رات کے ڈھائی بجے قبرستان پر ایسی خاموشی طاری تھی جسے صرف سرد ہوا کی سرسراہٹ اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز توڑ رہی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور کچے راستے پر نصب ایک کمزور سا بلب مدھم روشنی بکھیر رہا تھا۔ اسی سنسان ماحول میں عبدالرحمان اپنی جوان بیٹی عائشہ کی قبر کے پاس بیٹھا تھا۔ مسلسل جاگنے اور رونے سے اس کی آنکھیں سوجھ چکی تھیں اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ قبر کی مٹی سے لپٹ کر اپنی بیٹی کی بے گناہی پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک قبر کے پیچھے سے پائل کی ہلکی سی آواز ابھری، فضا پہلے سے زیادہ سرد ہو گئی اور سفید لباس میں لپٹا ایک دھندلا سا سایہ اس کے سامنے نمودار ہوا۔ وہ عائشہ کی روح تھی، جس کے چہرے پر سکون کے بجائے ناقابلِ بیان درد ثبت تھا۔ اس نے اپنے باپ پر وہ حقیقت آشکار کی جس نے عبدالرحمان کی باقی ماندہ زندگی کو اندر سے جلا کر راکھ کر دینا تھا، کیونکہ اس کی موت خودکشی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا قتل تھی۔
اس خوفناک انکشاف کو سمجھنے کے لیے ماضی کی طرف لوٹنا ضروری تھا۔ عبدالرحمان ایک غریب مزدور تھا جس نے پوری زندگی اینٹیں، پتھر اور سیمنٹ اٹھاتے ہوئے گزار دی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی سختی اور چہرے کی جھریاں برسوں کی محنت اور تنگ دستی کی گواہ تھیں، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود اس کی زندگی کی سب سے قیمتی دولت اس کی اکلوتی بیٹی عائشہ تھی۔ عائشہ کی پیدائش اس کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی اور وہ ہر شخص کے سامنے اپنی بیٹی پر فخر کیا کرتا تھا۔ غربت ان کے گھر کا مقدر ضرور تھی، مگر محبت کی دولت نے اس کمی کو کبھی محسوس نہیں ہونے دیا۔ ٹوٹی ہوئی دیواریں، نمی سے بھرا چھوٹا سا مکان اور محدود وسائل ہونے کے باوجود اس گھر میں اپنائیت، خلوص اور سکون کا راج تھا۔
عائشہ بچپن ہی سے اپنے والد کی آنکھوں کا تارا تھی۔ عبدالرحمان شام کو مزدوری سے واپس آتا تو سارا دن کی تھکن اپنی بیٹی کی معصوم مسکراہٹ دیکھتے ہی ختم ہو جاتی۔ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کبھی ٹافیاں، کبھی چوڑیاں اور کبھی کوئی معمولی سا کھلونا لے آتا، مگر عائشہ ہر تحفے کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز سمجھ کر سنبھال کر رکھتی۔ گرمیوں کی راتوں میں جب بجلی چلی جاتی تو باپ بیٹی چھت پر بیٹھ کر آسمان کے ستارے گنا کرتے۔ عبدالرحمان ہمیشہ اپنی بیٹی کو امید، محبت اور حوصلے کی باتیں سکھاتا، جبکہ عائشہ انہی لمحوں کو اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت یادیں سمجھتی تھی۔ صغریٰ اکثر خاموشی سے دونوں کو دیکھتی رہتی اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی کہ غربت کے باوجود ان کے گھر میں محبت کی کوئی کمی نہیں تھی۔
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا اور ننھی سی عائشہ ایک خوبصورت، بااخلاق اور نرم دل نوجوان لڑکی بن گئی۔ اس کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کی شرافت، حیاداری اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کی عادت بھی پورے محلے میں مشہور تھی۔ لوگ اس کی تعریف کرتے اور عبدالرحمان کو خوش نصیب قرار دیتے، مگر ہر تعریف کے ساتھ عبدالرحمان کے دل میں ایک انجانا خوف بھی جنم لیتا رہتا۔ اسے محسوس ہوتا کہ ایک دن شادی کے بعد اس کی بیٹی اس سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی اور اس کے گھر کی رونق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
