یہ 1980 کی بات ہے، جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا۔ پورے ملک میں کرفیو لگتا تھا، اور رات 9 بجے کے بعد کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ لیکن میرے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی مارشل لاء سے زیادہ خوفناک تھا۔ آج تک میں نے یہ بات کسی کو تفصیل سے نہیں بتائی۔ میری بیوی عائشہ اور میں نے اس راز کو اپنے دل میں دفن کر دیا تھا۔ لیکن اب، جب میں بوڑھا ہو چلا ہوں، اور میرے بڑے بیٹے احسن کے بچے ہو چکے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہانی دنیا کو بتانی چاہیے تاکہ کوئی اور ہماری طرح اس دردناک تجربے سے نہ گزرے۔
میں سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں، لاڑکانہ کا رہنے والا ہوں۔ ہمارا گھر ایک کچی آبادی میں تھا، جہاں زندگی سادہ مگر پرسکون تھی۔ 1970 کی دہائی پاکستان کے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ پہلے 1971 میں بنگلہ دیش الگ ہوا، پھر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت، اور پھر 1977 میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء۔ میری شادی 1975 میں ہوئی تھی عائشہ سے، جو ایک نیک اور خوبصورت لڑکی تھی۔ 1976 میں ہمارا پہلا بیٹا احسن پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے وقت، میری والدہ نے کہا تھا کہ بیٹا، یہ بچہ بہت خاص ہے، اس کی آنکھوں میں کچھ اور ہی نور ہے۔ اس وقت تو میں نے اس بات کو محض ایک دادی کی محبت سمجھا، لیکن بعد میں پتا چلا کہ احسن واقعی میں خاص تھا۔ وہ چیزیں دیکھ سکتا تھا جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتیں۔ 1978 میں ہمارا دوسرا بیٹا حسن پیدا ہوا۔ دو بیٹوں کے ساتھ، ہماری زندگی مکمل ہو گئی تھی۔ لیکن مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ میں گاؤں میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا۔ اس زمانے میں ایک روٹی 25 پیسے کی ملتی تھی، اور ہماری مہینے کی آمدنی صرف 300-400 روپے تھی۔ مشکل سے گھر چل رہا تھا۔
1979 کے آخر میں، میری قسمت پلٹ گئی۔ میرے ایک دور کے رشتہ دار، جو پاکستان ریلوے میں افسر تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ریلوے میں بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ راشد، یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا، انہوں نے کہا۔ سرکاری نوکری ملے گی، اچھی تنخواہ ملے گی، 500 روپے ماہانہ۔ اس زمانے میں 500 روپے بہت بڑی رقم تھی۔ میں نے فوری طور پر اپلائی کیا۔ اللہ کا کرم ہوا، مجھے نوکری مل گئی اور میری پوسٹنگ راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر ہوئی۔ جب میں نے یہ خبر عائشہ کو سنائی، تو وہ خوشی سے رو پڑی۔ اللہ کا شکر ہے، اب ہماری زندگی بدل جائے گی۔ لیکن ہم دونوں کو کیا پتا تھا کہ یہ تبدیلی ہماری زندگی کو کس انداز سے بدل دے گی۔ فروری 1980 کے پہلے ہفتے میں، میں اکیلا راولپنڈی کے لیے روانہ ہوا۔ اس وقت لاڑکانہ سے راولپنڈی کا ٹرین کا سفر تقریباً 24 گھنٹے کا ہوتا تھا۔ ٹرین میں بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ اب میری زندگی کیسی ہوگی۔ راولپنڈی پہنچ کر، میں نے پہلے کمیٹی چوک میں ایک سستے ہوٹل میں کمرہ لیا۔ کمرہ بہت چھوٹا تھا، اور روزانہ کا کرایہ 5 روپے تھا۔ اگلے دن میری ڈیوٹی شروع ہو گئی۔ ریلوے کا کام مشکل تھا، لیکن تنخواہ اچھی تھی، 550 روپے ماہانہ۔ پہلے دو ہفتے میں اکیلے رہا۔ رات کو ہوٹل کے چھوٹے سے کمرے میں، مجھے اپنے بیوی بچوں کی بہت یاد آتی۔
