تہہ خانے کی کچی اور دیمک زدہ سیڑھیوں پر جب کامران احمد کے بوٹوں کی بھاری ٹاپیں گونجیں اور اس کے پیچھے بیس سے زائد مسلح غنڈوں کی کلاشنکوفیں لوڈ ہونے کی کرخت آوازیں اس تنگ کوریڈور میں بازگشت پیدا کرنے لگیں، تو زیرِ زمین کمرے کے اندر کا حبس یکدم پگھلتے ہوئے سیسے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ صرف چند گز کا رہ گیا تھا، اور موت کی آہٹ اتنی صاف تھی کہ بانو کے دل کی دھڑکن اس کے اپنے کانوں میں ڈھول کی طرح بجنے لگی۔
“صلاح الدین۔۔۔!!! میں جانتا ہوں تم اندر ہو! اگر اپنی اور اس بوڑھے اللہ دتا کی خیر چاہتے ہو، تو ہتھیار پھینک کر باہر آ جاؤ، ورنہ شاہینہ بیگم کا حکم ہے کہ اس تہہ خانے کو تم سب کی قبر بنا دیا جائے!” کامران احمد کی مکارانہ اور بلند آواز سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی جب اندر پہنچی، تو دیوار پر ٹمٹماتے ہوئے پیلے لیمپ کی لو جیسے خوف سے تھر تھرا اٹھی۔
صلاح الدین، جس کا جسم تیز بخار سے تپ رہا تھا اور جس کے پیٹ کا گہرا زخم اب پوری طرح کھل چکا تھا، اس نے اپنے دانتوں کو اتنی سختی سے بھینچا کہ اس کے جبڑے کی ہڈیاں ابھر آئیں۔ اس کے سفید کرتے پر خون کا دائرہ مزید پھیل کر اب اس کے بوٹوں کو بھگو رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں چولستان کی ریت جیسا تپتا ہوا جلال تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے اس سیاہ پسٹل کی نال کو سارنگ شاہ کے سینے سے نہیں ہٹایا، جو دیوار کے ساتھ لگا، اپنے زخمی ہاتھ کو تھامے، درد اور ذلت کے مارے ہانپ رہا تھا۔
“سائیں۔۔۔ سائیں صلاح الدین! خدا کے لیے میری بات سنیں، آپ ہماری وجہ سے اپنی جان مت گنوائیں!” بانو نے صلاح الدین کے کرتے کے دامن کو اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے تھام لیا، اس کی آنکھوں سے بہنے والے انسوؤں نے اس کے چہرے پر جمی مٹی کو دھو ڈالا تھا، “وہ بہت زیادہ ہیں سائیں! ان کے پاس بڑی بندوقیں ہیں۔ آپ زخمی ہیں، آپ کا اتنا خون بہہ چکا ہے کہ آپ کے پیر کانپ رہے ہیں۔ آپ ہمیں یہیں چھوڑ دیں اور حویلی کے پچھلے خفیہ راستے سے نکل جائیں، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں سائیں!”
“بانو! پیچھے ہٹو!” صلاح الدین کی آواز میں درد کی شدت تو تھی، لیکن اس کا رعب اور عزم برقرار تھا۔ اس نے بانو کی طرف دیکھے بغیر، اپنی نظریں سامنے کوریڈور کے اندھیرے پر جمائے رکھیں، “میں نے اس دن قانون کی قسم کھائی تھی جب میں نے یہ کالا کوٹ پہنا تھا۔ اور میں نے اس دن اپنے عشق کی لاج رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا جب سارنگ شاہ نے تمہاری طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ صلاح الدین وکالت کی کرسی پر بیٹھ کر صرف کتابیں نہیں پڑھتا، وہ مظلوم کی ڈھال بننا بھی جانتا ہے۔ اگر آج میری زندگی کا آخری دن بھی ہے نا بانو، تو یہ گولی پہلے میری چھاتی کو پار کرے گی، پھر کوئی تمہاری چادر کی طرف دیکھ سکے گا!”
صلاح الدین کے ان الفاظ نے بانو کے وجود میں جیسے ایک بجلی دوڑا دی۔ اس نے اپنے سائیں کے چہرے کی زردی کو دیکھا، اس کے ہونٹوں پر جمے ہوئے خون کے قطرے کو دیکھا، اور اس کے دل میں اپنے اس اکیلے محسن کے لیے محبت اور عقیدت کی ایک ایسی لہر اٹھی جس نے اس کے اندر سے موت کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ وہ روتے ہوئے اپنے ستر سالہ بوڑھے باپ اللہ دتا کے پاس بیٹھ گئی، جس کے ہاتھوں اور پیروں سے زنجیریں تو کھل چکی تھیں، لیکن وہ نقاہت اور تشدد کی وجہ سے اٹھنے کے قابل نہیں تھا۔
“سارنگ شاہ!!!” صلاح الدین نے اپنی بندوق کی نال کو سارنگ شاہ کی پیشانی کے بالکل درمیان ٹکا دیا، “اپنے ان پالتو کتوں سے کہو کہ پیچھے ہٹ جائیں، ورنہ اگلی گولی تمہاری اس مغرور کھوپڑی کے پار ہوگی۔ تمہاری شاہینہ بیگم اور کامران احمد باہر لاشیں گنتے رہ جائیں گے اور تمہارا قصہ یہیں پاک ہو جائے گا!”
