چولستان کے لامتناہی صحرا پر رات کا سیاہ، کالا کفن اب پوری طرح پھیل چکا تھا۔ ہواؤں میں ایک عجیب سی خنکی، سنسناہٹ اور مہیب خاموشی تھی، جیسے ریت کا ایک ایک ذرہ کسی ہولناک معرکے کی گواہی دینے کے لیے اپنا سانس روکے کھڑا ہو۔ بہاولپور کی پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں شہر کے ہنگاموں اور فسادات کو سنبھالنے کے لیے چولستان کی حد سے نکل چکی تھیں، اور اب “جھگیاں چولستان” کے کچے مٹی کے ڈیرے بالکل اکیلے، بے یار و مددگار حویلی کے خونخوار جاگیرداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے تھے۔
ڈیرے کے کچے دالان کے اندر، مٹی کے ایک پرانے چولہے کے پاس بابا رحیمو اور عثمان خاموشی سے کھڑے صلاح الدین کو دیکھ رہے تھے، جس کے پیٹ پر بندھی سفید میڈیکل پٹی سے خون ایک بار پھر رس کر باہر آ رہا تھا۔ تیز ترین بخار کی وجہ سے صلاح الدین کا گورا چہرہ بالکل تندور کی طرح تپ رہا تھا، اس کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں، اور ہونٹ بالکل سفید پڑ چکے تھے، لیکن اس کے لبوں پر اب بھی مدہم سی لرزش واضح دیکھی جا سکتی تھی۔
“صلاح الدین بھائی! خدا کے لیے میری بات مانیں، ابا سائیں شہر پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں حالات قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. آپ اس حالت میں اکیلے حویلی کی طرف نہیں جا سکتے، آپ کے پیٹ کے سارے ٹانکے ابھی کچے ہیں اور خون مسلسل بہ رہا ہے!” عثمان نے روتے ہوئے صلاح الدین کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر منت کی، اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر مٹی پر گر رہے تھے۔
صلاح الدین نے بڑی مشکل سے اپنے بھاری، لال پپوٹے اٹھائے اور اپنی جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں۔ اس کی نظروں میں اس وقت کوئی وکیل یا قانون کا رکھوالا نہیں، بلکہ ایک ایسا سچا عاشق تھا جس نے اپنی محبت، اپنی بانو اور اس کی حیا کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا سودا کر لیا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کا وزن چارپائی پر ڈالا اور بڑی تکلیف سے اپنے جسم کو بستر سے اٹھایا۔ جیسے ہی وہ سیدھا ہوا، پیٹ کے کچے زخم نے ایک بار پھر خنجر کی طرح اس کے پورے وجود میں ٹیس ماری، اس کے ماتھے پر پسینے کی دھاریں بہہ نکلیں، لیکن اس نے اپنے دانتوں تلے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا کر درد کی اس ہولناک چیخ کو حلق میں ہی دفن کر دیا۔
“عثمان۔۔۔ میری بات غور سے سنو،” صلاح الدین کی آواز اگرچہ دھیمی تھی لیکن اس میں وہی پرانی فولادی سخت گیری موجود تھی، “قانون جب جاگیرداروں کے مکر، پیسے اور طاقت کے آگے بے بس ہو جائے، تو پھر انصاف کا ترازو اپنے ہاتھ میں لینا پڑتا ہے. شاہینہ بیگم نے بوڑھے اللہ دتا کو حویلی کے کسی ایسے اندھیرے کونے میں چھپایا ہے جہاں پولیس کے عام سرچ وارنٹ نہیں پہنچ سکے. بانو اس وقت اصطبل کے اس گندے اور تاریک کمرے میں اپنے ایمان اور حیا کی بازی ہارنے پر مجبور کی جا رہی ہے. اگر میں اج رات اس حویلی کی دیواریں پار نہ کر سکا عثمان، تو کل صبح عدالت کے کٹہرے میں جھوٹ جیت جائے گا اور سچ ہمیشہ کے لیے چولستان کی اس تپتی ریت میں دفن ہو جائے گا! میں جیتے جی بانو کو جاگیرداروں کے پیروں تلے کچلے جاتے نہیں دیکھ سکتا.”
بابا رحیمو ایک قدم آگے بڑھا، اس کی بوڑھی آنکھوں میں عزم اور غصے کی مشترکہ چمک تھی، “وکیل سائیں! میں آپ کو اس حالت میں اکیلے موت کے کنویں میں نہیں جانے دوں گا. حویلی کے پچھلے حصے میں جہاں پرانا اصطبل بنا ہے، وہاں ایک کچی مٹی کی دیوار ہے جو باہر ریت کے اونچے ٹیلوں کی طرف کھلتی ہے. وہاں شاہینہ بیگم کے مسلح گارڈز کا پہرہ بہت کم ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کچے راستے سے اندر داخل ہونے کی کوئی ہمت نہیں کرے گا. میں اپنے دس کڑیل جوانوں کے ساتھ، کلہاڑیاں لے کر آپ کے آگے چلوں گا!”
“نہیں۔۔۔ بابا رحیمو، بالکل نہیں،” صلاح الدین نے بابا کے کھردرے اور مٹیالے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما، “اگر مزارعوں کا پورا دستہ وہاں گیا، تو حویلی کے اونچے واچ ٹاور پر کھڑے مسلح غنڈے دور سے ہی فائرنگ کر دیں گے اور سب مارے جائیں گے. ہمیں بالکل خاموشی اور چوری چھپے اندر داخل ہونا ہوگا. عثمان! تم یہیں ڈیرے پر رہو گے اور شہر سے آنے والی ابا سائیں کی اضافی گارڈز کی نفری کا انتظار کرو گے. بابا رحیمو! آپ مجھے صرف اس کچی دیوار تک کا خفیہ راستہ دکھائیں گے، اس کے بعد اندر کی جنگ صرف اور صرف صلاح الدین کی ہے!”
صلاح الدین نے چارپائی کے کونے پر پڑی بابا رحیمو کی ایک پرانی، کالی چادر اٹھائی اور اسے اپنے کندھوں کے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا تاکہ اس کا خون سے لت پت سفید لباس رات کے اندھیرے میں دور سے چمکنے نہ پائے۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ میں وہ پرانا لائسنس یافتہ پستول سنبھالا، اس کا میگزین چیک کیا، اور پھر لرزتے قدموں کے ساتھ، ایک ہاتھ اپنے پیٹ کے ابلتے ہوئے زخم پر رکھے، رات کے اس سیاہ اندھیرے میں چولستان کے ریت کے اونچے ٹیلوں کی طرف بڑھ گیا۔ بخار کی شدت اور کمزوری کی وجہ سے اس کے پیر بار بار ریت میں دھنس رہے تھے، ہر قدم پر اس کے پیٹ سے درد کی ایک لہر اٹھ کر اس کے پورے دماغ کو شل کر رہی تھی، لیکن اس کی بند ہوتی آنکھوں کے سامنے صرف بانو کا وہ روتا ہوا معصوم چہرہ تھا جو اس اندھیرے قید خانے میں اپنے محسن کی راہ تک رہی تھی!
چولستان کے صحرا پر رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا اور اندھیرا اتنا گہرا ہو چکا تھا کہ حویلی کے بڑے واچ ٹاورز پر جلنے والی زرد لائٹیں بھی صحرا کی وسعتوں میں گم ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ رینجرز اور پولیس کے چولستان سے رخصت ہوتے ہی حویلی کے کالے پھٹک دوبارہ بند ہو چکے تھے، اور ان کے پیچھے اب جاگیردارانہ فرعونیت کا ننگا ناچ شروع ہونے والا تھا۔
حویلی کے وسیع و عریض وڈے کمرے میں، جہاں ائیر کنڈیشنر کی یخ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھا، شاہینہ بیگم اپنی روایتی مخملی مسند پر بڑی شان سے بیٹھی تھیں۔ ان کی بوڑھی، جھریوں زدہ انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں چمک رہی تھیں اور ہاتھ میں وہ منحوس سونے کی چھڑی تھی جسے وہ بار بار سنگِ مرمر کے چمکدار فرش پر مار کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر اس وقت ایک زہریلی، مکارانہ اور ہولناک مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ ان کے بالکل سامنے، سارنگ شاہ اپنے ہاتھ میں چمڑے کا وہ بھاری خونی کوڑا لیے کھڑا تھا جس پر ابھی تک بوڑھے اللہ دتا کے خشک خون کے کلوٹ جمے ہوئے تھے۔ سارنگ شاہ کے چہرے پر رات کی شکست کا غصہ، وحشت اور پاگل پن صاف نظر آ رہا تھا، اس کی آنکھیں خون کی طرح لال تھیں کیونکہ چولستان کی تاریخ میں پہلی بار مزارعوں نے اس کے غنڈوں کو دھول چٹائی تھی۔
“سارنگ! اپنے اس غصے کو قابو میں رکھو اور میری بات کان کھول کر سنو،” شاہینہ بیگم نے چائے کی چمکیلی پیالی کو میز پر رکھتے ہوئے اپنی زہریلی اور دھیمی آواز میں کہا، جس میں چولستان کے ناگوں کا زہر گھلا تھا، “کامران احمد نے بہاولپور شہر میں جو آگ لگائی ہے، اس کی وجہ سے رینجرز اور پولیس کا پورا رخ چولستان سے ہٹ چکا ہے۔ افتخار احمد اب شہر کے فسادات اور اپنی شوگر ملز کو بچانے میں ایسا پھنسا ہے کہ وہ اگلے دو دن تک چولستان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھ پائے گا۔ اب میدان بالکل خالی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس مزارع کی بیٹی، بانو کا وہ اکڑا ہوا غرور ہمیشہ کے لیے اس چولستان کی تپتی مٹی میں ملا دیا جائے! اس لڑکی کو اس کی اوقات یاد دلانا ضروری ہے، تاکہ کل صبح جب وہ بہاولپور کی عدالت میں جج کے سامنے کھڑی ہو، تو اس کی زبان سے صرف وہی لفظ نکلیں جو ہم نے شاہینہ بیگم کی حویلی میں طے کیے ہیں۔”
“امی سائیں! اس لڑکی اور اس کے بڈھے باپ نے ہماری خاندانی عزت کو مٹی میں رول دیا ہے،” سارنگ شاہ نے دانت پیستے ہوئے، اپنے ہاتھ میں موجود چمڑے کے کوڑے کو ہوا میں لہرایا جس سے ایک مہیب سنسناہٹ گونجی، “مزارعوں کے ان کیڑے مکوڑوں کی اتنی ہمت کہ حویلی کے غنڈوں پر کلہاڑیاں اٹھائیں؟ میں اج رات اس لڑکی کے سامنے، اس کے اسی بوڑھے باپ اللہ دتا کی وہ درگت بناؤں گا، اس کی بوڑھی ہڈیوں پر کوڑے کا وہ قانون چلاؤں گا کہ کل صبح عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر جج کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے بھی اس بانو کی روح کانپے گی! اسے پتہ چلے گا کہ وڈیرے سارنگ شاہ کا غصہ کیا ہوتا ہے۔”
سارنگ شاہ اپنے چار مسلح اور خونخوار غنڈوں کے ساتھ حویلی کے پچھلے، کچے اور بدبودار حصے کی طرف بڑھا جہاں وہ خفیہ زیرِ زمین کچا تہہ خانہ بنا ہوا تھا جس کا راستہ حویلی کے کسی عام نقشے میں نہیں تھا۔ منشی نے جیسے ہی اپنی کمر سے چابیوں کا بھاری گچھا نکالا اور تہہ خانے کے اس پرانے، دیمک زدہ لکڑی کے دروازے کا زنگ آلود تالا کھولا، تو اندر سے حبس، مٹی اور پسینے کی ایک ایسی مہیب بو باہر آئی جس نے انسان کا دم گھونٹ کر رکھ دیا۔
تہہ خانے کے اندر، ایک چھوٹے سے پیلے لیمپ کی مدہم اور ٹمٹماتی روشنی میں، ستر سالہ بوڑھا اللہ دتا لوہے کی بھاری، وزنی زنجیروں سے جکڑا ہوا مٹی کے ناہموار فرش پر نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔ اس کی سفید داڑھی مٹی اور خون سے اٹی ہوئی تھی، اور اس کی بوڑھی پیٹھ پر رات کے برسائے گئے کوڑوں کے نیلے اور سرخ زخم اب سوکھ کر کالے پڑ چکے تھے۔ وہ پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا اور اس کے خشک ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے وہ اپنے مالک حقیقی سے اپنی بیٹی کی چادر کی بھیک مانگ رہا ہو۔
سارنگ شاہ نے اندر داخل ہوتے ہی اپنے بھاری چمڑے کے بوٹ کی ایک زبردست ٹھوکر اللہ دتا کے بوڑھے سینے پر ماری، جس سے بوڑھے کے حلق سے ایک گہری، دردناک کراہ نکلی۔ سارنگ شاہ نے اس کے سر کے سفید بالوں کو بے دردی سے مٹھی میں جکڑا اور اس کا سر مٹی کی دیوار سے مارتے ہوئے گرج کر بولا، “اٹھ اوئے بڈھے مزارع! اٹھ اور اپنی گناہگار آنکھیں کھول! دیکھ، اج تیری لاڈلی دھی بانو کی باری ہے! اج اس حویلی کا انصاف تمہاری اس کچی مٹی پر پورا اترے گا۔”
“وڈیرے سائیں۔۔۔ اللہ کارن میری دھی پر رحم کرو! خدا کا خوف کرو سائیں!” اللہ دتا نے بڑی مشکل سے اپنی لرزتی ہوئی، دھندلی آنکھیں کھولیں اور سارنگ شاہ کے سامنے اپنے کمزور ہاتھ جوڑ دیے، اس کی سرائیکی کے درد میں ڈوبی آواز اس تاریک تہہ خانے کی مٹی میں جذب ہو رہی تھا، “اس معصوم بچی کا کوئی قصور نہیں ہے سائیں. وہ تو اکیلی جان ہے. مجھے مار دو وڈیرے، میری کھال کھینچ لو، مجھے اسی تہہ خانے میں زندہ دفن کر دو، لیکن میری بانو کی حیا پر، اس کی چادر پر ہاتھ مت ڈالنا سائیں! وہ تمہاری مزارع ہے، تمہاری بیٹیوں جیسی ہے!”
سارنگ شاہ نے ایک وحشیانہ قہقہہ لگایا اور منشی کی طرف مڑ کر دیکھا، “منشی! ابھی کے ابھی جاؤ! اصطبل کے اس پچھلے کچے کمرے کا تالا کھولو جہاں بانو کو بند کر رکھا ہے، اور اسے بالوں سے گھسیٹ کر یہاں اس زیرِ زمین تہہ خانے میں لے کر آؤ! اج باپ کے سامنے اس کی دھی پر حویلی کا وہ قانون چلے گا، میں اس بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے بانو کی گلابی چادر کے وہ ٹکڑے کروں گا کہ چولستان کے مزارعوں کی آنے والی سات نسلیں بھی حویلی کا نام سن کر اپنے بستروں پر کانپ اٹھیں گی!”
منشی فورا دوڑا اور حویلی کے پچھلے صحن کو پار کرتا ہوا اصطبل کے اس چھوٹے، تاریک کمرے کے پاس پہنچا جہاں لوہے کا بھاری دروازہ لٹک رہا تھا۔ اس نے تالا کھولا اور دروازے کو ایک جھٹکے سے پیچھے دھکیلا۔ بانو، جو رات بھر سے رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی، جس کا معصوم چہرہ انسوؤں اور مٹی سے لت پت تھا اور جس کے نازک ہاتھ لوہے کا دروازہ پیٹ پیٹ کر زخمی اور خون آلود ہو چکے تھے، وہ کمرے کے ایک کونے میں اپنے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ منشی نے بغیر کسی رحم کے آگے بڑھ کر بانو کے نازک بازو کو اپنی سخت گرفت میں لیا اور اسے بے دردی سے فرش پر گھسیٹنا شروع کر دیا۔
“چھوڑو مجھے! ظالمو چھوڑو خدا کے لیے! میرا ابا کہاں ہے؟ مجھے میرے ابا کے پاس جانے دو!” بانو نے تڑپ کر منشی کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی، لیکن منشی کی طاقت کے آگے اس کا معصوم وجود بے بس تھا۔ بانو کی روایتی گلابی چادر، جو اب جگہ جگہ سے تار تار ہو چکی تھی، حویلی کے کچے اور پتھریلے کوریڈور میں گھسٹ رہی تھی، اس کے پاؤں سے اس کی کچی جوتی چھوٹ چکی تھی اور اس کے ننگے پیر حویلی کے تپتے ہوئے پتھروں پر زخم کھا رہے تھے۔ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی، رو رہی تھی، لیکن حویلی کی بلند اور کالی دیواریں اس کی ان مظلوم چیخوں پر خاموش تماشائی بنی کھڑی تھیں، اور کامران احمد حویلی کے اونچے بالاخانے کی کھڑکی سے ہاتھ میں سگریٹ لیے یہ سب منظر دیکھ کر مکارانہ مسکرا رہا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ صلاح الدین اب کبھی واپس نہیں آ پائے گا اور اس جائیداد کا تنہا وارث وہی بنے گا!
منشی بانو کو گھسیٹتا ہوا اس زیرِ زمین تہہ خانے کی سیڑھیوں تک لے آیا، جہاں نیچے سے پیلے لیمپ کی پراسرار روشنی ابل رہی تھی، اور بانو کی معصوم چیخیں اب اس موت کے کنویں کے اندر گونجنے کے لیے تیار تھیں!
حویلی کی پچھلی، کچی اور ویران مٹی کی دیوار کے باہر اس وقت چولستان کا اڑتا ہوا ایک باریک ریتیلا طوفان ابل رہا تھا، جو رات کے اندھیرے کو مزید پراسرار اور خوفناک بنا رہا تھا۔ ریت کے گرم بگولے مٹی کی دیواروں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی سائیں سائیں کی آواز پیدا کر رہے تھے، جو کسی مہیب موت کے سائرن جیسی تھی۔
اسی کچی دیوار کے گہرے سائے میں چھپا، صلاح الدین ہانپ رہا تھا۔ اس کا سانس اس وقت تپتے ہوئے صحرا کی لو کی طرح چل رہا تھا، اور اس کے پیٹ پر بندھی سفید میڈیکل پٹی اب پوری طرح گہرے کالے اور سرخ خون سے نہا کر اس کے پورے کرتے کو تر کر چکی تھی۔ ریت پر جگہ جگہ اس کے زخم سے ٹپکنے والے خون کے بڑے بڑے قطرے گر رہے تھے جنہیں چولستان کی پیاسی ریت فورا اپنے اندر جذب کر رہی تھی۔ اس کا گورا چہرہ تیز ترین بخار کی شدت سے لال انگارہ ہو چکا تھا، اس کا پورا وجود شدید نقاہت سے لرز رہا تھا، اور اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار اندھیرا چھا جاتا تھا، لیکن اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے پیٹ کے اس چاک شدہ زخم کو اتنے زور سے بھینچ رکھا تھا کہ اس کی انگلیاں خون میں ڈوب چکی تھیں۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ میں موجود اس پرانے پستول کو مضبوطی سے تھاما اور دیوار کے اس ٹوٹے ہوئے حصے کی طرف دیکھا جہاں سے بابا رحیمو نے اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا تھا۔
دیوار کے بالکل اوپر، حویلی کے ایک چھوٹے سے برآمدے میں، شاہینہ بیگم کا ایک کڑا اور خونخوار گارڈ اپنے ہاتھ میں سیمی آٹومیٹک بندوق لیے کھڑا ادھر ادھر چولستان کے اندھیرے کا معائنہ کر رہا تھا۔ اس کی نظریں بار بار ریت کے ٹیلوں پر گھوم رہی تھیں۔ صلاح الدین نے اپنے وجود کی آخری بکھری ہوئی طاقت کو یکجا کیا۔ اس نے زمین سے مٹیالا، ایک بھاری اور نوکیلا پتھر اٹھایا اور اسے اپنے پورے زور سے دیوار کے دوسری طرف، پرانے اصطبل کے کچرے کے ڈھیر پر پھینکا۔ پتھر کے گرنے کی ایک تیز اور واشگاف آواز اندھیرے سناٹے کو چیرتی ہوئی گونجی۔
“کون ہے وہاں؟ منشی۔۔۔ تم ہو کیا؟” گارڈ چونکا، اس نے اپنی بندوق کا رخ آواز کی طرف کیا اور وہ جیسے ہی دیوار کے اس کچے اور ناہموار کونے پر نیچے دیکھنے کے لیے جھکا، صلاح الدین نے ایک زخمی چیتے کی طرح اپنی جگہ سے لپک کر، دیوار پر چڑھ کر اس گارڈ کا گلا پیچھے سے اپنے دائیں بازو کے فولادی گھیرے میں دبوچ لیا!
گارڈ نے اپنی بندوق ہوا میں لہرائی اور چھڑانے کے لیے دیوانہ وار مزاحمت کرنے کی کوشش کی، اس نے اپنی کہنی صلاح الدین کے پیٹ کے اسی زخم پر مارنے کی کوشش کی، جس سے صلاح الدین کے پیٹ سے درد کا ایک ہولناک لاوا ابل پڑا اور اس کے منہ سے ایک گہری، روح فرسا کراہ نکلنے ہی والی تھی، لیکن صلاح الدین نے اپنے دانتوں کو اتنے زور سے بھینچا کہ اس کے مسوڑھوں سے خون نکل آیا۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت بانو کی اجڑتی ہوئی حیا، اس کا سچا عشق اور اپنے بوڑھے باپ کے قانون کا مان تھا؛ اس نے اپنے تپتے ہوئے وجود کا پورا وزن اس گارڈ کی گردن پر ڈال دیا اور اس کی شہ رگ کو تب تک دبا کر رکھا جب تک اس گارڈ کا دم نہیں گھٹ گیا اور وہ بالکل بے حس و حرکت ہو کر ریت کے فرش پر ڈھیر ہو گیا۔
صلاح الدین نے ہانپتے ہوئے اس گارڈ کی وزنی بندوق اٹھائی، اس کا میگزین چیک کیا، اور پھر لرزتے، لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ، ایک ہاتھ اپنے پیٹ کے بہتے ہوئے زخم پر جمائے، حویلی کے اس پچھلے اصطبل کے طویل اور تاریک کوریڈور میں داخل ہو گیا۔ اصطبل کے اندر گھوڑوں کے ہنہنانے اور ان کے کھروں کی ٹاپوں کی اکھڑی اکھڑی آوازیں آ رہی تھیں، جو باہر کی سنسناہٹ کو مزید مہیب بنا رہی تھیں، لیکن وہاں اس وقت کوئی دوسرا گارڈ موجود نہیں تھا۔ صلاح الدین جیسے ہی رینگتا ہوا بانو کے اس مخصوص کچے کمرے کے پاس پہنچا جہاں وہ قید تھی، تو اس نے دیکھا کہ لوہے کے بھاری دروازے کا تالا کھلا ہوا تھا اور کمرہ اندر سے بالکل خالی تھا!
یہ منظر دیکھتے ہی صلاح الدین کے دل میں ایک ہولناک اور جانکاہ خوف کا خنجر اترا۔ اس کا دل کسی طبل کی طرح بجنے لگا۔ “بانو۔۔۔ بانو کہاں ہے؟ وہ ظالم اسے کہاں لے گئے؟” صلاح الدین نے دل ہی دل میں تڑپ کر کہا، اس کی آنکھیں پاگلوں کی طرح اصطبل کے کچے فرش کو ٹٹولنے لگیں، جہاں پیلے لیمپ کی ہلکی سی روشنی میں مٹی پر بانو کی گلابی چادر کے گھسٹنے کے بالکل تازہ اور واضح نشانات موجود تھے، اور ان نشانات کے ساتھ ہی منشی کے بھاری بوٹوں کے کھردرے نشان بھی گواہی دے رہے تھے۔
صلاح الدین نے ان نشانات کا تعاقب کرنا شروع کیا۔ اس کے پیٹ کا درد اب اس حد تک وحشیانہ ہو چکا تھا کہ اسے اپنے چاروں طرف دیواریں گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، اس کا سر چکرا رہا تھا اور پیاس سے اس کا حلق سوکھی لکڑی کی طرح لرز رہا تھا، لیکن اس کے قدم نہیں رک رہے تھے۔ وہ اپنی محبت کی پکار پر حویلی کے اس پچھلے کچن کے طویل، پتھریلے کوریڈور کی طرف بڑھا، جہاں آگے جا کر زمین کے اندر اترنے والی سیڑھیاں تھیں۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے دیکھا کہ منشی اور حویلی کے دو سب سے خطرناک اور مسلح گارڈز کلاشنکوفیں لیے اس زیرِ زمین تہہ خانے کے لکڑی کے بھاری دروازے پر سخت پہرہ دے رہے تھے۔ اور اسی بند دروازے کے اندر سے، بانو کی تڑپتی ہوئی، دل دہلا دینے والی چیخیں اور سارنگ شاہ کے چمڑے کے کوڑے کے برسنے کی ہولناک، سنسناتی آوازیں باہر آ رہی تھیں!
“نہیں۔۔۔ وڈیرے سارنگ شاہ! خدا کے لیے میرے ابا کو مت مارو! وہ بوڑھا ہے، وہ مر جائے گا! میں مانتی ہوں تمہاری سب شرطیں، میں کل عدالت میں وہی بولوں گی جو تم کہو گے، میں ان کاغذات پر انگوٹھا لگا دوں گی! میرے ابا کی جان بخش دو سائیں!” بانو کی یہ تڑپتی، سسکتی اور درد میں ڈوبی ہوئی آواز جیسے ہی صلاح الدین کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی، اس کا خون ایک دم کھول اٹھا۔ اس کے وجود کا تیز بخار اور پیٹ کا جانکاہ درد جیسے ایک ہی سیکنڈ میں غائب ہو گیا، اور اس کی مخملی آنکھوں میں صرف اور صرف ایک خونخوار، وحشیانہ اور قاتلانہ جلال اتر آیا جس کے سامنے موت بھی پناہ مانگے۔
تہہ خانے کے اس وزنی دروازے پر کھڑے پہلے گارڈ نے جیسے ہی اندھیرے کوریڈور سے ایک کالی چادر اوڑھے، خون میں لت پت وجود کو کسی سائے کی طرح اپنی طرف انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے دیکھا، اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے اپنی کلاشنکوف سیدھی کی، “کون ہے اوئے؟ رک جاؤ ورنہ بھون دوں گا!”
لیکن اس سے پہلے کہ اس گارڈ کی انگلی بندوق کے ٹرگر کو چھو پاتی، صلاح الدین کے دائیں ہاتھ میں موجود پستول سے نکلنے والی ایک پے در پے گولی نے رات کے اس ہولناک سناٹے کو پاش پاش کر کے رکھ دیا! گولی کی دھمک اتنی تیز تھی کہ پورا کوریڈور گونج اٹھا۔ وہ گولی سیدھی اس پہلے گارڈ کے سینے کو چیرتی ہوئی پار نکل گئی اور وہ اپنے ہاتھ سے کلاشنکوف چھوڑ کر ایک ہولناک، دردناک چیخ کے ساتھ اسی پکے فرش پر ڈھیر ہو گیا، اس کا خون کوریڈور میں پھیل گیا۔
دوسرا گارڈ چونکا اور اس نے گھبرا کر اپنی بندوق تاننے کی کوشش کی، لیکن صلاح الدین کے اندر اس وقت غیظ و غضب کا طوفان تھا؛ اس نے ایک پل کی بھی مہلت دیے بغیر اپنی بندوق کا بھاری بٹ اس گارڈ کے چہرے پر اتنے زور سے مارا کہ اس کے جبڑے اور دانت ٹوٹنے کی تیز آواز آئی، اس کے منہ سے خون کا فوارہ ابلا اور وہ دیوار سے سر ٹکراتا ہوا فورا وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
منشی، جو دروازے کی چابی پکڑے کھڑا تھا، صلاح الدین کو اس حالت میں اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر خوف سے ہکلا گیا، “وکیل۔۔۔ وکیل صلاح الدین! تم۔۔۔ تم تو مر چکے تھے!” اس سے پہلے کہ منشی بھاگ پاتا، صلاح الدین نے اپنے پیر کی ایک زبردست، فولادی ٹھوکر اس تہہ خانے کے پرانے اور وزنی لکڑی کے دروازے پر ماری! دروازہ اپنے قبضوں سے اکھڑتا ہوا ایک ہولناک اور دھماکے دار آواز کے ساتھ اندر کی طرف ٹوٹ کر لتاڑ گیا، اور تہہ خانے کے اندر کا جو منظر اب صلاح الدین کی آنکھوں کے سامنے کھلا، اس نے صلاح الدین کے دل کی دھڑکنوں کو ایک لمحے کے لیے بالکل روک دیا اور اس کے پورے وجود میں سنسنی دوڑا دی!
تہہ خانے کا وہ بھاری، دیمک زدہ لکڑی کا دروازہ جب صلاح الدین کے پیر کی زبردست ٹھوکر سے ٹوٹ کر اندر گرا، تو اس کے دھماکے کی گونج اس کچے، زیرِ زمین کمرے کی مٹیالی دیواروں سے ٹکرا کر کسی زلزلے کی طرح پھیل گئی۔ کمرے کے اندر پھیلا ہوا بوجھل حبس اور پیلے لیمپ کی ٹمٹماتی ہوئی مدہم روشنی اس ہولناک منظر کو عیاں کر رہی تھی جس نے صلاح الدین کی آنکھوں میں خون اتار دیا تھا۔
تہہ خانے کے وسط میں، لوہے کے ایک زنگ آلود ستون کے ساتھ ستر سالہ بوڑھا اللہ دتا بھاری زنجیروں میں جکڑا، ادھ موا ہو کر فرش پر پڑا تھا، اس کی سفید داڑھی مٹی اور خون سے اٹی ہوئی تھی۔ اس کے بالکل سامنے، بانو گھٹنوں کے بل بیٹھی، اپنے دونوں ہاتھ جوڑے، اپنے بوڑھے باپ کی جان کی بھیک مانگ رہی تھی، اس کی گلابی چادر تار تار ہو کر مٹی میں رول چکی تھی۔ اور سارنگ شاہ، اپنے چہرے پر وحشیانہ مسکراہٹ لیے، چمڑے کا وہ بھاری خونی کوڑا ہوا میں لہرائے بانو کی طرف بڑھ رہا تھا۔
دروازے کے ٹوٹنے کے ہولناک شور پر سارنگ شاہ کا پورا وجود جھٹکے سے مڑا۔ اس کی وحشی آنکھیں جیسے ہی سامنے دروازے کے چوکھٹ پر پڑیں، اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے اندھیرے کے پس منظر میں، بابا رحیمو کی کالی چادر اوڑھے، زخموں سے چور، بخار سے تپتا ہوا صلاح الدین کھڑا تھا۔ اس کا ہسپتال کا سفید کرتا اس کے اپنے ہی پیٹ کے بہتے ہوئے خون سے پوری طرح لال ہو کر اس کے بوٹوں تک رس رہا تھا، اس کا چہرہ درد کی شدت سے پیلا پڑ چکا تھا، لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑا وہ سیاہ پستول بالکل سیدھا سارنگ شاہ کے سینے پر تانا ہوا تھا، اور اس کی لال انگارہ آنکھوں میں موت کا وہ جلال رقص کر رہا تھا جس کے آگے چولستان کے فرعونوں کی طاقت بھی گھٹنے ٹیک دے۔
“صلاح الدین۔۔۔!!!” سارنگ شاہ کے حلق سے ایک اکھڑی ہوئی، خوفناک چیخ نکلی، اس کے ہاتھ سے وہ چمڑے کا کوڑا چھوٹ کر مٹی کے فرش پر گر پڑا اور اس کا پورا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔ “تم۔۔۔ تم زندہ ہو؟ جلال خان نے تو کہا تھا کہ تم مزارعوں کے ڈیرے پر مر چکے ہو!”
“سائیں۔۔۔ سائیں صلاح الدین۔۔۔!!!” بانو نے جب اپنے انسوؤں سے دھندلی آنکھوں سے اپنے سائیں کو اس حالت میں اپنے سامنے دیکھا، تو اس کے حلق سے ایک ایسی دلدوز اور رقت آمیز چیخ نکلی جس میں دنیا بھر کی تڑپ، التجا اور اپنے اس اکیلے محسن کے لیے تڑپتا ہوا عشق شامل تھا۔ وہ فرش پر گھسٹتی ہوئی صلاح الدین کے پیروں کی طرف بڑھی، “سائیں! آپ اس حالت میں یہاں کیوں آئے؟ آپ کا تو پورا چیسٹ خون سے لال ہے! یہ ظالم آپ کو مار دیں گے سائیں، آپ یہاں سے چلے جائیں!”
“بانو! پیچھے ہٹو اور میرے سائے میں آ جاؤ،” صلاح الدین کی آواز اس کچے تہہ خانے کی خاموشی میں کسی پہاڑی چٹان کی طرح گونجی۔ اس کی آواز میں اگرچہ نقاہت تھی، لیکن اس کا ہر ایک لفظ سارنگ شاہ کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے پیٹ کے اس چاک شدہ زخم کو مزید سختی سے بھینچا تاکہ خون کے فوارے کو روکا جا سکے، اس کے منہ سے خون کا ایک باریک قطرہ نکل کر اس کے ہونٹ پر جم گیا، لیکن اس کا پستول ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
“سارنگ شاہ!!!” صلاح الدین نے اپنے دانتوں کو بھینچتے ہوئے گرج کر کہا، “تم نے سمجھا تھا کہ تم شہر میں ہنگامے کروا کے، رینجرز کو واپس بلا کر قانون کا منہ بند کر دو گے؟ تم نے سمجھا تھا کہ حویلی کے غنڈے اس وکیل کا قصہ پاک کر دیں گے؟ دیکھ۔۔۔ اج چولستان کا وہ قانون، جس کا تم نے تماشا بنایا تھا، اج وہ قانون تیری اس اندھیری حویلی کے سب سے خفیہ تہہ خانے کے اندر گھس کر تیری موت بن کر تیرے سامنے کھڑا ہے!”
سارنگ شاہ کا خوف اب آہستہ آہستہ ایک پاگل پن کے غصے میں بدلنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ صلاح الدین اکیلا ہے، زخموں سے نڈھال ہے اور کھڑا بھی عزم کے برتے پر ہے۔ سارنگ شاہ نے جھٹکے سے اپنی کمر کے پیچھے اڑسے ہوئے پسٹل کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن صلاح الدین کی وکیل آنکھیں اس کی اس حرکت کو پہلے ہی بھانپ چکی تھیں۔
صلاح الدین نے ایک پل کی بھی تاخیر کیے بغیر اپنے پستول کا ٹرگر دبا دیا! ایک زوردار، دھماکے دار فائر کی آواز آئی اور گولی سیدھی سارنگ شاہ کے دائیں ہاتھ کی کلائی کو ہڈیوں سمیت چیرتی ہوئی پار نکل گئی! سارنگ شاہ کے حلق سے ایک ہولناک، وحشیانہ چیخ نکلی، اس کا پسٹل دور مٹی پر جا گرا اور وہ اپنے زخمی ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے تھام کر درد سے تلملاتا ہوا پیچھے دیوار سے جا ٹکرایا، اس کا خون دیوار پر پھیل گیا۔
منشی جو ایک کونے میں چھپا کانپ رہا تھا، اس نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن صلاح الدین نے اپنی بندوق کا رخ اس کی طرف کیا، “منشی! اگر اپنی جان عزیز ہے، تو ابھی کے ابھی اس بوڑھے اللہ دتا کی زنجیروں کی چابیاں میرے حوالے کرو!” منشی نے لرزتے ہاتھوں سے چابیوں کا گچھا بانو کی طرف پھینک دیا۔ بانو نے روتے ہوئے، جلدی جلدی اپنے بوڑھے باپ کے ہاتھوں اور پیروں کے بھاری تالے کھولے۔ جیسے ہی زنجیریں گریں، اللہ دتا نے لرزتے ہوئے صلاح الدین کی طرف دیکھا، “وکیل سائیں۔۔۔ میری دھی کی حیا بچانے والے فررشتے۔۔۔ خدا تجھے سلامت رکھے!”
صلاح الدین نے آگے بڑھ کر بانو کو اپنے بائیں بازو کے سائے میں لے لیا اور اللہ دتا کو عزم دے کر اٹھانے کی کوشش کی، لیکن اسی لمحے، تہہ خانے کی اوپر کی سیڑھیوں سے بوٹوں کی بھاری ٹاپوں اور بندوقیں لوڈ ہونے کی ہولناک آوازیں گونج اٹھیں۔ کامران احمد، حویلی کے بالاخانے سے نیچے اتر آیا تھا اور اس کے پیچھے حویلی کے بیس سے زائد مسلح غنڈے کلاشنکوفیں تانے تہہ خانے کے واحد راستے کی طرف دوڑے چلے آ رہے تھے۔
“گولی مار دو! اندر جو بھی ہے، اسے اسی تہہ خانے کے اندر بھون دو! صلاح الدین کو زندہ باہر مت جانے دینا!” کامران احمد کی مکارانہ اور خوفناک آواز سیڑھیوں سے گونجتی ہوئی نیچے آئی۔