Urdu Short Stories Urdu92

معافی کی طاقت – ٹھکرائی ہوئی عورت کی درد ناک کہانی

کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی زندگی میں آزمائش ضرور بھیجتا ہے۔ کچھ لوگ ان آزمائشوں کے سامنے صبر کا دامن تھام لیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی خواہشات کے ہاتھوں ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جن کی سزا صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے معصوم بچوں کو بھی پوری زندگی بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی خاندان کی ہے، جس کی زندگی میں خوشیوں کی بہار تھی، مگر ایک غلط فیصلہ ان کی پوری دنیا اجاڑ گیا۔
میرا نام مریم ہے، اور یہ میری اپنی زندگی کی کہانی ہے۔ آج جب میں اپنی زندگی کے بیتے ہوئے دنوں کو یاد کرتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر یاد میرے دل پر ایک نیا زخم لگا دیتی ہے۔ میری عمر اب کافی ہو چکی ہے، لیکن بچپن کی وہ تلخ یادیں آج بھی میری آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ شاید کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود کبھی نہیں بھرتے۔
میرے والد سلیم احمد ایک نہایت محنتی، ایماندار اور خوددار انسان تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتے تھے۔ صبح فجر کی اذان سے پہلے گھر سے نکل جاتے اور رات گئے تک شہر کی گلیوں میں مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتے رہتے۔ گرمی کی تپتی دھوپ ہو یا سردیوں کی یخ بستہ راتیں، انہوں نے کبھی محنت سے منہ نہیں موڑا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ رزق حلال چاہے کم ہو، لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار برکت ہوتی ہے۔ ان کی یہی بات آج بھی میرے دل میں نقش ہے۔
ہم ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ گھر میں زیادہ سامان نہیں تھا، نہ مہنگا فرنیچر، نہ قیمتی پردے اور نہ ہی کوئی آسائش۔ لیکن اس چھوٹے سے گھر میں محبت کی دولت موجود تھی۔ میرا بڑا بھائی احسن مجھ سے دو سال بڑا تھا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھیلتا، مجھے ہنساتا اور میری حفاظت کرتا تھا۔ میں ہر وقت اپنے ابو کی انگلی پکڑے رہتی تھی، جبکہ ابو ہمیں دیکھ کر اپنی ساری تھکن بھول جاتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ ہی ہماری دنیا تھی۔
میری والدہ رخسانہ بے حد خوبصورت خاتون تھیں۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں، لمبے سیاہ بال اور دلکش شخصیت ہر دیکھنے والے کو متاثر کر دیتی تھی۔ شروع میں وہ بھی ہم سب کا بہت خیال رکھتی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ ان کے مزاج میں تبدیلی آنے لگی۔ شاید غربت نے ان کے دل میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ وہ اکثر کھڑکی کے پاس کھڑی دوسرے لوگوں کی بڑی گاڑیاں، قیمتی کپڑے اور خوشحال زندگی دیکھ کر خاموش ہو جاتیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی حسرت دکھائی دیتی تھی جسے ہم اس وقت سمجھ نہیں پاتے تھے۔
ہر شام جب ابو گھر واپس آتے تو ان کے ہاتھ میں ہمارے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا۔ کبھی دو ٹافیاں، کبھی بسکٹ کا ایک چھوٹا سا پیکٹ اور کبھی بازار سے خریدے ہوئے گرم سموسے۔ ہمارے لیے یہی دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہوتی تھی۔ لیکن امی کی نظریں ان چھوٹی خوشیوں پر نہیں بلکہ ان چیزوں پر تھیں جو ہمارے گھر میں موجود نہیں تھیں۔ وہ اکثر کہتیں کہ آخر کب تک غربت میں زندگی گزارنی ہے؟ آخر کب ہمارا بھی اپنا بڑا گھر ہوگا؟ کب ہمارے پاس بھی گاڑی ہوگی؟ ابو خاموشی سے ان کی باتیں سنتے اور صرف اتنا کہتے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو، ایک دن حالات ضرور بدلیں گے۔
لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے ہونے لگے۔ ابو اپنی پوری کوشش کرتے کہ گھر میں سکون رہے، مگر امی کی ناراضی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ کئی مرتبہ ہم دونوں بہن بھائی ایک کونے میں بیٹھ کر ڈرتے ہوئے ان کی آوازیں سنتے رہتے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر ہمارے گھر میں پہلے جیسی ہنسی کیوں ختم ہو گئی ہے۔
کچھ ہی عرصے بعد امی نے گھر سے باہر زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیا۔ وہ صبح کسی کام کا بہانہ بنا کر نکل جاتیں اور رات دیر سے واپس آتیں۔ کبھی کہتیں کہ کسی رشتہ دار کے گھر گئی تھیں، کبھی کسی سہیلی سے ملنے کا بہانہ بناتیں۔ ابو ان سے زیادہ سوال نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ اپنی بیوی پر بے حد اعتماد کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کی بیوی کبھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے ان کے خاندان کی عزت پر حرف آئے۔