چند ہی مہینوں بعد ایک ایسا رشتہ آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک بااثر اور دولت مند خاندان نے عائشہ کو پسند کیا۔ مہنگی گاڑیاں، قیمتی لباس، پرتعیش رہن سہن اور نرم گفتگو نے پورے محلے کو متاثر کر دیا۔ کامران نامی نوجوان اور اس کے گھر والوں نے خود کو نہایت شریف، خوش اخلاق اور دیندار ظاہر کیا۔ انہوں نے عائشہ کو اپنی بیٹی کی طرح رکھنے کے وعدے کیے اور ہر ممکن خوشی دینے کی یقین دہانی کرائی۔ صغریٰ نے اسے اللہ کی خاص رحمت سمجھا، جبکہ عبدالرحمان کے دل میں امیر لوگوں کی چمک دمک کے باوجود ایک عجیب سا خدشہ موجود تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنی بیٹی کے روشن مستقبل کی امید میں خاموش ہو گیا اور رشتہ قبول کر لیا۔
شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں تو عبدالرحمان نے اپنی تمام جمع پونجی بیٹی کی خوشیوں پر قربان کر دی۔ اس نے قرض لیا، اپنی مرحوم والدہ کی نشانی زیورات فروخت کیے اور کئی کئی راتیں اضافی مزدوری کی تاکہ رخصتی کے وقت کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ وہ جانتا تھا کہ شاید یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اس لیے اس نے اپنی طاقت سے بڑھ کر ہر ممکن کوشش کی۔ جب رخصتی کا دن آیا تو گھر خوشیوں اور آنسوؤں سے بھر گیا۔ ہر آنکھ نم تھی، مگر عبدالرحمان کے دل میں خوشی سے زیادہ بے چینی موجود تھی۔ اسے بار بار محسوس ہو رہا تھا کہ قسمت اس کے لیے کوئی ایسا امتحان لکھ چکی ہے جس کا اندازہ ابھی کسی کو نہیں تھا۔
بدقسمتی سے اس کا یہ خدشہ بالکل درست ثابت ہوا۔ شادی کے صرف چند دن بعد ہی عائشہ کی نئی زندگی ایک ایسے اندھیرے میں داخل ہو گئی جہاں محبت، احترام اور سکون کا کوئی وجود نہیں تھا۔ دولت اور شرافت کے پردے کے پیچھے چھپا وہ خاندان حقیقت میں ظلم، غرور اور بے رحمی کی زندہ تصویر تھا، اور عائشہ کی زندگی آہستہ آہستہ ایک ایسے عذاب میں تبدیل ہونے لگی جس کا تصور بھی اس کے والدین نے کبھی نہیں کیا تھا۔
شادی کے ابتدائی چند دن رسم و رواج، مہمانوں کی آمدورفت اور مصنوعی مسکراہٹوں میں گزر گئے، لیکن جیسے ہی گھر کی رونقیں ختم ہوئیں، حقیقت نے اپنا بھیانک چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ کامران، جو رشتے کے وقت ایک مہذب اور بااخلاق انسان دکھائی دیتا تھا، رفتہ رفتہ اپنی اصل شخصیت میں آ گیا۔ وہ اکثر رات گئے نشے کی حالت میں گھر واپس آتا، معمولی باتوں پر غصے میں آ جاتا اور غصے کی شدت میں گھر کا سکون تباہ کر دیتا۔ اس کا رویہ صرف تلخ الفاظ تک محدود نہ رہا بلکہ چند ہی دنوں میں جسمانی تشدد بھی اس کی عادت بن گیا۔ عائشہ ہر روز نئے زخم اپنے جسم اور دل پر برداشت کرنے لگی، مگر اس نے کسی سے شکایت نہ کی۔
گھر کے دوسرے افراد بھی اس ظلم میں کسی نہ کسی صورت شریک تھے۔ ساس کے لہجے میں ہمیشہ حقارت گھلی رہتی اور وہ عائشہ کو اس کی غریب حیثیت کا احساس دلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ نند سعدیہ بھی ہر وقت اس کی نگرانی کرتی، اس کی ہر حرکت میں خامی تلاش کرتی اور معمولی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی۔ پورا گھر عائشہ کے لیے ایک ایسی قید بن چکا تھا جہاں محبت، ہمدردی اور احترام جیسی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی۔ ہر دن اس کے لیے ایک نئے امتحان کا آغاز ہوتا اور ہر رات اس کے زخم پہلے سے زیادہ گہرے ہو جاتے۔
