پورے گاؤں میں شور مچ گیا کہ چوہدری غلام رسول کے منڈے جیلے سے قتل ہو گیا ہے۔ویسے تو ایسی خبریں گاؤں والوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھیں۔ آئے دن یہی سننے کو ملتا تھا کہ جیلے نے اپنے اوباش اور مسٹنڈے یاروں کے ساتھ مل کر کسی سے لڑائی جھگڑا کر لیا، شراب کے نشے میں غل غپاڑہ مچا دیا، یا پھر گاؤں کے کسی غریب کمی کمین کی دھی بہن کے ساتھ زور زبردستی کی کوشش کی۔ ایسے واقعات اب روزمرہ کا معمول بن چکے تھے۔
چوہدری غلام رسول پورے پچیس مربع زمین کا مالک تھا۔ پچھلی کئی دہائیوں سے گاؤں کا چیئرمین بھی چلا آ رہا تھا۔ گاؤں کی سیاست، تھانے کچہری، سرکاری محکموں کے گٹھ جوڑ اور ہر قسم کے داؤ پیچ میں اسے خاص مہارت حاصل تھی۔ اس کی مرضی کے بغیر گاؤں میں شاید ہی کوئی بڑا فیصلہ ہوتا۔ جیلا اس کی اکلوتی اولاد تھا، اسی لیے ساری زمین، جائیداد اور اثر و رسوخ کا واحد وارث بھی وہی تھا۔ چوہدری نے اسے بچپن ہی سے کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ وہ جو چاہتا کرتا، کسی کو اس سے سوال کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ اگر کبھی اس کی کسی زیادتی پر معاملہ ذرا بڑھ بھی جاتا تو چوہدری اپنے اثر و رسوخ، دولت اور تعلقات کے زور پر چند ہی دنوں میں سب کچھ دبا دیتا۔لیکن بات کبھی قتل تک نہیں پہنچی تھی۔
اگر مقتول کسی غریب کمی کمین کا منڈا یا کڑی ہوتی تو چوہدری شاید اسے بھی چند دنوں میں رفع دفع کروا دیتا۔ نہ کوئی بڑا شور اٹھتا، نہ گاؤں میں زیادہ رولا شولا پڑتا، اور نہ ہی کسی کی ہمت ہوتی کہ چوہدری کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ مگر اس بار ٹکر برابر کی تھی۔ کیونکہ قتل ہونے والا نذیر پٹواری کا بڑا منڈا تھا۔ نذیرے پٹواری نے بھی ساری عمر پٹواری کے عہدے سے اَنّی واہ مال بنایا تھا۔ سرکاری محکموں میں لین دین، سفارش، کاغذی ہیر پھیر اور رشوت کے سارے گُر اسے ازبر تھے۔ یہی کام کرتے کرتے اس نے بھی خاصی دولت اور تعلقات بنا لیے تھے۔ اس کے دو بیٹے تھے، مگر چھوٹا ابھی جوان نہیں ہوا تھا۔ قتل بڑے لڑکے کا ہوا تھا۔
اصل کہانی ایک کمہاری کی کڑی سے شروع ہوئی۔ جیلے اور پٹواری کے منڈے، دونوں کو اسی لڑکی سے وہ والا پیار ہو گیا تھا جو ایسے آوارہ لڑکوں کو اکثر نشے کی حالت میں ہو جاتا ہے۔ محبت کم اور ضد زیادہ تھی۔ دونوں ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے تھے۔
اسی ضد نے پہلے تلخ کلامی، پھر ہاتھا پائی اور آخرکار خونی جھگڑے کی شکل اختیار کر لی۔ غصے اور نشے کے عالم میں جیلے کے ہاتھ سے دونالی چل گئی، اور پٹواری کا بڑا منڈا موقع پر ہی ڈھیر ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس جھگڑے سے پہلے دونوں جگری یار تھے۔ گاؤں کی ہر برائی، ہر اوباشی اور ہر شرارت اکٹھے مل کر بڑے سلوک اور اتفاق سے کیا کرتے تھے۔ مگر ایک لڑکی نے ایسی دشمنی ڈلوائی کہ دوستی خون میں نہا گئی۔
گاؤں کی تاریخ میں یہ پہلا قتل تھا، اس لیے خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ ہی دیر میں لوگ گاؤں کے چوک میں پانی کی ڈِگی کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو گروپ بن گئے۔ ایک گروپ چوہدری کی حویلی کے نکڑ پر کھڑا تھا، جبکہ دوسرا پٹواری کی کوٹھی کے سامنے جمع ہو گیا۔ میرا ابا بھی چوہدری والے گروپ میں کھڑا تھا۔ ایک تو چوہدری نے میرے بڑے بھائی کا ویزا لگوا کر اسے دبئی بھجوایا تھا، دوسرا ہماری برادری بھی ایک ہی تھی، اس لیے ابا کا جھکاؤ فطری طور پر چوہدری کی طرف تھا۔