ایک دن محلے کی ایک عمر رسیدہ خاتون نے ابو کو راستے میں روک لیا۔ ان کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا سلیم، مجھے نہیں معلوم میری بات تمہیں اچھی لگے گی یا نہیں، لیکن میں نے کئی بار تمہاری بیوی کو شہر کے ایک پوش علاقے میں ایک اجنبی آدمی کے ساتھ دیکھا ہے۔ تم ایک بار خود بھی حقیقت معلوم کر لو۔”
یہ الفاظ سن کر ابو کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ چند لمحوں تک وہ خاموش کھڑے رہے۔ پھر انہوں نے مسکرا کر کہا، “خالہ، شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ رخسانہ ایسی نہیں ہو سکتی۔” مگر اس دن پہلی بار ان کے دل میں بے چینی نے جنم لیا۔
کئی دن تک وہ اسی سوچ میں مبتلا رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا شک غلط ثابت ہو۔ وہ بار بار خود کو سمجھاتے کہ محبت میں بدگمانی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن تقدیر انہیں ایک ایسی حقیقت دکھانے والی تھی جس کا تصور بھی انہوں نے کبھی نہیں کیا تھا۔
ایک دوپہر ابو ایک سواری چھوڑنے شہر کے مہنگے علاقے میں گئے۔ واپسی پر ان کی نظر ایک خوبصورت ریسٹورنٹ پر پڑی۔ اتفاق سے انہوں نے اندر کی طرف دیکھا تو ان کی سانس جیسے رک گئی۔ ایک میز پر ان کی بیوی رخسانہ ایک خوش لباس، دولت مند شخص کے ساتھ بیٹھی ہنس رہی تھیں۔ وہ شخص کامران تھا، جو شہر کا ایک امیر کاروباری تھا۔ دونوں نہایت خوش دکھائی دے رہے تھے، جیسے انہیں دنیا کی کسی چیز کی فکر نہ ہو۔
یہ منظر دیکھ کر ابو کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، مگر انہوں نے نہ شور مچایا، نہ کسی سے جھگڑا کیا۔ وہ خاموشی سے اپنا رکشہ موڑ کر واپس چل پڑے۔ راستے بھر ان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گونجتا رہا، “آخر میری کمی کیا تھی؟ میں نے اپنی بیوی اور بچوں کے لیے دن رات محنت کی، پھر بھی میں اپنی بیوی کا دل کیوں نہ جیت سکا؟”
اس رات ابو نے کھانا بھی نہ کھایا۔ وہ دیر تک جائے نماز پر بیٹھے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہتے رہے اور زبان پر صرف ایک ہی دعا تھی، “اے میرے رب! اگر میرا گھر بچ سکتا ہے تو اسے بچا لے، اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا فرما۔”
انہیں کیا معلوم تھا کہ قسمت ابھی ان کی زندگی کا سب سے دردناک باب کھولنے والی ہے۔ آنے والے چند دن نہ صرف ان کی ازدواجی زندگی کا فیصلہ کرنے والے تھے بلکہ دو معصوم بچوں کے مستقبل کو بھی ہمیشہ کے لیے بدل دینے والے تھے۔
وہ رات میری زندگی کی پہلی ایسی رات تھی جس میں گھر تو وہی تھا، دیواریں بھی وہی تھیں، لیکن سب کچھ بدل چکا تھا۔ امی ہمیشہ کے لیے اس گھر کو چھوڑ کر جا چکی تھیں۔ ان کے قدموں کی آہٹ، ان کی آواز، ان کی خوشبو، سب کچھ ایک لمحے میں ماضی بن گیا تھا۔ میں اس وقت صرف دو سال کی تھی اور میرا بھائی احسن چار سال کا۔ ہمیں طلاق کا مطلب تو معلوم نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور سمجھ آ گیا تھا کہ ہماری ماں اب ہمارے ساتھ نہیں رہے گی۔ ایک معصوم بچے کے لیے اس سے بڑی سزا شاید کوئی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی ماں کو پکارے اور جواب میں صرف خاموشی ملے۔
طلاق کے بعد ابو پہلے سے کہیں زیادہ خاموش ہو گئے تھے۔ پہلے وہ گھر آتے تو ہمیں گود میں اٹھا کر ہنساتے، کھیلتے اور ہماری شرارتوں پر مسکرا دیتے تھے، لیکن اب ان کے چہرے پر ایک مستقل اداسی رہنے لگی تھی۔ وہ راتوں کو جاگتے رہتے، کبھی جائے نماز پر بیٹھے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور کبھی ہماری سوتی ہوئی شکلیں دیکھ کر آنکھیں پونچھ لیتے۔ شاید وہ اپنے رب سے یہی سوال کرتے تھے کہ آخر ان کے معصوم بچوں کا کیا قصور تھا۔
گھر کے اخراجات پہلے ہی مشکل سے پورے ہوتے تھے، لیکن اب حالات پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو گئے تھے۔ ابو صبح اندھیرا ہوتے ہی رکشہ لے کر نکل جاتے اور رات گئے واپس آتے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ وہ پورا دن کچھ کھائے بغیر صرف اس لیے کام کرتے رہتے تاکہ شام کو ہمارے لیے دودھ یا تھوڑا سا پھل خرید سکیں۔ انہوں نے کبھی ہمیں اپنی بھوک کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اگر گھر میں صرف دو روٹیاں ہوتیں تو وہ یہی کہتے کہ “میں نے باہر کھا لیا ہے، یہ دونوں میرے بچوں کے لیے ہیں۔” لیکن بڑے ہونے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ اکثر بھوکے ہی سو جایا کرتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ مجھے ماں کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ جب بھی محلے میں کسی بچے کو اس کی ماں پیار سے سینے سے لگاتی، میرے دل میں عجیب سا درد اٹھتا۔ میں دور کھڑی انہیں دیکھتی رہتی اور سوچتی کہ آخر میری ماں بھی تو کبھی مجھے اسی طرح گود میں اٹھایا کرتی تھیں، پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئیں؟ اس عمر میں میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا، صرف آنسو تھے جو خاموشی سے بہہ جایا کرتے تھے۔
