میں آج برسوں بعد اپنی زندگی کے اس دردناک باب کو لفظوں میں ڈھالنے بیٹھی ہوں جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ بعض زخم وقت گزرنے کے باوجود نہیں بھرتے، بلکہ ہر یاد کے ساتھ پہلے سے زیادہ گہرے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کہانی صرف میری نہیں، بلکہ ان بے شمار بیٹیوں کی بھی ہے جن کی خوشیوں کا فیصلہ ان کی خواہشوں سے زیادہ معاشرے کی سوچ کرتی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔ میرے والد سرکاری ملازم تھے، اسی لیے ہر چند سال بعد ہمارا شہر بدل جاتا تھا۔ ابھی کسی جگہ کے لوگوں سے مانوس بھی نہیں ہوتے تھے کہ تبادلے کا حکم آ جاتا اور ہمیں ایک نئی بستی، نئے ماحول اور نئے چہروں کے درمیان زندگی کا آغاز کرنا پڑتا۔ اسی سلسلے میں ہم حال ہی میں گوجرانوالہ منتقل ہوئے تھے۔ نئے اسکول میں ہر چیز میرے لیے اجنبی تھی۔ کلاس کی لڑکیاں اپنے اپنے گروہوں میں مصروف رہتیں، اس لیے میری کسی سے خاص دوستی نہ بن سکی۔
کلاس میں صرف ایک لڑکی تھی جس کی خاموش طبیعت نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ اس کا نام ماہم تھا۔ وہ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ رہتی، نہ کسی سے ہنستی، نہ فضول باتیں کرتی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف اور بے نام اداسی بسی ہوئی تھی، جیسے وہ ہر وقت کسی ایسے غم کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہو جس کا اندازہ دوسروں کو نہ ہو۔
چند دن تک میں اسے خاموشی سے دیکھتی رہی، مگر آخر ایک دن ہمت کرکے اس کے پاس جا بیٹھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، “ماہم، تم ہمیشہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو؟ کیا کوئی بات پریشان کرتی ہے؟” میرے سوال پر اس نے پہلے نظریں جھکا لیں، پھر ایک لمبی سانس لی۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ کپکپاتی آواز میں اس نے کہا، “کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔” میں گھبرا گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے ایک معمولی سوال نے اس کے دل کے بند دروازے کھول دیے ہیں۔
کافی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے بتایا کہ صرف چند ہفتے پہلے اس کی بڑی بہن اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی ہے۔ حالات کی سنگینی اور مسلسل ذہنی اذیت نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا تھا جہاں زندگی اسے بوجھ محسوس ہونے لگی، اور ایک دن وہ سب کو روتا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔ یہ سنتے ہی میرے دل پر جیسے بوجھ سا آ گیا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے خود ہی اپنی بہن کا ذکر شروع کر دیا۔
“میری بہن کا نام حریم تھا۔” اس نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “وہ صرف میری بہن نہیں، میری سب سے اچھی دوست بھی تھی۔ گھر کا ہر فرد اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ اس کی مسکراہٹ جیسے پورے گھر میں خوشی بکھیر دیتی تھی۔ وہ جہاں جاتی، محفل کو زندہ کر دیتی۔ امی ابو کی آنکھوں کا تارا تھی، اور رشتے دار بھی اس کی شرافت، اخلاق اور ذہانت کی مثالیں دیا کرتے تھے۔”
ماہم بولتی جا رہی تھی اور میں ہمہ تن گوش تھی۔ اس نے بتایا کہ حریم پڑھائی میں بھی غیر معمولی ذہین تھی۔ آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحان میں اس نے پورے اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی تو گھر جشن کا منظر پیش کرنے لگا۔ عزیز و اقارب مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے۔ انہی مہمانوں میں والدہ کی بڑی بہن نسرین خالہ بھی اپنے اکلوتے بیٹے ریحان کے ساتھ آئی تھیں، جو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔
اسی ملاقات میں پہلی بار ریحان اور حریم کی باقاعدہ گفتگو ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے سے نہایت مختصر انداز میں بات کی، مگر شاید کچھ رشتے الفاظ سے نہیں بلکہ احساس سے جڑ جاتے ہیں۔ دونوں نے اپنی پسند دل ہی دل میں چھپا لی۔ نہ کسی کو اندازہ ہونے دیا، نہ کسی سے ذکر کیا۔ چائے کے دوران جب گھر والوں میں مستقبل اور بچوں کی تعلیم کی باتیں ہو رہی تھیں تو اچانک حریم کے رشتے کا ذکر بھی نکل آیا۔ نسرین خالہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر سب کو مناسب لگے تو وہ اپنے بیٹے ریحان کے لیے حریم کا ہاتھ مانگنا چاہیں گی۔ یہ بات سنتے ہی گھر کا ماحول خوشگوار ہو گیا۔ والدین نے بھی اس تجویز کو پسند کیا، کیونکہ ریحان ایک بااخلاق، تعلیم یافتہ اور شریف خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ سب کو محسوس ہوا کہ شاید یہ رشتہ دونوں خاندانوں کے لیے خوشیوں کا سبب بنے گا۔
چند ہفتوں بعد جب نسرین خالہ دوبارہ آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک خوبصورت انگوٹھی تھی۔ دونوں خاندانوں کی رضا مندی سے سادگی کے ساتھ منگنی کی رسم ادا کر دی گئی۔ انگوٹھی جب حریم کی انگلی میں پہنائی گئی تو اس کے چہرے پر ایسی روشنی تھی جیسے برسوں کی دعا قبول ہو گئی ہو۔ اس کی آنکھوں میں آنے والے کل کے بے شمار خواب جھلملانے لگے تھے، جبکہ ریحان بھی خاموش مسکراہٹ کے ساتھ مستقبل کی انہی امیدوں میں کھویا ہوا دکھائی دیتا تھا۔
ماہم نے یہ سب بیان کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ پھر اس نے دھیرے سے کہا، “اگر قسمت ہمیشہ انسان کی خواہشوں کے مطابق چلتی، تو شاید میری بہن آج زندہ ہوتی۔ لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ خوشیوں کی یہ ابتدا، ہماری زندگی کے سب سے بڑے المیے کا پہلا باب ثابت ہونے والی ہے”
منگنی کے بعد حریم کی زندگی جیسے یکسر بدل گئی تھی۔ اس کے چہرے پر ہر وقت ایک مدھم سی مسکراہٹ رہنے لگی تھی، جیسے دل میں کوئی حسین راز چھپا ہو۔ پہلے وہ صرف ایک ذمہ دار اور سمجھدار لڑکی تھی، مگر اب اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی شگفتگی آ گئی تھی۔ وہ گھر کے کام بھی پہلے سے زیادہ دل لگا کر کرتی اور فرصت کے لمحوں میں اکثر کسی خیال میں کھوئی رہتی۔ کبھی کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کو تکتی رہتی، کبھی آئینے کے سامنے اپنے آپ کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا دیتی۔ اس کے دل میں آنے والے کل کے بے شمار خواب جنم لے چکے تھے۔
