Urdu Short Stories 17

تیرے عشق کی چھاؤں میں – آخری قسط نمبر 17

سینٹرل جیل کے ہائی سیکیورٹی بلاک کی بیرک نمبر نو میں اج دوسری صبح طلوع ہو چکی تھی، لیکن سارنگ شاہ کے لیے یہ صبح کسی بھیانک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ بیرک کی سیم زدہ اونچی دیواروں پر اگی ہوئی کائی اور لوہے کے زنگ آلود موٹے سلاخوں کے پار سے آنے والی دھوپ اج اس کے جسم کو تپانے کی بجائے اس کے دل میں خنکی پیدا کر رہی تھی۔ وہ رات بھر جیل کے اس سخت، پتھریلے فرش پر اکیلا جاگتا رہا تھا۔ اس کا ریشمی سوٹ اب دھول اور پسینے کی بدبو سے اٹا ہوا تھا، اور اس کے دائیں ہاتھ پر بندھی ہسپتال کی سفید پٹی اب میلی ہو کر نیچے لٹک رہی تھی، جس کے نیچے گولی کا زخم رہ رہ کر ٹیسیں مار رہا تھا۔ چولستان کا وہ فرعون جس کی ایک للکار پر غریب مزارعوں کے سانس تھم جاتے تھے، اج بیرک کے ایک اندھیرے کونے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔
ابھی صبح کے آٹھ ہی بجے تھے کہ بیرک کے لوہے کا بھاری دروازہ ایک ہولناک آواز کے ساتھ کھلا۔ جیل کا ایک تندخو وارڈن، ہاتھ میں چمڑے کا موٹا چابک لہراتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے دو مشقت کرنے والے پرانے قیدی تھے جن کے ہاتھوں میں لوہے کی بالٹیاں تھیں جن میں جیل کا بدبودار، پیلا دلیہ بھرا ہوا تھا۔
“اوئے قیدی نمبر 420! اٹھ۔۔۔ اور اپنا راشن سنبھال!” وارڈن نے سارنگ شاہ کو جوتے کی نوک مارتے ہوئے کرخت آواز میں کہا۔
سارنگ شاہ نے جھٹکے سے اپنا سر اٹھایا، اس کی سرخ، سوجی ہوئی آنکھوں میں ایک پل کے لیے وہی پرانا جاگیردارانہ غصہ ابھرا، “تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں؟ میں سارنگ شاہ ہوں! حویلی کا وارث! میری بڑی امی اگر چاہیں تو تمہاری یہ نوکری ایک منٹ میں ختم کروا سکتی ہیں! مجھے یہ گندا کھانا نہیں چاہیے، میرے لیے شہر کے سب سے بڑے ہوٹل سے کھانا منگواؤ!”
وارڈن نے ایک قہقہہ لگایا، وہ مکارانہ قہقہہ بیرک کی چھت سے ٹکرا کر گونجا، “شاہ صاحب! حویلی کے فرعون ہوں گے آپ اپنے چولستان میں، یہ بہاولپور کی سینٹرل جیل ہے۔ یہاں قانون کے کوڑے کے آگے بڑے بڑے جاگیرداروں کی چربی پگھل جاتی ہے۔ یہ جو ہاتھ پر پٹی باندھے بیٹھے ہو ناں، اگر چپ چاپ یہ دلیہ نہ چاٹا، تو کل سے بیرک کی صفائی کی مشقت پر لگا دوں گا۔ اور ہاں! تمہاری وہ بڑی امی اج کل خود حویلی کے دروازے بند کر کے بیٹھی ہیں، تمہارا وہ کلو کامران احمد اج صبح سے روپوش ہے۔ اس لیے اپنا یہ جاگیردارانہ غرور اس گندے فرش پر ہی ڈھیر کر دو تو تمہارے لیے اچھا ہوگا!”
وارڈن کے جانے کے بعد، بیرک کے دوسرے کونے میں بیٹھے مزارعوں کے رشتے دار، جو سارنگ شاہ کے ظلم کا شکار ہو کر یہاں پہنچے تھے، آہستہ آہستہ سارنگ شاہ کے گرد گھیراؤ کرنے لگے۔ ان کے چہروں پر صدیوں کے انتقام کی چمک تھی اور ان کے کھردرے، مضبوط ہاتھ سارنگ شاہ کے گریبان کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ سارنگ شاہ خوف سے دیوار کے ساتھ لگ گیا، اسے زندگی میں پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ جب مظلوم کو طاقت ملتی ہے، تو ظالم کا حشر کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف، جھگیان چولستان کی اس بلند و بالا کالی حویلی کے اندر اج فضا اتنی بھاری تھی کہ سانس لینا بھی محال تھا۔ دیوان خاص کے تمام پردے گرا دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے دن کے اجالے میں بھی وہاں رات کا گمان ہوتا تھا۔ شاہینہ بیگم اپنے بڑے ساگوان کے تخت پر بالکل سیدھی بیٹھی تھیں، ان کی کمر اج جھکی ہوئی نہیں تھی بلکہ غصے سے تنی ہوئی تھی۔ ان کے چہرے پر پڑی جھریاں اج انتقام کے کالے نقش و نگار بن چکی تھیں۔ ان کے سامنے کامران احمد، جو رات بھر شہر کے مختلف ٹھکانوں پر چھپنے کے بعد اج صبح ہی خاموشی سے حویلی لوٹا تھا، سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑ چکی تھیں اور اس کی عینک کے پیچھے چھپی آنکھوں میں قانون کا خوف صاف دیکھا جا سکتا تھا۔
“بڑی امی۔۔۔ بہرام خان کے غنڈے ناکام ہو گئے،” کامران نے لرزتی ہوئی آواز میں اعتراف کیا، “رات کے اندھیرے میں جب انہوں نے کچے کوٹ کی سرحد پر بانو کی گاڑی کو گھیرا، تو چولستان کے مزارعے مشعلیں اور کلہاڑیاں لے کر امڈ آئے۔ وہ بیٹی بانو کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ بہرام خان کو اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ اور بڑی امی۔۔۔ ملٹری ہسپتال سے خبر آئی ہے کہ صلاح الدین احمد اب بالکل ٹھیک ہو چکا ہے، اس نے پولیس کو اپنا وہ بیان ریکارڈ کروا دیا ہے جو ہماری حویلی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گا۔ افتخار احمد نے رینجرز کی نفری مانگ لی ہے، قانون اب کسی بھی وقت حویلی کے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔”
شاہینہ بیگم نے سارنگ شاہ کے جیل جانے اور بانو پر حملے کی ناکامی کی یہ خبر سن کر اپنی دونوں مٹھیاں اتنے زور سے بھینچیں کہ ان کے ناخن ان کی اپنی بوڑھی ہتھیلیوں میں چبھ گئے اور وہاں سے خون کی ایک باریک سی لکیر نکل کر ان کے ریشمی دوپٹے پر گر گئی۔ وہ تخت سے اٹھیں، ان کے بھاری، شاہانہ جوتوں کی آواز پورے دیوان میں گونجی۔ وہ چلتی ہوئی کامران احمد کے بالکل سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں، ان کی آنکھوں میں اج ممتا کی تڑپ اور جاگیرداری کا آخری غرور ایک ساتھ دہک رہا تھا۔
“کامران احمد۔۔۔!!!” شاہینہ بیگم کے الفاظ دیوان کے ستونوں سے ٹکرا کر کسی خونی الٹی میٹم کی طرح گونجے، “میری بات بہت کان کھول کر سن لو! وہ مزارعے کی دھی بانو اور وہ کچے کوٹ کا وکیل صلاح الدین۔۔۔ ان دونوں نے مل کر میرے اکلوتے بیٹے کو، میری حویلی کے وارث کو جیل کی اس گندی کوٹھڑی میں پہنچایا ہے جہاں اج چولستان کا سورج سارنگ شاہ کی ذلت پر ہنس رہا ہے۔ اگر وہ بانو اور صلاح الدین زندہ رہے، تو میں اس ستر سالہ اونچی حویلی کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دوں گی! میں جاگیرداری کا یہ جنازہ اپنی ان بوڑھی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتی!”
شاہینہ بیگم نے کامران کے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا اور اس کی آنکھوں میں اپنی پوری درندگی انڈیلتے ہوئے بولیں، “مجھے اب تمہاری عدالتوں کا کوئی فیصلہ نہیں چاہیے، مجھے اب تمہارے ان بزدل وکیلوں کے مشورے نہیں چاہئیں! میں تمہیں آخری الٹی میٹم دے رہی ہوں۔۔۔ صلاح الدین ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر کچے کوٹ واپس آ رہا ہے ناں؟ اس سے پہلے کہ وہ مزارعوں کے سر پر ہاتھ رکھے، مجھے ان دونوں کی لاشیں اس حویلی کے سامنے چولستان کی ریت پر چاہئیں! اگر تم نے یہ کام نہ کیا، تو یاد رکھنا، سارنگ کے بعد اس حویلی کی جائیداد میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہوگا! جاؤ، اور بہرام خان سے کہو کہ اب وہ رات کے اندھیرے کا انتظار نہ کرے، اب مزارعوں کی اس کچی بستی پر بارود کا وہ طوفان لے کر جائے جو پورے کچے کوٹ کو ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بنا دے!”
کامران احمد نے جب شاہینہ بیگم کا یہ آخری اور ہولناک الٹی میٹم سنا، تو اس کے چہرے کا خوف آہستہ آہستہ ایک شیطانی مسکراہٹ میں بدل گیا۔ اس نے سر جھکا کر کہا، “بڑی امی! آپ کا یہ حکم اب چولستان کی ریت کو مزارعوں کے خون سے لال کر دے گا۔ میں اج ہی بہرام خان کو حویلی کا سب سے بڑا اسلحہ خانہ سونپ رہا ہوں۔ اگلی صبح کچے کوٹ کی آزادی کی نہیں، بلکہ ان کے قبرستان کی گواہ بنے گی!”
