Khoonkhar Haweli

خونخوار حویلی – اک خون آلود ہاتھ

چاندنی رات تھی، لیکن آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، لاہور سے کچھ دور، گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک پرانی مغلیہ حویلی کھڑی تھی، جس کی دیواریں وقت کے ہاتھوں چٹخ رہی تھیں۔ اس کے جالی دار کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گزرتے تھے، جو رات کی خاموشی کو توڑتے ہوئے عجیب سی سرگوشیاں پیدا کرتے تھے۔ گاؤں والوں کا ماننا تھا کہ یہ حویلی لعنتی ہے۔ ہر پورنیما کی رات کو یہاں سے چیخیں سنائی دیتی تھیں، اور جو کوئی اس کے دروازوں سے اندر داخل ہوتا، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔
سلمان، ایک 30 سالہ بہادر سپاہی، اپنے گھوڑے پر جنگل کے تنگ راستوں سے گزر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا، لیکن دل میں فردوس کی یاد اسے بے چین کر رہی تھی۔ وہ اپنے سردار کے حکم پر اس حویلی کی تحقیق کے لیے جا رہا تھا، جہاں سے حالیہ دنوں میں کئی راہگیر غائب ہو چکے تھے۔ اس کے ساتھ اس کا چھوٹا کزن ثمر تھا، جو اپنی لاپرواہی اور جوش کی وجہ سے مشہور تھا۔ “بھائی، یہ تو بس گاؤں والوں کی باتیں ہیں۔ جنات، بھوت، لعنت… یہ سب کہانیاں ہیں!” ثمر نے ہنستے ہوئے کہا، اپنی شمشیر کو ہوا میں لہراتے ہوئے۔
سلمان نے اسے گھورا۔ “ثمر، ہوش سے کام لے۔ یہ جگہ خطرناک ہے۔ سردار نے کہا ہے کہ اس حویلی سے کچھ ٹھیک نہیں۔” اس کی آواز میں سنجیدگی تھی، لیکن ثمر نے کندھے اچکائے اور آگے بڑھ گیا۔ ان کے ساتھ شاہ زیب بھی تھا، ایک مقامی تاجر جو حویلی کے قریب اپنی تجارت چلاتا تھا۔ شاہ زیب خاموش تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی جھلک رہی تھی۔
حویلی کے بھاری لکڑی کے دروازوں پر پہنچتے ہی ہوا اچانک ٹھنڈی ہو گئی۔ دروازوں پر کندہ مغلیہ نقوش اب دھندلے پڑ چکے تھے، لیکن ان میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ سلمان نے دروازے پر ہاتھ رکھا، اور اسے لگا جیسے کوئی اس کے کان میں سرگوشی کر رہا ہو۔ “یہ کیا تھا؟” اس نے چونک کر پیچھے دیکھا، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ ثمر نے ہنس کر کہا، “بھائی، ڈر گئے کیا؟” لیکن شاہ زیب کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔
دروازہ کھولتے ہی ایک بدبو ان کے ناک میں داخل ہوئی اندر کا منظر خوفناک تھا۔ دیواروں پر ٹوٹی ہوئی جالیاں، زمین پر بکھرے ہوئے مٹی کے برتن، اور کونوں میں لٹکتے مکڑیوں کے جال۔ تیل کے چند دیے دیواروں پر لٹک رہے تھے، جو خود بخود جل رہے تھے۔ “یہ دیے کس نے جلائے؟” شاہ زیب نے لرزتی آواز میں پوچھا۔ سلمان نے جواب دینے کے بجائے اپنی شمشیر نکالی اور آگے بڑھا۔
حویلی کے مرکزی ہال میں ایک بڑی سی تصویر لٹک رہی تھی، جس میں ایک عورت تھی۔ اس کی آنکھیں اتنی گہری تھیں کہ جیسے وہ ان تینوں کو گھور رہی ہو۔ “یہ کون ہے؟” ثمر نے پوچھا، لیکن اس سے پہلے کہ کوئی جواب دے، تصویر کی آنکھوں سے خون کے قطرے ٹپکنے لگے۔ تینوں ایک قدم پیچھے ہٹے۔ “یہ… یہ کیا ہے؟” شاہ زیب کی آواز کانپ رہی تھی۔ سلمان نے اپنی ہمت سمیٹی اور تصویر کے قریب گیا۔ اس نے دیکھا کہ تصویر کے نیچے ایک نام کندہ تھا: “شہناز بیگم۔”
اسی لمحے، ایک دھیمی چیخ حویلی کے اندر سے گونجی۔ یہ آواز اتنی دل دہلا دینے والی تھی کہ ثمر کی شمشیر اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ “یہ کیا تھا؟” اس نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔ سلمان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آواز کی سمت بڑھا۔ وہ ایک لمبے، تاریک راہداری میں داخل ہوئے، جہاں دیواروں پر عجیب سے طلسمات کندہ تھے۔ جیسے ہی وہ آگے بڑھے، دیواروں سے خون کے دھبے رِسنے لگے، جیسے کوئی زخمی جسم دیواروں کے اندر دھڑک رہا ہو۔
“سلمان، ہمیں یہاں سے جانا چاہیے!” شاہ زیب نے کہا، لیکن سلمان نے اسے روکا۔ “ہم اپنا کام چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔” وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے جہاں ایک پرانا آئینہ دیوار پر لٹک رہا تھا۔ آئینے میں ان کی عکاسی کے بجائے ایک عورت کا سایہ نظر آیا، جس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا تھا اور آنکھیں خون سے لال تھیں۔ ثمر چیخا، “یہ کیا ہے؟” لیکن اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کرتا، آئینہ لرزنے لگا، اور اس سے ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نکلا جو دیوں کو بجھا گیا۔
اندھیرے میں، ایک ہاتھ نے ثمر کے کندھے کو پکڑا۔ وہ چیخا، لیکن اس کی آواز فوراً دب گئی۔ جب سلمان نے اپنا دیا دوبارہ جلایا، ثمر غائب تھا۔ “ثمر!” سلمان نے چیخ کر اسے پکارا، لیکن صرف اس کی گونج واپس آئی۔ شاہ زیب گھبرا کر دروازے کی طرف بھاگا، لیکن دروازہ خود بخود بند ہو چکا تھا۔ “ہم پھنس گئے!” اس نے دہشت زدہ آواز میں کہا۔
اسی رات، گاؤں میں فردوس اپنے گھر کے باہر سلمان کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ دونوں خفیہ طور پر ملنے والے تھے، لیکن سلمان نہیں آیا۔ فردوس نے حویلی کی طرف دیکھا، جہاں سے ایک عجیب سی روشنی نکل رہی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود حویلی جائے گی۔ جیسے ہی وہ جنگل کے راستے پر چلی، اسے ایک پراسرار لڑکی نظر آئی جو حویلی کے قریب کھڑی تھی۔ لڑکی کی آنکھیں خالی تھیں، اور اس کے ہاتھ میں ایک پرانا تعویذ تھا۔ “تم کون ہو؟” فردوس نے پوچھا، لیکن لڑکی خاموشی سے جنگل میں غائب ہو گئی۔
دوسری طرف، سلمان اور شاہ زیب حویلی کے اندر ثمر کو ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ ایک تہہ خانے میں پہنچے، جہاں زمین پر خون سے بنا ایک دائرہ تھا۔ دائرے کے بیچ میں ایک پرانی کتاب پڑی تھی، جس کے صفحات پر عجیب زبان میں لکھے طلسمات تھے۔ سلمان نے کتاب کھولی تو اس کے صفحات خود بخود پلٹنے لگے، اور ایک آواز گونجی: “لعنت… خون مانگتی ہے…” سلمان نے کتاب بند کی، لیکن اس کے ہاتھ پر خون کے دھبے لگ چکے تھے۔
اسی لمحے، ناہید گاؤں سے حویلی کی طرف بھاگی چلی آئی۔ وہ ایک حکیمہ تھی اور گاؤں والوں سے سن چکی تھی کہ سلمان حویلی گیا ہے۔ وہ حویلی کے دروازے پر پہنچی اور چیخی، “سلمان! باہر نکلو!” لیکن اس کی آواز اندر تک نہیں پہنچی۔ ناہید نے دروازے پر ہاتھ رکھا، اور اسے لگا جیسے کوئی اسے اندر کھینچ رہا ہو۔ اس نے اپنی جھاڑ پھونک کی کتاب نکالی اور ایک دعا پڑھنی شروع کی، لیکن ہوا میں ایک خوفناک ہنسی گونجی۔
حویلی کے اندر، سلمان اور شاہ زیب ایک اور کمرے میں پہنچے جہاں دیواروں پر شہناز بیگم کے خطوط کندہ تھے۔ خطوط میں لکھا تھا کہ شہناز کو ایک کالے جادوگر نے لعنت دی تھی کیونکہ اس نے اس کی محبت ٹھکرائی تھی۔ لعنت ہر پورنیما کو خون مانگتی ہے، اور اب اس کا اگلا شکار حویلی میں داخل ہونے والا کوئی ہوگا۔ سلمان نے شاہ زیب کی طرف دیکھا، جو اب پسینے میں شرابور تھا۔ “تم کچھ چھپا رہے ہو، شاہ زیب!” سلمان نے سخت لہجے میں کہا۔ شاہ زیب نے نظریں جھکائیں، لیکن کچھ کہنے سے پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا، اور کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔
اندھیرے میں، ایک خون آلودہ ہاتھ دیوار سے نکلا اور سلمان کے گلے کی طرف بڑھا۔ وہ پیچھے ہٹا، لیکن اس کے پاؤں زمین سے چپک گئے جیسے کوئی غیر مرئی قوت اسے روک رہی ہو۔ شاہ زیب چیخا اور دروازے کی طرف بھاگا، لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ اسی لمحے، ایک عورت کی چیخ دوبارہ گونجی، اور آئینے میں شہناز کا سایہ دوبارہ نظر آیا۔ اس بار اس کا نقاب ہٹ چکا تھا، اور اس کا چہرہ خوفناک تھا—آنکھیں خون سے بھری ہوئیں، اور منہ سے سیاہ دھواں نکل رہا تھا۔
باہر، فردوس حویلی کے دروازے تک پہنچ گئی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن اس سے ایک عجیب آواز نکلی، جیسے کوئی اندر سے ہنس رہا ہو۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ پراسرار لڑکی دوبارہ نظر آئی، جو اب اس کے قریب کھڑی تھی۔ لڑکی نے اپنا تعویذ فردوس کی طرف بڑھایا اور سرگوشی کی، “یہ لے لو… ورنہ لعنت تمہیں بھی نگل لے گی۔” فردوس نے تعویذ لیا، لیکن اس کے ہاتھ جلنے لگے، اور وہ چیخ کر بے ہوش ہو گئی۔
حویلی کے اندر، سلمان نے اپنی شمشیر سے دیوار پر وار کیا، لیکن خون آلودہ ہاتھ غائب ہو گیا۔ وہ اور شاہ زیب ایک اور راہداری میں بھاگے، جہاں انہیں ثمر کی چیخیں سنائی دیں۔ وہ ایک کمرے میں پہنچے جہاں ثمر زمین پر پڑا تھا، اس کا چہرہ زرد اور آنکھیں خالی۔ “ثمر!” سلمان نے اسے ہلایا، لیکن ثمر نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے جسم پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کوئی طلسم اس پر کندہ کیا گیا ہو۔ شاہ زیب نے گھبراتے ہوئے کہا، “یہ لعنت ہے… ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا!” لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے، کمرے کا دروازہ زور سے بند ہوا، اور ایک خوفناک آواز گونجی: “تم سب میری لعنت کا حصہ بنو گے۔”