سارنگ شاہ، جو اب تک درد سے مروڑ کھا رہا تھا، اس نے صلاح الدین کی آنکھوں میں موت کا وہ حتمی فیصلہ دیکھ لیا جو ایک وکیل کا نہیں، بلکہ ایک زخمی شیر کا تھا۔ اس کا پورا تکبر، اس کی جاگیرداری کا غرور اس تنگ، مٹیالے تہہ خانے کی زمین پر رول چکا تھا۔ اس نے کانپتی ہوئی اکھڑی آواز میں اوپر کی طرف چیخ کر کہا، “کامران۔۔۔!!! رک جاؤ! گولی مت چلانا! اس پاگل وکیل نے میری پیشانی پر بندوق رکھی ہوئی ہے! اگر کسی نے ایک فائر بھی کیا، تو یہ مجھے مار دے گا! پیچھے ہٹو۔۔۔ سب کے سب پیچھے ہٹو!”
اوپر سیڑھیوں پر کامران احمد کے بڑھتے ہوئے قدم یکدم رک گئے۔ اس کے چہرے پر ایک زہر آلود مسکراہٹ ابھری۔ وہ جانتا تھا کہ سارنگ شاہ شاہینہ بیگم کا چہیتا بیٹا ہے، لیکن کامران کے اپنے عزائم کچھ اور تھے۔ وہ تو خود چاہتا تھا کہ اس افراتفری میں صلاح الدین اور سارنگ شاہ دونوں کا خاتمہ ہو جائے تاکہ حویلی کی پوری سلطنت اور افتخار احمد کی سیاست پر اس کا اکیلا راج قائم ہو سکے۔ مگر باہر کھڑے غنڈے سارنگ شاہ کے وفادار تھے، اس لیے وہ کھل کر فائرنگ کا حکم نہیں دے سکتا تھا۔
“صلاح الدین!” کامران احمد نے نیچے اندھیرے تہہ خانے کی طرف منہ کر کے بلند آواز میں کہا، “تم کب تک اس چوہے دان میں چھپے رہو گے؟ تمہاری گولیوں کی تعداد محدود ہے، اور میرے غنڈوں نے اس حویلی کے ایک ایک انچ کو گھیر رکھا ہے۔ تمہارا جسم جواب دے رہا ہے، تمہارا خون بہہ رہا ہے۔ تم زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ اور کھڑے رہ سکتے ہو، اس کے بعد جب تمہاری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھائے گا، تو بانو بھی یہی ہوگی، اللہ دتا بھی یہی ہوگا اور سارنگ شاہ کا کوڑا بھی یہی ہوگا!”
کامران کی بات سو فیصد سچ تھی۔ صلاح الدین کو اپنے سر میں ایک ہولناک چکر آتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کے پیروں کے نیچے سے زمین جیسے سرک رہی تھی، اس کا پیٹ کا زخم اندر تک تپ رہا تھا اور اس کی کالی چادر اب اس کے اپنے خون سے بھاری ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں دیوار پر جما دیں تاکہ وہ فرش پر گر نہ پڑے۔
“سائیں۔۔۔!!!” بانو نے جیسے ہی صلاح الدین کو لڑکھڑاتے دیکھا، وہ تڑپ کر کھڑی ہوئی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ صلاح الدین کے اس دائیں بازو کے نیچے دے دیے جس میں پستول تھا، تاکہ اس کے سائیں کا نشانہ نہ چوکنے پائے، “سائیں، میں آپ کا سہارا بنوں گی۔ آپ ہمت مت ہارنا، بانو مر جائے گی لیکن اپنے سائیں کو گرنے نہیں دے گی!”
تہہ خانے کے اس دم گھٹتے ہوئے حبس میں، جہاں باہر بیس کلاشنکوفیں موت بن کر کھڑی تھیں، بانو کا وہ نازک سہارا صلاح الدین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ اس نے بانو کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب خوف کی جگہ ایک لازوال قربانی کا جذبہ چمک رہا تھا۔
اسی لمحے، حویلی کے بیرونی صحن سے ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا، اور اس کے ساتھ ہی کلاشنکوفوں کی اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں حویلی کے در و دیوار کو ہلانے لگیں۔ بابا رحیمو اپنے چولستانی مزارعوں کے نوجوان دستے کو لے کر، ہاتھوں میں کلہاڑیاں، لاٹھیاں اور دیسی بندوقیں تھامے، حویلی کے صدر دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہو چکے تھے! مزارعوں نے اپنے وکیل سائیں اور بانو کو بچانے کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگا دی تھی۔ حویلی کے گارڈز اب باہر مزارعوں کے اس اچانک اور خونی حملے کا جواب دینے کے لیے پوزیشنیں لے رہے تھے۔
تہہ خانے کے اندر کی صورتحال اب ایک سیکنڈ میں بدلنے والی تھی، کیونکہ باہر کا معرکہ شروع ہو چکا تھا اور کامران احمد نے گھبرا کر اپنے غنڈوں کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا تھا!
