سرد خاموشی میں کسی تیز دھار خنجر کی طرح گونجی، اس کی آواز میں سرائیکی کا وہ روایتی درد تو تھا، لیکن اب اس میں مزارعوں کی صدیوں پرانی بے بسی نہیں تھی، “اب بانو روئے گی نہیں، اب بانو اپنے نصیب کا شکوہ بھی نہیں کرے گی۔ میں نے کل رات اپنے سائیں کے جسم سے نکلنے والے خون کے ایک ایک قطرے کو اس چولستان کی مٹی پر بہتے دیکھا ہے۔ میں نے ان کے منہ سے نکلنے والی اس اخری چیخ کو اپنے کانوں سے سنا ہے جب ڈاکٹر ان کے گوشت کو سوئی سے سی رہا تھا۔ ابا! یہ وکیل سائیں حویلی کے اس کالے فرعون سارنگ شاہ کے سامنے قانون کی کتاب لے کر کھڑے تھے ناں؟ وہ کہتے تھے ناں کہ قانون سب سے بڑا ہوتا ہے؟ اج ان کا وہ قانون، ان کی وہ کتاب، ان کے اپنے ہی خون سے لال ہو کر ہسپتال کے اس کچرے دان میں پڑی ہے۔”
بانو نے آئی سی یو کے شیشے پر اپنا خون آلود ہاتھ رکھا، اس کی نظریں صلاح الدین کے پیٹ پر بندھی سفید پٹیوں پر جمی تھیں، “شاہینہ بیگم اور کامران احمد سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے صلاح الدین سائیں کو اس چارپائی پر لٹا کر مزارعوں کی زبان کاٹ دی ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ چولستان پر ان کا مکر دوبارہ جیت گیا ہے۔ لیکن ابا! شاہینہ بیگم نے اب تک صرف چولستان کی ریت دیکھی ہے، اس نے ابھی تک اس ریت سے اٹھنے والا وہ خونی طوفان نہیں دیکھا جو حویلی کے اس غرور کو خاک میں ملا دے گا۔ اگر میرا سائیں اس چولستان کے قانون کے لیے، میرے جیسے ایک معمولی کیڑے مکوڑے کی حیا بچانے کے لیے اپنی چھاتی پر گولی کھا سکتا ہے، تو یہ بانو بھی اب اسی قانون کا خنجر بن کر شاہینہ بیگم کے پورے خاندان کے کلیجے کو چیر کر رکھ دے گی!”
افتخار احمد نے جب اس معصوم لڑکی کے منہ سے یہ فولادی الفاظ سنے، تو وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور لرزتے قدموں سے بانو کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے بانو کے سر پر اپنا بوڑھا ہاتھ رکھا، ان کی اپنی سیاست کی مکاریاں اس لڑکی کے سچے جلال کے آگے گھٹنے ٹیک چکی تھیں، “بیٹی بانو! میں صلاح الدین کا باپ ہوں، لیکن میں اج اعتراف کرتا ہوں کہ میرے بیٹے نے ایک ایسی لڑکی سے عشق کیا ہے جو اس چولستان کی سب سے غیرت مند دھی ہے۔ کامران احمد نے میرے خاندان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، اس نے میڈیا اور شہر کی عدالتوں میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے کہ صلاح الدین مزارعوں کے ذاتی جھگڑے میں زخمی ہوا ہے اور حویلی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سارنگ شاہ نے ہسپتال سے فرار ہو کر اپنے پالتو ججوں سے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی ہے۔ قانون کے ہاتھ ہمارے اپنے ہی لوگوں نے باندھ دیے ہیں بیٹی!”