سردیوں کی راتیں ہماری زندگی کا سب سے مشکل امتحان ہوتی تھیں۔ ٹھنڈی ہوائیں ٹوٹے ہوئے دروازے کی درزوں سے اندر آتیں تو پورا کمرہ یخ بستہ ہو جاتا۔ ہمارے پاس صرف ایک پرانا کمبل تھا جسے ابو ہمیشہ ہم دونوں بہن بھائیوں پر ڈال دیتے، جبکہ خود سرد فرش پر بیٹھ کر رات گزار دیتے۔ کئی مرتبہ میری آنکھ کھلتی تو میں دیکھتی کہ ابو جاگ رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوتے اور آنکھوں سے خاموش آنسو بہہ رہے ہوتے۔ وہ ہمیں جگانا نہیں چاہتے تھے، اس لیے اپنی ساری تکلیف اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کرتے تھے۔
محلے کے کچھ لوگ ہمارے حالات دیکھ کر ترس کھاتے تھے۔ کوئی اپنے بچوں کے پرانے کپڑے دے جاتا، کوئی کھانے کا برتن رکھ جاتا اور کوئی عید کے موقع پر ہمارے لیے نئے جوتے خرید دیتا۔ ہم ہر چھوٹی چیز پر خوش ہو جاتے تھے، کیونکہ ہمارے لیے وہی بہت بڑی نعمت تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایک مرتبہ کسی خاتون نے مجھے اپنی بیٹی کا استعمال شدہ سرخ رنگ کا فراک دیا تھا۔ وہ لباس اگرچہ پرانا تھا، مگر میں نے اسے اتنی خوشی سے پہنا جیسے دنیا کا سب سے قیمتی لباس ہو۔ اس دن میں کئی بار آئینے کے سامنے جا کر خود کو دیکھتی رہی، اور ابو مجھے خوش دیکھ کر خاموشی سے مسکراتے رہے۔
احسن مجھ سے بڑا تھا، اس لیے وہ جلد ہی حالات کو سمجھنے لگا تھا۔ اس نے کھیل کود کم کر دیے تھے۔ وہ اکثر شام کو دروازے کے پاس بیٹھ کر ابو کا انتظار کرتا۔ جیسے ہی رکشے کی آواز آتی، وہ دوڑ کر ان کے پاس پہنچ جاتا، ان کے ہاتھ سے تھیلا پکڑتا اور پوچھتا، “ابو، آج آپ نے کچھ کھایا تھا نا؟” ابو ہر بار مسکرا کر یہی جواب دیتے، “ہاں بیٹا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔” لیکن حقیقت اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتی تھی۔
کبھی کبھی رات کو میں ڈر کر جاگ جاتی اور بے اختیار “امی… امی…” کہہ کر رونے لگتی۔ ابو فوراً مجھے سینے سے لگا لیتے، میرے سر پر ہاتھ پھیرتے اور کہتے، “بیٹا، اللہ تعالیٰ ہر یتیم اور بے سہارا بچے کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے کئی دروازے کھول دیتا ہے۔” اس وقت مجھے ان کی بات سمجھ نہیں آتی تھی، مگر آج محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود ٹوٹ چکے تھے، پھر بھی ہمیں مضبوط بنانا چاہتے تھے۔
سال گزرتے گئے، لیکن امی نے کبھی پلٹ کر ہماری خبر نہ لی۔ نہ کوئی خط آیا، نہ کوئی پیغام، نہ یہ پوچھا کہ ان کے بچے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ آہستہ آہستہ میرے دل میں ماں کی محبت کی جگہ ایک خاموش شکوہ جنم لینے لگا۔ میں اکثر سوچتی کہ اگر ایک ماں اپنے بچوں کو چھوڑ سکتی ہے تو پھر دنیا میں کس رشتے پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ مجھے معلوم نہیں تھا کہ زندگی ابھی مجھے اس سے بھی بڑے امتحانات دکھانے والی ہے۔
زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ وقت گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال بیت گئے۔ میں اب بچپن کی معصوم مریم نہیں رہی تھی۔ میرے چہرے پر عمر سے پہلے ہی سنجیدگی آ چکی تھی، جبکہ میرا بھائی احسن بھی وقت سے پہلے بڑا ہو گیا تھا۔ ہمارے ابو سلیم احمد نے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ہمیں ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ تھی کہ ایک باپ چاہے جتنا بھی محبت کرنے والا ہو، وہ ماں کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔ صبح سے رات تک محنت کرنے کے بعد جب وہ گھر واپس آتے تو ان کے چہرے پر تھکن کے ساتھ ایک ایسی تنہائی بھی دکھائی دیتی تھی جسے صرف وہی محسوس کر سکتے تھے جنہوں نے زندگی میں اپنا سب سے قریبی ساتھی کھو دیا ہو۔
محلے کے بزرگ اور رشتہ دار اکثر ابو کو دوسری شادی کا مشورہ دیتے۔ کوئی کہتا کہ بچوں کو ماں کی ضرورت ہے، کوئی کہتا کہ گھر سنبھالنے کے لیے ایک عورت کا ہونا ضروری ہے۔ ابتدا میں ابو ہر بار یہی جواب دیتے کہ وہ اپنی باقی زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔ صبح روزگار، شام گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال اور زندگی کی بے شمار پریشانیاں آخرکار انہیں اس فیصلے پر مجبور کر گئیں جس سے وہ برسوں بچتے رہے تھے۔
چند ماہ بعد ابو نے شازیہ نامی ایک طلاق یافتہ خاتون سے نکاح کر لیا۔ نکاح والے دن میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔ میں نے سوچا شاید اب میری زندگی بدل جائے گی۔ شاید اب کوئی مجھے بھی پیار سے بالوں میں کنگھی کرے گا، عید پر نئے کپڑے پہنائے گا، بیمار ہونے پر رات بھر میرے سرہانے بیٹھے گا اور مجھے سینے سے لگا کر کہے گا کہ “بیٹی، میں تمہاری ماں ہوں۔” ایک معصوم بچی کی یہی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھیں، مگر مجھے معلوم نہیں تھا کہ قسمت میرے لیے ایک اور امتحان لکھ چکی ہے۔
