بہاولپور کے ایک پرسکون اور مضافاتی علاقے میں واقع بی بی زلیخا کا چھوٹا سا کچا پکا گھر اس وقت گہرے سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ جولائی کی حبس زدہ رات اب اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی اور فجر کی ہلکی سی سفیدی آسمان کے ایک کونے سے نمودار ہونے کو تھی۔ گھر کے صحن میں لگے نیم کے درخت کے نیچے بانو مٹی کے چبوترے پر بیٹھی تھی، اس کی چادر اس کے وجود پر لپٹی ہوئی تھی اور اس کی آنکھیں مسلسل دروازے کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ اس کا دل اب بھی ہاسٹل والے واقعے اور سارنگ شاہ کی ہولناک دھمکیوں کی وجہ سے بری طرح دھک دھک کر رہا تھا۔
اسی وقت، گلی میں ایک گاڑی آ کر رکی۔ بانو خوف سے کھڑی ہو گئی، لیکن جب دروازہ کھلا اور صلاح الدین کے دو بااعتماد مسلح گارڈز اندر داخل ہوئے، تو بانو کا سانس بحال ہوا۔ مگر اگلی ہی سیکنڈ جو منظر بانو نے دیکھا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ گارڈز کے پیچھے، ایک چودہ سالہ معصوم لڑکا، سلے ہوئے پرانے کرتے شلوار میں ملبوس، سہمے ہوئے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
“ساجد۔۔۔! میرا ساجد!” بانو کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔
وہ اپنی چادر کی پروا کیے بغیر دیوانہ وار بھاگتی ہوئی گئی اور ساجد کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ ساجد جو چولستان کے اصطبل کے ظلم جھیل چکا تھا، اپنی بہن کی گود میں آتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ بانو اس کے سر کو چوم رہی تھی، اس کے آنسو ساجد کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔ “تو یہاں کیسے آیا ساجد؟ تو تو ابا کے پاس گاؤں میں تھا؟”
گارڈز کے پیچھے سے صلاح الدین کی بارعب اور پروقار شخصیت نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے پر تھکن تو تھی، لیکن آنکھوں میں وہی فولادی چمک برقرار تھی۔ وہ آگے بڑھا اور دھیمی، سنجیدہ آواز میں بولا:
“بانو! سارنگ شاہ کے جیل سے رہا ہوتے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ وہ سب سے پہلے تمہارے معصوم بھائی اور بوڑھے باپ پر وار کرے گا۔ کامران نے تمہیں جھوٹ بول کر حویلی بلایا تھا، لیکن میں نے راتوں رات اپنے بندے چولستان بھیجے تاکہ ساجد کو وہاں سے بحفاظت شہر منتقل کیا جا سکے۔ تمہارے ابا ابھی گاؤں میں ہی ہیں، لیکن وہاں میری کڑی سیکیورٹی موجود ہے، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ساجد اب یہاں تمہارے پاس بی بی زلیخا کے گھر میں بالکل محفوظ رہے گا۔”
بانو نے ساجد کو بازو سے پکڑے ہوئے سر اٹھایا اور صلاح الدین کی طرف دیکھا۔ اس وقت اس کے دل میں صلاح الدین کے لیے جو عزت اور عقیدت ابھری، اس کی کوئی حد نہیں تھی۔ ایک ایسا شخص جو شہر کا اتنا بڑا بزنس مین تھا، وہ چولستان کے ایک غریب مزارع کے خاندان کی جان بچانے کے لیے اپنی راتوں کی نیند اور سکون حرام کر چکا تھا۔