“چچا سائیں!” بانو نے افتخار احمد کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے، لیکن اس کا چہرہ بالکل سیدھا تھا، “قانون کے ہاتھ تب تک بندھے رہتے ہیں جب تک مظلوم حویلی کے خوف سے اپنے منہ پر تالے لگا کر رکھتا ہے۔ کل صبح بہاولپور کی عدالت میں اس کیس کی پہلی پیشی ہے ناں؟ سارنگ شاہ اور کامران احمد اپنے وکیلوں کی پوری فوج لے کر وہاں آئیں گے ناں تاکہ اس کیس کو ہمیشہ کے لیے بند کروا سکیں؟ آپ بس مجھے کل صبح اس عدالت کے کٹہرے تک پہنچا دیں چچا سائیں! صلاح الدین سائیں نے جو وکالت نامہ میرے ابا سے سائن کروایا تھا، کل اس وکالت نامے کی لاج یہ بانو رکھے گی۔ میں اس عدالت کے اندر جج کے سامنے کھڑے ہو کر سارنگ شاہ کے اس خونی کوڑے کی گواہی دوں گی، میں کامران احمد کے اس مکر کا پردہ چاک کروں گی جس نے میرے ابا کو زنجیروں میں جکڑا تھا۔ میں دیکھتی ہوں کہ چولستان کا کون سا جج اس مظلوم دھی کی گواہی کے بعد ان فرعونوں کو ضمانت دیتا ہے!”
بانو کا یہ عزم دیکھ کر عثمان کے چہرے پر بھی ایک نئی جرات ابھری۔ اس نے آگے بڑھ کر بانو کی طرف دیکھا، “بھابھی! اگر آپ عدالت میں کھڑی ہونے کے لیے تیار ہیں، تو عثمان آپ کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگا۔ میں شہر کے سب سے بڑے بیرسٹرز اور صلاح الدین بھائی کے جونیئرز کو اکٹھا کروں گا۔ کل صبح بہاولپور کی عدالت مزارعوں کے اس تاریخی انصاف کی گواہ بنے گی جس کا خواب صلاح الدین بھائی نے دیکھا تھا!”
بانو نے ایک آخری بار آئی سی یو کے شیشے کے اندر دیکھا، جہاں صلاح الدین کی آکسیجن مشین کی بیپ بیپ کی آواز اب بھی گونج رہی تھی۔ اس نے اپنے دل کے اندر ایک گہرا عہد کیا: ‘سائیں! آپ نے اپنی محبت کا حق ادا کر دیا، اب بانو اپنے عشق کی چھاؤں کا حق ادا کرے گی، جب تک سارنگ شاہ کے پیروں میں قانون کی زنجیریں نہیں بندھ جاتیں، یہ بانو چین سے نہیں بیٹھے گی!’
چولستان کے صحرا پر رات کا پچھلا پہر اپنی پوری مہیب خاموشی کے ساتھ پھیل چکا تھا، لیکن شاہینہ بیگم کی اس اونچی، کالی حویلی کے بڑے دیوان خاص میں اس وقت خوف، غصے اور سازشوں کا ایک ایسا تپتا ہوا لاوا ابل رہا تھا جس نے وہاں کے در و دیوار کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دیوان خاص کی بڑی، مہنگی فانوسوں کی تیز روشنی فرش پر بچھے ایرانی قالینوں پر پڑ رہی تھی، جہاں سارنگ شاہ اپنے دائیں ہاتھ پر سفید پٹی باندھے، درد اور ذلت کی تپش سے ہانپتا ہوا دیوان کی ایک بڑی مخملی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ غصے سے نیلا ہو چکا تھا اور اس کی وہ آنکھیں جو کبھی مزارعوں کے لیے موت کا پروانہ ہوتی تھیں، اس وقت شکست کی دھول سے اٹی ہوئی تھیں۔
“تھپڑ۔۔۔!!! ایک معمولی، کچے کوٹ والے وکیل نے میری حویلی کے اندر گھس کر میرے بیٹے کی کلائی پر گولی ماری اور تم سب تماشہ دیکھتے رہے؟” دیوان کے مرکز میں کھڑی شاہینہ بیگم کی آواز کسی کڑکتی ہوئی بجلی کی طرح گونجی۔ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی اس سونے کی چھڑی کو اتنے زور سے پکے سنگِ مرمر کے فرش پر مارا کہ اس کی گونج پورے ہال میں پھیل گئی۔ ان کے سفید بال ان کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے اور ان کی مکارانہ آنکھوں میں اس وقت چولستان کے مزارعوں کو ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملانے کا وحشیانہ عزم چمک رہا تھا، “اگر کل صبح بہاولپور کی عدالت میں اس اللہ دتا اور اس کی دھی بانو نے میرے بیٹے کے خلاف گواہی دے دی، تو افتخار احمد اپنی سیاست کے زور پر سارنگ شاہ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے گا! اور میں جیتے جی اپنی جاگیرداری کا یہ جنازہ نکلتے نہیں دیکھ سکتی، کامران احمد!”
