بہاولپور سینٹرل ہسپتال کی کھڑکیوں پر صبح کی پہلی کرنیں آ کر چمکنے لگی تھیں، لیکن آئی سی یو (ICU) کے باہر کا ماحول ابھی تک رات کے اس ہولناک خونی طوفان کے سائے سے آزاد نہیں ہو پایا تھا۔ فرش پر جگہ جگہ کیمیکل سے دھوئے گئے خون کے ہلکے گلابی دھبے موجود تھے، جو رات کی اس ہولناک مٹھ بھیڑ کی گواہی دے رہے تھے جہاں صلاح الدین نے کوما سے جاگ کر اپنی غیرت اور اپنے وعدے کی لاج رکھی تھی۔
آئی سی یو کے اندر، صلاح الدین کو دوبارہ آپریشن کے بعد شدید نشہ آور دواؤں کے اثر میں رکھا گیا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی پرسکون اور باوقار جلال تھا، لیکن اس کے پیٹ پر بندھی سفید پٹیوں کے اوپر سے ہلکی سی سرخی اب بھی جھلک رہی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ رات کو جبار کے غنڈوں کو مارتے وقت اس کے وجود نے کس قدر تکلیف برداشت کی تھی۔
کوریڈور کے ایک کونے میں، بانو اپنے دونوں گھٹنوں کو بازوؤں میں سمیٹے زمین پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہونٹ سوجے ہوئے تھے جہاں رات کو جبار نے اسے سفاکی سے تھپڑ مارا تھا، اور اس کا معصوم چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ لیکن اس کی نظریں مسلسل صلاح الدین کے بستر پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے دل کے اندر اج ایک عجیب سا احساس انگڑائی لے رہا تھا؛ وہ احساس جو امجد کے کھو جانے کے غم سے بالکل الگ تھا۔ یہ احساس اس غیور وکیل، اس شہر کے سائیں صلاح الدین کے لیے بے پناہ احترام، عقیدت اور ایک گہری خاموش تڑپ کا تھا جس نے ایک غریب مزارع کی بیٹی کے لیے اپنے جسم کا چیسٹ اور پیٹ چاک کروا لیا تھا۔
بی بی زلیخا کے سر پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ ساجد کو اپنے سینے سے لگائے رو رہی تھیں۔ عثمان رات بھر کا جاگا ہوا، لال آنکھوں کے ساتھ فون پر آئی جی پولیس سے جبار کے اعترافی بیان کی اپڈیٹس لے رہا تھا، جبکہ افتخار احمد ہسپتال کے وی آئی پی لاؤنج میں اپنے سیاسی وکلاء کے ساتھ شاہینہ بیگم کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ تیار کروا رہے تھے۔
عین اسی وقت، جب ہسپتال میں ہر طرف پولیس کی گاڑیاں اور سیکیورٹی موجود تھی، کوریڈور کا بوڑھا وارڈ بوائے (جسے حویلی کے پیسوں کا لالچ دیا گیا تھا) کپکپاتے ہاتھوں سے چائے کی ٹرے لیے بانو کے قریب آیا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا خوف اور مکر تھا، لیکن بانو اپنے ہی دھیان میں گم تھی، اس لیے اس نے غور نہیں کیا۔
“بی بی۔۔۔ یہ چائے پی لو، رات سے کچھ نہیں کھایا آپ نے،” وارڈ بوائے نے دھیمی آواز میں کہا اور ٹرے بانو کے سامنے رکھ دی۔ جیسے ہی اس نے ٹرے رکھی، اس نے بڑی چلاکی سے چائے کی پیالی کے نیچے دبا ہوا ایک مڑا تڑا کالا لفافہ بانو کے مصلے کے پاس سرکا دیا، اور بغیر مڑ کر دیکھے تیز قدموں سے کوریڈور کے اندھیرے راستے کی طرف بھاگ گیا۔
بانو نے چونک کر اس کالے لفافے کو دیکھا۔ اس کا دل کسی نامعلوم خطرے کے احساس سے ایک دم زور سے دھڑکا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس لفافے کو اٹھایا اور جیسے ہی اسے کھولا، اس کے اندر سے ایک سستی، چولستانی ریت میں لپٹی ہوئی پرانی تسبیح باہر گری۔
تسبیح کو دیکھتے ہی بانو کے منہ سے ایک گہری سسکسی نکلی، اور اس کا پورا وجود برف کی طرح ٹھنڈا ہو گیا۔ “یہ۔۔۔ یہ تو ابا سائیں کی تسبیح ہے! یہ تو میرے ابا کی ہے!” بانو کی آواز گلے میں پھنس گئی۔
اس نے لفافے کے اندر دیکھا، تو وہاں خون سے لکھی ہوئی چولستان کی حویلی کے منشی کی ایک کچی پرچی موجود تھی۔ بانو نے کانپتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ اس پرچی پر لکھے سرائیکی اور اردو کے مکس الفاظ پڑھے:
“بانو لڑکی! تیرا وڈیرا سارنگ شاہ اور شاہینہ بیگم ابھی ہارے نہیں ہیں۔ رات تو نے ہسپتال میں اپنے اس شہری بابو کے پیچھے چھپ کر جبار کو پکڑوا دیا نا؟ اب سن! چولستان کی حویلی کے غنڈوں نے جھگیاں چولستان سے تیرے بوڑھے باپ، اللہ دتا کو اٹھا لیا ہے! وہ اس وقت حویلی کے اسی اصطبل میں لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہے جہاں تیرا بھائی ساجد تھا۔ اگر چوبیس گھنٹے کے اندر تو خود چل کر حویلی کے کالے پھٹک پر حاضر نہ ہوئی۔۔۔ تو اگلی صبح تیرے باپ کا جنازہ چولستان کی اس تپتی ریت پر گدھوں کے آگے پھینک دیا جائے گا! اور یاد رکھ، اگر تو نے اس عثمان یا پولیس کو بتایا، تو پرچی پڑھتے ہی تیرے باپ کا ایک ہاتھ کاٹ کر ہسپتال بھیج دیا جائے گا!”
پرچی کا ایک ایک لفظ بانو کے دل پر کسی زہر آلود خنجر کی طرح لگا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ وہ پرچی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر مصلے پر گر پڑی۔ اس کا بوڑھا باپ۔۔۔ وہ معصوم اللہ دتا، جس نے پوری زندگی حویلی کے وڈیروں کے آگے کمر جھکا کر حلال کی روٹی کمائی تھی، اج اس مکار شاہینہ بیگم کی درندگی کا نشانہ بن چکا تھا۔
“یا باری تعالیٰ! میرے ابا سائیں۔۔۔” بانو نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے تاکہ اس کی چیخ باہر نہ نکل سکے۔ اس نے آئی سی یو کے شیشے کی طرف دیکھا جہاں صلاح الدین بے ہوش لیٹا تھا۔ اس کا دل دو حصوں میں تقصیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف اس کا وہ بوڑھا باپ تھا جس نے اسے جنم دیا، اور دوسری طرف اس کا یہ سچا محسن صلاح الدین تھا جو ابھی کچھ گھنٹے پہلے اس کے لیے اپنا خون بہا کر دوبارہ موت کے منہ میں گیا تھا۔
“نہیں سائیں۔۔۔ میں اپنے ابا کو مرنے نہیں دے سکتی، اور میں آپ پر مزید کوئی آنچ نہیں آنے دے سکتی،” بانو نے روتے ہوئے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے عثمان یا افتخار احمد کو بتایا، تو وہ دوبارہ پولیس لے کر حویلی جائیں گے، اور ضدی سارنگ شاہ پولیس کو دیکھتے ہی اس کے باپ کو گولی مار دے گا۔ اس کے علاوہ، صلاح الدین اس حالت میں نہیں تھا کہ دوبارہ چولستان کی اس آگ میں کود سکے۔
بانو نے چوری چھپے اپنے انسو صاف کیے۔ اس نے پرچی اور تسبیح کو اپنی شلوار کے خفیہ جیب میں چھپایا۔ اس نے بوڑھی بی بی زلیخا کی طرف دیکھا جو ساجد کو گود میں لیے ہلکی سی نیند میں تھیں، اور عثمان ابھی تک کوریڈور کے دوسرے کونے میں کھڑا ائی جی کے عملے سے بحث کر رہا تھا، اس کا رخ بانو کی طرف نہیں تھا۔
یہ سب سے بہترین اور آخری موقع تھا۔ بانو نے اپنی اسی پھٹی ہوئی گلابی چادر کو اپنے چہرے پر اچھی طرح لپیٹا تاکہ ہسپتال کے گارڈز اس کا چہرہ نہ دیکھ سکیں۔ اس نے ایک آخری، حد درجہ دردناک اور التجا بھری نظر آئی سی یو کے شیشے کے پار لیٹے صلاح الدین پر ڈالی۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے آنسو نکل کر اس کی چادر میں جذب ہو گئے۔
“سائیں صلاح الدین! بانو آپ کے اس خون کا قرض زندگی بھر نہیں اتار سکتی۔ آپ نے میری عزت بچائی، اب بانو اپنے باپ کی زندگی بچانے جا رہی ہے۔ مجھے معاف کر دینا سائیں، میں آپ کو بنا بتائے جا رہی ہوں،” بانو نے دل ہی دل میں اپنے محسن کو الوداع کہا۔
وہ نہایت خاموشی سے، دیوار کا سہارا لیتے ہوئے، دھیمے قدموں سے آئی سی یو کوریڈور کی پچھلی سیڑھیوں کی طرف بڑھی، جہاں سے لیبر وارڈ اور ہسپتال کا عقبی ایمرجنسی گیٹ نکلتا تھا۔ ہسپتال کے اس پچھلے راستے پر سیکیورٹی کم تھی کیونکہ رینجرز مین گیٹ پر تعینات تھے۔ بانو تیز قدموں سے چلتی ہوئی ہسپتال کی عمارت سے باہر نکل آئی۔ صبح کی تیز دھوپ اس کے چہرے پر پڑی، تو اسے چولستان کی اس تپتی ہوئی ریت کی یاد آ گئی جہاں اس کا باپ اج زنجیروں میں جکڑا ہوا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
بانو نے ہسپتال کے باہر کھڑے ایک پرانے رکشے والے کو دیکھا، اس نے اپنی انگلی سے سونے کی وہ چھوٹی سی انگوٹھی اتاری جو اس کی ماں نے اسے مرتے وقت دی تھی، اور رکشے والے کے سامنے رکھ دی، “سائیں! مجھے ابھی بہاولپور کے لاری اڈے (بس اسٹینڈ) پہنچا دو، خدا کے لیے جلدی کرو!”
رکشے والے نے اس لڑکی کے چہرے پر لکھی قیامت اور ہاتھوں پر لگے سوکھے خون کے دھبے دیکھے تو وہ بھی کانپ اٹھا، اس نے فوراً رکشہ سٹارٹ کیا اور بانو کو لے کر لاری اڈے کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں سے چولستان کی طرف جانے والی اخری کچی بسیں چلتی تھیں۔
دوسری طرف، ہسپتال کے آئی سی یو کوریڈور میں ٹھیک پندرہ منٹ بعد عثمان جب فون بند کر کے مڑا، تو مصلے کو خالی دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
“بی بی زلیخا! ساجد! جاگو۔۔۔ بانو کہاں ہے؟” عثمان پاگلوں کی طرح چلایا۔
بی بی زلیخا نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں اور مصلے پر گری ہوئی چائے کی پیالی دیکھی، “یا اللہ! میری بچی کہاں گئی؟ وہ تو یہیں بیٹھی تھی!”
عثمان دوڑتا ہوا آئی سی یو کے اندر گیا، لیکن وہاں بھی بانو نہیں تھی۔ اسی وقت صلاح الدین کے کمرے کا مانیٹر ایک بار پھر تیز بیپ کرنے لگا۔ دواؤں کا اثر آہستہ آہستہ کم ہو رہا تھا، اور صلاح الدین کے وجود میں ہلکی سی حرکت ہوئی۔ اس نے جیسے ہی اپنی لال آنکھیں کھولیں، اس کی نظریں سب سے پہلے شیشے کے باہر اس مصلے پر گئیں، جہاں بانو ہر وقت بیٹھی رہتی تھی۔۔۔ لیکن اج وہ مصلیٰ بالکل خالی تھا!
صلاح الدین نے نقاہت سے عثمان کی طرف دیکھا، اس کے منہ سے آکسیجن ماسک ہٹاتے ہی صرف ایک لفظ نکلا، “عثمان۔۔۔ بانو۔۔۔ بانو کہاں ہے؟”
عثمان کے پاس صلاح الدین کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، اور ہسپتال کے اس کوریڈور میں ایک بار پھر ایک ہولناک سسپنس کا کالا بادل چھا چکا تھا!
بہاولپور کے لاری اڈے پر پھیلا ہوا دھواں، بسوں کے ہارن کا شور اور مسافروں کا ہجوم اس وقت بانو کے لیے کسی جلتے ہوئے دوزخ کی مانند تھا۔ اس کی پھٹی ہوئی گلابی چادر اس کے چہرے پر اتنی مضبوطی سے لپٹی ہوئی تھی کہ صرف اس کی سوجی ہوئی مخملی آنکھیں نظر آ رہی تھیں، جن سے مسلسل بہتے آنسو اس کی چادر کو بھگو رہے تھے۔ اس نے لاری اڈے کے ایک کونے میں کھڑی چولستان کی آخری کچی اور پرانی بس کو دیکھا، جس کی چھت پر لوہے کے بڑے بڑے بکسے اور چولستانی مزارعوں کا سامان لدا ہوا تھا۔
بانو نے لرزتے قدموں کے ساتھ بس کے زنانہ حصے میں پیر رکھا۔ بس کے اندر تپتی ہوئی حبس تھی، لیکن بانو کا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔ جیسے ہی بس نے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ بہاولپور کی پکی سڑک کو چھوڑ کر چولستان کے اس کچے اور مٹیالے راستے کا رخ کیا، بانو کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اپنی مٹھی میں اپنے باپ اللہ دتا کی وہ پرانی تسبیح بھیچ رہی تھی جو منشی نے لفافے میں بھیجی تھی۔
“ابا سائیں۔۔۔ میں آ رہی ہوں. اپنی بانو پر تھوڑا بھروسا رکھنا ابا. میں تمہیں ان ظالموں کے اصطبل میں مرنے نہیں دوں گی،” بانو نے دل ہی دل میں روتے ہوئے خدا سے اپنے باپ کی زندگی کی بھیک مانگی۔ لیکن اس کے دل کا ایک حصہ اب بھی ہسپتال کے اس آئی سی یو کے بستر پر چھٹا ہوا تھا جہاں اس کا سائیں صلاح الدین اس کے لیے اپنا خون بہا کر لیٹا تھا۔
دوسری طرف، بہاولپور سینٹرل ہسپتال کے آئی سی یو کوریڈور میں اس وقت ایک ہولناک زلزلہ آ چکا تھا۔ صلاح الدین نے اپنے منہ سے آکسیجن ماسک ہٹایا تو اس کا پورا چہرہ غصے اور صدمے سے سرخ تھا۔ عثمان اور بی بی زلیخا اس کے بیڈ کے پاس کھڑے کانپ رہے تھے۔
“میں نے تم سے پوچھا عثمان! بانو کہاں ہے؟” صلاح الدین کی آواز میں اگرچہ نقاہت تھی، لیکن اس کا جلال اج بھی وہی تھا۔ وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کی وجہ سے اس کے پیٹ پر بندھی سفید پٹی پر خون کے نئے سرخ دھبے ابھرنے لگے تھے۔
“صلاح الدین بھائی! خدا کے لیے لیٹ جائیے، آپ کے ٹانکے ابھی کچے ہیں!” عثمان نے روتے ہوئے صلاح الدین کے کندھوں کو پکڑ کر پیچھے کرنے کی کوشش کی، “بانو۔۔۔ بانو ہسپتال میں کہیں نہیں ہے۔ ڈاکٹروں اور گارڈز نے بتایا ہے کہ پندرہ منٹ پہلے ایک لڑکی چہرہ چھپائے پچھلے ایمرجنسی گیٹ سے باہر نکلی ہے. اور۔۔۔ اور مصلے کے پاس سے ہمیں یہ چائے کی پیالی ملی ہے جس کے نیچے شاہینہ بیگم کے منشی کی خون سے لکھی پرچی موجود تھی!”
عثمان نے کانپتے ہاتھوں سے وہ کچی پرچی صلاح الدین کے سامنے رکھ دی۔ صلاح الدین نے جیسے ہی پرچی پر لکھے الفاظ پڑھے—جہاں اللہ دتا کو حویلی کے اصطبل میں قید کرنے اور بانو کو اکیلے چولستان بلانے کی دھمکی دی گئی تھی—صلاح الدین کی آنکھوں میں قیامت کا غصہ اتر آیا۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں اپنے بازو سے لگی تمام میڈیکل تاریں اور مانیٹر کی سوئیاں نوچ کر پھینک دیں!
“صلاح الدین! یہ کیا پاگل پن ہے؟” افتخار احمد اسی وقت لاؤنج سے دوڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے، اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر ان کا دل دہل گیا، “تم اس حالت میں بستر سے نہیں اٹھ سکتے! میں نے آئی جی کو فون کر دیا ہے، پولیس فورس چولستان جا رہی ہے!”
“نہیں ابا سائیں! یہ پولیس کی جنگ نہیں ہے!” صلاح الدین بستر سے نیچے اترا، اس کے پیروں نے ہسپتال کے ٹھنڈے فرش کو چھوا تو اس کے پیٹ سے درد کی ایک ہولناک لہر اٹھی، جس سے اس کے منہ سے ایک گہری کراہ نکلی، لیکن اس نے دیوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ “شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ پولیس کو دیکھتے ہی اس بوڑھے مزارع اللہ دتا کا گلا کاٹ دیں گے. بانو اپنے باپ کو بچانے کے لیے اکیلی اس بھیڑیوں کے غار میں جا چکی ہے، اور میں اسے وہاں اکیلا مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا! عثمان۔۔۔ گاڑی کی چابی اٹھاؤ، ہمیں ابھی اسی وقت چولستان نکلنا ہے!”
“لیکن بھائی، آپ کا یہ زخم۔۔۔” عثمان نے منت کی۔
“عثمان! اگر اج اس غیور وکیل نے ایک معصوم لڑکی کی چادر اور اس کے باپ کی زندگی کے لیے اپنی جان کی پروا کی، تو یہ قانون بھی زندہ رہے گا اور صلاح الدین کا مان بھی. اگر میں اج گھر بیٹھ گیا، تو میری پوری زندگی کی وکالت پر تھوک دے گی یہ دنیا! چابی اٹھاؤ!” صلاح الدین کی یہ گرج ایسی تھی کہ عثمان کے پاس انکار کی گنجائش نہیں رہی۔ اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور صلاح الدین کو اپنے کندھے کا سہارا دے کر ہسپتال کے وی آئی پی راستے سے باہر لے گیا۔ افتخار احمد اپنے بیٹے کی اس ضد کے آگے بے بس ہو کر اپنی گاڑیوں کے قافلے اور لائسنس یافتہ گارڈز کو الرٹ کرنے لگے.
