صحرا پر دوپہر کا سورج اج کسی جلتے ہوئے تندور کی طرح آگ برسا رہا تھا، اور “جھگیاں چولستان” کی کچی بستی کے اوپر اڑتی ہوئی پیلی ریت فضا میں کسی اداسی کا کفن تان رہی تھی۔ حویلی کا وہ مہیب، کالا لوہے کا پھٹک اس وقت کسی جلاد کی طرح چوڑا ہو کر کھلا تھا، جس کے اندر بانو اپنے ستر سالہ بوڑھے باپ، اللہ دتا کے لرزتے ہوئے اور خون آلود وجود سے لپٹی رو رہی تھی۔
اصطبل کی کچی مٹی اور گھوڑوں کے چارے کی بو کے درمیان، بانو کی سسکیاں فضا کو چیر رہی تھیں۔ سارنگ شاہ کے چمڑے کے کوڑے نے بوڑھے اللہ دتا کی ضعیف پیٹھ پر جو نیلے اور سرخ نشان چھوڑے تھے، ان سے رستا ہوا خون بانو کے ہاتھوں پر لگ چکا تھا۔ وہی ہاتھ، جو ابھی کچھ گھنٹے پہلے بہاولپور کے ہسپتال میں صلاح الدین کے خون سے رنگے تھے، اج ایک مجبور بیٹی بن کر اپنے بوڑھے باپ کے زخموں کو چھپا رہے تھے۔
“بس کر دو وڈیرے سائیں! اللہ کارن بس کر دو۔۔۔” بانو نے اپنے دونوں ہاتھ سارنگ شاہ کے بھاری بوٹوں کے سامنے جوڑ دیے۔ اس کی روایتی گلابی چادر، جو اب جگہ جگہ سے مٹی اور انسوؤں سے اٹی ہوئی تھی، اس کے سر سے ڈھلک کر اس کے شانوں پر آ چکی تھی، لیکن اس وقت اس کی حیا اپنے باپ کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ “میں نے کہہ دیا ہے نا سائیں۔۔۔ میں ہار گئی! میں کل صبح بہاولپور کی عدالت میں جج کے سامنے وہی کہوں گی جو شاہینہ بیگم چاہتی ہیں۔ میں کہہ دوں گی کہ صلاح الدین وکیل جھوٹا ہے، اس نے مجھے زبردستی شہر میں قید کر رکھا تھا! میں اپنے محسن کو گناہگار بنا دوں گی سائیں، بس میرے بوڑھے ابا پر یہ کوڑا دوبارہ مت اٹھانا!”
شاہینہ بیگم، جو اصطبل کے دہانے پر اپنے ریشمی لباس کو مٹی سے بچاتی ہوئی دور کھڑی تھیں، انہوں نے اپنی سونے کی چھڑی کو زمین پر ٹھونکا۔ ان کے مکار چہرے پر ایک زہریلی، فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ “سارنگ! بس کرو۔ اس مزارع کی بیٹی کو اب سمجھ آ گئی ہے کہ چولستان کی مٹی سے بھاگنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بانو لڑکی! یاد رکھنا، اگر کل عدالت میں تیرے بیان کا ایک لفظ بھی بدلا، تو ادھر جج کا ہتھوڑا بجے گا اور ادھر حویلی کے اصطبل میں تیرے باپ کا گلا کاٹ دیا جائے گا!”
اللہ دتا نے، جس کا سر لوہے کے ستون سے ٹکا ہوا تھا، بڑی مشکل سے اپنی لرزتی ہوئی آنکھیں کھولیں۔ اس کے خشک، پیاسے ہونٹوں سے سرائیکی کے درد میں ڈوبی آواز نکلی، “نہیں۔۔۔ نہیں بانو دھیے! ایسا پاپ مت کرنا میری دھی! اس شہری وکیل سائیں نے اپنی جان پر کھیل کر تیری چادر بچائی ہے. تو اپنے باپ کے اس فانی وجود کے لیے اس سچے انسان کی پاک دامن وکالت پر جھوٹ کا داغ مت لگانا دھیے! مجھے مر جانے دے، لیکن چولستان کے ان جلادوں کے آگے اپنے ایمان کا سودا مت کر!”
“چپ کر بوڑھے مزارع!” سارنگ شاہ نے دانت پیستے ہوئے اللہ دتا کے سینے پر اپنے بوٹ کا دباؤ بڑھایا، جس سے بوڑھے کے حلق سے ایک گہری کراہ نکلی۔ بانو نے تڑپ کر سارنگ شاہ کا پیر پکڑ لیا، “ابا سائیں، چپ کر جائیں خدا کے لیے! مجھے آپ کی زندگی چاہیے ابا، مجھے کچھ نہیں چاہیے!”
شاہینہ بیگم نے منشی کی طرف دیکھا، “منشی! اس لڑکی کو اسی اصطبل کے پچھلے اندھیرے کمرے میں بند کر دو، اور کل فجر کے وقت اسے ہماری کالی گاڑی میں سخت پہرے کے ساتھ بہاولپور کی عدالت لے جانے کی تیاری کرو. اور اس بوڑھے کو یہیں بھوکا پیاسا بندھا رہنے دو، جب تک عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آ جاتا!”
حویلی کے دو مسلح غنڈوں نے بانو کو بازو سے پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے اصطبل کے اس چھوٹے، تاریک کمرے کی طرف لے جانے لگے جہاں لوہے کا بھاری دروازہ تھا۔ بانو کا ہاتھ اپنے باپ کے ہاتھ سے چھوٹا، تو زنجیروں کی جھنکار کوریڈور میں کسی ماتم کی طرح گونجی۔ “ابا سائیں۔۔۔ ابا!!!” بانو کی آخری چیخ کے ساتھ ہی لوہے کا بھاری دروازہ ایک زوردار دھماکے سے بند ہو گیا اور باہر سے بڑا تالا لٹکا دیا گیا۔ بانو نے اندھیرے کمرے کے اندر جا کر اپنے سر کو دروازے سے ٹکا دیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زار و قطار رونے لگی۔ اس کے پاس اب نہ مصلّہ تھا، نہ روشنی، صرف اپنے باپ کی تسبیح تھی جسے وہ اپنے سینے سے لگا کر اللہ کو پکار رہی تھی۔
دوسری طرف، چولستان کی اسی تپتی ہوئی، دھول اڑاتی کچی سڑک پر، عثمان کی گاڑی دیوانہ وار حویلی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ گاڑی کے ٹائر جب ریت میں دھنستے، تو عثمان اسٹیئرنگ پر ہاتھ مار کر ایکسلریٹر کو مزید دبا دیتا۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر، صلاح الدین نیم بے ہوشی اور ہوش کے مابین ایک ایسی جنگ لڑ رہا تھا جو اس کے جسم کے زخموں سے کہیں زیادہ ہولناک تھی۔ اس کا سفید ہسپتال کا لباس اب پیٹ کے مقام سے پوری طرح گہرے سرخ خون میں ڈوب چکا تھا۔ خون کی یہ سرخی اس کی نشست پر بھی پھیل رہی تھی۔ اس کے ماتھے پر تپتے ہوئے صحرا کی دھوپ اور بخار کی شدت کی وجہ سے پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ درد جب حد سے بڑھتا، تو اس کی مٹھیاں بھیچ جاتیں اور اس کے منہ سے ایک دھیمی کراہ نکلتی، لیکن اگلی ہی پل بانو کا وہ روتا ہوا معصوم چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا جو ہسپتال میں اس کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی۔
“عثمان۔۔۔ گاڑی تیز کرو عثمان! ہمارے پاس وقت نہیں ہے،” صلاح الدین کی آواز اس کے حلق میں سوکھی مٹی کی طرح پھنس رہی تھی، لیکن اس کا لہجہ اب بھی ایک غیور وکیل کا فولادی لہجہ تھا۔
“صلاح الدین بھائی! میں پوری رفتار سے چل رہا ہوں، لیکن آپ کا خون نہیں رک رہا!” عثمان نے آئینے میں اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر روتے ہوئے کہا، “اگر ہم حویلی کے پھٹک پر اس حالت میں پہنچے، تو سارنگ شاہ کے گارڈز ہمیں اندر نہیں جانے دیں گے اور نہ ہی ہمارے پاس اس وقت پولیس کی نفری ہے. ابا سائیں (افتخار احمد) پیچھے گارڈز کے قافلے کے ساتھ آ رہے ہیں، لیکن انہیں پہنچنے میں ابھی ایک گھنٹہ لگے گا!”
“نہیں۔۔۔ ہم حویلی کے مین گیٹ پر نہیں جائیں گے،” صلاح الدین نے اپنی لال، سوجی ہوئی آنکھیں کھولیں اور سیدھا بیٹھنے کی کوشش کی، جس سے اس کے پیٹ میں خنجر کے پرانے زخم نے ایک بار پھر شدید ٹیس ماری۔ اس نے اپنے دانتوں تلے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا لیا یہاں تک کہ وہاں سے بھی خون نکل آیا۔ “عثمان! گاڑی کو حویلی کے بجائے سیدھا ‘جھگیاں چولستان’ کے مزارعوں کے کچے ڈیروں کی طرف موڑ دو!”
“مزارعوں کے ڈیرے پر؟ لیکن کیوں بھائی؟” عثمان نے حیرت سے پوچھا۔
“کیونکہ بانو ان مزارعوں کی دھی (بیٹی) ہے،” صلاح الدین نے ہانپتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں میں قانون اور غیرت کی ایک نئی روشنی چمک رہی تھی، “شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بندوقوں کے زور پر قانون کو خرید لیں گے. لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ چولستان کی یہ مٹی ان جاگیرداروں کی جاگیر نہیں ہے، یہ ان غریب مزارعوں کی ہے جن کا خون چوس کر یہ حویلی کھڑی کی گئی ہے. بانو اکیلی نہیں ہے، بانو کے پیچھے اس کے پورے قبیلے کی غیرت ہے. ہمیں مزارعوں کے پاس جانا ہوگا، کیونکہ حویلی کا کالا قلعہ اب اندر سے ہی ٹوٹے گا!”
عثمان نے ایک گہرا سانس لیا اور گاڑی کا رخ حویلی کے بڑے راستے سے موڑ کر ان کچے مٹی کے گھروں کی طرف کر دیا جہاں جھگیاں چولستان کے غریب، مظلوم مزارع کلہاڑیاں اور لاٹھیاں لیے، اپنے کچے آنگنوں میں بیٹھے حویلی کی طرف اٹھنے والے طوفان کو دیکھ رہے تھے۔ صلاح الدین نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا، جہاں سے خون مسلسل بہہ رہا تھا، اور اس نے اپنے دل میں عہد کیا کہ وہ اس بار چولستان کی اس تپتی ریت پر انصاف کا وہ پرچم گاڑے گا جسے حویلی کا کوئی بھی بدمعاش کبھی اکھاڑ نہیں پائے گا!
“جھگیاں چولستان” کے کچے، مٹیالے ڈیروں پر اس وقت ہو کا عالم تھا۔ غریب مزارع، جن کے چہروں پر تپتی دھوپ اور حویلی کے ظلم کی گہری جھریاں تھیں، اپنے کچے آنگنوں میں خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے دلوں میں امجد کی موت کا دکھ اور بوڑھے اللہ دتا کا اغوا ایک سلگتا ہوا کوئلہ بن کر دہک رہا تھا، لیکن حویلی کی بندوقوں کا خوف ان کی زبانوں پر تالے لگا چکا تھا۔
عین اسی وقت، ریت کا ایک بڑا طوفان اڑاتی ہوئی عثمان کی گاڑی ایک زوردار بریک کے ساتھ مزارعوں کے مرکزی ڈیرے کے سامنے آ کر رکی۔ کچے گھروں سے عورتیں، بچے اور بوڑھے مرد باہر نکل آئے۔ جیسے ہی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا، وہاں کا منظر دیکھ کر مزارعوں کے حلق سے چیخیں نکل گئیں!
صلاح الدین، جو ہسپتال کے سفید لباس میں ملبوس تھا، اب اس کا وہ لباس کہیں سے بھی سفید نہیں رہا تھا۔ اس کے پیٹ کے زخم سے بہنے والے خون نے پورے کرتے اور نشست کو گہرے سرخ رنگ میں رنگ دیا تھا۔ اس کا چہرہ درد کی شدت سے بالکل زرد ہو چکا تھا، ہونٹ سوکھ کر پاپڑی بن چکے تھے اور آنکھیں نیم وا تھیں۔ جیسے ہی اس نے گاڑی سے باہر پیر رکھنے کی کوشش کی، اس کے کمزور اور زخموں سے چور وجود نے جواب دے دیا اور وہ ایک گہری کراہ کے ساتھ چولستان کی تپتی ہوئی ریت پر گھٹنوں کے بل گر پڑا!
“صلاح الدین بھائی۔۔۔!!!” عثمان پاگلوں کی طرح چیختا ہوا گاڑی سے اترا اور اس نے صلاح الدین کے گرتے ہوئے وجود کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن صلاح الدین نے اپنا لرزتا ہوا، خون آلود ہاتھ فضا میں اٹھا کر عثمان کو روک دیا۔
“نہیں عثمان۔۔۔ مجھے مت اٹھاؤ۔ مجھے اسی چولستان کی مٹی پر کھڑے ہونا ہے،” صلاح الدین کی آواز میں اگرچہ نقاہت تھی، لیکن اس کے لہجے کا وہ وکیل والا جلال برقرار تھا جس کے سامنے عدالتیں کانپتی تھیں۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ریت پر ٹیکے اور تڑپ کر، اپنے پیٹ کے زخم پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ سیدھا کھڑا ہوا۔ اس کے پیٹ سے خون کا ایک نیا فوارہ ابل پڑا، لیکن اس کی عقابی آنکھیں سامنے کھڑے مزارعوں کے ہجوم پر جم گئیں۔
مزارعوں کے بزرگ، بابا رحیمو نے جب اس شہر کے نامور، غیور وکیل کو اپنی مٹی پر اپنے ہی خون میں لت پت کھڑے دیکھا، تو اس کی لاٹھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ “سائیں۔۔۔ وکیل سائیں! یہ کیا حال بنا رکھا ہے آپ نے اپنا؟ آپ ہسپتال سے اس حالت میں یہاں کیوں آئے ہیں؟”
صلاح الدین نے ہانپتے ہوئے، اپنے منہ پر آیا ہوا خون کا قطرہ صاف کیا اور بابا رحیمو کے پاس جا کر اس کے کھردرے، بوڑھے ہاتھوں کو اپنے خون آلود ہاتھوں میں لے لیا۔ “بابا رحیمو! میں یہاں اپنے لیے نہیں آیا۔ میں یہاں چولستان کے اس مان کے لیے آیا ہوں جسے اج حویلی کے جلادوں نے زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ بانو۔۔۔ بانو اپنے باپ اللہ دتا کی زندگی کی بھیک مانگنے اکیلی اس حویلی کے اندر جا چکی ہے! اور شاہینہ بیگم نے اسے مجبور کیا ہے کہ وہ کل عدالت میں کھڑے ہو کر اپنے اس محسن کے خلاف جھوٹا بیان دے جس نے اس کی حیا کی خاطر اپنا خون بہایا ہے!”
مزارعوں کے ہجوم میں ایک لرزش دوڑ گئی۔ عورتوں نے اپنی چادروں کے پلو اپنے منہ میں دبا لیے تاکہ ان کی سسکیاں باہر نہ نکلیں۔
“دیکھو چولستان کے غیور مزارعوں!” صلاح الدین کی آواز اب کچے ڈیروں کے در و دیوار سے ٹکرانے لگی، “امجد مر گیا، تم خاموش رہے! اللہ دتا کو زنجیروں سے باندھ کر کوڑے مارے گئے، تم خاموش رہے! اج بانو کی چادر اور اس کی عزت کو حویلی کی لونڈی بنانے کی شرط رکھی گئی ہے، کیا تم اب بھی خاموش رہو گے؟ اگر اج تم اپنی بیٹی کی خاطر، اپنے اس بوڑھے بھائی کی خاطر کھڑے نہ ہوئے، تو یاد رکھنا۔۔۔ چولستان کی یہ تپتی ریت تمہاری غیرت کا جنازہ پڑھا دے گی! قانون حویلی کی دیواروں کے باہر کھڑا ہے، لیکن حویلی کے اندر انصاف لانا اب تمہارا کام ہے۔ بولو! کیا تم اپنی دھی کو ان بھیڑیوں کے آگے ہار دو گے؟”
صلاح الدین کے یہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ غیرت کے وہ تازیانے تھے جنہوں نے مزارعوں کے مرے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بابا رحیمو کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس نے جھک کر اپنی لاٹھی اٹھائی اور اسے ہوا میں لہرایا۔ “نہیں۔۔۔ خدا کی قسم، اب ایسا نہیں ہوگا! وکیل سائیں نے ہمارے لیے اپنا خون بہایا ہے، اب ہم اپنی دھی بانو کو ان جاگیرداروں کی لونڈی نہیں بننے دیں گے! اٹھو جوانوں! اپنی کلہاڑیاں اور لاٹھیاں اٹھاؤ، اج حویلی کا غرور خاک میں ملانے کا وقت آ گیا ہے!”