شدید تشدد اور ذہنی اذیت کے باوجود عائشہ نے اپنے والدین کو حقیقت سے بے خبر رکھا۔ جب کبھی عبدالرحمان محبت سے اس کی خیریت دریافت کرتا تو وہ اپنی تکلیف کو مسکراہٹ کے پردے میں چھپا دیتی۔ دوسری طرف عبدالرحمان اپنی بیٹی کو خوش و خرم سمجھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا۔ اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ اس کی شہزادی ہر روز آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے جسم پر پڑنے والے نیل اور زخموں کو کپڑوں اور مسکراہٹ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
آخرکار ایک دن عائشہ اپنی ماں صغریٰ سے ملنے میکے آئی۔ اس کے چہرے اور بازوؤں پر موجود زخموں نے وہ راز ظاہر کر دیا جسے وہ کئی دنوں سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ صغریٰ اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر اندر سے ٹوٹ گئی۔ اس نے اندازہ لگا لیا کہ عائشہ ایک ایسے ظلم کا شکار ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسی لمحے اسے اپنے شوہر عبدالرحمان کی کمزور ہوتی صحت اور بے پناہ محبت یاد آ گئی۔ اسے یقین تھا کہ اگر عبدالرحمان کو حقیقت معلوم ہو گئی تو وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ اسی خوف نے ماں اور بیٹی دونوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا۔ اس دن کے بعد عائشہ نے اپنے دکھ کو اپنے ہی دل میں دفن کر دیا اور اپنی تکلیف کو اپنی قسمت سمجھ کر برداشت کرنے لگی۔
وقت گزرنے کے ساتھ کامران کا ظلم مزید بڑھتا گیا۔ کبھی وہ غصے میں بیلٹ سے مارتا، کبھی دیوار سے دھکا دیتا اور کبھی معمولی بات پر گھنٹوں ذلیل کرتا رہتا۔ گھر کے باقی افراد بھی اسے قصوروار ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ عائشہ نے کئی بار سوچا کہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے والدین کے پاس واپس چلی جائے، لیکن ہر بار اسے اپنے بوڑھے باپ کی وہ محنت یاد آ جاتی جو اس نے اس کی شادی کے لیے کی تھی۔ یہی سوچ اسے ہر بار خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی۔
اسی دوران ایک خبر نے عائشہ کے دل میں امید کی ایک نئی کرن جگا دی۔ اسے معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ اس ننھی سی زندگی کی آمد نے اسے یقین دلایا کہ شاید اب اس کے شوہر کا رویہ بدل جائے، گھر والوں کے دل نرم ہو جائیں اور اس کی زندگی میں خوشیوں کا آغاز ہو جائے۔ اس نے آنے والے بچے کو اپنی نئی زندگی کی امید سمجھ لیا، لیکن قسمت نے اس کے لیے ایک اور بھی ہولناک امتحان لکھ رکھا تھا۔
جب گھر والوں کو حمل کی خبر ملی تو خوشی کے بجائے شک، نفرت اور الزام نے ان کے دلوں کو گھیر لیا۔ کامران نے بغیر کسی ثبوت کے عائشہ کے کردار پر سوال اٹھایا اور ساس نے بھی اسی الزام کو سچ مانتے ہوئے اسے بدکردار قرار دے دیا۔ اس بے بنیاد الزام نے پورے گھر کو جنون میں مبتلا کر دیا۔ اس رات عائشہ پر ایسا ظلم ڈھایا گیا جس کی شدت نے انسانیت کو بھی شرما دیا۔ اسے بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، اس کی فریاد کسی نے نہ سنی اور اس کے رحم میں پلنے والی معصوم جان بھی اس تشدد کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس رات نہ صرف ایک بے گناہ عورت کی عزت کو پامال کیا گیا بلکہ ایک معصوم زندگی بھی ظلم کی نذر ہونے لگی۔
