Urdu Short Stories 16

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 16

سیشن عدالت کے کمرہ نمبر تین کی چھت کے نیچے اس وقت جیسے وقت تھم گیا تھا، اور فضا میں پھیلا ہوا سناٹا اتنا گہرا تھا کہ وہاں موجود درجنوں لوگوں کے سانس لینے کی آوازیں بھی صاف سنی جا سکتی تھیں۔ عدالت کے ساگوان کے بھاری دروازے کے درمیان کھڑی بانو کے ننگے، زخمی پیروں سے نکلنے والا سرخ خون اب سفید سنگِ مرمر کے فرش پر پھیل کر مزارعوں کی صدیوں کی مظلومیت کا اشتہار بن چکا تھا۔ اس کے ماتھے پر گاڑی کے شیشے کے ٹکڑے لگنے سے ابھرا ہوا زخم اور اس سے بہتا ہوا خون اب سوکھ کر اٹا ہوا تھا، لیکن اس کی بڑی چولستانی آنکھوں میں خوف کی جگہ ایک ایسا دہکتا ہوا جلال تھا جو حویلی کے بڑے بڑے برجوں کو گرانے کے لیے کافی تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں صلاح الدین کی وہ کالی چمڑے کی فائل کسی ڈھال کی طرح لہرائی، اور بائیں ہاتھ میں سارنگ شاہ کا وہ کالی چمڑے کا خونی کوڑا فضا میں لہرایا جس پر اب بھی اللہ دتا کے جسم کے سوکھے ہوئے خون کے نشانات واضح دکھائی دے رہے تھے۔
جج صاحب نے اپنی عینک کی اوٹ سے اس چولستانی لڑکی کی طرف دیکھا، ان کا ہاتھ آرڈر شیٹ پر سارنگ شاہ کی ضمانت کا فیصلہ لکھنے سے پہلے ہی ہوا میں معلق رہ گیا تھا۔ بیرسٹر امجد کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ مکار وکیل جو ابھی کچھ دیر پہلے مزارعوں کی زبان بند ہونے کی نوید سنا رہا تھا، اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ شاہینہ بیگم نے اپنی ریشمی چادر کو اپنے کندھوں پر اتنے زور سے جھٹکا کہ ان کے چہرے کی جھریاں غصے اور صدمے سے کانپنے لگیں، جبکہ ان کے پیچھے کھڑا کامران احمد دانت پیستے ہوئے اپنی عینک کو بار بار درست کر رہا تھا، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہسپتال کے باہر اس کے چار مسلح شوٹرز کی کلاشنکوفیں بھی اس ایک نہتی لڑکی کا راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی تھیں۔
“سیکیورٹی۔۔۔!!! یہ کون لڑکی ہے اور اس طرح کمرہ عدالت میں بغیر اجازت داخل ہونے کی جرات کس نے کی؟ اسے فورا باہر نکالا جائے!” بیرسٹر امجد نے اپنی گھبرائی ہوئی آواز کو سنبھالتے ہوئے میز پر ہاتھ مار کر چیخ کر کہا۔
“ٹھہریں بیرسٹر صاحب۔۔۔!!!” جج نے اپنی بھاری اور رعب دار آواز میں سیکیورٹی گارڈز کو ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک دیا۔ انہوں نے بانو کے ننگے پیروں کے خون اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے خونی کوڑے کو بہت غور سے دیکھا، “یہ عدالت انصاف کا ایوان ہے، اور اگر کوئی مدعی یا گواہ اس حالت میں سچائی لے کر عدالت کی چوکھٹ پر پہنچا ہے، تو قانون اس کی زبان نہیں کاٹ سکتا۔ لڑکی! تم کٹہرے کے قریب آؤ اور بتاؤ کہ تم کون ہو اور اس عدالت میں کیا پیش کرنا چاہتی ہو؟”
بانو نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے ننگے اور زخمی پیروں کو فرش پر جماتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ کٹہرے کی طرف بڑھی۔ اس کے ہر قدم کے ساتھ فرش پر خون کا ایک نیا نشان بن رہا تھا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی کراہ یا درد کا تاثر نہیں تھا۔ وہ سیدھی سارنگ شاہ کے برابر والے کٹہرے میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ سارنگ شاہ، جس کا دایاں ہاتھ سفید پٹی میں بندھا ہوا تھا، بانو کے وجود سے اٹھنے والی غیرت کی اس تپش کو برداشت نہ کر سکا اور خوف سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
“جج سائیں!” بانو کی آواز کمرہ عدالت کی دیواروں سے ٹکرا کر کسی پکے گرجدار نعرے کی طرح گونجی، اس کی سرائیکی زبان کا روایتی درد اب فولاد بن چکا تھا، “میں جھگیان چولستان کے مزارعے اللہ دتا کی دھی بانو ہوں۔ جو کاغذ اس مکار وکیل نے آپ کے سامنے رکھا ہے ناں، جس پر میرے ابا کے انگوٹھے کا نشان ہے، وہ کالا مکر ہے سائیں! وہ نشان تو حویلی کے عقوبت خانے میں میرے بوڑھے ابا کو زنجیروں سے جکڑ کر، ان کی پیٹھ پر سارنگ شاہ کے کوڑے برسا کر زبردستی لگوایا گیا تھا۔ جج سائیں! اگر میرے ابا نے حویلی کا کوئی اناج چوری نہیں کیا تھا، تو پھر یہ کوڑا کس جرم کی سزا میں ان کی پیٹھ پر چلایا گیا؟ اس کوڑے پر لگا ہوا خون گواہ ہے کہ حویلی کے فرعون چولستان کے غریبوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے!”