حویلی کے بیرونی صحن میں ہونے والے اس زبردست دھماکے اور کلاشنکوفوں کی تڑتڑاہٹ نے تہہ خانے کے اندر کی کچی مٹی کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اوپر سیڑھیوں پر کھڑے کامران احمد کا چہرہ جو اب تک مکارانہ مسکراہٹ سے چمک رہا تھا، باہر مزارعوں کی یلغار اور گارڈز کی چیخ و پکار سن کر یکدم فق ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر چولستان کے یہ غیور مزارع حویلی کے اندرونی صحن تک پہنچ گئے، تو پھر شاہینہ بیگم کا یہ پورا قلعہ ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔
“منور! خان بخش! دیکھو باہر کیا آفت آئی ہے! ان مزارعوں کے پالتو کتوں کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ حویلی کا گیٹ توڑیں؟ سب باہر بھاگو اور انہیں وہیں بھون دو!” کامران احمد نے بوکھلا کر اپنے خاص غنڈوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا، اور خود سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔ کوریڈور میں کھڑے بیس مسلح غنڈوں میں سے آدھے سے زیادہ تیزی سے بوٹوں کی ٹاپیں گونجاتے ہوئے اوپر کی طرف دوڑے، جس سے تہہ خانے کا محاصرہ چند لمحوں کے لیے کمزور پڑ گیا۔
تہہ خانے کے اندر، صلاح الدین نے بانو کے نازک کندھے کا سہارا لیتے ہوئے اپنے پورے وجود کی سکت کو اکٹھا کیا۔ اس کی آنکھیں تیز بخار کی تپش سے سرخ انگارہ ہو رہی تھیں اور اس کے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی، لیکن جیسے ہی اس نے باہر بابا رحیمو کے مزارعوں کے نعرے اور دیسی بندوقوں کے فائر سنے، اس کے چہرے پر ایک اداس مگر فاتحانہ چمک ابھری۔
“بابا رحیمو آ گئے ہیں بانو۔۔۔ چولستان کے غیرت مند جاگ چکے ہیں،” صلاح الدین کی آواز اس کے حلق سے آخری حد تک رگڑ کھا کر نکلی۔ اس نے اپنی پسٹل کی نال کو سارنگ شاہ کی پیشانی پر تھوڑا اور سخت کیا، “سارنگ شاہ! تیری موت کا وقت ابھی نہیں آیا، کیونکہ تجھے میں اس چولستان کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے قانون کے ہاتھوں پھانسی کے فندے تک پہنچاؤں گا۔ لیکن اگر تو نے یہاں سے ایک انچ بھی ہلنے کی کوشش کی، تو تیرا سفر یہیں ختم ہو جائے گا۔ چل، آگے بڑھ!”
صلاح الدین نے سارنگ شاہ کو اس کے زخمی اور خون آلود ہاتھ سے پکڑ کر اپنے آگے کیا، اور بانو کو اپنے دوسرے بازو کے سائے میں لے کر اللہ دتا کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔ بانو نے روتے ہوئے اپنے بوڑھے باپ کو سہارا دیا، جس کے پیر زنجیروں کے کٹنے کے بعد اب مٹی پر گھسٹ رہے تھے۔ سارنگ شاہ موت کے خوف سے کانپتا ہوا، صلاح الدین کے آگے آگے سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے دل میں چھپی وحشت اب بے بسی میں بدل چکی تھی۔
جیسے ہی یہ چاروں تہہ خانے کی آخری سیڑھی عبور کر کے حویلی کے بڑے دالان میں پہنچے، منظر انتہائی ہولناک اور اعصاب شکن تھا۔ حویلی کا وہ عالیشان دالان، جہاں کبھی شاہینہ بیگم کی سلطنت کے فیصلے ہوتے تھے، اس وقت ایک جنگ کا میدان بن چکا تھا۔ فضا میں جلتے ہوئے ٹائروں اور بارود کا کالا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ حویلی کے اونچے برآمدوں سے گارڈز کلاشنکوفوں کے ذریعے نیچے صحن پر اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے، جہاں بابا رحیمو کی قیادت میں مزارعوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لیے پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھی۔ کئی مزارعے حویلی کی گولیوں کا نشانہ بن کر ریت پر تڑپ رہے تھے، ان کا سرخ خون چولستان کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا، لیکن ان کے قدم پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے۔
“اوہو۔۔۔ تو وکیل سائیں باہر آ ہی گئے!” برآمدے کے دوسرے کونے سے کامران احمد کی اکھڑی ہوئی آواز گونجی۔ وہ اپنے تین غنڈوں کے ساتھ ایک بھاری ستون کے پیچھے پوزیشن لیے کھڑا تھا۔ اس نے جیسے ہی دیکھا کہ صلاح الدین آخری حد تک نڈھال ہے اور اس نے سارنگ شاہ کو ڈھال بنایا ہوا ہے، اس کے اندر کا مکر جاگ اٹھا۔ “صلاح الدین! تم سارنگ شاہ کو مارنا چاہتے ہو تو مار دو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا! لیکن تم سب اس حویلی سے زندہ باہر نہیں جا سکتے!”