اسی ظلم نے آنے والے اس سانحے کی بنیاد رکھ دی جس نے چند ہی دن بعد ایک پورے خاندان کی تقدیر بدل دینی تھی۔ بارشوں سے بھیگی ایک خاموش رات میں ایسا واقعہ پیش آیا جس نے عبدالرحمان کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی اور ایک باپ کی زندگی کو نہ ختم ہونے والے درد میں بدل دیا۔
بارش سے بھیگی ایک تاریک رات خاموشی کے ساتھ اپنے اندر ایک ایسا سانحہ چھپائے ہوئے تھی جس نے چند ہی لمحوں میں کئی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دینی تھیں۔ رات کے آخری پہر عبدالرحمان کے دروازے پر اچانک زور دار دستک ہوئی۔ وہ گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے کامران کھڑا تھا، جس کے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی کے سوا کوئی احساس دکھائی نہیں دیتا تھا۔ چند مختصر الفاظ میں اس نے اطلاع دی کہ عائشہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی عبدالرحمان کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا اور وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا۔
وہ دیوانوں کی طرح اسپتال پہنچا، جہاں سفید چادر میں لپٹی اپنی بیٹی کی بے جان لاش دیکھ کر اس کی دنیا اندھیروں میں ڈوب گئی۔ عائشہ کا چہرہ نیلا پڑ چکا تھا، ہونٹ پھٹے ہوئے تھے، کلائیوں پر گہرے زخم نمایاں تھے اور اس کے جسم پر تشدد کے بے شمار نشانات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ایک باپ کی نگاہ ان زخموں کو دیکھ کر فوراً سمجھ گئی کہ یہ موت قدرتی نہیں بلکہ بے رحمانہ ظلم کا نتیجہ تھی۔ عبدالرحمان کی چیخیں اسپتال کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں، مگر اس کے درد کو محسوس کرنے والا کوئی نہ تھا۔
جنازے سے پہلے ہی کامران کے خاندان نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پولیس کے سامنے ایک جھوٹی کہانی گھڑ دی گئی جس میں عائشہ کے کردار پر بدترین الزامات لگائے گئے اور اس کی موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔ اس کے حمل کو بھی بدکرداری سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تاکہ قتل کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جا سکے۔ دولت اور طاقت کے سامنے سچ کی آواز کمزور پڑ گئی اور تفتیش کا رخ بھی وہیں موڑ دیا گیا جہاں قاتل چاہتے تھے۔
عبدالرحمان ہر دروازے پر گیا۔ اس نے پولیس افسروں، سرکاری اہلکاروں اور بااثر لوگوں کے سامنے اپنی بیٹی کی بے گناہی ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ اس کی بیٹی کا قتل ہوا ہے، مگر اس کی فریاد ہر جگہ بے حسی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ گئی۔ کامران کے خاندان کی طاقت نے انصاف کا راستہ بند کر دیا تھا اور ایک غریب مزدور کی آواز کسی کے لیے اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگاتے لگاتے عبدالرحمان کی جسمانی اور ذہنی حالت تیزی سے خراب ہونے لگی۔
دوسری طرف صغریٰ اپنی بیٹی کے غم میں دن رات آنسو بہاتی رہی۔ اس کے دل پر یہ بوجھ بھی تھا کہ اگر اس نے وقت پر اپنے شوہر کو حقیقت بتا دی ہوتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔ یہی احساسِ جرم اسے ہر لمحہ اندر ہی اندر کھاتا رہا۔ گھر، جو کبھی ہنسی اور محبت سے آباد تھا، اب ایک ویران کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگا۔ ہر چیز عائشہ کی یاد دلاتی تھی اور ہر یاد دونوں میاں بیوی کے زخم مزید تازہ کر دیتی تھی۔