عدالت میں موجود تمام وکیل اور رپورٹرز بانو کی اس جرات پر دنگ رہ گئے۔ بیرسٹر امجد نے فورا پینترا بدلا اور جج کی طرف رخ کیا، “مائی لارڈ! یہ لڑکی جذباتی ڈراما کر کے عدالت کا وقت ضائع کر رہی ہے۔ اس کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ کوڑا سارنگ شاہ کا ہے؟ اور جو فائرنگ حویلی میں ہوئی، اس میں صلاح الدین احمد ذاتی مزارعوں کے جھگڑے میں زخمی ہوئے، ہمارے مؤکل کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔”
“جھوٹ بولتا ہے یہ وکیل، جج سائیں!” بانو نے صلاح الدین کی وہ کالی فائل جج کے سامنے ڈیسک پر پٹخ دی، “اس فائل کے اندر وہ اصل وکالت نامہ موجود ہے جو صلاح الدین سائیں نے حویلی کے ظلم کے خلاف تیار کیا تھا۔ اس میں چولستان کے تیس مزارعوں کے دستخط ہیں جن کی زمینوں پر شاہینہ بیگم نے ناجائز قبضے کر رکھے ہیں۔ اور سارنگ شاہ کے گناہ کا ثبوت دیکھنا ہے ناں؟ تو ابھی ملٹری ہسپتال کے باہر جا کر دیکھیں، کامران احمد کے غنڈوں نے ہم پر کلاشنکوفوں سے فائرنگ کی تاکہ ہم اس عدالت تک نہ پہنچ سکیں۔ عثمان بھائی ابھی باہر پولیس کے پاس زخمی حالت میں کھڑے ہیں۔ اگر حویلی سچی ہے، تو عدالت کی چوکھٹ پر مزارعوں کا خون کیوں بہایا گیا؟”
بانو کے ان ٹھوس اور لرزہ خیز دلائل کے سامنے بیرسٹر امجد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ جج صاحب نے انتہائی سنجیدگی سے فائل کے کاغذات کو دیکھا، پھر سارنگ شاہ کی طرف غضبناک نظروں سے دیکھا۔ سارنگ شاہ کا چہرہ خوف اور ذلت سے سفید ہو چکا تھا، اس کا سارا تکبر بانو کے ننگے پیروں سے بہنے والے خون کے آگے ڈھیر ہو چکا تھا۔ شاہینہ بیگم نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں، ان کا بنایا ہوا سارا جال ایک ہی جھٹکے میں تار تار ہو چکا تھا۔
جج صاحب نے اپنی کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے ہتھوڑا (Gavel) بجایا اور ریمارکس دیے، “عدالت اس کیس کی سنگینی اور نئے شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملزم سارنگ شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو فی الفور مسترد کرتی ہے! پولیس ملزم کو فوراً حراست میں لے اور ہسپتال کے باہر ہونے والے حملے کی الگ سے ایف آئی آر درج کر کے کامران احمد سمیت تمام کرداروں کی تفتیش کی جائے!”
جیسے ہی جج نے یہ حکم سنایا، کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکار آگے بڑھے اور سارنگ شاہ کے دونوں ہاتھوں میں لوہے کی ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ سارنگ شاہ نے بے بسی سے شاہینہ بیگم کی طرف دیکھا، لیکن شاہینہ بیگم خود صدمے سے اپنی کرسی پر گر چکی تھیں۔ کامران احمد نے جب دیکھا کہ قانون کے ہاتھ اب اس کے گریبان تک پہنچ رہے ہیں، تو وہ چپکے سے ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت کے پچھلے دروازے سے باہر کی طرف بھاگ نکلا۔
بانو نے جب سارنگ شاہ کے ہاتھوں میں وہ لوہے کی ہتھکڑیاں دیکھیں، تو اس کے دل کو ایک عجیب سا سکون ملا۔ اس نے عدالت کی چھت کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں سے دو گرم آنسو نکل کر اس کے گال پر سوکھے ہوئے خون سے جا ملے۔ اس نے دل میں کہا، ‘سائیں! میں نے آپ سے کیا ہوا پہلا عہد پورا کر دیا، قانون نے حویلی کے فرعون کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ اب بانو اپنے سائیں کے پاس واپس آ رہی ہے۔’
بہاولپور کی اس تپتی ہوئی سڑک پر ننگے اور زخمی پیروں سے دوڑنے والی بانو جب واپس ملٹری ہسپتال کی اسی سفید اور سرد کوریڈور میں داخل ہوئی، تو اس کا پورا وجود تھکن، درد اور جذباتی طوفان سے نڈھال تھا۔ اس کی گلابی چادر جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی، اس کے تلووں سے نکلنے والا خون اب فرش پر جم رہا تھا، لیکن اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ سکون تھا۔ افتخار احمد اور عثمان (جس کے سر پر پٹی بندھی تھی) بھی ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ساتھ کوریڈور میں تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔
جیسے ہی بانو آئی سی یو (ICU) کے شیشے کے دروازے کے قریب پہنچی، اندر کا منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ سے وہ کالی فائل اور خونی کوڑا نیچے گر گیا۔