شروع کے چند دن شازیہ کا رویہ کافی نرم رہا۔ وہ ہم سے محبت سے بات کرتی، ہمارے لیے کھانا بناتی اور ابو کے سامنے ہماری تعریف بھی کرتی۔ ہمیں لگا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائیں سن لی ہیں۔ لیکن جیسے ہی وقت گزرا، ان کے رویے میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے لگیں۔ اگر گھر میں کوئی چیز اپنی جگہ سے ہل جاتی تو اس کا الزام مجھ پر آتا۔ اگر برتن دیر سے دھلتے تو قصور میرا ہوتا، اور اگر کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہو جاتا تو ڈانٹ بھی مجھے ہی پڑتی۔
ایک دن انہوں نے صاف الفاظ میں کہا، “اب تم بڑی ہو گئی ہو، گھر کے سارے کام سیکھنے چاہییں۔” اس دن کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھنا، گھر کی صفائی کرنا، پانی بھرنا، برتن دھونا، کپڑے صاف کرنا، کھانا پکانا اور رات گئے تک کام کرتے رہنا میری روزمرہ زندگی بن گئی۔ میں اکثر کھڑکی سے باہر دیکھتی جہاں میرے ہم عمر بچے سکول جاتے ہوئے ہنستے کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے کندھوں پر بستے ہوتے، ہاتھوں میں کتابیں ہوتیں، جبکہ میرے ہاتھوں میں جھاڑو، برتن اور کپڑے ہوتے تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ میرا ایک خواب خاموشی سے دم توڑ رہا تھا۔
میں نے کئی مرتبہ ابو سے کہا کہ میں بھی سکول جانا چاہتی ہوں۔ ابو میری بات سن کر خاموش ہو جاتے۔ ان کی آنکھوں میں بے بسی صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ میری خواہش جائز ہے، مگر گھر کے حالات، محدود آمدنی اور روزمرہ کے جھگڑوں نے انہیں اتنا کمزور کر دیا تھا کہ وہ میری تعلیم کے لیے کھل کر آواز نہ اٹھا سکے۔ وہ صرف میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، “بیٹی، اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ایک دن تم ضرور پڑھو گی۔” لیکن وہ دن کبھی نہ آیا۔
دوسری طرف میرا بھائی احسن بھی حالات کا شکار ہو رہا تھا۔ ابھی اس کی عمر کھیلنے کودنے کی تھی، مگر اسے ایک ورکشاپ میں کام پر لگا دیا گیا۔ صبح سویرے وہ تھکا ہوا سا گھر سے نکلتا اور شام کو مٹی، گریس اور پسینے سے بھرا ہوا واپس آتا۔ پہلے وہ ہر بات پر ہنس دیتا تھا، مگر اب اس کی ہنسی بھی کہیں کھو گئی تھی۔ سخت محنت، غلط ماحول اور عمر سے پہلے ذمہ داریوں نے اس کے اندر کی معصومیت آہستہ آہستہ ختم کر دی۔
ورکشاپ میں اس کی دوستی کچھ ایسے لڑکوں سے ہو گئی جو سگریٹ پیتے تھے۔ ابتدا میں وہ صرف ان کے ساتھ بیٹھتا تھا، پھر ایک دن تجسس میں اس نے بھی سگریٹ کا کش لگا لیا۔ اسے خود بھی اندازہ نہ تھا کہ یہی ایک غلط قدم آگے چل کر اس کی زندگی کو اندھیروں میں دھکیل دے گا۔ چند مہینوں بعد سگریٹ اس کی عادت بن چکی تھی، لیکن گھر میں کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔
شازیہ کے رشتہ دار اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ان میں ان کا ایک بھائی نعمان بھی تھا۔ شروع شروع میں وہ عام مہمانوں کی طرح آتا جاتا رہا، لیکن کچھ عرصے بعد مجھے اس کی نظریں عجیب لگنے لگیں۔ جب بھی میں پانی دینے یا چائے رکھنے جاتی، وہ غیر ضروری باتیں کرنے کی کوشش کرتا۔ کبھی تعریف کے بہانے قریب آ جاتا، کبھی بلاوجہ میرا راستہ روک لیتا۔ میں اس وقت اتنی کم عمر تھی کہ ان رویوں کی پوری حقیقت تو نہیں سمجھتی تھی، لیکن اتنا ضرور محسوس کرتی تھی کہ اس کے قریب مجھے خوف محسوس ہوتا ہے۔
ایک دن اس نے موقع پا کر میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ میں گھبرا کر فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔ اس واقعے کے بعد کئی دن تک میں خوف کے مارے اس کے سامنے آنے سے بھی کترانے لگی۔ آخرکار میں نے ہمت کر کے ساری بات اپنی سوتیلی ماں شازیہ کو بتائی۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میری بات سن کر میری حفاظت کریں گی، مگر ہوا اس کے بالکل برعکس۔
شازیہ نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی مجھے سخت ڈانٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے غصے سے کہا، “شرم نہیں آتی؟ میرے بھائی پر جھوٹا الزام لگاتی ہو؟ اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کو بدنام کرنا چاہتی ہو!” ان کی باتیں سن کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ اس دن مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض اوقات ظلم صرف مارنے سے نہیں ہوتا، بلکہ کسی بے گناہ کی سچی بات پر یقین نہ کرنا بھی بہت بڑا ظلم ہوتا ہے۔
اس واقعے کے بعد میں پہلے سے زیادہ خاموش رہنے لگی۔ میں نے لوگوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اگر کبھی کوئی تکلیف ہوتی تو میں صرف رات کے اندھیرے میں جائے نماز پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے بات کرتی۔ میں اپنے رب سے یہی دعا مانگتی کہ یا اللہ! اگر میری زندگی میں آسانی نہیں لکھی، تو کم از کم مجھے اتنی طاقت ضرور دے کہ میں ہر امتحان صبر سے برداشت کر سکوں۔