چند ہی ہفتوں میں عبدالرحمان کی حالت اس قدر خراب ہو گئی کہ لوگ اسے ذہنی مریض سمجھنے لگے۔ وہ اکثر رات کے اندھیرے میں جاگ اٹھتا، کبھی اپنی بیٹی کے کپڑوں کو سینے سے لگا کر بیٹھ جاتا اور کبھی خاموشی سے اس کے کمرے میں جا کر گھنٹوں بیٹھا رہتا۔ محلے والے اس کی کیفیت کو پاگل پن سمجھتے تھے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک ایسا باپ تھا جس کی زندگی کا سب سے قیمتی رشتہ اس سے چھین لیا گیا تھا۔ اس کے دل میں ہر لمحہ یہی سوال گونجتا رہتا کہ آخر اس کی معصوم بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔
غم کے اسی عالم میں ایک رات عبدالرحمان بے اختیار قبرستان جا پہنچا۔ سرد ہوا پہلے کی طرح قبرستان میں گردش کر رہی تھی اور رات کی خاموشی ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ وہ عائشہ کی قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک روتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو مٹی میں جذب ہوتے رہے اور اس کے دل میں چھپا درد الفاظ کے بغیر بھی ہر طرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اسی لمحے فضا میں اچانک ایک عجیب سی تبدیلی پیدا ہوئی۔ ٹھنڈی ہوا مزید سرد ہو گئی، قبرستان کی خاموشی پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہونے لگی اور دور کہیں پائل کی مدھم آواز سنائی دی۔
چند لمحوں بعد سفید لباس میں لپٹا ایک دھندلا سا وجود قبر کے قریب نمودار ہوا۔ عبدالرحمان نے خوف اور حیرت کے عالم میں جب اس چہرے کو دیکھا تو اس کے قدم لرز گئے، کیونکہ وہ عائشہ تھی۔ اس کے چہرے پر دنیاوی تکلیفوں کے نشان اب بھی موجود تھے، مگر اس کی آنکھوں میں برسوں کا درد سمٹا ہوا تھا۔ اس نے اپنے باپ پر وہ حقیقت آشکار کی جسے دنیا نے جھوٹ کے پردوں میں چھپا دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس پر مسلسل ظلم کیا گیا، اس کے معصوم بچے کو بھی بے رحمی سے ختم کر دیا گیا اور آخرکار پورے خاندان نے مل کر اس کی جان لے لی۔ وہ اپنی بے گناہی دنیا کے سامنے ثابت نہ کر سکی، مگر اپنے باپ کے سامنے سچ بیان کیے بغیر بھی سکون حاصل نہیں کر سکتی تھی۔
یہ انکشاف عبدالرحمان کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ ایک طرف اس کی بیٹی کی بے گناہی ثابت ہو چکی تھی اور دوسری طرف وہ جان چکا تھا کہ قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ اسی لمحے اس کے دل میں انصاف کی ایک نئی امید نے جنم لیا، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ قدرت نے ان ظالموں کے لیے ایسا انجام لکھ رکھا ہے جس کا تصور بھی کسی نے نہیں کیا تھا۔
قبرستان میں اس پراسرار ملاقات کے بعد عبدالرحمان کی زندگی پہلے جیسی نہ رہی۔ اب اس کے دل میں اپنی بیٹی کی بے گناہی کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں تھا، مگر اس یقین کے ساتھ ایک ایسا درد بھی ہمیشہ کے لیے اس کی روح میں اتر گیا تھا جس کا مداوا ممکن نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا کی عدالتیں شاید دولت اور طاقت کے سامنے خاموش ہو سکتی ہیں، لیکن قدرت کی عدالت کبھی خاموش نہیں رہتی۔ اسی یقین کے ساتھ وہ ہر روز اپنی بیٹی کی قبر پر جاتا، اس کے لیے دعا کرتا اور اللہ تعالیٰ سے انصاف کی التجا کرتا رہتا۔