کامران احمد نے اپنے غنڈوں کو اشارہ کیا، اور ان کی بندوقوں کا رخ صلاح الدین اور بانو کی طرف گھوم گیا۔ اسی لمحے، حویلی کے بڑے لوہے کے دروازے سے بابا رحیمو کا جوان بیٹا، شوکت، دو مزارعوں کے ساتھ دیسی رائفل لیے دالان کے اندر داخل ہوا۔ اس نے جیسے ہی اپنے وکیل سائیں اور بانو کو اس حالت میں دیکھا، اس کا خون کھول اٹھا۔
“سائیں! بانو! نیچے جھک جاؤ!” شوکت نے گرج کر کہا اور کامران احمد کے غنڈوں پر فائر کھول دیا۔ ایک زوردار فائر کی آواز آئی اور کامران کے برابر میں کھڑا ایک غنڈہ کندھے پر گولی کھا کر نیچے گرا۔ اس اچانک فائرنگ سے کامران احمد گھبرا کر پیچھے برآمدے کے کمروں کی طرف بھاگا۔
“شوکت! بابا رحیمو کہاں ہیں؟” صلاح الدین نے اپنی آخری ہمت مجتمع کرتے ہوئے چیخ کر پوچھا، اس کے منہ سے خون کا ایک اور باریک فوارہ نکلا اور اس کے گھٹنے یکدم جواب دے گئے۔ بانو نے تڑپ کر اس کے پورے وجود کو اپنے سینے سے لگا لیا تاکہ وہ نیچے پکے فرش پر نہ گر پائے۔
“سائیں! بابا باہر ڈالے (پک اپ گاڑی) کے ساتھ کھڑے ہیں، حویلی کے پچھلے راستے پر غنڈوں کا گھیراؤ بڑھ رہا ہے! ہمیں ابھی نکلنا ہوگا، مزارعے زیادہ دیر ان کلاشنکوفوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے!” شوکت نے آگے بڑھ کر بوڑھے اللہ دتا کو اپنے مضبوط چوڑے کندھے پر اٹھا لیا، جبکہ دوسرا مزارع گارڈز پر مسلسل فائرنگ کر کے انہیں پیچھے دھکیل رہا تھا۔
صلاح الدین نے سارنگ شاہ کو ایک زبردست ٹھوکر ماری، جس سے وہ فرش پر دور جا گرا۔ “بانو۔۔۔ بھاگو!” صلاح الدین نے اکھڑتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا۔ بانو نے صلاح الدین کا ہاتھ اپنے گلے میں ڈالا، اس کا اپنا نازک وجود صلاح الدین کے بھاری جسم کا وزن اٹھاتے ہوئے کانپ رہا تھا، لیکن اس کے عشق کی طاقت اس کے پیروں کی بیڑیاں بننے نہیں دے رہی تھی۔ وہ دونوں شوکت کے پیچھے حویلی کے اسی صدر دروازے کی طرف دوڑے جہاں بارود کا دھواں سب سے گہرا تھا۔
پشت سے حویلی کے گارڈز کی گولیوں کی بوچھاڑ اب بھی ان کے سروں کے اوپر سے گزر رہی تھی، دیواروں کے پلاسٹر ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے کپڑوں پر گر رہے تھے۔ یہ فرار چولستان کی تاریخ کا سب سے ہولناک فرار تھا، جہاں ایک زخمی وکیل، ایک بے بس لڑکی اور اس کا مظلوم باپ جاگیرداری کے سب سے بڑے گڑھ سے موت کے منہ سے نکل رہے تھے۔
جیسے ہی وہ حویلی کے بیرونی گیٹ سے باہر نکلے، سامنے بابا رحیمو ایک پرانے مٹیالے ڈالے کا دروازہ کھولے کھڑے تھے، ان کی بوڑھی آنکھوں میں انسو اور چہرے پر جلال تھا۔ “جلدی کرو! گاڑی میں بیٹھو! حویلی کی دوسری گاڑیوں کے غنڈے شہر کی طرف سے واپس آ رہے ہیں!” بابا رحیمو کی آواز گونجی۔
شوکت نے اللہ دتا کو پچھلی سیٹ پر ڈالا۔ بانو نے صلاح الدین کو اندر دھکیلا اور خود اس کے برابر میں بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ صلاح الدین کا پورا سفید کرتا اب خون سے نہا چکا تھا، اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں اور اس کا ہاتھ بانو کے ہاتھ سے چھوٹ رہا تھا۔ ڈالے کا ڈرائیور نے جیسے ہی ایکسیلیٹر پر پیر رکھا، گاڑی ریت اڑاتی ہوئی چولستان کے گہرے اندھیرے اور مٹیالے طوفان کی طرف نکل گئی، جبکہ پیچھے حویلی سے اب بھی فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
