Urdu Short Stories 5

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 5

رات کے بارہ بجے کی خاموشی بہاولپور شہر کی اس سنسان سڑک پر ایک ہولناک سائے کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ ہاسٹل کے پچھلے لوہے کے چھوٹے دروازے سے بانو باہر نکلی، تو جولائی کی گرم ہوا کے جھونکے نے اس کی گلابی چادر کو ہوا میں اڑایا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے چادر کو اپنے وجود پر اور مضبوطی سے لپیٹ لیا۔ اس کے پیروں میں پہنی ہوئی چپل مٹی پر گھسٹ رہی تھی اور اس کی مخملی انکھیں انسوؤں سے اس قدر دھندلا چکی تھیں کہ اسے سامنے کھڑی کالی پراڈو گاڑی ایک جلاد کے سائے کی طرح نظر ا رہی تھی۔ اس کا دل سینے میں اتنے زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر ا جائے گا۔ وہ اپنے گلے میں موجود امجد کے اس لکڑی کے لاکٹ کو ایک ہاتھ سے دبا رہی تھی، جیسے اپنے مرے ہوئے منگیتر سے اخری بار کہہ رہی ہو کہ ‘امجد سائیں! دیکھنا، اپ کی بانو اپنی جان دے دے گی، لیکن اپنی حیا پر داغ نہیں انے دے گی۔’
پراڈو گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور اندھیرے میں سے سارنگ شاہ کا وحشیانہ اور متکبرانہ چہرہ نمودار ہوا۔ اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ، مکار ہنسی تھی، “ا جا بانو۔۔۔ اخر کار تو خود چل کر سارنگ شاہ کے پیروں میں ا ہی گئی۔ میں نے کہا تھا نا، چولستان کی مٹی سے نکل کر شہر کے یہ بابو تجھے مجھ سے نہیں بچا سکتے۔”
بانو سڑک کے کنارے رک گئی۔ اس کے انسو اب تھم چکے تھے اور ان کی جگہ ایک مظلوم لیکن غیور لڑکی کی نفرت نے لے لی تھی۔ اس نے لرزتی لیکن مضبوط اواز میں کہا، “وڈیرے سارنگ شاہ! میں یہاں تیرے ظلم کے سامنے ہار کر نہیں ائی۔ میں اپنے بوڑھے باپ اور معصوم بھائی ساجد کی زندگی کی بھیک مانگنے ائی ہوں۔ تو نے میرے امجد کو مارا، اب اگر میرے خاندان کو کچھ ہوا، تو اللہ کی قسم میں اسی گاڑی میں اپنی جان دے دوں گی، لیکن تیرے ہاتھ میرے وجود کو نہیں چھو سکیں گے!”
سارنگ شاہ کا غصہ ایک دم بھڑک اٹھا، “زبان سنبھال لڑکی! اب تو میری قید میں ہے۔ جبار! اسے گاڑی کے اندر کھینچو، اب اس کی قسمت کا فیصلہ حویلی کے بند کمرے میں ہوگا!”