لیکن میری آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ قسمت میرے لیے ایک ایسا فیصلہ تیار کر چکی تھی جو میری پوری زندگی کا رخ بدلنے والا تھا۔ میری عمر ابھی پندرہ سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ میری شادی کی باتیں شروع ہو گئیں، اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جس شخص کے ساتھ میرا رشتہ طے کیا جا رہا ہے، وہ میری زندگی میں رحمت بن کر آئے گا یا ایک نئی آزمائش۔
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میری عمر پندرہ سال ہو چکی تھی۔ اگرچہ میں عمر کے لحاظ سے ایک کم سن لڑکی تھی، لیکن حالات نے مجھے وقت سے پہلے ہی بڑا بنا دیا تھا۔ میری ہتھیلیوں کی نرم لکیریں برتن دھوتے دھوتے کھردری ہو چکی تھیں، چہرے کی معصوم مسکراہٹ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے کہیں گم ہو گئی تھی، اور آنکھوں میں ایسے خواب تھے جو جاگتے جاگتے ہی مر چکے تھے۔ میں نے زندگی سے بڑی خواہشیں مانگنا چھوڑ دیا تھا۔ اب میری ہر دعا صرف اتنی ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس گھر کے ظلم اور بے بسی سے نجات عطا فرما دے۔
ایک شام سوتیلی ماں شازیہ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ ان کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ انہوں نے مختصر انداز میں کہا، “ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔” میں چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔ میرے پاس نہ انکار کرنے کا حق تھا، نہ اپنی رائے دینے کی اجازت۔ میں نے صرف اتنا پوچھا، “وہ کون ہیں؟” شازیہ نے بے رخی سے جواب دیا، “اس کا نام حمزہ ہے۔ وہ رکشہ چلاتا ہے، غریب ضرور ہے لیکن محنتی ہے۔” ان کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ یہ فیصلہ میرے لیے نہیں، بلکہ اپنے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔ میری آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، مگر میرے دل میں ایک عجیب سا سکون بھی تھا۔ شاید یہ سوچ کر کہ اب اس گھر کے روز روز کے طعنے، بے جا الزام اور مسلسل خوف سے نجات مل جائے گی۔ میں نے پہلی بار اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کی، “یا رب! اگر میری قسمت میں خوشیاں لکھی ہیں تو انہیں میرے نصیب کر دے، اور اگر آزمائشیں ہی مقدر ہیں تو مجھے انہیں برداشت کرنے کی طاقت عطا فرما۔”
اگلے چند ہفتوں میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ تیاری کہنا شاید مناسب نہیں تھا، کیونکہ ہمارے گھر میں نہ قیمتی کپڑے تھے، نہ زیورات اور نہ ہی کوئی بڑی تقریب ہونے والی تھی۔ ابو نے اپنی برسوں کی تھوڑی سی جمع پونجی نکالی، کچھ لوگوں سے ادھار لیا اور بڑی محبت سے میرے لیے ایک سادہ سا جوڑا، چند برتن اور ضرورت کا سامان خریدا۔ جب میں نے ابو کو قرض لیتے دیکھا تو میرا دل بھر آیا۔ میں نے ان سے کہا، “ابو، میرے لیے اتنی پریشانی نہ کریں، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔” انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا، “بیٹی، باپ ساری زندگی اپنی اولاد کے لیے ہی تو جیتا ہے۔ اگر آج بھی تمہارے لیے نہ کروں تو پھر کس کے لیے کروں؟”
میرا بھائی احسن بھی اپنی حیثیت کے مطابق میری شادی کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا۔ وہ اپنی کمائی سے میرے لیے چوڑیاں اور ایک چھوٹا سا آئینہ خرید کر لایا۔ جب اس نے وہ چیزیں میرے ہاتھ میں رکھیں تو اس کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ دھیمی آواز میں بولا، “بہن، میں زیادہ کچھ نہیں دے سکا، لیکن دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ خوشیاں دے جو ہمیں کبھی نہ مل سکیں۔” اس کے یہ الفاظ سن کر میں اپنے آنسو نہ روک سکی۔ ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے لپٹ کر دیر تک روتے رہے۔
شادی سے چند روز پہلے مجھے اور احسن کو بازار بھیجا گیا تاکہ باقی رہ جانے والا سامان خرید سکیں۔ بازار میں معمول کے مطابق بہت رش تھا۔ ہر طرف لوگوں کی چہل پہل، دکانوں کی روشنیاں اور خریداری کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ہم سامان خرید کر واپس آ رہے تھے کہ اچانک ایک کمزور سی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ “اللہ کے نام پر کچھ دے دو… خدا تمہارا بھلا کرے…”
میں نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا۔ سڑک کے کنارے ایک بوڑھی عورت پھٹے ہوئے کپڑوں میں بیٹھی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر جھریاں تھیں اور آنکھوں میں برسوں کی بے بسی سمٹ آئی تھی۔ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہی تھی، مگر کوئی اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ نہ جانے کیوں میرے قدم خودبخود اس کی طرف بڑھنے لگے۔
جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچی، میری نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے احسن کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں بھی حیرت سے پھیل چکی تھیں۔ چند لمحوں تک ہم دونوں خاموش کھڑے رہے، پھر میرے ہونٹ کپکپائے اور بے اختیار میرے منہ سے نکلا، “امی…!”