فروری کے دوسرے ہفتے میں، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے خاندان کو راولپنڈی بلا لوں۔ اکیلے رہنا مشکل ہو رہا تھا، اور پھر احسن کا سکول بھی شروع کرنا تھا۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ تھا رہائش کا۔ راولپنڈی میں مکانات کا کرایہ بہت زیادہ تھا۔ ایک کمرے کا کرایہ 200-250 روپے ماہانہ تھا۔ میری تنخواہ میں سے اتنا کرایہ دینا مشکل تھا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی سے ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ راشد بھائی، آپ افشاں روڈ کی طرف دیکھیں، وہاں کرایے کم ہیں۔ اگلے اتوار کو، میں افشاں روڈ پہنچا۔ یہ ایک پرانا علاقہ تھا، تنگ گلیاں، پرانے مکانات۔ شیخ احمد علی ایک بوڑھے آدمی تھے، تقریباً 65 سال کی عمر۔ سفید لمبی داڑھی، کمزور جسم، لیکن آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔ جب میں ان کے گھر کے گیٹ پر کھڑا ہوا، تو مجھے ایک لمحے کے لیے ایک عجیب سی کپکپاہٹ محسوس ہوئی، لیکن میں نے اسے نظرانداز کر دیا۔ آئیے بیٹا، آئیے، شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی، ایک بڑا صحن تھا۔ صحن میں 3-4 چارپائیاں پڑی تھیں۔ بائیں طرف ایک بڑا جامن کا درخت تھا، اور دائیں طرف ایک آم کا درخت۔ درختوں کی شاخیں اتنی گھنی تھیں کہ سورج کی روشنی بھی مشکل سے اندر آتی تھی۔ صحن میں ایک عجیب سی تاریکی تھی۔ شیخ صاحب نے مجھے سیڑھیاں دکھائیں۔ سیڑھیاں پرانی تھیں، لکڑی کی، اور ہر قدم پر چرچراہٹ کی آواز آتی تھی۔ اوپر پہنچ کر، ایک لمبا تاریک گلیارہ تھا۔ دوسرا کمرہ گلیارے کے دائیں طرف تھا۔ کمرہ بڑا نہیں تھا، تقریباً 10×12 فٹ۔ کرایہ کتنا ہے، میں نے پوچھا۔ صرف 60 روپے ماہانہ، شیخ صاحب نے کہا۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ اتنا سستا؟
28 فروری 1980 کو، میں لاڑکانہ گیا اور اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر راولپنڈی آیا۔ ٹرین کا سفر لمبا تھا۔ احسن اور حسن پوری ٹرین میں دوڑتے رہے۔ عائشہ خوش تھی۔ راولپنڈی پہنچ کر، ہم سیدھے صادق آباد گئے۔ شام کا وقت تھا، تقریباً 6 بجے۔ جب ہم گھر کے گیٹ پر پہنچے، تو عائشہ رک گئی۔ کیا ہوا، میں نے پوچھا۔ کچھ نہیں، اس نے کہا، لیکن اس کی آواز میں شک تھا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ جب میں نے گیٹ پر قدم رکھا، تو مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا، جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا ہو۔ شیخ صاحب اور ان کی بیوی، بی بی ثریا، نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے اپنا سامان اوپر کمرے میں رکھا۔ رات کو، ہم نے صحن میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ شیخ صاحب اور بی بی ثریا بھی شامل ہوئے۔ کھانے کے دوران، احسن اچانک چپ ہو گیا۔ وہ اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کیا دیکھ رہے ہو بیٹا، عائشہ نے پوچھا۔ وہاں کوئی کھڑا ہے، احسن نے آہستہ سے کہا۔ ہم سب نے اوپر دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ لیکن احسن اصرار کر رہا تھا کہ وہاں ایک آنٹی کھڑی ہے، سفید کپڑوں میں۔ شیخ صاحب کا چہرہ فوراً سفید ہو گیا۔ پہلی رات، کچھ عجیب ہوا۔ آدھی رات کو، تقریباً 2 بجے، عائشہ اٹھ گئی۔ جب وہ واپس سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، تو اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے آ رہا ہے۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ لیکن سیڑھیوں کی چرچراہٹ کی آواز آ رہی تھی۔