جبار جیسے ہی آگے بڑھا اور بانو کا بازو پکڑنے کے لیے ہاتھ اٹھایا، اچانک سڑک کے دوسرے کونے سے ایک ایسی ہولناک، کانیں پھاڑ دینے والی بریک کی اواز ائی کہ سب کے سب چونک گئے۔ تیز رفتار ہیڈ لائٹس کی چمک نے سارنگ شاہ کی انکھوں کو چدھیا دیا۔
وہ صلاح الدین کی سفید فورچیونر گاڑی تھی، جو کسی طوفان کی طرح ائی اور سیدھی سارنگ شاہ کی پراڈو کے بالکل سامنے ا کر رکی، جیسے کوئی شیر اپنے شکار کو بچانے کے لیے جھپٹا ہو۔ گاڑی کا دروازہ اتنے زور سے کھلا کہ اس کی اواز رات کے سناٹے میں دھماکے کی طرح گونجی۔
صلاح الدین گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر اج کوئی وکیل یا بزنس مین نہیں تھا، بلکہ اس کی انکھوں میں وہ وحشیانہ، غیور پٹھان اور مردانگی جاگ چکی تھی جس کے سامنے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ اس نے دیکھا کہ بانو سڑک پر کھڑی کانپ رہی ہے اور جبار کا ہاتھ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“اپنی گندی مٹھیاں پیچھے کرو، اس سے پہلے کہ میں تمہارے یہ ہاتھ جسم سے الگ کر دوں!” صلاح الدین کی اواز سڑک پر کسی گرج دار بجلی کی طرح کڑکی۔
سارنگ شاہ نے جب صلاح الدین کو دیکھا، تو اس کی انکھوں میں پرانا بدلہ جاگ اٹھا، “اوئے شہری بابو! تو پھر ا گیا؟ جیل کی ہوا کھا کر میرا حوصلہ اور بڑھ گیا ہے۔ تو اپنے باپ کی سیاست پر ناز کرتا ہے نا؟ تیرے باپ نے خود میرے پیروں میں گر کر تیری جان کی بھیک مانگی ہے۔ یہ لڑکی اب میری ہے، پیچھے ہٹ جا ورنہ اج تیری لاش اسی سڑک پر سڑے گی!” سارنگ شاہ نے اپنی کمر سے پسٹل نکال کر سیدھی صلاح الدین کے سینے پر تان دی۔
بانو نے جب سارنگ شاہ کی بندوق صلاح الدین پر تنی دیکھی، تو وہ تڑپ اٹھی، “نہ سائیں صلاح الدین! خدا کے لیے آپ پیچھے ہٹ جائیں! آپ نے میرے لیے بہت کچھ کیا، اب میری خاطر اپنی جان داؤ پر مت لگائیں، یہ بھیڑیا آپ کو مار ڈالے گا سائیں!” بانو روتے ہوئے صلاح الدین کے آگے ا کھڑی ہوئی۔
صلاح الدین نے نہایت نرمی لیکن ایک ناقابلِ شکست مان کے ساتھ بانو کو اپنے پیچھے کیا، اس کا طویل وجود بانو کے لیے ایک ایسی چھاؤں بن گیا جس کے پار کوئی گولی نہیں جا سکتی تھی۔ اس نے سارنگ شاہ کی تنی ہوئی پسٹل کی نال کو دیکھا اور ایک انچ بھی پیچھے ہٹے بغیر، انتہائی سرد اور ہولناک اواز میں بولا:
“سارنگ شاہ! میرے باپ نے سیاست بچائی ہوگی، لیکن میں نے اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا۔ تم سمجھتے ہو کہ تم جیل سے باہر آ کر دوبارہ چولستان کے خدا بن گئے ہو؟ تم نے ایک نہتے امجد کو پیٹھ پیچھے گولیاں ماریں کیونکہ تم مرد نہیں ہو! اگر ہمت ہے، تو اس بندوق کو سائیڈ پر رکھو اور ایک سچے غیور مرد کی طرح میرے سامنے آؤ۔ آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ کسی مظلوم لڑکی کی چادر پر ہاتھ ڈالنے کا انجام کیا ہوتا ہے!”
سارنگ شاہ کا جاگیردارانہ تکبر اس للکار کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے پسٹل جبار کی طرف پھینکی اور غصے سے پاگل ہو کر صلاح الدین پر جھپٹا۔
