Khoni Station Horror Story

خونی اسٹیشن – خوف اور سنسی سے بھرپور اک سفر

گرمی کا یہ عالم تھا کہ سانس لینا بھی عذاب لگتا تھا۔ ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پر ہر طرف بھیڑ تھی۔ پسینے میں شرابور لوگ، بچوں کا رونا، عورتوں کی چیخ و پکار، اور درمیان میں وہ لاؤڈ اسپیکر جو بار بار ایک ہی اعلان دہرا رہا تھا۔ کامران نے اپنا بیگ کندھے پر سنبھالا اور پلیٹ فارم کی طرف بڑھا۔ اٹھائیس سالہ کامران کا چہرہ تھکاوٹ سے بھرا ہوا تھا، آنکھوں کے نیچے کالے حلقے، الجھے ہوئے بال، اور کرتے پر پسینے کے نشان۔ وہ ملتان میں اپنے چچا کے گھر دو ہفتے گزار کر واپس فیصل آباد جا رہا تھا جہاں اس کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں نوکری تھی۔ پیچھے سے وسیم ہانپتا ہوا آیا، وہی بچپن کا دوست جو ہمیشہ دیر سے آتا تھا، اور دونوں تیزی سے پلیٹ فارم نمبر تین کی طرف بڑھے جہاں چناب ایکسپریس ایک سیاہ اژدہے کی طرح کھڑی تھی۔ ڈبہ نمبر پانچ میں چڑھے تو ہر طرف لوگ تھے، بیگ تھے، بچے تھے۔ اوپر کے ریک پر سامان ٹھونسا ہوا تھا اور کھڑکیوں سے گرم ہوا کے جھونکے آ رہے تھے۔ سامنے ثمینہ نامی عورت اپنے سوتے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی اور برابر میں بابا جی، ایک بوڑھا آدمی جس کی آنکھوں میں ایسی گہرائی تھی جو کامران کو بے چین کر گئی۔ چاچا فضل ٹکٹ چیک کرتا آیا، تیس سال کا تجربہ کار، اور جب بتی بجھی اور ایمرجنسی بلب نے مدھم روشنی دی تو بابا جی اچانک بے چین ہو گئے۔ انہوں نے کامران سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کیا تو اتر سکتا ہے اس ٹرین سے؟” اور جب کامران نے حیران ہو کر جواب مانگا تو بابا جی بس خاموش ہو گئے اور تسبیح پھیرنے لگے۔ ٹھیک دس بج کر پینتیس منٹ پر چناب ایکسپریس نے لمبی سیٹی ماری اور ملتان کی روشنیاں پیچھے رہ گئیں۔
ٹرین کے آخری ڈبے میں، ڈبہ نمبر آٹھ میں، ایک آدمی فرش پر پڑا تھا جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور بازو پر گہرا زخم تھا جس سے خون بہ رہا تھا۔ کسی نے دھیان نہ دیا، سب سمجھے نشے میں ہو گا۔ آدمی کی سانسیں بے ترتیب تھیں، جسم کانپ رہا تھا، آنکھیں بند تھیں مگر پلکیں پھڑپھڑا رہی تھیں، اور منہ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی گہرے کنویں سے بول رہا ہو، پھر وہ بالکل ساکن ہو گیا۔ ڈبے میں خاموشی چھا گئی اور صرف پٹری پر ٹرین کی آواز آتی رہی، ٹک ٹک، ٹک ٹک، ٹک ٹک۔ پانچ منٹ بعد آدمی کی انگلی ہلی۔ گیارہ بجے کے قریب ٹرین ایک چھوٹے اسٹیشن پر رکی اور ایک اور پراسرار آدمی پلیٹ فارم سے آخری ڈبے میں چڑھا، کپڑے پھٹے ہوئے، چال عجیب، بازو پر زخم۔ کامران نے کھڑکی سے اسے دیکھا اور کندھے اچکا کر نظریں ہٹا لیں، مگر بابا جی نے دیکھا اور ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اسی دوران ڈبے میں ڈاکٹر رضیہ داخل ہوئیں، تقریباً چالیس سال کی، سفید سوٹ، سیاہ بیگ، چہرے پر اطمینان مگر آنکھوں میں چوکسی۔ وہ بابا جی کے پاس بیٹھیں اور دونوں کے درمیان ایک عجیب خاموش پہچان گزری۔