اگلے دن 10 بجے کے قریب، عائشہ کپڑوں کی بالٹی لے کر نیچے باتھ روم کے پاس گئی۔ احسن، بیٹا، اس نے کہا، اپنے بھائی کا خیال رکھنا، میں ابھی واپس آئی۔ تقریباً 15 منٹ گزرے ہوں گے۔ اچانک، مجھے احسن کی چیخ سنائی دی۔ امی امی۔ میں فوراً بالٹی چھوڑ کر بھاگی۔ جب میں صحن میں پہنچی، تو احسن سیڑھیوں پر کھڑا تھا، خوف سے کانپ رہا تھا۔ کیا ہوا بیٹا، میں نے اسے گلے لگایا۔ احسن رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ آنٹی جو کل رات کھڑی تھی، وہ اوپر آ گئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جب میں کمرے میں پہنچی، تو حسن بستر پر بیٹھا تھا، لیکن وہ سو نہیں رہا تھا۔ وہ کمرے کے کونے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا، ہنس رہا تھا، جیسے کوئی اس سے بات کر رہا ہو۔ احسن نے بعد میں بتایا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک آنٹی سفید کپڑوں میں کھڑی تھی، پھر اس کا چہرہ بدل گیا، اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور اس نے کہا کہ تم لوگوں کو یہاں سے جانا ہوگا، یہ میرا گھر ہے۔ تیسری رات کو، 3 مارچ 1980 کو، کچھ ایسا ہوا جس نے عائشہ کو مکمل طور پر خوفزدہ کر دیا۔ شام 7 بجے، میں کھانا بنا رہی تھی۔ اچانک، کھڑکی پر تیز دستک ہوئی۔ ٹک ٹک ٹک۔ میں چونک گئی۔ دستک پھر ہوئی۔ میں گیس بند کر کے کھڑکی کی طرف بڑھی۔ لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ ہم پہلی منزل پر ہیں۔ میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔ دستک پھر ہوئی، لیکن اب یہ تیز تھی، غصے میں تھی۔ اور پھر میں نے سنا۔ کھڑکی سے آواز آئی، ایک عورت کی آواز، نکل جاؤ، یہاں سے، نکل جاؤ۔ میں دہشت سے چیخ پڑی۔
کچھ دنوں بعد جب مجھے وہ چہرہ دوبارہ نظر آیا۔ شام 7 بجے، عائشہ اور بچے فاطمہ کے گھر چلے گئے۔ میں اکیلا رہ گیا۔ میں نے کمرے میں میز کرسی کو کھڑکی کے پاس لگایا، اور بیٹھ کر خط لکھنا شروع کیا۔ خط لکھتے ہوئے صرف 2-3 منٹ ہی گزرے ہوں گے۔ اچانک، کھڑکی پر تیز دستک ہوئی۔ ٹک ٹک ٹک۔ میں چونک گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید کوئی چور ہے۔ میں نے پاس پڑی چھڑی اٹھائی اور کھڑکی پر مارتے ہوئے زور سے کہا کہ بھاگ جاؤ ورنہ پولیس کو بلا دوں گا۔ دستک بند ہو گئی۔ میں نے کھڑکی کھولی۔ باہر اندھیرا تھا۔ گلی خالی تھی۔ میں نے کھڑکی پر پردہ لگا دیا اور دوبارہ خط لکھنے لگا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد، کمرے کی ہوا بھاری ہونے لگی، ٹھنڈی، بہت ٹھنڈی۔ میں نے محسوس کیا کہ کوئی میرے پیچھے کھڑا ہے۔ میں نے پردہ ہٹایا۔ وہاں ایک چہرہ تھا، ہوا میں تیر رہا تھا۔ ایک لڑکی کا چہرہ۔ لیکن یہ کوئی عام چہرہ نہیں تھا۔ اس کے بال لمبے تھے، چہرے پر بکھرے ہوئے۔ اس کی آنکھیں بہت بڑی تھیں، بہت سفید، اور ان میں کوئی پتلی نہیں تھی۔ اس کا منہ کھلا تھا، بہت زیادہ کھلا۔ اور اس کی جلد سفید تھی، بہت سفید۔ وہ صرف 2 فٹ دور تھی، شیشے کے باہر، ہوا میں۔ اس نے مجھے دیکھا اور پھر بات کی۔ نکل جاؤ، یہ میرا گھر ہے، نکل جاؤ۔ اور پھر وہ چیخی۔ ایسی چیخ جو میں نے زندگی میں کبھی نہیں سنی تھی۔ میں دہشت سے چیخا اور کمرے سے بھاگا۔ اگلے دن صبح جلدی میں شیخ صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ ہم نہیں رہ سکتے یہاں۔ پھر شیخ صاحب نے کچھ عجیب کہا۔ اگر آپ واقعی جانا چاہتے ہیں، تو جائیں، لیکن اپنے خاندان کو 10-15 دن کے لیے گاؤں بھیج دیں، آپ یہاں رہیں۔ یہ سن کر مجھے شک ہوا۔ نہیں، میں نے کہا، ہم آج ہی نکل رہے ہیں۔ اسی دن ہم نے سارا سامان فاطمہ کے گھر منتقل کر دیا۔ تین دن بعد، ہمیں دوسرا کمرہ مل گیا۔