پرانے مٹیالے ڈالے کا انجن رات کے سناٹے میں ایک زخمی شیر کی طرح غرا رہا تھا، اور اس کے ٹائر چولستان کی کچی ریت کو کاٹتے ہوئے اندھیرے کی چادر کو چیر رہے تھے۔ گاڑی کے پیچھے، دور افق پر شاہینہ بیگم کی حویلی کے اونچے ٹاورز اب آہستہ آہستہ ریت کے غبار میں دھندلا رہے تھے، لیکن حویلی کے گارڈز کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور سائرن کی آوازیں اب بھی چولستان کی تیز ہواؤں کے دوش پر ان کا پیچھا کرتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ریت کا ایک ہلکا طوفان گاڑی کے شیشوں سے ٹکرا رہا تھا، جیسے چولستان کی یہ غیور مٹی بھی اپنے اس زخمی وکیل کو اپنے دامن میں چھپانے کے لیے بے چین ہو۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ کا منظر اس وقت اس قدر رقت آمیز اور دردناک تھا کہ پتھر دل انسان بھی دیکھتا تو خون کے آنسو رو پڑتا۔ صلاح الدین کا سر بانو کی گود میں تھا، اس کا گورا چہرہ تیز ترین بخار کی تپش اور خون کے مسلسل بہنے کی وجہ سے بالکل زرد، بے جان اور مٹیالا پڑ چکا تھا، اس کی وہ مخملی آنکھیں جو کبھی عدالت کے کٹہرے میں سچائی کی چمک سے جاگیرداروں کو لرزا دیتی تھیں، اس وقت بالکل بند تھیں اور ان کے پپوٹے سوج چکے تھے۔ اس کا سفید کرتا اب کسی سفید کپڑے کا ٹکڑا نہیں رہا تھا، بلکہ وہ بانو اور اس کے باپ کی آزادی کی قیمت چکاتے چکاتے کندھوں سے لے کر دامن تک گہرے سرخ اور کالے خون سے لت پت ہو چکا تھا اور خون کے کلوٹ اس کے بوٹوں تک جم چکے تھے۔ اس کے پیٹ کا وہ کچا زخم، جو ہسپتال سے بھاگنے اور حویلی کی دیواریں پار کرنے کی وجہ سے پوری طرح پھٹ چکا تھا، اس سے اب بھی خون کا ایک باریک قطرہ قطرہ نکل کر بانو کے ریشمی دوپٹے کو بھگو رہا تھا۔
“سائیں۔۔۔!!! او میرے سائیں! اپنی آنکھیں کھولیں سائیں، خدا کارن اپنی بانو کو اس طرح اکیلا چھوڑ کر مت جائیں!” بانو نے صلاح الدین کے زرد چہرے کو اپنے دونوں لرزتے ہوئے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا، اس کی آنکھوں سے بہنے والے موٹے موٹے آنسو مسلسل صلاح الدین کے ماتھے اور گالوں پر گر رہے تھے، جیسے وہ اپنے عشق کے ان پویتر آنسوؤں سے اپنے سائیں کے وجود کی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتی ہو، “دیکھیں سائیں! میرا ابا آزاد ہو گیا ہے، ہم حویلی کے اس کالے قید خانے سے باہر آ گئے ہیں۔ اب آپ ہمت کیوں ہار رہے ہیں سائیں؟ آپ تو کہتے تھے نا کہ قانون سب سے بڑا ہوتا ہے، آپ تو کہتے تھے کہ آپ بانو کو انصاف دلا کر رہیں گے! اب جب بانو آپ کے سامنے کھڑی ہے، تو آپ اپنی بات سے مکر کیوں رہے ہیں سائیں؟”
بانو کی ہچکیاں اور اس کی سرائیکی کے درد میں ڈوبی ہوئی سسکیاں گاڑی کے اندر گونج رہی تھیں، جس نے اگلی سیٹ پر بیٹھے شوکت اور بابا رحیمو کے دلوں کو بھی چھلنی کر دیا تھا۔ بانو نے اپنی وہ روایتی گلابی چادر، جو حویلی کے فرش پر گھسٹ گھسٹ کر جگہ جگہ سے تار تار ہو چکی تھی، اسے اپنے ہاتھوں سے پھاڑا اور صلاح الدین کے پیٹ کے اس خونی زخم پر رکھ کر اپنے پورے زور سے دبا دیا تاکہ خون کے اس طوفان کو روکا جا سکے، لیکن خون کا دباؤ اتنا تیز تھا کہ چند ہی سیکنڈز میں وہ گلابی کپڑا بھی پوری طرح سرخ ہو گیا۔ بانو نے تڑپ کر اپنا سر صلاح الدین کے سینے پر رکھ دیا، جہاں دل کی دھڑکن اب اتنی مدہم، اتنی سست اور باریک ہو چکی تھا کہ جیسے کسی بھی پل یہ لائف لائن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔
“بابا سائیں۔۔۔!!! گاڑی اور تیز چلاؤ! وکیل سائیں کا پورا وجود ٹھنڈا پڑ رہا ہے، ان کا سانس اکھڑ رہا ہے!” بانو نے گاڑی کے فرنٹ شیشے کی طرف دیکھ کر پاگلوں کی طرح چیخ کر کہا، اس کی آواز میں اپنے مان کو کھو دینے کا وہ ہولناک خوف تھا جو ایک عورت کو اندر سے توڑ دیتا ہے، “اگر میرے سائیں کو کچھ ہوا بابا، تو بانو جیتے جی مر جائے گی! میں کل صبح اس عدالت کی سیڑھیوں پر اپنی جان دے دوں گی! خدا کے لیے کوئی ڈاکٹر بلاؤ، کوئی میرے سائیں کو بچاؤ!”