چولستان کے افق پر تیسری شام اپنے پورے حسن کے ساتھ اتر رہی تھی۔ سورج کی آخری سنہری اور تانبے جیسی سرخ شعاعیں جب مزارعوں کی کچی بستی، یعنی اس کچے کوٹ کی مٹی کی دیواروں اور جھگیوں پر پڑیں، تو پورا ماحول سنہرا ہو گیا۔ چولستان کی ریتلی ہوا اج پرسکون تھی، جیسے وہ بھی کسی بڑے اور معزز مہمان کے استقبال کے لیے ٹھہر گئی ہو۔ بستی کے داخلے پر، جہاں کیکر کے پرانے درختوں کے سائے پھیلے ہوئے تھے، اج پورے کچے کوٹ کے مزارعے، عورتیں اور بچے ایک بہت بڑی صف بنائے کھڑے تھے۔ ان سب کی نظریں اس کچے راستے پر جمی ہوئی تھیں جو بہاولپور شہر سے دیہات کی طرف آتا تھا۔
اچانک دور سے دھول کا ایک غبار اڑتا ہوا دکھائی دیا اور افتخار احمد کی وہ بڑی کالی سرکاری گاڑی رینجرز کے دو محافظوں کی گاڑیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ بستی کی طرف بڑھنے لگی۔ جیسے ہی گاڑی کچے کوٹ کی سرحد کے اندر داخل ہوئی، شوکت اور بستی کے جوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھومر شروع کر دیا اور فضا “سائیں صلاح الدین زندہ باد!” کے نعروں سے گونج اٹھی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا۔ افتخار احمد خود باہر نکلے اور انہوں نے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے وہیل چیئر کو باہر نکالا۔ صلاح الدین، جس کے سفید کرتے کے نیچے سے اس کے کندھے اور چھاتی پر بندھی ہوئی ہسپتال کی سفید پٹیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں، انتہائی نقاہت مگر چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ لیے وہیل چیئر پر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ ہسپتال کی بیماری کی وجہ سے تھوڑا زرد تھا، لیکن اس کی آنکھوں کی وہ چمک، جو غریبوں کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتی تھی، اج پہلے سے بھی زیادہ تیز تھی۔
بانو کی اماں اور دادی جو کہ صلاح الدین کے گھر موجود تھے جن کو اللہ دتہ کے اغوا ہونے کے بعد بہاولپور بلوا لیا گیا تھا وہ بھی اب صلاح الدین کے ساتھ واپس کچے کوٹ لوٹ آئے تھے۔
اللہ دتا اور بابا رحیمو آگے بڑھے اور انہوں نے صلاح الدین کے کندھوں پر چولستان کا روایتی اجرک ڈالا۔ مزارعوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، وہ اپنے اس سائیں کے پیروں کو چھونے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے جس نے حویلی کے فرعون کے سامنے ان کی غیرت کی خاطر اپنی چھاتی پر گولی کھائی تھی۔
“سائیں! اج کچے کوٹ کی مٹی دھنی ہو گئی ہے،” بابا رحیمو نے لرزتے ہاتھوں سے صلاح الدین کا ہاتھ تھام کر کہا، “ہمیں لگتا تھا کہ حویلی کے کالے سائے ہمیں ہمیشہ کے لیے نگل جائیں گے، لیکن آپ کے اس خون نے اج ہماری نسلوں کو آزاد کروا دیا ہے۔”
صلاح الدین نے بابا رحیمو کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا اور انتہائی دھیمی مگر مضبوط آواز میں کہا، “بابا! یہ آزادی ابھی شروعات ہے۔ میں نے ہسپتال میں قانون کے سامنے جو بیان درج کروایا ہے، وہ بہت جلد اس کالی حویلی کی غیر قانونی جائیدادیں آپ سب کے نام منتقل کروا دے گا۔ آپ اب مزارعے نہیں، اپنی مٹی کے مالک بنیں گے۔”
اس پورے ہجوم اور نعروں کے درمیان، صلاح الدین کی نظریں بستی کے اس سب سے بڑے کچے دالان کی طرف اٹھیں، جہاں بانو کھڑی تھی۔
بانو، جس نے اج ایک سادہ لیکن صاف ستھری گلابی چادر اوڑھ رکھی تھی، دالان کے مٹی کے ستون سے ٹیک لگائے خاموش کھڑی تھی۔ اس کے ماتھے کا زخم اب بھر رہا تھا، لیکن اس کی بڑی چولستانی آنکھوں میں اپنے سائیں کو صحیح سلامت اپنے سامنے دیکھ کر ایک ایسا جذباتی طوفان تھا جسے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھ رکھے تھے اور اس کے ہونٹ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔
صلاح الدین نے عثمان کو اشارہ کیا، اور عثمان نے آہستہ سے اس کی وہیل چیئر کو بانو کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ جیسے ہی وہیل چیئر بانو کے بالکل قریب آ کر رکی، بستی کے لوگ احتراماً تھوڑا پیچھے ہٹ گئے، تاکہ ان دونوں کو کچھ پل کا سکون مل سکے۔ چولستان کی شام کی ٹھنڈی ہوا ان دونوں کے درمیان سے گزر رہی تھی اور پس منظر میں ڈھول کی آواز اب مدہم ہو چکی تھی۔
صلاح الدین نے سر اٹھا کر بانو کو دیکھا۔ چند سیکنڈ تک دونوں کے درمیان کوئی لفظ نہیں گونجا، صرف آنکھوں کے راستے دلوں کا احوال منتقل ہو رہا تھا۔ صلاح الدین نے اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی، جس کے اندر بانو کا وہ گلابی آنچل کا ٹکڑا اب بھی محفوظ تھا جو اس نے حویلی کے عقوبت خانے میں پایا تھا، اور بانو کے ہاتھ میں صلاح الدین کا وہ کالا رومال تھا جو وہ ہسپتال سے اپنے ساتھ لائی تھی۔
“بانو۔۔۔!” صلاح الدین کی آواز میں سرائیکی مٹھاس اور گہرا رومانوی لمس تھا، “میں نے ہسپتال میں تمہارے وہ الفاظ سنے تھے، جو تم نے میرے دل پر ہاتھ رکھ کر کہے تھے۔ اج چولستان کی اس شام کے سائے میں، میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ یہ صلاح الدین جو کبھی قانون کی کتابوں کا قیدی تھا، وہ اج سے چولستان کی اس ریت پر تمہارے عشق کی چھاؤں کا اسیر ہو چکا ہے۔”
بانو نے جب اپنے سائیں کے منہ سے یہ الفاظ دوبارہ سنے، تو اس کی آنکھوں کے بندھن ٹوٹ گئے اور دو موٹے آنسو نکل کر اس کے گلابی گالوں پر بہہ گئے۔ وہ آہستہ سے صلاح الدین کے بیڈ کی طرح یہاں بھی وہیل چیئر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، لیکن اس بار اس نے حیا سے اپنے سر کو جھکا لیا۔
“سائیں!” بانو نے دھیمی اور رقت آمیز آواز میں کہا، “آپ نے اس کچے کوٹ کو جو مان دیا ہے، اس کا حساب یہ غریب مزارعے زندگی بھر نہیں اتار سکتے۔ بانو تو بس اب آپ کے نام کا کلمہ پڑھ چکی ہے سائیں! جب تک اس چولستان کی ریت پر ہوا چلتی رہے گی، یہ بانو اپنے سائیں صلاح الدین کے رنگ میں ہی رنگی رہے گی۔”
صلاح الدین نے اپنا کمزور ہاتھ بانو کے سر پر رکھا، اس کا لمس بانو کے وجود میں ایک نئی زندگی پھونک رہا تھا۔ افتخار احمد اور عثمان دور کھڑے اس منظر کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ عشق اب صرف دو دلوں کا نہیں، بلکہ پورے کچے کوٹ کی بقا کا ضامن بن چکا ہے۔
لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ اسی شام، حویلی کے پچھلے دروازے سے کامران احمد اور بہرام خان کے جلادوں کی تین گاڑیاں، جن میں خودکار ہتھیار اور بارود کے ڈبے بھرے ہوئے تھے، کچے کوٹ کی پچھلی سرحد یعنی چولستان کے اندھیرے ٹیلوں کی طرف روانہ ہو چکی تھیں۔ شاہینہ بیگم کا دیا ہوا وہ خونی الٹی میٹم اب رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر مزارعوں کی اس بستی پر موت کا نچلا سا سایہ پھیلانے کے لیے تیار تھا!
رات کے گیارہ بجے چولستان کے صحرا پر اندھیرے کی ایک دبیز، کالی اور پراسرار چادر تن چکی تھی۔ شام کی وہ ٹھنڈی اور پرسکون ہوا اب ایک سائیں سائیں کرتی تیز ریتلی آندھی میں بدل رہی تھی، جو مزارعوں کی کچی جھگیوں کی چھتوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سا ہولناک شور پیدا کر رہی تھی۔ بستی کے مرکز میں، جہاں کچھ دیر پہلے جشن کے ڈھول گونج رہے تھے، اب وہاں صرف مٹی کے چولہوں سے اٹھتا ہوا مدہم دھواں اور جلتی ہوئی لکڑیوں کی چٹخنے کی آوازیں باقی رہ گئی تھیں۔ بستی کے تمام مزارعے، عورتیں اور بچے حویلی کے خوف سے آزاد ہو کر اج مہینوں بعد ایک پرسکون نیند سو رہے تھے، لیکن کچے کوٹ کی بیرونی سرحدوں پر ماحول بالکل مختلف تھا۔
افتخار احمد کے حکم پر، رینجرز کے چار مسلح جوان اور بستی کے دس تندرست مزارعے، جن کی قیادت شوکت اور عثمان (جس کا بازو پٹی میں جکڑا ہوا تھا) کر رہے تھے، ہاتھوں میں پرانی بندوقیں اور تیز مشعلیں لیے کیکر کے درختوں کی اوٹ میں پہرہ دے رہے تھے۔ عثمان بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا اور اس کی نظریں سامنے پھیلے اندھیرے ٹیلوں پر جمی ہوئی تھیں، جہاں ریت کے بگولے چاند کی روشنی کو مسخ کر رہے تھے۔
“شوکت بھائی! پہرہ سخت رکھنا،” عثمان نے دھیمی اور سنجیدہ آواز میں کہا، اس نے بائیں ہاتھ سے اپنی پستول کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا، “شاہینہ بیگم اور کامران احمد اتنی آسانی سے اپنی شکست تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ سارنگ شاہ کا جیل جانا حویلی کی انا پر وہ کاراری ضرب ہے جس کا بدلہ وہ پورے کچے کوٹ کو مٹا کر لینا چاہیں گے۔”
“تم فکر نہ کرو عثمان بھائی،” شوکت نے اپنی کلہاڑی کو کندھے پر ٹکاتے ہوئے غصیلے لہجے میں کہا، “بستی کا بچہ بچہ اج جاگ رہا ہے۔ اگر حویلی کے کتوں نے دوبارہ اس مٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، تو چولستان کی یہ ریت ان کی قبر بن جائے گی۔”
دوسری طرف، بستی کے سب سے محفوظ کچے کمرے میں، جہاں مٹی کے دیپ کی زرد روشنی دیواروں پر رقص کر رہی تھی، صلاح الدین اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے لکڑی کی ایک چھوٹی میز پر قانون کی وہ پرانی کتابیں اور کچھ نئے کاغذات بکھرے ہوئے تھے، جن پر وہ چولستان کی زمینوں کے اصل مالکان یعنی ان غریب مزارعوں کے نام درج کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تو تھی، لیکن ایک عجیب سا سکون تھا جو اس کے پورے وجود سے جھلک رہا تھا۔ بانو اس کے بالکل قریب فرش پر بیٹھی، مٹی کے دیپ کی لو کو درست کر رہی تھی تاکہ اس کے سائیں کی آنکھوں پر زور نہ پڑے۔
“سائیں۔۔۔ اب رات بہت ہو گئی ہے، آپ کو آرام کرنا چاہیے،” بانو نے محبت اور فکر سے ڈوبے لہجے میں کہا، اس کی بڑی چولستانی آنکھیں صلاح الدین کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، “ڈاکٹر سائیں نے کہا تھا کہ گولی کا زخم ابھی پوری طرح نہیں بھرا، زیادہ جاگنے سے آپ کی طبیعت پھر خراب ہو سکتی ہے۔”
صلاح الدین نے اپنی کتاب بند کی اور وہیل چیئر کو تھوڑا گھما کر بانو کے بالکل سامنے لے آیا۔ اس نے بانو کے ماتھے پر لگے اس زخم کو دیکھا جو اب آہستہ آہستہ بھر رہا تھا، پھر اس نے بانو کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مٹی کے دیپ کی زرد روشنی میں ان دونوں کے سائے کچی دیوار پر ایک دوسرے میں پیوست دکھائی دے رہے تھے۔
“بانو، جب تک میں ان مزارعوں کو ان کی زمینوں کا حق نہیں دلا دیتا، اس صلاح الدین کو آرام نہیں ائے گا،” صلاح الدین کی آواز میں وہ سرائیکی مٹھاس ابھری جو بانو کے دل کی دھڑکنیں تیز کر دیتی تھی، “اور پھر۔۔۔ اب تو میرے پاس میرے عشق کی وہ چھاؤں بھی ہے جو مجھے ہر درد، ہر تھکن سے دور کر دیتی ہے۔ بانو، تم نے عدالت میں جو جرات دکھائی، اس نے مجھے زندگی کی طرف واپس لوٹنے پر مجبور کیا۔ اگر تم نہ ہوتیں، تو شاید یہ صلاح الدین اج اس کچے کوٹ میں زندہ نہ بیٹھا ہوتا۔”
بانو نے حیا سے اپنی پلکیں جھکا لیں، اس کے گالوں پر مٹی کے دیپ کی روشنی سے بھی زیادہ سرخ حیا کی لالی ابھر آئی۔ اس نے صلاح الدین کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “سائیں! بانو تو بس آپ کے رنگ میں رنگ چکی ہے۔ آپ میرا مان ہو سائیں، اور اپنے مان کی خاطر اگر مجھے اپنی جان بھی دینی پڑتی، تو بانو پیچھے نہ ہٹتی۔ اب تو بس یہ زندگی آپ کے نام کی مالا جپتی رہے گی۔”
ابھی ان دونوں کے درمیان یہ گہرا اور رومانوی لمحہ چل ہی رہا تھا کہ اچانک بستی کی پچھلی سرحد سے، جہاں چولستان کے سب سے اونچے ریت کے ٹیلے تھے، ایک ہولناک اور تیز سیٹی کی آواز گونجی۔ وہ مزارعوں کے پہرے داروں کا سگنل نہیں تھا، بلکہ موت کی دستک تھی۔
سسسسسسیییییٹٹیییی۔۔۔!!!