چولستان کے مضافاتی علاقے “جھگیاں چولستان” میں اس وقت دوپہر کی تپتی ہوئی دھوپ چادر کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ ریت کے ذرے تپتے ہوئے لوہے کی طرح چمک رہے تھے۔ کچی بس نے جب بانو کو چولستان کے اسی کچے راستے پر اتارا، تو دور چولستان کی وہ کالی اور مہیب حویلی کسی اژدھے کی طرح منہ کھولے کھڑی نظر آ رہی تھی۔
بانو نے اپنی چادر کو درست کیا اور لرزتے قدموں سے حویلی کے اس بڑے کالے لوہے کے پھٹک (گیٹ) کی طرف بڑھنے لگی۔ چولستان کے غریب مزارع، جو اپنے کچے ڈیروں پر بیٹھے تھے، انہوں نے بانو کو اکیلے حویلی کی طرف جاتے دیکھا، تو ان کے چہروں پر خوف اور ہمدردی کے تاثرات ابھر آئے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ معصوم لڑکی اج اپنے باپ کی خاطر موت کے کنویں میں جا رہی ہے، لیکن حویلی کے خوف سے کسی مزارع میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک سکے۔
بانو جیسے ہی حویلی کے مین پھٹک پر پہنچی، وہاں کھڑے مسلح گارڈز نے ایک ہولناک ہنسی ہنسی۔ “لو بھئی! چولستان کا شکار خود ہی چل کر حویلی کے دروازے پر آ گیا!” گارڈ نے پھٹک کھولا اور بانو کو اندر دھکیل دیا۔
حویلی کے وڈے صحن میں، جہاں سفید سنگِ مرمر پر دھوپ چمک رہی تھی، شاہینہ بیگم اپنی سونے کی چھڑی تھامے ریشمی مسند پر بیٹھی تھیں، اور ان کے برابر میں سارنگ شاہ اپنے سر پر پٹیاں باندھے، ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا لیے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر وحشیانہ مسکراہٹ تھی، جیسے اسے دنیا کی سب سے بڑی فتح مل گئی ہو۔
بانو صحن کے وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کا چہرہ زرد تھا لیکن اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کو بچانے کا عزم تھا۔ “وڈیرے سارنگ شاہ! شاہینہ بیگم! میں آ گئی ہوں۔۔۔ تمہاری پرچی پڑھتے ہی بانو خود چل کر تمہاری حویلی آ گئی ہے. اب خدا کے لیے میرے بوڑھے باپ اللہ دتا کو آزاد کر دو! اس کا اس کہانی سے کوئی تعلق نہیں ہے!” بانو کی آواز صحن کے در و دیوار سے ٹکرائی۔
سارنگ شاہ آگے بڑھا، اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چمڑے کے کوڑے کو فرش پر زور سے مارا، جس کی گونج سے بانو کا پورا وجود لرز اٹھا۔ “آ گئی تو؟ بڑا غرور تھا نا تجھے اس شہری بابو صلاح الدین پر؟ بڑا وکیل بنتا تھا وہ؟ رات ہسپتال میں اس نے جبار کو پکڑوا کر سمجھا کہ وہ چولستان کے وڈیروں کو جھکا دے گا؟ دیکھ لڑکی! اج تو ہمارے پیروں میں کھڑی ہے، اور وہ تیرا محافظ ہسپتال کے بستر پر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے!”
شاہینہ بیگم نے چائے کی پیالی میز پر رکھی اور اپنی زہریلی نظریں بانو پر ٹکائیں۔ “بانو لڑکی! شاہینہ بیگم کا وار کبھی خالی نہیں جاتا. تیرے باپ کی زندگی اب ہمارے اس کوڑے کے نیچے ہے. اگر اپنے باپ اللہ دتا کی چتا چولستان کی ریت پر نہیں دیکھنا چاہتی، تو تجھے ہماری دو شرطیں ماننی ہوں گی!”
“بولیں شاہینہ بیگم! آپ کی کیا شرطیں ہیں؟” بانو نے تڑپ کر پوچھا۔
“پہلی شرط!” شاہینہ بیگم نے سونے کی چھڑی سے بانو کی طرف اشارہ کیا، “تجھے کل صبح بہاولپور کی عدالت میں جج کے سامنے کھڑے ہو کر یہ جھوٹا بیان دینا ہوگا کہ صلاح الدین ایک بدمعاش ہے، اس نے تجھے زبردستی اغوا کیا تھا اور حویلی کے تمام الزامات جھوٹے ہیں! اور دوسری شرط۔۔۔” شاہینہ بیگم کے لبوں پر ایک ہولناک مسکراہٹ ابھری، “عدالت کے بعد، تو ہمیشہ کے لیے سارنگ شاہ کی لونڈی بن کر اسی حویلی کے پچھلے اصطبل کے کمرے میں رہے گی اور چولستان کی مٹی سے کبھی باہر پیر نہیں رکھے گی!”
بانو کا خون جم گیا۔ صلاح الدین کے خلاف جھوٹا بیان؟ اس غیور انسان کے خلاف جس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کی حیا کی حفاظت کی؟ بانو نے نفی میں سر ہلایا، “نہیں۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا! میں اس پاک انسان کے خلاف جھوٹ کبھی نہیں بولوں گی!”
سارنگ شاہ کا غصہ بھڑک اٹھا۔ اس نے بانو کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتا ہوا حویلی کے پچھلے حصے میں واقع اس کچے اور بدبودار اصطبل کی طرف لے گیا جہاں گھوڑے بندھے تھے۔ اصطبل کے آخری کونے میں، لوہے کے ایک بڑے ستون کے ساتھ بانو کا ستر سالہ بوڑھا باپ، اللہ دتا، لوہے کی بھاری زنجیروں سے بندھا ہوا تھا۔ اس کا کرتا پھٹا ہوا تھا، چہرے پر مٹی اور سوجن تھی، اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں گرتا پڑتا خدا کا نام لے رہا تھا۔
“ابا سائیں۔۔۔!!!” بانو پاگلوں کی طرح چیخٹی ہوئی اپنے باپ کی طرف دوڑی اور اس کے پیروں سے لپٹ گئی۔ “ابا آنکھیں کھولو ابا! دیکھو آپ کی بانو آ گئی ہے ابا!”
اللہ دتا نے لرزتی ہوئی پلکیں اٹھائیں، اپنی بیٹی کو حویلی کے قید خانے میں دیکھ کر اس کے بوڑھے حلق سے ایک دردناک چیخ نکلی، “بانو دھیے! تو کیوں آئی یہاں؟ یہ بھیڑیے تجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے دھیے! بھاگ جا یہاں سے، میرے بوڑھے کی جان کی پروا مت کر، بھاگ جا دھیے!”
“چپ کر بوڑھے مزارع!” سارنگ شاہ نے کوڑا ہوا میں لہرایا اور اللہ دتا کی پیٹھ پر ایک زوردار وار کیا، جس سے بوڑھے کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔
“نہیں وڈیرے! خدا کے لیے میرے ابا کو مت مارو!” بانو نے سارنگ شاہ کے پیر پکڑ لیے، اس کے آنسو سارنگ شاہ کے بوٹوں پر گر رہے تھے، “میں مانتی ہوں! میں آپ کی سب شرطیں مانتی ہوں! میں صلاح الدین سائیں کے خلاف عدالت میں جھوٹا بیان بھی دوں گی، اور میں عمر بھر آپ کے اصطبل کی خاک چھانوں گی، بس میرے ابا پر کوڑے مت برسائیں!” بانو اس وقت ایک بے بس اور ہاری ہوئی بیٹی بن کر وڈیرے کے سامنے اپنے گھٹنوں کے بل ڈھیر ہو چکی تھی، اور سارنگ شاہ کے لبوں پر ایک ہولناک، فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔
عین اسی وقت، چولستان کی اسی تپتی ہوئی کچی سڑک پر، جہاں ریت کا ایک ہلکا سا طوفان اٹھ رہا تھا، عثمان کی تیز رفتار گاڑی ریت اڑاتی ہوئی حویلی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر صلاح الدین لیٹا ہوا تھا؛ اس کا پورا ہسپتال کا لباس پیٹ کے زخم سے نکلنے والے خون سے لال ہو چکا تھا، اس کا چہرہ درد کی شدت سے بالکل سفید تھا اور ماتھے پر پسینے کے بڑے بڑے قطرے چمک رہے تھے. لیکن اس کی مٹھیاں اس حد تک بھیچی ہوئی تھیں کہ اس کے ناخن اس کی ہتھیلیوں میں دھنس رہے تھے۔ اس کی عقابی آنکھیں سامنے نظر آنے والی اس کالی حویلی پر جمی ہوئی تھیں۔
صلاح الدین کا سانس اکھڑ رہا تھا، لیکن اس کے لبوں پر صرف ایک ہی نام تھا: “بانو۔۔۔ میں آ رہا ہوں. صلاح الدین اپنا وعدہ مرتے دم تک نہیں توڑے گا!”