وہ عورت چونک کر ہماری طرف دیکھنے لگی۔ اس نے ہماری بات سنی، مگر شاید وہ ہمیں پہچان نہیں سکی۔ آخر پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ہم معصوم بچوں سے جوانی کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے۔ احسن نے روتے ہوئے کہا، “امی… میں احسن ہوں… اور یہ مریم ہے… آپ کے اپنے بچے۔”
یہ سنتے ہی اس عورت کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ وہ لرزتے ہوئے قدموں سے ہماری طرف بڑھی، لیکن شاید شرمندگی نے اسے ہم تک پہنچنے نہ دیا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور زار و قطار رونے لگی۔ اس کے ہونٹ بار بار صرف ایک ہی جملہ دہرا رہے تھے، “مجھے معاف کر دو… میں تمہاری مجرم ہوں… میں نے اپنی دنیا اپنے ہی ہاتھوں برباد کر دی۔”
کافی دیر بعد جب وہ کچھ سنبھلیں تو انہوں نے اپنی داستان سنانا شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ جس دولت اور آسائش کے خواب نے انہیں اپنے شوہر اور بچوں سے دور کر دیا تھا، وہ خواب زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔ جس شخص کے لیے انہوں نے اپنا گھر چھوڑا تھا، وہ ابتدا میں انہیں بہت عزت دیتا رہا، لیکن جب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو اس کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ آہستہ آہستہ اس نے انہیں نظر انداز کرنا شروع کر دیا، پھر ایک دن انہیں گھر سے نکال دیا۔ اس نے دوسری شادی کر لی اور رخسانہ کو ہمیشہ کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔
رخسانہ کی آواز رندھ گئی۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا، “آج مجھے سمجھ آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت نہ بڑا گھر ہوتا ہے، نہ سونا، نہ دولت… بلکہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہیں میں نے اپنی خواہشات کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ میں ہر رات اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتی رہی کہ ایک بار میرے بچوں سے ملاقات ہو جائے تاکہ میں ان سے معافی مانگ سکوں۔”
ان کی باتیں سن کر میرے دل میں برسوں کا درد ایک طوفان کی طرح اٹھنے لگا۔ مجھے وہ تمام راتیں یاد آنے لگیں جب میں ماں کے لیے روتی تھی، وہ دن یاد آئے جب میں دوسروں کی ماؤں کو دیکھ کر حسرت سے بھر جاتی تھی، وہ لمحے یاد آئے جب مجھے ایک ماں کی ضرورت تھی، مگر وہ میرے پاس نہیں تھیں۔ میرے دل کا ایک حصہ انہیں معاف نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن دوسرے حصے میں میرے ابو کی دی ہوئی تربیت زندہ تھی، جس نے ہمیشہ ہمیں معاف کرنا سکھایا تھا۔
میں خاموشی سے آگے بڑھی، ان کے کانپتے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور انہیں سینے سے لگا لیا۔ میں بھی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ احسن بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ ہم تینوں برسوں کے بچھڑے ہوئے رشتے کی طرح ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے۔ بازار میں گزرنے والے لوگ حیرت سے ہمیں دیکھ رہے تھے، مگر اس وقت ہمیں دنیا کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
ہم انہیں اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ جب ابو نے دروازہ کھولا اور برسوں بعد رخسانہ کو دیکھا تو چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گئے۔ ان کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ نفرت، بلکہ صرف افسوس تھا۔ انہوں نے دھیرے سے کہا، “زندگی انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔”
رخسانہ نے ان کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگی، مگر ابو نے انہیں اٹھاتے ہوئے صرف اتنا کہا، “میں نے تمہیں بہت پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے معاف کر دیا تھا۔”
وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے عجیب لمحہ تھا۔ ایک ٹوٹا ہوا خاندان اگرچہ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا تھا، لیکن اس دن نفرت کے بجائے معافی نے ہمارے دلوں میں جگہ بنا لی۔
چند دن بعد میری شادی کا دن آ گیا۔ رخسانہ بھی اس شادی میں شریک ہوئیں۔ وہ دور ایک کونے میں بیٹھی اپنی بیٹی کو رخصت ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے، شاید اس لیے کہ وہ جانتی تھیں کہ آج وہ تمام خوشیاں ان کے سامنے تھیں جنہیں انہوں نے کبھی اپنی غلطیوں کی وجہ سے خود کھو دیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ شادی کے بعد میری زندگی میں پہلی بار حقیقی سکون آنے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ میرے صبر کا ایسا صلہ دینے والا ہے جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