اور اس کے فوراً بعد، رات کے اس مہیب اندھیرے کو چیرتی ہوئی گولیوں کی ایک اندھا دھند بوچھاڑ کچے کوٹ کی جھگیوں پر شروع ہو گئی۔
ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ دنا دن دن۔۔۔!!!
کمرے کے باہر عورتوں کی چیخیں اور بچوں کے رونے کی آوازیں یکلخت گونج اٹھیں۔ کامران احمد اور بہرام خان کے جلاد، جن کی تین گاڑیاں رات کے اندھیرے میں بستی کے پچھلے راستے سے داخل ہوئی تھیں، انہوں نے کچے گھروں پر پٹرول کے بم پھینکنا شروع کر دیے تھے۔ سیکنڈوں کے اندر، مزارعوں کی کئی جھگیاں آگ کے بلند شعلوں میں تبدیل ہو گئیں، اور چولستان کی سیاہ رات کا آسمان اجاڑ لال روشنی سے بھر گیا۔
“حملہ ہوا ہے۔۔۔ حویلی کے غنڈوں نے حملہ کر دیا ہے! سب باہر نکلو!” شوکت کی چیخنے کی آواز گونجی، جس کے بعد بارود کا ایک زوردار دھماکہ ہوا جس نے کچے کوٹ کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔
صلاح الدین نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ بانو سے چھڑایا، اس کے چہرے کی وہ رومانوی نرمی ایک پل میں غائب ہو گئی اور اس کی جگہ ایک وکیل اور ایک محافظ کا جلال ابھر آیا۔ اس نے وہیل چیئر کے پہیوں کو مضبوطی سے تھاما اور بانو کی طرف دیکھ کر چلایا:
“بانو! ابا کو لے کر فورا بستی کے پکے دالان کے اندر چھپ جاؤ! حویلی کا آخری کالا طوفان آ چکا ہے، اور اب ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہوگا!”
بانو نے صلاح الدین کا کالا رومال اپنے دوپٹے میں اڑسا اور اپنی لاٹھی اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں اج خوف کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
بارود کے دھماکے سے اٹھنے والی آگ کی سرخ اور نارنجی لپٹیں چولستان کے کالے آسمان کو چھو رہی تھیں۔ کچے کوٹ کی تین جھگیاں سیکنڈوں میں راکھ کا ڈھیر بن چکی تھیں اور فضا میں پٹرول، جلتی ہوئی لکڑیوں اور بارود کی کڑوی بو پھیل چکی تھی۔ بہرام خان کے خاندانی جلادوں نے اپنی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس آن کر رکھی تھیں، جن کی تیز سفید روشنی دھویں کے غبار کو چیرتی ہوئی مزارعوں کے کچے دالان پر پڑ رہی تھی۔ وہ کلاشنکوفوں سے اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے، اور گولیوں کے تپتے ہوئے لوہے کے ٹکڑے مٹی کی دیواروں کو چھیدتے ہوئے نکل رہے تھے۔
“کوئی بھی مزارعہ زندہ نہ بچ کر جائے! شاہینہ بیگم کا حکم ہے، پورے کچے کوٹ کو قبرستان بنا دو!” بہرام خان نے ریت کے ایک اونچے ٹیلے کے پیچھے کھڑے ہو کر بلند آواز میں اپنے غنڈوں کو شہ دی، اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی آٹومیٹک گن مسلسل آگ اگل رہی تھی۔
لیکن حویلی کے یہ غنڈے اج ایک بہت بڑی غلطی کر بیٹھے تھے۔ وہ بھول گئے تھے کہ یہ وہ پرانا، خوفزدہ کچا کوٹ نہیں تھا جس کے مزارعے حویلی کے کوڑوں کے آگے جھک جاتے تھے۔ یہ وہ کچا کوٹ تھا جسے صلاح الدین کے خون نے غیرت دی تھی اور بانو کے عدالتی جلال نے حوصلہ دیا تھا۔
ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔!!!
کیکر کے پرانے درخت کی اوٹ سے عثمان کی پستول گونجی اور بہرام خان کے ایک سب سے قریبی شوٹر کے ماتھے کے عین درمیان گولی لگی۔ وہ ایک ہولناک چیخ مار کر ریت پر گرا اور اس کا ہتھیار دور جا گرا۔ عثمان کا دایاں بازو بھلے ہی پٹی میں جکڑا ہوا تھا، لیکن اس کے بائیں ہاتھ کی گرفت پستول پر چٹان کی طرح مضبوط تھی۔
“رینجرز کے جوانوں! دائیں طرف سے پوزیشن سنبھالو! ان کتوں کو بستی کے اندر داخل نہیں ہونے دینا!” عثمان نے زخمی حالت میں بھی شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے حکم دیا۔ رینجرز کے چاروں جوانوں نے فورا پوزیشنز سنبھالیں اور ان کی سرکاری رائفلوں کی گرج نے بہرام خان کے غنڈوں کے حوصلے پست کر دیے۔
اسی دوران، بستی کے پچھلے حصے سے شوکت اور پچاس سے زائد جوان، جن کے ہاتھوں میں لوہے کی کلہاڑیاں، بھاری لکڑیاں اور جلتی ہوئی مشعلیں تھیں، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہرام خان کی گاڑیوں کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ شوکت کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں، اس نے اپنے سامنے آنے والے ایک غنڈے کی چھاتی پر اتنے زور سے کلہاڑی ماری کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔
“حویلی کے پالتو کتوں! تم نے ہماری بیٹی بانو پر ہاتھ اٹھایا، تم نے ہمارے سائیں صلاح الدین پر گولی چلائی! اج تمہارا حساب چولستان کی یہ ریت کرے گی!” شوکت نے نعرہ لگایا، اور بستی کے جوان کسی بھوکے شیر کی طرح جلادوں پر ٹوٹ پڑے۔ مشعلوں کی آگ انہوں نے بارود سے بھری گاڑیوں پر پھینکنا شروع کر دی۔
کمرے کے اندر، صلاح الدین نے جب باہر گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سنیں، تو اس کی غیرت نے اسے وہیں بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں دی۔ اس نے اپنی وہیل چیئر کے پہیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے گھمایا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ بانو، جو اپنے ابا اللہ دتا کو محفوظ دالان میں چھوڑ کر واپس آئی تھی، اس نے جب اپنے سائیں کو اس حالت میں باہر جاتے دیکھا، تو وہ دوڑ کر ان کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
“سائیں! آپ باہر نہیں جائیں گے! باہر موت کا نچلا سا کھیل چل رہا ہے، آپ کا زخم ابھی کچا ہے سائیں!” بانو نے روتے ہوئے صلاح الدین کی وہیل چیئر کو آگے سے پکڑ لیا، اس کی آواز میں اپنے سائیں کو کھونے کا گہرا خوف تھا۔
صلاح الدین نے بانو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا، اس کی آنکھوں میں اج ایک ایسا جلال تھا جو بانو نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، “بانو! میری بات سنو۔ میں ایک وکیل ہوں، اور قانون کا محافظ کبھی اپنے لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ کر اندھیرے کمرے میں نہیں چھپتا۔ اگر اج چولستان کے یہ غریب میری خاطر اپنی جانیں دے رہے ہیں، تو صلاح الدین کا خون ان سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ بانو! مجھے جانے دو، اج حویلی کے اس ظلم کا اخری فیصلہ ہونا ہے!”
بانو نے جب صلاح الدین کا یہ فولادی عزم دیکھا، تو اس نے اپنے انسو پونچھے اور اس کے چہرے پر بھی وہی چولستانی جلال لوٹ آیا۔ اس نے اپنے دوپٹے سے صلاح الدین کا وہ کالا رومال نکالا اور اسے صلاح الدین کے دائیں ہاتھ پر مضبوطی سے باندھ دیا، پھر پاس پڑی ہوئی ایک بھاری لکڑی کی لاٹھی اٹھا کر وہیل چیئر کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔
“سائیں! اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے، تو پھر بانو بھی اج آپ کے ساتھ ہی رہے گی۔ میں نے کہا تھا ناں سائیں، کہ بانو اب آپ کی تصویر بن چکی ہے۔ جہاں میرا سائیں ہوگا، وہاں بانو ان فرعونوں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی رہے گی!”