دالان کے دوسرے کونے میں، اندھیرے ستون کی اوٹ سے کامران احمد آہستہ آہستہ چلتا ہوا روشنی کے دائرے میں آیا۔ اس کے چہرے پر عینک کے پیچھے وہی روایتی، زہر آلود اور ٹھنڈی مسکراہٹ تھی جو کسی سانپ کے ڈسنے سے پہلے اس کے وجود پر ابھرتی ہے۔ اس نے اپنی کالی ریشمی چادر کو اپنے کندھے پر درست کیا اور شاہینہ بیگم کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔
“بڑی امی! آپ بالکل بے فکر ہو جائیں، کامران احمد کے ہوتے ہوئے قانون کی کوئی کتاب اس حویلی کی دیواروں کو چھو بھی نہیں سکتی،” کامران کی آواز میں مکر کی وہ گہری چاشنی تھی جو سیدھی زہر میں ڈوبی ہوئی محسوس ہوتی تھی، “صلاح الدین اس وقت ملٹری ہسپتال کے آئی سی یو میں زندگی اور موت کی اخری لکیر پر لیٹا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ کوما میں ہے اور اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ چکا ہے۔ جس وکیل کے دم پر یہ چولستان کے چوہے اچھل رہے تھے، وہ تو خود موت کے منہ میں ہے۔ اب پیچھے بچی ہے وہ بانو اور اس کا بوڑھا باپ اللہ دتا۔”
کامران نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک سفید کاغذ نکالا اور اسے دیوان کی بڑی شیشے کی میز پر رکھ دیا، “میں نے شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے سرکاری وکیل، بیرسٹر امجد کو حویلی کی طرف سے پانچ لاکھ روپے کی بھاری فیس دے کر کل صبح کے لیے ہائر کر لیا ہے۔ بیرسٹر امجد نے جج صاحب کے ساتھ بیٹھ کر پوری بساط بچھا دی ہے۔ کل صبح جج کے سامنے یہ کاغذ پیش کیا جائے گا، جس پر اللہ دتا کے انگوٹھے کا نشان موجود ہے۔ اس کاغذ کے مطابق، اللہ دتا نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے حویلی کا کوئی اناج چوری نہیں کیا تھا، بلکہ وہ خود صلاح الدین کے بہکاوے میں آ کر حویلی کے خلاف جھوٹا کیس بنا رہا تھا اور صلاح الدین نے مزارعوں کے ذاتی جھگڑے میں خود گولی کھائی ہے۔”
“لیکن کامران! وہ بانو۔۔۔ وہ لڑکی اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی!” سارنگ شاہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے درد سے کراہ کر کہا، اس کی آواز میں خوف کا ایک باریک عنصر تھا، “میں نے ہسپتال سے فرار ہونے سے پہلے اپنے بندوں سے معلوم کروایا ہے۔ وہ لڑکی صلاح الدین کے خون سے لت پت کرتے کو تھامے ہسپتال کی کوریڈور میں کھڑی ہے اور اس کی آنکھوں میں اب موت کا خوف نہیں ہے۔ اگر کل وہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہو کر جج کے سامنے میرے اس چمڑے کے کوڑے کو لہرائے گی، تو میڈیا اس کیس کو پورے ملک کا سب سے بڑا جاگیردارانہ ظلم بنا کر پیش کرے گا! افتخار احمد اس موقع کی تلاش میں ہے!”
“سارنگ بھائی! عورت جب تک ڈرتی ہے، تب تک ہی عورت ہوتی ہے۔ جب اس کا خوف ختم ہو جائے، تو اسے ختم کرنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے،” کامران احمد کی آنکھوں میں ایک ہولناک چمک ابھری۔ اس نے شاہینہ بیگم کی طرف دیکھا، “بڑی امی! میں نے ملٹری ہسپتال کے باہر اپنے چار وفادار غنڈوں کو کلاشنکوفیں دے کر پوزیشنیں دلوا دی ہیں۔ کل صبح جیسے ہی بانو اور اس کا باپ اللہ دتا، عثمان کے ساتھ ہسپتال کی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر عدالت کی گاڑی میں بیٹھنے لگیں گے، تو میرے بندے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دیں گے۔ وہ عدالت کی چوکھٹ تک پہنچ ہی نہیں پائیں گے۔ چولستان کی ریت پر قانون کی گواہی دینے والا کوئی زندہ ہی نہیں بچے گا!”