رات کے بارہ بجے ڈبے میں اکثر لوگ سو چکے تھے، وسیم خراٹے لے رہا تھا، ثمینہ کا بچہ سو رہا تھا، اور بابا جی تسبیح ہاتھ میں لیے سیدھے بیٹھے تھے۔ کامران پانی پینے اٹھا تو پچھلے ڈبے کی طرف سے ایک چیخ آئی، بہت مختصر، بہت اچانک، جیسے کسی نے شروع کی اور کسی نے بیچ میں دبا دی، پھر خاموشی۔ کامران واپس آیا اور بابا جی سے پوچھا، انہوں نے کہا ہاں سنا، اور تسبیح کے دانے تیز ہو گئے۔ اسی وقت چاچا فضل معمول کا چکر لگانے پچھلے ڈبوں کی طرف گیا۔ ڈبہ نمبر آٹھ کا دروازہ کھولا تو اندر اندھیرا تھا اور ایمرجنسی بلب بھی بجھا ہوا تھا۔ ٹارچ جلائی تو فرش پر خون پھیلا ہوا تھا، کافی خون، سیاہ اندھیرے میں گہرا لال۔ کونے میں ایک آدمی لیٹا تھا بالکل ساکن، اور برابر میں ایک اور آدمی بیٹھا تھا سر جھکائے۔ چاچا فضل نے آواز دی، آدمی نے سر اٹھایا اور ٹارچ کا ہاتھ کانپ گیا، آنکھیں بالکل سفید تھیں اور منہ کے گرد خون کے دھبے۔ چاچا فضل پیچھے ہٹا، پاؤں خون پر پھسلا، گرا، اور آدمی نے چھلانگ لگائی۔ ڈبے میں ایک گہری چیخ گونجی اور پھر سب خاموش ہو گیا، صرف ٹرین کی آواز رہی، ٹک ٹک، ٹک ٹک، ٹک ٹک۔
کامران اچانک جاگا اور دیکھا بابا جی سیٹ پر نہیں تھے۔ ڈاکٹر رضیہ نے آنکھیں کھولیں جیسے سوئی ہی نہ ہوں اور بتایا کہ بابا جی پچھلے ڈبوں میں گئے ہیں، چاچا فضل بھی واپس نہیں آیا، اور کچھ ایسا ہے جو انہیں پسند نہیں آ رہا۔ وسیم نے صاف منع کر دیا مگر کامران ڈاکٹر رضیہ کے پیچھے چل دیا۔ دونوں نے ڈبہ نمبر چھ اور سات پار کیے، سات میں ایک ناگوار بدبو تھی جیسے کچھ سڑ رہا ہو، اور ڈاکٹر رضیہ نے ڈبہ نمبر آٹھ کی طرف اشارہ کیا۔ اندر داخل ہوئے تو گھٹا اندھیرا تھا، ٹارچ جلی اور فرش پر بہت زیادہ خون نظر آیا۔ کونے میں وہی آدمی بیٹھا تھا جو چھوٹے اسٹیشن سے چڑھا تھا، چہرہ اوپر اٹھا ہوا، آنکھیں بالکل سفید، اور ہاتھ میں چاچا فضل کی ٹارچ تھی مگر چاچا فضل کہیں نہیں تھا۔ آدمی نے سر گھمایا، منہ کھولا اور گہری غراہٹ نکالی۔ ڈاکٹر رضیہ نے کامران کا بازو پکڑا، “بھاگو!” دونوں دروازہ پٹخ کر نکلے اور دوڑتے ہوئے ڈبوں سے گزرنے لگے، پیچھے سے دروازے کھلنے کی آوازیں آئیں۔ ٹرین فیصل آباد کی طرف دوڑتی رہی اور خونی اسٹیشن شروع ہو چکا تھا۔
کامران اور ڈاکٹر رضیہ سانس پھولے ڈبہ نمبر پانچ میں داخل ہوئے اور دروازہ پٹخ کر بند کر دیا۔ کامران کا دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے سے باہر نکل آئے گا۔ ڈاکٹر رضیہ کا چہرہ پسینے میں شرابور تھا مگر آنکھوں میں وہی چوکسی برقرار تھی۔ وسیم اچھل کر اٹھا، “کیا ہوا؟ کیا دیکھا؟” کامران نے جواب دینے کی بجائے دروازے کی کنڈی چڑھائی اور پیچھے مڑ کر دیکھا، ابھی کوئی نہیں آیا تھا۔ ثمینہ بھی جاگ چکی تھی، بچہ اس کی گود میں بے خبر سو رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف کے آثار تھے۔ ڈبے میں چند اور مسافر بھی تھے جو شور سے جاگ گئے تھے، ایک بوڑھی عورت، دو نوجوان لڑکے جو شاید طالب علم تھے، اور ایک درمیانی عمر کا موٹا آدمی جو ابھی تک آنکھیں ملتا بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر رضیہ نے سب کو ایک نظر دیکھا اور پھر سیدھی بات کی، “سنو سب لوگ، پچھلے ڈبوں میں کچھ بہت خطرناک ہے۔ ابھی کوئی پیچھے نہیں جائے گا اور یہ دروازہ بند رہے گا۔” موٹے آدمی نے پوچھا کیا ہوا، بوڑھی عورت نے اللہ کا نام لیا، اور وسیم نے کامران کو گھورا۔ کامران نے صرف اتنا کہا، “چاچا فضل نہیں رہا۔” ڈبے میں خاموشی چھا گئی اور باہر ٹرین کی آواز اور تیز لگنے لگی۔
ڈاکٹر رضیہ نے اپنا بیگ کھولا اور اندر سے ایک فائل نکالی، کچھ کاغذات جو انہوں نے جلدی سے الٹے پلٹے۔ کامران نے حیرت سے پوچھا، “یہ کیا ہے؟” ڈاکٹر رضیہ نے ایک لمحہ رکتے ہوئے جواب دیا، “میں فیصل آباد کے ہسپتال میں وائرولوجسٹ ہوں۔ پچھلے تین ہفتوں میں ملتان کے ایک گاؤں سے عجیب رپورٹیں آ رہی تھیں، لوگ بیمار پڑ رہے تھے، کاٹتے تھے، اور پھر مر جاتے تھے۔ حکومت نے معاملہ دبا دیا مگر میں نے خود جا کر تحقیق کی۔” وسیم نے منہ کھلا رکھا، “تو آپ کو پہلے سے پتہ تھا؟” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “مجھے شک تھا، یقین نہیں تھا، اب یقین ہو گیا۔ یہ وائرس خون اور کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ جسے کاٹا جائے وہ چند گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔ آنکھیں سفید ہو جاتی ہیں، ہوش ختم ہو جاتی ہے، اور صرف ایک ہی کام رہ جاتا ہے، کاٹنا۔” بوڑھی عورت نے دوپٹہ منہ پر رکھا اور رونے لگی۔ موٹے آدمی نے کہا یہ سب بکواس ہے اور وہ خود جا کر دیکھے گا۔ ڈاکٹر رضیہ نے اسے روکا، “بیٹھ جاؤ، اگر گئے تو واپس نہیں آؤ گے۔” موٹے آدمی نے بات نہ مانی اور دروازے کی طرف بڑھا۔ کامران نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ دھکا دے کر آگے نکل گیا، “مجھے کوئی نہیں روکے گا، میں خود دیکھتا ہوں کیا ہے پیچھے۔” دروازہ کھلا، بند ہوا، اور وہ چلا گیا۔ سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ تیس سیکنڈ خاموشی رہی۔ پھر پیچھے سے ایک چیخ آئی جو آدھی رہ گئی اور پھر کچھ نہیں۔
وسیم کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ ثمینہ نے بچے کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ دونوں طالب علم کونے میں سمٹ گئے۔ بوڑھی عورت نے تسبیح نکال لی اور آنکھیں بند کر لیں۔ ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “ہمیں انجن کی طرف جانا ہو گا، ڈرائیور کو روکنا ہو گا۔” کامران نے پوچھا، “کیوں؟ رکنے سے کیا ہو گا؟” ڈاکٹر رضیہ نے جواب دیا، “اگر یہ ٹرین فیصل آباد اسٹیشن پہنچ گئی تو وہاں ہزاروں لوگ ہیں، خاندان، بچے، سب۔ یہ وائرس وہاں پہنچ گیا تو پورا شہر چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتا ہے۔” کمرے میں ایک بھاری خاموشی اتری۔ کامران نے کھڑکی سے باہر دیکھا، اندھیرا تھا، کہیں کوئی اسٹیشن نہیں، بس کھیت اور رات۔ وسیم نے آہستہ سے کہا، “یار، انجن تک جانے کے لیے پچھلے ڈبوں سے نہیں، آگے سے گزرنا ہو گا نا؟” کامران نے سر ہلایا۔ “ہاں، آگے کے ڈبے ابھی محفوظ ہیں، ایک، دو، تین، چار، پھر انجن۔” ڈاکٹر رضیہ نے بیگ کندھے پر لیا۔ “تو چلو۔” وسیم نے کہا، “میں یہاں رہوں گا، ثمینہ اور باقی لوگوں کے ساتھ۔” کامران نے اسے ایک نظر دیکھا، کچھ نہ کہا، اور ڈاکٹر رضیہ کے ساتھ آگے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ مگر جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا، سامنے سے ایک سایہ آیا۔ کامران کا دل ڈوبا۔ یہ چاچا فضل تھا۔
چاچا فضل کھڑا تھا، مگر وہ چاچا فضل نہیں تھا۔ وہی پرانا یونیفارم، وہی سفید بال، مگر آنکھیں بالکل سفید، منہ کھلا، اور گردن پر ایک گہرا کالا زخم جو سوج کر پھول چکا تھا۔ اس کے ہاتھ آگے کو اٹھے ہوئے تھے اور وہ ایک عجیب گھراہٹ نکال رہا تھا۔ کامران نے دروازہ پٹخا مگر چاچا فضل کا ہاتھ درمیان میں آ گیا۔ ڈاکٹر رضیہ نے بیگ سے ایک بڑی سرنج نکالی اور چاچا فضل کی گردن میں گھونپ دی، وہ ایک لمحے کو لڑکھڑایا، کامران نے پوری طاقت سے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی۔ باہر سے دھکے آنے لگے۔ وسیم چیخا، بوڑھی عورت نے اللہ کا نام لیا، ثمینہ کا بچہ جاگ گیا اور رونے لگا۔ ڈاکٹر رضیہ نے سرنج واپس بیگ میں رکھی اور سانس لیا۔ “یہ سرنج کیا تھی؟” کامران نے پوچھا۔ “بے ہوشی کی دوا۔ زیادہ دیر کام نہیں کرے گی، چند منٹ۔ ہمیں ابھی آگے جانا ہے۔” دونوں طالب علموں میں سے ایک نے کہا کہ وہ بھی ساتھ آئے گا، اس کا نام ارسلان تھا، بیس سال کا، دوسرے نے، جس کا نام فہد تھا، انکار کر دیا اور کونے میں بیٹھا رہا۔ تینوں نے آگے کا دروازہ کھولا اور ڈبہ نمبر چار میں داخل ہوئے۔ پیچھے دروازے پر دھکے بند ہو گئے تھے، مگر کامران جانتا تھا یہ سکون عارضی ہے۔
ڈبہ نمبر چار میں لوگ ابھی سو رہے تھے، انہیں کچھ خبر نہیں تھی۔ کامران نے چاہا کہ سب کو جگائے مگر ڈاکٹر رضیہ نے روکا، “ابھی نہیں، بھگدڑ مچے گی، ٹرین میں بھگدڑ اور خطرناک ہے۔ پہلے انجن تک پہنچتے ہیں۔” تینوں آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔ ڈبہ نمبر تین پار کیا، پھر دو۔ ڈبہ نمبر ایک میں پہنچے تو انجن کا دروازہ سامنے تھا۔ ارسلان نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی جواب نہیں۔ دوبارہ کھٹکھٹایا، پھر بھی خاموشی۔ کامران نے دروازہ دھکیلا، وہ کھل گیا۔ اندر داخل ہوئے تو انجن کا کمرہ خالی تھا۔ کنٹرول پینل پر بتیاں جل رہی تھیں، ٹرین خود بخود دوڑ رہی تھی، مگر ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی۔ کامران نے نیچے دیکھا، فرش پر ایک آدمی پڑا تھا، ڈرائیور، بالکل ساکن، گردن پر وہی کالا نشان۔ ارسلان نے گھٹنے ٹیکے اور نبض دیکھی، پھر سر اٹھایا، “یہ زندہ ہے مگر بدل رہا ہے، زیادہ وقت نہیں ہے۔” ڈاکٹر رضیہ کنٹرول پینل کے سامنے کھڑی ہوئیں، بریک ڈھونڈنے لگیں۔ “ٹرین روکنی ہو گی، مگر اچانک روکی تو مسافر گریں گے۔” کامران نے کہا، “آہستہ روکو۔” ڈاکٹر رضیہ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ فرش پر پڑا ڈرائیور اٹھ کھڑا ہوا، آنکھیں سفید، منہ سے غراہٹ۔ ارسلان نے اسے روکنے کی کوشش کی، ڈرائیور نے اس کا بازو پکڑا اور کاٹ لیا۔ ارسلان کی چیخ نکلی، کامران نے ڈرائیور کو پیچھے دھکیلا، ڈاکٹر رضیہ نے بریک کھینچی، ٹرین ہچکولے کھانے لگی اور ارسلان دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا، بازو پکڑے، آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر وہ خوف جو سب جانتے تھے اس کا کیا مطلب ہے۔
ٹرین آہستہ آہستہ رک گئی۔ باہر اندھیرا تھا، کھیت تھے، کوئی اسٹیشن نہیں۔ کامران نے ارسلان کو دیکھا جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ ارسلان نے خود کہا، “مجھے پتہ ہے کیا ہو گا۔” ڈاکٹر رضیہ نے زخم باندھا مگر آنکھیں نہیں ملائیں۔ کامران نے آہستہ سے پوچھا، “کتنا وقت ہے؟” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “ایک سے دو گھنٹے، زیادہ سے زیادہ۔” ارسلان نے سر اٹھایا اور مسکرایا، ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ، “فیصل آباد میں میری ماں ہے، اسے بتا دینا میں سوچتا تھا اس کا۔” کامران کا گلا بھر آیا۔ ارسلان نے کہا، “مجھے یہاں بند کر دو۔ انجن کے کمرے میں۔ جب میں بدل جاؤں تو باہر نہیں نکل سکوں گا۔” ڈاکٹر رضیہ نے سر ہلایا، یہی ٹھیک تھا۔ کامران نے ارسلان کا ہاتھ پکڑا، ایک لمحہ، پھر دونوں باہر نکل آئے اور دروازہ بند کر دیا۔ اندر سے ارسلان کی آواز آئی، “جاؤ، جلدی جاؤ۔” کامران نے دروازے پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کیں۔ ڈاکٹر رضیہ نے اس کا بازو پکڑا، “ابھی رونے کا وقت نہیں ہے، پیچھے چلو، باقی لوگوں کو نکالنا ہے۔” دونوں واپس مڑے اور ڈبوں کی طرف چلنے لگے۔ پیچھے سے انجن کے کمرے میں دروازے پر ایک دھکا لگا، پھر ایک اور، پھر خاموشی۔ ٹرین اندھیرے میں کھڑی تھی اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ اور ڈبہ نمبر پانچ میں وسیم اکیلا بیٹھا تھا، ثمینہ کے ساتھ، اور پچھلے دروازے پر اب کوئی دھکے نہیں مار رہا تھا۔ جو چیز پہلے دروازے کے باہر تھی، وہ اب اندر تھی۔
ٹرین رکی ہوئی تھی۔ باہر اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ لگتا تھا دنیا ختم ہو گئی ہے اور بس یہی ٹرین بچی ہے، لوہے کا ایک لمبا ڈبہ جس میں ایک طرف زندہ لوگ تھے اور دوسری طرف کچھ اور۔ کامران ڈبہ نمبر ایک کے دروازے کے ساتھ کھڑا تھا، لوہے کی چھڑ ہاتھ میں، سانس بھاری، آنکھیں سرخ۔ ڈاکٹر رضیہ اس کے برابر میں تھیں، سیاہ بیگ ابھی بھی کندھے پر، مگر اب اس میں زیادہ کچھ نہیں بچا تھا۔ ڈبے میں سترہ لوگ تھے، بچے، عورتیں، مرد، سب ایک دوسرے سے چپکے بیٹھے تھے جیسے اکٹھے رہنے سے خوف کم ہو جاتا ہے۔ ثمینہ اپنے بچے کو گود میں لیے کونے میں بیٹھی تھی، بچہ سو گیا تھا، معصوم، بے خبر، اس دنیا سے جو اس کے گرد بدل رہی تھی۔ پچھلے دروازے پر وقفے وقفے سے دھکے آ رہے تھے، بے ترتیب، بے ہنگم، جیسے کوئی سوچ کر نہیں بلکہ صرف محسوس کر کے دھکا دیتا ہو۔ ہر دھکے پر ڈبے میں کوئی نہ کوئی سانس روک لیتا۔
کامران نے ڈاکٹر رضیہ سے آہستہ سے کہا، “بابا جی کا کیا ہوا؟ وہ پچھلے ڈبوں میں گئے تھے، واپس نہیں آئے۔” ڈاکٹر رضیہ نے ایک لمحہ سوچا، پھر کہا، “مجھے نہیں پتہ۔ شاید۔۔۔” انہوں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ کامران نے بھی آگے نہیں پوچھا کیونکہ جواب سننے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ بوڑھا آدمی جس نے پہلے ہی سمجھ لیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے، جس نے کہا تھا “بیٹا کیا تو اتر سکتا ہے اس ٹرین سے”، وہ کہاں گیا تھا اور کیوں گیا تھا، یہ سوال کامران کے ذہن میں پتھر کی طرح پڑا تھا۔ ڈبے میں ایک آدمی اٹھا، درمیانی عمر کا، سرخ کمیز، گھبرایا ہوا چہرہ۔ اس کا نام نذیر تھا، کامران کو بعد میں پتہ چلا۔ “یہاں بیٹھے بیٹھے مر جائیں گے۔ باہر نکلنا چاہیے، کھیتوں میں بھاگ جاتے ہیں۔” کامران نے کہا، “رات کے اندھیرے میں کہاں بھاگو گے؟ اور یہ بھی پتہ نہیں کہ ٹرین سے کوئی باہر نکلا ہے یا نہیں۔” نذیر نے کہا، “یہاں رہے تو یقینی موت ہے، باہر شاید بچ جائیں۔” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “بیٹھ جاؤ، ابھی منصوبہ بن رہا ہے۔”
کامران نے سب کو دیکھا اور سوچا۔ ٹرین رکی ہوئی تھی، پچھلے پانچ ڈبے مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے، آگے کے تین ڈبوں میں یہ لوگ تھے اور درمیان میں صرف بند دروازے تھے جو زیادہ دیر نہیں چلنے والے تھے۔ انجن کا کمرہ آگے تھا مگر وہاں ارسلان بند تھا جو اب ارسلان نہیں رہا تھا۔ باہر اندھیرا تھا مگر صبح ہونے میں ابھی تین گھنٹے تھے۔ فیصل آباد کنٹرول روم کو پتہ چل چکا ہو گا کہ ٹرین رکی ہے، مگر مدد کب آئے گی یہ کسی کو نہیں پتہ تھا۔ تبھی کامران کو کچھ یاد آیا۔ اس نے ڈاکٹر رضیہ سے کہا، “ٹرین میں ایمرجنسی وائرلیس ہوتا ہے، ڈرائیور کے کمرے میں۔” ڈاکٹر رضیہ کی آنکھیں چمکیں، “ہاں، مگر وہاں ارسلان ہے۔” کامران نے کہا، “میں جاؤں گا۔” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “اکیلے نہیں۔” نذیر جو ابھی باہر بھاگنے کی بات کر رہا تھا، اچانک بولا، “میں ساتھ جاؤں گا۔ بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کچھ کریں۔” کامران نے اسے ایک نظر دیکھا۔ آدمی ڈرا ہوا تھا مگر آنکھوں میں ہمت بھی تھی۔ “ٹھیک ہے۔” کامران نے کہا اور ڈاکٹر رضیہ کی طرف مڑا، “آپ یہاں رہیں، ان لوگوں کے ساتھ۔” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “کامران، ایک بات سنو، انجن کے کمرے کا دروازہ لوہے کا ہے، اندر سے نہیں کھلے گا، باہر سے ہی کھولنا ہو گا، مطلب ارسلان جو بھی بن چکا ہے وہ باہر نہیں آ سکتا، بس تمہیں دروازہ کھولنا نہیں ہے، صرف وائرلیس لینا ہے جو باہر پینل پر لگا ہے۔” کامران نے سر ہلایا اور نذیر کے ساتھ آگے بڑھا۔
ڈبہ نمبر ایک سے ڈبہ نمبر دو میں داخل ہوئے۔ یہاں وہی لوگ تھے جنہیں کامران پہلے لے آیا تھا، سب ڈبہ نمبر ایک میں بیٹھے تھے، یہ ڈبہ خالی پڑا تھا۔ اندھیرے میں آگے بڑھے۔ انجن کا دروازہ آیا، کامران نے کان لگایا، اندر سے آوازیں آ رہی تھیں، وہی غراہٹ جو اب سب پہچانتے تھے۔ دروازہ بند تھا۔ پینل کنٹرول باہر دیوار پر تھا، ایک چھوٹی سی کابینہ جس میں وائرلیس سیٹ رکھی تھی۔ کامران نے کابینہ کھولی، وائرلیس سیٹ نکالی، بٹن دبایا۔ سوں سوں کی آواز آئی۔ نذیر نے کہا، “کام کرے گی؟” کامران نے فریکوئنسی بدلی اور دوبارہ بٹن دبایا۔ “فیصل آباد کنٹرول، فیصل آباد کنٹرول، یہ چناب ایکسپریس ہے، ایمرجنسی، ایمرجنسی، کیا کوئی سن رہا ہے؟” خاموشی۔ پھر سرسراہٹ اور ایک آواز، “کون بول رہا ہے؟ ٹرین کا ڈرائیور کہاں ہے؟” کامران نے کہا، “ڈرائیور نہیں ہے، ٹرین میں ایمرجنسی ہے، فوری مدد بھیجو، ہم ملتان اور فیصل آباد کے درمیان کہیں رکے ہیں، ٹریک نمبر ایک۔” دوسری طرف سے آواز آئی، “کس قسم کی ایمرجنسی؟” کامران نے ایک لمحہ سوچا، پھر کہا، “بیماری، بیماری، فوری طبی مدد چاہیے اور پولیس بھی، جتنی جلدی ہو سکے۔” آواز آئی، “ٹھیک ہے، ٹیم روانہ کرتے ہیں، آدھے گھنٹے میں پہنچے گی۔” کامران نے سانس چھوڑا، نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا، “چلو واپس چلتے ہیں۔” اسی لمحے انجن کے کمرے کے اندر سے ایک زور کا دھکا لگا، دروازہ ہلا مگر کھلا نہیں۔ دونوں تیزی سے واپس مڑے۔
ڈبہ نمبر ایک میں واپس آئے تو ماحول بدلا ہوا تھا۔ ڈاکٹر رضیہ ایک کونے میں کسی سے بات کر رہی تھیں، آواز دھیمی تھی مگر چہرہ پریشان۔ کامران نے قریب جا کر دیکھا تو ثمینہ کا بچہ جاگ گیا تھا اور ایک کونے میں بیٹھا کچھ دیکھ رہا تھا۔ بچے کی نظر پچھلے دروازے پر تھی۔ کامران نے ڈاکٹر رضیہ سے پوچھا، “کیا ہوا؟” ڈاکٹر رضیہ نے آہستہ سے کہا، “پچھلے دروازے پر دھکے بند ہو گئے ہیں۔” کامران نے کہا، “یہ تو اچھی بات ہے نا؟” ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “نہیں، یہ بری بات ہے۔ جب وہ دروازہ توڑنے کی کوشش چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے وہ کوئی اور راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔” کامران کا دل ڈوبا۔ “کون سا راستہ؟” اور پھر اوپر سے ایک آواز آئی۔ ٹرین کی چھت پر۔ قدموں کی آواز، آہستہ، بے ترتیب، مگر واضح۔ سب نے اوپر دیکھا۔ بچہ انگلی اوپر کی طرف اٹھائے خاموشی سے بیٹھا تھا۔ ثمینہ نے بچے کو کھینچ کر اپنی گود میں لیا۔ چھت پر آوازیں بڑھنے لگیں، ایک نہیں، دو نہیں، کئی۔ پھر ایک جگہ سے چھت کا پینل ہلا۔ نذیر نے کہا، “یا اللہ، یہ اوپر سے آ رہے ہیں۔”
کامران نے لوہے کی چھڑ اوپر کی طرف کی۔ ڈاکٹر رضیہ نے بیگ سے آخری سرنج نکالی، خالی تھی مگر ہاتھ میں کچھ ہونا ضروری تھا۔ نذیر نے ایک مسافر کے بیگ سے چھتری نکالی، لمبی، لوہے کی نوک والی۔ ڈبے میں جو بھی ہاتھ آیا لوگوں نے اٹھا لیا، پانی کی بوتلیں، بیلٹیں، جوتے۔ ایک آدمی نے سیٹ کا لوہے کا حصہ توڑنے کی کوشش کی۔ چھت کا پینل اور زور سے ہلا اور پھر ایک کونے سے اکھڑ گیا۔ ایک ہاتھ نیچے آیا، سفید، ٹھنڈا، خون آلود۔ کامران نے چھڑ سے مارا، ہاتھ واپس گیا۔ مگر دوسری طرف سے ایک اور پینل ہلنے لگا۔ ڈاکٹر رضیہ نے چیخ کر کہا، “سب بیچ میں آ جاؤ، دیواروں کے پاس سے ہٹو۔” سب لوگ ڈبے کے بیچ میں آ گئے، اکٹھے، ایک گچھے کی طرح۔ بچے رو رہے تھے، عورتیں دعائیں پڑھ رہی تھیں، مرد ہاتھوں میں جو کچھ تھا پکڑے اوپر دیکھ رہے تھے۔ چھت سے دو جگہ سے پینل اکھڑے اور دو چہرے نیچے جھکے، سفید آنکھیں، کھلے منہ۔ کامران نے ایک کو مارا، نذیر نے دوسرے کی طرف چھتری اٹھائی۔ مگر پیچھے سے بھی پینل اکھڑ رہے تھے۔ یہ لڑائی برابری کی نہیں تھی۔اور پھر باہر سے ایک تیز روشنی آئی۔
کھڑکیوں سے سفید روشنی آنے لگی، اتنی تیز کہ آنکھیں چندھیا گئیں۔ باہر سے ہارن کی آوازیں آئیں، گاڑیوں کے انجن، اور پھر لاؤڈ اسپیکر پر ایک آواز، “یہ پولیس ہے، ٹرین میں جو بھی زندہ ہے، دروازوں سے دور رہے، ہم آ رہے ہیں۔” چھت پر قدموں کی آوازیں اچانک رک گئیں۔ ڈبے میں ایک لمحے کی سکتے کی خاموشی۔ پھر باہر سے گولیوں کی آوازیں آئیں، ایک کے بعد ایک، پھر سب کچھ خاموش۔ کامران دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، لوہے کی چھڑ ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ ثمینہ کا بچہ ماں کی گود میں چپ ہو گیا۔ ڈاکٹر رضیہ نے آنکھیں بند کیں اور ایک لمبی سانس لی۔ نذیر فرش پر بیٹھ گیا اور چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ ڈبے کا دروازہ باہر سے کھلا اور روشنی اندر آئی، اصلی روشنی، ٹارچوں کی، اور ساتھ وردی میں لوگ۔
آدھے گھنٹے میں سب کو ٹرین سے نکالا گیا۔ کامران آخری نکلا۔ باہر نکلتے وقت اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ٹرین وہاں کھڑی تھی، اندھیرے میں.
صبح کے پانچ بج رہے تھے۔
کامران ایک پولیس جیپ کے ساتھ کھڑا تھا، کمبل کندھوں پر، ہاتھ میں چائے کا کپ جو ابھی تک گرم تھا مگر اس نے پیا نہیں تھا۔ دور کھیتوں میں صبح کی پہلی روشنی آنے لگی تھی، ہلکی نارنجی، دھیمی، جیسے دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہو۔ ڈاکٹر رضیہ پولیس افسر سے بات کر رہی تھیں، فائل نکال کر کچھ سمجھا رہی تھیں۔ ثمینہ اپنے بچے کے ساتھ ایک طرف بیٹھی تھی، بچہ اب بھی اس کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ نذیر زمین پر بیٹھا آسمان دیکھ رہا تھا۔
کامران نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ایک کاغذ تھا، مڑا ہوا، وسیم کا خط۔ کامران نے اسے نکالا اور دیکھا، مگر کھولا نہیں۔ بس ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا۔
ڈاکٹر رضیہ آئیں اور اس کے برابر کھڑی ہوئیں۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر انہوں نے کہا، “پولیس نے ٹرین سیل کر دی ہے۔ حکومت کو بتا دیا ہے، وہ لوگ آئیں گے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ گاؤں کہاں ہے جہاں سے یہ شروع ہوا، وہ ابھی بھی وہاں ہے۔”
کامران نے کہا، “آپ جائیں گی؟”
ڈاکٹر رضیہ نے کہا، “ہاں۔”
“اکیلی؟”
ڈاکٹر رضیہ نے اسے دیکھا۔ “نہیں جانا چاہتے؟”
کامران نے وسیم کا خط جیب میں رکھا، چائے کا کپ نیچے رکھا، اور کہا، “پہلے فیصل آباد جانا ہے، ایک خط پہنچانا ہے۔ پھر بتاؤ کہاں جانا ہے۔”
ڈاکٹر رضیہ نے سر ہلایا۔
دور کھیتوں میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ سفید داڑھی، سفید ٹوپی۔ کامران کی نظر اس پر پڑی اور دل ایک دھڑکن کے لیے رکا۔ بابا جی۔ زندہ تھے۔ کامران نے ہاتھ اٹھایا، بابا جی نے بھی ہاتھ اٹھایا۔ پھر وہ مڑے اور کھیتوں میں چلے گئے، دھند میں گم ہو گئے، جیسے آئے ہی نہیں تھے۔ کامران نے کچھ دیر اس طرف دیکھا۔ پھر مڑا۔صبح ہو رہی تھی۔اور کہیں دور ملتان کی سمت سے ایک اور ٹرین کی سیٹی سنائی دی۔