ایک ہی لمحے میں پورے ڈیرے پر “اللہ اکبر” کے نعرے گونج اٹھے۔ سو سے زائد غیور مزارع، جن کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں، درانتیاں اور لاٹھیاں تھیں، صلاح الدین کے پیچھے ایک فولادی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ صلاح الدین نے عثمان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی، “عثمان! ابا سائیں کے قافلے کو فون کرو، انہیں کہو کہ وہ حویلی کے پچھلے راستے کا گھیراؤ کریں، بغاوت کا آغاز ہو چکا ہے!”
دوسری طرف، اسی وقت حویلی کے وڈے کمرے میں، جہاں ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، سارنگ شاہ اپنے سر کی پٹی کو درست کرتا ہوا ریشمی صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے حویلی کا پچھلا خفیہ دروازہ کھلا اور وہاں سے کالی چادر اوڑھے ایک شخص اندر داخل ہوا۔ جیسے ہی اس نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی، سارنگ شاہ کے لبوں پر ایک خبیثانہ مسکراہٹ ابھری۔
وہ شخص کوئی اور نہیں، بلکہ صلاح الدین کا اپنا سگا چچا زاد بھائی، کامران احمد تھا! اس کے چہرے پر اس وقت حسد، لالچ اور مکاری کے بھیانک تاثرات تھے۔
“آؤ کامران احمد! آؤ۔۔۔ ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا،” سارنگ شاہ نے شراب کا گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا، “بڑا وقت لگایا تم نے بہاولپور سے یہاں پہنچنے میں؟”
کامران احمد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنی عینک درست کی اور نفرت بھرے لہجے میں بولا، “وڈیرے سارنگ شاہ! ہسپتال میں افتخار احمد اور عثمان نے اتنی سخت سیکیورٹی لگا رکھی تھی کہ مجھے نکلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا. لیکن میں آپ کو ایک ایسی خبر دینے آیا ہوں جو آپ کے ہوش اڑا دے گی!”
“کیسی خبر؟” سارنگ شاہ نے چونک کر پوچھا۔
“صلاح الدین ہسپتال سے بھاگ چکا ہے!” کامران نے سنسنی خیز انکشاف کیا، “وہ اپنے پیٹ کے کچے ٹانکوں کے ساتھ، اسی حالت میں عثمان کو لے کر چولستان کی طرف نکل چکا ہے۔ وہ بانو کو بچانے کے لیے سیدھا آپ کی حویلی آ رہا ہے، اور اس کے پیچھے چچا افتخار احمد اپنی پوری لائسنس یافتہ گارڈز کی نفری اور پولیس لے کر آ رہے ہیں!”
سارنگ شاہ غصے سے کھڑا ہو گیا، اس کا چہرہ خوف اور غیظ و غضب سے کالا پڑ گیا۔ “کیا؟ وہ مرتا ہوا وکیل چولستان آ رہا ہے؟ اس کی اتنی ہمت؟”
“وڈیرے سائیں! غصہ مت کریں، دماغ سے کام لیں،” کامران کے لبوں پر ایک ہولناک مسکراہٹ ابھری، “صلاح الدین کا یہاں آنا آپ کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ دنیا کا سب سے بڑا موقع ہے! وہ اس وقت شدید زخمی ہے، اس کا خون بہ رہا ہے۔ اگر وہ یہاں پہنچتا ہے، تو آپ حویلی کے گارڈز کے ذریعے اسے یہیں چولستان کی ریت میں ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتے ہیں! پولیس اور افتخار احمد کے پہنچنے سے پہلے کہانی ختم ہو جائے گی۔ بعد میں ہم عدالت میں بانو کے اسی جھوٹے بیان کے ذریعے یہ ثابت کر دیں گے کہ صلاح الدین بانو کو اغوا کرنے یہاں آیا تھا اور مزارعوں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا! اس طرح صلاح الدین کا نام بھی مٹ جائے گا، بانو بھی آپ کی لونڈی بن جائے گی، اور افتخار احمد کی خاندانی جائیداد کا اکلوتا وارث میں، یعنی کامران احمد بن جاؤں گا!”
سارنگ شاہ نے کامران احمد کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور ایک ہولناک قہقہہ لگایا۔ “واہ کامران احمد واہ! تم نے تو میرے دل کی بات چھین لی۔ شاہینہ بیگم کو بلاؤ! اج چولستان کی اس مٹی پر قانون کے اس رکھوالے کا وہ حشر ہوگا کہ آنے والی نسلیں بھی چولستان کا نام سن کر کانپ اٹھیں گی!”