Sfaid Khoon

سفید خون – سبق آموز کہانی

کہتے ہیں کہ جب ماں کی کوکھ سے دو بچے جنم لیتے ہیں تو ان کا خون، ان کی رگیں اور ان کا خمیر ایک ہی مٹی سے گوندھا جاتا ہے۔ لیکن وقت اور پیسہ ایسی بے رحم چیزیں ہیں جو ایک ہی ماں کے دودھ کو بھی دو الگ رنگوں میں بدل دیتی ہیں۔ اصغر اور اکبر سگے بھائی تھے۔ ایک ہی کچے صحن میں کھیل کر جوان ہوئے، ایک ہی تھالی میں روٹی توڑی، لیکن جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا تو زندگی کی گاڑی نے دونوں کو دو الگ پٹریوں پر ڈال دیا۔ اکبر، جو پڑھائی میں تیز اور تھوڑا چالاک تھا، شہر نکل گیا، وہاں اچھے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہوا، ایک امیر گھرانے میں شادی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کا بڑا ہول سیل ڈیلر بن گیا۔ اس کی کوٹھی، اس کی گاڑیاں اور اس کا لائف اسٹائل شہر کے امراء میں گنا جانے لگا۔
دوسری طرف اصغر تھا؛ سیدھا سادہ، محنتی اور قناعت پسند۔ وہ گاؤں میں ہی رہ گیا، باپ کی چھوٹی سی زمین سنبھالی جو بعد میں قرضوں کی نذر ہو گئی، اور آخر کار وہ اسی شہر میں آ کر ایک مل میں سات ہزار روپے دیہاڑی پر چوکیدار لگ گیا۔ اصغر کی کل کائنات اس کی بیمار بیوی زہرہ اور بارہ سال کا بیٹا ساجد تھا۔ وہ شہر کے ایک مضافاتی پسماندہ علاقے میں دو کمروں کے خستہ حال مکان میں رہتا تھا، جہاں برسات میں چھت سے پانی ایسے ٹپکتا تھا جیسے گھر کی چھت ہی نہ ہو۔
اکبر اور اصغر کا شہر ایک ہی تھا، لیکن ان دونوں کی دنیاؤں کے درمیان اتنی دوری تھی کہ اصغر کے گھر سے اکبر کے بنگلے کا فاصلہ طے کرنے میں تئیس سال لگ گئے۔ اکبر نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا کہ اس کا چھوٹا بھائی کس حال میں ہے، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اصغر سے رشتہ رکھے گا تو اس کی ہائی کلاس سوسائٹی میں اس کی ناک کٹ جائے گی۔
سردیوں کی ایک یخ بستہ رات تھی جب اصغر کی زندگی پر زوال کا پہلا سایہ پڑا۔ اس کا اکلوتا بیٹا، ساجد، اچانک شدید بخار میں تڑپنے لگا۔ اصغر نے پاس کے کلینک سے ادھار پر دوا لا کر دی، لیکن دو دن گزرنے کے بعد بھی بخار کم ہونے کے بجائے ساجد کے منہ سے خون آنے لگا۔ اصغر اسے کسی طرح سرکاری ہسپتال لے کر گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کرنے کے بعد اصغر کے ہاتھ میں رپورٹس تھمائیں اور کہا: “اصغر صاحب! آپ کے بیٹے کے دونوں گردے تیزی سے فیل ہو رہے ہیں۔ اسے فوری طور پر ڈائلیسز اور بڑے علاج کی ضرورت ہے، جس پر کم از کم دو سے تین لاکھ روپے کا خرچہ آئے گا۔ اگر ایک ہفتے میں انتظام نہ ہوا تو بچے کی جان کو خطرہ ہے۔”
دو لاکھ روپے! اصغر کے لیے یہ رقم مریخ کا سفر کرنے جتنی بڑی تھی۔ اس کی تو پوری زندگی بیس ہزار روپے ماہوار میں کٹ رہی تھی۔ وہ ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ جب زہرہ نے روتے ہوئے ساجد کا سوکھا ہوا چہرہ دیکھا، تو اس نے اصغر کے ہاتھ جوڑ دیے: “ساجد کے ابا! میری مانیے، اپنے بھائی اکبر کے پاس جائیے۔ وہ بہت امیر ہے۔ اس کے لیے دو تین لاکھ روپے کوئی بڑی بات نہیں۔ آخر ساجد اس کا بھی تو بھتیجا ہے، وہ اپنے بھائی کے بچے کو مرنے نہیں دے گا۔”
اصغر کی غیرت مانع تھی، لیکن بیٹے کی زندگی کا سوال تھا۔ اس نے اپنی چوکیداری کی پرانی وردی اتاری، ایک صاف قمیض پہنی اور کانپتے دل کے ساتھ اکبر کے ڈیفنس والے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا۔