شادی کے دن جب میری رخصتی کا وقت آیا تو میرے دل میں کئی طرح کے جذبات ایک ساتھ موجزن تھے۔ ایک طرف اپنے باپ کا گھر چھوڑنے کا غم تھا، تو دوسری طرف ایک انجانا خوف کہ نہ جانے میری نئی زندگی کیسی ہوگی۔ میں نے اپنے ابو سلیم احمد کی طرف دیکھا۔ وہ لوگوں کے درمیان کھڑے مسکرانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ان کی آنکھوں میں آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ میری ہر تکلیف اپنے سینے میں چھپا لی تھی، مگر آج اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت ان کا دل بھی بھر آیا تھا۔ میں ان کے گلے لگ کر بہت روئی۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، “بیٹی، زندگی میں حالات جیسے بھی ہوں، کبھی اللہ تعالیٰ سے امید مت چھوڑنا۔ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ ایسی آسانیاں پیدا کرتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔”
میرے شوہر حمزہ نے رخصتی کے وقت خاموشی سے میرا سامان اٹھایا اور بہت احترام کے ساتھ مجھے گاڑی تک لے گئے۔ پورے راستے انہوں نے ایک بھی ایسا لفظ نہیں کہا جس سے مجھے اجنبیت محسوس ہوتی۔ جب ہم اپنے چھوٹے سے گھر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر کہا، “یہ محل تو نہیں، لیکن آج سے یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ تمہیں کبھی یہ احساس نہ ہو کہ تم ایک اجنبی جگہ پر آئی ہو۔” ان کے یہ چند الفاظ میرے دل کو عجیب سا سکون دے گئے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ عزت اور محبت کا تعلق دولت سے نہیں بلکہ انسان کے کردار سے ہوتا ہے۔
ابتدائی چند دنوں میں مجھے ہر وقت یہی خوف رہتا تھا کہ کہیں یہاں بھی میری معمولی سی غلطی پر ڈانٹ نہ پڑے، کہیں پھر سے مجھ پر الزام نہ لگا دیا جائے، یا کہیں میری زندگی ایک بار پھر آزمائشوں میں نہ گھِر جائے۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ حمزہ کے حسنِ اخلاق نے میرے تمام خدشات دور کر دیے۔ اگر میں تھک جاتی تو وہ خود پانی بھر لاتے، اگر میری طبیعت خراب ہوتی تو کھانا بھی خود بنا لیتے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے، “شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے رحمت ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر بوجھ نہیں۔”
میں کئی مرتبہ خاموش بیٹھ کر سوچتی کہ ایک ہی معاشرے میں دو انسانوں کے رویے کتنے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھے ہمیشہ بوجھ سمجھا، اور دوسری طرف حمزہ تھے جو ہر لمحہ مجھے عزت اور محبت دیتے تھے۔ تب مجھے یقین ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ آزمائش ضرور دیتا ہے، لیکن اگر بندہ صبر کرے تو اس کے بعد رحمتوں کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔
ادھر میرے ابو تنہا رہ گئے تھے۔ اگرچہ شازیہ اب بھی اسی گھر میں موجود تھیں، مگر میں جانتی تھی کہ ان کے دل میں میرے لیے کبھی محبت پیدا نہیں ہوئی۔ میں اکثر اپنے شوہر سے کہتی کہ مجھے ابو کی بہت فکر رہتی ہے۔ حمزہ ہمیشہ جواب دیتے، “وہ صرف تمہارے ابو نہیں، اب میرے بھی ابو ہیں۔ جب چاہو ان سے مل آؤ، اور اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بتانا۔” ان کی یہ بات سن کر میرا دل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر سے بھر جاتا۔
چند دن بعد مجھے بازار میں اپنی ماں رخسانہ کی بے بسی یاد آنے لگی۔ وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے بار بار آتا، جب وہ پھٹے ہوئے کپڑوں میں سڑک کنارے بیٹھی تھیں اور اپنے ماضی پر آنسو بہا رہی تھیں۔ ایک دن میں نے ہمت کر کے حمزہ سے کہا، “اگر آپ اجازت دیں تو میں امی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں۔ ان سے بہت غلطیاں ہوئیں، لیکن اب وہ بالکل بے سہارا ہیں۔”
حمزہ نے میری بات خاموشی سے سنی، پھر مسکراتے ہوئے بولے، “مریم، اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کر سکتا ہے تو ہم انسان ایک دوسرے کو کیوں معاف نہیں کر سکتے؟ اگر تمہارے دل میں ان کے لیے جگہ ہے تو ہمارے گھر میں بھی ان کے لیے جگہ ضرور ہے۔”
حمزہ کی اس بات نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ اگلے ہی دن ہم دونوں رخسانہ کو لینے گئے۔ جب ہم نے ان سے کہا کہ اب وہ ہمارے ساتھ رہیں گی تو وہ حیرت سے ہمیں دیکھتی رہ گئیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بار بار کہہ رہی تھیں، “بیٹی، میں اس قابل نہیں ہوں۔ میں نے تمہیں ماں کا پیار نہیں دیا، پھر بھی تم مجھے اپنے گھر لے جا رہی ہو۔”