شیشے کے پار، صلاح الدین کی آنکھیں، جو پچھلے کئی گھنٹوں سے گہرے اندھیرے کوما میں بند تھیں، اب مدہم سی کھلی ہوئی تھیں۔ اس کے منہ پر لگا آکسیجن ماسک ہٹا دیا گیا تھا اور اس کی کمزور نظریں شیشے کے باہر کھڑی بانو کو ہی ڈھونڈ رہی تھیں۔ مانیٹر پر چلنے والی دل کی دھڑکنوں کی ‘بیپ بیپ’ اب ایک پرسکون اور مستحکم رفتار میں بدل چکی تھی۔ یہ ایک معجزہ تھا—عدالت میں بانو کی سچی پکار جیسے ہسپتال کی اس چارپائی پر لیٹے صلاح الدین کی روح تک پہنچی تھی اور اسے زندگی کی طرف واپس کھینچ لائی تھی۔
“سائیں۔۔۔!!!” بانو کے منہ سے ایک بے ساختہ چیخ نکلی اور وہ اپنے سارے درد کو بھول کر آئی سی یو کا بھاری دروازہ کھولتی ہوئی اندر داخل ہو گئی۔
ڈاکٹروں نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن افتخار احمد نے لرزتے ہوئے ہاتھ سے ڈاکٹر کو منع کر دیا، “اس جوان کو دواؤں نے نہیں، اس بیٹی کے عشق کی چھاؤں نے بچایا ہے، اسے جانے دو۔”
بانو بھاگتی ہوئی صلاح الدین کے بیڈ کے بالکل قریب پہنچی اور گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے دونوں لرزتے ہوئے ہاتھ صلاح الدین کے اس دائیں ہاتھ پر رکھ دیے جو بالکل ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ صلاح الدین نے اپنی بھاری اور کمزور پلکوں کو اٹھا کر بانو کے چہرے کو دیکھا۔ جب اس نے بانو کے ماتھے پر سوکھے ہوئے خون کا نشان اور اس کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھے، تو صلاح الدین کی آنکھوں کے کونوں سے دو گرم آنسو نکل کر اس کے کانوں کی طرف بہہ گئے۔ اس نے انتہائی نقاہت اور درد سے لرزتی ہوئی آواز میں سرائیکی لہجے میں کہا:
“بانو۔۔۔ تم زخمی ہو؟ مائی لارڈ۔۔۔ سارنگ شاہ کی ضمانت۔۔۔؟” وہ ہوش میں آتے ہی اسی مقدمے اور بانو کی حفاظت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
“سائیں! سب ختم ہو گیا۔۔۔ آپ کی بانو جیت گئی ہے سائیں!” بانو نے صلاح الدین کے ہاتھ کو اپنے گال سے لگا لیا، اس کے اپنے آنسو صلاح الدین کی ہتھیلی کو بھگو رہے تھے، “عدالت میں جج سائیں نے سارنگ شاہ کی ضمانت مسترد کر دی ہے۔ حویلی کے اس کالے فرعون کے ہاتھوں میں قانون کی ہتھکڑیاں لگ چکی ہیں سائیں! کامران احمد بزدلوں کی طرح عدالت سے بھاگ گیا ہے، لیکن اب قانون اس کے گریبان تک بھی پہنچے گا۔ آپ کا وہ کچا کوٹ، آپ کے وہ مزارعے اج آزاد ہو گئے ہیں سائیں!”
صلاح الدین کے چہرے پر ایک انتہائی پرسکون، ہلکی اور رومانوی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنی پوری ہمت مجتمع کر کے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے بانو کے چہرے پر بکھرے ہوئے بالوں کو آہستہ سے پیچھے ہٹایا۔ اس کا لمس بانو کے پورے وجود میں ایک عجیب سی تپش اور سکون پھیلا گیا۔
“میں جانتا تھا بانو۔۔۔” صلاح الدین کی آواز دھیمی لیکن گہری تھی، “چولستان کی ریت کبھی اپنے محسنوں کا خون رائےگاں نہیں جانے دیتی۔ تم نے اج میری وکالت کا، میرے عشق کا مان رکھ لیا۔”
بانو نے اپنا سر صلاح الدین کے ہاتھ پر رکھ دیا، اس کا دل اج زندگی میں پہلی بار اپنے سارے بندھن توڑ کر اپنے سائیں کے سامنے پگھل رہا تھا۔ اس نے اپنی سسکیاں روکتے ہوئے، صلاح الدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ تاریخی الفاظ کہے جو اس کے دل پر نقش ہو چکے تھے:
“سائیں! آپ کے عشق کی چھاؤں میں یہ بانو اب وہ پرانی بانو نہیں رہی سائیں۔۔۔! حویلی کے کوڑوں اور چولستان کی پسماندگی نے جس بانو کے اندر محبت نام کا جذبہ ہمیشہ کے لیے مار دیا تھا، آپ کے اس بے لوث عشق نے اج اس بانو کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ سائیں! میں اب اپنے سائیں صلاح الدین کے رنگ میں مکمل رنگ چکی ہوں، میں تو اب اپنے سائیں کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن چکی ہوں۔”
بانو نے صلاح الدین کے ہاتھ پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا، اس کی آواز میں چولستان کی چاندنی راتوں کی سی مٹھاس اور گہرائی تھی، “آپ نے میرے ابا کی غیرت کے لیے، مجھ جیسی ایک معمولی مزارعے کی دھی کی حیا بچانے کے لیے اپنی چھاتی پر گولی کھائی ہے۔ آپ کے اس عشق نے اس بانو کو عمر بھر کے لیے آپ کے عشق کا اسیر کر دیا ہے سائیں! اب یہ بانو دنیا کے کسی فرعون سے نہیں ڈرے گی۔ اب یہ بانو زندگی بھر، سانس کی اخری ڈوری تک صرف اور صرف آپ کی ہو کر رہے گی سائیں۔۔۔ صرف آپ کی!”