بانو نے صلاح الدین کی وہیل چیئر کو دھکا دیا اور وہ دونوں کچے کمرے سے نکل کر اس تپتے ہوئے، بارود سے بھرے میدانِ جنگ میں داخل ہو گئے۔ جیسے ہی مزارعوں نے اپنے سائیں صلاح الدین اور بانو کو اپنے درمیان دیکھا، ان کے نعروں کی گونج اتنی تیز ہو گئی کہ بہرام خان کے شوٹرز کے ہاتھوں سے بندوقیں کانپنے لگیں۔
چولستان کی اس ریت پر لگی ہوئی آگ اب بجھنے لگی تھی، لیکن بارود کا کالا دھواں ابھی فضا میں معلق تھا جو چاند کی چاندنی کو دھندلا کر رہا تھا۔ مشعلوں کی تیز سرخ روشنی میں، بہرام خان اپنی کلاشنکوف تھامے ریت کے ٹیلے پر کھڑا ہانپ رہا تھا۔ اس کے چاروں طرف اس کے اپنے جلادوں کی لاشیں اور زخمی غنڈے ریت پر تڑپ رہے تھے، جنہیں شوکت اور مزارعوں کے جوانوں نے کلہاڑیوں اور لاٹھیوں کے زور پر ڈھیر کر دیا تھا۔ اپنی یقینی موت اور شکست کو اپنے سامنے دیکھ کر بہرام خان کی آنکھوں میں وحشیانہ درندگی اتر آئی۔ اس نے جب دیکھا کہ سامنے سے بانو، صلاح الدین کی وہیل چیئر کو دھکیلتی ہوئی مزارعوں کے ہجوم کے درمیان آ رہی ہے، تو اس نے دانت پیستے ہوئے اپنی بندوق کا رخ سیدھا صلاح الدین کی چھاتی کی طرف کر دیا۔
“اگر میں اج یہاں سے زندہ نہیں نکل سکتا، تو کچے کوٹ کے سائیں! تم بھی اپنی بستی کی آزادی دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہو گے!” بہرام خان نے چیخ کر کہا اور ٹریگر پر اپنی انگلی دبا دی۔
کلک۔۔۔!!!
لیکن قسمت اج مزارعوں کے ساتھ تھی۔ بندوق کی میگزین خالی ہو چکی تھی، گولیوں کی بوچھاڑ کی بجائے صرف ایک سوکھی آواز گونجی۔ بہرام خان نے صدمے سے اپنی بندوق کو دیکھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ دوسری میگزین لوڈ کر پاتا، عثمان نے اپنے بائیں ہاتھ سے پستول کا آخری فائر کر دیا۔
ٹھاہ۔۔۔!!!
گولی سیدھی بہرام خان کے دائیں گھٹنے پر لگی۔ وہ ایک ہولناک چیخ مارتا ہوا ریت کے ٹیلے سے نیچے کی طرف لڑھکتا چلا گیا اور سیدھا صلاح الدین کی وہیل چیئر کے سامنے آ کر گرا۔ اس کی بندوق دور ریت میں جا گری اور وہ اپنے گھٹنے کو دونوں ہاتھوں سے تھامے درد سے تڑپنے لگا۔ چولستان کا وہ بدنام زمانہ جلاد، جس نے شاہینہ بیگم کے اشارے پر درجنوں مزارعوں کا خون بہایا تھا، اج خود اسی کچے کوٹ کی مٹی پر رینگ رہا تھا۔
شوکت اور بستی کے بیس سے زائد جوانوں نے فورا آگے بڑھ کر بہرام خان کو چاروں طرف سے گھیر لیا، ان کی کلہاڑیاں اور لاٹھیاں فضا میں لہرائیں اور وہ اسے وہیں ختم کرنے کے لیے تیار تھے۔
“ٹھہر جاؤ، شوکت بھائی! رک جاؤ!” صلاح الدین کی رعب دار اور گرجدار آواز اندھیری رات میں گونجی۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو، جس پر بانو نے اس کا کالا رومال باندھ رکھا تھا، ہوا میں اٹھا کر مزارعوں کو روک دیا۔
شوکت نے غصے سے ہانپتے ہوئے کہا، “سائیں! اس کتے نے ہمارے گھر جلائے ہیں، اس نے آپ پر اور ہماری بیٹی بانو پر گولی چلانے کی جرات کی ہے! اج اس کا خون چولستان کی ریت پی کر رہے گی!”
“نہیں شوکت!” صلاح الدین نے وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے بھی اپنے وکیل والے جلال کے ساتھ بہرام خان کی طرف دیکھا، “اگر اج ہم نے اسے قانون کے حوالے کرنے کی بجائے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیا، تو ہمارے اور اس کالی حویلی کے فرعونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ شاہینہ بیگم یہی چاہتی ہیں کہ ہم قانون اپنے ہاتھ میں لیں تاکہ وہ عدالت میں سچے بن سکیں۔ بہرام خان کو موت کی سزا ملے گی، لیکن میری وکالت اور اس ملک کے قانون کے ذریعے!”
صلاح الدین نے عثمان کی طرف دیکھا، “عثمان! رینجرز کے جوانوں سے کہو کہ بہرام خان اور اس کے تمام غنڈوں کو ہتھکڑیاں لگا کر فورا سرکاری گاڑیوں میں ڈالیں اور سٹی تھانے منتقل کریں۔ ان کا یہ خونی حملہ ہی سارنگ شاہ کی جیل کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کے لیے سب سے بڑا ثبوت بنے گا۔”
رینجرز کے جوان آگے بڑھے اور انہوں نے تڑپتے ہوئے بہرام خان کے دونوں ہاتھوں میں لوہے کی موٹی ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ بہرام خان نے بے بسی اور ذلت سے صلاح الدین اور بانو کی طرف دیکھا، لیکن بانو کی چولستانی آنکھوں میں اج اس کے لیے کوئی خوف نہیں بلکہ ایک فاتحانہ حقارت تھی۔ جب جلادوں کی گاڑیاں رینجرز کے پہرے میں بستی سے باہر نکلیں، تو پورے کچے کوٹ نے ایک گہرا اور پرسکون سانس لیا۔
آگ بجھ چکی تھی، اور اب چولستان کی ریت پر صبح کی پہلی مدہم، نیلی اور سفید روشنی نمودار ہو رہی تھی۔ رات کا وہ ہولناک طوفان اب گزر چکا تھا اور کچے کوٹ کی مٹی پر امن کا نیا سورج طلوع ہو رہا تھا۔
صلاح الدین نے وہیل چیئر کو گھمایا اور بانو کی طرف دیکھا، جو تھکن اور جذباتی دباؤ کی وجہ سے نڈھال ہو کر وہیں ریت پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کی گلابی چادر پر اج بارود کی دھول جم چکی تھی، لیکن اس کا چہرہ چولستان کی صبح کی پہلی کرن کی طرح چمک رہا تھا۔ صلاح الدین نے اپنے ہاتھ میں بندھے ہوئے اس کالے رومال کو دیکھا، پھر بانو کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے انتہائی نرم، سرائیکی مٹھاس سے بھرپور لہجے میں کہا:
“بانو۔۔۔ حویلی کا آخری خونی وار بھی اج مٹی میں مل گیا ہے۔ تمہارے اس عشق کی چھاؤں نے اج پورے کچے کوٹ کو موت کے منہ سے بچا لیا ہے۔”
بانو نے سر اٹھا کر اپنے سائیں کی آنکھوں میں دیکھا، اس کی آنکھوں سے خوشی کے دو گرم آنسو نکل کر ریت پر گرے۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا، “سائیں! میں نے کہا تھا ناں، کہ جب تک میرے وجود میں سانس باقی ہے، بانو آپ پر آنے والی ہر گولی کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی رہے گی۔ اج مزارعوں کی یہ جیت آپ کی سچی وکالت کی جیت ہے سائیں!”