ادھر کامران کے گھر کا سکون بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ پہلے پہل معمولی اور ناقابلِ توجہ واقعات پیش آئے، مگر چند ہی دنوں میں وہ اتنے پراسرار اور خوفناک ہو گئے کہ پورا خاندان شدید خوف میں مبتلا ہو گیا۔ رات کے آخری پہر گھر کے مختلف حصوں سے کسی عورت کے سسکنے کی آواز سنائی دیتی، کبھی ایسا محسوس ہوتا جیسے ایک ننھا بچہ مسلسل رو رہا ہو اور کبھی بند کمروں میں پائل کی مدھم جھنکار سنائی دیتی۔ کئی مرتبہ اہلِ خانہ نے ان آوازوں کو وہم سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر گزرتی رات کے ساتھ یہ واقعات مزید واضح اور خوفناک ہوتے چلے گئے۔
گھر کے افراد کی نیندیں اڑ چکی تھیں۔ ہر شخص کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں رہنے لگے۔ روشنیوں سے جگمگاتا ہوا وہ عالی شان مکان اب ایک ویران اور دہشت زدہ عمارت محسوس ہونے لگا تھا۔ کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ رات کے وقت اکیلا کسی کمرے یا راہداری میں جا سکے۔ ہر آواز پر دل دہل جاتا اور ہر سایہ کسی انجان خطرے کا احساس دلاتا۔
سب سے پہلے کامران کی والدہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔ ایک رات انہوں نے سیڑھیوں کے قریب سفید لباس میں ایک دھندلی سی شکل دیکھی جس کے چہرے پر بے حد اداسی اور آنکھوں میں ناقابلِ بیان دکھ نمایاں تھا۔ وہ خوف کے مارے اپنا توازن کھو بیٹھیں اور سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو گئیں۔ اس واقعے کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ وہ ہر وقت خوف میں مبتلا رہتیں، مسلسل قرآنِ پاک کی تلاوت کرتیں اور گھر سے باہر نکلنے سے بھی گھبرانے لگیں، مگر ان کے دل کا خوف کم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی گیا۔
چند دن بعد سعدیہ بھی ایک عجیب کیفیت کا شکار ہو گئی۔ اسے بار بار محسوس ہونے لگا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ کبھی آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے اسے اپنے پیچھے ایک دھندلا سا وجود نظر آتا اور کبھی سنسان کمروں میں کسی کی موجودگی کا احساس اسے بے چین کر دیتا۔ مسلسل خوف اور ذہنی دباؤ نے اس کی حالت بگاڑ دی۔ وہ چیخ کر اٹھ جاتی، کسی سے بات کرنے سے کترانے لگی اور آہستہ آہستہ اس کی ذہنی کیفیت مکمل طور پر متاثر ہونے لگی۔ چند ہی دن بعد وہ اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی۔ اس کے چہرے پر ایسا خوف منجمد تھا جیسے اس نے مرنے سے پہلے کوئی انتہائی ہولناک منظر دیکھا ہو۔
سعدیہ کی موت نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن یہ تو ابھی آزمائش کا آغاز تھا۔ کامران بھی شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہونے لگا۔ دن کے وقت وہ خود کو معمول کے مطابق رکھنے کی کوشش کرتا، مگر رات ہوتے ہی اس کا اعتماد ٹوٹ جاتا۔ اسے ہر طرف عائشہ کی موجودگی کا احساس ہونے لگا۔ کبھی آئینے میں اسے اپنا چہرہ نظر نہ آتا بلکہ عائشہ کی زخمی صورت دکھائی دیتی، کبھی سنسان راہداریوں میں پائل کی آواز اس کا تعاقب کرتی اور کبھی اندھیرے کمروں میں اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی خاموشی سے اسے دیکھ رہا ہو۔ ان مسلسل خوفناک تجربات نے اس کے اعصاب توڑ کر رکھ دیے۔
شراب، جو کبھی اس کے لیے وقتی سکون کا ذریعہ تھی، اب اس کے خوف میں مزید اضافہ کرنے لگی۔ ہر رات اسے ایک ہی منظر دکھائی دیتا کہ خون سے رنگا ہوا فرش اس کے سامنے پھیلا ہوا ہے اور اس کے درمیان ایک معصوم بچے کا بے جان وجود پڑا ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی اس کے ذہن میں وہ تمام ظلم تازہ ہو جاتے جو اس نے عائشہ اور اس کے ہونے والے بچے پر ڈھائے تھے۔ وہ چیختے ہوئے جاگ اٹھتا، مگر جاگنے کے بعد بھی اس کا خوف ختم نہ ہوتا۔ جرم کا احساس اب اس کی روح کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا تھا۔