ریحان بھی اپنی منگیتر کا بے حد احترام کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دونوں خاندان قدامت پسند تھے، اس لیے وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرتا تھا جس سے کسی کو شکایت کا موقع ملے۔ مہینوں گزر جاتے، مگر وہ صرف کسی خاندانی تقریب یا عزیزوں کی موجودگی میں ہی حریم کو دیکھ پاتا۔ دونوں کی نظریں جب ایک دوسرے سے ملتیں تو چند لمحوں کی خاموشی میں جیسے سینکڑوں باتیں ہو جاتیں، لیکن زبانیں خاموش رہتیں۔
ماہم نے بتایا کہ ان کے گھر کا ماحول ایسا تھا جہاں منگنی کے باوجود لڑکا اور لڑکی کا آزادانہ ملنا یا بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے دونوں اپنے جذبات کو دل میں ہی چھپائے رکھتے تھے۔ کبھی کبھار قسمت مہربان ہوتی تو کسی تقریب میں ایک دوسرے کی جھلک دیکھ لیتے، اور یہی چند لمحے ان کے لیے کئی ہفتوں کی خوشی بن جاتے۔
ایک دن اسکول کی چھٹی کے وقت حریم جب گیٹ سے باہر نکلی تو اچانک اس کی نگاہ سامنے کھڑے ریحان پر جا ٹھہری۔ وہ چند قدم کے فاصلے پر خاموشی سے کھڑا تھا۔ حریم حیرت سے رک گئی۔ اس نے دھیرے سے سلام کیا، جس کا جواب ریحان نے احترام سے دیا۔ “آپ یہاں؟” حریم نے آہستہ سے پوچھا۔
ریحان مسکرا کر بولا، “اصل میں ایک کام سے اس طرف آیا تھا… دل نے کہا تمہیں ایک نظر دیکھتا چلوں۔” یہ سن کر حریم کے رخسار سرخ ہو گئے۔ دونوں صرف چند لمحے وہاں کھڑے رہے۔ نہ کوئی لمبی گفتگو ہوئی، نہ کسی وعدے کا تبادلہ۔ ریحان نے مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہا اور واپس چلا گیا، مگر اس مختصر ملاقات نے دونوں کے دلوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔
اسی شام حریم دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ وہ کسی سے کچھ نہ کہہ سکی، لیکن اس کی آنکھوں کی چمک صاف بتا رہی تھی کہ آج اس کے دل میں کوئی خوبصورت لمحہ محفوظ ہو گیا ہے۔ چند ہفتے بعد نسرین خالہ دوبارہ ان کے گھر آئیں۔ اس بار ریحان بھی ان کے ساتھ تھا۔ حسبِ معمول گھر میں چائے اور باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ حریم مہمانوں کی خاطر داری میں مصروف تھی۔ کبھی چائے پیش کرتی، کبھی ناشتے کی پلیٹیں سجاتی۔ ریحان خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
جب سب لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو میں مصروف تھے، ریحان کی نظریں بار بار حریم کی طرف اٹھ جاتیں۔ وہ اس کی سادگی، شائستگی اور نرم لہجے سے پہلے ہی متاثر تھا، مگر آج اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ بے حد باوقار بھی ہے۔ گھر سے واپسی کے وقت ریحان نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے ماہم سے کہا، “تمہاری بہن جب بات کرتی ہے تو دل چاہتا ہے بس سنتا ہی رہوں۔” ماہم اس وقت کم عمر تھی، اس لیے وہ اس جملے کی گہرائی نہ سمجھ سکی، مگر آج برسوں بعد اسے احساس ہوتا تھا کہ وہ محبت صرف پسندیدگی نہیں، بلکہ سچے احترام پر قائم تھی۔
ادھر وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ ریحان نے گریجویشن مکمل کر لی تھی، جبکہ حریم نے بھی میٹرک میں بہترین نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، مگر گھر والوں کی رائے مختلف تھی۔ والدین کا خیال تھا کہ لڑکی کی اصل منزل اس کا گھر اور خاندان ہے، اس لیے اب شادی کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
گھر میں جہیز کا سامان تیار ہونے لگا۔ کبھی کپڑوں کی خریداری ہوتی، کبھی زیورات کی بات چلتی، کبھی فرنیچر پسند کیا جاتا۔ والدہ بڑی محبت سے ہر چیز ترتیب دیتیں، جبکہ حریم ہر نئی چیز کو ایسے دیکھتی جیسے اپنے خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھ رہی ہو۔ وہ اکثر اپنی الماری کھول کر نئے جوڑے نکالتی، ہاتھوں سے سہلاتی اور پھر احتیاط سے واپس رکھ دیتی۔ اس کی آنکھوں میں آنے والے گھر کی تصویریں بسنے لگی تھیں۔
دوسری طرف ریحان بھی شادی کے دن گن رہا تھا۔ وہ ہر ملاقات کو ترستا، مگر خاندان کی روایات کے باعث اپنی حدود سے باہر قدم نہ رکھتا۔ آخر ایک دن اس نے ایک رسالہ خریدا اور موقع پا کر ماہم کے ہاتھ حریم تک پہنچا دیا۔ معصوم ماہم نے بنا کچھ سوچے وہ رسالہ اپنی بہن کے حوالے کر دیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے صفحات کے درمیان صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک دھڑکتے ہوئے دل کا پیغام بھی چھپا ہوا ہے۔ اسی شام حریم نے سہیلی سے ملنے کا بہانہ بنایا اور گھر سے نکل گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ وہ خوش بھی دکھائی دیتی تھی اور پریشان بھی۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، مگر دل جیسے کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔
ماہم نے کئی بار سوچا کہ بہن سے پوچھے آخر بات کیا ہے، مگر پھر خاموش رہ گئی۔ اسے صرف اتنا احساس ہوا کہ محبت کی یہ خاموش کہانی اب ایک ایسے موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایک چھوٹی سی لغزش بھی سب کچھ بدل سکتی ہے، اور شاید قسمت بھی کسی نئے امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔
شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی اور دونوں گھروں میں تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ ہر گزرتا دن حریم اور ریحان کو اپنی منزل کے قریب لے جا رہا تھا۔ گھر کے ہر کونے میں خوشیوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ کہیں دلہن کے لباس پر کڑھائی ہو رہی تھی، کہیں زیورات کی پیمائش لی جا رہی تھی، تو کہیں آنے والے مہمانوں کی فہرستیں تیار کی جا رہی تھیں۔ حریم کے چہرے پر ہر صبح ایک نئی چمک ہوتی، جیسے اس کی زندگی کا ہر خواب حقیقت بننے کے لیے بے تاب ہو۔ مگر انسان اپنی تقدیر کے اگلے صفحے سے ہمیشہ بے خبر رہتا ہے۔
ایک دن حریم نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ اپنی سہیلی کے ساتھ بازار جا رہی ہے۔ بہانہ یہ بنایا کہ ایک دوپٹے کو رنگ کروانا ہے اور کچھ سلائی کا سامان بھی خریدنا ہے۔ والدہ نے زیادہ سوال نہ کیے، کیونکہ شادی میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے تھے اور خریداری کا سلسلہ معمول بن چکا تھا۔ لیکن اس روز حقیقت کچھ اور تھی۔