صلاح الدین نے مسکرا کر بانو کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا، “ہاں بانو، لیکن ابھی ہماری منزل باقی ہے۔ شاہینہ بیگم کی کالی حویلی کا وہ آخری برج ابھی کھڑا ہے، اور کامران احمد ابھی آزاد ہے۔ اب اگلی صبح میری وکالت کا وہ آخری معرکہ شروع ہوگا جہاں حویلی کی تمام جائیدادیں قانونی طور پر ان مزارعوں کے نام منتقل ہوں گی، اور شاہینہ بیگم کا وہ کالا تختہ ہمیشہ کے لیے الٹ جائے گا۔”
چولستان کے افق پر طلوع ہوتا ہوا سورج اج روز کی طرح زرد نہیں، بلکہ گہرے اودے اور سنہرے رنگوں کا ایک ایسا امتزاج تھا جس نے کچے کوٹ کی مٹی کو ایک نئی زندگی کا مژدہ سنایا تھا۔ رات کی آندھی، فائرنگ کا شور اور بارود کی وہ کڑوی بو اب صحرا کی ٹھنڈی، نم آلود ہوا میں جذب ہو چکی تھی۔ بستی کے مرکز میں موجود اس پرانے کیکر کے درخت پر پرندوں کی چہچہاہٹ اج کچھ زیادہ ہی اونچی تھی، جیسے وہ بھی کچے کوٹ کے مزارعوں کو حویلی کے جلادوں پر ملنے والی پہلی اور تاریخی فتح کی مبارکباد دے رہے ہوں۔
شوکت اور عثمان رات بھر جاگنے کے بعد اب رینجرز کے جوانوں کے ساتھ بستی کے بیرونی ناکے پر کھڑے تھے، جہاں بہرام خان کی جلی ہوئی گاڑیوں کا ڈھانچہ اور ریت پر بکھرے ہوئے گولیوں کے خول رات کے اس خوفناک معرکے کی گواہی دے رہے تھے۔ عثمان کا چہرہ تھکن سے نڈھال تھا، لیکن اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے چائے کا مٹی کا پیالہ تھاما ہوا تھا، جبکہ اس کا زخمی دایاں بازو اب بھی اس کے سینے سے جڑا ہوا تھا۔
“عثمان بھائی، اج کی یہ صبح مجھے خواب جیسی لگ رہی ہے،” شوکت نے دور افق پر پھیلی ریت کو دیکھتے ہوئے گہرے لہجے میں کہا، “میں نے اپنی پوری زندگی میں اس کچے کوٹ کو کبھی اتنا پرسکون نہیں دیکھا۔ سارنگ شاہ جیل میں ہے، بہرام خان ہتھکڑیوں میں تھانے پہنچ چکا ہے۔۔۔ کیا واقعی وہ کالی حویلی اب ہمیں مزید نہیں ڈسا کرے گی؟”
عثمان نے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور شوکت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے بولا، “شوکت، رات کا طوفان تو گزر گیا، لیکن یاد رکھنا۔۔۔ زخمی ناگن سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ شاہینہ بیگم اور کامران احمد اب بھی حویلی کے اندر موجود ہیں اور ان کے پاس ابھی وہ سب سے بڑی طاقت باقی ہے جس کے بل بوتے پر وہ چولستان کے خدا بنے بیٹھے تھے— یعنی وہ جائیدادیں، وہ پیسہ اور وہ اثر و رسوخ۔ اج کی صبح اس کہانی کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس فائنل جنگ کا آغاز ہے جو اج رحیم یار خان کی سیشن کورٹ میں صلاح الدین لڑنے جا رہا ہے۔”
اسی وقت، صلاح الدین کے کچے کمرے میں، ماحول بالکل مختلف تھا۔ کمرے کی مٹی کی دیواروں کو چیرتی ہوئی سورج کی پہلی سنہری کرن سیدھی صلاح الدین کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جو وہیل چیئر پر بیٹھا اپنی کالی شیروانی کے بٹن بند کر رہا تھا۔ وہ وکیل کی وہ شیروانی جو اس کا مان تھی، اج اس نے مہینوں بعد اپنے جسم پر سجائی تھی۔ بانو اس کے بالکل پاس کھڑی، اس کی سفید قمیض کے کالر کو درست کر رہی تھی۔ بانو کا چہرہ اج بالکل صاف تھا، رات کی وہ دھول اور خوف اب غائب ہو چکا تھا اور اس کی جگہ اپنے سائیں کے لیے ایک بے پناہ فخر اور عقیدت نے لے لی تھی۔
“سائیں۔۔۔ اج آپ بالکل ویسے ہی لگ رہے ہیں جیسے اس دن لگے تھے جب آپ پہلی بار ہماری وکالت کرنے شہر سے اس کچے کوٹ میں ائے تھے،” بانو نے دھیمی اور محبت بھرے لہجے میں کہا، اس کی چولستانی آنکھوں میں ایک انوکھا سحر تھا، “وہی جلال، وہی سچائی اور وہی کالی شیروانی۔”
صلاح الدین نے مسکرا کر بانو کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے دائیں ہاتھ کی کلائی پر اب بھی بانو کا باندھا ہوا وہ کالا رومال موجود تھا، جو رات کو اس کی ڈھال بنا تھا۔
“بانو، اس دن میرے پاس صرف قانون کی کتابیں تھیں،” صلاح الدین نے سرائیکی مٹھاس سے ڈوبے لہجے میں کہا، اس کی آواز بانو کے دل میں اترتی چلی گئی، “لیکن اج۔۔۔ اج میرے پاس میرے مزارعوں کی دعائیں ہیں اور میرے عشق کی وہ سچی چھاؤں ہے جو مجھے دنیا کی کسی بھی حویلی کے سامنے جھکنے نہیں دے گی۔ اج عدالت میں شاہینہ بیگم کی اس کالی حویلی کی جائیدادوں کے وہ اصل کاغذات پیش ہوں گے جو پچھلے چالیس سال سے انہوں نے چھپا کر رکھے تھے۔ اج چولستان کے ان مزارعوں کو ان کی مٹی کا مالک بنا کر ہی یہ صلاح الدین اس شیروانی کا حق ادا کرے گا۔”
بانو نے حیا سے مسکرا کر اپنا سر صلاح الدین کے کندھے پر ٹکا دیا۔ مٹی کے اس چھوٹے سے کمرے میں، صبح کی اس پہلی روشنی کے نیچے، ان دونوں کا یہ خاموش اور گہرا رومانوی لمحہ ایک ایسی لازوال تصویر بن رہا تھا جسے کچے کوٹ کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن اس سکون کے پیچھے، حویلی کے اندر ایک بہت بڑا زلزلہ آنے کو تیار تھا۔
کچے کوٹ سے چند کلومیٹر دور، شاہینہ بیگم کی وہ عالی شان کالی حویلی اج کسی قبرستان کی طرح خاموش اور تاریک لگ رہی تھی۔ حویلی کے بڑے دالان میں، جہاں کبھی نوکروں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں، اج صرف کامران احمد اکیلا کھڑا دیوار پر لگی اپنے دادا سارنگ شاہ کی بڑی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر غصے، حسد اور خوف کی ایک عجیب سی لہر تھی زرد پڑ چکی تھی۔
بہرام خان کی گرفتاری اور رات کے حملے کی ناکامی کی خبر حویلی تک پہنچ چکی تھی، اور اب ان کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
اسی لمحے، شاہینہ بیگم اپنے پورے طمطراق اور کالی ریشمی چادر کو لہراتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے اتریں۔ ان کے چہرے پر بھلے ہی شکست کے بادل تھے، لیکن ان کی آنکھوں کا وہ فرعونی تکبر ابھی بھی مرا نہیں تھا۔ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا چمڑے کا بیگ تھا جس کے اندر حویلی کے تمام خفیہ بینک اکاؤنٹس اور بیرونی جائیدادوں کے کاغذات تھے۔
“کامران! اب یہاں کھڑے ہو کر وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،” شاہینہ بیگم کی زہریلی اور سرد آواز دالان میں گونجی، “بہرام خان نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس صلاح الدین نے قانون کو ہمارے خلاف ایک ایسا پھندا بنا دیا ہے جس سے نکلنا اب ناممکن ہو رہا ہے۔ اج سیشن کورٹ کا اخری بلاوا آ چکا ہے۔ صلاح الدین اج عدالت میں وہ اصلی رجسٹر پیش کرنے جا رہا ہے جو حویلی کے زوال کا پروانہ ہے۔”
کامران نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے دانت چبا کر کہا، “امی! کیا ہم اتنی آسانی سے ہار مان لیں؟ اس معمولی وکیل اور کچے کوٹ کی اس دو ٹکے کی مزارع بانو نے ہماری خاندانی انا کو مٹی میں ملا دیا ہے! میں عدالت کے باہر ہی اس صلاح الدین کی وہیل چیئر کو بارود سے اڑا دوں گا!”
“بیوقوفی مت کرو، کامران!” شاہینہ بیگم نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا، “باہر رینجرز کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ اب اگر ہم نے کوئی بھی ایسی حرکت کی، تو ہم ہمیشہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑیں گے۔ ہماری بقا اب صرف ایک چیز میں ہے— ہمیں اج عدالت پہنچنا ہوگا اور اس جج کے سامنے صلاح الدین کے پیش کیے گئے ہر ثبوت کو جھوٹا ثابت کرنا ہوگا۔ اگر قانون کے ذریعے ہم نہ جیت سکے، تو پھر عدالت کے اسی دالان میں، میں اپنے ہاتھوں سے اس کہانی کا وہ خونی انجام لکھوں گی جو چولستان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا!”
!
رحیم یار خان کی سیشن کورٹ کا وہ تاریخی اور وسیع کمرہ عدالت اج لوگوں سے کچھ اس طرح کھچا کھچ بھرا ہوا تھا کہ تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں تھی۔ عدالت کے باہر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، کیونکہ چولستان کی تاریخ کی سب سے بڑی جاگیردارانہ سلطنت کا قانونی فیصلہ اج ہونے جا رہا تھا۔ عدالت کے اونچے لکڑی کے بنچوں پر ایک طرف کچے کوٹ کے مزارعے، بابا رحیمو، شوکت اور اللہ دتا اپنی میلی چادریں سنبھالے، دلوں میں امید اور خوف کا طوفان لیے بیٹھے تھے۔ ان کے بالکل سامنے، دوسرے ہائی پروفائل بنچوں پر شاہینہ بیگم اپنی کالی ریشمی چادر میں لپٹی، چہرے پر وہی صدیوں پرانا مغرور جلال لیے ساکت بیٹھی تھیں، جبکہ کامران احمد ان کے برابر میں بار بار اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے بیرسٹر امجد کے کان میں کچھ پھس پھسا رہا تھا۔
جیسے ہی عثمان نے صلاح الدین کی وہیل چیئر کو دھکیلتے ہوئے کمرہ عدالت کے عین وسط میں وکلاء کے ڈیسک کے پاس لا کر کھڑا کیا، پورے ہال میں ایک گہری اور سنسنی خیز خاموشی چھا گئی۔ صلاح الدین اپنی کالی شیروانی میں ملبوس، کمزوری کے باوجود ایک چٹان کی طرح مضبوط دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ پر بانو کا باندھا ہوا وہ کالا رومال اج بھی اس کی کلائی پر ایک تمغے کی طرح چمک رہا تھا۔ بانو خود اس کی وہیل چیئر کے بالکل پیچھے، اس کی ڈھال بن کر کھڑی تھی، اس کی بڑی چولستانی آنکھوں میں اج خوف نہیں بلکہ اپنے سائیں کے سچ پر کامل یقین تھا۔
آرڈر۔۔۔ آرڈر۔۔۔!!!
جج سائیں نے اپنی نشست سنبھالتے ہی ہتھوڑا میز پر مارا، اور کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ حویلی کے نامور وکیل، بیرسٹر امجد نے فورا اپنے بھاری کاغذات لہراتے ہوئے جارحانہ انداز میں جج کے سامنے اپنے دلائل شروع کر دیے۔
“مائی لارڈ! یہ پورا کیس حویلی کی ساکھ کو مٹی میں ملانے کی ایک سوچی سمجھی مزارعانہ سازش ہے!” بیرسٹر امجد کی آواز عدالت میں گونجی، “میرے موکل سارنگ شاہ پر فائرنگ کا جھوٹا الزام لگایا گیا، اور کل رات چولستان کے جلاد بہرام خان نے جو حملہ کیا، اس کا حویلی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مزارعے دراصل حویلی کی اس قانونی زمین پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو پچھلے ستر سال سے شاہ شاہان خاندان کی ملکیت ہے۔ میرے پاس اس زمین کی وہ اصل رجسٹری موجود ہے جو اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ جھگیان چولستان کا کچا کوٹ اور اس کے گردونواح کی ہزاروں ایکڑ اراضی صرف اور صرف شاہینہ بیگم کی ملکیت ہے!”