اندھیرا حویلی کے ہر کونے میں پھیل چکا تھا، جیسے کوئی زندہ سایہ دیواروں سے لپٹ رہا ہو۔ سلمان نے اپنی تلوار مضبوطی سے پکڑی اور شاہ زیب کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ “ہوش میں آؤ، شاہ زیب! ہمیں ثمر کو بچانا ہے!” اس کی آواز میں عزم تھا، لیکن دل میں ایک عجیب سا خوف انگڑائیاں لے رہا تھا۔ ثمر ابھی تک زمین پر پڑا تھا، اس کے جسم پر کندہ طلسماتی نشانات اب سرخ ہو کر چمک رہے تھے، جیسے کوئی غیر مرئی قوت اسے اپنی گرفت میں لے رہی ہو۔
شاہ زیب کی سانس تیز تھی۔ “سلمان، میں نے تمہیں بتایا تھا… یہ جگہ شاپیت ہے! یہ شہناز بیگم کی روح ہے، وہ ہر اس شخص کو اپنا شکار بناتی ہے جو یہاں آتا ہے!” اس کی آواز میں دہشت کے ساتھ کچھ راز بھی چھپا تھا۔ سلمان نے اس کی بات پر غور کیا، لیکن اس کا دھیان ثمر کی طرف تھا۔ اس نے اپنے کزن کے چہرے پر ہاتھ رکھا، جو اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ “ثمر، اٹھو!” اس نے زور سے پکارا، لیکن ثمر کی آنکھیں ابھی تک خالی تھیں، جیسے اس کی روح کہیں اور جا چکی ہو۔
اسی لمحے، کمرے کی دیواروں سے ایک عجیب سی آواز ابھری، جیسے کوئی زنجیریں کھڑک رہی ہوں۔ سلمان نے تلوار بلند کی اور شاہ زیب سے کہا، “تم کچھ جانتے ہو، شاہ زیب۔ اب بتاؤ، یہ سب کیا ہے؟” شاہ زیب نے نظریں جھکائیں، لیکن خاموشی توڑتے ہوئے بولا، “میں… میں اس حویلی کے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔ یہ شہناز بیگم کی کہانی ہے۔ وہ ایک مغلیہ شہزادی تھی، جسے اس کے عاشق، ایک کالے جادوگر نے قابو کیا تھا۔ اس نے اس کی محبت ٹھکرائی تو جادوگر نے اسے یہاں قید کر دیا۔ اس کا جسم مر چکا، لیکن اس کی روح ہر پورنیما کو خون مانگتی ہے۔”
سلمان نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ “تم یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا؟” شاہ زیب نے سر جھکایا۔ “میں ڈر گیا تھا… میری دادی اس حویلی میں کام کرتی تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ شہناز کی روح یہاں کے ہر شخص سے بدلہ لیتی ہے، کیونکہ اسے خیانت کا درد سہنا پڑا۔”
اسی دوران، باہر فردوس ہوش میں آئی۔ اس کے ہاتھ میں ابھی تک وہ پراسرار تعویذ تھا، جو اب گرم ہو رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں چاند بادلوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ اسے لگا جیسے کوئی اسے پکار رہا ہو۔ وہ اٹھی اور حویلی کے دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے اس نے تعویذ کو مضبوطی سے پکڑا اور ایک دعا پڑھنی شروع کی، جو اسے اس کی نانی نے سکھائی تھی۔ دروازہ اچانک کھل گیا، جیسے کوئی اسے اندر بلاتا ہو۔
حویلی کے اندر، سلمان اور شاہ زیب نے ثمر کو کندھوں پر اٹھایا اور کمرے سے نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن راہداری اب ایک سرنگ کی طرح لمبی ہوتی جا رہی تھی، جیسے حویلی خود انہیں گمراہ کر رہی ہو۔ دیواروں پر کندہ طلسمات اب چمک رہے تھے، اور ان سے ایک عجیب سی روشنی نکل رہی تھی جو ان کے چہروں پر عجیب سے سائے بناتی تھی۔ “یہ کیا جگہ ہے؟” شاہ زیب نے لرزتی آواز میں کہا۔ سلمان نے جواب دیا، “یہ کوئی معمولی حویلی نہیں۔ یہ ایک جال ہے۔”
وہ ایک اور کمرے میں پہنچے، جہاں ایک بڑا سا آئینہ دیوار پر لٹک رہا تھا۔ اس آئینے میں ان کی عکاسی کے بجائے ایک عجیب سا منظر دکھائی دے رہا تھا—ایک عورت، جس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا تھا، ایک تہہ خانے میں کھڑی تھی، اور اس کے ہاتھوں میں خون آلود خنجر تھا۔ سلمان نے آئینے کی طرف دیکھا اور اسے لگا جیسے وہ عورت اسے دیکھ رہی ہو۔ اس نے تلوار سے آئینے پر وار کیا، لیکن آئینہ ٹوٹنے کے بجائے ایک زوردار آواز کے ساتھ لرز اٹھا۔
اسی لمحے، فردوس حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے سلمان کی آواز سنی اور اس کی طرف بھاگی۔ لیکن جیسے ہی وہ مرکزی ہال میں پہنچی، اسے وہ پراسرار لڑکی دوبارہ نظر آئی، جو اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔ لڑکی نے اپنا نقاب ہٹایا، اور اس کا چہرہ شہناز بیگم سے ملتا جلتا تھا، لیکن اس کی آنکھیں خالی تھیں۔ “تم کیوں آئیں؟” لڑکی نے سرگوشی کی۔ فردوس نے تعویذ بلند کیا اور کہا، “میں اپنے سلمان کو بچانے آئی ہوں!” لڑکی ہنسی اور غائب ہو گئی، لیکن اس کی ہنسی ہال میں گونجتی رہی۔
دوسری طرف، ناہید بھی حویلی کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اس نے اپنی جھاڑ پھونک کی کتاب سے ایک طلسماتی دائرہ بنایا اور دعائیں پڑھنا شروع کیں۔ اسے لگا جیسے حویلی کی دیواریں اس کی دعاؤں سے لرز رہی ہیں۔ اس نے ایک پرانا تعویذ نکالا، جو اس کی استاد نے اسے دیا تھا، اور اسے حویلی کے دروازے پر لگایا۔ دروازہ کھلا، اور وہ اندر داخل ہوئی۔
سلمان اور شاہ زیب اب ایک تہہ خانے میں تھے، جہاں زمین پر خون سے بنا وہ دائرہ ابھی تک موجود تھا۔ ثمر کی حالت اب بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے جسم پر نشانات اب گہرے ہو چکے تھے، اور اس کی سانس کمزور پڑ رہی تھی۔ سلمان نے کتاب دوبارہ کھولی، اور اس بار اس کے صفحات پر ایک نیا جملہ ابھرا: “خون کا قرض خون سے چُکتا ہے۔” سلمان نے شاہ زیب کی طرف دیکھا۔ “یہ کیا مطلب ہے؟” شاہ زیب نے گھبراتے ہوئے کہا، “یہ… یہ شہناز کی روح کا مطالبہ ہے۔ اسے خون چاہیے، ورنہ ہم سب مر جائیں گے۔”
اسی لمحے، فردوس تہہ خانے میں پہنچی۔ اس نے سلمان کو دیکھا اور اس کی طرف بھاگی۔ “سلمان!” اس نے پکارا۔ سلمان نے اسے دیکھ کر حیرت سے کہا، “فردوس، تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” فردوس نے تعویذ اس کی طرف بڑھایا۔ “یہ لے لو، اس سے ہمیں بچاؤ مل سکتا ہے!” لیکن جیسے ہی سلمان نے تعویذ کو چھوا، اس کے ہاتھ سے خون بہنے لگا۔ اس نے چیخ کر تعویذ چھوڑ دیا، اور زمین پر ایک عجیب سا نشان بن گیا۔
ناہید بھی اب تہہ خانے میں داخل ہوئی۔ اس نے دائرے کو دیکھا اور فوراً اپنی کتاب کھولی۔ “یہ طلسم ہے!” اس نے کہا۔ “شہناز کی روح کو آزاد کرنے کے لیے ہمیں اس دائرے کو توڑنا ہوگا۔” اس نے ایک دعا پڑھنی شروع کی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ مکمل کرتی، حویلی کی دیواریں زور سے لرزیں، اور ایک خوفناک آواز گونجی: “تم سب میری قید سے نہیں نکل سکتے!”
اسی لمحے، شاہ زیب نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی،اس نے سلمان کی طرف دیکھا اور کہا، “یہ میری دادی کی آخری نشانی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ یہ شہناز کی روح کو روک سکتی ہے۔” لیکن اس سے پہلے کہ وہ شیشی کھولتا، ایک غیر مرئی قوت نے اسے اس کے ہاتھ سے چھین لیا، اور شیشی زمین پر گر کر ٹوٹ گئی۔ سرخ مائع زمین پر پھیل گیا، اور اس سے ایک عجیب سی بدبو اٹھی۔
فردوس نے چیخ کر کہا، “یہ کیا تھا؟” شاہ زیب نے گھبراتے ہوئے کہا، “یہ… یہ شہناز کا خون تھا۔ میری دادی نے اسے چھپایا تھا تاکہ اس کی روح کو کنٹرول کیا جا سکے۔” سلمان نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ “تم نے یہ سب جانتے ہوئے ہمیں یہاں آنے دیا؟” شاہ زیب نے سر جھکایا۔ “میں نے سوچا تھا کہ یہ بس کہانیاں ہیں…”
اسی دوران، تہہ خانے کا دروازہ زور سے کھلا، اور وہ پراسرار لڑکی دوبارہ نظر آئی۔ اس بار اس کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا، جو خون سے تر تھا۔ اس نے سلمان کی طرف دیکھا اور کہا، “تم نے میری قید توڑنے کی کوشش کی… اب تم سب کا خون میرا ہوگا۔” لیکن اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتی، ناہید نے اپنا تعویذ بلند کیا اور ایک زوردار آواز میں دعا پڑھی۔ لڑکی چیخی اور غائب ہو گئی، لیکن اس کی آواز ابھی تک گونج رہی تھی: “یہ ختم نہیں ہوا…”
تہہ خانے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ سلمان نے ثمر کو اٹھایا اور کہا، “ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا، ابھی!” لیکن جیسے ہی وہ دروازے کی طرف بڑھے، انہیں احساس ہوا کہ حویلی کے دروازے اب کھل نہیں رہے تھے۔ ناہید نے کہا، “یہ طلسم ابھی تک مکمل ہے۔ ہمیں شہناز کی روح کو روکنے کے لیے اس کے اصل تعویذ کو ڈھونڈنا ہوگا۔”
فردوس نے اپنے تعویذ کی طرف دیکھا، جو اب چمک رہا تھا۔ اس نے کہا، “شاید یہ وہی تعویذ ہے۔ لیکن اسے استعمال کرنے کا طریقہ کیا ہے؟” ناہید نے کتاب کھولی اور کہا، “ہمیں اسے اس دائرے کے بیچ میں رکھنا ہوگا، لیکن اس کے لیے ایک قربانی درکار ہے…”
اسی لمحے، حویلی کی دیواروں سے خون دوبارہ رِسنے لگا، اور ایک نئی آواز گونجی، جو نہ شہناز کی تھی اور نہ ہی اس پراسرار لڑکی کی۔ یہ ایک مرد کی آواز تھی، جو کہہ رہی تھی: “تم سب نے میری حویلی میں قدم رکھا… اب تم میری مرضی کے بغیر نہیں نکل سکتے۔”
سلمان، فردوس، ناہید، اور شاہ زیب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ثمر کی سانس اب تقریباً بند ہو چکی تھی۔ حویلی کے اندر ایک نیا راز کھلنے والا تھا، اور اس راز کا تعلق نہ صرف شہناز سے تھا، بلکہ اس کالے جادوگر سے بھی تھا، جس کی روح شاید ابھی تک حویلی میں موجود تھی۔
فردوس کے ہاتھ میں موجود تعویذ کی چمک ایک امید کی کرن کی طرح جگمگا رہی تھی۔ سلمان نے ثمر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، جو ابھی تک بے ہوش تھا، اس کے جسم پر کندہ طلسماتی نشانات اب دھندلے پڑ رہے تھے، لیکن اس کی سانس اب بھی کمزور تھی۔ ناہید اپنی جھاڑ پھونک کی کتاب ہاتھ میں لیے دعائیں پڑھ رہی تھی، جبکہ شاہ زیب خوف سے دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔ اس پراسرار مرد کی آواز، جو ابھی تک حویلی میں گونج رہی تھی، سب کے دل میں دہشت بھر رہی تھی۔
“یہ کون تھا؟” فردوس نے ناہید سے پوچھا، اس کی آواز میں گھبراہٹ اور عزم دونوں جھلک رہے تھے۔ ناہید نے کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے کہا، “یہ شہناز کا عاشق، وہ کالا جادوگر ہو سکتا ہے۔ اس کی روح شاید اس حویلی میں ابھی تک قید ہے، اور وہ شہناز کی روح کو کنٹرول کر رہا ہے۔”
سلمان نے غصے سے کہا، “ہمیں اس تعویذ کو استعمال کرنا ہوگا، لیکن کیسی قربانی؟” ناہید نے ایک گہری سانس لی اور کہا، “اس طلسم کو توڑنے کے لیے خون کی ضرورت ہے… لیکن یہ خون اس کا ہونا چاہیے جو اس حویلی سے جڑا ہو۔” سب کی نظریں شاہ زیب کی طرف اٹھیں، جو اب پسینے میں شرابور تھا۔
“تم!” سلمان نے شاہ زیب کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ “تم نے کہا تھا کہ تمہاری دادی یہاں کام کرتی تھی۔ تم اس حویلی سے جڑے ہو!” شاہ زیب نے گھبراتے ہوئے پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن دیوار نے اسے روک لیا۔ “نہیں… میں… میں نہیں جانتا!” اس نے ہکلاتے ہوئے کہا، لیکن اس کی آنکھوں میں راز کی چمک واضح تھی۔
اسی لمحے، تہہ خانے کی دیواروں سے خون دوبارہ رِسنے لگا، اور وہ پراسرار مرد کی آواز دوبارہ گونجی: “تم میری حویلی سے نہیں نکل سکتے… یہ میری قید ہے!” ہوا میں ایک ٹھنڈک پھیل گئی، اور زمین پر موجود خون کا دائرہ اب چمکنے لگا۔ فردوس نے تعویذ کو مضبوطی سے پکڑا اور دائرے کے بیچ میں رکھ دیا۔ “یہ اب ختم ہونا چاہیے!” اس نے زور سے کہا۔
ناہید نے اپنی دعا تیز کی، اور اس کی آواز حویلی کے کونوں میں گونجنے لگی۔ تعویذ سے ایک سفید روشنی نکلنے لگی، جو دائرے کو گھیر رہی تھی۔ لیکن اچانک، وہ پراسرار لڑکی دوبارہ ظاہر ہوئی، اس کے ہاتھ میں وہی خون آلود خنجر تھا۔ اس نے سلمان کی طرف بڑھنا چاہا، لیکن فردوس نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر تعویذ بلند کیا۔ “تمہاری قید اب ختم!” فردوس نے چیخ کر کہا۔
لڑکی کے چہرے سے نقاب گرا، اور اس کا اصلی روپ سامنے آیا—شہناز بیگم، جس کی آنکھیں اب غم سے بھری تھیں۔ “میں قید ہوں…” اس نے سرگوشی کی۔ “اس نے مجھے قید کیا… اس جادوگر نے…” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، ایک سیاہ سایہ تہہ خانے میں نمودار ہوا۔ یہ ایک لمبا، خوفناک مرد تھا، جس کی آنکھیں کوئلوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ “تم نے میری طاقت کو چیلنج کیا!” اس نے گرج کر کہا۔
ناہید نے اپنی دعا جاری رکھی، اور تعویذ کی روشنی اب اتنی تیز ہو گئی کہ سارا تہہ خانہ جگمگا اٹھا۔ شاہ زیب اچانک آگے بڑھا اور کہا، “یہ میری ذمہ داری ہے!” اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا خنجر نکالا اور اپنی ہتھیلی پر وار کیا۔ اس کا خون دائرے میں گرا، اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ سیاہ سایہ چیخا اور دھوئیں میں تبدیل ہو کر غائب ہو گیا۔ شہناز کی روح نے ایک آخری چیخ ماری، اور اس کا سایہ بھی روشنی میں تحلیل ہو گیا۔
حویلی کی دیواریں لرزنا بند ہو گئیں، اور خون کے دھبے غائب ہو گئے۔ تعویذ اب خاموش تھا، لیکن اس کی چمک اب بھی موجود تھی۔ ثمر نے اچانک سانس لی اور ہوش میں آیا۔ “بھائی… یہ کیا تھا؟” اس نے کمزور آواز میں پوچھا۔ سلمان نے اسے گلے لگایا اور کہا، “اب سب ختم ہو گیا۔”
ناہید نے کتاب بند کی اور کہا، “شہناز کی روح آزاد ہو چکی ہے۔ جادوگر کی قید ٹوٹ گئی، کیونکہ شاہ زیب کا خون اس حویلی سے جڑا تھا۔ اس کی دادی نے شہناز کی خدمت کی تھی، اور اسی وجہ سے اس کا خون طلسم توڑنے کے لیے کافی تھا۔” شاہ زیب نے شرمندگی سے سر جھکایا۔ “میں نے سب کو خطرے میں ڈالا… لیکن میں ڈر گیا تھا۔”
فردوس نے سلمان کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “ہم سب نے مل کر یہ کیا۔ اب یہ حویلی شاپیت نہیں رہی۔” وہ سب تہہ خانے سے نکلے اور حویلی کے مرکزی دروازے تک پہنچے۔ دروازہ اب آسانی سے کھل گیا، اور باہر چاندنی رات اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔
گاؤں واپس پہنچ کر، انہوں نے گاؤں والوں کو ساری کہانی سنائی۔ حویلی اب ایک عام عمارت تھی، جس کی دیواروں سے خوف کی بدبو غائب ہو چکی تھی۔ سلمان اور فردوس نے فیصلہ کیا کہ وہ جلد ہی اپنی محبت کو رشتے میں بدلیں گے۔ ثمر نے اپنی لاپرواہی پر سب سے معافی مانگی، اور شاہ زیب نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی دادی کے رازوں کو اب کبھی نہیں چھپائے گا۔ ناہید نے اپنی کتاب بند کی اور کہا، “یہ تعویذ اب میری امانت ہے۔ شاید کسی اور جگہ اس کی ضرورت پڑے۔”
حویلی اب خاموش تھی۔ اس کے جالی دار کھڑکیوں سے گزرنے والی ہوا اب سرگوشیاں نہیں، بلکہ سکون کی آواز لاتی تھی۔ گاؤں والوں نے حویلی کو ایک یادگار کے طور پر محفوظ کر لیا، اور اسے ایک ایسی جگہ بنا دیا جہاں لوگ تاریخ سے سیکھتے تھے، نہ کہ خوف سے بھاگتے تھے۔
👍ختم شد 👍