بانو نے لرزتے ہاتھوں سے اپنی چادر کا پلو درست کیا اور روتے ہوئے بولی، “سائیں صلاح الدین! میں نے رات آپ پر شک کیا، میں ہاسٹل سے بھاگ گئی۔۔۔ مجھے معاف کر دینا سائیں! آپ تو ہمارے لیے فرشتہ بن کر آئے ہیں۔ اگر آپ نہ ہوتے، تو وہ وڈیرا سارنگ شاہ میرے اس معصوم بھائی کے ٹکڑے کر دیتا۔ میں اپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی سائیں، میری تو اگلی نسلیں بھی آپ کی غلام رہیں گی۔”
صلاح الدین نے اپنا سر نفی میں ہلایا، اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی باوقار مسکراہٹ آئی، “بانو! میں نے پہلے بھی کہا تھا، احسان نہیں ہے یہ۔ یہ میری غیرت کا تقاضا ہے۔ امجد اب اس دنیا میں نہیں ہے، لیکن اس کا یار عثمان میرا بھائی ہے، اور اس ناطے تم میری ذمہ داری ہو۔ تم اندر جاؤ، بی بی زلیخا تمہارا انتظار کر رہی ہیں، ساجد کو کچھ کھلاؤ اور خود بھی آرام کرو۔”
بانو ساجد کا ہاتھ پکڑ کر اندر کمرے کی طرف بڑھ گئی، جہاں بوڑھی بی بی زلیخا محبت بھری انکھوں کے ساتھ ان کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی تھیں۔ صلاح الدین نے ایک لمبا سانس لیا اور صحن میں رکھی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گیا، اس کا ارادہ تھا کہ وہ فجر کی نماز بی بی زلیخا کے گھر پڑھ کر ہی واپس بنگلے جائے گا۔
لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ موت کا گھیرا اس چھوٹے سے گھر کے گرد تنگ ہو چکا تھا۔
گھر کے باہر، کچی گلی کے اندھیرے کونوں میں تین مکار سائے حرکت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پسٹل اور کلاشنکوفیں تھیں، اور ان سب کا سرغنہ کوئی اور نہیں بلکہ شاہینہ بیگم کا بھیجا ہوا بدنام زمانہ شوٹر رستم خان تھا۔ رستم خان ایک ۵۰ سالہ، کالی گھنی داڑھی اور وحشی انکھوں والا آدمی تھا، جس کے چہرے پر گہرے زخم کا نشان اس کے جلاد ہونے کی گواہی دیتا تھا۔ کامران نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر بی بی زلیخا کے اس خفیہ گھر کا پتہ شاہینہ بیگم کے بندوں کو بتا دیا تھا، اور رستم خان فجر کے اس اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھا۔
“خان سائیں! اندر صرف صلاح الدین کے دو گارڈز ہیں اور وہ خود ہے۔ لڑکی اور اس کا بھائی بھی اندر ہی ہیں،” رستم خان کے ایک غنڈے نے دھیمی آواز میں مخبری کی۔
رستم خان کے لبوں پر ایک سفاک مسکراہٹ ابھری، اس نے اپنی کلاشنکوف کا بولٹ پیچھے کھینچا جس کی کڑک دار آواز رات کے آخری پہر میں گونجی، “شاہینہ بیگم کا حکم صاف ہے، صلاح الدین زندہ واپس نہیں جانا چاہیے اور اس لڑکی کی لاش بھی اسی سڑک پر ملنی چاہیے۔ اندر گھسو اور جو بھی سامنے آئے، اسے گولیوں سے بھون دو!”
صحن میں بیٹھے صلاح الدین کے کان کھڑے ہو گئے۔ برسوں کی کاروباری اور خاندانی دشمنیوں نے اس کی سماعت کو بہت تیز کر دیا تھا۔ اسے باہر گلی میں کلاشنکوف کے لوڈ ہونے کی وہ مخصوص آواز صاف سنائی دی تھی۔
“علی! رحمان! پوزیشن سنبھالو، باہر غنڈے ہیں!” صلاح الدین نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے دھیمی لیکن کڑک دار آواز میں اپنے گارڈز کو الرٹ کیا۔
ابھی گارڈز اپنی پوزیشنز پر پہنچے ہی تھے کہ گھر کا لکڑی کا بیرونی دروازہ ایک زوردار لات کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرا۔ رستم خان کے غنڈے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ کلاشنکوف کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے بی بی زلیخا کا پورا کچا گھر لرز اٹھا۔ دیواروں سے مٹی اور پلستر اڑنے لگا۔
صلاح الدین کے گارڈز نے فوری جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ علی نے پوزیشن لے کر رستم خان کے ایک غنڈے کے سینے پر گولی ماری، جو تڑپ کر صحن کے پکے فرش پر جا گرا۔ لیکن دوسری طرف سے رستم خان خود آگے بڑھا اور اس نے اپنی کلاشنکوف کا پورا برسٹ علی پر فائر کر دیا، علی سسکیاں لیتا ہوا وہیں ڈھیر ہو گیا۔
اندر کمرے میں بانو اور ساجد خوف کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ گولیوں کے دھماکوں اور علی کی چیخ نے بانو کے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ کھڑکی کے پاس آئی اور چادر کی اوٹ سے باہر دیکھا، تو اس کا خون جم گیا۔ صحن میں ہر طرف گولیوں کے شعلے چمک رہے تھے اور صلاح الدین اکیلا ایک موٹی دیوار کی اوٹ میں پسٹل ہاتھ میں لیے رستم خان کے غنڈوں کا مقابلہ کر رہا تھا، اس کا دوسرا گارڈ رحمان بھی زخمی ہو کر گر چکا تھا۔
“صلاح الدین بھائی! باہر آؤ، اج شاہینہ بیگم کا موت کا پروانہ لے کر رستم خان آیا ہے، تم بچ کر نہیں جا سکتے!” رستم خان نے صحن میں چلاتی ہوئی آواز میں کہا اور دیوار پر فائرنگ جاری رکھی۔
صلاح الدین کی پسٹل کی گولیاں ختم ہو رہی تھیں۔ اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں بانو خوف سے پاگل ہو رہی تھی۔ صلاح الدین نے چلاتی ہوئی آواز میں کہا، “بانو! اندر ہی رہنا، باہر مت آنا! ساجد کو لے کر پیچھے والے کمرے میں چھپ جاؤ!”
رستم خان نے موقع پا کر دیوار کی اوٹ سے چھلانگ لگائی اور سیدھا صلاح الدین کی طرف بڑھا۔ صلاح الدین نے اخری گولی چلائی جو رستم خان کے کندھے کو چھوتی ہوئی نکل گئی، لیکن رستم خان نے اپنی کلاشنکوف کے پچھلے حصے (Butt) سے اتنے زور سے صلاح الدین کے سر پر وار کیا کہ صلاح الدین کا توازن بگڑ گیا اور وہ فرش پر گر گیا۔
رستم خان نے اپنی کلاشنکوف کا مفرور رخ سیدھا صلاح الدین کے سینے پر تان لیا، “کھیل ختم شہری بابو! چولستان کے خداؤں سے ٹکرانے کا یہی انجام ہوتا ہے!” رستم خان کا انگوٹھا ٹریگر پر دباؤ بڑھانے لگا۔
کمرے کے اندر کھڑی بانو اپنے دوسرے محافظ کو اس طرح موت کے دہانے پر کھڑا دیکھ کر اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ اس کے دماغ میں امجد کی لاش گھوم گئی، وہ دوبارہ کسی سچے انسان کو اپنی خاطر مرتے نہیں دیکھ سکتی تھی!
بانو نے دروازہ کھولا اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر، دیوانہ وار چیختی ہوئی صحن میں کود پڑی، “نہ سائیں! میرے محسن کو مت مارو! مجھے مار ڈالو!”
فجر کے اندھیرے میں بی بی زلیخا کے صحن کے اندر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ بانو اپنی گلابی چادر کو ہوا میں اڑتے ہوئے، اپنی جان کی پروا کیے بغیر کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔ اس کی چیخ نے رستم خان کے جلاد ہاتھوں کو ایک سیکنڈ کے لیے روک دیا تھا، جو صلاح الدین کے سینے پر کلاشنکوف تانے کھڑا تھا۔
“نہ سائیں! میرے محسن کو مت مارو! مجھے مار ڈالو، میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ حویلی!” بانو روتی ہوئی، اپنے دونوں ہاتھ جوڑے، صلاح الدین کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی مخملی آنکھیں خوف اور تڑپ سے پھٹ چکی تھیں۔ وہ ایک بار اپنی محبت امجد کی لاش دیکھ چکی تھی، اور اب اس غیور محسن صلاح الدین کا خون اپنی آنکھوں کے سامنے بہتے دیکھنا اس کے بس میں نہیں تھا۔
فرش پر گرے ہوئے صلاح الدین نے جب بانو کو اس طرح اپنی جان داؤ پر لگاتے دیکھا، تو اس کے اندر کا پٹھان اور غیرت کا سمندر ایک بار پھر غصے سے ابل پڑا۔ سر پر کلاشنکوف کے بٹ کے وار کی وجہ سے اس کی پیشانی سے خون کی ایک موٹی دھار بہہ کر اس کی بائیں آنکھ تک آ چکی تھی، لیکن اس کی عقابی نظریں اب بھی رستم خان پر جمی ہوئی تھیں۔
“بانو۔۔۔ پیچھے ہٹو! اندر جاؤ!” صلاح الدین نے اپنی بھاری اور لرزتی آواز میں حکم دیا، لیکن بانو اج پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
رستم خان نے بانو کو دیکھا اور ایک ہولناک، مکارانہ ہنسی ہنسا، “اوئے لڑکی! شاہینہ بیگم کا حکم تھا کہ تم دونوں کی لاشیں اسی سڑک پر ملیں، تو تو خود ہی موت کے کنویں میں کود پڑی۔ چلو، پہلے اس شہری بابو کا غرور خاک میں ملاتے ہیں، پھر تیرا حساب کریں گے!”
رستم خان نے جیسے ہی دوبارہ کلاشنکوف کا رخ صلاح الدین کی طرف کیا، صلاح الدین نے زمین پر گرے گرے اپنے دائیں پیر سے رستم خان کے گھٹنے پر ایک زوردار وار کیا۔ رستم خان کا توازن بگڑا اور وہ پیچھے کو ہٹا۔ اسی ایک سیکنڈ کا فائدہ اٹھا کر، صلاح الدین ایک زخمی شیر کی طرح زمین سے اٹھا اور سیدھا رستم خان پر جھپٹ پڑا۔
دونوں کے درمیان زندگی اور موت کی جنگ شروع ہو گئی۔ صلاح الدین نے رستم خان کے ہاتھ سے کلاشنکوف چھین کر دور پھینکی، لیکن رستم خان نے اپنی کمر سے ایک تیز دھار، چمکتا ہوا خنجر نکال لیا۔ فجر کے دھندلکے میں اس خنجر کی چمک بانو کے دل کو چیر گئی۔
“سائیں! سنبھلیں!” بانو چلائی۔
صلاح الدین نے رستم خان کا خنجر والا ہاتھ دبوچ لیا، لیکن رستم خان ایک پیشہ ور قاتل تھا۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے صلاح الدین کے زخم پر زور سے مکا مارا، جس سے صلاح الدین کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ اسی بے بسی کے عالم میں، رستم خان نے خنجر کا ایک گہرا اور ہولناک وار صلاح الدین کے پیٹ کے بائیں طرف کر دیا!
“آہ۔۔۔!” صلاح الدین کے منہ سے ایک گہری، دردناک کراہ نکلی۔
خنجر کا وار اتنا گہرا تھا کہ صلاح الدین کا سفید کرتا سیکنڈوں میں سرخ خون سے پوری طرح بھیگ گیا۔ اس کے قدم لڑکھڑائے، اس نے اپنے ہاتھ سے زخم کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن خون کی دھار اس کی انگلیوں کے درمیان سے بہتی ہوئی فرش پر گرنے لگی۔ صلاح الدین گھٹنوں کے بل فرش پر گرتا چلا گیا۔
“صلاح الدین سائیں۔۔۔!” بانو کے منہ سے ایک ایسی دلدوز چیخ نکلی جس نے بی بی زلیخا کے اس کچے گھر کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ وہ دوڑتی ہوئی آئی اور فرش پر گرے ہوئے صلاح الدین کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی حیا، اپنی روایتی گلابی چادر کے پلو کی پروا کیے بغیر، اس چادر کو اپنے ہاتھوں سے پھاڑا اور صلاح الدین کے زخم پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے خون روکنے کی دیوانہ وار کوشش کرنے لگی۔
“سائیں! اپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ سائیں، انکھیں کھولیں! یا اللہ، میرے محسن کو بچا لے! میں نے امجد سائیں کو کھو دیا، اب میں اس پاک انسان کا خون اپنے سر نہیں لے سکتی!” بانو سرائیکی کے روایتی بین کرتے ہوئے زار و قطار رو رہی تھی، اس کے معصوم ہاتھ صلاح الدین کے گرم خون سے پوری طرح رنگ چکے تھے۔
رستم خان نے خون آلود خنجر اٹھایا اور بانو کی طرف بڑھا، “اب تیری باری ہے لڑکی۔۔۔!”
عین اسی وقت، گلی میں تیز رفتار گاڑیوں کے سائرن گونج اٹھے۔ ہیڈ لائٹس کی تیز چمک صحن کی دیواروں پر پڑی۔ عثمان (امجد کا جگری یار) کمپنی کے گارڈز اور پولیس کی ایک بھاری نفری کے ساتھ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا۔ عثمان کو کامران کے موبائل کی لوکیشن اور اس کی مشکوک کالز سے شک ہو گیا تھا، اور وہ سیدھا پولیس لے کر پہنچا تھا۔
“پولیس ہے! کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا!” عثمان کی آواز گونجی۔
پولیس کو دیکھ کر رستم خان کے غنڈوں کے ہوش اڑ گئے۔ ایک شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا، جس میں پولیس کی گولی رستم خان کے دائیں کندھے پر لگی۔ رستم خان نے جب دیکھا کہ بازی پلٹ چکی ہے، تو وہ اپنے بچے کھچے غنڈوں کے ساتھ پچھلی دیوار پھلانگ کر اندھیرے میں غائب ہو گیا، لیکن جاتے جاتے وہ بانو کی دیوانگی اور صلاح الدین کے بہتے خون کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ شاہینہ بیگم کا وار خالی نہیں گیا۔
“صلاح الدین بھائی۔۔۔!” عثمان بھاگتا ہوا صحن میں آیا۔ جب اس نے صلاح الدین کو خون میں لت پت دیکھا، تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
“عثمان۔۔۔ گاڑی نکالو۔۔۔ ہسپتال۔۔۔” صلاح الدین کی آواز بالکل دھیمی ہو چکی تھی، اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور وہ زندگی اور موت کی سرحد پر کھڑا تھا۔
بانو پاگلوں کی طرح صلاح الدین کا سر اپنی گود میں رکھے روئے جا رہی تھی، “سائیں! آپ کو کچھ نہیں ہوگا، بانو آپ کی زندگی کی بھیک مانگے گی۔”
صبح کے پانچ بجے، بہاولپور کے سینٹرل ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ ایک چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ صلاح الدین کو فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس کی زندگی بچانے کی جنگ لڑ رہی تھی۔ آپریشن تھیٹر کے باہر، صلاح الدین کے والد افتخار احمد، ان کا پورا سیاسی عملہ اور عثمان پریشانی کی حالت میں ٹہل رہے تھے۔
کوریڈور کے ایک کونے میں، فرش پر بانو بیٹھی تھی۔ اس کے سر پر وہی پھٹی ہوئی گلابی چادر تھی، اس کا شلوار قمیص اور اس کے ہاتھ صلاح الدین کے خون کے دھبوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ اس کا چودہ سالہ بھائی ساجد بیٹھا خوف سے کانپ رہا تھا۔ بانو نے ہسپتال کے فرش پر ہی اپنا مصلہ بچھا لیا تھا اور وہ اپنے ہاتھ اٹھا کر، رو رو کر سرائیکی میں اللہ سے صلاح الدین کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی:
“یا اللہ! وہ شہر کا اتنا بڑا سائیں تھا، لیکن اس نے ہم غریبوں کے لیے اپنی جان داؤد پر لگا دی۔ مولا! میرے محسن کو زندگی دے دے۔ اگر اسے کچھ ہوا، تو بانو جیتے جی مر جائے گی۔”
ٹھیک اسی وقت، کوریڈور میں قدموں کی اواز آئی۔ یہ کامران احمد تھا۔ وہ رات کو صلاح الدین سے پٹنے کے بعد، اب بظاہر ہمدردی کا نقاب اوڑھ کر ہسپتال پہنچا تھا تاکہ یہ دیکھ سکے کہ صلاح الدین زندہ بچتا ہے یا مر جاتا ہے۔
جب بانو کی نظر کامران پر پڑی، تو اس معصوم، دیہاتی لڑکی کے اندر کا خوف ایک دم غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ایک شیرنی کی نفرت نے لے لی۔ وہ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے کامران کے سامنے جا کر رک گئی۔ اس کے خون آلود ہاتھ دیکھ کر کامران پیچھے ہٹا۔
“کامران سائیں۔۔۔!” بانو کی آواز میں ایک ایسی ہولناک کڑک تھی کہ کوریڈور میں کھڑے تمام لوگ چونک گئے۔ “اپ نے چوری چھپے اس وڈیرے سارنگ شاہ کو اس گھر کا پتہ دیا نا؟ اپ نے میرے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا؟ سن لو سائیں! اگر میرے محسن صلاح الدین کو ایک خراش بھی آئی، تو یہ چولستان کی مٹی کی بیٹی بانو، سارنگ شاہ سے پہلے اپ کا گریبان پکڑے گی! اپ غدار ہیں سائیں، اپنے ہی بھائی کے قاتل!”
بانو کی اس سرِعام للکار نے کامران کے چہرے پر ہوائیاں اڑا دیں، اور افتخار احمد بھی اپنے بھتیجے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ کامران ذلیل ہو کر وہاں سے پیچھے ہٹ گیا، لیکن اس کے دل میں اب بانو اور صلاح الدین کے لیے زہر مزید گہرا ہو چکا تھا۔
دوسری طرف، چولستان کی کالی حویلی میں شاہینہ بیگم اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں جب رستم خان زخمی حالت میں ان کے سامنے آ کر گرا۔
“شاہینہ بیگم! کام ہو گیا ہے،” رستم خان نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔ “میری گولی اور خنجر نے صلاح الدین کا پیٹ چاک کر دیا ہے۔ وہ اس وقت ہسپتال میں اخری سانسیں لے رہا ہے، اس کا بچنا ناممکن ہے۔”
شاہینہ بیگم کے چہرے پر ایک ہولناک، مکارانہ اور شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کو گھمایا اور بولیں، “بہت اچھے رستم خان! صلاح الدین کا غرور اب مٹی میں ملنے والا ہے۔ اب افتخار احمد کی سیاست بھی ختم اور صلاح الدین کا یہ خاندانی نام بھی ختم! سارنگ۔۔۔ اب گاڑی تیار کرو، اب ہم خود بہاولپور جائیں گے، کیونکہ جب صلاح الدین کا جنازہ اٹھے گا، تو اس ہسپتال سے بانو کو اٹھانا ہمارے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا!”
کہانی اب ایک ایسے ہولناک، گہرے سسپنس اور جذباتی موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی، جہاں صلاح الدین آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا، بانو ہسپتال کے فرش پر بیٹھ کر اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی، اور دوسری طرف سارنگ شاہ اور شاہینہ بیگم ہسپتال پر آخری وار کرنے کے لیے بہاولپور کی طرف روانہ ہو چکے تھے!