اتنے میں پولیس کے دو ڈالے آ کر پٹواری کے گیٹ کے سامنے رکے۔ اگلے ڈالے میں بڑا تھانیدار خود بیٹھا تھا۔ پٹواری کے ساتھ کھڑے سارے لوگ دوڑ کر پولیس کی گاڑیوں کے گرد جمع ہو گئے۔ تھانیدار گاڑی سے اترا، محرر کو آواز دی اور سیدھا پٹواری کے گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ اسی دوران پٹواری خود باہر نکلا۔ جونہی اس کی نظر تھانیدار پر پڑی، وہ اس کے گلے لگ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تھانیدار نے بھی افسوس کا اظہار کیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:
“حوصلہ کر پٹواری… تیرے ساتھ پورا انصاف ہوگا۔”
پٹواری تھانیدار کو اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد دونوں باہر نکلے۔ اس بار محرر کے ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپنگ بیگ تھا۔ بیگ اس قدر بھرا ہوا تھا کہ اندر رکھی نوٹوں کی گڈیاں اس کے کپڑے سے صاف ابھری ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر اردگرد کھڑے لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے، مگر کسی نے زبان نہ کھولی۔ چند لمحوں بعد پولیس والے دوبارہ گاڑیوں میں بیٹھے اور سیدھا چوہدری غلام رسول کی حویلی کی طرف روانہ ہو گئے۔
××××
چوہدری غلام رسول اپنی حویلی کے بڑے پھاٹک پر کھڑا بے چینی سے تھانیدار کا انتظار کر رہا تھا۔ جونہی پولیس کی گاڑی حویلی کے سامنے آ کر رکی، وہ آگے بڑھا، مسکراتے ہوئے تھانیدار سے ہاتھ ملایا اور بڑے احترام سے اسے اندر لے گیا۔ حویلی میں پہلے ہی تھانیدار اور اس کے پورے عملے کے لیے پُرتکلف کھانے کا انتظام کیا جا چکا تھا۔ مرغ مسلم، کڑاہی، پلاؤ اور طرح طرح کے دیسی پکوان دیکھ کر پولیس والے خوب ٹُن کے کھانے لگے۔ کھانے کے بعد چوہدری نے خاموشی سے نوٹوں سے بھرا ایک بڑا بیگ تھانیدار کی خدمت میں پیش کیا۔ تھانیدار نے بیگ کی زپ کھول کر اندر جھانکا تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دوڑ گئی۔ اس نے فوراً بیگ بند کیا، جیلے کو ہتھکڑی لگوائی اور ساتھ لے کر باہر آ گیا۔ گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے بیگ گاڑی میں رکھوایا، پھر چوہدری کے قریب آ کر اس کے کان میں دھیرے سے کچھ کہا اور آخر میں اتنا بولا،”چوہدری… توں بس گھبراؤنا نئیں۔” یہ الفاظ سنتے ہی، جو چوہدری کچھ دیر پہلے تک پریشانی سے نڈھال دکھائی دے رہا تھا، اس کے چہرے پر اطمینان کی ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ پولیس جیلے کو لے کر شہر کے تھانے روانہ ہو گئی، جبکہ چوہدری نے فوراً گاؤں کے نائی رحمت کو آواز دے کر پچیس تیس آدمیوں کے لیے بکرے کا گوشت بھوننے کا حکم دے دیا، جیسے اسے یقین ہو چکا ہو کہ معاملہ اب اس کے قابو میں آ جائے گا۔