پچھلی سیٹ کے دوسرے کونے میں بیٹھا ستر سالہ بوڑھا اللہ دتا، جس کی اپنی پیٹھ کوڑوں کے زخموں سے چور تھی اور جس کے ہاتھوں پر زنجیروں کے نیلے نشان اب بھی واضح تھے، اس نے لرزتے ہاتھوں سے آسمان کی طرف دیکھا، اس کی بوڑھی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی، “او میرے مالک! او چولستان کے سچے رب! اس معصوم وکیل نے اپنی لائف، اپنی عزت، اپنے بڑے باپ کی سیاست، سب کچھ ہم مزارعوں کے کیڑے مکوڑوں کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ اس سچے جوان کو زندگی دے میرے مولا! اس بانو کے سائیں کو موت کے منہ سے نکال لے، ہماری عمر بھی اس وکیل سائیں کو لگ جائے میرے پاک پروردگار!”
گاڑی کا ڈرائیور دیوانہ وار اسٹیئرنگ گھما رہا تھا، ریت کے اونچے ٹیلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے گاڑی بار بار زوردار جھٹکے کھا رہی تھی اور ہر جھٹکے پر صلاح الدین کے منہ سے ایک گہری، روح فرسا اور نیم بے ہوشی کی کراہ نکلتی تھی جو بانو کے جگر کو کاٹ کر رکھ دیتی۔ بابا رحیمو نے مڑ کر دیکھا، ان کا اپنا چہرہ بھی صدمے سے زرد تھا، “بانو دھی! حوصلہ رکھ، عثمان سائیں نے شہر سے چوری چھپے ایک بڑے ڈاکٹر کو مزارعوں کے اسی خفیہ پرانے ڈیرے پر بلوا لیا ہے جہاں پولیس بھی نہیں پہنچ سکتی۔ افتخار احمد سائیں نے شہر سے گارڈز کی ایک بڑی نفری چولستان کی طرف روانہ کر دی ہے، بس ہمیں اگلے دس منٹ اس اندھیرے میں حویلی کے غنڈوں سے بچ کر اس ڈیرے تک پہنچنا ہے۔ تم وکیل سائیں کا سر سیدھا رکھو اور ان کے کان میں بولتی رہو، انہیں بے ہوشی کی اس کالی وادی میں گم ہونے مت دینا دھی!”
بانو نے فورا اپنا چہرہ صلاح الدین کے کان کے بالکل قریب کیا، اس کے اپنے بال صلاح الدین کے گالوں کو چھو رہے تھے، اس نے صلاح الدین کے اس دائیں ہاتھ کو، جس نے کچھ دیر پہلے سارنگ شاہ کی پیشانی پر پسٹل تانا تھا، اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ ہاتھ اب برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
“سائیں۔۔۔ میری بات سنیں سائیں،” بانو کی آواز اب بالکل دھیمی، لرزتی ہوئی اور التجا سے بھرپور ہو چکی تھی، “آپ نے کہا تھا نا کہ جب تک یہ وکیل زندہ ہے، کوئی بانو کی چادر کو چھو نہیں سکتا۔ دیکھیں سائیں! بانو اپ کے سائے میں کھڑی ہے، لیکن اگر آپ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، تو بانو بالکل اکیلی ہو جائے گی۔ شاہینہ بیگم اور کامران احمد ہمیں دوبارہ اس جہنم میں گھسیٹ کر لے جائیں گے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جھوٹ جیت جائے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ مزارعوں کا یہ بوڑھا باپ عدالت کے کٹہرے میں دوبارہ زنجیروں سے جکڑا جائے؟ اٹھیں میرے سائیں۔۔۔ اپنے عشق کی خاطر، اپنے باپ کے مان کی خاطر، اس چولستان کی مٹی کی خاطر ایک بار اپنی آنکھیں کھولیں!”
بانو کے ان بے پناہ جذباتی، سچے اور تڑپتے ہوئے الفاظ نے جیسے صلاح الدین کے اندر کی اس آخری دم توڑتی ہوئی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بے ہوشی کے اس مہیب کالی رات کے اندھیرے میں ڈوبتے ہوئے صلاح الدین کے بند پپوٹوں کے پیچھے جیسے ایک ہلچل ہوئی۔ اس کے سفید، خشک اور خون آلود ہونٹوں میں ایک مدہم سی لرزش پیدا ہوئی۔ اس نے بڑی ہی تکلیف، بڑی ہی مشقت سے اپنی بند آنکھوں کو ایک ملی میٹر کے برابر کھولا۔ اس کی دھندلی، لال اور تپتی ہوئی نظروں کے سامنے بانو کا وہ روتا ہوا، انسوؤں سے لت پت معصوم چہرہ ابھرا۔
صلاح الدین نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں بانو کے ہاتھوں کی گرفت کو محسوس کیا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے حلق سے ایک دھیمی، اکھڑی ہوئی اور بالکل باریک آواز نکالی، جو انجن کے شور میں بھی بانو نے اپنے دل کے کانوں سے سن لی، “با۔۔۔ بانو۔۔۔ گھبراؤ۔۔۔ مت۔۔۔ قانون۔۔۔ جیتے گا۔۔۔ صلاح الدین۔۔۔ مرے گا۔۔۔ نہیں۔۔۔”
یہ چند لفظ بولتے ہی صلاح الدین کا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا، اس کا ہاتھ بالکل بے جان ہو کر بانو کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا اور اس کے جسم کا بچا کچا سکت بھی جیسے ختم ہو گیا۔
“سائیں۔۔۔!!! سائیں صلاح الدین۔۔۔!!!” بانو نے ایک ایسی ہولناک اور دلدوز چیخ ماری جس نے چولستان کے اس گہرے اندھیرے صحرا کے سناٹے کو کپکپا کر رکھ دیا، اور اسی لمحے گاڑی ریت کے ایک آخری ٹیلے کو پار کر کے اس پرانے، ویران کچے ڈیرے کے سامنے جا رکی، جہاں عثمان اور ایک بوڑھا ڈاکٹر ہاتھ میں میڈیکل کٹ لیے ان کا انتظار کر رہے تھے!