“شاباش۔۔۔ میرے لال!” شاہینہ بیگم کے چہرے پر ایک کرخت، مکارانہ اور ہولناک مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے اپنا بوڑھا، رِنگز سے بھرا ہوا ہاتھ کامران کے کندھے پر رکھا، “افتخار احمد سمجھتا ہے کہ وہ اپنے اس وکیل بیٹے کے خون کو سیاست کی مہر بنا کر میری جاگیرداری کو ختم کر دے گا۔ وہ بھول گیا ہے کہ یہ چولستان شاہینہ بیگم کے اشاروں پر چلتا ہے۔ کامران! کل صبح کی عدالت مزارعوں کے انصاف کی نہیں، بلکہ ان کی لاشوں کی گواہ بنے گی۔ جاؤ! اپنے بندوں کو الرٹ کرو، کل صبح بہاولپور کی سڑکوں پر مزارعوں کا وہ خون بہنا چاہیے کہ دوبارہ چولستان کا کوئی کیڑا مکوڑا حویلی کے سامنے سر اٹھانے کی جرات نہ کر سکے!”
دوسری طرف، ملٹری ہسپتال کے اکیلے کچے گوشے میں، جہاں فجر کی پہلی سفید کرن چولستان کے افق پر نمودار ہو رہی تھی، بانو اب بھی اسی جگہ گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ اب بھی دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے، لیکن اس کے چہرے کا عزم اب فجر کے اجالے کی طرح صاف اور روشن ہو چکا تھا۔ اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ ہسپتال کے بھاری لوہے کے گیٹ کے باہر، کامران احمد کی موت کی گاڑیاں کلاشنکوفیں تانے اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی ہیں۔
صبح کے ٹھیک چھ بجے بہاولپور کے ملٹری ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر کہرے کی ایک ہلکی سی سفید چادر تنی ہوئی تھی۔ چولستان کی ٹھنڈی ہوا اب بھی شہر کے درختوں کو ہلا رہی تھی، لیکن اس سرد موسم میں بھی ہسپتال کے باہر کھڑے نیم اندھیرے میں ایک عجیب سی تپش اور سنسنی خیز خاموشی محسوس ہو رہی تھی۔ ہسپتال کے مین روڈ سے ہٹ کر، ایک پرانے برگد کے درخت کے نیچے، شیشوں پر سیاہ فلم چڑھی ایک کالی بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی سٹارٹ کھڑی تھی۔ گاڑی کے اندر کامران احمد کے چاروں شوٹرز بیٹھے تھے، جن کے چہروں پر کالی چادریں لپٹی ہوئی تھیں اور ان کی گود میں پڑی روسی ساختہ کلاشنکوفوں کے لوہے پر فجر کی پہلی مدہم روشنی چمک رہی تھی۔ ان کا لیڈر مسلسل اپنے موبائل پر حویلی سے آنے والے سگنل کا انتظار کر رہا تھا، ان کی مکار آنکھیں ہسپتال کے اس بڑے لوہے کے ایگزٹ گیٹ پر جمی ہوئی تھیں جہاں سے کچھ ہی دیر میں ان کا شکار باہر آنے والا تھا۔
ادھر ہسپتال کے اندر، آئی سی یو کے سرد کمرے میں، بانو نے آخری بار صلاح الدین کے بے حس و حرکت وجود کو دیکھا۔ مانیٹر کی مدہم ‘بیپ بیپ’ اب بھی اسی رفتار سے چل رہی تھی جو یہ بتا رہی تھی کہ صلاح الدین اب بھی اپنی روح کے کسی گہرے قید خانے میں اکیلا لڑ رہا ہے۔ بانو نے آہستہ سے آگے بڑھ کر صلاح الدین کے ماتھے پر اپنے کانپتے ہوئے ہونٹ رکھ دیے، اس کے آنسو صلاح الدین کے گال پر گرے۔
