سدھا خوبصورت تھی نہ بدصورت، بس معمولی سی لڑکی تھی۔ سانولی رنگت، صاف ستھرے ہاتھ پاؤں، مزاج کی ٹھنڈی مگر گھریلو، کھانے پکانے میں ہوشیار، سینے پرونے میں طاق، پڑھنے لکھنے کی شوقین، مگر نہ خوبصورت تھی نہ امیر، نہ مزید پڑھیں
اس کیٹگری میں 26 کہانیاں موجود ہیں
میں آج برسوں بعد اپنی زندگی کے اس دردناک باب کو لفظوں میں ڈھالنے بیٹھی ہوں جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ بعض زخم وقت گزرنے کے باوجود نہیں بھرتے، بلکہ ہر یاد کے ساتھ مزید پڑھیں
پورے گاؤں میں شور مچ گیا کہ چوہدری غلام رسول کے منڈے جیلے سے قتل ہو گیا ہے۔ویسے تو ایسی خبریں گاؤں والوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھیں۔ آئے دن یہی سننے کو ملتا تھا کہ جیلے نے مزید پڑھیں
کرن میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی کیونکہ اسے ڈ اکٹر بننے کا بہت شوق تھا اس لیے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لیا اور دل لگا کر پڑھنے لگی، کرن کی کلاس میں ایک بہن بھائی بھی پڑھتے تھے، کرن کی ان مزید پڑھیں
کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی زندگی میں آزمائش ضرور بھیجتا ہے۔ کچھ لوگ ان آزمائشوں کے سامنے صبر کا دامن تھام لیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی خواہشات مزید پڑھیں
ارم اپنے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑی تھی، ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے، جو اب سرد ہو چکا تھا۔ چاندنی رات کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک گہری بے مزید پڑھیں
کہتے ہیں کہ جب ماں کی کوکھ سے دو بچے جنم لیتے ہیں تو ان کا خون، ان کی رگیں اور ان کا خمیر ایک ہی مٹی سے گوندھا جاتا ہے۔ لیکن وقت اور پیسہ ایسی بے رحم چیزیں ہیں مزید پڑھیں
دروازے پر لگی سستی سی رنگ برنگی لائٹیں اب بھی ٹمٹما رہی تھیں، لیکن ان کی روشنی گھر کے اندر پھیلے اس اندھیرے کو کم نہیں کر پا رہی تھی جس نے ایک ہنستے کھیلتے خاندان کو قبرستان کے سکوت مزید پڑھیں
شہر کے مضافات میں واقع اس دس بائی بارہ کے کرائے کے کمرے میں صرف دو ہی چیزیں کثرت سے موجود تھیں؛ ایک دیواروں سے جھڑتی ہوئی مٹی اور دوسرا بچوں کی سسکتی ہوئی بھوک۔ اسلم کے لیے اب صبح مزید پڑھیں
کاشف ایک چھوٹے سے گاؤں سے لاہور آیا تھا، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ یہاں کوئی اچھی ملازمت تلاش کرے، اپنی زندگی بہتر بنائے، اور اپنے والدین کا سہارا بنے۔ لیکن مزید پڑھیں
جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھر کا ماحول مجھے ہمیشہ بوجھل اور اجنبی سا محسوس ہوا۔ گھر میں محبت اور اپنائیت کی جگہ ایک عجیب سی تلخی بسی ہوئی تھی۔ والد صاحب کا مزاج نہایت سخت اور ترش مزید پڑھیں
لوگ اسے سلیم میاں کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ ہمارے محلے کا ایک سادہ مزاج مگر خوش نصیب آدمی تھا۔ ان دنوں اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، اور وہ اس خوشی میں یوں ڈوبا رہتا جیسے اسے مزید پڑھیں