شام ڈھلے بھنے ہوئے بکرے کی دیگ چوہدری کی لینڈ کروزر میں رکھی گئی اور وہ میرے ابا کو ساتھ لے کر شہر کے تھانے جا پہنچا۔ میرا ابا چونکہ چوہدری کا خاص آدمی تھا، اس لیے ایسے ہر اہم موقع پر اس کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ ادھر تھانے کا پورا عملہ، حتیٰ کہ بڑا تھانیدار بھی، اسی دیگ کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ دیگ کا ڈھکن کھلتے ہی سب کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے کئی دنوں سے بھوکے ہوں۔ کھانے کے بعد بڑا تھانیدار، چوہدری اور میرے ابا کو اپنے دفتر میں لے گیا۔ کافی دیر تک بند کمرے میں باتیں ہوتی رہیں۔ پھر اچانک اندر سے قہقہوں کی آوازیں آنے لگیں۔ جب دروازہ کھلا تو چوہدری کے چہرے پر وہ پریشانی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی جو صبح سے اس کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ بلکہ وہ اس قدر خوش تھا کہ اپنی کلائی سے بندھی قیمتی راڈو گھڑی اتار کر بھی تھانیدار کی خدمت میں پیش کر دی۔ اس کے بعد دونوں نے حوالات میں جا کر جیلے سے ملاقات کی، اسے دلاسہ دیا، حوصلہ بندھایا اور رات گئے میرے ابا اور چوہدری واپس گاؤں لوٹ آئے۔
اب شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ آخرمیں کون ہوں، اور یہ سارا واقعہ آپ کو کیوں سنا رہا ہوں؟میرا اس کہانی سے کیا تعلق ہے؟ میرا نام بشیر ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ میری اصل کہانی اسی رات شروع ہوئی، جب تھانیدار، چوہدری اور میرے ابا کے درمیان وہ خفیہ ملاقات ہوئی۔ اگلے دن دوپہر کے کھانے کی دعوت چوہدری کی حویلی میں ہمارے نام تھی۔ میں، میری دونوں چھوٹی بہنیں، امی اور ابا نئے کپڑے پہن کر حویلی پہنچے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے پہنچتے ہی چوہدری اور چوہدرانی خود دوڑتے ہوئے پھاٹک تک استقبال کے لیے آئے۔ ان کی گرمجوشی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا ابا نہیں بلکہ علاقے کا کوئی نیا ڈپٹی کمشنر ان کے گھر آیا ہو۔ چوہدرانی نے آگے بڑھ کر مجھے سینے سے لگا لیا، بار بار میرا ماتھا چوما اور پیار سے بولی، “ہائے میرا پتر!” اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چند لمحوں کے لیے اپنی حقیقی ماں کی مامتا بھی بھول گیا ہوں۔ پھر وہ دونوں ہمارے دائیں بائیں چلتے ہوئے ہمیں حویلی کے خاص وی آئی پی کمرے میں لے گئے، انتہائی عزت و احترام سے دسترخوان پر بٹھایا، اور جب تک ہم آرام سے نہ بیٹھ گئے، خود کھڑے رہے۔ میں اپنی اس غیر معمولی عزت افزائی پر حیران تھا۔ میرے ذہن میں بار بار یہی سوال اٹھ رہا تھا کہ آخر چوہدری اور چوہدرانی میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ پھر اچانک ایک خیال میرے دل میں آیا… اور اس خیال نے چند لمحوں کے لیے میرے دل کو خوشی سے بھر دیا۔
میں دل ہی دل میں حساب کتاب لگانے لگا۔ جیلے نے قتل کیا تھا، سب لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ اب اسے پھانسی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ چوہدری کی اکلوتی اولاد بھی وہی تھا، اس کے بعد اتنی بڑی زمین، جائیداد اور رعب و دبدبے کا کوئی وارث باقی نہیں رہنا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا کہ شاید چوہدری مجھے اپنا بیٹا بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہی سوچ کر میں نے پہلی بار چوہدری اور چوہدرانی کو اپنے ہونے والے ابا اور امی کی نظر سے دیکھا تو دل خوشی سے بھر گیا۔ میں بے اختیار سینہ تان کر ذرا اور چوڑا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے اس حویلی، اس زمین اور اس شان و شوکت پر اب میرا بھی حق بننے والا ہو۔ اتنے میں چوہدری نے اپنے ہاتھ سے سالن کا ڈونگا کھولا، بہترین بوٹیاں نکال کر میری اور میرے ابا کی پلیٹ میں ڈالیں، جبکہ چوہدرانی نے دوسرے ڈونگے سے امی اور میری دونوں بہنوں کی پلیٹیں بھر دیں۔ ہم سب کھانا کھانے لگے تو چوہدری نے بات شروع کی۔ اس نے میرے ابا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “کرم دین! تمہیں تو معلوم ہی ہے، میں نے ہمیشہ تمہارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھا ہے۔ آج میں نے تم سب کو اس لیے بلایا ہے کہ آج سے تمہاری دونوں بیٹیوں کی شادی تک کی ساری ذمہ داری میری۔” یہ کہتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ فخر سے اوپر اٹھائے اور اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ میرے امی ابا کی طرف دیکھا۔ میرے والدین خوشی سے دمک اٹھے، دونوں بہنیں “بیاہ” کا لفظ سن کر شرما گئیں، اور میرا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ اب اگلا جملہ یہی ہوگا کہ وہ مجھے اپنا بیٹا بنانا چاہتا ہے۔ اسی خوشی میں میں نے ران کی ایک بڑی سی بوٹی اپنی پلیٹ میں ڈال لی اور مزے سے کھانے لگا۔
چوہدری نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا، “تیرا پتر وی مینوں میرے جیلے جتنا ہی پیارا اے۔” یہ سن کر میں ہلکا سا شرما گیا، مگر اگلا جملہ سنتے ہی میری دنیا اندھیر ہو گئی۔ چوہدری نے نہایت اطمینان سے کہا، “کرم دین، توں بالکل فکر نہ کر… میں تیرے پتر نوں پھانسی نہیں لگن دیندا۔” میرے ہاتھ سے ران کی بوٹی چھوٹ کر واپس پلیٹ میں جا گری۔ اس نے جیسے کوئی معمولی بات بتائی ہو، ویسے ہی آگے کہا، “بس تیرے پتر نے قتل اپنے ذمے لینا اے۔ تھانے وچ میری گل ہو چکی اے۔ جیلے نوں عزت نال رکھن گے، تے تیرے بشیر لئی شہر دا سب توں وڈا وکیل کراواں گا۔ وکیل سیدھا جج نوں سنبھال لے گا، چھ مہینے اندر تیرا پتر باہر ہووے گا۔” میں چوہدری کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے ذبح ہونے سے چند لمحے پہلے بکرا قصائی کو دیکھتا ہے۔ پھر میں نے کانپتی نظروں سے اپنے ابا کی طرف دیکھا، مگر وہ بڑے سکون سے بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے تھے، جیسے انہیں یہ ساری بات پہلے ہی معلوم ہو۔ میرے سامنے رکھا گوشت کا بھرا ہوا ڈونگا اب مجھے پھانسی کا پھندا دکھائی دے رہا تھا۔ میرے حلق سے ایک نوالہ بھی نیچے نہ اترا، بلکہ یوں محسوس ہونے لگا کہ ابھی کھایا ہوا سارا کھانا باہر آ جائے گا۔ چوہدری مسلسل میرے ابا کو سمجھا رہا تھا، “تمہیں تو معلوم ہی ہے، میں نے جیلے کو کتنے لاڈ پیار سے پالا ہے، وہ بیچارہ کہاں حوالات اور جیلوں کی خاک چھانے گا۔” اس وقت مجھے چوہدری انسان نہیں بلکہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا دکھائی دے رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ ایک زوردار مکا اس کی ناک پر مار کر پوچھوں، “او باگڑ بِلیا! کیا میں کوٹ لکھپت جیل میں پیدا ہوا ہوں؟ میری جان، جان نہیں؟” مگر غریب آدمی کی آواز ہمیشہ اس کی مجبوری سے ہار جاتی ہے۔ میرا ابا بک چکا تھا، اور اس سودے میں میری زندگی قیمت بن چکی تھی۔