“سائیں۔۔۔ میں جا رہی ہوں،” بانو کی آواز میں اب روتے ہوئے بھی ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، “آپ نے اس کچے کوٹ والے مزارعے کی دھی کے لیے اپنی چھاتی پر گولی کھائی تھی ناں؟ آج چولستان کی وہ ریت آپ کی گواہ بننے جا رہی ہے۔ اگر بانو کلائمکس سے پہلے ہٹ گئی، تو چولستان کی تاریخ کبھی مجھے معاف نہیں کرے گی۔ آپ بس اپنی سانسوں کی یہ ڈوری ٹوٹنے مت دینا، بانو آپ کے انصاف کا پرچم لے کر جا رہی ہے۔”
“بانو بیٹی! وقت ہو گیا ہے، ہمیں نکلنا ہوگا، عدالت کی کاروائی نو بجے شروع ہونی ہے اور افتخار صاحب نے کہا ہے کہ ہمیں وقت سے پہلے پہنچنا ہوگا تاکہ کامران احمد کے وکیل کوئی نئی چال نہ چل سکیں،” عثمان نے ائی سی یو کا بھاری دروازہ کھولتے ہوئے انتہائی سنجیدہ اور دھیمی آواز میں کہا۔ اس کے ہاتھ میں صلاح الدین کی وہ کالی چمڑے کی فائل تھی جس میں چولستان کے مزارعوں کے تمام قانونی کاغذات اور حویلی کے مظالم کے ثبوت موجود تھے۔ اللہ دتا بھی اپنی لکڑی کی لاٹھی ٹیکتا ہوا، اپنی چادر کو کندھے پر مضبوطی سے لپیٹے بانو کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ اس بوڑھے باپ کی آنکھوں میں اب اپنی دھی کے عزم کو دیکھ کر موت کا خوف بھی ختم ہو چکا تھا۔
جیسے ہی یہ تینوں وجود—بانو، اللہ دتا اور عثمان—ملٹری ہسپتال کی اونچی سفید سیڑھیوں سے نیچے اتر کر پارکنگ ایریا کی طرف بڑھے، فضا میں ایک عجیب سا خطرناک سسپنس پھیل گیا۔ عثمان نے اپنی سفید گاڑی کا لاک کھولا اور بانو کو پچھلی سیٹ پر بٹھایا، جبکہ اللہ دتا اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ عثمان نے جیسے ہی گاڑی اسٹارٹ کی اور ہسپتال کے مرکزی لوہے کے گیٹ سے گاڑی کو باہر سڑک پر نکالا، برگد کے درخت کے نیچے کھڑی کالی گاڑی کے ہیڈلائٹس اچانک جل اٹھے۔ چنگاڑتے ہوئے انجن کی آواز کے ساتھ وہ کالی گاڑی عثمان کی کار کے پیچھے لگ گئی۔
“عثمان بھائی! پیچھے وہ گاڑی۔۔۔ وہ کل رات سے ہسپتال کے چکر کاٹ رہی تھی،” بانو کی تیز نظروں نے پچھلے شیشے سے اس کالی گاڑی کو تاڑ لیا جس کی رفتار لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی۔
عثمان نے جیسے ہی ریئر ویو مرر (Rearview mirror) میں دیکھا، اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئیں۔ اس نے ابھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اچانک کالی گاڑی کا دائیں طرف کا شیشہ نیچے ہوا اور اس میں سے ایک کلاشنکوف کا کالا دہانہ باہر نکلا۔
ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔!!!