ڈالے کے رکتے ہی چولستان کی مٹی اڑتی ہوئی ڈیرے کے کچے دالان میں پھیل گئی۔ عثمان اور شہر کا وہ بوڑھا ڈاکٹر اکرام، جو اپنی لائف کو خطرے میں ڈال کر مزارعوں کے اس خفیہ ٹھکانے پر پہنچا تھا، وہ دونوں پاگلوں کی طرح گاڑی کی طرف دوڑے۔ جیسے ہی عثمان نے پچھلا دروازہ کھولا، اندر کا خون آلود منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ سے میڈیکل کٹ چھوٹ کر نیچے ریت پر گر پڑی۔ اس کا بڑا بھائی، اس کا مان، صلاح الدین بانو کی گود میں بالکل بے حس و حرکت پڑا تھا اور اس کا سوراخ شدہ پیٹ اب خون کا ایک سوکھا ہوا تالاب بن چکا تھا جس پر بانو کے آنسو گر رہے تھے۔
“صلاح الدین بھائی۔۔۔!!! اٹھیں بھائی، خدا کے لیے اپنی آنکھیں کھولیں!” عثمان نے تڑپ کر صلاح الدین کے چہرے کو تھپتھپایا، لیکن وہاں کوئی حرکت نہیں تھی۔ شوکت اور بابا رحیمو نے مل کر صلاح الدین کے وزنی، بے جان جسم کو گاڑی سے نکالا اور دالان کے اندر پڑی مٹیالی لکڑی کی ایک پرانی چارپائی پر لٹا دیا۔ بوڑھے ڈاکٹر اکرام نے فورا آگے بڑھ کر صلاح الدین کی دائیں کلائی کو اپنے کانپتے ہاتھوں میں لیا اور نبض ٹٹولنے لگا۔
کمرے کے اندر ایک پرانی لالٹین جل رہی تھی جس کی زرد، کمزور روشنی صلاح الدین کے سفید زرد چہرے پر پڑ رہی تھی۔ ڈاکٹر اکرام نے اپنی جیب سے چھوٹا ٹارچ نکال کر صلاح الدین کی پتلیوں کو دیکھا، اور پھر انتہائی مایوسی اور گھبراہٹ سے اپنا سر ہلا دیا۔
“ڈاکٹر سائیں! بولو ناں۔۔۔ میرے سائیں کو کیا ہوا ہے؟” بانو چارپائی کے پائے سے لٹک کر روتے ہوئے چیخی، اس کی آواز دالان کی کچی چھت سے ٹکرا کر گونجی، “وہ ابھی بولے تھے ڈاکٹر سائیں! انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مریں گے نہیں! تم کچھ کرتے کیوں نہیں؟”
“بیٹی۔۔۔ اس جوان کا آدھے سے زیادہ خون چولستان کی ریت میں بہہ چکا ہے،” ڈاکٹر اکرام کی آواز میں ہولناک پریشانی تھی، “بلڈ پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور نبض کی رفتار اتنی باریک ہو چکی ہے کہ مجھے شک ہے کہ دل کسی بھی سیکنڈ دھڑکنا بند کر دے گا۔ اس کے پیٹ کے اندر کے ٹانکے حویلی کے جھٹکوں کی وجہ سے اندر تک پھٹ چکے ہیں اور اندرونی خون بہہ رہا ہے (Internal Bleeding)۔ میرے پاس یہاں کوئی بڑا آپریشن تھیٹر نہیں ہے، کوئی آکسیجن نہیں ہے! میں اس کچے ڈیرے پر اس حالت میں اس کا پیٹ دوبارہ کیسے چاک کروں؟ اگر میں نے ابھی آپریشن شروع کیا، تو یہ اس چارپائی پر ہی دم توڑ دے گا!”
“نہیں۔۔۔ ڈاکٹر سائیں! تمہیں آپریشن کرنا ہوگا!” عثمان نے ڈاکٹر کا گریبان اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا، اس کی آنکھیں پاگل پن کی حد تک لال ہو چکی تھیں، “یہ افتخار احمد کا بڑا بیٹا ہے، یہ چولستان کے مزارعوں کی اخری امید ہے! اگر تم نے ہتھیار ڈال دیے ڈاکٹر، تو میں تمہیں اس ڈیرے سے زندہ باہر جانے نہیں دوں گا! جو کرنا ہے یہیں کرو، میرے بھائی کی سانسیں واپس لے کر آؤ!”
ڈاکٹر اکرام نے عثمان کے غصے اور بانو کی تڑپ کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا۔ اس نے اپنی آستینیں اوپر کیں اور اپنی کٹ سے جراحی کے اوزار، اینٹی سیپٹک لوشن اور ٹانکے لگانے والی سوئیاں نکال کر میز پر رکھ دیں۔ “عثمان! لالٹین کو بالکل چارپائی کے پاس لے کر آؤ! شوکت، بابا رحیمو! تم دونوں اس کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کو مضبوطی سے جکڑ لو، کیونکہ میرے پاس بے ہوشی کا مکمل انجکشن نہیں ہے، صرف لوکل اینستھیزیا ہے، اگر آپریشن کے دوران اس کا جسم تڑپا، تو موت فورا واقع ہو جائے گی! اور بانو بیٹی۔۔۔ تم باہر دالان میں جاؤ، یہ منظر تمہارے دیکھنے کا نہیں ہے!”
“میں کہیں نہیں جاؤں گی ڈاکٹر سائیں!” بانو نے صلاح الدین کے برف جیسے ٹھنڈے پیروں کو اپنے سینے سے لگا لیا، “میں اپنے سائیں کے پیروں کے پاس بیٹھوں گی۔ جب تک بانو یہاں ہے، موت بھی میرے سائیں کو چھو نہیں سکتی!”
ڈاکٹر اکرام نے جیسے ہی اینٹی سیپٹک لوشن صلاح الدین کے پیٹ کے اس گہرے، چاک شدہ زخم پر ڈالا، تو تیزاب کی طرح جلتے ہوئے اس لوشن کے اثر سے صلاح الدین کا پورا وجود نیم بے ہوشی میں بھی ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ اوپر کو اٹھا۔ اس کے منہ سے ایک ایسی دلدوز، روح فرسا اور ہولناک چیخ نکلی جس نے ڈیرے کی کچی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ شوکت اور بابا رحیمو نے اپنے پورے جسم کا وزن صلاح الدین کے کندھوں پر ڈال دیا تاکہ وہ ہل نہ سکے۔ صلاح الدین کی پیشانی پر نیلے رنگ کی رگیں تن گئیں، اس کے بند ہونٹوں سے خون ابل کر اس کی داڑھی پر بہنے لگا، لیکن اس کی آنکھیں اب بھی بند تھیں۔
ڈاکٹر اکرام نے بڑی مہارت سے سوئی اور دھاگا اٹھایا اور صلاح الدین کے پیٹ کے اندرونی پھٹے ہوئے گوشت کو دوبارہ سینا شروع کیا۔ ایک ایک ٹانکے پر صلاح الدین کا پورا وجود مروڑ کھا رہا تھا، اس کا گورا چہرہ پسینے اور خون سے لت پت ہو چکا تھا، اور ہر ٹانکے کے ساتھ بانو کا دل جیسے اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔ بانو نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور چولستان کی مٹی کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر اپنے مالک کے سامنے پھیل دیا۔ “او میرے سچے رب! او تیرے عشق کی لاج رکھنے والے مولا! میرے سائیں کے زخموں کا یہ درد بانو کی جان میں ڈال دے، ان کا ایک ایک ٹانکا میری روح پر لگا دے میرے مالک، لیکن میرے سائیں کو زندگی دے دے!”
جراحی ابھی آدھی پہنچی تھی کہ اچانک ڈیرے کے باہر، ریت کے ٹیلوں کی طرف سے گاڑیوں کے بھاری انجنوں کی آوازیں اور سائرن کی مہیب گونج سنائی دینے لگی۔ حویلی کے گارڈز، کامران احمد کی قیادت میں، گاڑیوں کی تیز ہیڈ لائٹس چمکاتے ہوئے ڈیرے کا تعاقب کرتے ہوئے بالکل قریب پہنچ چکے تھے! تیز روشنی کچے دالان کی کھڑکیوں سے ہوتی ہوئی اندر تک آ رہی تھی۔
“منور! خان بخش! سب ڈالے روک دو! یہ مزارعوں کا وہی پرانا ڈیرہ ہے، صلاح الدین اندر ہی چھپا ہے! گھیر لو اس پورے ڈیرے کو اور گولی مار دو جو بھی باہر نکلے!” کامران احمد کی وحشیانہ اور مکارانہ آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی ڈیرے کے بالکل صحن تک پہنچ گئی۔
“شوکت۔۔۔!!!” بابا رحیمو نے فورا اپنی پرانی دیسی بندوق اٹھائی، ان کی بوڑھی آنکھوں میں موت کا کوئی خوف نہیں تھا، “اپنی رائفل سنبھالو! ڈاکٹر سائیں۔۔۔ تم اپنا کام جاری رکھو، باہر جب تک رحیمو اور اس کا بیٹا زندہ ہیں، حویلی کا کوئی کتا اس دالان کی چوکھٹ پار نہیں کر سکے گا!”
شوکت اور بابا رحیمو فورا دالان کے کچے دروازے کی طرف لپکے اور انہوں نے باہر اندھیرے میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔ باہر کلاشنکوفوں کی تڑتڑاہٹ اور دیسی بندوقوں کے فائر ایک بار پھر شروع ہو چکے تھے، گولیوں کی بوچھاڑ سے دالان کی کچی مٹی جھڑ جھڑ کر چارپائی پر گر رہی تھا، لیکن اندر ڈاکٹر اکرام کے ہاتھ صلاح الدین کے پیٹ پر مسلسل چل رہے تھے، جہاں زندگی اور موت کا آخری معرکہ اپنی انتہا کو پہنچ رہا تھا۔