لیکن صلاح الدین پہلے سے تیار تھا۔ جیسے ہی سارنگ شاہ نے اپنا مکا اٹھایا، صلاح الدین نے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی دبوچ لیا اور اپنے پورے وجود کی طاقت سمو کر ایک ایسا خوفناک مکا سارنگ شاہ کے جبڑے پر مارا کہ سارنگ شاہ کے منہ سے خون کا فوارہ چھوٹا اور وہ سڑک کے تپتے ہوئے لک پر دور جا گرا۔ جبار اور اس کے غنڈوں نے جیسے ہی اپنی بندوقیں اٹھانے کی کوشش کی، صلاح الدین کے گارڈز جو دوسری گاڑی میں آئے تھے، انہوں نے اپنی اٹو میٹک گنز ان کے ماتھے پر رکھ دیں۔
صلاح الدین آگے بڑھا، اس نے سڑک پر گرے ہوئے سارنگ شاہ کا گریبان پکڑا اور اسے زمین سے اٹھا کر گاڑی کے بونٹ پر دے مارا۔ “یہ مکا اس امجد کے خون کا حساب ہے جس کی دنیا تم نے اجاڑی!” صلاح الدین نے دوسرا مکا اس کے پیٹ پر مارا، “اور یہ تمہارے اس تکبر کا علاج ہے جو تم ایک غریب باپ کے سر پر پٹیاں باندھ کر دکھا رہے تھے!” سارنگ شاہ جو چولستان میں لوگوں کو اپنے پیروں تلے مسلتا تھا، اج بہاولپور کی سڑک پر صلاح الدین کے ہاتھوں ایک جانور کی طرح پٹ رہا تھا اور اس کی ہڈیاں ٹوٹنے کی آاوازیں رات کے اندھیرے میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
بانو سڑک کے کنارے کھڑی، اپنی گلابی چادر کو دانتوں میں دبائے حیرت اور انسوؤں سے اپنے اس محافظ کو دیکھ رہی تھی جو اس کی عزت کی خاطر ایک وڈیرے کو مٹی میں ملا رہا تھا۔ اس کے دل میں امجد کا دکھ تو تھا، لیکن صلاح الدین کی اس بے پناہ غیرت نے بانو کے دل کے اندر ایک ایسا رشتہ قائم کر دیا تھا جو لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔
صلاح الدین نے ادھ موئے سارنگ شاہ کو سڑک پر پھینکا اور جبار کی طرف دیکھ کر بولا، “اپنے اس آقا کی لاش اٹھاؤ اور یہاں سے دفع ہو جاؤ! اور اسے بتا دینا کہ اگر اس نے دوبارہ بہاولپور کی طرف رخ کیا، تو وہ زندہ چولستان واپس نہیں جائے گا!” جبار اور غنڈے لرزتے ہوئے سارنگ شاہ کو اٹھا کر پراڈو میں ڈال کر تیزی سے بھاگ گئے۔
سڑک پر اب دوبارہ خاموشی تھی، صرف صلاح الدین کے تیز سانسوں کی آ واز آ رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ پر لگا ہوا خون صاف کیا اور بانو کی طرف مڑا۔ بانو فرش پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔
صلاح الدین اس کے سامنے جھکا، اس کی آواز اب بالکل نرم اور ہمدردانہ ہو چکی تھی، “بانو! تم ہاسٹل سے کیوں نکلیں؟ تم نے مجھ پر بھروسا کیوں نہیں کیا؟ تمہیں کیا لگا کہ صلاح الدین تمہاری چادر کا سودا ہونے دے گا؟”
بانو نے روتے ہوئے اپنا چہرہ اٹھایا، “سائیں! آپ کے تایا زاد بھائی کامران نے مجھے کہا تھا کہ سارنگ شاہ رہا ہو گیا ہے اور وہ میرے ساجد اور ابا کو مار ڈالے گا۔ میں ڈر گئی تھی سائیں، میں آپ کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی!”
جیسے ہی بانو کے منہ سے کامران کا نام نکلا، صلاح الدین کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ اس کے اپنے ہی گھر کا خون، اس کا اپنا تایا زاد بھائی غدار نکل آیا تھا اور اسی نے بانو کو موت کے منہ میں دھکیلا تھا۔ صلاح الدین کی انکھوں میں سسپنس اور ہولناک غصے کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ وہ سمجھ گیا کہ حویلی کا زہر اب اس کے اپنے آفس اور گھر کے اندر تک پھیل چکا ہے!
بہاولپور کی سڑک پر آدھی رات کی خاموشی اب مزید سنگین ہو چکی تھی۔ سارنگ شاہ اور اس کے غنڈے ایک جانور کی طرح پٹ کر بھاگ چکے تھے، لیکن اس سڑک پر اب بھی دو روحیں کھڑی تھیں، جن کے درمیان خاموشی کسی بھاری پتھر کی طرح حائل تھی۔ صلاح الدین کے تیز سانسوں کی آواز اب دھیمی ہو چکی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں غصے اور صدمے کی ایک نئی لہر ابھر آئی تھی۔ اس نے ابھی بانو کے منہ سے وہ نام سنا تھا جس نے اس کے اپنے ہی گھر کی چھت کو اس کے اوپر گرا دیا تھا۔
“کامران۔۔۔؟” صلاح الدین نے یہ نام اس طرح دہرایا جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو۔ اس کے اپنے تایا زاد بھائی، اس کے خون نے اس مظلوم لڑکی کو موت کے منہ میں دھکیلا تھا؟
بانو سڑک کے کنارے، مٹی پر بیٹھی اپنی گلابی چادر میں منہ چھپائے اب بھی سسکیاں لے رہی تھی۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ صلاح الدین کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا، پھر ایک گہرا سانس لے کر اس کے قریب جھکا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، لیکن بانو کی حیا کا پاس رکھتے ہوئے اسے چھوئے بغیر، انتہائی نرم اور تسلی بخش آواز میں بولا:
“بانو! اٹھو۔ اب یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ بھیڑیا بھاگ گیا ہے، لیکن رات گہری ہے۔”
بانو نے کانپتے ہاتھوں سے چادر ہٹائی اور اپنی نم آلود، مخملی آنکھیں صلاح الدین کے چہرے پر ٹکائیں۔ اس کی آواز حلق میں پھنس رہی تھی، “سائیں صلاح الدین! آپ نے پھر میری جان بچائی۔ آپ محسن ہیں، لیکن میں آپ کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی وجہ نہیں بننا چاہتی۔ کامران سائیں نے کہا تھا کہ سارنگ شاہ میرے ساجد اور ابا کو مار ڈالے گا۔ میں ہار گئی تھی سائیں، میں اپنے خاندان کو مٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی!”
صلاح الدین کے چہرے پر ایک ایسی فولادی مسکراہٹ آئی جو صرف ایک پکا اور غیرت مند مرد ہی لا سکتا ہے۔ اس نے بانو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
“بانو! صلاح الدین کا ایک اصول ہے، جب وہ کسی کی چادر کا محافظ بنتا ہے، تو پھر اس کے لیے اپنی جان کا سودا بھی سستا لگتا ہے۔ کامران نے تمہیں جھوٹ بول کر ڈرایا۔ سارنگ شاہ جیل سے رہا ہوا ہے، لیکن اس کی اتنی جرات نہیں کہ وہ تمہارے خاندان کی طرف ایک قدم بھی بڑھا سکے۔ اب میں تمہیں ہاسٹل واپس نہیں لے کر جاؤں گا، کیونکہ وہاں تم اب محفوظ نہیں ہو۔”
“تو۔۔۔ تو پھر میں کہاں جاؤں گی سائیں؟” بانو کے چہرے پر دوبارہ خوف پھیل گیا۔
“میری کمپنی کی ایک پرانی، وفادار ملازمہ ہے، بی بی زلیخا، جو ایک چھوٹے اور خاموش گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ میں تمہیں ان کے پاس لے کر جا رہا ہوں۔ وہاں بی بی زلیخا تمہاری ماں کی طرح خیال رکھیں گی اور وہاں تک کسی حویلی کے غنڈے کا سایہ بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ اور بانو۔۔۔” صلاح الدین نے ایک لمحے کے لیے رک کر، انتہائی سنجیدگی سے کہا، “اج کے بعد کبھی خود کو اکیلا مت سمجھنا۔ جب تک صلاح الدین کا سانس چل رہا ہے، کوئی بھی تمہاری عزت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا!”
صلاح الدین کے اس باوقار اور سچے وعدے نے بانو کے روتے ہوئے دل کو ایک ایسی چھاؤں دی، جس کا احساس اس نے امجد کے بعد کبھی نہیں کیا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور صلاح الدین نے نہایت احترام سے اس کے لیے فورچیونر کا دروازہ کھولا۔ گاڑی اندھیرے میں روانہ ہو گئی۔
بانو کو بی بی زلیخا کے محفوظ گھر پہنچانے اور اسے تسلی دینے کے بعد، صلاح الدین نے جب گاڑی واپس اپنے بنگلے کی طرف موڑی، تو اس کا چہرہ ایک جلاد کے چہرے میں بدل چکا تھا۔ وہ اپنے تایا زاد بھائی کامران کی غداری کو ہضم نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے دماغ میں بار بار وہ منظر گھوم رہا تھا کہ کس طرح کامران نے اس معصوم لڑکی کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے موت کے منہ میں بھیجا۔
جب صلاح الدین بنگلے پر پہنچا، تو رات کے تین بج رہے تھے۔ گھر کے تمام ملازم سو چکے تھے، لیکن کامران کے کمرے کی کھڑکی سے ہلکی روشنی آ رہی تھی۔ صلاح الدین نے گاڑی کا دروازہ اتنے زور سے بند کیا کہ اس کی آواز پورے پورچ میں گونجی۔ وہ تیز قدموں سے لاؤنج کو عبور کرتا ہوا سیدھا کامران کے کمرے کی طرف بڑھا۔
کامران اپنے کمرے میں شراب کی بوتل ہاتھ میں لیے، شاہینہ بیگم کے ساتھ کال پر ا پنے کالے کھیل کی کامیابی کا جشن منا رہا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ بانو اب سارنگ شاہ کی قید میں ہوگی اور صلاح الدین اب کبھی اسے ڈھونڈ نہیں پائے گا۔ عین اسی وقت، کمرے کا دروازہ ایک ہولناک دھماکے کے ساتھ کھلا اور صلاح الدین ایک شیر کی طرح اندر داخل ہوا۔
کامران کے ہاتھ سے شراب کا گلاس چھوٹ کر فرش پر چور چور ہو گیا۔ اس کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ گیا۔
“صلاح الدین۔۔۔ تم؟ اس وقت؟” کامران کی آواز لرزنے لگی۔
صلاح الدین نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ وہ دو قدم آگے بڑھا اور کامران کے گریبان کو اتنے زور سے پکڑا کہ اس کے قیمتی سوٹ کے بٹن ٹوٹ کر دور جا گرے۔ صلاح الدین نے کامران کو جھٹکے سے اٹھایا اور اسے دیوار کے ساتھ اتنے زور سے پٹخا کہ دیوار پر لگی ہوئی ایک مہنگی پینٹنگ نیچے گر گئی۔
“اوئے غدار! تجھے کیا لگا تھا کہ تو میرے ہی گھر میں بیٹھ کر میرے ہی خون کا سودا کرے گا؟” صلاح الدین کی آواز پورے بنگلے میں گونجی، جس سے ملازم اور صلاح الدین کے باپ افتخار احمد بھی جاگ گئے۔ “تو نے اس معصوم دیہاتی لڑکی کو، بانو کو، جھوٹ بول کر اس بھیڑیے سارنگ شاہ کے پاس بھیجا؟ تو شاہینہ بیگم کا کالا کتا بن گیا؟”
کامران کا سانس گھٹ رہا تھا، اس نے صلاح الدین کا ہاتھ ہٹانے کی ناکام کوشش کی، “نہیں صلاح الدین۔۔۔ تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میں تو بس۔۔۔ میں تو بس ہماری سیاست بچا رہا تھا۔ تمہارے اباجی کی سیاست۔۔۔”
“خاموش۔۔۔!” صلاح الدین نے کامران کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مارا، جس سے کامران کے ہونٹ سے خون بہنے لگا۔ “سیاست کے نام پر تو نے ایک مظلوم لڑکی کی چادر کا سودا کیا؟ اس امجد کے خون کا سودا کیا جسے اس نے حویلی میں مارا؟ کامران! اگر تو میرا بھائی نہ ہوتا، تو اللہ کی قسم اج تیری لاش اسی کمرے سے نکلتی!”
عین اسی وقت، لاؤنج میں افتخار احمد اور گھر کے ملازم بھاگتے ہوئے آ گئے۔ افتخار احمد نے جب یہ منظر دیکھا، تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
“صلاح الدین! یہ کیا پاگل پن ہے؟ تم اپنے بھائی پر ہاتھ اٹھا رہے ہو؟” افتخار احمد نے چلاتے ہوئے کہا۔
صلاح الدین نے کامران کو جھٹکے سے فرش پر پھینک دیا، جہاں وہ لرزتا ہوا اور اپنا منہ دباتا ہوا پڑا تھا۔ صلاح الدین اپنے باپ کی طرف مڑا، اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کے لیے بھی ایک عجیب سی حقارت ابھر آئی تھی:
“اباجی! اپ کی سیاست کا جنازہ تو شاہینہ بیگم نے اسی دن اٹھا دیا تھا جب انہوں نے سارنگ شاہ کو جیل سے رہا کروایا۔ لیکن اپ کا یہ بھتیجا، کامران، اس نے ہماری غیرت کا جنازہ بھی اٹھا دیا ہے۔ اس نے بانو کو ڈرا کر، جھوٹ بول کر رات کے اندھیرے میں سارنگ شاہ کے غنڈوں کے پاس بھیجا تھا۔ اباجی! اپ کو اپنی سیاست پیاری ہے، لیکن مجھے اس لڑکی کی چادر کی چھاؤں پیاری ہے جس نے میری غیرت کو للکارا ہے۔ اج کے بعد، کامران کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اگر اس نے دوبارہ بانو کی طرف ایک قدم بھی بڑھایا، تو اسے صلاح الدین کی گولی کا سامنا کرنا پڑے گا!”
صلاح الدین کی اس کڑک دار، فولادی للکار نے پورے بنگلے میں سانپ سونگھا دیا۔ افتخار احمد بھی اپنے بیٹے کے اس سخت روپ کے سامنے کچھ نہ بول سکے۔ صلاح الدین مڑا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ کامران فرش پر پڑا، نفرت اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔
لیکن کہانی کا سب سے ہولناک اور سنسنی خیز موڑ ابھی چولستان کی اسی کالی حویلی کے اندر تیار ہو رہا تھا۔ سارنگ شاہ بہاولپور میں صلاح الدین کے ہاتھوں پٹ کر اور ہڈیاں تڑوا کر جب حویلی واپس پہنچا، تو شاہینہ بیگم نے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی تو ان کے چہرے پر خاندانی تکبر کا زہر ابھر آیا۔ وہ اپنے بیٹے کے سر پر پٹیاں باندھ رہی تھیں، جبکہ جبار ان کے سامنے لرزتا ہوا کھڑا تھا۔
“شاہینہ بیگم! وہ شہری لڑکا کوئی عام انسان نہیں ہے، وہ تو ایک شیر ہے!” جبار نے ڈرتے ہوئے کہا۔ “اس نے سارنگ شاہ سائیں کو اس قدر مارا کہ پولیس بھی اس کے سامنے نہیں آئی۔”
شاہینہ بیگم کے لبوں پر ایک سفاک، زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ ان کی آنکھوں میں خاندانی تکبر اور بانو کے لیے شدید نفرت رقص کر رہی تھی۔ انہوں نے سارنگ شاہ کا سر اپنی گود میں لیا اور دھیمی، ہولناک آواز میں بولیں:
“خاموش رہو جبار! سارنگ شاہ کو ایک شہری لڑکے نے مارا ہے نا؟ تو اس کا بدلہ بھی چولستان کی مٹی پر نہیں، بلکہ اسی بہاولپور شہر کی سڑکوں پر ہوگا! شاہینہ بیگم کا ایک اصول ہے، وہ اپنے دشمن کو آسانی سے نہیں مارتیں۔” انہوں نے جبار کی طرف دیکھا اور ایک کالا لفافہ اس کی طرف بڑھایا، “یہ بھاری رقم لو، اور بہاولپور کے اس بدنام زمانہ شوٹر ‘رستم خان’ کو بلاؤ! صلاح الدین نے میری غیرت پر ہاتھ ڈالا ہے نا؟ اب اس کا حساب اس کے اپنے خون سے ہوگا۔ رستم خان کو بانو کی لوکیشن کا پتا لگواؤ، اور اسے کہو کہ جب صلاح الدین اس لڑکی کو بچانے کے لیے اس کے پاس جائے، تو ان دونوں کی لاشیں اسی شہر کی سڑک پر ملیں! میں بانو کو بدنام نہیں کروں گی سارنگ۔۔۔ میں اسے اس صلاح الدین کے ساتھ اسی دنیا سے مٹا دوں گی جس پر اسے اتنا ناز ہے!”
چولستان کی تپتی ریت پر شاہینہ بیگم کا یہ خونی کھیل اب شروع ہو چکا تھا۔ بانو اب بی بی زلیخا کے گھر میں چھپی ہوئی ہے۔ لیکن حویلی کا زہر اب براہ راست صلاح الدین کی جان کے پیچھے پڑ چکا تھا ۔

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 6