صبح کی اس پرسکون فضا میں گولیوں کی کڑکڑاہٹ نے پورے بہاولپور شہر کے سکون کو مٹا کر رکھ دیا۔ پہلی ہی بوچھاڑ عثمان کی گاڑی کے پچھلے شیشے پر لگی۔ شیشہ ایک ہولناک آواز کے ساتھ ہزاروں ٹکڑوں میں ٹوٹ کر بانو کے اوپر گرا۔ اللہ دتا نے خوف سے ایک چیخ ماری اور اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا۔ لیکن بانو۔۔۔ بانو نے اپنے سر سے گلابی چادر کو ہٹنے نہیں دیا، اس نے پچھلی سیٹ پر جھکتے ہوئے اپنے باپ کا ہاتھ تھام لیا۔
“عثمان! گاڑی مت روکنا! یہ کامران احمد کے غنڈے ہیں، یہ ہمیں عدالت پہنچنے سے پہلے مارنا چاہتے ہیں!” بانو کی آواز گولیوں کے شور میں بھی ایک کمانڈر کی طرح گونجی۔
عثمان نے اپنے دانت بھیچ لیے اور گاڑی کے ایکسیلیٹر پر اپنا پورا پیر دبا دیا۔ گاڑی کی رفتار اسی (80) سے سو (100) کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا پہنچی۔ بہاولپور کی سنسان سڑکوں پر دو گاڑیاں موت اور زندگی کا کھیل کھیل رہی تھیں۔ کالی گاڑی کے شوٹرز اب گاڑی کی چھت سے باہر نکل آئے تھے اور وہ مسلسل عثمان کے ٹائروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ایک تیز موڑ پر، جہاں سڑک عدالت کی طرف مڑتی تھی، کالی گاڑی نے عثمان کی کار کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی اور ان کی گاڑی کو سائیڈ سے زور دار ٹکر ماری۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ عثمان کی گاڑی سڑک کے کنارے لگے ایک لوہے کے کھمبے سے جا ٹکرائی۔ گاڑی کا بونٹ دھماکے سے کھل گیا اور انجن سے سفید دھواں نکلنے لگا۔
“ابا! عثمان بھائی! جلدی باہر نکلو!” بانو نے زخمی حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ اس کے ماتھے سے خون کا ایک باریک قطرہ بہہ کر اس کی گال پر آ رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں کا جلال اب ایک چٹان کی طرح سخت تھا۔ عثمان کا سر اسٹیرنگ سے جا ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش ہو چکا تھا، لیکن اس نے اپنی جان پر کھیل کر وہ کالی فائل بانو کی طرف بڑھائی، “بھابھی۔۔۔ بھابھی بھاگو! عدالت یہاں سے صرف چند سو میٹر دور ہے۔۔۔ ان کاغذات کو جج تک پہنچاؤ۔۔۔ میں انہیں روکتا ہوں!”
کالی گاڑی سے چاروں مسلح شوٹرز نیچے اترے، ان کے بوٹوں کی آواز پکے فرش پر گونج رہی تھی جیسے موت خود چل کر آ رہی ہو۔ ان کا لیڈر مکارانہ ہنسی ہنستے ہوئے آگے بڑھا، “کہاں جاؤ گی مزارعے کی دھی؟ شاہینہ بیگم کے حکم پر آج تمہاری گواہی اس سڑک پر ہی دفن ہوگی!”
جیسے ہی اس نے بانو پر کلاشنکوف کا نشانہ باندھا، اچانک دور سے ملٹری پولیس اور افتخار احمد کے ذاتی محافظوں کی پانچ گاڑیاں ہوٹر بجاتی ہوئی، سائرن کی سنسناتی آواز کے ساتھ وہاں پہنچ گئیں۔ افتخار احمد نے کامران کی چال کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اور انہوں نے بھاری فورس بھیج دی تھی۔ محافظوں کی گاڑیوں سے اترتے ہی پولیس نے شوٹرز پر جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ ہسپتال روڈ ایک میدانِ جنگ بن گیا۔ گولیوں کی اس بوچھاڑ کے درمیان، جب غنڈے پولیس سے مقابلہ کرنے میں مصروف ہوئے، بانو نے اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ پکڑا، دوسری طرف عثمان کی وہ کالی فائل اپنے سینے سے لگائی، اور اپنے ننگے پیروں سے عدالت کی عمارت کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ اس کے پیروں میں سڑک کی تپتی ہوئی بجری چبھ رہی تھی، شیشے کے ٹکڑے اس کے تلووں کو زخمی کر رہے تھے، اس کے پیروں سے نکلنے والا خون سڑک پر نشان چھوڑ رہا تھا، لیکن اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کا پورا وجود اس وقت ایک جلتا ہوا انگارہ بن چکا تھا جس کا رخ سیدھا عدالت کے ایوان کی طرف تھا۔
دوسری طرف، بہاولپور کی سیشن عدالت کے کمرہ نمبر تین میں اس وقت تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ شہر کا میڈیا، بڑے جاگیردار، اور وکلاء کی ایک بھاری فوج وہاں موجود تھی۔ جج صاحب اپنی اونچی کرسی پر بیٹھے تھے اور ان کے سامنے کٹہرے میں سارنگ شاہ اپنے ہاتھ پر پٹی باندھے، انتہائی معصوم اور مظلوم شکل بنائے کھڑا تھا۔ اس کے برابر میں شاہینہ بیگم اپنی ریشمی کالی چادر میں لپٹی، ایک ملکہ کی طرح غرور سے گردن اٹھائے بیٹھی تھیں، جبکہ کامران احمد اپنے وکیل بیرسٹر امجد کے پیچھے کھڑا مسلسل جج کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“مائی لارڈ! جیسا کہ میں نے عدالت کے سامنے یہ تحریری بیان اور اللہ دتا کے انگوٹھے کا نشان پیش کر دیا ہے،” بیرسٹر امجد نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے انتہائی عیاری سے کہا، “اس کیس کے اصل مدعی اللہ دتا نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ حویلی کے مالک سارنگ شاہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ یہ تو افتخار احمد کے بیٹے صلاح الدین نے اپنی ذاتی اور سیاسی دشمنی کی وجہ سے مزارعوں کو بھڑکایا اور خود ایک حادثاتی فائرنگ کا شکار ہو گیا۔ اس لیے میری عدالت سے استدعا ہے کہ سارنگ شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کو مستقل منظور کیا جائے اور اس جھوٹے کیس کو ہمیشہ کے لیے خارج کیا جائے!”
جج نے کاغذات کو دیکھا، قلم اٹھایا اور جیسے ہی وہ آرڈر شیٹ پر سارنگ شاہ کی ضمانت کا فیصلہ لکھنے کے لیے قلم کی نوک کو کاغذ پر رکھنے والے تھے، اچانک۔۔۔
دھڑام۔۔۔!!!
عدالت کے وہ بھاری اور اونچے ساگوان کے لکڑی کے دروازے اتنے زور سے کھلے کہ پوری عدالت میں ایک سناٹا چھا گیا۔ جج کا قلم ان کے ہاتھ میں ہی رک گیا۔ عدالت میں بیٹھے تمام سیکیورٹی گارڈز، وکلاء اور میڈیا کے نمائندوں کی گردنیں یکدم پیچھے گھوم گئیں۔
دروازے کے بیچوں بیچ بانو کھڑی تھی۔ اس کا سانس بری طرح پھول رہا تھا، اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے، اس کے ماتھے سے بہنے والا خون اب اس کی آنکھوں کے پاس سوکھ چکا تھا، اس کے پیر ننگے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا جس سے عدالت کا چمکدار فرش سرخ ہو رہا تھا۔ لیکن سب سے عبرت ناک منظر یہ تھا کہ اس کے دائیں ہاتھ میں صلاح الدین کی وہ کالی فائل تھی اور بائیں ہاتھ میں وہ چمڑے کا خونی کوڑا تھا جو وہ سڑک کے حادثے کی جگہ سے اٹھا کر لائی تھی، جس سے سارنگ شاہ مزارعوں کو پیٹتا تھا۔
“روکو یہ قلم۔۔۔ جج سائیں! روکو اس فرعون کی ضمانت کو!” بانو کی آواز کمرہ عدالت کی چھت سے ٹکرا کر کسی دھماکے کی طرح گونجی۔ اس کی آواز میں چولستان کی صدیوں کی مظلومیت کا جلال تھا، “یہ انگوٹھے کا نشان جھوٹا ہے! یہ کاغذ مکر کا ہے! میں ہوں بانو۔۔۔ اللہ دتا کی دھی! میں اس صلاح الدین کی گواہ ہوں جو اس وقت ہسپتال میں موت کی آخری سانسیں لے رہا ہے! میں گواہی دینے آئی ہوں کہ اس سارنگ شاہ نے میرے باپ کو زنجیروں میں جکڑا، اور اس کامران احمد نے ابھی چند منٹ پہلے عدالت کی چوکھٹ پر ہمیں مارنے کے لیے گولیاں چلوائی ہیں! میں دیکھتی ہوں کہ اج اس عدالت میں قانون جیتتا ہے یا شاہینہ بیگم کا یہ کالا مکر!”
بانو کے اس دھماکے دار اور خونی داخلے نے پوری عدالت کے اندر زلزلہ پیدا کر دیا۔ شاہینہ بیگم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، کامران احمد کی مکارانہ مسکراہٹ وہیں منجمد ہو گئی، اور سارنگ شاہ خوف سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ عدالت کا ماحول اب ایک ایسے تاریخی فیصلے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں جاگیرداری کا غرور چولستان کی اس دھی کے پیروں تلے کچلنے والا تھا!

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 16