ایک ہفتے بعد، فاطمہ کے شوہر جمیل بھائی نے کچھ معلومات اکٹھی کیں۔ شیخ احمد علی کی ایک بیٹی تھی، نام تھا صبیحہ۔ صبیحہ بہت خوبصورت تھی۔ 1975 میں، جب وہ 20 سال کی تھی، اس کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی، لڑکے کا نام تھا عمران۔ صبیحہ اور عمران کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی، لیکن شیخ صاحب راضی نہیں ہوئے۔ وہ غریب ہے۔ صبیحہ نے ہار نہیں مانی۔ شیخ صاحب کو جب پتا چلا، تو انہوں نے صبیحہ کو گھر میں قید کر دیا۔ تم اس کمرے سے باہر نہیں نکلو گی۔ صبیحہ دو ماہ تک اپنے کمرے میں قید رہی۔ 4 جولائی 1977، یہ وہ تاریخ ہے جب پاکستان کی تاریخ بدل گئی۔ اسی رات، جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ اور اسی رات، اسی رات صبیحہ نے بھی اپنی زندگی ختم کر لی۔ رات 2 بجے، شیخ صاحب اور بی بی ثریا سو رہے تھے۔ باہر سڑکوں پر فوج تھی، ٹینک تھے، ہیلی کاپٹر تھے۔ اچانک، ایک تیز چیخ۔ شیخ صاحب اٹھے اور بھاگے۔ جب وہ صبیحہ کے کمرے میں پہنچے، تو صبیحہ نے خودکشی کر لی تھی۔ اس نے کمرے کی چھت کے پنکھے سے خود کو لٹکا لیا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں، بہت بڑی، منہ کھلا تھا۔ غصے میں، شیخ صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ صبیحہ کی تدفین ٹھیک سے نہیں کریں گے۔ یہ گناہ گار ہے، انہوں نے کہا۔ 5 جولائی 1977 کو، صبح جلدی، بغیر کسی رسم کے، صبیحہ کو دفن کر دیا گیا۔ کوئی دعا نہیں، کوئی جنازہ نہیں۔ اور اسی رات سے، اسی رات سے عجیب چیزیں شروع ہو گئیں۔ تدفین کے تین دن بعد، بی بی ثریا نے دیکھا کہ صبیحہ کے کمرے سے روشنی آ رہی ہے۔ انہوں نے کان لگا کر سنا، کمرے کے اندر سے آواز آ رہی تھی، کوئی رو رہا تھا۔ اگلے دن، شیخ صاحب نے کمرہ کھولا۔ دیوار پر، خون سے لکھا تھا، میں واپس آؤں گی، یہ میرا گھر ہے۔ 1977 سے 1980 تک، کم از کم 20 خاندان اس گھر میں آئے۔ کوئی 1 ہفتے رہا، کوئی 1 ماہ۔ لیکن سب نے ایک ہی بات کہی، وہاں کوئی ہے، ایک لڑکی، سفید کپڑوں میں۔ ہمارے بعد، مئی 1980 میں، ایک اور خاندان آیا۔ اس خاندان کا 9 سالہ بیٹا، فہیم، ایک دن چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ یہ جون 1980 کی بات ہے۔ اچانک، ایک تیز چیخ۔ فہیم چھت سے گر گیا۔ ہسپتال میں، فہیم نے کہا کہ ایک لڑکی تھی، سفید کپڑوں میں، اس نے مجھے دھکا دیا۔ تین دن بعد، فہیم فوت ہو گیا۔
میری بیوی عائشہ 2020 میں فوت ہو گئی۔ اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ میرے بیٹے احسن کے دو بچے ہیں۔ حسن ابھی کینیڈا میں رہتا ہے۔ وہ گھر آج بھی کھڑا ہے، خالی، ویران۔ شیخ احمد علی 1995 میں فوت ہوئے۔ بی بی ثریا 2000 میں۔ ان کا بیٹا کبھی واپس نہیں آیا۔ لیکن رات کو، لوگ کہتے ہیں، رات کو، 2 بجے، اوپر کے کمرے سے روشنی نکلتی ہے اور ایک لڑکی کے رونے کی آواز آتی ہے۔ آج، جب میں یہ کہانی سنا رہا ہوں، تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں، 4 جولائی 1977، وہ رات جب پاکستان بدل گیا اور وہ رات جب صبیحہ کی روح قید ہو گئی۔ اللہ صبیحہ کو معاف فرمائے، اللہ شیخ احمد علی کو معاف فرمائے، اور اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