بیرسٹر امجد نے وہ پرانے، پیلے کاغذات جج کے سامنے پیش کیے، تو شاہینہ بیگم کے چہرے پر ایک مکارانہ فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ مزارعوں کے بنچوں پر ایک مایوس کن سرگوشی دوڑ گئی، اللہ دتا کا ہاتھ خوف سے لرزنے لگا۔
“صلاح الدین احمد! کیا آپ کے پاس ان دستاویزات کا کوئی جوابی ثبوت ہے؟” جج نے عینک کے اوپر سے صلاح الدین کی طرف دیکھ کر گہرے لہجے میں پوچھا۔
صلاح الدین نے ایک لمبا اور پرسکون سانس لیا۔ اس نے اپنی وہیل چیئر کے پہیوں کو تھوڑا آگے بڑھایا، اس کی نظریں شاہینہ بیگم کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں، جہاں اب بھی تکبر کی آگ دہک رہی تھی۔ صلاح الدین نے اپنے دائیں ہاتھ کو لکڑی کی میز پر ٹکایا اور اس کی گرجدار آواز کمرہ عدالت کے ایک ایک کونے سے ٹکرا کر گونجی:
“مائی لارڈ! حویلی کے فاضل وکیل نے جو کاغذات اج اس معزز عدالت کے سامنے پیش کیے ہیں، وہ قانون کی نظر میں محض ایک فریب اور جھوٹ کا پلندہ ہیں!” صلاح الدین نے اپنے وکیل والے جلال کے ساتھ کہا، “یہ سچ ہے کہ پچھلے ستر سال سے اس زمین پر حویلی کا قبضہ ہے، لیکن یہ قبضہ قانون کے ذریعے نہیں بلکہ غریب مزارعوں کے خون اور حویلی کے کوڑوں کے زور پر برقرار رکھا گیا۔ اج۔۔۔ اج یہ صلاح الدین اس عدالت میں چولستان کی اس مٹی کا وہ اصل اور تاریخی سچ پیش کرنے جا رہا ہے جسے چھپانے کے لیے حویلی نے میری چھاتی پر گولی چلائی اور کل رات پورے کچے کوٹ کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی!”
صلاح الدین نے عثمان کی طرف اشارہ کیا۔ عثمان نے فورا اپنے بیگ سے وہ پرانا، چمڑے کی جلد والا کالا رجسٹر نکالا جو بانو نے اپنی جان پر کھیل کر حویلی کے اس خفیہ تہہ خانے سے نکالا تھا، اور اسے جج کی میز پر رکھ دیا۔
“مائی لارڈ! یہ ہے وہ اصل تاریخی ریکارڈ! یہ ہے سن 1956 کا وہ سرکاری رجسٹر جو برٹش دور کے فورا بعد چولستان کی زمینوں کی تقسیم کے وقت مرتب کیا گیا تھا،” صلاح الدین کی آواز میں اج چولستان کے تمام مظلوموں کی صدیوں کی پکار شامل تھی، “اس رجسٹر کے صفحہ نمبر 42 پر واضح الفاظ میں درج ہے کہ جھگیان چولستان کی یہ تمام اراضی مزارعوں کے اجداد یعنی بابا رحیمو اور اللہ دتا کے بزرگوں کے نام الاٹ کی گئی تھی! شاہ شاہان خاندان کے بزرگوں نے اس وقت کے پٹواریوں اور افسران کو رشوت دے کر، ان غریبوں کے انگوٹھے زبردستی سفید کاغذات پر لگوا کر اس اصل ریکارڈ کو غائب کر دیا تھا اور ایک جعلی رجسٹری تیار کروائی تھی! یہ رجسٹر اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ کچے کوٹ کے مزارعے چور یا قابض نہیں ہیں، بلکہ وہ اس مٹی کے اصل اور قانونی مالکان ہیں!”
صلاح الدین کے اس فائنل وار نے کمرہ عدالت میں جیسے بم دھماکا کر دیا ہو۔ بیرسٹر امجد کے ہاتھ سے پین نیچے گر گیا، کامران احمد کی عینک کے پیچھے چھپی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، اور شاہینہ بیگم کا وہ بوڑھا چہرہ غصے اور صدمے سے یکلخت کالا پڑ گیا۔
جج نے فورا اس پرانے رجسٹر کے صفحات کو پلٹنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ اصل سرکاری مہروں اور دستخطوں کو دیکھ رہے تھے، ان کے چہرے کے تاثرات سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے شاہینہ بیگم کی طرف دیکھا، جن کی کانپتی ہوئی انگلیاں اب ان کے تخت کی بجائے سیشن کورٹ کے بنچ کو جکڑ رہی تھیں۔
“مائی لارڈ! یہ رجسٹر جعلی ہے! اس معمولی وکیل نے اسے خود تیار کیا ہے!” کامران احمد نے بوکھلاہٹ میں کھڑے ہو کر چلاتے ہوئے کہا۔
“خاموش رہو، کامران احمد۔۔۔!!!” جج کی ہتھوڑی میز پر اتنے زور سے لگی کہ پورا ہال لرز گیا، “یہ عدالت قانون اور اصل دستاویزات پر چلتی ہے۔ اس سرکاری رجسٹر پر موجود حکومتِ پاکستان کی اصل مہریں اور 1956 کے ڈپٹی کمشنر کے دستخط اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ریکارڈ سو فیصد سچا ہے۔”
جج نے اپنے قلم کی نب کو درست کیا، انہوں نے عدالت میں بیٹھے تمام لوگوں کی طرف دیکھا، اور ان کا تاریخی فیصلہ فضا میں گونجا:
“اس عدالت کے سامنے پیش کیے گئے تمام ثبوتوں اور اس اصل سرکاری رجسٹر کی روشنی میں، یہ معزز عدالت یہ حتمی فیصلہ سناتی ہے کہ جھگیان چولستان کی تمام ہزاروں ایکڑ اراضی پر شاہ شاہان خاندان کا پچھلے ستر سال کا قبضہ مکمل طور پر غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جاتا ہے! یہ تمام زمینیں اج سے قانونی طور پر کچے کوٹ کے ان غریب مزارعوں کے نام منتقل کی جاتی ہیں جو اس کے اصل وارث ہیں! اس کے ساتھ ہی، عدالت پولیس کو حکم دیتی ہے کہ شاہینہ بیگم اور کامران احمد پر جعل سازی، مزارعوں پر ظلم اور اقدامِ قتل کے الزامات کے تحت فورا نئی ایف آئی آر درج کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے!”
آرڈر۔۔۔ آرڈر۔۔۔!!!
فیصلہ ختم ہوتے ہی کچے کوٹ کے مزارعوں کے منہ سے ایک بے ساختہ چیخ نکلی۔ بابا رحیمو اور اللہ دتا روتے ہوئے فرش پر سجدہ ریز ہو گئے، شوکت نے عثمان کو گلے سے لگا لیا۔ بانو نے روتے ہوئے صلاح الدین کی وہیل چیئر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ اس کے آنسو اج خوشی اور فتح کے آنسو تھے جو صلاح الدین کی ہتھیلی کو بھگو رہے تھے۔
“سائیں! آپ جیت گئے سائیں۔۔۔ میری مٹی اج آزاد ہو گئی!” بانو نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔
صلاح الدین نے محبت اور فخر سے بانو کے سر پر ہاتھ رکھا، “بانو، یہ میری نہیں، تمہارے اس بے لوث عشق اور مزارعوں کے صبر کی جیت ہے۔”
لیکن ابھی اس فتح کا جشن کمرہ عدالت میں چل ہی رہا تھا کہ اچانک شاہینہ بیگم اپنے بنچ سے اٹھیں۔ ان کی آنکھیں اج انسانی آنکھیں نہیں بلکہ کسی زخمی ناگن کی طرح لال اور بھیانک لگ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی کالی چادر کے اندر ہاتھ ڈالا، اور وہاں سے ایک چھوٹی، چمکدار کالی پستول نکال کر اس کا رخ بالکل صلاح الدین کے سر کی طرف کر دیا! ان کا ستر سالہ غرور خاک میں مل چکا تھا، اور وہ اب اس کہانی کا وہ آخری خونی انجام اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے لیے تیار تھیں!
“شاہینہ بیگم۔۔۔ رک جاؤ!!! یہ تم کیا کر رہی ہو؟” جج سائیں کی چیخنے کی آواز سیشن کورٹ کی اونچی چھت سے ٹکرائی، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
کمرہ عدالت کا وہ ہال، جو کچھ دیر پہلے مزارعوں کی فتح کے نعروں سے گونج رہا تھا، ایک سیکنڈ کے اندر گہرے اور مہیب سسپنس کے لوہے کے فریم میں جکڑا گیا۔ شاہینہ بیگم کے ہاتھ میں پکڑی وہ کالی، چمکدار پستول سیدھی صلاح الدین کے ماتھے پر تنی ہوئی تھی اور ان کا وہ بوڑھا، جھرلو دار چہرہ جاگیردارانہ غرور کے آخری زوال کی وجہ سے بالکل وحشیانہ لگ رہا تھا۔ ان کے سفید بکھرے ہوئے بال ان کی کالی چادر سے باہر نکل کر ان کے ماتھے پر اڑ رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں اج ممتا کی تڑپ اور شکست کی آگ ایک ساتھ بھڑک رہی تھی۔
“صلاح الدین احمد۔۔۔!!!” شاہینہ بیگم کی آواز کسی بوڑھی زخمی شیرنی کی طرح دیوان وار گونجی، “تم نے مجھ سے میری ستر سالہ انا چھینی، تم نے میرے چولستان کی جاگیریں ان مزارعوں کی جھولی میں ڈال دیں، اور تم نے میرے اکلوتے بیٹے سارنگ شاہ کو جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا! شاہ شاہان خاندان کا تختہ الٹ کر تم جیتے جی اس مزارعے کی دھی بانو کو لے کر یہاں سے نہیں جا سکتے! اگر چولستان پر میری حکومت نہیں رہے گی، تو اس عدالت کی مٹی پر تمہارا خون گرے گا!”
“امی! گولی چلا دو! ختم کر دو اس وکیل کو!” کامران احمد نے بوکھلاہٹ اور وحشت میں پیچھے سے چلاتے ہوئے کہا، اس کی عینک اس کے ماتھے کے پسینے سے دھندلا چکی تھی اور وہ کورٹ کے دروازے کی طرف بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا تاکہ رینجرز کے اندر داخل ہونے سے پہلے خود کو بچا سکے۔
صلاح الدین اپنی وہیل چیئر پر ساکت بیٹھا تھا، اس کے چہرے پر گولی کی نال دیکھ کر بھی خوف کا ایک ادنیٰ سا سایہ بھی ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ اس کی کالی شیروانی کا گریبان تان چکا تھا اور اس کے دائیں ہاتھ پر بندھا بانو کا وہ کالا رومال اج اس کی غیرت کا گواہ تھا۔ اس نے شاہینہ بیگم کی تپتی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر انتہائی سرد اور رعب دار لہجے میں کہا:
“شاہینہ بیگم! تم اپنی اس پستول سے صلاح الدین کو تو مار سکتی ہو، لیکن چولستان کی اس ریت پر اج انصاف کا جو سورج طلوع ہوا ہے، اسے تمہاری یہ گولی کبھی نہیں بجھا سکتی! یہ مزارعے اج اپنی مٹی کے مالک بن چکے ہیں، قانون تمہارے اس جاگیردارانہ فرعونیت کو مٹی میں ملا چکا ہے۔ چلاؤ گولی! ایک وکیل کی لاش تو گر سکتی ہے، لیکن کچے کوٹ کی آزادی کا یہ سچ اب کبھی نہیں مرے گا!”