دوسری طرف عبدالرحمان ان تمام واقعات سے بے خبر صرف اپنی بیٹی کی مغفرت اور انصاف کے لیے دعا گو تھا۔ اسے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی آہ کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ وہ اپنی کمزور ہوتی صحت کے باوجود ہر روز قبرستان جاتا، قبر کی مٹی درست کرتا، فاتحہ پڑھتا اور خاموشی سے واپس لوٹ آتا۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ نہیں بلکہ انصاف کی خواہش تھی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ظلم کا بدلہ ظلم نہیں بلکہ سچا انصاف ہونا چاہیے۔
وقت گزرنے کے ساتھ کامران کے دل پر جرم کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا کہ اس کے لیے اپنی ہی زندگی ایک عذاب بن گئی۔ خوف، بے خوابی، پچھتاوا اور مسلسل ذہنی دباؤ نے اس کی شخصیت کو مکمل طور پر بدل دیا۔ جو شخص کبھی اپنے اثر و رسوخ اور دولت پر غرور کرتا تھا، وہ اب اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں مجرم بن چکا تھا۔ قدرت نے اس کے لیے ایسی سزا کا آغاز کر دیا تھا جس سے نہ دولت بچا سکتی تھی، نہ طاقت اور نہ ہی دنیا کا کوئی اثر و رسوخ۔ ہر گزرتا دن اسے اس انجام کے قریب لے جا رہا تھا جہاں سچ کو چھپانا ممکن نہیں رہنے والا تھا۔
جرم کا بوجھ وقت کے ساتھ اتنا بھاری ہو گیا کہ کامران کے لیے اپنے ضمیر کی آواز کو مزید دبانا ممکن نہ رہا۔ کئی ہفتوں کی بے خوابی، خوفناک خوابوں اور مسلسل ذہنی اذیت نے اس کی قوتِ برداشت ختم کر دی۔ اس کا چہرہ مرجھا چکا تھا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں تھے اور اس کے اندر کا غرور مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ آخرکار ایک صبح وہ بکھرے ہوئے حلیے اور لرزتے قدموں کے ساتھ سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے وہ تمام راز کھول دیے جو اب تک دولت اور اثر و رسوخ کی طاقت سے چھپائے جا رہے تھے۔ اس نے تسلیم کر لیا کہ عائشہ بے گناہ تھی، اس پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ تھے اور اس کی موت خودکشی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عائشہ پر ہونے والے تشدد میں صرف وہی نہیں بلکہ اس کی والدہ اور بہن بھی برابر کی شریک تھیں اور ان سب نے مل کر ایک بے گناہ عورت اور اس کے رحم میں پلنے والے معصوم بچے کی جان لی تھی۔
کامران کے اعتراف نے پولیس، میڈیا اور پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ جو مقدمہ پہلے خودکشی قرار دے کر بند کر دیا گیا تھا، وہ دوبارہ کھول دیا گیا۔ نئی تفتیش میں ایک ایک حقیقت سامنے آنے لگی۔ میڈیکل رپورٹ، عائشہ کے جسم پر موجود تشدد کے نشانات، پڑوسیوں کے بیانات اور دیگر شواہد نے ثابت کر دیا کہ عبدالرحمان شروع سے سچ کہہ رہا تھا۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے ثبوت اتنے واضح تھے کہ مجرموں کے پاس اپنے دفاع کے لیے کوئی راستہ باقی نہ بچا۔ وہ لوگ جو کبھی اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون کو اپنی مٹھی میں سمجھتے تھے، آج اسی قانون کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔
جب یہ خبر عبدالرحمان تک پہنچی تو وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، لیکن ان آنسوؤں میں پہلی بار بے بسی کے بجائے ایک عجیب سا سکون شامل تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اگرچہ انصاف بہت دیر سے ملا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک مظلوم کی آہ کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ اس کی بیٹی دنیا سے رخصت ضرور ہو گئی تھی، مگر اس کی عزت، اس کی پاکدامنی اور اس کی بے گناہی آخرکار پوری دنیا کے سامنے ثابت ہو چکی تھی۔
اسی رات عبدالرحمان ایک بار پھر قبرستان پہنچا۔ فضا پہلے کی طرح خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں اب پہلے جیسا خوف نہیں تھا۔ ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ قبرستان کے درختوں سے ٹکرا رہی تھی اور مشرق کی سمت سے فجر کی ہلکی سی روشنی نمودار ہونے لگی تھی۔ عبدالرحمان نے عائشہ کی قبر کے پاس بیٹھ کر طویل دعا کی۔ اس کے دل کا بوجھ کسی حد تک ہلکا ہو چکا تھا۔ اسی لمحے اسے دوبارہ پائل کی مدھم آواز سنائی دی۔ اس نے نظریں اٹھائیں تو اسے ایک نورانی سا منظر دکھائی دیا۔ عائشہ پہلے کی طرح سفید لباس میں موجود تھی، لیکن اس بار اس کے چہرے پر درد کی جگہ سکون اور اطمینان نمایاں تھا۔ اس کی بانہوں میں ایک معصوم بچہ تھا، جس کے چہرے پر فرشتوں جیسی معصومیت جھلک رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر عبدالرحمان کی آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے ماں اور اس کے بچے کو اپنی رحمت کی آغوش میں جگہ دے دی ہو۔
چند ہی لمحوں بعد وہ نورانی منظر آہستہ آہستہ دھند میں تحلیل ہونے لگا۔ عبدالرحمان خاموشی سے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وجود مکمل طور پر نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ جب وہ قبر کے قریب پہنچا تو وہاں ایک ٹوٹی ہوئی چوڑی پڑی تھی۔ اس نے اسے بڑی محبت سے اٹھایا، سینے سے لگایا اور آنکھیں بند کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اسی وقت فجر کی اذان کی آواز فضا میں گونج اٹھی اور قبرستان کی خاموشی ایک روحانی سکون میں بدل گئی۔
اس واقعے کے بعد عبدالرحمان کی زندگی اگرچہ معمول پر کبھی واپس نہ آ سکی، لیکن اس کے دل میں ایک اطمینان ضرور پیدا ہو گیا تھا کہ اس کی بیٹی کو آخرکار انصاف مل گیا۔ وہ اکثر قبرستان جا کر فاتحہ پڑھتا، دعا کرتا اور خاموشی سے واپس آ جاتا۔ لوگ اب بھی اسے ایک غم زدہ بوڑھا سمجھتے تھے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ دکھ انسان کو زندگی بھر کے لیے خاموش کر دیتے ہیں۔ بعض زخم وقت کے ساتھ بھر نہیں جاتے بلکہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں، اور کچھ باپ اپنی بیٹیوں کی جدائی کے بعد عمر تو گزارتے ہیں، مگر ان کے دل ہمیشہ اسی دن میں قید رہتے ہیں جس دن انہوں نے اپنی سب سے قیمتی امانت کھو دی تھی۔
یہ کہانی صرف ایک باپ کے غم کی داستان نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی عمر ہمیشہ محدود ہوتی ہے۔ سچ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر مٹ نہیں سکتا۔ انصاف دیر سے ضرور ملتا ہے، لیکن جب قدرت کا فیصلہ آتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ مظلوم کی آہ کبھی ضائع نہیں جاتی، اور اللہ کی عدالت میں نہ دولت کام آتی ہے، نہ طاقت اور نہ ہی جھوٹے رتبے۔ آخرکار سرخرو ہمیشہ سچ ہی ہوتا ہے۔ ختم شد
مزید پڑھیں :: خونخوار حویلی – ایک خون آلود ہاتھ