صلاح الدین نے جب بانو کے منہ سے عشق کا یہ پہلا، گہرا اور تڑپا دینے والا اقرار سنا، تو اس کے چہرے کا سارا درد جیسے غائب ہو گیا۔ اس نے بانو کے ہاتھ کو اپنے سینے پر، عین اس جگہ رکھ لیا جہاں اس کا دل دھڑک رہا تھا، اور بولا:
“پھر سنو بانو! اگر تم میرے عشق کی اسیر ہو چکی ہو، تو صلاح الدین کا یہ کچا کوٹ بھی اج سے تمہاری جاگیر ہے۔ جب تک اس دل میں دھڑکن باقی ہے، یہ صلاح الدین تمہارے عشق کی چھاؤں کا قیدی بن کر رہے گا۔”
آئی سی یو کے اس سفید کمرے میں، دواؤں کی کڑوی بو کے درمیان، اج عشق اور انصاف کی ایک ایسی مہک پھیل چکی تھی جس نے جاگیرداری کے صدیوں پرانے کالے سائے کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا تھا۔ بانو نے صلاح الدین کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا، اور صلاح الدین نے اپنے کمزور بازو سے اس کے سر کو تھام لیا۔ یہ چولستان کی تاریخ کا سب سے خوبصورت اور رقت آمیز رومانوی ملاپ تھا!
بہاولپور کی سینٹرل جیل کی اس مہیب، اندھیری اور بدبودار کال کوٹھڑی کے لوہے کے سلاخوں کے پیچھے اس وقت سارنگ شاہ گھٹنوں کے بل گندے فرش پر بیٹھا تھا۔ اس کے گورے چہرے پر عدالت کی ذلت، مٹی اور پسینے کی کالی تہیں جم چکی تھیں۔ اس کے دائیں ہاتھ پر بندھی ہوئی وہ سفید پٹی اب جیل کی دھول سے میلی ہو چکی تھی اور گولی کا زخم لوہے کی سردی کی وجہ سے بری طرح ٹیسیں مار رہا تھا۔ چولستان کا وہ فرعون جس کے جوتوں کی آہٹ سن کر مزارعوں کی دھیوں کے سانس رک جاتے تھے، اس وقت قیدی نمبر 420 کا کالا کرتا پہنے، ننگے سر، دیوار سے ٹیک لگائے ہانپ رہا تھا۔ کوٹھڑی کے دوسرے کونے میں جیل کے کچھ پرانے قیدی بیٹھے تھے، جن میں سے دو مزارعے اسی جھگیان چولستان کے تھے جنہیں سارنگ شاہ نے جھوٹے چوری کے کیس میں بند کروایا تھا۔ وہ دونوں اپنی کٹیلی آنکھوں سے سارنگ شاہ کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے بھوکے بھیڑیے اپنے شکار کو دیکھتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں لوہے کے کڑے چمک رہے تھے اور ان کی مکارانہ ہنسی سارنگ شاہ کے دل میں خوف کے خنجر گھونپ رہی تھی۔ سارنگ شاہ کو اب سمجھ آ رہا تھا کہ قانون جب حویلی کے برج گراتا ہے، تو فرعونوں کا حشر کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف، جھگیان چولستان کی اس اونچی کالی حویلی میں اس وقت ایک ایسا مہیب ماتم بچھا تھا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ دیوان خاص کے مہنگے فانوس اج بجھے ہوئے تھے اور صرف چند موم بتیوں کی زرد روشنی فرش پر بچھے ایرانی قالینوں پر رینگ رہی تھی۔ شاہینہ بیگم اپنے بڑے تخت پر ساکت بیٹھی تھیں، ان کا وہ بوڑھا چہرہ اج غصے، صدمے اور انتقام کی آگ سے بالکل کالا ہو چکا تھا۔ ان کے ہاتھوں کی وہ سونے کی انگوٹھیاں ان کی کانپتی ہوئی انگلیوں میں اب قید خانے کی سلاخوں کی طرح لگ رہی تھیں۔ ان کے سامنے دیوان کے اندھیرے ستون کی اوٹ سے کامران احمد آہستہ آہستہ ابھر کر سامنے آیا۔ عدالت سے فرار ہونے کے بعد اس کے ریشمی کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے، اس کے چہرے سے وہ روایتی کایاں مسکراہٹ غائب تھی اور اس کی عینک کے پیچھے چھپی آنکھوں میں اپنی ناکامی کا خوف صاف جھلک رہا تھا۔
“بڑی امی۔۔۔ سارنگ بھائی کی ضمانت مستقل مسترد ہو گئی ہے اور جج نے انہیں چودہ دن کے ریمانڈ پر سینٹرل جیل بھیج دیا ہے،” کامران کی آواز اج لرز رہی تھی، اس نے اپنی کالی چادر کو درست کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، “پولیس نے ہسپتال کے باہر فائرنگ کرنے والے میرے دو بندوں کو بھی اٹھا لیا ہے۔ اگر انہوں نے تشدد کے بعد میرا نام اگل دیا، تو قانون کے ہاتھ میری گردن تک بھی پہنچ جائیں گے۔ افتخار احمد اپنی پوری ملٹری اور سیاسی طاقت استعمال کر رہا ہے۔”
“خاموش رہو، کامران احمد۔۔۔!!!” شاہینہ بیگم کی آواز کسی بوڑھی شیرنی کی دھاڑ کی طرح دیوان کی اونچی چھت سے ٹکرائی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی سونے کی چھڑی کو اتنے زور سے میز پر مارا کہ شیشے کی میز کے پرخچے اڑ گئے اور شیشے کے تیز ٹکڑے کامران کے بوٹوں کے پاس جا گرے، “تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کل صبح کی عدالت مزارعوں کے انصاف کی نہیں بلکہ ان کی لاشوں کی گواہ بنے گی! تم نے کہا تھا کہ بیرسٹر امجد نے جج کو خرید لیا ہے! پھر وہ مزارعے کی دھی، وہ بانو۔۔۔ وہ کچی بستی کی کیڑی میری حویلی کے وارث کو ہتھکڑیاں لگوا کر جیل کیسے پہنچا گئی؟”
شاہینہ بیگم تخت سے اٹھیں، ان کے سفید بال ان کے چہرے پر وحشیانہ انداز میں بکھر گئے، وہ اپنے بھاری قدموں سے چلتی ہوئی کامران کے بالکل قریب آئیں اور اس کا گریبان اپنے بوڑھے جھرلو دار ہاتھوں میں جکڑ لیا، “سن لو کامران احمد! اگر میرا سارنگ اس جیل کی کال کوٹھڑی میں ایک رات بھی اور رہا، تو میں اس حویلی کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دوں گی! جاگیرداری کا یہ جنازہ میں جیتے جی نہیں دیکھ سکتی۔ وہ کچے کوٹ کا وکیل، وہ صلاح الدین اور وہ مزارعے کی دھی بانو۔۔۔ انہوں نے میری ستر سالہ انا کو مٹی میں ملایا ہے۔ مجھے اب قانون کی کتابیں نہیں چاہئیں، مجھے اب عدالتوں کے چکر نہیں چاہئیں! مجھے ان دونوں کا خون چاہیے!”
شاہینہ بیگم نے کامران کو پیچھے جھٹکا اور اس کی آنکھوں میں جھانک کر اپنے زہریلے الفاظ ابلے، “کامران! تم چولستان کے ان خاندانی جلادوں کو پیغام بھیجو جو رات کے اندھیرے میں بستیوں کی بستیاں مٹا دیتے ہیں۔ صلاح الدین ابھی ہسپتال میں ہے، اس کا باپ افتخار احمد شہر میں رینجرز کے پہرے میں ہے، لیکن وہ بانو۔۔۔ وہ لڑکی عثمان کے ساتھ واپس اس کچے کوٹ، اسی جھگیان چولستان کی طرف جا رہی ہے تاکہ مزارعوں کو اپنی جیت کی خوشخبری سنا سکے۔ اس سے پہلے کہ وہ بستی میں قدم رکھے، رات کے اسی اندھیرے میں چولستان کی ریت پر اس کا وہ گلابی آنچل اس کے خون سے لال ہو جانا چاہیے! جاؤ! اور میرے زخموں کا حساب اس لڑکی کی لاش سے کرو!”
کامران احمد کے چہرے پر شاہینہ بیگم کا جلال دیکھ کر دوبارہ وہی کالی اور ہولناک مسکراہٹ ابھر آئی۔ اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے موبائل نکالا اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے بولا، “بڑی امی! آپ کا یہ حکم سارنگ بھائی کی آزادی کا پروانہ بنے گا۔ میں ابھی چولستان کے جلاد ‘بہرام خان’ کو الرٹ کرتا ہوں۔ آج رات جب بانو کچے کوٹ کی سرحد پر پہنچے گی، تو چولستان کی ہوا سچائی کی نہیں، بلکہ اس مزارعے کی دھی کے آخری چیخوں کی گواہی دے گی!”
دوسری طرف، ملٹری ہسپتال کے اکیلے دالان سے نکل کر عثمان کی دوسری سفید گاڑی اب بہاولپور کے مین روڈ سے ہوتی ہوئی چولستان کی تپتی ہوئی ریتلے راستوں کی طرف مڑ رہی تھی۔ پچھلی سیٹ پر بانو بیٹھی تھی، اس کے ہاتھ میں صلاح الدین کا دیا ہوا وہ کالا رومال تھا جسے وہ اپنے سینے سے لگائے بار بار ہسپتال کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں اس کا سائیں اب زندگی کی نئی سانسیں لے رہا تھا۔ اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ حویلی کا مکر اب ایک بار پھر رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اس کے عشق کا راستہ روکنے کے لیے تلواریں تیز کر چکا ہے!
رات کے ٹھیک نو بجے چولستان کے صحرا پر اندھیرے کی ایک مہیب اور کالی چادر تن چکی تھی۔ آسمان پر چاند تو تھا، لیکن اس کی مدہم روشنی کو ریتلی ہوا کے بگولے بار بار اپنے اندر چھپا رہے تھے۔ بہاولپور کے پکے روڈ کو پیچھے چھوڑ کر، عثمان کی سفید گاڑی اب جھگیان چولستان کی طرف جانے والے اسی کچے، ناہموار اور ریتلے راستے پر رینگ رہی تھی۔ گاڑی کی ہیڈلائٹس کی دو تیز سفید شعاعیں سامنے پھیلی ریت کو چیر رہی تھیں، جہاں دور دور تک کوئی دوسرا وجود دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی بانو نے اپنی پھٹی ہوئی گلابی چادر کو اپنے کندھوں پر درست کیا، اس کے پیروں کے زخم اب ہسپتال کی پٹیوں کے اندر شدید ٹیسیں مار رہے تھے، لیکن اس کے چہرے پر اپنے سائیں کے عشق کا وہ نور چمک رہا تھا جو اسے ہر درد سے بے نیاز کر چکا تھا۔ اس کے ہاتھ میں صلاح الدین کا وہ کالا رومال تھا، جسے وہ بار بار اپنے ہونٹوں سے لگا کر دل ہی دل میں اپنے سائیں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
“بھابھی بانو! اب دل چھوٹا مت کرنا،” اگلی سیٹ پر اسٹیرنگ تھامے عثمان نے ریئر ویو مرر (Rearview mirror) میں بانو کی طرف دیکھ کر انتہائی سنجیدہ اور تسلی بخش لہجے میں کہا۔ اس کے اپنے سر پر لگی سفید پٹی پر اب بھی ہسپتال کے حادثے کے خون کا ہلکا سا داغ تھا، “عدالت نے سارنگ شاہ کو جیل بھیج کر حویلی کی آدھی طاقت تو وہیں ختم کر دی ہے۔ اب جیسے ہی ہم کچے کوٹ پہنچیں گے، میں خود بستی کے جوانوں کا پہرہ سخت کروا دوں گا۔ سائیں صلاح الدین نے ہسپتال میں ہوش میں آتے ہی مجھے یہی حکم دیا تھا کہ بانو کی حفاظت میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔”
“عثمان بھائی! مجھے اپنی جان کا کوئی خوف نہیں ہے،” بانو کی آواز چولستان کی ہوا کی طرح دھیمی لیکن چٹان کی طرح مضبوط تھی، “خوف تو اس دن مر گیا تھا جب سائیں صلاح الدین نے مزارعوں کی خاطر اپنی چھاتی پر گولی کھائی تھی۔ مجھے تو بس یہ فکر ہے کہ جب تک سائیں ہسپتال سے ٹھیک ہو کر کچے کوٹ واپس نہیں آ جاتے، تب تک شاہینہ بیگم اور وہ مکار کامران احمد کوئی اور کالی چال نہ چلیں۔”
ابھی بانو کے یہ الفاظ فضا میں ہی تھے کہ اچانک عثمان نے زور سے بریک دبایا۔ گاڑی کے ٹائر ریت پر ایک ہولناک آواز کے ساتھ گھسٹتے چلے گئے اور گاڑی وہیں رک گئی۔
کچچچچچ۔۔۔!!!
سامنے کا منظر دیکھ کر عثمان کے ماتھے پر پسینے کی سرد بوندیں ابھر آئیں۔ راستے کے بالکل درمیان میں، ایک بہت بڑا اور پرانا سوکھا ہوا کیکر کا درخت کٹا ہوا پڑا تھا، جس نے پورے کچے راستے کو بلاک کر رکھا تھا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی گھات (Ambush) تھی۔
“بھابھی! نیچے جھک جاؤ! جلدی۔۔۔!!!” عثمان نے چیخ کر کہا۔
اس سے پہلے کہ بانو کچھ سمجھ پاتی، راستے کے دونوں طرف بنے ریت کے اونچے ٹیلوں کے پیچھے سے اچانک چار مہیب اور کالے سائے نمودار ہوئے۔ یہ چولستان کے بدنام زمانہ خاندانی جلاد ‘بہرام خان’ کے شوٹرز تھے، جن کے چہروں پر کالے کپڑے بندھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھوں میں پرانی مگر مہلک خودکار بندوقیں چمک رہی تھیں۔ ان کا لیڈر، بہرام خان خود ایک اونٹ کے پیچھے سے نکل کر روشنی کے دائرے میں آیا، اس کی کٹیلی آنکھیں اور چہرے پر چاقو کا پرانا نشان اس کی درندگی کی گواہی دے رہا تھا۔
ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔!!!
ایک ساتھ تین فائر ہوئے اور عثمان کی گاڑی کی اگلی ہیڈلائٹس دھماکے سے ٹوٹ گئیں، جس سے پورا منظر یکلخت گہرے اور مہیب اندھیرے میں ڈوب گیا۔ صرف چاند کی مدہم روشنی میں ان جلادوں کے سائے حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
“گاڑی سے باہر نکلو! مزارعے کی دھی بانو کو ہمارے حوالے کرو، ورنہ اس گاڑی کو تم دونوں کی قبر بنا دیں گے!” بہرام خان کی بھاری اور وحشیانہ آواز اندھیری رات میں گونجی۔
عثمان نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے اپنے سیٹ کے نیچے سے وہ چھوٹی پستول نکالی جو افتخار احمد کے محافظوں نے اسے ہسپتال سے نکلتے وقت دی تھی۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اوٹ لے کر باہر کی طرف پوزیشن سنبھال لی۔
“بھابھی بانو! آپ گاڑی کے اندر ہی پچھلی سیٹ کے نیچے چھپی رہو، جب تک عثمان زندہ ہے، حویلی کا کوئی کتا آپ کے گلابی آنچل کو چھو بھی نہیں سکتا!” عثمان نے بہادری سے کہا اور اندھیرے میں بہرام خان کے غنڈوں کی طرف جوابی فائرنگ شروع کر دی۔
ٹھاہ۔۔۔ ٹھاہ۔۔۔!!!
ایک غنڈے کے کندھے پر گولی لگی اور وہ چیخ مارتا ہوا ریت پر گر گیا۔ لیکن دوسری طرف سے جلادوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ مسلسل گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔ گولیوں کے لوہے کے ٹکڑے گاڑی کی باڈی سے ٹکرا کر چنگاریاں اڑا رہے تھے۔ بانو پچھلی سیٹ کے نیچے جھکی ہوئی تھی، اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں انسو نہیں تھے۔ اس نے صلاح الدین کے کالے رومال کو مٹھی میں اتنے زور سے بھینچ لیا کہ اس کے ناخن اس کی اپنی ہتھیلی میں چبھنے لگے۔
“یا اللہ! میرے سائیں کے عشق کی لاج رکھ لینا۔۔۔” بانو نے دل میں التجا کی۔
اسی دوران، ایک ہولناک گولی عثمان کے دائیں بازو کو چھوتی ہوئی نکل گئی، جس سے پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ریت پر جا گری۔ عثمان نے درد سے ایک چیخ ماری اور گاڑی کی باڈی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ بہرام خان مکارانہ ہنسی ہنستا ہوا آگے بڑھا، اس کے بوٹوں تلے ریت کے مسلنے کی آواز بانو کے کانوں تک آ رہی تھی۔ اس نے گاڑی کا پچھلا دروازہ ایک زور دار جھٹکے سے کھولا۔
“باہر آؤ، لڑکی! شاہینہ بیگم کا سلام لے کر آئے ہیں تمہارے لیے!” بہرام خان نے بانو کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی گاڑی سے باہر کھینچا۔
بانو ریت پر گری، لیکن وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔ اس نے اپنے ماتھے سے بہتے ہوئے نئے خون کو اپنی چادر سے پونچھا اور بہرام خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہو گئی۔ اس کے چہرے کا جلال دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ خونی جلاد بھی ٹھٹک گیا۔
“بہرام خان! شاہینہ بیگم سے کہہ دینا کہ بانو کی لاش تو حویلی جا سکتی ہے، لیکن بانو کا سچ اور اس کا عشق کبھی نہیں ہارے گا! چلاؤ گولی!” بانو نے اپنی چھاتی تان کر کہا۔
بہرام خان نے غصے سے دانت بھیچے اور اپنی بندوق کا رخ بالکل بانو کے ماتھے کی طرف کر دیا، اس کی انگلی ٹریگر پر دبنے ہی والی تھی کہ اچانک۔۔۔ دور چولستان کے افق سے درجنوں مشعلوں کی تیز لال روشنی نمودار ہوئی اور ریتلی ہوا میں ایک جان لیوا نعرہ گونجا:
“اللہ اکبر۔۔۔!!! ہماری بانو کو ہاتھ مت لگانا، حویلی کے کتوں!”
یہ جھگیان چولستان کے مزارعے تھے! بابا رحیمو اور شوکت کی قیادت میں بستی کے سو سے زائد جوان، ہاتھوں میں لکڑیاں، کلہاڑیاں اور مشعلیں لیے، اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار طوفان کی طرح وہاں پہنچ رہے تھے۔ عثمان کی گاڑی کے لیٹ ہونے پر انہیں شک ہو گیا تھا اور وہ سرحد پر پہرہ دے رہے تھے۔ مشعلوں کے اس بڑے سیلاب اور مزارعوں کے اس وحشیانہ جلال کو دیکھ کر بہرام خان کے غنڈوں کے حوصلے پست ہو گئے۔
“بہرام بھائی! بھاگو! پورا کچا کوٹ امڈ آیا ہے، یہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے!” ایک غنڈے نے خوف سے چلاتے ہوئے کہا۔
مزارعوں کے پہنچنے سے پہلے ہی، بہرام خان نے بانو کو پیچھے جھٹکا اور اپنے زخمی غنڈوں کو سمیٹ کر اندھیرے صحرا کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ شوکت اور بستی کے جوانوں نے ان کا پیچھا کیا، جبکہ بابا رحیمو بھاگتے ہوئے بانو کے پاس پہنچے۔
“بیٹی بانو! تم ٹھیک تو ہو ناں؟” بابا رحیمو نے روتے ہوئے بانو کے سر پر ہاتھ رکھا۔
بانو نے عثمان کو سنبھالا جو زخمی تھا، اور پھر مزارعوں کی اس بھیڑ کی طرف دیکھا جن کی آنکھوں میں اب حویلی کا کوئی خوف نہیں تھا۔ اس نے مشعلوں کی روشنی میں چولستان کی اس ریت کو دیکھا اور گہرا سانس لے کر کہا، “بابا رحیمو! میں ٹھیک ہوں۔ حویلی کا آخری کالا وار بھی خالی گیا ہے۔ چلو اب کچے کوٹ، میری بستی میرا انتظار کر رہی ہے!”
مشعلوں کی سرخ اور نارنجی روشنی میں نہاتی ہوئی مزارعوں کی وہ ٹولی جب زخمی عثمان اور بانو کو لے کر جھگیان چولستان کی حدود میں داخل ہوئی، تو کچے کوٹ کا منظر دیکھنے کے لائق تھا۔ رات کے اس پہر بھی بستی کا بچہ بچہ جاگ رہا تھا۔ مٹی کے کچے گھروں اور جھگیوں کے باہر عورتیں، بوڑھے اور بچے راستے پر صفیں بنائے کھڑے تھے۔ جیسے ہی شوکت نے بلند آواز میں نعرہ لگایا کہ “عدالت نے حویلی کے فرعون کو ہتھکڑیاں لگوا دی ہیں!”، تو پوری بستی میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ عورتوں نے روتے ہوئے بانو پر چولستان کے سوکھے پھول اور ریت نچھاور کی، اور بوڑھے مزارعوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر صلاح الدین کی زندگی اور بانو کی جرات کے لیے دعائیں مانگیں۔ یہ چولستان کی تاریخ کا پہلا دن تھا جب حویلی کے ظلم کے خلاف مزارعوں کے کچے کوٹ نے فتح کا پرچم لہرایا تھا۔
شوکت اور بابا رحیمو نے فورا زخمی عثمان کو بستی کے سب سے بڑے کچے دالان میں لٹایا، جہاں بستی کے حکیم نے آگے بڑھ کر اس کے بازو کے زخم پر چولستان کی جڑی بوٹیوں کا مرہم رکھا اور پٹی باندھی۔ عثمان نے درد کے باوجود مسکرا کر بانو کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر اب اپنے ابا اور اپنی بستی کو محفوظ دیکھ کر ایک گہرا اطمینان ابھر آیا تھا۔ اللہ دتا اپنی لکڑی کی لاٹھی ٹیکتا ہوا بانو کے قریب آیا اور اپنی دھی کے سر پر اپنی میلی چادر کا سایہ کرتے ہوئے بولا:
“بیٹی بانو۔۔۔ تو نے اج چولستان کی ریت کا قرض اتار دیا۔ اگر اج تو عدالت کی چوکھٹ پر نہ پہنچتی، تو حویلی کے غنڈے ہمارے وجود کو اس صحرا میں ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتے۔”
“ابا! یہ سب سائیں صلاح الدین کے عشق اور ان کی ہمت کا نتیجہ ہے،” بانو نے صلاح الدین کا وہ کالا رومال اپنے ہاتھ میں دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “انہوں نے ہمارے لیے اپنا خون بہایا ہے۔ جب تک سائیں ہسپتال سے لوٹ کر اس کچے کوٹ میں قدم نہیں رکھتے، ہماری یہ آزادی ادھوری ہے۔”
ابھی بستی میں یہ جذباتی ماحول چل ہی رہا تھا کہ اچانک عثمان کے موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ سکرین پر ملٹری ہسپتال کے ڈاکٹر کا نمبر چمک رہا تھا۔ عثمان نے فورا فون اٹھایا اور کان سے لگایا۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے دوسری طرف سے بات شروع کی، عثمان کے چہرے کے تاثرات یکلخت بدل گئے اور اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے فون بند کر کے بلند آواز میں بستی والوں سے کہا:
“بابا رحیمو! شوکت! سب سنو۔۔۔ ہسپتال سے ڈاکٹر کا فون تھا! سائیں صلاح الدین کی حالت اب بالکل خطرے سے باہر ہے، انہوں نے نہ صرف ڈاکٹروں سے بات کی ہے بلکہ پولیس کو اپنا حتمی بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ہے! ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ تیزی سے ریکور کر رہے ہیں اور بہت جلد انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا!”
یہ خبر سنتے ہی پوری بستی ایک بار پھر “سائیں صلاح الدین زندہ باد!” اور “بانو کے عشق کی جیت!” کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مزارعوں کی آنکھوں میں امید کے نئے دیے جل اٹھے تھے۔
لیکن دوسری طرف، بانو اس ہجوم سے تھوڑا ہٹ کر کچے کوٹ کی ریتلی سرحد پر جا کھڑی ہوئی۔ رات کی ٹھنڈی ہوا اس کی گلابی چادر کو اڑا رہی تھی اور دور افق پر چولستان کا صحرا اب پرسکون دکھائی دے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سکون طوفان سے پہلے کا سکون ہے۔ سارنگ شاہ بھلے جیل چلا گیا ہو، لیکن شاہینہ بیگم اور کامران احمد ابھی آزاد ہیں اور بہرام خان کے جلادوں کا یہ حملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ حویلی اپنی آخری سانس تک مزارعوں کو کچلنے کی کوشش کرے گی۔
بانو نے اپنے پیروں کی زخمی مٹی کو دیکھا اور دل ہی دل میں ایک نیا عزم کیا۔ وہ اب وہ ڈرپوک لڑکی نہیں رہی تھی، بلکہ اپنے سائیں صلاح الدین کے رنگ میں رنگ کر ایک چٹان بن چکی تھی۔ اس نے اندھیرے صحرا کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی کی:
“شاہینہ بیگم! تم نے چولستان کے جلادوں کو بھیج کر بانو کا راستہ روکنے کی کوشش کی ناں؟ اب دیکھنا، جب میرا سائیں صلاح الدین اس کچے کوٹ میں واپس لوٹے گا، تو انصاف کا وہ طوفان اٹھے گا جو تمہاری اس کالی حویلی کا نام و نشان بھی مٹا دے گا۔ یہ بانو اب اپنے سائیں کی تصویر بن کر تمہارے ہر ظلم کے سامنے کھڑی رہے گی!”

تیرے عشق کی چھاؤں میں – آخری قسط نمبر 17