Urdu Short Stories 11 12

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 12-11

تپتی ہوئی شام اب آہستہ آہستہ گہرے سرمئی اندھیرے میں بدل رہی تھی، لیکن “جھگیاں چولستان” کے کچے مٹی کے ڈیروں پر لگی ہوئی آگ چولستان کے مزارعوں کے چہروں کو سرخ کر رہی تھی۔ یہ آگ کسی لکڑی کی نہیں تھی، بلکہ یہ اس غیرت اور غصے کی آگ تھی جو زخمی صلاح الدین نے اپنے بہتے ہوئے خون کے نذرانے سے ان غریبوں کے دلوں میں جلائی تھی۔
ڈیرے کے مرکز میں، لکڑی کے ایک پرانے بستر (چارپائی) پر صلاح الدین نیم دراز تھا۔ بابا رحیمو کی بیٹی نے چولستان کی جڑی بوٹیوں کا ایک کچا لیپ تیار کر کے صلاح الدین کے پیٹ کے زخم پر لگایا تھا اور اس پر ایک موٹا سفید کپڑا کس کر باندھ دیا تھا، لیکن اس کپڑے کے اوپر سے بھی خون کی سرخی مسلسل باہر ابھر رہی تھی۔ صلاح الدین کا چہرہ تیز بخار اور درد کی شدت سے تپ رہا تھا، اس کی آنکھیں موندھی ہوئی تھیں، لیکن اس کی مٹھیاں اب بھی اسی طرح بھینچی ہوئی تھیں جیسے وہ درد کو اپنے بس میں کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
عثمان پاگلوں کی طرح ڈیرے کے صحن میں چکر کاٹ رہا تھا، اس کا فون مسلسل کان سے لگا ہوا تھا۔ “ہاں ابا سائیں! آپ کہاں پہنچے؟ خدا کے لیے جلدی کریں، صلاح الدین بھائی کی حالت بہت خراب ہے، ان کا خون نہیں رک رہا! اور ادھر حویلی والوں کو مزارعوں کی اس بغاوت کی خبر مل چکی ہے، ان کے گارڈز چولستان کے راستوں پر پوزیشنیں لے رہے ہیں!” عثمان نے فون پر افتخار احمد سے بات کرتے ہوئے روتی ہوئی آواز میں کہا۔
صلاح الدین نے بڑی مشکل سے اپنے بھاری پپوٹے اٹھائے۔ اس کی لال آنکھیں عثمان پر جم گئیں۔ “عثمان۔۔۔ اپنے انسو صاف کرو۔ ایک وکیل کا بھائی اس طرح کمزور نہیں ہوتا،” صلاح الدین کی آواز اگرچہ دھیمی تھی، لیکن اس میں وہی فولادی گرج تھی جو حویلی کے در و دیوار ہلا سکتی تھی۔ “ابا سائیں کو بولو کہ وہ بہاولپور کی پولیس فورس اور رینجرز کو سیدھا حویلی کے پچھلے راستے پر الرٹ رکھیں. شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بانو سے زبردستی جھوٹا بیان دلوا کر عدالت کو گمراہ کر دیں گے، لیکن انہیں نہیں پتہ کہ کل صبح چولستان کا قانون اس حویلی کے دروازے پر دستک دینے والا ہے.”
عین اسی وقت، بابا رحیمو چولستان کے چالیہہ سے زائد کسرتی اور غیور جوانوں کے ساتھ صلاح الدین کی چارپائی کے گرد آ کر کھڑا ہو گیا۔ ان جوانوں کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی کلہاڑیاں، پرانی لاٹھیاں اور لوہے کی درانتیاں تھیں جن سے وہ دن بھر حویلی کی فصلیں کاٹتے تھے، لیکن آج وہ اپنی غیرت کی فصل بچانے نکلے تھے۔
“وکیل سائیں!” بابا رحیمو نے جھک کر صلاح الدین کا ہاتھ چوما، اس کی بوڑھی آنکھوں میں انسو اور خون ایک ساتھ تیر رہے تھے۔ “آپ نے ہمارے کچے ڈیروں پر آ کر مزارعوں کی سوئی ہوئی غیرت کو جگا دیا ہے. امجد کی موت کا حساب اور اللہ دتا کی زنجیروں کا بدلہ اب چولستان کی یہ مٹی خود لے گی! ہم نے حویلی کے چاروں طرف اپنے بندے کھڑے کر دیے ہیں. جیسے ہی حویلی کا کوئی غنڈہ باہر نکلے گا، ہماری کلہاڑیاں اس کا استقبال کریں گی!”
صلاح الدین نے بابا رحیمو کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما۔ “بابا! یاد رکھنا، یہ جنگ صرف لاٹھی اور کلہاڑی کی نہیں ہے، یہ حق اور باطل کی جنگ ہے. بانو اس وقت حویلی کے اصطبل کے اس اندھیرے کمرے میں بند ہے، اور کل صبح انہوں نے اسے عدالت لے کر جانا ہے. ہمیں رات کے اندھیرے میں ہی حویلی کی جڑیں ہلانی ہوں گی.”
دوسری طرف، حویلی کے اسی چمکتے ہوئے وڈے کمرے میں، کامران احمد اور سارنگ شاہ ایک بڑے نقشے کے گرد بیٹھے تھے، اور شاہینہ بیگم اپنی سونے کی چھڑی ہاتھ میں لیے کھڑکی کے پاس کھڑی باہر چولستان کے اندھیرے کو گھور رہی تھیں۔ ان کے مکار چہرے پر ایک ہولناک سفاکی رقص کر رہی تھی۔
“وڈیرے سارنگ شاہ! میں آپ کو بتا رہا ہوں، صلاح الدین معمولی انسان نہیں ہے،” کامران احمد نے اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے سارنگ شاہ کے کان میں زہر گھولا۔ “وہ اس وقت جھگیاں چولستان کے مزارعوں کے ڈیرے پر پناہ لیے ہوئے ہے اور ان غریبوں کو آپ کے خلاف اکٹھا کر رہا ہے. اگر وہ رات بھر وہاں رہا، تو کل صبح چچا افتخار احمد پولیس اور رینجرز لے کر یہاں پہنچ جائیں گے، اور پھر بانو کا وہ جھوٹا بیان بھی آپ کو نہیں بچا پائے گا!”
سارنگ شاہ نے غصے سے اپنے ہاتھ میں موجود چمڑے کے کوڑے کو میز پر مارا، جس سے وہاں پڑے شیشے کے گلاس ٹوٹ کر بکھر گئے۔ “تو پھر کیا کریں کامران احمد؟ تم ہی بتاؤ، اس مرتے ہوئے وکیل کا قصہ کیسے پاک کریں؟”
کامران احمد کے لبوں پر ایک نہایت ہولناک اور خبیثانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے نقشے پر جھگیاں چولستان کے کچے ڈیروں کی طرف اشارہ کیا۔ “وڈیرے سائیں! رات کا اندھیرا گہرا ہو رہا ہے. چولستان کی ریت پر جب طوفان اٹھتا ہے، تو گولی کی آواز بھی دب جاتی ہے. آپ اپنے پچاس مسلح گارڈز کو کالی گاڑیوں میں بھیجیں اور رات کے اسی پہر جھگیاں چولستان کے ان کچے گھروں کا گھیراؤ کر لیں! صلاح الدین اس وقت ہسپتال کے زخموں سے چور ہے، وہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا. اس سے پہلے کہ پولیس چولستان کی حد میں داخل ہو، صلاح الدین کو اسی کچی مٹی کے نیچے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں! بعد میں ہم میڈیا اور عدالت کو بتا دیں گے کہ مزارعوں کی آپسی زمین کے جھگڑے میں فائرنگ ہوئی اور صلاح الدین بیچ میں آ کر مارا گیا. کہانی ہمیشہ کے لیے ختم، اور چچا افتخار احمد کی جائیداد کا راستہ میرے لیے صاف!”
شاہینہ بیگم نے مڑ کر دیکھا، ان کی آنکھوں میں کامران کی اس مکارانہ ترکیب پر ایک داد دینے والی چمک تھی۔ “کامران احمد! تم افتخار احمد کے بھتیجے ضرور ہو، لیکن تمہارے اندر خون چولستان کے وڈیروں کا ہے. سارنگ! منشی کو بولو کہ حویلی کے تمام غنڈوں کو ہتھیار سپلائی کرے. اج رات چولستان کی اس مٹی پر صرف ہمارا قانون چلے گا. اس وکیل صلاح الدین کا نام و نشان مٹا دو!”
سارنگ شاہ نے ایک خبیثانہ قہقہہ لگایا اور اپنے گارڈز کو الرٹ کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکل گیا۔ کامران احمد نے کھڑکی سے باہر چولستان کے اندھیرے کو دیکھا اور دل ہی دل میں ہنسا، “صلاح الدین۔۔۔ تم بہت بڑے وکیل بنتے تھے نا؟ اج چولستان کی یہ تپتی ریت تمہاری عدالت بھی بنے گی اور تمہاری قبر بھی!”
ادھر حویلی کے عقبی حصے میں واقع اس کچے، بدبودار اصطبل کے اندھیرے کمرے میں، بانو زمین پر بیٹھی دیوار سے سر ٹکائے مسلسل رو رہی تھی۔ لوہے کے بھاری دروازے کے باہر سے اللہ دتا کی زنجیروں کی ہلکی سی جھنکار اب بھی سنائی دے رہی تھا، جو اس بات کی علامت تھی کہ اس کا بوڑھا باپ اب بھی اسی تکلیف میں جکڑا ہوا ہے۔ بانو نے اپنی مٹھی میں دبی ہوئی تسبیح کو اپنے ہونٹوں سے لگایا۔
“یا باری تعالیٰ! میرے ابا سائیں کی جان بچا لے. اور۔۔۔ اور میرے سائیں صلاح الدین کی حفاظت کرنا مولا. وہ میرے لیے اپنے پیٹ پر زخم کھا کر ہسپتال پڑا ہے، اسے کچھ مت ہونے دینا،” بانو کی معصوم آواز اس تاریک قید خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر رہ گئی، جبکہ حویلی کے صحن میں گارڈز کی بندوقوں کے لوڈ ہونے کی ہولناک آوازیں رات کے سناٹے کو چیر رہی تھیں!
چولستان کے صحرا پر رات کا سیاہ کفن پوری طرح تان چکا تھا، اور کچے ڈیروں پر جلتی ہوئی لکڑیوں کے انگارے اب دھیمے پڑ کر گہری سرخ راکھ میں بدل رہے تھے۔ فضا میں عجیب سا مہیب اور بوجھل سکوت تھا، جیسے چولستان کی ریت کسی بڑے خونی طوفان کے استقبال کے لیے سانس روکے کھڑی ہو۔
ڈیرے کے کچے دالان میں، صلاح الدین ایک پرانی چارپائی پر لیٹا تیز بخار کی شدت سے تپ رہا تھا، اس کے ماتھے پر پسینے کے بڑے بڑے قطرے چمک رہے تھے اور پیٹ پر بندھا ہوا سفید کپڑا اب پوری طرح گہرے سرخ خون سے بھیگ کر اس کی پشت تک جا پہنچا تھا۔ درد کی جب کوئی تیز لہر اٹھتی، تو اس کے ہاتھ ریت کو مٹھی میں بھیچ لیتے، لیکن اس کی بند آنکھوں کے پیچھے صرف بانو کا وہ معصوم اور لاچار چہرہ گھوم رہا تھا جو اس وقت حویلی کے بھیڑیوں کے گھیراؤ میں تھی۔
عثمان چارپائی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا بار بار صلاح الدین کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا تھا، اس کی اپنی آنکھیں لال ہو چکی تھیں۔ “بھائی۔۔۔ خدا کے لیے میری بات مانیں، ابا سائیں کا قافلہ ابھی تک چولستان کی کچی سڑک پر پھنسا ہوا ہے، وہاں ریت کا طوفان سڑک کو نگل چکا ہے. ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا، حویلی کے غنڈے کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں!” عثمان نے تڑپ کر دھیمی آواز میں کہا۔
صلاح الدین نے آہستہ سے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں، اس کا دائیں ہاتھ لرزتا ہوا عثمان کے کندھے پر آ ٹکا۔ “عثمان۔۔۔ بھاگنا کمزوروں کا کام ہے، وکیلوں کا نہیں. اگر آج میں اس مٹی کو چھوڑ کر بھاگا، تو حویلی کے یہ جاگیردار ہمیشہ کے لیے جیت جائیں گے اور چولستان کی مظلوم دھیوں کا قانون سے یقین اٹھ جائے گا. موت کا ایک دن معین ہے عثمان، لیکن غیرت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا.”
عین اسی وقت، بابا رحیمو پاگلوں کی طرح دوڑتا ہوا دالان میں داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں پکڑی پرانی کلہاڑی اندھیرے میں چمک رہی تھی اور اس کا پورا چہرہ خوف اور غصے سے تلملا رہا تھا۔ “سائیں! غضب ہو گیا سائیں! کامران احمد اور سارنگ شاہ کا پلان شروع ہو چکا ہے. حویلی کے پچاس سے زائد مسلح غنڈے کالی گاڑیوں میں بندوقیں لیے ہمارے ڈیرے کی طرف بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کچے راستوں کا گھیراؤ کر لیا ہے!”
یہ سنتے ہی عثمان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، لیکن صلاح الدین کے چہرے پر خوف کا ایک سایہ تک نہ ابھرا۔ اس نے اپنے پیٹ کے شدید درد کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، اپنے دانتوں کو بھینچا اور چارپائی سے نیچے پیر رکھ دیے۔ جیسے ہی وہ کھڑا ہوا، اس کے پیٹ کا کچا ٹانکا ٹوٹنے سے خون کا ایک گرم فوارہ باہر نکلا، اس کے منہ سے ایک گہری، روح فرسا کراہ نکلی اور وہ گرنے لگا، لیکن عثمان اور بابا رحیمو نے اسے دونوں طرف سے سنبھال لیا۔
“بابا رحیمو! جوانوں کو بولو۔۔۔ کچے گھروں کی اوٹ میں پوزیشنیں لیں. اج رات ان غنڈوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ مزارعوں کی لاٹھی میں کتنی طاقت ہوتی ہے!” صلاح الدین نے ہانپتے ہوئے حکم دیا، اس کی آنکھوں میں قانون کا وہ جلال تھا جو موت کو بھی پیچھے دھکیل دے۔
ابھی صلاح الدین کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ڈیرے کے بیرونی حصے سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے رات کے سناٹے کو چاک کر دیا۔ کالی گاڑیوں کی تیز ہیڈلائٹس نے کچے مٹی کے گھروں کو اندھا کر دیا، اور حویلی کے کرائے کے غنڈے سیمی آٹومیٹک بندوقیں لیے مزارعوں کے ڈیرے پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہونے لگے۔ کچے گھروں سے عورتوں اور بچوں کی چیخیں بلند ہوئیں، اور فضا میں بارود کا کالا دھواں پھیل گیا۔
“مار دو ان مزارعوں کے بچوں کو! اور اس شہری وکیل صلاح الدین کا سر کاٹ کر وڈیرے سارنگ شاہ کے پیروں میں لے جاؤ!” غنڈوں کے سردار جلال خان نے ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے گرج کر کہا۔
لیکن حویلی کے غنڈے چولستان کی اس مٹی کی غیرت سے واقف نہیں تھے۔ جیسے ہی وہ کچے دالان کی طرف بڑھے، مٹی کی دیواروں کے پیچھے سے چولستان کے غیور جوان کلہاڑیاں اور بھاری لاٹھیاں لیے شیروں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے۔ بابا رحیمو نے اپنی کلہاڑی کا پہلا بھرپور وار ایک غنڈے کی گردن پر کیا، جو اپنی بندوق سمیت وہیں ریت پر ڈھیر ہو گیا۔ عثمان نے بھی صلاح الدین کے لائسنس یافتہ پستول کو سنبھال لیا اور ایک کچی دیوار کے پیچھے سے فائرنگ کرتے ہوئے دو غنڈوں کو زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا.
ریت کے اس تپتے ہوئے طوفان اور گولیوں کی بوچھاڑ کے درمیان، ایک ایسا منظر ابھرا جس نے مزارعوں کے حوصلے آسمان تک پہنچا دیے۔ صلاح الدین، جس کا ہسپتال کا کرتا اب پوری طرح اپنے ہی خون سے سرخ ہو کر ابل رہا تھا، ایک ہاتھ سے اپنے پیٹ کے زخم کو تھامے، دوسرے ہاتھ سے ایک غنڈے کی چھینی ہوئی بھاری لاٹھی لیے ریت کے میدان میں اتر آیا! اس کا چہرہ تیز بخار سے تپ رہا تھا، وجود لرز رہا تھا، لیکن جب اس نے لاٹھی ہوا میں لہرائی، تو حویلی کے غنڈے اس کے جلال کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
“آؤ جلال خان! آؤ۔۔۔ اپنے وڈیرے سارنگ شاہ کو بولو کہ صلاح الدین کی عدالت چولستان کی اس ریت پر لگ چکی ہے، اور اج یہاں حویلی کے ہر ظلم کا فیصلہ ہوگا!” صلاح الدین کی یہ گرج بارود کے شور پر غالب آ گئی۔ اس نے اپنے وجود کی آخری طاقت اکٹھی کی اور ایک غنڈے کے سر پر لاٹھی کا ایسا وار کیا کہ اس کی کھوپڑی کھل گئی اور وہ وہیں ریت میں دھنس گیا۔ مزارعوں نے اپنے وکیل سائیں کو اس حالت میں لڑتے دیکھا، تو ان کی طاقت دگنی ہو گئی۔ کلہاڑیاں اور لاٹھیاں ہوا میں لہرانے لگیں اور حویلی کے غنڈوں کی لاشیں ریت پر گرنے لگیں۔
دوسری طرف، اسی ہولناک رات میں، حویلی کے کچے اور بدبودار اصطبل کے اندھیرے کمرے میں، بانو لوہے کے بھاری دروازے پر اپنے دونوں ہاتھ مار رہی تھی، اس کی ہتھیلیاں خون آلود ہو چکی تھیں کیونکہ باہر چولستان کے ڈیروں سے آنے والی گولیوں کی گونج اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔
“یا اللہ! میرے سائیں صلاح الدین کی رکشا کرنا مولا. وہ ظالم اسے مار دیں گے، وہ تو پہلے ہی زخموں سے چور ہے!” بانو رو رو کر دروازے سے سر ٹکرا رہی تھی، اس کے آنسو اس کے چہرے کی مٹی کو دھو رہے تھے۔ لوہے کے ستون سے بندھا اس کا بوڑھا باپ اللہ دتا بھی اپنی زنجیروں کو ہلا ہلا کر خدا کے آگے جھولی پھیلائے رو رہا تھا، “مولا پاک۔۔۔ اس غیور وکیل سائیں کو کچھ نہ ہو، اس نے ہماری دھی کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا دی ہے.”
عین اسی وقت، حویلی کے وڈے کمرے کی کھڑکی پر کھڑا کامران احمد دور چولستان کے اندھیرے میں چمکتی ہوئی گولیوں کی روشنی دیکھ کر مکارانہ ہنسی ہنس رہا تھا۔ سارنگ شاہ نے شراب کا گلاس منہ سے لگایا، “کامران احمد! تمہارے غنڈے اب تک اس وکیل کا کام تمام کر چکے ہوں گے. کل صبح عدالت میں بانو کا بیان ہمارے حق میں ہوگا اور چولستان پر دوبارہ ہمارا راج ہوگا!”
کامران احمد نے عینک صاف کی اور بولا، “وڈیرے سائیں! صلاح الدین کا چیپٹر کلوز ہو چکا ہے، اب چچا افتخار احمد یہاں پہنچ بھی جائیں تو وہ صرف اپنے بیٹے کی لاش اٹھائیں گے!”
لیکن ان دونوں ظالموں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ چولستان کی ریت پر مزارعوں کی بغاوت نے حویلی کے غنڈوں کے پیر اکھاڑ دیے تھے. میدانِ جنگ میں جلال خان اپنے پندرہ غنڈوں کی لاشیں چولستان کی مٹی پر چھوڑ کر، زخمی حالت میں کالی گاڑیوں میں بیٹھ کر حویلی کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو چکا تھا. مزارعوں نے میدان مار لیا تھا، لیکن اس فتح کی بہت بڑی قیمت چولستان کی مٹی نے چکائی تھی.
جیسے ہی آخری گاڑی دور بھاگی، صلاح الدین کے ہاتھ سے وہ بھاری لاٹھی چھوٹ کر ریت پر گر پڑی. اس کا پورا وجود اب اپنے ہی خون کے تالاب میں نہا چکا تھا، اس کا پیٹ کا زخم پوری طرح کھل چکا تھا اور اس کے منہ سے خون کا ایک آخری قطرہ نکلا. اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں، اس نے دور افق پر کھڑی اس کالی حویلی کی طرف دیکھا جہاں بانو قید تھی، اور اس کے لبوں سے صرف ایک آخری دھیمی آواز نکلی: “بانو۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے اپنا وعدہ۔۔۔ پورا کیا۔۔۔”
اور اس کے ساتھ ہی صلاح الدین کا وہ غیور، فولادی اور سچا وجود چولستان کی اس تپتی ہوئی ریت پر بے ہوش ہو کر گر پڑا! عثمان اور بابا رحیمو پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے اس کی طرف دوڑے، اور چولستان کی رات کا وہ پہلا معرکہ ایک ہولناک سسپنس کے ساتھ ختم ہو گیا!
×××××
چولستان کے افق پر فجر کی پہلی کچی اور مٹیالی کرن ابھر رہی تھی، لیکن “جھگیاں چولستان” کے کچے ڈیروں پر پھیلا ہوا بارود کا کالا دھواں ابھی تک رات کے اس ہولناک خونی معرکے کی گواہی دے رہا تھا۔ ریت پر جگہ جگہ حویلی کے غنڈوں کے کارتوس، ٹوٹی ہوئی لاٹھیاں اور خون کے گہرے سرخ دھبے جم چکے تھے۔
کچے دالان کے اندر، ایک پرانی چارپائی پر صلاح الدین کا وجود بالکل بے حس و حرکت پڑا تھا۔ اس کا پورا ہسپتال کا لباس رات کے معرکے میں اس کے اپنے ہی خون سے نہا کر خشک ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے کپڑا اس کے پیٹ کے چاک شدہ زخم کے ساتھ چپک گیا تھا۔ اس کا چہرہ تیز ترین بخار کی شدت سے تندور کی طرح تپ رہا تھا اور ہونٹ بالکل سفید پڑ چکے تھے۔ عثمان اس کے سرہانے بیٹھا دیوانہ وار اس کے ہاتھ مسل رہا تھا، جبکہ بابا رحیمو اور ڈیرے کے جوان باہر اپنی کلہاڑیاں صاف کر رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رات کی شکست کے بعد سارنگ شاہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
عین اسی وقت، دور چولستان کی کچی سڑک پر مٹی کا ایک عظیم طوفان اٹھا۔ ریت کو چیرتی ہوئی بہاولپور پولیس کی دس سے زائد گاڑیاں، رینجرز کے ڈالے اور ان کے مرکز میں افتخار احمد کی سیاہ لینڈ کروزر تیز رفتاری سے ڈیرے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ سائرن کی گونج نے چولستان کے سناٹے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔
گاڑیاں رکتے ہی، بھاری سیکیورٹی کے درمیان بوڑھا سیاستدان افتخار احمد گاڑی سے اترا۔ اس کے چہرے پر اپنے اکلوتے غیور بیٹے کو کھو دینے کا ہولناک خوف صاف نظر آ رہا تھا، اس کے پیچھے بہاولپور کے ایس پی رانا حیدر اور رینجرز کے ونگ کمانڈر اپنے مسلح جوانوں کے ساتھ موجود تھے۔
“صلاح الدین۔۔۔ میرے بچے!” افتخار احمد کچے دالان میں داخل ہوئے، تو اپنے بیٹے کو اس حالت میں خون کے بستر پر لیٹا دیکھ کر ان کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور وہ وہیں چارپائی کے پاس بیٹھ گئے۔
“ابا سائیں! صلاح الدین بھائی کا خون نہیں رک رہا، ان کے پیٹ کے سارے ٹانکے رات کی جنگ میں ٹوٹ چکے ہیں!” عثمان نے روتے ہوئے اپنے والد کے گلے لگ کر کہا۔
ایس پی رانا حیدر نے فوراً اپنے ساتھ آئے میڈیکل اسٹاف کو اندر بلایا، جنہوں نے صلاح الدین کو عارضی طور پر ائیر ماسک لگایا اور اس کے زخم پر نئی پٹیاں کسنا شروع کیں۔ صلاح الدین نے آکسیجن کے اثر سے آہستہ سے اپنی سوجی ہوئی لال آنکھیں کھولیں۔ اس کی نظریں اپنے بوڑھے باپ افتخار احمد پر جم گئیں، اس نے بڑی نقاہت سے اپنا خون آلود ہاتھ اٹھا کر اپنے باپ کی آستین کو پکڑ لیا۔
“ابا سائیں۔۔۔ بانو۔۔۔ بانو حویلی میں ہے،” صلاح الدین کی آواز اس کے حلق میں سوکھی ریت کی طرح کھردری تھی، لیکن اس کی آنکھوں کا جلال اب بھی وہی تھا، “شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ نے اللہ دتا کو زنجیروں سے باندھ رکھا ہے. وہ بانو سے کل عدالت میں میرے خلاف جھوٹا بیان دلوانا چاہتے ہیں. ابا سائیں! قانون حویلی کے دروازے پر آ چکا ہے، اس بوڑھے مزارع کو آزاد کروائیں!”
افتخار احمد کھڑے ہوئے، ان کی آنکھوں میں ایک تجربہ کار سیاستدان اور ایک غیور باپ کا غصہ بجلی بن کر چمکا۔ انہوں نے ایس پی رانا حیدر کی طرف دیکھا، “رانا صاحب! رینجرز اور پولیس فورس کو حکم دیں. چولستان کی اس حویلی کا چاروں طرف سے گھیراؤ کر لیں. اج اگر شاہینہ بیگم نے حویلی کا دروازہ نہ کھولا، تو حویلی کی ایک ایک اینٹ کو قانون کے پیروں تلے مسمار کر دیا جائے گا!”
“یس سر!” ایس پی رانا حیدر نے وائرلیس پر چیخ کر حکم دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پچاس سے زائد مسلح پولیس اہلکار اور رینجرز کے جوان حویلی کی طرف روانہ ہو گئے۔ صلاح الدین کو دوبارہ گاڑی میں منتقل کیا گیا کیونکہ وہ اس حالت میں بھی حویلی پر خود چھاپہ مارنا چاہتا تھا تاکہ بانو کو اپنی آنکھوں سے آزاد دیکھ سکے۔
دوسری طرف، حویلی کے وڈے کمرے میں اس وقت افواہوں کا بازار گرم تھا۔ رات کو زخمی ہو کر بھاگنے والے غنڈے جلال خان نے جیسے ہی سارنگ شاہ اور شاہینہ بیگم کو مزارعوں کی فتح اور صلاح الدین کے زندہ ہونے کی خبر دی، حویلی کے اندر ایک زلزلہ آ گیا۔ کامران احمد کھڑکی کے پاس کھڑا دور سے آتی پولیس کی گاڑیوں کی دھول دیکھ کر کانپ رہا تھا۔
“وڈیرے سارنگ شاہ! پولیس آ گئی ہے! رینجرز کے ڈالے حویلی کو گھیر رہے ہیں!” کامران کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی، “چچا افتخار احمد خود ساتھ ہیں، اگر انہوں نے اللہ دتا کو یہاں زنجیروں میں دیکھ لیا، تو ہم سب کو عمر قید ہو جائے گی!”
شاہینہ بیگم کے چہرے پر خوف کا ایک لمحاتی سایہ ابھرا، لیکن ان کا مکر فورا جاگ اٹھا۔ انہوں نے اپنی سونے کی چھڑی کو زمین پر زور سے ٹھونکا۔ “منشی! سارنگ! گھبراؤ مت. یہ شاہینہ بیگم کی حویلی ہے، یہاں قانون کے گارڈز خالی ہاتھ لوٹنے کے لیے آتے ہیں. منشی! فوراً جاؤ، اصطبل سے اس بوڑھے اللہ دتا کو نکالو اور حویلی کے پچھلے حصے میں جو ہمارا زیرِ زمین کچا تہہ خانہ ہے، اسے وہاں منتقل کر کے تالا لگا دو! اور بانو لڑکی کو اصطبل کے اسی کمرے میں رہنے دو، اس کا چہرہ صاف کرو تاکہ وہ قیدی نہ لگے!”
“لیکن بیگم صاحبہ! اگر پولیس نے تلاشی لی تو؟” سارنگ شاہ نے تلملا کر پوچھا۔
“تلاشی لینے کے لیے وارنٹ چاہیے ہوتے ہیں سارنگ، اور افتخار احمد کے پاس اس حویلی کے اندر داخل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اللہ دتا یہاں قید ہے،” شاہینہ بیگم کے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری، “میں دیکھتی ہوں یہ پولیس کس برتے پر میری حویلی کی دیواریں پار کرتی ہے!”
ابھی شاہینہ بیگم کی بات پوری ہوئی ہی تھی کہ حویلی کے مین کالے پھٹک پر رینجرز اور پولیس کی گاڑیوں نے ایک زوردار بریک لگائی۔ ایس پی رانا حیدر نے میگا فون اٹھایا اور حویلی کی طرف رخ کر کے گرج دار آواز میں کہا: “شاہینہ بیگم! سارنگ شاہ! حویلی کا مین گیٹ کھول دو! پولیس کے پاس بوڑھے مزارع اللہ دتا کے اغوا اور رات کو مزارعوں کے ڈیرے پر حملے کے الزامات کے تحت حویلی کی تلاشی کے احکامات ہیں!”
کچھ ہی دیر میں حویلی کا چھوٹا دروازہ کھلا اور شاہینہ بیگم، نہایت باوقار اور مکارانہ مسکراہٹ لیے، اپنے ریشمی لباس میں سونے کی چھڑی تھامے باہر نکل آئیں۔ ان کے پیچھے سارنگ شاہ اور کامران احمد نہایت معصوم بن کر کھڑے تھے۔
“ارے رانا صاحب! یہ کس جرم کی سزا دینے آ گئے آپ ہماری حویلی پر؟” شاہینہ بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا، ان کی نظریں پیچھے گاڑی میں بیٹھے افتخار احمد اور عثمان پر پڑیں، “افتخار احمد صاحب! آپ اتنی بڑی فورس لے کر ایک غریب جاگیردار کے گھر پر چھاپہ مارنے آ گئے؟ کس اللہ دتا کی بات کر رہے ہیں آپ؟ ہمارے پاس تو ایسا کوئی بندہ نہیں ہے!”
“شاہینہ بیگم! جھوٹ مت بولو!” صلاح الدین گاڑی کا دروازہ کھول کر عثمان کے سہارے باہر نکلا، اس کا سانس اکھڑ رہا تھا لیکن اس کا لہجہ اب بھی عدالت کا چیمبر تھا، “بانو یہاں قید ہے، اور اس کا باپ اللہ دتا آپ کے اصطبل میں لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہے. میں اپنی آنکھوں سے منشی کی لکھی وہ پرچی دیکھ کر آیا ہوں!”
کامران احمد آگے بڑھا اور مکر سے بولا، “صلاح الدین بھائی! آپ کو تیز بخار ہے، آپ کا دماغ کام نہیں کر رہا. رات جھگیاں چولستان میں مزارعوں کا آپسی جھگڑا ہوا تھا، جس میں آپ بیچ میں آ کر زخمی ہوئے، اس کا حویلی سے کیا تعلق؟ رانا صاحب! آپ کے پاس اگر سرچ وارنٹ ہیں، تو شوق سے تلاشی لیجیے، ہماری حویلی میں کوئی اللہ دتا نہیں ہے!”
ایس پی رانا حیدر نے رینجرز کے جوانوں کو اشارہ کیا، اور بیس سے زائد جوان حویلی کے اندر داخل ہو گئے۔ صلاح الدین، عثمان اور افتخار احمد بھی تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ حویلی کے صحن اور اصطبل کی طرف بڑھے۔
بانو، جو اصطبل کے کمرے میں بند تھی، اس نے جیسے ہی باہر صلاح الدین کی آواز سنی، اس نے لوہے کے دروازے پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔ منشی نے جیسے ہی دروازہ کھولا، بانو دوڑتی ہوئی صحن کی طرف آئی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ صلاح الدین کے پاس پہنچتی، سارنگ شاہ کے گارڈز نے اسے روک لیا۔
“سائیں صلاح الدین۔۔۔!!!” بانو نے صلاح الدین کو خون آلود لباس میں دیکھ کر ایک گہری چیخ ماری، “آپ اس حالت میں یہاں کیوں آئے سائیں؟ آپ کا تو خون بہ رہا ہے!”
صلاح الدین بانو کی طرف بڑھا، “بانو! ڈرو مت، قانون تمہارے ساتھ ہے. بتاؤ رانا صاحب کو، تمہارا ابا کہاں ہے؟”
بانو نے روتے ہوئے اصطبل کے اس ستون کی طرف اشارہ کیا جہاں رات اللہ دتا بندھا تھا، “رانا صاحب! میرے ابا سائیں اسی ستون سے بندھے تھے، وڈیرے سارنگ شاہ نے ان پر کوڑے برسائے ہیں!”
پولیس اور رینجرز کے جوانوں نے جب اس ستون کا معائنہ کیا، تو وہاں صرف خالی لوہے کی زنجیریں پڑی تھیں، اللہ دتا کا وہاں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا! شاہینہ بیگم نے پہلے ہی اسے حویلی کے اس خفیہ زیرِ زمین کچے تہہ خانے میں منتقل کر دیا تھا جس کا راستہ حویلی کی پچھلی کچی دیوار کے نیچے ایک پرانی بوری کے پیچھے چھپا تھا، اور پولیس کا یہ بھاری قانونی چھاپہ بالکل ناکام ہو چکا تھا!
شاہینہ بیگم نے ایک زوردار قہقہہ لگایا، “دیکھ لیا رانا صاحب؟ اس لڑکی کا دماغ خراب ہو چکا ہے، اور یہ شہری وکیل اپنے سیاسی فائدے کے لیے میری حویلی کو بدنام کر رہا ہے. افتخار احمد صاحب! اپنے اس دیوانے بیٹے کو یہاں سے لے جائیں، ورنہ کل صبح عدالت میں یہ لڑکی خود آپ کے بیٹے کے خلاف بیان دے گی کہ اس نے اسے اغوا کیا تھا!”
صلاح الدین نے شاہینہ بیگم کی اس مکاری پر اپنے دانت بھینچ لیے، اس کے پیٹ سے خون کا ایک اور قطرہ نکل کر ریت پر گرا۔ کہانی اب ایک ایسے اعصاب شکن موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں حویلی کا مکر جیت چکا تھا اور قانون کے ہاتھ خالی رہ گئے تھے!
حویلی کے وسیع و عریض سفید سنگِ مرمر کے صحن پر چھائی ہوئی خاموشی اس وقت قانون کے منہ پر ایک طمانچہ بن کر گونج رہی تھی۔ رینجرز کے کمانڈو اور پولیس اہلکار اصطبل کا ایک ایک کونا چھان مارنے کے بعد مایوس ہو کر واپس صحن میں جمع ہو چکے تھے۔ اللہ دتا کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا کیونکہ وہ حویلی کے اس تاریک، زیرِ زمین کچے تہہ خانے میں لوہے کی وزنی زنجیروں کے ساتھ سسک رہا تھا، جس کا خفیہ دہانہ حویلی کے باورچی خانے کے پیچھے ایک بھاری اناج کی بوری کے نیچے دبا ہوا تھا۔
شاہینہ بیگم نے اپنی ریشمی چادر کے پلو کو انگلی پر لپیٹا اور تضحیک آمیز انداز میں مسکرائیں۔ “کیا ہوا رانا صاحب؟ آپ کی فورس کو ہماری حویلی میں مزارعوں کا وہ بوڑھا باپ تو نہیں ملا؟ اب بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنے ان سفید پوش سیاستدان اور ان کے نیم مردہ وکیل بیٹے کو یہاں سے لے جائیں، ورنہ اگر میں نے ہائی کورٹ میں اس غیر قانونی چھاپے کے خلاف رٹ دائر کر دی تو آپ سب کی نوکریاں خطرے میں پڑ جائیں گی!”
ایس پی رانا حیدر نے جھک کر افتخار احمد کے کان میں کہا، “سر! ہمارے پاس سرچ وارنٹ صرف اصطبل اور رہائشی کمروں کے تھے۔ اگر ہم نے زبردستی حویلی کی دیواریں توڑیں، تو میڈیا پر جاگیرداروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا سیاسی طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ ہمارے ہاتھ قانوناً بندھے ہوئے ہیں۔”
صلاح الدین، جو عثمان کے کندھے پر پورا وزن ڈالے کھڑا تھا، اس کا سانس اس وقت تپتے ہوئے صحرا کی لو کی طرح چل رہا تھا۔ اس نے اپنے پیٹ کے زخم سے بہتے ہوئے تازہ خون کو دیکھا جو اب اس کے بوٹوں تک آ پہنچا تھا، لیکن اس کی نظریں سامنے کھڑی بانو پر جمی ہوئی تھیں، جسے حویلی کے دو گارڈز نے بازوؤں سے جکڑ رکھا تھا۔ بانو کی آنکھیں التجا کر رہی تھیں کہ وہ یہاں سے چلا جائے، کیونکہ وہ اپنے محسن کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
“صلاح الدین بھائی! چلیے یہاں سے، آپ کا خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے،” عثمان نے روتے ہوئے صلاح الدین کو گاڑی کی طرف گھسیٹنے کی کوشش کی۔
صلاح الدین نے آخری بار سارنگ شاہ اور کامران احمد کے چہرے کو دیکھا۔ کامران کی عینک کے پیچھے چھپی مکار آنکھیں اس وقت اپنی فتح کا جشن منا رہی تھیں۔ صلاح الدین نے اپنے خون آلود ہونٹوں کو سختی سے بھینچا اور دھیمی، مگر کاٹ دار آواز میں بولا، “شاہینہ بیگم! سارنگ شاہ! قانون کی آنکھوں پر پٹی ضرور بندھی ہوتی ہے، لیکن اس کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں۔ تم نے بوڑھے اللہ دتا کو چھپا کر اج کی بازی ضرور جیت لی ہے، لیکن یاد رکھنا۔۔۔ یہ وکیل اس حویلی کے اندر انصاف لا کر رہے گا، چاہے مجھے اپنی آخری سانس ہی کیوں نہ داؤ پر لگانی پڑے۔”
افتخار احمد نے بوجھل دل کے ساتھ رینجرز کو واپسی کا اشارہ کیا، اور پولیس کا وہ بھاری بھرکم دستہ بانو کی سسکیوں اور حویلی کے وڈیروں کے قہقہوں کے درمیان خالی ہاتھ حویلی کے کالے پھٹک سے باہر نکل گیا۔ صلاح الدین کو دوبارہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا گیا، جہاں عثمان نے فوری طور پر ہسپتال کے ڈاکٹر کو وائرلیس پر الرٹ کیا تاکہ ڈیرے پر ہی اس کی ایمرجنسی جراحی کی جا سکے۔
لیکن کھیل کا دوسرا اور ہولناک رخ ابھی بہاولپور شہر میں کھلنا باقی تھا، جہاں کامران احمد کا کالا مکر پہلے ہی اپنا جال پھیلا چکا تھا۔
جیسے ہی پولیس کا قافلہ حویلی سے دور ہوا، کامران احمد نے چوری چھپے حویلی کے پچھلے دروازے سے نکل کر اپنے بہاولپور کے خاص کارندے، شیدے بدمعاش کو فون ملایا۔ “شیدے! چولستان میں پولیس ناکام ہو چکی ہے۔ اب تمہارا کام شروع ہوتا ہے۔ افتخار احمد اور عثمان اس وقت چولستان کے صحرا میں پھنسے ہوئے ہیں. بہاولپور شہر بالکل خالی ہے. فوراً اپنے سو لڑکے نکالو! افتخار احمد کے مرکزی سیاسی سیکریٹریٹ، ان کی شوگر ملز کے دفاتر اور شہر کے مصروف ترین چوک پر دھاوا بول دو! ٹائروں کو آگ لگاؤ، دکانیں بند کرواؤ اور میڈیا پر یہ خبر پھیلا دو کہ افتخار احمد کے بیٹے صلاح الدین نے چولستان کے وڈیروں کی ایک معصوم مزارع لڑکی کو زبردستی اغوا کر رکھا ہے اور شہر میں جاگیرداروں کے خلاف فسادات کروا رہا ہے!”
کامران احمد کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ “ایسا ہنگامہ کھڑا کرو کہ حکومت مجبور ہو کر چولستان سے رینجرز کو واپس شہر بلوا لے، اور چچا افتخار احمد کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے!”
ٹھیک دو گھنٹے بعد، جب سورج چولستان کے سر پر آ چکا تھا، بہاولپور شہر اچانک ایک ہولناک جنگ کا میدان بن گیا۔ کامران احمد کے تنخواہ دار غنڈوں نے کالی پٹیاں باندھے شہر کے مرکزی فوارہ چوک پر دھاوا بول دیا۔ دکانوں پر پتھراؤ کیا گیا، افتخار احمد کے بڑے بڑے سیاسی بینرز کو آگ لگا دی گئی، اور ہوا میں فائرنگ کر کے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا۔
شہر کے مقامی ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز چلنے لگی:
“بہاولپور میں شدید ہنگامے اور فائرنگ! معروف سیاستدان افتخار احمد کے سیکریٹریٹ پر مشتعل ہجوم کا حملہ! الزامات کے مطابق افتخار احمد کے وکیل بیٹے صلاح الدین نے چولستان کی ایک لڑکی کو اغوا کر کے جاگیرداروں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ شہر کی تاجر برادری نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا، ضلعی انتظامیہ نے رینجرز کو شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے طلب کر لیا!”
چولستان کے مزارعوں کے ڈیرے پر، جہاں ڈاکٹر صلاح الدین کے پیٹ پر دوبارہ ٹانکے لگا رہا تھا اور صلاح الدین بغیر اینستھیزیا کے درد سے تڑپ رہا تھا، عثمان کی نظر جیسے ہی موبائل پر چلنے والی اس بریکنگ نیوز پر پڑی، اس کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر مٹی پر گر پڑا۔
“ابا سائیں! غضب ہو گیا!” عثمان نے ٹی وی کی اسکرین اپنے والد کے سامنے کرتے ہوئے چیخ کر کہا، “شہر میں ہمارے خلاف فسادات شروع ہو گئے ہیں! ہماری شوگر ملز کو آگ لگا دی گئی ہے اور میڈیا پر صلاح الدین بھائی کو ایک اغوا کار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے! ہوم منسٹری کا حکم آیا ہے کہ چولستان میں تعینات رینجرز کی نفری کو فوری طور پر واپس شہر بھیجا جائے!”
افتخار احمد نے صدمے سے اپنے سر کو پکڑ لیا۔ ان کی چالیس سالہ سفید پوش سیاست پر اج ان کا اپنا ہی خون، ان کا سگا بھتیجا کامران احمد پیٹھ پیچھے خنجر گھونپ چکا تھا، اور وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے۔ “یہ شاہینہ بیگم کی چال ہے عثمان! وہ ہماری توجہ چولستان سے ہٹانا چاہتی ہے تاکہ ہم بانو اور اس کے باپ کو بھول کر شہر بھاگ جائیں!”
صلاح الدین نے، جس کے پیٹ پر ابھی تازہ سفید پٹی باندھی گئی تھی، نقاہت سے اپنے سر کو اٹھایا۔ اس کے منہ سے خون اور پسینے کا مکسچر بہہ رہا تھا، لیکن اس کی آنکھیں کسی زخمی شیر کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس نے عثمان کا ہاتھ پکڑا۔ “نہیں۔۔۔ ابا سائیں، آپ اور عثمان فوراً شہر نکلیں. شہر کے لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے، اور کامران۔۔۔ کامران کا مکر وہاں زیادہ دیر نہیں چلے گا.”
“لیکن صلاح الدین، تم اس حالت میں یہاں اکیلے؟” افتخار احمد نے تڑپ کر پوچھا۔
“میں اکیلا نہیں ہوں ابا سائیں۔۔۔ میرے ساتھ چولستان کی یہ غیور مٹی اور بابا رحیمو کے جوان ہیں،” صلاح الدین نے ہانپتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں ایک ہولناک سسپنس کا کالا بادل چھا رہا تھا، “شاہینہ بیگم سمجھتی ہے کہ وہ شہر میں ہنگامے کروا کے رینجرز کو واپس بلا لے گی اور جیت جائے گی. لیکن وہ یہ بھول رہی ہے کہ جب قانون کے راستے بند ہو جائیں، تو انصاف کے لیے رات کے اندھیرے کا سہارا لینا پڑتا ہے. آپ شہر سنبھالیں ابا سائیں۔۔۔ چولستان کی اس حویلی کا حساب یہ وکیل اب اپنی لائف کی سب سے بڑی بازی لگا کر اکیلے ہی کرے گا!”

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 13