چند روز پہلے ریحان کا ایک مختصر سا پیغام حریم تک پہنچا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ شادی کے بعد تو ساری زندگی ساتھ گزرنی ہے، مگر وہ رخصتی سے پہلے صرف ایک بار چند لمحوں کے لیے اس سے ملنا چاہتا ہے۔ نہ کوئی غلط ارادہ، نہ کوئی چھپی ہوئی خواہش، صرف چند باتیں، چند دعائیں اور آنے والے خوبصورت دنوں کے خواب۔ حریم نے پہلے اس خیال کو دل سے جھٹک دیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر گھر والوں کو خبر ہوئی تو شدید ناراضی ہوگی۔ مگر دل اور عقل کی کشمکش کئی دن جاری رہی۔ آخرکار محبت نے احتیاط پر غلبہ حاصل کر لیا، اور اس نے سوچا کہ چند لمحوں کی ملاقات سے آخر کیا فرق پڑے گا؟ چند ہی ہفتوں بعد تو وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ہو جائیں گے۔
یہی وہ فیصلہ تھا جس نے اس کی پوری زندگی بدل دی۔ طے شدہ وقت پر وہ شہر کے ایک پرسکون ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں ریحان پہلے سے موجود تھا۔ اسے دیکھتے ہی ریحان احترام سے کھڑا ہو گیا۔ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ گئے۔ ابتدا میں دونوں خاموش رہے، جیسے برسوں کے جذبات الفاظ تلاش کر رہے ہوں۔
کچھ دیر بعد ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا، “مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ چند ہفتوں بعد تم ہمیشہ کے لیے میری زندگی کا حصہ بن جاؤ گی۔”
حریم نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر دل کی دھڑکن معمول سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ دونوں نے مستقبل کے خوابوں پر بات کی۔ ریحان نے وعدہ کیا کہ وہ حریم کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرے گا، یہاں تک کہ اگر وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے تو وہ خود اس کا ساتھ دے گا۔ یہ سن کر حریم کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلملانے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے اسے صرف ایک شریکِ حیات نہیں بلکہ ایک مخلص دوست بھی مل گیا ہو۔
دونوں ابھی اپنی باتوں میں مصروف ہی تھے کہ اچانک ریسٹورنٹ کے دروازے پر ایک مانوس آواز سنائی دی۔ حریم نے بے اختیار سر اٹھایا۔ اس کا رنگ ایک لمحے میں زرد پڑ گیا۔ دروازے سے اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر اس کی سانس جیسے رک گئی تھی۔ وہ اس کے والد تھے۔ ان کے ساتھ خاندان کے دو قریبی عزیز بھی موجود تھے۔ چند لمحوں کے لیے پورا منظر جیسے ساکت ہو گیا۔ ریحان کے چہرے سے بھی خون اتر گیا۔ دونوں اپنی جگہ سے اٹھنا بھول گئے۔ ادھر والد کی نظریں جب اپنی منگیتر کے ساتھ بیٹھی بیٹی پر پڑیں تو ان کے چہرے کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا۔
انہیں اپنی بیٹی سے زیادہ اس بات نے جھنجھوڑ دیا کہ ان کے رشتہ دار بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ کسی نے کچھ نہیں کہا، مگر خاموش نظریں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔ والد تیز قدموں سے میز تک آئے۔ ان کی آنکھوں میں غصہ، دکھ اور بے عزتی کا احساس ایک ساتھ دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے ایک لفظ بھی کہے بغیر حریم کا بازو مضبوطی سے پکڑا اور اسے کھڑا کر دیا۔ ریحان نے ہمت کرکے کچھ کہنا چاہا، مگر والد نے سخت لہجے میں صرف اتنا کہا،
“ابھی ایک لفظ بھی مت بولنا… تم سے حساب بعد میں ہوگا۔”
ریسٹورنٹ میں موجود لوگ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ حریم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر اس وقت نہ کوئی وضاحت سنی گئی اور نہ ہی کسی صفائی کی گنجائش باقی رہی۔ گھر پہنچتے ہی جیسے قیامت برپا ہو گئی۔
والد کا غصہ قابو سے باہر تھا۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ برسوں سے کمائی ہوئی عزت ایک لمحے میں خاک میں مل گئی ہے۔ ان کی نظر میں بیٹی نے صرف ان کی نافرمانی نہیں کی تھی بلکہ پورے خاندان کو لوگوں کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا۔ انہوں نے غصے میں آ کر حریم کو سخت ڈانٹا۔ والدہ بیچ بچاؤ کے لیے آگے بڑھیں تو وہ بھی والد کے غصے سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ حریم مسلسل روتی رہی۔
“ابو… میری بات سن لیں… ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا…”
لیکن اس کی آواز غصے کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی۔ اسی رات والد نے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا جس نے سب کے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں اعلان کر دیا کہ ریحان اب اس گھر کا داماد نہیں بنے گا۔ منگنی اسی لمحے ختم کر دی گئی۔ والدہ سکتے میں آ گئی تھیں۔ شادی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، مہمانوں کو اطلاع دی جا چکی تھی، مگر ایک لمحے کے غصے نے برسوں کے رشتے کو توڑ کر رکھ دیا۔
حریم نے باپ کے قدموں میں بیٹھ کر بہت منتیں کیں۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ اس سے غلطی ضرور ہوئی ہے، مگر اس کا مقصد کبھی خاندان کی عزت کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ والدہ نے بھی شوہر کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کی چند ہفتوں بعد ویسے بھی شادی ہونے والی تھی، بچوں کی ایک لغزش کو ہمیشہ کی سزا نہ بنائیں۔ مگر والد کا دل جیسے پتھر ہو چکا تھا۔ ان کے نزدیک اب مسئلہ صرف بیٹی یا منگنی کا نہیں رہا تھا، بلکہ خاندان کی عزت اور انا کا بن چکا تھا۔
ادھر ریحان بھی اپنے گھر میں ٹوٹ چکا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ چند لمحوں کی ایک ملاقات اس کی پوری زندگی چھین لے گی۔ کسی نے بھی اس رات آنکھ نہ لگائی، مگر شاید سب سے زیادہ جاگتی ہوئی چیز قسمت تھی، جو خاموشی سے ایک ایسی داستان لکھ رہی تھی جس کے ہر صفحے پر صرف آنسو رقم ہونے والے تھے۔
گھر کی فضا پر کئی دنوں تک سوگ کا سا عالم طاری رہا۔ جو گھر چند روز پہلے شادی کی تیاریوں، ہنسی اور خوشیوں سے گونج رہا تھا، وہاں اب خاموشی اپنے قدم جما چکی تھی۔ ہر چہرہ بجھا بجھا دکھائی دیتا تھا، مگر سب سے زیادہ ٹوٹنے والی حریم تھی۔ وہ اپنے کمرے میں گھنٹوں بیٹھی رہتی، نہ کسی سے بات کرتی اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اب اتنے بہہ چکے تھے کہ جیسے آنکھیں بھی خشک ہونے لگی تھیں۔
ادھر ریحان کے گھر میں بھی بے چینی کم نہ تھی۔ اس کی والدہ نسرین بیگم کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ برسوں کا قائم رشتہ صرف ایک غلط فہمی اور چند لمحوں کی ملاقات کی وجہ سے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اس حال میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ کھانا چھوڑ چکا تھا، راتوں کو جاگتا رہتا اور ہر وقت ایک ہی بات دہراتا، “امی، میں نے کوئی گناہ نہیں کیا… میں تو صرف اپنی ہونے والی بیوی سے چند لمحے ملنے گیا تھا۔”
ماں بیٹے کی حالت دیکھ کر خود بھی ٹوٹ گئی تھیں۔ آخر ایک صبح انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک بار پھر حریم کے والد سے بات کریں گی۔ شاید غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہو، شاید اب معاملہ سنبھل جائے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ حریم کے گھر پہنچیں۔ نہایت ادب سے سلام کیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ بات شروع کی۔ نسرین بیگم نے نم آنکھوں سے کہا، “بھائی صاحب! بچوں سے غلطی ہو گئی، لیکن وہ غلطی نادانی کی تھی، بدکرداری کی نہیں۔ چند ہی ہفتوں بعد تو ان کا نکاح ہونا تھا۔ خدا کے لیے ان کی زندگی برباد نہ کریں۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ مگر حریم کے والد کا دل اب بھی غصے کی آگ میں جل رہا تھا۔ انہوں نے سخت لہجے میں جواب دیا، “جس دن میں نے اپنی بیٹی کو لوگوں کے سامنے اس لڑکے کے ساتھ دیکھا، اسی دن یہ رشتہ میرے لیے ختم ہو گیا تھا۔ میری عزت میرے لیے ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔”
نسرین بیگم نے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کی، مگر ہر لفظ دیوار سے ٹکرا کر واپس آ رہا تھا۔ آخرکار انہیں مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑا۔ جاتے وقت ریحان کے والد نے صرف اتنا کہا، “اللہ گواہ ہے، ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔”
یہ دروازہ بند ہوا تو گویا دو محبت کرنے والے دلوں کے درمیان امید کا آخری راستہ بھی بند ہو گیا۔ حریم نے جب سنا کہ ریحان کی والدہ بھی خالی ہاتھ واپس چلی گئی ہیں تو اس کا دل جیسے ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔ اس نے کئی راتیں سجدوں میں گزار دیں، اللہ سے دعائیں مانگتی رہی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، مگر بعض دعائیں قسمت کی لکھی ہوئی سطروں سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔
چند ہی دن بعد ایک اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ حریم کے والد نے اعلان کیا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بھانجے وقاص سے کریں گے، جو ایک دور دراز گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھا، مگر والد کے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ خاندان کا لڑکا تھا اور اس رشتے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ یہ خبر سن کر حریم کی دنیا اندھیر ہو گئی۔
اس نے والد کے سامنے ہاتھ جوڑے، روتے ہوئے کہا، “ابو! اگر آپ مجھے سزا دینا چاہتے ہیں تو دے دیں، لیکن میری پوری زندگی کا فیصلہ غصے میں نہ کریں۔ میں وقاص کو جانتی تک نہیں۔”
والد نے نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔ انہوں نے صرف ایک جملہ کہا، “فیصلہ ہو چکا ہے۔ اب اس پر مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔”
ماں اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر روتی رہیں، مگر ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ وہ جانتی تھیں کہ شوہر کا فیصلہ بدلنا اب ممکن نہیں رہا۔
ادھر ریحان کو جب حریم کی نئی منگنی کی خبر ملی تو وہ کئی گھنٹوں تک اپنے کمرے میں بند رہا۔ کسی سے نہ ملا، نہ کسی سے بات کی۔ اس کی زندگی کا سب سے حسین خواب ایک لمحے میں بکھر چکا تھا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ انسان بعض اوقات زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے مر جاتا ہے۔
چند ہفتوں بعد حریم کی شادی نہایت سادگی سے وقاص کے ساتھ کر دی گئی۔ نہ وہ چہرے پر دلہن والی خوشی تھی، نہ آنکھوں میں خوابوں کی چمک۔ سرخ جوڑے میں بیٹھی حریم ایسی لگ رہی تھی جیسے کسی نے ایک زندہ انسان کے وجود سے تمام احساسات چھین لیے ہوں۔ رسمیں ادا ہوتی رہیں، دعائیں دی جاتی رہیں، مگر اس کے دل میں صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ شاید یہ رخصتی نہیں، اس کی خوشیوں کا جنازہ ہے۔
جب گاڑی اس کے میکے سے روانہ ہوئی تو اس نے پلٹ کر اپنے گھر کو آخری بار دیکھا۔ وہی گھر جہاں اس نے بچپن گزارا تھا، جہاں اس نے ریحان کے ساتھ ایک نئی زندگی کے خواب دیکھے تھے، آج اسے ہمیشہ کے لیے اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔ گاؤں پہنچ کر اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوا، مگر یہ وہ زندگی نہیں تھی جس کا اس نے کبھی تصور کیا تھا۔
وقاص کا گھر سادہ تھا۔ گھر کے افراد کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے پورا گھر جاگ جاتا اور شام ڈھلنے تک سب اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے۔ حریم کے لیے یہ ماحول بالکل نیا تھا۔ شہر میں پلی بڑھی لڑکی کو نہ کھیتوں کا تجربہ تھا، نہ دیہاتی رسم و رواج کی سمجھ۔ شروع کے چند دن تو سب خاموش رہے، لیکن جلد ہی حالات نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ ساس نے ایک صبح وقاص سے کہا، “اب بہو کو بھی کھیتوں میں لے جایا کرو۔ گھر میں بیٹھ کر کیا کرے گی؟ ہاتھ بٹائے گی تو کام بھی سیکھ جائے گی۔”
حریم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی نئی زندگی اتنی مشکل ہوگی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ تو صرف آزمائشوں کا آغاز ہے۔ اصل درد ابھی اس کے مقدر کے اگلے صفحوں میں لکھا جا چکا تھا، جہاں ہر صبح ایک نیا زخم اس کا انتظار کر رہا تھا۔
شادی کے ابتدائی چند دن رسم و رواج کی مصروفیات میں گزر گئے، لیکن جیسے ہی مہمان واپس لوٹے، حریم کی زندگی کا اصل امتحان شروع ہو گیا۔ وہ جس گھر میں دلہن بن کر آئی تھی، وہاں اسے اپنانے کے بجائے ہر شخص جیسے اسے پرکھنے میں لگا ہوا تھا۔ اس کی ہر بات، ہر انداز اور ہر قدم پر تنقید کی جاتی۔ شہر میں پلنے والی اس نرم مزاج لڑکی کے لیے گاؤں کی سخت زندگی کسی اجنبی دنیا سے کم نہ تھی۔
صبح اذان سے پہلے اسے جگا دیا جاتا۔ پہلے گھر کی صفائی، پھر چولہے پر ناشتہ تیار کرنا، اس کے بعد جانوروں کے لیے چارہ کاٹنا، پانی بھرنا اور دوپہر تک مسلسل کام کرتے رہنا اس کا روز کا معمول بن گیا۔ وہ تھک کر چند لمحوں کے لیے بیٹھتی بھی تو ساس کی آواز گونج اٹھتی۔
“یہاں آرام کرنے نہیں آئی ہو… اس گھر کی بہو بنی ہو، کام کرنا سیکھو۔”
حریم خاموشی سے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی۔ وہ کبھی جواب نہ دیتی، کیونکہ اسے امید تھی کہ شاید وقت کے ساتھ سب کے دل نرم ہو جائیں گے۔
چند ہی دنوں بعد اسے کھیتوں میں بھیجنا شروع کر دیا گیا۔ تپتی دھوپ میں گھنٹوں کام کرنا اس کے لیے نہایت مشکل تھا۔ نازک ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، پاؤں سوج جاتے، مگر کسی کو اس کی تکلیف سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وقاص بھی صبح سویرے کھیتوں میں نکل جاتا۔ شروع شروع میں حریم نے کئی بار کوشش کی کہ وہ اس سے محبت اور احترام سے بات کرے، اس کے دل میں اپنے لیے جگہ بنا سکے، مگر اسے ہر بار سرد مہری ہی نصیب ہوئی۔ وہ اکثر محسوس کرتی کہ وقاص اس سے نظریں چراتا ہے، جیسے دل سے اسے اپنی بیوی تسلیم ہی نہ کر پایا ہو۔
ایک رات اس نے ہمت کرکے آہستہ سے پوچھا، “اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے بتا دیں، میں خود کو بدلنے کی کوشش کروں گی۔”
وقاص نے تلخ لہجے میں جواب دیا، “غلطی تم سے نہیں، تمہارے ماضی سے ہوئی ہے… اور ایسے ماضی کو بھلانا آسان نہیں ہوتا۔”
یہ الفاظ تیر بن کر حریم کے دل میں اتر گئے۔ اسے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ اس کے میکے میں پیش آنے والا واقعہ صرف خاندان تک محدود نہیں رہا تھا۔ لوگوں نے اپنی مرضی کی کہانیاں بنا کر پورے علاقے میں پھیلا دی تھیں۔ کسی نے کہا وہ شادی سے پہلے چھپ چھپ کر ملتی تھی، کسی نے کہا وہ اپنے منگیتر کے ساتھ شہر کے ہوٹلوں میں گھومتی رہی۔ حقیقت کیا تھی، اس سے کسی کو دلچسپی نہ تھی۔ ہر شخص نے اپنی مرضی کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ وہ جہاں جاتی، سرگوشیاں اس کے پیچھے چلنے لگتیں۔
ساس کبھی طنز کرتے ہوئے کہتی، “بڑی شریف بنتی ہے… ہمیں سب معلوم ہے۔”
نند ہنس کر بولتی، “شہر کی پڑھی لکھی لڑکیوں کے یہی شوق ہوتے ہیں۔”
حریم خاموشی سے سب کچھ سنتی رہتی۔ وہ جانتی تھی کہ صفائیاں دینے سے لوگوں کی سوچ نہیں بدلتی۔ سب سے زیادہ تکلیف اسے اس وقت ہوتی جب وقاص بھی دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیتا۔ ایک شام وہ کھیت سے واپس آئے تو بغیر کسی بات کے بول اٹھے، “اگر تم اپنے ہونے والے شوہر سے ملنے جا سکتی تھیں تو کیا یقین ہے کہ باقی سب بھی جھوٹ ہے؟”
حریم نے پہلی بار اونچی آواز میں کہا، “اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ہم صرف چند لمحوں کے لیے ملے تھے، کیونکہ چند ہفتوں بعد ہماری شادی ہونے والی تھی۔” وقاص نے بے رخی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ “لوگ کبھی بلاوجہ باتیں نہیں بناتے۔” یہ جملہ سن کر حریم کی ہمت ٹوٹ گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا سب سے بڑا جرم حقیقت نہیں، بلکہ لوگوں کی زبانوں پر زندہ وہ افواہیں ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔
وقت گزرتا گیا، مگر حالات بدلنے کے بجائے مزید سخت ہوتے گئے۔ حریم ہر رات اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتی کہ شاید ایک دن اس کے شوہر کا دل نرم ہو جائے، شاید ساس اسے بیٹی سمجھنے لگے، شاید یہ گھر اس کا اپنا گھر بن جائے۔ لیکن ہر نئی صبح اس کی امید سے زیادہ سخت ثابت ہوتی۔ ماہم نے مجھے بتایا کہ جب بھی وہ اپنی بہن سے ملنے جاتی تو اسے پہچاننا مشکل ہو جاتا تھا۔ جو لڑکی کبھی ہنستی تھی، اب اس کے ہونٹوں پر خاموشی نے قبضہ کر لیا تھا۔ جس کے چہرے پر زندگی جھلکتی تھی، وہاں اب مستقل تھکن اور اداسی بسی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے تھے اور چہرہ مرجھائے ہوئے پھول کی مانند لگتا تھا۔
ایک دن ماہم نے آہستہ سے پوچھا، “آپی… آپ خوش تو ہیں نا؟”
یہ سنتے ہی حریم چند لمحوں تک خاموش رہی، پھر مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، “ہر لڑکی کو اپنے گھر میں وقت لگتا ہے۔ تم فکر مت کرو، میں ٹھیک ہوں۔”
لیکن جیسے ہی ماہم واپس جانے لگی، اس نے پلٹ کر دیکھا۔ حریم خاموشی سے کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی، اور اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ وہ شاید کسی انسان سے نہیں، اپنے رب سے سوال کر رہی تھی کہ آخر اس کی محبت، اس کی وفاداری اور اس کی خاموشی کا انجام اتنا دردناک کیوں لکھا گیا۔ یہ صرف دکھوں کی ابتدا تھی۔
ابھی قسمت نے اس کے لیے ایک اور ایسا امتحان سنبھال رکھا تھا، جو نہ صرف اس کے دل کو توڑنے والا تھا بلکہ اس کی پوری زندگی کو ایک ایسے اندھیرے میں دھکیلنے والا تھا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہنے والا تھا۔ وقت خاموشی سے گزرتا رہا، مگر حریم کی زندگی میں کوئی خوشی واپس نہ آ سکی۔ دن محنت میں ڈھل جاتے اور راتیں آنسوؤں میں بیت جاتیں۔ اس نے دل سے کوشش کی کہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر ہر رشتہ نبھائے، مگر محبت یکطرفہ ہو تو وفاداری بھی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔
شادی کو ایک سال بیت گیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ گھر والوں کے رویے میں سختی بڑھتی گئی۔ اب ہر گفتگو کا مرکز صرف ایک سوال رہ گیا تھا۔ “ابھی تک کوئی خوشخبری کیوں نہیں آئی؟” شروع میں لوگ ہمدردی سے پوچھتے تھے، پھر مشورے دینے لگے، اور آخرکار یہی سوال طعنوں میں بدل گیا۔
ساس ہر دوسرے دن کہہ دیتیں، “آخر اس گھر کا چراغ کب جلے گا؟”
نند طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولتی، “پڑھائی لکھائی سے اگر گھر آباد ہوتے تو دنیا کی ہر تعلیم یافتہ عورت ماں بن چکی ہوتی۔”
حریم خاموشی سے سب سنتی رہتی۔ وہ کئی بار شہر کے ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہتی تھی، مگر اس کی بات کو کوئی اہمیت نہ دیتا۔ آخر ایک دن اس نے خود ہی وقاص سے درخواست کی۔ “اگر آپ اجازت دیں تو ہم دونوں ڈاکٹر سے معائنہ کروا لیتے ہیں۔ شاید علاج سے مسئلہ حل ہو جائے۔”
وقاص نے بے زاری سے جواب دیا، “ضرورت تمہیں ہے، مجھے نہیں۔” یہ جواب سن کر حریم نے مزید کچھ نہ کہا۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ یہاں مسئلہ علاج کا نہیں، سوچ کا ہے۔ یوں ہی دیکھتے دیکھتے چار سال گزر گئے۔
ان چار برسوں میں حریم نے شاید ہی کوئی ایسا دن دیکھا ہو جس میں اسے عزت، محبت یا سکون نصیب ہوا ہو۔ وہ مسلسل کام کرتی، سب کی خدمت کرتی، مگر بدلے میں اسے صرف الزام، تحقیر اور نفرت ملتی۔ ایک شام وہ باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی کہ ساس کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ وہ وقاص سے کہہ رہی تھیں، “بیٹا! اب بہت ہو گیا۔ ہماری نسل آگے بڑھنی چاہیے۔ اس عورت سے امید لگائے رکھنا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔ تم دوسری شادی کر لو۔” یہ الفاظ سن کر حریم کے ہاتھ سے چمچ زمین پر گر گیا۔
اسے لگا جیسے کسی نے اس کے وجود سے آخری سہارا بھی چھین لیا ہو۔ اس رات وہ دیر تک سجدے میں بیٹھی روتی رہی۔ اس نے پہلی بار اپنے لیے نہیں، اپنے ٹوٹتے ہوئے رشتے کے لیے دعا مانگی۔ چند دن بعد اس کے والد کو بھی اس صورتِ حال کی خبر ملی۔ برسوں پہلے کیے گئے اپنے فیصلے کا بوجھ وہ پہلے ہی دل میں اٹھائے پھر رہے تھے۔ بیٹی کی حالت کی خبریں انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھیں۔ وہ فوراً گاؤں پہنچے۔
وقاص اور اس کے گھر والوں کے سامنے نہایت نرم لہجے میں کہا، “اگر بچوں کی اولاد نہیں ہو رہی تو پہلے مکمل علاج کروا لیجیے۔ جلد بازی میں ایسا فیصلہ نہ کریں جس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔” یہ شاید پہلی مرتبہ تھا کہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کے حق میں اتنی عاجزی سے بات کی تھی۔ لیکن اب فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں تھے۔ چند روز تک سب خاموش رہے، مگر یہ خاموشی صرف آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔
ایک صبح معمول کے مطابق حریم نے گھر کے تمام کام مکمل کیے۔ دوپہر کے وقت اسے کمرے میں بلایا گیا۔ وہاں وقاص، اس کے والدین اور خاندان کے چند بزرگ بیٹھے تھے۔ فضا غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھی۔ حریم نے گھبرا کر سب کی طرف دیکھا۔ وقاص نے نظریں جھکائے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “یہ رشتہ اب مزید نہیں چل سکتا۔” حریم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“میرا قصور کیا ہے؟” اس نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
وقاص نے کوئی جواب نہ دیا۔ کمرے میں بیٹھے ایک بزرگ نے سرد لہجے میں کہا، “تم اپنے میکے جا سکتی ہو۔”
صرف چند جملوں میں برسوں کا رشتہ ختم کر دیا گیا۔ حریم کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے کانوں نے سننے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ کچھ دیر تک ساکت کھڑی رہی۔ پھر خاموشی سے اپنے چند کپڑے سمیٹے۔ نہ کسی نے اسے روکنے کی کوشش کی، نہ کسی نے تسلی دی۔ جس گھر میں وہ دلہن بن کر آئی تھی، آج وہاں سے ایک بوجھ سمجھ کر رخصت کی جا رہی تھی۔ دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اس نے آخری بار پلٹ کر دیکھا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں اس نے چار برس اپنی ہر خواہش قربان کر دی تھی، مگر اس کے حصے میں صرف بے قدری آئی۔
اس کے قدم سڑک پر پڑ رہے تھے، مگر اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے زمین اس کے نیچے سے کھسک چکی ہو۔ وہ بے مقصد چلتی جا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کبھی ریحان کا مسکراتا چہرہ آتا، کبھی والد کا سخت فیصلہ، کبھی اپنی رخصتی کا دن، اور کبھی وہ تمام خواب جو ایک ایک کرکے ٹوٹتے چلے گئے تھے۔ اس وقت اسے نہ راستے کا ہوش تھا، نہ اپنے اردگرد کی دنیا کا۔ وہ صرف چلتی جا رہی تھی اور قسمت اس کے لیے ایک ایسا آخری امتحان لکھ چکی تھی جس کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جانے والی تھی۔
حریم گھر سے نکلی تو اس کے قدم سڑک پر تھے، مگر اس کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ چار برس کی اذیت، بے شمار طعنے، ٹوٹے ہوئے خواب اور آج اچانک ملنے والی جدائی… یہ سب اس کے دل پر اس قدر بھاری تھا کہ وہ اپنے اردگرد کی دنیا سے بالکل بے خبر ہو چکی تھی۔
وہ خاموشی سے چلتی رہی۔ کبھی اس کی آنکھوں کے سامنے ریحان کی مسکراہٹ آ جاتی، کبھی اپنے والد کا وہ سخت چہرہ، جس نے ایک لمحے کے غصے میں اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔ کبھی اسے اپنی رخصتی کا دن یاد آتا، جب وہ دلہن کے لباس میں سجی ہوئی اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی، اور کبھی وہ راتیں یاد آتیں جب وہ اللہ کے حضور سجدے میں گڑگڑا کر صرف ایک پرسکون زندگی مانگتی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
اسی دوران اچانک سڑک پر تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک وین نے زور سے بریک لگائی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک خوفناک آواز گونجی… لوگ دوڑتے ہوئے جائے حادثہ کی طرف لپکے۔ حریم بے ہوش حالت میں سڑک پر پڑی تھی۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ کسی نے فوراً ایمبولینس بلائی، کسی نے پانی پلانے کی کوشش کی، مگر وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں صرف اتنا ہی کہہ سکی،
“یا اللہ… اب مجھ پر رحم فرما…”
چند ہی لمحوں بعد اسے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے میکے اور سسرال دونوں تک پہنچ گئی۔ سب سے پہلے اس کے والد اسپتال پہنچے۔ آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتے اور پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتے۔ وہی شخص جو کبھی اپنی بیٹی کے آنسوؤں کو ضد سمجھتا تھا، آج اپنی ہر سانس کے ساتھ اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد والدہ، ماہم اور دوسرے گھر والے بھی پہنچ گئے۔
ماہم اپنی بہن کی حالت دیکھ کر چیخ مار کر رو پڑی۔ “آپی… اٹھ جائیں… آپ نے تو کہا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا…” مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
ڈاکٹر کئی گھنٹوں تک حریم کی جان بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آخرکار ایک ڈاکٹر باہر آیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات ہی سب کچھ بیان کر رہے تھے۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا، “ہم نے پوری کوشش کی… مگر چوٹیں بہت گہری تھیں۔”
یہ سنتے ہی ماں کی چیخ پورے اسپتال میں گونج اٹھی۔ ماہم کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے وجود کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا ہو۔ اور حریم کے والد… وہ کرسی پر بیٹھتے ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر بچوں کی طرح رونے لگے۔ شاید زندگی میں پہلی بار انہیں اپنی طاقت، اپنی ضد اور اپنی غیرت سب بے معنی محسوس ہوئی تھی۔ جنازے کے بعد لوگوں میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔
کسی نے کہا، “وہ خود جان بوجھ کر گاڑی کے سامنے آئی تھی۔”
کسی نے کہا، “طلاق کے بعد وہ صدمہ برداشت نہ کر سکی۔”
اور کچھ لوگ اسے محض ایک حادثہ قرار دیتے رہے۔
حقیقت کیا تھی؟ یہ راز صرف اللہ ہی جانتا تھا۔ کوئی یہ ثابت نہ کر سکا کہ یہ حادثہ تھا یا خودکشی۔ لیکن ایک حقیقت ایسی تھی جس سے انکار ممکن نہ تھا۔ حریم اس وقت شدید ذہنی اذیت، بے بسی اور تنہائی کے عالم میں گھر سے نکلی تھی۔ وہ لڑکی، جو کبھی زندگی سے بھرپور تھی، چند برسوں میں مسلسل ٹوٹتے ٹوٹتے اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں اس کے چہرے سے جینے کی خواہش ہی ختم ہو گئی تھی۔
کچھ دن بعد حریم کے والد کو معلوم ہوا کہ طلاق کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا اور اسے انتہائی بے بسی کی حالت میں گھر سے نکالا گیا تھا۔ یہ حقیقت جان کر ان کے دل پر ایسا بوجھ پڑا جو شاید موت تک ان کا ساتھ دینے والا تھا۔ وہ اکثر تنہائی میں بیٹھے رہتے اور خود سے کہتے، “اگر میں اس دن غصے میں فیصلہ نہ کرتا… اگر میں صرف ایک بار اپنی بیٹی کی بات سن لیتا… اگر میں لوگوں کے ڈر کے بجائے اس کی خوشی کو اہمیت دیتا… تو شاید آج میری بیٹی زندہ ہوتی۔”
اب انہیں ہر وہ لمحہ یاد آنے لگا جب حریم نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی، جب اس نے روتے ہوئے صرف ایک موقع مانگا تھا، جب اس نے کہا تھا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے، مگر اس کی نیت کبھی غلط نہیں تھی۔ مگر وقت… وقت کبھی پلٹ کر نہیں آتا۔ انسان جب تک اپنی غلطی کا احساس کرتا ہے، اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
ماہم نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، “میری بہن کی موت صرف ایک حادثہ نہیں تھی… وہ برسوں تک دی جانے والی ان سزاؤں کا انجام تھی، جو اس نے ایسا جرم کیے بغیر بھگتیں جس کا وہ کبھی مجرم ہی نہیں تھی۔”اس کی یہ بات سن کر میرے پورے وجود میں ایک عجیب سی خاموشی اتر گئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ بعض اوقات انسان کو زندگی ختم نہیں کرتی، بلکہ لوگوں کے فیصلے، بے رحم رویے اور معاشرے کی سخت سوچ اسے آہستہ آہستہ جینے کے قابل نہیں چھوڑتی۔
حریم کی تدفین کے بعد اگرچہ قبر پر مٹی ڈال دی گئی تھی، مگر اس کی جدائی کا غم دونوں خاندانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔ گھر واپس آنے والے ہر شخص کے چہرے پر خاموشی تھی۔ جو لوگ کل تک مختلف رائے دے رہے تھے، آج وہی افسوس کے چند جملے کہہ کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے، لیکن ان کے الفاظ نہ کسی کا دکھ کم کر سکتے تھے اور نہ ہی گزرے ہوئے وقت کو واپس لا سکتے تھے۔ حریم کا کمرہ ویسے ہی موجود تھا۔ اس کی کتابیں، الماری میں تہہ کیے ہوئے کپڑے، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا ہوا کنگھا اور چند پرانی تصویریں خاموشی سے اس کی موجودگی کا احساس دلاتی تھیں۔ ماں روز اس کمرے میں جاتیں، اس کے کپڑوں کو سینے سے لگاتیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتیں۔ انہیں یقین ہی نہیں آتا تھا کہ جس بیٹی کو انہوں نے برسوں محبت سے پالا تھا، وہ اب صرف یادوں میں باقی رہ گئی ہے۔
ماہم اپنی بہن کے کمرے میں گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ وہ کبھی حریم کی ڈائری پڑھتی، کبھی اس کے ہاتھ سے لکھی ہوئی دعائیں دیکھتی اور کبھی ان ادھورے خوابوں کے بارے میں سوچتی جو اس کی بہن نے اپنی زندگی کے لیے سجائے تھے۔ اسے اب سمجھ آنے لگا تھا کہ انسان صرف جسمانی تکلیف سے نہیں مرتا، بلکہ مسلسل بے عزتی، تنہائی، غلط فہمی اور ٹوٹتی ہوئی امیدیں بھی ایک زندہ انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہیں۔ حریم آخری دن تک کسی سے نفرت نہیں کرتی تھی۔ اس نے اپنے والد سے بھی کبھی بددعا نہیں کی، بلکہ ہر مشکل کے باوجود ان کے لیے عزت اور محبت ہی اپنے دل میں رکھی۔
ادھر ریحان کو جب حریم کی وفات کی خبر ملی تو اس پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکی کے ساتھ اس نے پوری زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے، وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔ کئی دن تک وہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلا۔ اس نے کھانا پینا تقریباً چھوڑ دیا تھا اور ہر وقت گہری خاموشی میں ڈوبا رہتا۔ اس کی والدہ بار بار اسے سمجھاتیں کہ زندگی رکتی نہیں، مگر ریحان کے لیے وقت واقعی رک چکا تھا۔ اسے ہر لمحہ یہی احساس ستاتا رہا کہ اگر اس دن وہ ملاقات کی خواہش نہ کرتا، اگر وہ ایک خط نہ بھیجتا، اگر وہ چند لمحوں کی ضد نہ کرتا، تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ اگرچہ اصل قصور صرف اس کا نہیں تھا، لیکن محبت کرنے والے اکثر دوسروں کی غلطیوں کا بوجھ بھی اپنے دل پر اٹھا لیتے ہیں۔
چند ہفتوں بعد ریحان پہلی بار حریم کی قبر پر گیا۔ وہ ہاتھ میں سفید پھولوں کا ایک چھوٹا سا گلدستہ لیے دیر تک خاموش کھڑا رہا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ تھا، مگر الفاظ اس کے ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے قبر کی مٹی کو چھوا، آنکھیں بند کیں اور بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ اس نے دل ہی دل میں حریم سے معافی مانگی کہ وہ اسے وہ زندگی نہ دے سکا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ پھر اس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حریم کو وہ سکون عطا فرمائے جو اس دنیا میں اسے کبھی نصیب نہ ہو سکا۔
دوسری طرف حریم کے والد کی زندگی بھی یکسر بدل چکی تھی۔ وہ پہلے کی طرح ہنسنے بولنے والے انسان نہیں رہے تھے۔ دفتر سے واپس آتے تو سیدھے اپنے کمرے میں چلے جاتے اور دیر تک خاموش بیٹھے رہتے۔ اکثر رات کے آخری پہر انہیں جائے نماز پر بیٹھے دیکھا جاتا، جہاں وہ آنسوؤں کے ساتھ اپنے رب سے معافی مانگتے رہتے۔ انہیں بار بار اپنی بیٹی کی وہ التجائیں یاد آتیں، جب اس نے صرف ایک موقع مانگا تھا، مگر انہوں نے اپنی انا اور معاشرتی دباؤ کو اس کی خوشی پر ترجیح دی۔ اب انہیں شدت سے احساس ہو چکا تھا کہ عزت صرف لوگوں کی نظروں میں نہیں، بلکہ اپنے بچوں کے اعتماد اور ان کی خوشیوں کی حفاظت کرنے میں بھی ہوتی ہے۔
حریم کی والدہ کے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش تھا۔ وہ اکثر اپنی بیٹی کی پرانی چیزیں نکال کر بیٹھ جاتیں اور خاموشی سے انہیں دیکھتی رہتیں۔ کبھی اس کا عروسی لباس ہاتھ میں لے لیتیں، کبھی وہ انگوٹھی جسے پہن کر حریم نے مستقبل کے ہزاروں خواب دیکھے تھے۔ ہر چیز انہیں یہ احساس دلاتی تھی کہ ایک غلط فیصلے نے صرف ایک رشتہ نہیں توڑا، بلکہ کئی زندگیاں برباد کر دی تھیں۔ گھر میں پہلے جیسی رونق کبھی واپس نہ آ سکی۔ ہر خوشی کے موقع پر حریم کی کمی سب سے زیادہ محسوس ہوتی، اور ہر دعا کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا ضرور کی جاتی۔
ماہم جب بھی اپنی بہن کی قبر پر جاتی تو دیر تک خاموش بیٹھی رہتی۔ وہ دل ہی دل میں ایک عہد کرتی کہ اگر کبھی اس کی زندگی میں ایسا موقع آیا تو وہ کسی انسان کو صرف لوگوں کی باتوں کی بنیاد پر مجرم نہیں سمجھے گی۔ اس نے اپنی بہن کی زندگی سے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ کبھی کبھی ایک لمحے کا غصہ، ایک ضد اور ایک غلط فیصلہ پوری زندگی کی خوشیوں کو چھین لیتا ہے، جبکہ صبر، اعتماد اور گفتگو ایسے مسائل کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر سکتے ہیں۔ حریم اس دنیا سے چلی گئی تھی، مگر اپنی خاموش جدوجہد اور مظلوم زندگی کے ذریعے وہ اپنے پیچھے ایک ایسا سبق چھوڑ گئی تھی جسے بھلا دینا آسان نہیں تھا۔
وقت گزرتا رہا، مگر بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو برسوں بعد بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ حریم کی جدائی کو کئی مہینے بیت چکے تھے، لیکن اس کی یاد ہر اس شخص کے دل میں زندہ تھی جس نے اسے قریب سے جانا تھا۔ زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر اس کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ کسی صورت پُر نہ ہو سکا۔ ماہم جب بھی اپنی بہن کی مسکراتی ہوئی تصویر کو دیکھتی تو بے اختیار اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے حریم ابھی دروازہ کھول کر اندر آئے گی، اسے آواز دے گی اور دونوں بہنیں پہلے کی طرح دیر تک باتیں کریں گی، مگر حقیقت ہر بار اس کی امید کو خاموش کر دیتی۔
ایک دن ماہم اپنے والد کے ساتھ حریم کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئی۔ قبر کے قریب ایک شخص خاموشی سے کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں تازہ سفید پھول تھے۔ وہ نظریں جھکائے دیر تک دعا کرتا رہا، پھر آہستہ سے قبر کی مٹی کو چھوا اور خاموشی سے آنسو پونچھنے لگا۔ جب اس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے حریم کے والد کھڑے تھے۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملیں تو کئی برسوں کی خاموشی ایک لمحے میں ان کے درمیان آ کھڑی ہوئی۔ نہ کوئی شکوہ تھا، نہ کوئی الزام، صرف گہرا دکھ اور وہ پچھتاوا جو دونوں کے چہروں سے صاف جھلک رہا تھا۔
کچھ دیر بعد حریم کے والد خود آگے بڑھے۔ ان کے ہونٹ لرز رہے تھے اور آواز بوجھل ہو چکی تھی۔ انہوں نے ریحان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ وہ انہیں کبھی معاف نہیں کر سکیں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی ضد اور معاشرتی دباؤ میں آ کر اپنی ہی بیٹی کی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر اس دن وہ غصے کے بجائے تحمل سے کام لیتے، اگر صرف ایک بار اپنی بیٹی کی بات سن لیتے، تو شاید آج سب کچھ مختلف ہوتا۔ ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ بعض فیصلوں کی سزا انسان کو زندگی بھر بھگتنا پڑتی ہے۔
ریحان نے نم آنکھوں سے ان کی بات سنی۔ اس کے دل میں بھی برسوں کا درد جمع تھا، مگر اس نے کسی شکوے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ قصور صرف ایک شخص کا نہیں تھا۔ کبھی کبھی پورا معاشرہ مل کر ایسے فیصلے کرواتا ہے جن کا خمیازہ معصوم لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر محبت کرنے والوں پر اعتماد کیا جاتا، اگر ان کی بات سن لی جاتی اور اگر عزت کو صرف لوگوں کی رائے سے نہیں بلکہ سچائی سے جوڑا جاتا، تو شاید آج حریم زندہ ہوتی۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ان آنسوؤں سے ماضی واپس نہیں آ سکتا تھا۔
اس ملاقات کے بعد حریم کے والد کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کبھی کسی معاملے میں صرف لوگوں کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔ خاندان میں جب بھی کسی بیٹی یا بیٹے کے رشتے کا معاملہ آتا، وہ ہمیشہ سب کو یہی نصیحت کرتے کہ بچوں کی بات ضرور سنو، ان پر اعتماد کرو اور کسی ایک غلطی کو ان کی پوری زندگی کی سزا مت بنا دو۔ وہ اکثر کہتے کہ عزت اس بات میں نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ عزت اس میں ہے کہ انسان انصاف کرے، اپنی اولاد کو سمجھے اور ان کے جذبات کی قدر کرے۔ ان کی یہ بات سن کر لوگ خاموش ہو جاتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ الفاظ کسی کتاب سے نہیں، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے باپ کے دل سے نکل رہے ہیں۔
ماہم نے اپنی تعلیم مکمل کی اور زندگی کے ہر مرحلے پر اپنی بہن کی یاد کو اپنے ساتھ رکھا۔ جب بھی کسی لڑکی کے ساتھ ناانصافی کی کوئی خبر سنتی، اسے حریم کا چہرہ یاد آ جاتا۔ وہ دل ہی دل میں دعا کرتی کہ اللہ کسی بیٹی کو وہ حالات نہ دکھائے جو اس کی بہن نے دیکھے تھے۔ اس نے یہ بھی طے کر لیا کہ وہ جہاں تک ممکن ہو، لوگوں کو یہ احساس دلاتی رہے گی کہ محبت جرم نہیں، بے اعتمادی، ضد اور انا اصل جرم ہیں، جو نہ جانے کتنی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں۔
آج بھی جب میں اس واقعے کو یاد کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ حریم صرف ایک لڑکی نہیں تھی، بلکہ ہمارے معاشرے کی ان بے شمار بیٹیوں کی علامت تھی جو دوسروں کے فیصلوں کی قیمت اپنی پوری زندگی سے ادا کر دیتی ہیں۔ اس کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ غصے میں کیا گیا ایک فیصلہ، لوگوں کے خوف میں اٹھایا گیا ایک قدم اور انا کی خاطر کی گئی ایک ضد صرف ایک رشتہ نہیں توڑتی، بلکہ کئی زندگیاں اجاڑ دیتی ہے۔ والدین کی محبت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس میں اعتماد، برداشت اور اولاد کے جذبات کو سمجھنے کا حوصلہ بھی شامل ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے گھروں میں اعتماد، محبت اور مکالمے کی فضا قائم کریں، اپنی اولاد کی بات سنیں، ان کے جذبات کا احترام کریں اور کبھی ایسا فیصلہ نہ کریں جس کا پچھتاوا پوری زندگی ہمارے ساتھ رہے۔ اگر حریم کی یہ داستان کسی ایک گھر میں بھی ایک غلط فیصلہ رکوا دے، کسی ایک باپ کو اپنی بیٹی کی بات سننے پر آمادہ کر دے، یا کسی ایک ماں کو اپنی اولاد کا ساتھ دینے کا حوصلہ دے دے، تو شاید اس کی خاموش قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