شاہینہ بیگم نے غصے سے دانت بھیچے، ان کی کانپتی ہوئی انگلی ٹریگر پر دباؤ بڑھانے ہی والی تھی کہ اچانک۔۔۔ بانو جو صلاح الدین کے پیروں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی، ایک چیتے کی طرح اٹھی۔ اس کے وجود میں اج چولستان کی اس تمام عورتوں کا جلال آ چکا تھا جن پر حویلی نے ظلم کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں اپنے سائیں کو بچانے کا وہ جنون تھا جو موت کو بھی پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
“میرے سائیں کو ہاتھ مت لگانا، حویلی کی جلاد عورت۔۔۔!!!” بانو نے ایک وحشیانہ چیخ ماری۔
اس سے پہلے کہ شاہینہ بیگم ٹریگر دباتیں، بانو نے اپنی پوری طاقت سے صلاح الدین کی وہیل چیئر کو پیچھے کی طرف دھکا دیا اور خود ایک فولادی دیوار بن کر صلاح الدین کے بالکل سامنے کھڑی ہو گئی، اس نے اپنی گلابی چادر کو ہوا میں لہراتے ہوئے اپنی چھاتی تان دی۔
ٹھاہ۔۔۔!!!
کمرہ عدالت کے بند دالان میں گولی کا ایک ہولناک دھماکہ ہوا جس نے وہاں موجود ہر شخص کے کانوں کے پردے پھاڑ دیے۔ ہال میں موجود عورتوں کی چیخیں اور مردوں کا شور یکلخت عروج پر پہنچ گیا۔
گولی چلی تھی، لیکن وہ گولی بانو کی چھاتی میں نہیں لگی تھی! عین اسی سیکنڈ پر، عثمان جو بیرک کی اوٹ میں کھڑا تھا، اس نے چستی دکھائی تھی اور شاہینہ بیگم کے بازو پر جھپٹ پڑا تھا، جس کی وجہ سے پستول کا رخ اوپر کی طرف مڑ گیا اور گولی عدالت کی اونچی چھت کے فانوس کو توڑتی ہوئی نکل گئی۔ فانوس کے ہزاروں شیشے کے تیز ٹکڑے ایک بارش کی طرح شاہینہ بیگم اور کامران احمد کے اوپر گرے۔
اس سے پہلے کہ شاہینہ بیگم دوسرا فائر کر پاتیں، کورٹ کا بڑا دروازہ ایک زوردار جھٹکے سے کھلا اور رینجرز کے دس مسلح جوان آٹومیٹک گنز تانے کمرہ عدالت کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے سیکنڈوں میں شاہینہ بیگم کو گھیراؤ میں لے لیا اور ایک سارجنٹ نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے پستول چھین لی اور ان کے دونوں بوڑھے ہاتھوں میں لوہے کی سرد ہتھکڑیاں پہنا دیں۔
“شاہینہ بیگم! آپ کو کمرہ عدالت کے اندر جج پر قاتلانہ حملہ کرنے اور جعل سازی کے جرم میں فورا گرفتار کیا جاتا ہے!” رینجرز کے سارجنٹ کی کرخت آواز گونجی۔
شاہینہ بیگم جب ہتھکڑیوں میں جکڑی گئیں، تو ان کا وہ ستر سالہ غرور، وہ کالی ریشمی چادر اور وہ جاگیردارانہ دبدبہ سیشن کورٹ کے اس گندے فرش پر ڈھیر ہو چکا تھا۔ انہوں نے بے بسی اور آخری وحشت سے بانو اور صلاح الدین کی طرف دیکھا، لیکن بانو اج ایک ملکہ کی طرح اپنے سائیں کے برابر کھڑی تھی، اس کا ہاتھ صلاح الدین کے کندھے پر تھا اور اس کی آنکھوں میں حویلی کے اس اخری برج کے گرنے کا گہرا اطمینان تھا۔
“کامران احمد کو بھی پکڑو! وہ بھاگ رہا ہے!” شوکت نے چل کر اشارہ کیا، اور رینجرز کے دو جوانوں نے کورٹ کے دروازے کے پاس بھاگتے ہوئے کامران احمد کو گریبان سے دبوچ لیا اور اسے بھی ہتھکڑیاں لگا دیں۔
جب رینجرز والے شاہینہ بیگم اور کامران احمد کو ہتھکڑیاں لگا کر مزارعوں کے ہجوم کے درمیان سے گزار رہے تھے، تو بابا رحیمو اور اللہ دتا نے چولستان کی اس ریت کی قسم کھائی کہ اج کے بعد حویلی کا نام و نشان بھی اس صحرا میں باقی نہیں رہے گا۔ چولستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اور خونی باب اج اس سیشن کورٹ کے اندر ہمیشہ کے لیے بند ہو رہا تھا۔
کمرہ عدالت اب حویلی کے اس عبرت ناک خاتمے کے بعد بالکل پرسکون ہو چکا تھا، اور صلاح الدین نے بانو کی طرف دیکھا جس کے سانس اب بھی تیز چل رہے تھے لیکن اس کی آنکھیں اپنے سائیں کی سلامتی پر شکر گزار تھیں۔ کہانی اب اس خونی معرکے کے سسپنس سے نکل کر واپس چولستان کی اس چاندنی رات کی طرف مڑ رہی تھی، کچے کوٹ کی مٹی پر اس داستانِ عشق کا وہ سب سے خوبصورت اور تاریخی جشن شروع ہونے والا تھا جسے دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی!
رحیم یار خان کی عدالت سے کچے کوٹ تک کا وہ راستہ اج ایسا لگ رہا تھا جیسے ریت پر گلاب بکھر گئے ہوں۔ مزارعوں کی فتح کا یہ قافلہ جب جھگیان چولستان کی حدود میں داخل ہوا، تو صحرا پر چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ چولستان کی وہ سفید، ریشمی ریت اج چاندنی میں اس طرح نہا رہی تھی جیسے مزارعوں کی نئی اور آزاد نسلوں کا استقبال کر رہی ہو۔ بستی کا بچہ بچہ اج اپنے سب سے بہترین روایتی لباس میں ملبوس تھا۔ ہر جھگی کے باہر مٹی کے دیے قطاروں میں جل رہے تھے، اور کچے کوٹ کے مرکز میں موجود اس بڑے دالان کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور چولستان کے سرخ جنگلی پھولوں سے کسی محل کی طرح سجا دیا گیا تھا۔
اج کچے کوٹ میں صرف آزادی کا جشن نہیں تھا، اج چولستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور پاکیزہ شادی کی تقریب ہو رہی تھی— بانو اور صلاح الدین کا نکاح! وہ مزارعے جن کی بیٹیوں کو حویلی اپنی لونڈی سمجھتی تھی، اج اسی بستی کی بیٹی بانو اپنے سائیں صلاح الدین کے نام کی سرخ چادر اوڑھنے جا رہی تھی جس نے ان کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔
دالان کے ایک طرف، بابا رحیمو اور شوکت کی قیادت میں بستی کے جوانوں نے ڈھول کی تیز تھاپ پر روایتی سرائیکی جھومر شروع کر رکھا تھا۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے اڑتی ہوئی ریت چاند کی روشنی میں ستارے بن کر چمک رہی تھی۔ دوسری طرف، بستی کی بوڑھی عورتیں اور جوان لڑکیاں چولستان کے پرانے لوک گیت گا رہی تھیں، جن کی مٹھاس ہوا کے دوش پر دور دور تک پھیل رہی تھی۔ اللہ دتا دالان کے ایک کونے میں بیٹھا اپنی لکڑی کی لاٹھی کو تھامے، بار بار اپنی چادر سے خوشی کے آنسو پونچھ رہا تھا۔ اس نے زندگی بھر صرف حویلی کا ظلم دیکھا تھا، لیکن اج وہ اپنی دھی کا یہ بخت دیکھ کر سجدہِ شکر بجا لا رہا تھا۔
دالان کے سب سے خوبصورت کچے کمرے میں، جہاں عطر کی خوشبو فضا کو مہکا رہی تھی، صلاح الدین ایک اونچی لکڑی کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی کالی شیروانی کی جگہ اج اس نے سفید کڑھائی والا روایتی سرائیکی کرتا پہن رکھا تھا، اور اس کے کندھوں پر چولستان کا سب سے مہنگا اور خوبصورت سرخ و کالا اجرک سجا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ اج بالکل پرسکون اور چمکدار تھا، جیسے قانون کی تمام کتابوں کا سچ اس کی آنکھوں میں اتر آیا ہو۔
اسی لمحے، بستی کی دو بوڑھی عورتیں بانو کو اپنے جھرمٹ میں لیے کمرے کے اندر داخل ہوئیں۔ بانو کا حسن اج چودھویں کے چاند کو بھی مات دے رہا تھا۔ اس نے ایک روایتی گہرے سرخ اور گلابی رنگ کا زری کا جوڑا پہن رکھا تھا، جس پر چولستان کی دستکاری کا نفیس کام ہوا تھا۔ اس کے سر پر وہی گلابی چادر تھی جسے صلاح الدین نے حویلی کے اندھیروں سے بچایا تھا، لیکن اج اس چادر کے اوپر مزارعوں کی لاج کا سرخ گھونگھٹ گرا ہوا تھا۔ اس کے پیروں کے زخم اب بالکل ٹھیک ہو چکے تھے، اور ان پر لگی گہری لال مہندی اس کے مٹی سے جڑے عشق کی گواہی دے رہی تھی۔
عورتیں بانو کو صلاح الدین کے بالکل سامنے فرش پر بچھے ریشمی گدے پر بٹھا کر باہر چلی گئیں، اور کمرے کا لکڑی کا پرانا دروازہ آہستہ سے بند ہو گیا۔
کمرے کے اندر یکلخت ایک گہری، مقدس اور سحر انگیز خاموشی چھا گئی۔ باہر سے ڈھول کی مدہم آواز اور لوک گیتوں کی گونج اندر آ رہی تھی، لیکن کمرے کے اندر صرف ان دونوں کے دلوں کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں۔ صلاح الدین نے چند سیکنڈ تک بانو کے اس جھکے ہوئے سرخ گھونگھٹ کو دیکھا۔ پھر، اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو آگے بڑھایا— وہ ہاتھ جس کی کلائی پر اج بھی بانو کا وہ کالا رومال بندھا ہوا تھا، جو ان کے ہر درد اور ہر لڑائی کا گواہ تھا۔
صلاح الدین نے انتہائی نرمی اور کپکپاتے ہاتھوں سے بانو کا وہ سرخ گھونگھٹ اس کے چہرے سے ہٹایا۔ جیسے ہی بانو کا چہرہ چاندنی رات کی روشنی میں نمودار ہوا، صلاح الدین کے منہ سے ایک بے ساختہ سرگوشی نکلی:
“بانو۔۔۔!”