امی نے بہت رو رو کر منتیں کیں، ہاتھ جوڑے، ترلے کیے، مگر کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔ اگلی صبح چوہدری مجھے اپنی لینڈ کروزر کی اگلی سیٹ پر بٹھا کر سیدھا تھانے لے گیا۔ وہاں تھانیدار نے مجھے پوری تربیت دی کہ عدالت میں کیا بیان دینا ہے، کیسے بولنا ہے اور کس بات سے انکار نہیں کرنا۔ پہلی ہی پیشی پر جیلا رہا ہو گیا اور میں حوالات کے اندر چلا گیا۔ شروع کے چند مہینوں تک چوہدری ہر ہفتے میرے ابا کو ساتھ لے کر ملاقات کے لیے آتا، میرا حوصلہ بڑھاتا اور ایک ہی بات دہراتا، “بس تُوں گھبرانا نئیں… جج نال گل چل رہی اے۔” پھر اس نے آنا کم کر دیا۔ اب وہ مہینے میں ایک آدھ بار آتا، جبکہ ہر ہفتے میرے ابا صرف اس کا یہی پیغام لے کر آتے،”بشیر! توں بس گھبرانا نئیں۔” وقت گزرتا گیا، مگر انصاف کہیں نظر نہ آیا۔ پھر وہ دن بھی آ گیا جب عدالت نے مجھے سزائے موت سنا دی۔ میرے ہاتھ پاؤں سن ہو گئے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور مجھے ہر طرف صرف موت ہی موت دکھائی دینے لگی۔ عدالت سے باہر نکلا تو چوہدری نے حسبِ معمول مجھے گلے لگا لیا اور بولا، “اس جج نوں پٹواری نے زیادہ ریٹ دے دِتا سی، پر فکر نہ کر۔ اسیں وڈی عدالت وچ اپیل کراں گے، اوتھے والے جج تک میری بڑی اچھی پہنچ اے… بس تُوں گھبرانا نئیں۔” اس لمحے میرے دل میں آیا کہ اس کے منہ پر چیخ کر کہوں، “ایک بار عدالت تمہیں پھانسی سنائے، پھر ذرا تُو بھی نہ گھبرا کے دکھا!” مگر میں خاموش رہا، کیونکہ میری آخری امید بھی وہی ظالم تھا جس نے مجھے اس انجام تک پہنچایا تھا۔ اس کی جھوٹی تسلیوں کے سہارے میں نے خود کو زندہ رکھا، مگر اپیلوں، تاریخوں اور عدالتوں کے چکر میں مزید تین سال گزر گئے۔
اب تو مجھے جیل بھی بری نہیں لگتی تھی۔ کم از کم اتنا سکون ضرور تھا کہ میں ابھی زندہ تھا۔ بیرک کی سلاخیں، قیدیوں کی آوازیں اور گنتی کی وہی روزمرہ زندگی اب مجھے اپنی سی محسوس ہونے لگی تھی، کیونکہ ان سب کے بعد بھی سانس تو چل رہی تھی۔ مگر ہر نئی پیشی مجھے دوبارہ موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتی۔ بڑی عدالت میں بھی دوسری پیشی پر وہی فیصلہ سنایا گیا؛ جج نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مجھے دوبارہ سزائے موت سنا دی۔ عدالت سے باہر نکلا تو حسبِ معمول چوہدری میرا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا، “پتر بشیر! میں بڑی سفارش کروا کے جج تک پہنچا تھا، مگر اوہ بڑا ایماندار نکلیا۔ صاف کہندا سی، ‘میں پٹواری توں رقم لے چکیا آں، ہُن تیرے توں پیسے نئیں لے سکدا۔’ پر تُوں گھبراؤنا نئیں، اس توں وی وڈی عدالت وچ جاواں گے، اُتھوں ضرور انصاف ملے گا۔” پہلی مرتبہ میں نے اپنے ابا کے چہرے پر بھی خوف اور بے بسی دیکھی، لیکن پھر بھی میرے دل میں ایک امید باقی تھی۔ میں سوچتا تھا کہ چوہدری چاہے کتنا ہی موقع پرست اور کمینہ کیوں نہ ہو، آخر میرے ابا سے اس کا برسوں کا تعلق ہے، ایک ہی برادری ہے، لوگوں میں عزت بھی رکھنی ہے، وہ کم از کم مجھے پھانسی سے ضرور بچا لے گا۔ مگر میری یہ امید بھی ٹوٹ گئی۔ کسی تجربہ کار وکیل نے چوہدری کو سمجھا دیا کہ مزید اپیل کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ میں خود عدالت میں قتل کا اعتراف کر چکا تھا، اس لیے بڑی عدالت سے بھی سزا تبدیل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ چوہدری نے میری جان بچانے کی آخری کوشش بھی نہ کی اور خاموشی سے مزید اپیل کرنے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔
پہلے سال میرا ابا باقاعدگی سے ملاقات کے لیے آتا رہا۔ ہر بار میرے سامنے کھڑا ہو کر پھوٹ پھوٹ کر روتا اور ایک ہی بات دہراتا، “پتر بشیر، مینوں معاف کر دے۔ میں چوہدری دیاں گلاں وچ آ گیا ساں۔ اس نے دس کِلے زمین میرے نام لگوا دی اور وعدہ کیتا سی کہ تینوں پھانسی نئیں ہون دیندا۔” میں صرف اتنا کہتا، “ابا! اب معاف کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟ میں نے تو آخر لٹک ہی جانا ہے۔ ہاں، ایک کام ضرور کرنا… جب گاؤں واپس جاؤ تو چوہدری سے میری طرف سے صرف ایک سوال پوچھ لینا کہ ‘اب میں تھوڑا گھبرا لواں؟'” اس کے بعد میں نے ابا کو ہر ہفتے آنے سے منع کر دیا۔ میں سمجھ چکا تھا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت مجھے نہیں بچا سکتی۔ میں نے اپنی توجہ آخرت کی تیاری کی طرف لگا دی۔ پانچوں وقت نماز پڑھنی شروع کر دی، قرآن مجید کی تلاوت معمول بن گئی، اور موت، قبر کی پہلی رات، عذابِ قبر اور آخرت کے بارے میں کتابیں پڑھنے لگا۔ ان سب کے باوجود دل میں ایک حسرت ہمیشہ چبھتی رہتی تھی کہ میں کنوارا ہی دنیا سے جا رہا ہوں۔ ابھی تو زندگی دیکھی ہی نہیں تھی، نہ گھر بسایا، نہ اولاد دیکھی، نہ جوانی کے خواب پورے ہوئے۔ امی اور ابا سال میں دو تین مرتبہ ملاقات کے لیے آ جاتے، پھر خاموشی سے واپس چلے جاتے۔ اسی طرح مزید چار سال گزر گئے۔ اب مجھے جیل میں پورے سات سال ہو چکے تھے کہ ایک دن خبر ملی، میری پھانسی کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔ صرف تین ماہ باقی تھے، اور اتفاق سے وہ دن جمعے کا مبارک دن تھا۔
دو ماہ اور گزر گئے۔ ایک دن وارڈن نے آ کر بتایا کہ میری ملاقات آئی ہے۔ میں ملاقات گاہ میں پہنچا تو سامنے گاؤں کے امام مسجد کھڑے تھے۔ انہیں دیکھ کر میرے دل میں عجیب سا خیال آیا کہ شاید چوہدری نے انہیں بھی یہی پیغام دینے بھیجا ہوگا، “بشیر پتر! اگے فرشتیاں نال وی گل ہو گئی اے… تُوں بس گھبراؤنا نئیں۔” مگر امام صاحب نے قریب آ کر ایسی خبر سنائی جس نے مجھے چند لمحوں کے لیے خاموش کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پٹواری کے چھوٹے بیٹے نے، جو ان سات برسوں میں جوان ہو چکا تھا، جیلے کو قتل کر دیا ہے۔ جیلے کی لاش گھر پہنچی تو اسے دیکھتے ہی چوہدری غلام رسول کو دل کا دورہ پڑا اور وہ بھی وہیں اللہ کو پیارا ہو گیا۔ امام صاحب بولے، “میں نے آج صبح ہی دونوں کا جنازہ پڑھایا ہے۔” میں نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، “تو کیا اب تم یہاں میرے جنازے کی بکنگ کرنے آئے ہو؟ میری پھانسی میں تو ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔” امام صاحب نے کہا، “نہیں، مجھے تیرے ابا نے صرف یہ خبر دینے کے لیے بھیجا ہے۔” میں نے آہ بھری اور کہا، “مولوی صاحب! افسوس ضرور ہوا ہے، مگر اس لیے نہیں کہ وہ دونوں مر گئے ہیں، بلکہ اس لیے کہ لگتا ہے اگلے جہان میں بھی انہی منحوس شکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔” امام صاحب چلے گئے۔ تین ہفتے اور گزر گئے، اب پھانسی میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ میں جائے نماز پر بیٹھا اللہ سے دعائیں مانگ رہا تھا کہ یا رب! کوئی ایسا معجزہ کر دے کہ دشمن ملک ہندوستان حملہ کر دے، میری جیل اس کے قبضے میں چلی جائے، یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ میری جان بچ جائے، کیونکہ اب مجھے اپنی رہائی کی کوئی اور امید نظر نہیں آتی تھی۔ اور اگر موت لکھی ہی جا چکی ہے تو بس اتنی دعا تھی کہ پھانسی کی تکلیف کم ہو، اللہ معاف فرما دے اور سیدھا جنت نصیب ہو، جہاں حوریں میرا انتظار کر رہی ہوں اور مجھے دیکھتے ہی ہنستے ہوئے کہیں، “بشیر! بڑی دیر کر دی آتے آتے۔” میں ابھی انہی حسین خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک ایک سپاہی کی آواز نے میری ساری خیالی دنیا بکھیر دی۔ “بشیر! جیلر صاحب نے بلایا ہے۔” میں اس کے ساتھ جیلر کے دفتر پہنچا تو وہاں ایک عجیب منظر میرا انتظار کر رہا تھا۔ میرا ابا ہاتھ میں مٹھائی کا بڑا ٹوکرا لیے برادری کے آٹھ دس آدمیوں کے ساتھ بیٹھا تھا، اور اس کے چہرے پر غم نہیں بلکہ ایسی خوشی تھی کہ وہ جوش سے کانپ رہا تھا۔
میں حیران تھا کہ آخر میرے ابا کو میری رہائی سے اتنی زیادہ خوشی کیوں ہو رہی ہے۔ ایک لمحے کے لیے تو میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ کہیں چوہدری مرتے مرتے مزید دس کلے زمین بھی ابا کے نام تو نہیں کر گیا۔ مجھے دیکھتے ہی ابا اٹھ کر میرے گلے لگ گیا، آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، پھر مجھے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھا لیا۔ اسی دوران جیلر نے مسکراتے ہوئے مبارک باد دی، **”بشیر! تمہاری سزا معاف ہو گئی ہے، اب تم آزاد ہو، اپنے گھر جا سکتے ہو۔”** یہ سنتے ہی میں چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جس پھانسی کے پھندے کو میں اپنی قسمت سمجھ چکا تھا، وہ اچانک میری گردن سے ہٹ چکا ہے۔ مجھے لگا شاید میں خواب دیکھ رہا ہوں، اس لیے میں نے زور سے اپنی ٹانگ پر خارش کی تاکہ یقین کر سکوں کہ میں واقعی ہوش میں ہوں۔ واپسی کے راستے میں ابا نے ساری کہانی سنائی۔ اس نے بتایا کہ چوہدری اور جیلے کی موت کے بعد وہ بار بار پٹواری کے پاس گیا اور منتیں کرتا رہا کہ اس کا بدلہ پورا ہو چکا ہے، اب میرے بے گناہ بیٹے کو معاف کر دے، مگر پٹواری نہ مانا۔ پھر ابا نے چوہدرانی کی طرف سے جیلے کے قتل کا مقدمہ پٹواری کے چھوٹے بیٹے پر درج کروا دیا۔ اگلے ہی دن پٹواری نے بلایا اور شرط رکھی کہ اگر چوہدرانی کو راضی کر کے مقدمہ واپس لے لیا جائے اور چوہدری کی دی ہوئی دس کلے زمین اس کے نام کر دی جائے تو وہ میری معافی پر رضامند ہو جائے گا۔ مگر ابا نے زمین دینے سے صاف انکار کر دیا، جس پر پٹواری بھی اپنے فیصلے پر قائم رہا۔
یہ سن کر مجھے اپنے ابا کی خودغرضی پر شدید غصہ آیا کہ اس نے میری جان پر بھی زمین کو ترجیح دی، مگر میں خاموش رہا۔ پھر ابا نے بتایا کہ آخرکار اس نے تھانیدار کو پچاس ہزار روپے دے کر پٹواری کے بیٹے کی تھانے میں خوب خاطر تواضع کروائی، جس کے بعد اگلے ہی دن پٹواری خود ہمارے گھر آیا اور زمین لیے بغیر ہی معافی نامے پر دستخط کرنے پر راضی ہو گیا۔ یوں سات سال بعد میں دوبارہ اپنے گاؤں لوٹا۔ گاؤں تو ویسا ہی تھا، مگر میری قسمت بدل چکی تھی۔ چوہدرانی اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے کے غم سے پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے مجھے اپنے بیٹے کی جگہ دے دی، اپنی بھانجی سے میرا نکاح کروا دیا اور آخرکار اپنی ساری جائیداد بھی میرے نام کر دی۔ البتہ ایک بات ضرور ہے… شادی کے بعد کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ… 😂 “کنوارا ہی مر جاندا تے چنگا سی!” 😂
ختم شد