بنگلے کے باہر پہنچ کر اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ بڑے لوہے کے گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے اصغر کی حالت دیکھ کر اسے اندر جانے سے روک دیا: “اوئے! کہاں گھسے چلے آ رہے ہو؟ بھیک مانگنی ہے تو جمعے کو آنا۔”
اصغر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، “بھائی! میں بھکاری نہیں ہوں، میں تمہارے صاحب، اکبر کا سگا چھوٹا بھائی ہوں۔ میرا بیٹا ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے، مجھے اپنے بھائی سے ملنے دو۔”
کافی منت سماجت کے بعد چوکیدار نے اندر پیغام بھیجا۔ دس منٹ بعد اصغر کو بنگلے کے عالیشان ڈرائنگ روم میں بلایا گیا، جہاں اطالوی صوفے لگے تھے اور ہوا میں ایک مہنگی پرفیوم کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ اکبر صوفے پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا، اس کے چہرے پر اپنے سگے بھائی کو دیکھ کر کوئی خوشی یا تڑپ نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی بیزاری تھی۔
“ہاں اصغر! تئیس سال بعد کیسے راستہ بھول گئے؟ خیریت تو ہے؟” اکبر نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر سرد لہجے میں پوچھا۔
اصغر صوفے پر بیٹھنے کی ہمت نہ کر سکا، وہ فرش پر ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور روتے ہوئے اکبر کے بوٹ پکڑ لیے: “بھائی جان! مجھے معاف کر دینا میں آپ کے پاس آیا… لیکن میرا ساجد… میرا اکلوتا بیٹا ہسپتال میں مر رہا ہے، اس کے گردے فیل ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں دو لاکھ روپے چاہئیں، ورنہ وہ نہیں بچے گا۔ بھائی جان! خدا کے لیے میری مدد کریں، میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر غلام بن کر چکاؤں گا۔”
اکبر نے جھٹکے سے اپنے پیر پیچھے کھینچے، جیسے کسی گندے انسان نے اسے چھو لیا ہو۔ اس نے سردی سے اپنے کوٹ کے بٹن بند کیے اور بولا: “اصغر! تم غریب لوگوں کا یہی مسئلہ ہے۔ جب دیکھو، منہ اٹھا کر ادھار مانگنے آ جاتے ہو۔ تمہیں کیا لگتا ہے، میں نے یہ پیسہ سڑکوں سے اٹھایا ہے؟ بزنس میں پہلے ہی مندی چل رہی ہے، میری بیٹی کی شادی اگلے مہینے ہے، میرے پاس فالتو پیسے نہیں ہیں۔ اور ویسے بھی، تم یہ دو لاکھ روپے مجھے واپس کہاں سے کرو گے؟ تمہاری تو اوقات بھی نہی ہے
۔”
اصغر کو لگا جیسے اکبر نے اس کے دل پر خنجر مار دیا ہو۔ “بھائی جان! میں پیسے واپس کروں گا، میں دن رات مزدوری کروں گا… لیکن میرے بچے کو بچا لیں۔ وہ آپ کا بھی تو خون ہے۔”
اسی لمحے اکبر کی بیوی اندر داخل ہوئی، اس نے اصغر کو حقارت سے دیکھا اور اکبر سے بولی: “اکبر! تمہارے غریب رشتہ داروں نے تماشہ بنا رکھا ہے۔ شام کو ہمارے ہاں منسٹر صاحب آ رہے ہیں، اس کو جلدی باہر نکالو، کہیں منسٹر کے سامنے ہماری بدنامی نہ ہو۔”
اکبر نے اپنے بٹوے سے پانچ سو روپے کا ایک نوٹ نکالا اور اصغر کے منہ پر پھینک دیا: “یہ لو، اس سے جا کر ساجد کے لیے پھل خرید لینا، اور دوبارہ میرے گھر کا رخ مت کرنا۔ چوکیدار! اسے باہر نکالو۔”
اصغر اس پانچ سو کے نوٹ کو وہیں چھوڑ کر ننگے پاؤں ہسپتال کی طرف بھاگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں، بلکہ خون کے قطرے بہ رہے تھے۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اس دنیا میں غریب کا کوئی بھائی نہیں ہوتا، غریب کا رشتہ صرف غربت سے ہوتا ہے۔
جب وہ ہسپتال پہنچا، تو وارڈ کے باہر زہرہ فرش پر بیٹھ کر بال نوچ رہی تھی۔ اصغر کا دل ڈوب گیا۔ وہ بھاگتا ہوا ساجد کے بیڈ کے پاس گیا، لیکن وہاں صرف ایک سفید چادر تھی جو اس کے بارہ سال کے معصوم بیٹے کے چہرے پر ڈھانپ دی گئی تھی۔ ساجد تڑپ تڑپ کر، اپنے تایا کے پیسوں اور باپ کی بے بسی کا ماتم کرتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔
اصغر کے حلق سے کوئی آواز نہ نکلی۔ وہ ساجد کے ٹھنڈے پیروں سے لپٹ گیا اور خاموش پتھر بن گیا۔ ہسپتال والوں نے کہا: “لاش لے جائیں اور فوری طور پر بیڈ خالی کریں۔”
اصغر کے پاس تو بیٹے کے کفن دفن کے پیسے بھی نہیں تھے۔ محلے کے چند غریب لوگوں نے، جن کی اپنی دیہاڑی پانچ سو روپے تھی، اپنی جیبوں سے سو سو، دو دو سو روپے نکال کر کفن کا انتظام کیا۔
اگلی صبح، گاؤں کے کچے قبرستان میں ساجد کا جنازہ تیار تھا۔ جنازے میں صرف دس بارہ غریب چوکیدار اور ریڑھی والے شامل تھے۔ کسی امیر تایا کی بڑی گاڑی وہاں نہیں آئی، کسی خون کے رشتے نے اس لاش کو کندھا نہیں دیا۔ اصغر نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بارہ سال کے مان کو مٹی تلے دفن کر دیا۔
بیٹے کی موت کے غم نے زہرہ کو پاگل کر دیا۔ وہ دن رات ساجد کے کھلونوں کو سینے سے لگا کر روتی رہتی اور تیسر ے دن اس کا دل بھی اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا اور وہ بھی اصغر کو اس دنیا میں بالکل اکیلا چھوڑ کر اپنے بیٹے کے پاس چلی گئی۔
صرف ایک ہفتے کے اندر، اصغر کی پوری کائنات اجڑ چکی تھی۔ اس کا گھر خالی تھا، اس کی زندگی خالی تھی، اور اس کی روح مر چکی تھی۔ وہ دن بھر اپنے بیٹے اور بیوی کی قبروں کے درمیان بیٹھا رہتا اور مٹی سے باتیں کرتا۔
ایک رات، جب شدید بارش ہو رہی تھی اور اس کے کرائے کے کمرے کی چھت سے مٹی پگھل کر گر رہی تھی، اصغر نے ایک پرانا کاغذ اٹھایا اور قلم سے ایک خط لکھا۔ یہ خط اس نے اپنے بھائی اکبر کے نام لکھا تھا: “بڑے بھائی اکبر صاحب!
مبارک ہو، آپ کی بیٹی کی شادی خیر و عافیت سے ہو جائے، اب آپ کی سوسائٹی میں آپ کی ناک نہیں کٹے گی۔ آپ کا بھتیجا ساجد اور آپ کی بھابھی زہرہ مٹی تلے جا سوئے ہیں، انہیں اب آپ کے دو لاکھ روپوں کی ضرورت نہیں رہی۔
آپ نے کہا تھا نا کہ میں آپ کے پیسے واپس کہاں سے کروں گا؟ میری اوقات تو صرف چوکیداری کی ہے۔ بھائی جان! میں نے اپنے بیٹے کی زندگی کے بدلے اپنی موت کا سودا کر لیا ہے۔ میری یہ جان اب آپ پر قرض ہے، اور اس قرض کا حساب ہم اس خدا کی عدالت میں کریں گے جہاں نقد اور بینک بیلنس نہیں، بلکہ خون کے رشتے دیکھے جاتے ہیں۔ میرے جنازے پر مت آنا، کیونکہ غریب کی لاش اگر امیر کے کندھے پر جائے، تو لاش کو بھی شرم آ جاتی ہے۔”
خط مکمل کرنے کے بعد، اصغر نے وہ خط میز پر رکھا اور اسی رسی سے، جس سے وہ رات کو چوکیداری کے دوران اپنے بیٹھنے کی کرسی باندھتا تھا، چھت کے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تلخ سچ کی ہے جہاں پیسے کی چمک سگے بھائیوں کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دیتی ہے جسے موت بھی نہیں گرا سکتی۔ یاد رکھیں، دنیا کی تمام دولت، بنگلے اور گاڑیاں یہیں رہ جائیں گی، لیکن اگر آپ نے اپنے بھائی، اپنی بہن یا اپنے کسی غریب رشتہ دار کو اس کی غربت کی وجہ سے ٹھکرا دیا، تو خدا کے ہاں آپ کا شمار دنیا کے سب سے غریب انسانوں میں ہوگا۔ پیسے کا غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے، لیکن جب وقت کا پہیہ گھومتا ہے، تو انسان کفن کے ایک ٹکڑے کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