میں نے ان کے ہاتھ تھام لیے اور آہستہ سے کہا، “امی، اگر میں بھی آپ کو چھوڑ دوں تو پھر میرے اور آپ میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ جو درد میں نے برداشت کیا، وہ میں کسی اور کو نہیں دینا چاہتی۔”
اس دن کے بعد رخسانہ ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ ابتدا میں وہ ہر وقت شرمندگی کے احساس میں مبتلا رہتیں۔ اگر میں ان کے لیے چائے بنا دیتی تو ان کی آنکھیں بھر آتیں۔ اگر میں ان کے سر میں تیل لگا دیتی تو وہ خاموشی سے رونے لگتیں۔ ایک دن انہوں نے کہا، “بیٹی، تم میری خدمت کیوں کرتی ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ کبھی ماں جیسا سلوک نہیں کیا۔”
میں نے ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا، “امی، اولاد اگر صرف اچھے وقت میں والدین کا ساتھ دے تو یہ محبت نہیں، سودا ہوتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے اجر چاہتی ہوں، اس لیے آپ کی خدمت کرتی ہوں۔”
رخسانہ نے اس دن پہلی بار سکون کا سانس لیا۔ شاید برسوں بعد انہیں احساس ہوا کہ سچی محبت دولت، خوبصورتی یا آسائشوں میں نہیں بلکہ معافی، خلوص اور اپنائیت میں ہوتی ہے۔
ادھر میرے بھائی احسن کی زندگی ابھی بھی مشکلات سے بھری ہوئی تھی۔ غلط صحبت نے اسے نشے کی طرف دھکیل دیا تھا۔ ایک دن وہ مجھ سے ملنے آیا تو اس کی حالت دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ چہرہ زرد تھا، آنکھیں بجھی ہوئی تھیں اور جسم کمزور ہو چکا تھا۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور بچپن کی وہ تمام باتیں یاد دلائیں جب وہ میری حفاظت کیا کرتا تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “بھائی، اگر ہم نے اتنی بڑی بڑی آزمائشیں برداشت کر لی ہیں تو کیا ہم اس برائی کو نہیں چھوڑ سکتے؟ اللہ تعالیٰ آج بھی اپنے بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔”
احسن خاموشی سے میری بات سنتا رہا۔ پھر اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا، “مریم، میں تھک گیا ہوں۔ میں دوبارہ وہی احسن بننا چاہتا ہوں جو اپنے ابو کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھا۔”
اس دن کے بعد احسن نے نشہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں اسے بہت تکلیف ہوئی، لیکن ابو، میں اور حمزہ ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑے رہے۔ کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد وہ اس بری عادت سے نکل آیا۔ اس نے دوبارہ محنت شروع کی، اپنے لیے ایک باعزت روزگار تلاش کیا اور آہستہ آہستہ اپنی زندگی سنوار لی۔ جب میں نے برسوں بعد اس کے چہرے پر حقیقی مسکراہٹ دیکھی تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے بھائی کو تباہی کے راستے سے واپس لوٹا دیا۔
کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر کو ایک اور خوشی سے نوازا۔ میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ جب میں نے پہلی بار اپنی ننھی سی بیٹی کو گود میں لیا تو میرے ذہن میں فوراً اپنا بچپن آ گیا۔ میں نے دل میں عہد کیا کہ میں اپنی بیٹی کو کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دوں گی، کبھی اسے محبت سے محروم نہیں رکھوں گی، اور کبھی اپنی خواہشات کو اس کی خوشیوں پر قربان نہیں ہونے دوں گی۔
رخسانہ اپنی نواسی کو گود میں لے کر دیر تک روتی رہیں۔ انہوں نے کہا، “بیٹی، اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرا موقع دے دیا ہے۔ شاید میں اپنی نواسی سے وہ محبت کر سکوں جو میں تمہیں نہ دے سکی۔”
میں نے مسکرا کر جواب دیا، “امی، ماضی کو کوئی نہیں بدل سکتا، لیکن اگر انسان سچی توبہ کر لے تو وہ اپنا آنے والا کل ضرور بدل سکتا ہے۔”
آج جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس وقت میں نفرت کو اپنا مقدر بنا لیتی، اگر میں معاف نہ کرتی، اگر میں صبر کا دامن چھوڑ دیتی، تو شاید آج میرے پاس یہ سکون نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا کہ ہر آزمائش کے بعد آسانی ہے، ہر اندھیری رات کے بعد روشن صبح ضرور آتی ہے، اور ہر آنسو کا ایک دن ضرور حساب ہوتا ہے۔
میں آج بھی ہر نماز کے بعد اپنے والد سلیم احمد کے لیے دعا کرتی ہوں، جنہوں نے ایک باپ ہونے کا حق ادا کیا۔ میں اپنی ماں رخسانہ کے لیے بھی دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ میں اپنے بھائی احسن کے لیے دعا کرتی ہوں کہ وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رہے، اور اپنے شوہر حمزہ کے لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت کی تمام خوشیاں عطا فرمائے، کیونکہ انہوں نے مجھے صرف ایک گھر نہیں، بلکہ عزت، محبت اور سکون سے بھرپور نئی زندگی دی۔

ختم شد