بانو نے اپنی بڑی، سر سرمئی چولستانی آنکھیں اٹھا کر اپنے سائیں کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے گوشوں میں خوشی کا ایک موٹا آنسو چمک رہا تھا جو اس کے گلابی گال پر بہنے کے لیے تیار تھا۔ اس نے حیا سے اپنے دونوں ہاتھ اپنی گود میں باندھ رکھے تھے، جہاں اس کی ہتھیلیوں پر صلاح الدین کے نام کی مہندی رچ چکی تھی۔
“سائیں!” بانو کی آواز اج اتنی دھیمی اور شیریں تھی جیسے صحرا میں کوئی چشمہ ابل پڑا ہو، “اج بانو کا یہ کچا وجود سائیں صلاح الدین کے عشق کی چھاؤں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ مزارعے کی دھی کا بخت حویلی کی ریت میں ہی رول دیا جائے گا، لیکن آپ نے مجھے وہ مان دیا ہے سائیں، جس کی حسرت چولستان کی ہر عرت کرتی ہے۔”
صلاح الدین اپنی کرسی سے تھوڑا جھکا اور بانو کے دونوں مہندی لگے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔ اس نے ان ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگایا، اس کا لمس بانو کے پورے وجود میں ایک سنسنی خیز اور ابدی سکون پھیلا گیا۔
“بانو، تم نے مجھے زندگی دی ہے،” صلاح الدین کی آنکھوں میں اس وقت دنیا کی سب سے گہری محبت تیر رہی تھی، “جب میں ہسپتال میں موت کی سرحد پر تھا، تب تمہارے عشق کی پکار نے ہی میری روح کو واپس بلایا تھا۔ جب تم عدالت میں میرے سامنے وہ خونی کوڑا لے کر کھڑی ہوئیں، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ صلاح الدین اب تمہارے بغیر ادھورا ہے۔ اج سے اس چولستان کی ریت گواہ ہے، کہ شاہ شاہان خاندان کا کوئی بھی کالا سایہ، کوئی بھی فرعون کبھی ہمارے اس بندھن کو نہیں چھو سکے گا۔ تم میری مٹی ہو بانو، اور میں تمہارا آسمان ہوں۔”
بانو نے روتے ہوئے اپنا سر صلاح الدین کے گھٹنوں پر رکھ دیا، اور صلاح الدین نے اپنا دوسرا ہاتھ محبت سے اس کے سر پر پھیلا دیا، اس کی سرخ چادر کو درست کرتے ہوئے اسے اپنے وجود میں سمیٹ لیا۔ باہر چولستان کا چاند گواہی دے رہا تھا کہ یہ عشق اب کسی جاگیردار کی بندوق یا کسی حویلی کے کوڑے سے ہارے گا نہیں، بلکہ یہ کچے کوٹ کی مٹی پر صدیوں تک زندہ رہے گا۔
پانچ سال بعد۔۔۔
چولستان کے صحرا پر اج کی صبح ایک بالکل نئے اور انوکھے روپ میں طلوع ہوئی تھی۔ وقت کے پہیے نے پچھلے پانچ سالوں میں اس ریت پر ترقی اور خوشحالی کے ایسے گہرے نقش و نگار ثبت کر دیے تھے کہ اب پرانے کچے کوٹ کا تصور بھی بدل چکا تھا۔ مٹی کے کچے گھر اب پکے اور خوبصورت اینٹوں کے مکانات میں تبدیل ہو چکے تھے، جن کے صحنوں میں سبزے کے چھوٹے چھوٹے پودے چولستان کی سخت ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ بستی کے عین وسط میں، جہاں کبھی حویلی کے کارندے مزارعوں پر کوڑے برساتے تھے، اب وہاں “کچے کوٹ فری لیگل ایڈ اینڈ ایجوکیشن سینٹر” کی ایک شاندار سفید عمارت کھڑی تھی، جس کے بلند گیٹ پر چولستان کے بچوں کی ہنسی اور پڑھنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
شاہینہ بیگم کی وہ بلند و بالا، کالی اور ظالم حویلی اب حکومتِ پاکستان کے حکم پر ایک قانونی میوزیم اور مزارعوں کے فلاحی مرکز میں تبدیل ہو چکی تھی۔ سارنگ شاہ جیل کی کال کوٹھڑی میں اپنے کیے کی سزا بھگتتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکا تھا، جبکہ شاہینہ بیگم اور کامران احمد عمر قید کی سخت مشقت جھیلتے ہوئے اپنی بقایا زندگی اکیلے پن کے جہنم میں گزار رہے تھے۔ چولستان کے فرعونوں کا نام و نشان مٹ چکا تھا، لیکن مٹی کے اصل وارث اج اپنی زمینوں پر سینہ تان کر کھڑے تھے۔
اس سنہری صبح کی نرم دھوپ میں، چولستان کے ایک اونچے اور خوبصورت ریت کے ٹیلے پر، جہاں سے پوری بستی کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا، ایک چھوٹی سی چادر بچھائے اللہ دتا بیٹھا تھا۔ اس کی داڑھی اب بالکل سفید ہو چکی تھی اور اس کے چہرے کی جھریاں اج ظلم کی داستانیں نہیں، بلکہ اطمینان کی لکیریں بیان کر رہی تھیں۔ اس کے پاس ہی شوکت اور عثمان کھڑے بستی کے نئے تعمیراتی منصوبوں کے نقشے دیکھ رہے تھے۔ عثمان اب بہاولپور کا ایک نامور سینئر وکیل بن چکا تھا، لیکن اس کی روح اج بھی اسی کچے کوٹ کی مٹی سے جڑی ہوئی تھی۔
“بابا رحیمو! دیکھو اج ہماری دھی بانو اور سائیں صلاح الدین کو،” اللہ دتا نے دور سے آتے ہوئے دو کرداروں کو دیکھ کر اپنی لکڑی کی لاٹھی کو ریت پر ٹکاتے ہوئے فخر سے کہا۔
دور ریت کے ٹیلوں کو پار کرتا ہوا ایک شاندار منظر سامنے آ رہا تھا۔ صلاح الدین، جو اب اپنے پیروں پر بالکل ٹھیک ہو کر چل رہا تھا، کالی شیروانی میں ملبوس، پورے رعب اور وقار کے ساتھ بانو کا ہاتھ تھامے پیدل ٹیلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بانو نے اج بھی وہی روایتی، گہرے گلابی رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی جس پر چولستان کا روایتی کام چمک رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں اج ایک ملکہ جیسا اطمینان اور اپنے سائیں کے لیے ابدی عقیدت تھی۔ ان دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی چار سالہ بچی، جس کی بڑی سر سرمئی آنکھیں بالکل بانو جیسی تھیں، ان دونوں کی انگلیاں تھامے ریت پر اپنے چھوٹے چھوٹے پیروں سے نئے راستے بنا رہی تھی۔ اس کا نام انہوں نے “چاندنی” رکھا تھا— اسی چاندنی رات کی یاد میں جب کچے کوٹ نے آزادی کا سانس لیا تھا۔
صلاح الدین اور بانو چلتے ہوئے ٹیلے کے بالکل اوپر پہنچے، جہاں سے نیچے ان کی اپنی آزاد بستی ہنستی کھیلتی دکھائی دے رہی تھی۔ ٹھنڈی ریتلی ہوا نے بانو کی گلابی چادر کو ہلکا سا اڑایا، تو صلاح الدین نے فورا آگے بڑھ کر اپنے کندھوں پر موجود سرخ و کالا اجرک بانو کے سر پر پھیلا دیا، تاکہ اسے صحرا کی تپتی دھوپ سے بچا سکے۔ یہ وہی اجرک تھا، وہی لمس تھا، اور وہی محبت تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہو چکی تھی۔
“سائیں۔۔۔!” بانو نے صلاح الدین کی طرف دیکھ کر دھیمی اور گداز آواز میں کہا، اس کے گالوں پر حیا کی لالی اج بھی ویسی ہی ابھری جیسے پانچ سال پہلے ان کے نکاح کی رات ابھری تھی، “جب میں نیچے بستی کے ان بچوں کو پڑھتے ہوئے دیکھتی ہوں، اور اپنے ابا کو اس عمر میں آزاد مسکراتے ہوئے دیکھتی ہوں، تو میرا دل کرتا ہے کہ میں اس چولستان کی ریت پر سجدے میں گر جاؤں۔ آپ نے اس بانو کو جو زندگی دی ہے سائیں، اس کا شکرانہ میں سات جنموں میں بھی ادا نہیں کر سکتی۔”
صلاح الدین نے چاندنی کو اپنی گود میں اٹھایا، اور بانو کے چہرے کے سامنے پھیلی زلفوں کو انتہائی نرمی سے اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں وہی سرائیکی مٹھاس اور گہرا رومانوی لمس تھا جو بانو کے وجود کی روح تھا:
“بانو، میں نے تمہیں کچھ نہیں دیا، بلکہ تم نے اور تمہارے اس بے لوث عشق نے مجھے ایک سچا انسان اور ایک سچا محافظ بنایا ہے۔ اگر اس دن عدالت کے بند کمرے میں تم شاہینہ بیگم کی گولی کے سامنے دیوار بن کر کھڑی نہ ہوتیں، تو اج یہ صلاح الدین اس مٹی پر آزاد سانس نہ لے رہا ہوتا۔ یہ بستی، یہ قانون کی جیت، اور یہ خوشحالی۔۔۔ یہ سب کچھ اس سچے عشق کی طاقت ہے بانو، جو حویلی کے ہر کوڑے اور ہر بندوق سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔ جب تک چولستان کے اس صحرا پر ہوا چلتی رہے گی، یہاں کے لوگ بانو کے صبر اور صلاح الدین کی وکالت کی داستان گاتے رہیں گے۔”
بانو نے محبت اور شکر گزاری سے اپنا سر صلاح الدین کے مضبوط کندھے پر ٹکا دیا۔ اس کی چولستانی آنکھیں دور افق پر ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ ننھی چاندنی نے صلاح الدین کے گال پر ایک پیارا سا بوسہ دیا، تو پورا ماحول مسکرا اٹھا۔
چولستان کی وہ ریشمی، چمکدار ریت اج ان کے پیروں کے نیچے گواہی دے رہی تھی کہ ظلم کی عمر چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا انجام ہمیشہ مٹی میں ملنا ہوتا ہے۔ لیکن وہ عشق جو سچائی، قربانی اور مظلوموں کی ڈھال بن کر ابھرتا ہے، وہ کچے کوٹ کی دیواروں کی طرح عارضی نہیں ہوتا، بلکہ وہ چولستان کے آسمان پر چمکتے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح ابدی اور لازوال ہو جاتا ہے۔
صلاح الدین اور بانو کا یہ سفر، جو حویلی کے عقوبت خانوں سے شروع ہو کر سیشن کورٹ کے معرکوں سے گزرا تھا، اج اس اونچے ریت کے ٹیلے پر، ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، محبت اور فتح کے اس ابدی سحر میں ڈوب کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا تھا۔

مزید قسط وار کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریں