Sachi Mohabbat Urdu Short Stories

سچی محبت – چوڑیاں بیچنے والی کی چاہت

وہ چوڑیاں بیچنے والی لڑکی ہمارے گاؤں میں آیا کرتی تھی۔ اس کا تعلق جھنگ سے تھا اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ روزانہ مختلف دیہات میں چوڑیاں بیچنے آتی تھی۔ میں گاؤں کے چوہدری خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے لوگ مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ نجانے کب اور کیسے اس معصوم لڑکی کے دل میں میرے لیے محبت نے جنم لے لیا۔ وہ اکثر مجھے دیکھتے ہی مسکرا دیتی، راستہ روک لیتی اور بڑی سادگی سے کہتی، “اوئے مسات! میرے نال شادی کر لے۔ ساری زندگی تجھے بٹھا کے کھلاؤں گی۔ اگر تیرے لیے بھیک بھی مانگنی پڑی تو مانگ لوں گی، پر تو صرف میرا ہو جا۔”

میں ہر بار اس کی بات سن کر مسکرا دیتا، کبھی مذاق میں ٹال دیتا اور کبھی خاموشی اختیار کر لیتا، لیکن وہ اپنے ارادے سے کبھی پیچھے نہ ہٹی۔ اس کی محبت میں نہ کوئی لالچ تھا، نہ دولت کی خواہش، نہ کسی حیثیت کا غرور۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش تھی کہ کسی دن میں اس کا ہاتھ تھام لوں۔ وہ جہاں بھی جاتی، وہاں کی مشہور چیز میرے لیے تحفے میں ضرور لاتی۔ کبھی مٹھائی، کبھی چوڑیاں، کبھی کوئی معمولی سا تحفہ، مگر ہر چیز میں اس کے خلوص اور محبت کی خوشبو بسی ہوتی تھی۔

یہ سلسلہ ایک دو دن یا چند مہینوں کا نہیں تھا۔ تقریباً چار سال تک وہ روزانہ ہمارے گاؤں آتی رہی۔ ہر ملاقات میں وہ اپنی محبت کا اظہار کرتی، منتیں کرتی، کبھی رو پڑتی، کبھی ہنس کر امید باندھ لیتی۔ جب بھی راستے میں میری جھلک دکھائی دیتی تو فوراً میرے سامنے آ کھڑی ہوتی اور کہتی، “اوئے مسات! شادی کر لے نا مجھ سے۔ دیکھ، میں تجھے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گی۔” اس کی آنکھوں میں خواب تھے، دل میں یقین تھا، مگر میرے دل میں شاید وہ احساس کبھی پیدا نہ ہو سکا۔

وقت گزرتا گیا اور ایک دن اچانک وہ لوگ واپس اپنے آبائی شہر جھنگ چلے گئے۔ اس کے بعد نہ وہ نظر آئی، نہ اس کی آواز سنائی دی، نہ وہ معصوم ضد، نہ وہ بے لوث محبت۔ زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی، مگر کہیں نہ کہیں دل کے کسی کونے میں اس کی یاد ایک خاموش داستان بن کر رہ گئی۔

کئی برس بعد ایک دن دوستوں نے اچانک کہا، “چلو یار، دریائے چناب چلتے ہیں۔ وہاں مچھلی بھی کھائیں گے اور واپسی پر حضرت سخی سلطان باہوؒ کے دربار پر بھی حاضری دیں گے۔”میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہم دریائے چناب پہنچے، خوب سیر کی، مچھلی کھائی، ہنسے، بولے، لیکن نہ جانے کیوں اس دن میرے دل پر ایک عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دل کسی انجانی کمی کا ماتم کر رہا ہو۔

شام ڈھلنے لگی تو ہم حضرت سخی سلطان باہوؒ کے مزار کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر میرے تمام دوست فاتحہ اور دعا کے لیے اندر چلے گئے، مگر میں حسبِ معمول مزار کے اندر نہ گیا۔ میں اپنی گاڑی کے قریب خاموش کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اچانک کسی نے پیچھے سے آ کر میرے بازو مضبوطی سے تھام لیے۔ میں نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو سامنے وہی چوڑیاں بیچنے والی لڑکی کھڑی تھی۔

اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ لرزتی ہوئی آواز میں اس نے کہا، “مسات… میری دعا رنگ لے آئی۔ آخر تیرا دیدار ہو گیا۔ آج میری عید ہو گئی۔ میں جب بھی اس دربار پر آتی تھی، اللہ سے صرف ایک ہی دعا مانگتی تھی کہ ایک بار تجھے دیکھ لوں۔ آج میری دعا قبول ہو گئی۔” میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وقت جیسے ایک لمحے کے لیے تھم گیا تھا۔

اس نے آہستہ سے کہا، “میں آج تک تیری راہ دیکھ رہی ہوں۔ میں نے شادی نہیں کی۔ لوگ کہتے رہے زندگی گزار لے، مگر میرا دل کسی اور کا نہ ہو سکا۔ بھیک مانگنا یا چوڑیاں بیچنا میرا قصور تو نہیں تھا۔ یہ تو میری قسمت اور میرے نصیب کا لکھا تھا۔ پھر سزا مجھے کیوں ملی؟ صرف اس لیے کہ میں غریب تھی؟”

یہ کہتے کہتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ پھر وہ سب لوگوں کے سامنے مجھ سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔ اس کی سسکیاں ہر سننے والے کے دل کو چیر رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد وہ میرے قدموں میں بیٹھ گئی، میرے پاؤں پکڑ لیے اور روتے ہوئے کہنے لگی، “چل میرے نال گھر چل۔ آج بھی میرا گھر، میرا دل اور میری زندگی صرف تیرے لیے ہے۔”

گرد و پیش کھڑے تمام لوگ یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ کی آنکھیں نم تھیں، کچھ حیرت میں تھے، اور کچھ شاید پہلی بار کسی غریب لڑکی کی اتنی سچی اور بے غرض محبت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت دولت، ذات، حیثیت یا خوبصورتی کی محتاج نہیں ہوتی۔ سچی محبت صرف ایک دل مانگتی ہے، مگر افسوس… اکثر اس کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وقت بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے اور انسان کے ہاتھ میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔

اس کی باتیں سن کر میں بالکل ساکت رہ گیا، مگر اگلے ہی لمحے ایسا منظر بن گیا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ میرے گلے لگ کر اس قدر روئی کہ دربار پر موجود لوگوں کا ہجوم ہمارے گرد جمع ہو گیا۔ ہر شخص حیرت سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ کوئی آپس میں سرگوشیاں کر رہا تھا، کوئی وجہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری تو جیسے زمین ہی نکل گئی ہو۔ زندگی میں شاید پہلی بار اتنی بے عزتی اور شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔

میرے دوست فوراً آگے بڑھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اس کے ہاتھ میرے ہاتھوں سے الگ کروائے۔ وہ بار بار روتے ہوئے کہتی جا رہی تھی، “آج نہیں جانے دوں گی، آج میرے گھر ضرور چلے گا۔” میرے دوستوں نے اسے سمجھایا، تسلی دی اور پھر اسے آہستہ سے گاڑی میں بٹھا دیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “اب واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر اسے چھوڑ دیا تو نہ جانے کیا کر بیٹھے۔ چلو، اسے اس کے گھر چھوڑ آتے ہیں، ورنہ اس کے گھر والے بھی پریشان ہوں گے۔”

اس کا گاؤں دربار سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور تھا۔ ہم سفر پر روانہ ہوئے تو راستہ زیادہ تر ریتلے علاقے سے گزرتا تھا۔ کئی جگہ گاڑی ریت میں دھنس گئی، کبھی ٹائر پھسلنے لگے، کبھی ہوا کم ہونے کی وجہ سے بڑی مشکل پیش آئی، مگر کسی نہ کسی طرح ہم اس کے گاؤں پہنچ ہی گئے۔

جیسے ہی گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی، لوگوں کی نظریں ہماری طرف اٹھ گئیں۔ ہر شخص حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ ایک اجنبی نوجوان کو وہ اپنے ساتھ کیوں لے کر آئی ہے۔ اس نے تو جیسے پورے گاؤں میں ہلچل مچا دی۔ خوشی سے دوڑتی ہوئی اپنی سہیلیوں کو بلانے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تمام سہیلیاں جمع ہو گئیں۔ وہ سب ہنس رہی تھیں، مذاق کر رہی تھیں اور مجھے تجسس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ادھر اس کے گھر والے میری مہمان نوازی میں لگ گئے۔ جس محبت اور عزت سے انہوں نے میرا استقبال کیا، وہ میرے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔

لیکن میرے دل کی کیفیت کچھ اور تھی۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ نہ جانے اب کیا ہونے والا ہے۔ ایک لمحے کو تو یہ خیال بھی آیا کہ شاید آج میری خیر نہیں۔ اگر اس کے گھر والوں کو اصل حقیقت معلوم ہو گئی تو نہ جانے کیا ردِعمل ہوگا۔ دل میں عجیب سا خوف اور بے چینی تھی۔

کچھ دیر بعد اس کے والد اور بھائی بھی روزگار سے واپس گھر آ گئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ بھی مجھے دیکھ کر خوش ہوئے۔ گھر کا ماحول خوشیوں سے بھر گیا، جیسے کسی عزیز مہمان کی آمد ہوئی ہو۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا یا اس کی محبت کا اثر، مگر اس کے چہرے پر جو خوشی تھی، وہ کسی اداکاری کا حصہ محسوس نہیں ہوتی تھی۔

شام ڈھلی تو اس نے اپنے ہاتھوں سے میرے لیے کھانے تیار کیے۔ اتنے ذوق، محبت اور اپنائیت سے اس نے ہر چیز بنائی کہ ان ذائقوں کو آج بھی الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ہر نوالے میں اس کی محبت شامل تھی، ہر پکوان میں اس کے دل کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔

رات ہوئی تو اس نے ضد کی کہ میری چارپائی اس کے سامنے بچھائی جائے۔ وہ کہنے لگی، “آج اتنے برسوں بعد ملا ہے، پوری رات باتیں کروں گی۔” اس کی خواہش کے سامنے سب خاموش ہو گئے۔ میری چارپائی اس کے سامنے بچھا دی گئی۔ پھر وہ رات بھر ماضی کی باتیں کرتی رہی۔ کبھی ہمارے گاؤں کی یادیں تازہ کرتیں، کبھی اپنی اداس زندگی کا ذکر چھیڑ دیتی، کبھی ہنس پڑتی اور اگلے ہی لمحے آنکھیں نم ہو جاتیں۔ اس کی باتیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، اور یوں پوری رات جاگتے جاگتے گزر گئی۔

صبح سورج نکلا تو رخصتی کا وقت آ پہنچا۔ اس نے اپنے ایک بھائی اور اپنی ایک سہیلی کو میرے ساتھ بھیجا تاکہ وہ مجھے واپس حضرت سخی سلطان باہوؒ کے دربار تک چھوڑ آئیں، جہاں میری گاڑی کھڑی تھی۔ سارا راستہ وہ خاموش رہی۔ جب دربار پہنچ کر جدا ہونے کا لمحہ آیا تو اس نے آہستہ سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا، اسے محبت سے چوما، آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور دھیمی آواز میں صرف اتنا کہا: “تیرا کوئی قصور نہیں… قصور تو میری قسمت کا ہے۔ شاید میرے نصیب میں صرف تجھے چاہنا لکھا تھا، پانا نہیں۔”

یہ کہہ کر وہ مڑ گئی۔ میں دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئی، مگر اس کے آخری الفاظ ہمیشہ کے لیے میرے دل میں نقش ہو گئے۔

واپسی کے بعد زندگی تو اپنی رفتار سے چلتی رہی، مگر میرا دل وہیں کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھے اپنی غلطی کا احساس پہلے سے زیادہ ہونے لگا۔ مجھے سمجھ آنے لگا کہ انسان دولت، ذات اور حیثیت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کبھی کبھی ایسی محبت کھو دیتا ہے، جو پوری زندگی دوبارہ نہیں ملتی۔

ایک دن نہ جانے دل میں کیا خیال آیا، میں اس کے گاؤں دوبارہ چلا گیا۔ دل میں صرف ایک ہی خواہش تھی کہ ایک بار پھر اسے دیکھ لوں، اس سے بات کر لوں، شاید اس سے معافی مانگ سکوں۔ مگر جیسے ہی اس کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں نہیں تھی۔ یہ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں بچوں کی طرح رونے لگا۔ بڑی مشکل سے اس کے گھر والوں نے مجھے سنبھالا، تسلی دی اور خاموش کرایا۔ انہوں نے میری خاطر داری کی، مجھے بازار لے گئے، کچھ خریداری بھی کروائی، لیکن میرا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔

جب واپس آنے لگا تو وہ سب مجھے رخصت کرنے باہر تک آئے۔ میں بار بار مڑ کر اس گھر کو دیکھتا رہا، اور وہ لوگ بھی دیر تک مجھے جاتے ہوئے دیکھتے رہے، یہاں تک کہ راستہ ختم ہو گیا اور وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ شاید زندگی کی سب سے قیمتی چیز میں اپنے ہی ہاتھوں کھو چکا ہوں۔

آج میں سب لوگوں کو ایک بات ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آپ سے سچی، بے غرض اور خالص محبت کرتا ہے تو کبھی اس کے جذبات کا مذاق نہ بنائیں، نہ اس کی محبت کو معمولی سمجھیں۔ میں نے یہی غلطی کی تھی، اور آج اسی غلطی کی سزا بھگت رہا ہوں۔

تین سال گزر چکے ہیں۔ میں اسے گلی گلی، شہر شہر ڈھونڈ رہا ہوں، مگر وہ کہیں نہیں ملتی۔ نہ معلوم وہ کہاں ہے، کیسی ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں۔ شاید اس نے قسمت کے سامنے ہار مان لی، یا شاید میری بے قدری نے اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ مگر ایک بات ضرور ہے… میں آج تک اسے بھلا نہیں سکا۔

آج بھی جب اس کی معصوم آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے، “اوئے مسات! میرے نال شادی کر لے، میں بھیک مانگ کے بھی تجھے کھلا لوں گی…” تو دل ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ مجھے وہ دن یاد آتا ہے جب حضرت سخی سلطان باہوؒ کے دربار پر مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے تھے، اور وہ رات بھی یاد آتی ہے جب وہ پوری رات جاگتی رہی، خاموشی سے میرے چہرے کو دیکھتی رہی، جیسے برسوں کی محرومی ایک ہی رات میں پوری کرنا چاہتی ہو۔

شاید محبت کی آہ واقعی خالی نہیں جاتی۔ آج مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی بددعا نے میری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔ میں جیتا تو ہوں، مگر دل کے بغیر۔ ہنستا بھی ہوں، مگر اندر سے خالی ہوں۔ ہر خوشی ادھوری لگتی ہے، کیونکہ جس محبت کو میں نے کبھی اہمیت نہ دی، آج وہی میری سب سے بڑی کمی بن چکی ہے۔

میں ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے ایک ہی دعا مانگتا ہوں کہ اے میرے رب! اگر مجھ سے کسی سچے دل کو دکھ پہنچا ہے تو مجھے معاف فرما دے۔ میری کوتاہیوں کو بخش دے، اور اگر وہ کہیں اس دنیا میں ہے تو اسے ہمیشہ خوش رکھ، کیونکہ وہ محبت کرنا جانتی تھی، اور شاید میں محبت کی قدر کرنا نہیں جانتا تھا۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ زندگی میں دولت، شہرت، خوبصورتی اور رتبہ سب کچھ مل سکتا ہے، لیکن ایک سچا، بے غرض اور وفادار دل بار بار نہیں ملتا۔ اگر کبھی کوئی آپ سے خلوص سے محبت کرے تو اس کی قدر ضرور کیجیے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد انسان کے ہاتھ میں صرف یادیں، آنسو اور پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
واقعی… دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے قیمتی ہے تو وہ سچی محبت ہے۔

مزید رومانٹک کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریں