بہاولپور شہر کی صبح جولائی کی حبس زدہ گرمی کے ساتھ اتری تھی۔ کنسٹرکشن کمپنی کے ایک بڑے، جدید بلڈنگ کے تیسرے فلور پر بانو کھڑی تھی۔ اس نے اج ہاسٹل کی وارڈن کے کہنے پر ایک سادہ سا ہلکے سرمئی رنگ کا شلوار قمیص پہن رکھا تھا، لیکن اس کے سر اور وجود پر اب بھی وہی جھگیاں چولستان کی گلابی چادر مضبوطی سے لپٹی ہوئی تھی، جو اس کی حیا، اس کی خودداری اور امجد کی سچی محبت کی آخری نشانی تھی۔ بانو نے اپنے ہاتھ میں اکاؤنٹس کی ایک بھاری رجسٹر سنبھال رکھی تھی، لیکن اس کا میٹرک پاس ذہن اج اس جدید افس کے کمپیوٹرز، ائیر کنڈیشنر کی سائیں سائیں اور یہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان خود کو بالکل اجنبی اور مظلوم محسوس کر رہا تھا۔ اس کی نظریں رہ رہ کر اپنے ان نازک ہاتھوں پر پڑتیں جن پر کبھی امجد کے نام کی مہندی سجنی تھی، اور اج ان ہاتھوں میں قلم اور حساب کتاب کے کاغذات تھے۔ اس کی انکھوں کے کونے مسلسل بھیگے ہوئے تھے، وہ جیسے ہی کسی کاغذ پر کوئی ہندسہ لکھتی، امجد کا مسکراتا ہوا چہرہ اس کے سامنے ا جاتا اور اس کے ہاتھ کانپنے لگتے۔
“بانو بی بی! پریشان مت ہو، آہستہ آہستہ تم یہ سارا کام سیکھ جاؤ گی،” اسی وقت اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ، عثمان صاحب نے نہایت نرمی سے کہا۔ عثمان ایک ۳۵ سالہ، انتہائی سنجیدہ، باوقار اور پرسکون چہرے والے شخص تھے، جو پچھلے سات سالوں سے صلاح الدین کی کمپنی کے سب سے وفادار اور قابلِ اعتماد ملازم تھے۔ صلاح الدین انہیں اپنا ملازم نہیں بلکہ اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا۔
بانو نے چادر کی اوٹ سے اثبات میں سر ہلایا اور دھیمی، لرزتی اواز میں بولی، “جی عثمان سائیں! میں پوری کوشش کروں گی کہ مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو، سائیں صلاح الدین نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے، میں ان کا نمک حرام نہیں ہونا چاہتی۔”
عثمان بانو کے چہرے پر پھیلے اس معصوم، پاکیزہ درد اور اس کے بولنے کے روایتی سرائیکی لہجے کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں جیسے ہی بانو کے منہ سے “جھگیاں چولستان” اور “امجد” کے ناموں کی ہلکی سی جھلک پچھلے دو دنوں کی باتوں میں ملی تھی، ان کے دل کے اندر ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہو چکی تھی۔ وہ کچھ دیر تک بانو کو دیکھتے رہے، پھر انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک پرانا، لکڑی کا چھوٹا سا لاکٹ نکال کر میز پر رکھ دیا، جس پر بڑی خوبصورتی سے “ب” کا حرف کھدا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ایک میلا سا کاغذ کا ٹکڑا تھا۔
جیسے ہی بانو کی نظر اس لکڑی کے لاکٹ پر پڑی، اس کے پورے وجود کو جیسے بجلی کا ایک زوردار جھٹکا لگا۔ اس کا سانس ایک سیکنڈ کے لیے رک گیا، اس کی مخملی انکھیں پھٹ گئیں اور اس کے ہاتھ سے اکاؤنٹس کا رجسٹر چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔
یہ لاکٹ۔۔۔ یہ کوئی عام لاکٹ نہیں تھا۔ یہ وہی لکڑی کا لاکٹ تھا جو امجد نے خود اپنے ہاتھوں سے کیکر کی لکڑی کو تراش کر بانو کی اٹھارویں سالگرہ پر اسے دینے کے لیے بنایا تھا، لیکن گاؤں کی ایک مقامی لڑائی اور مصروفیت کی وجہ سے وہ اسے دے نہیں پایا تھا اور کہا تھا کہ یہ امانت اس نے شہر میں اپنے ایک جگری دوست کے پاس رکھوائی ہے۔
“یہ۔۔۔ یہ لاکٹ آپ کے پاس کہاں سے ایا سائیں؟” بانو کی اواز حلق میں پھنس گئی، اس کا پورا وجود بری طرح کانپنے لگا۔ وہ میز کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی۔
عثمان کے چہرے پر ایک شدید جذباتی اور گہرا دکھ ابھر ایا۔ ان کی انکھوں میں بھی انسو ا گئے۔ انہوں نے بانو کی طرف دیکھا اور دھیمی، ٹوٹتی اواز میں کہا، “بانو بی بی! تو وہی بانو ہے نا۔۔۔ جس کے عشق کے قصے میرا جگری یار امجد مجھے شہر کی منڈی میں بیٹھ کر سنایا کرتا تھا؟ تو اسی امجد کی منگیتر ہے نا، جو مرتے دم تک تیری پاکیزگی کی قسمیں کھاتا تھا؟”
بانو نے جیسے ہی عثمان کے منہ سے امجد کا نام سنا، اس کے ضبط کا بندھن تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ وہ فرش پر بیٹھ گئی اور اس لاکٹ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کا رو رو کر برا حال ہو گیا۔ اس کی سسکیاں اور دھاڑیں افس کے اس بند کمرے میں گونجنے لگیں، “امجد سائیں! آپ مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔۔۔ ظالموں نے آپ کو مجھ سے چھین لیا!” اس کا درد اتنا سچا اور حقیقی تھا کہ عثمان نے اپنی زندگی میں محبت کا ایسا تڑپتا ہوا روپ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
عثمان نے جھک کر وہ میلا سا کاغذ کا ٹکڑا بانو کے سامنے بڑھایا، “بانو بی بی! امجد جب اخری بار بہاولپور شہر اناج منڈی ایا تھا، تو وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ حویلی کا سارنگ شاہ تیری عزت کے پیچھے پڑ چکا ہے اور اسے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس نے مرنے سے ایک دن پہلے مجھے یہ خط اور یہ لاکٹ دیا تھا اور کہا تھا کہ عثمان یار! اگر مجھے کچھ ہو جائے، تو میری بانو کو شہر بلا لینا اور اس کی حفاظت کرنا۔ لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ظالم اتنی جلدی اسے مجھ سے چھین لیں گے اور تم یہاں سیدھی صلاح الدین بھائی کے پاس پہنچ جاؤ گی!”
بانو نے لرزتے ہاتھوں سے امجد کا وہ اخری خط کھولا۔ خط پر امجد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ٹیڑھی میڑھی تحریر تھی، جس پر جگہ جگہ اس کے اپنے پسینے اور مٹی کے نشان تھے۔ خط میں لکھا تھا:
“میری پاکیزہ بانو! اگر یہ خط تمہارے ہاتھوں تک پہنچے، تو سمجھ لینا کہ تمہارا امجد اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ لیکن بانو، تم نے ہار نہیں ماننی۔ حویلی کے وڈیرے میری جان تو لے سکتے ہیں، لیکن تمہاری حیا کو نہیں چھو سکتے۔ تم گاؤں چھوڑ کر شہر میرے بھائی عثمان کے پاس چلی جانا، وہ تمہارا محافظ بنے گا۔ بانو! اپنے اس امجد کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا، میں نے تم سے سچا عشق کیا تھا اور اگلی دنیا میں بھی تمہارا ہی انتظار کروں گا۔”
بانو نے اس خط کو اپنے ہونٹوں سے لگایا، اسے چوما اور اپنی انکھوں پر رکھ کر اس قدر روئی کہ اس کے انسوؤں سے وہ خط پوری طرح بھیگ گیا۔ ایک میٹرک پاس، معصوم دیہاتی لڑکی کا اپنی پہلی اور سچی محبت کے کھو جانے کا یہ کرب افس کے اس کمرے کو ایک سوگوار حویلی میں بدل چکا تھا۔
عین اسی وقت، کمرے کا دروازہ کھلا اور صلاح الدین اندر داخل ہوا۔ وہ کسی فائل کے سلسلے میں عثمان کے پاس ایا تھا، لیکن جیسے ہی اس نے بانو کو فرش پر بیٹھ کر اس طرح تڑپتے ہوئے روتے دیکھا اور عثمان کی انکھوں میں انسو دیکھے، اس کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے چہرے پر ایک شدید سسپنس اور حیرت کے تاثرات ابھر اے۔
“عثمان! یہ سب کیا ہے؟ یہ بانو اس طرح کیوں رو رہی ہے؟” صلاح الدین نے اپنی بارعب اور بھاری اواز میں پوچھا۔
عثمان نے کھڑے ہو کر اپنے انسو پونچھے اور امجد کا وہ خط اور لاکٹ صلاح الدین کے سامنے کر دیا، “صلاح الدین بھائی! قدرت کے کھیل بھی کتنے عجیب ہیں۔ جس لڑکی کو آپ نے رات بارش میں بچایا اور جس کے بھائی کو آپ چولستان سے چھڑا کر لائے، وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ میرے سب سے پیارے اور مرحوم یار امجد کی منگیتر بانو ہے! امجد نے مرنے سے پہلے یہ امانت میرے پاس چھپائی تھی!”
جب صلاح الدین نے عثمان کے منہ سے یہ سچ سنا اور اس خط کو پڑھا، تو اس کے وجود میں ایک ہولناک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا خون کھول اٹھا۔ وہ جاگیردار سارنگ شاہ جسے وہ صرف ایک اوباش سمجھ رہا تھا، اب اس کے اپنے سب سے وفادار بندے کے بھائی کا قاتل نکل ایا تھا۔ صلاح الدین کی غیرت اور دشمنی اب دس گنا بڑھ چکی تھی۔ اس نے بانو کی طرف دیکھا، جو چادر میں منہ چھپائے اب بھی سسکیاں لے رہی تھی، اور اس کے دل میں بانو کے لیے تحفظ کا جذبہ ایک فولادی دیوار کی طرح پکا ہو گیا۔
لیکن کہانی کا اصل اور ہولناک ٹوئسٹ ابھی باہر سڑک پر تیار ہو رہا تھا، جس کا اندازہ نہ صلاح الدین کو تھا اور نہ ہی بانو کو۔
بہاولپور کی سینٹرل جیل کے باہر، ایک کالی مرسڈیز گاڑی ا کر رکی۔ گاڑی سے شاہینہ بیگم اتری تھیں۔ ان کے چہرے پر وہی نوابی تکبر اور مکارانہ مسکراہٹ تھی۔ وہ جیل کے اندر گئیں جہاں سارنگ شاہ ہتھکڑیوں میں قید، ایک جانور کی طرح سلاخوں کو ہلا رہا تھا۔
“امی! مجھے یہاں سے نکالو! میں اس صلاح الدین کے ٹکڑے کر دوں گا!” سارنگ شاہ وحشیانہ طریقے سے چلایا۔
شاہینہ بیگم نے سردی سے اپنے ہونٹوں کو موڑا اور دھیمی اواز میں بولیں، “خاموش رہو سارنگ! تمہاری ضمانت کے کاغذات پر دستخط ہو چکے ہیں، حکومت کے بڑے وزراء نے تمہاری رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ لیکن سارنگ۔۔۔ اس بار ہم بندوقوں سے نہیں، بلکہ اس صلاح الدین کی کمزوری سے کھیلیں گے۔”
“کیا مطلب؟” سارنگ شاہ نے حیرت سے پوچھا۔
شاہینہ بیگم کے لبوں پر ایک سفاک مسکراہٹ ابھری، “صلاح الدین کا ایک تایا زاد بھائی ہے، کامران احمد۔ وہ صلاح الدین کی کامیابی اور اس کے بزنس سے شدید حسد کرتا ہے اور افتخار احمد کی سیاسی وراثت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کامران سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ کامران ہمیں صلاح الدین کی کمپنی اور اس ہاسٹل کی ایک ایک مخبری کرے گا جہاں بانو چھپی ہوئی ہے۔ ہم بانو کو زبردستی نہیں اٹھائیں گے سارنگ۔۔۔ ہم کچھ ایسا کریں گے کہ بانو خود بدنام ہو کر، اپنے پیروں سے چل کر تمہاری حویلی ائے گی اور صلاح الدین کا یہ خاندانی غرور مٹی میں مل جائے گا!”
جیل کا دروازہ کھلا اور سارنگ شاہ ایک ہولناک، مکارانہ ہنسی کے ساتھ باہر نکل ایا۔ اسے اب بانو کی لوکیشن کا پتا چل چکا تھا، اور صلاح الدین کے اپنے ہی گھر کا ایک سانپ اب اس کے ساتھ مل چکا تھا!
شام کے سائے گہرے ہوتے ہی بہاولپور شہر پر ایک عجیب سی سنگین خاموشی طاری ہو گئی تھی۔ کنسٹرکشن کمپنی کا افس اب خالی ہو چکا تھا، لیکن صلاح الدین اپنے کیبن میں اکیلا بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے امجد کا وہ لکڑی کا لاکٹ اور انسوؤں سے بھیگا ہوا خط رکھا تھا۔ اس کی عقابی انکھوں میں لال ڈورے اتر ائے تھے اور پیشانی پر غصے کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ عثمان کی زبانی امجد کی وفاداری اور سچی محبت کی داستان سن کر صلاح الدین کا غیور دل بانو کے درد کو پوری طرح محسوس کر رہا تھا۔
“ایک غریب، بے گناہ انسان کو صرف اس لیے گولیوں سے بھون دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی منگیتر کی عزت کا سودا نہیں کیا؟ اور میں اسے صرف ایک معمولی جاگیردارانہ جھگڑا سمجھ رہا تھا؟” صلاح الدین نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں اتنے زور سے بھینچیں کہ اس کی ہڈیاں چٹخ اٹھیں۔ اس نے دل میں عہد کر لیا تھا کہ اب یہ جنگ صرف بانو کو پناہ دینے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ اس کے اپنے بھائی جیسے وفادار عثمان اور اس مظلوم امجد کے خون کا حساب لینے کا معرکہ بن چکی تھی۔
ٹھیک اسی وقت، کمپنی کے کوریڈور میں ہلکے اور مکارانہ قدموں کی اواز ابھری۔ یہ کامران احمد تھا۔۔۔ صلاح الدین کا تایا زاد بھائی۔ کامران ایک ۳۰ سالہ، عیاش طبع اور حاسد نوجوان تھا جو ہمیشہ قیمتی سوٹ پہنتا تھا لیکن اس کے دل میں صلاح الدین کی کامیابی اور اس کی بارعب شخصیت کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا۔ وہ شاہینہ بیگم سے بھاری رقم لے کر اج ہی جیل سے رہا ہونے والے سارنگ شاہ کا مہرہ بن چکا تھا، اور اس کا پہلا ٹاسک بانو کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے بدنام کرنا تھا۔
کامران نے بظاہر ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ صلاح الدین کے کیبن کا دروازہ کھولا، “ارے صلاح الدین بھائی! رات کے اٹھ بج چکے ہیں اور آپ ابھی تک یہیں بیٹھے ہیں؟ سنا ہے چولستان سے کوئی مزارع کی بیٹی اٹھا کر لائے ہیں آپ، اور اسے افس میں منشی کی نوکری بھی دے دی ہے؟ بھائی! وہ لڑکی تو کسی قتل کے کیس کا مرکز ہے، آپ کیوں خوامخواہ اس وڈیرے سارنگ شاہ سے دشمنی مول لے رہے ہیں؟”
صلاح الدین نے اپنی سرد اور عقابی نظریں اٹھا کر کامران کے چہرے پر ٹکائیں، جس سے کامران کے اندر ایک خوف کی لہر دوڑ گئی۔ صلاح الدین کی اواز میں ایک ہولناک رعب تھا، “کامران! میری کمپنی میں اور میری زندگی میں کیا ہو رہا ہے، اس سے دور رہو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ وہ لڑکی ایک غیرت مند گھرانے کی بیٹی ہے اور اس کا منگیتر اس کمپنی کے سب سے وفادار بندے کا جگری یار تھا۔ میں اس جاگیردار سارنگ شاہ جیسے بھیڑیوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی سڑے گا۔”
کامران نے اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا، “ٹھیک ہے بھائی! آپ کی مرضی، میں تو بس آپ کی بھلائی کے لیے کہہ رہا تھا،” لیکن مڑتے ہوئے کامران کے لبوں پر ایک زہریلی اور مکارانہ مسکراہٹ تھی، کیونکہ اسے پتا تھا کہ سارنگ شاہ اب جیل سے باہر ا چکا ہے اور شاہینہ بیگم کا کالا کھیل شروع ہو چکا ہے۔
اگلی صبح، بانو جیسے ہی ہاسٹل سے نکل کر افس پہنچی، اس کا دل کسی انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔ عثمان صاحب نے اسے کام سمجھانا شروع کیا، لیکن دوپہر کے وقت جب عثمان کسی ضروری میٹنگ کے لیے صلاح الدین کے ساتھ بلڈنگ سے باہر گئے، تو کامران کو اپنا موقع مل گیا۔
کامران اکاؤنٹس روم میں داخل ہوا جہاں بانو اکیلی بیٹھی رجسٹر پر کچھ لکھ رہی تھی، اس کے سر پر وہی گلابی چادر مضبوطی سے لپٹی ہوئی تھی۔ کامران نے ادھر ادھر دیکھا اور نہایت مکاری سے بانو کی میز کے قریب ا کر کھڑا ہو گیا۔
“تو تم ہو بانو بی بی؟” کامران نے اپنی اواز کو ہمدردانہ بناتے ہوئے کہا۔ “بہت افسوس ہوا تمہارے منگیتر امجد کا سن کر۔ لیکن بانو، تم کتنی بھولی ہو، تم سمجھتی ہو کہ میرا بھائی صلاح الدین تمہارا سچا ہمدرد ہے؟”
بانو نے چادر کی اوٹ سے گھبرا کر کامران کو دیکھا، اس کی معصوم انکھوں میں سسپنس ابھر ایا، “آپ۔۔۔ آپ کون ہیں سائیں؟ اور سائیں صلاح الدین کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ وہ تو میرے محسن ہیں، انہوں نے میرے بھائی کو بچایا ہے۔”
کامران نے ایک جھوٹی جھرجھری لی اور بانو کے قریب جھک کر دھیمی اواز میں بولا، “ارے بچی! یہی تو چال ہے۔ صلاح الدین دراصل سارنگ شاہ کا سیاسی اور کاروباری دشمن ہے۔ وہ تمہیں سارنگ شاہ کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اور سب سے ہولناک بات جانتی ہو کیا ہے؟ سارنگ شاہ جیل سے رہا ہو چکا ہے! شاہینہ بیگم نے حکومت کے وزیروں سے کہہ کر اسے چھڑا لیا ہے، اور سارنگ شاہ نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم خود چل کر حویلی نہ ائیں، تو وہ چولستان میں تمہارے چودہ سال کے بھائی ساجد اور بوڑھے باپ اللہ دتا کو دن دیہاڑے گولیوں سے بھون دے گا، اور اس بار صلاح الدین بھی انہیں نہیں بچا پائے گا کیونکہ پولیس سارنگ شاہ کی جیب میں ہے!”
سارنگ شاہ کی رہائی اور اپنے باپ بھائی کی موت کی دھمکی سن کر بانو کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔ اس کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا۔ اس کا میٹرک پاس ذہن کامران کی اس مکارانہ چال کو سچ سمجھ بیٹھا۔ اس کے اندر کا سچا اور تڑپتا ہوا درد دوبارہ جاگ اٹھا، اس کی انکھوں سے موتیوں جیسے انسو بہنے لگے۔ وہ اپنی چادر کو اپنے منہ پر لپیٹ کر ہچکیاں لینے لگی، “یا اللہ! وہ ظالم پھر باہر ا گیا؟ وہ میرے ساجد کو مار ڈالے گا۔ میری وجہ سے میرا پورا خاندان مٹ جائے گا، سائیں!”
کامران نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چٹ نکالی اور میز پر رکھ دی، “اگر اپنے خاندان کی جان بچانا چاہتی ہو بانو، تو اج رات بارہ بجے ہاسٹل کے پیچھے والی سڑک پر ا جانا۔ وہاں حویلی کی گاڑی ہوگی، جو تمہیں عزت سے تمہارے ماں باپ کے پاس پہنچا دے گی، ورنہ صبح تمہارے بھائی کا جنازہ اٹھے گا!” کامران یہ زہر اگل کر کمرے سے باہر نکل گیا، جبکہ بانو فرش پر بیٹھ کر اپنے گھٹنوں میں سر چھپا کر زار و قطار رونے لگی۔ اس کی روح چولستان کے اس ظلم کے سامنے دوبارہ اکیلی پڑ چکی تھی۔
دوسری طرف، شام کے وقت جب صلاح الدین اپنے عالی شان بنگلے پر پہنچا، تو گھر کا ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔ اس کے والد، شہر کے سب سے بااثر سیاستدان افتخار احمد، لاؤنج میں غصے سے ٹہل رہے تھے اور ان کے سامنے شاہینہ بیگم کا بھیجا ہوا ایک سیاسی رشتہ دار بیٹھا ہوا تھا۔
جیسے ہی صلاح الدین اندر داخل ہوا، افتخار احمد نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا، “صلاح الدین! یہ کیا پاگل پن ہے تمہارا؟ تم چولستان کے چوہدری صاحب داد شاہ اور سارنگ شاہ سے دشمنی مول لے رہے ہو؟ انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر اس مزارع کی بیٹی بانو کو تم نے شہر سے غائب نہ کیا، تو وہ اگلے الیکشن میں ہماری پوری پارٹی کی حمایت ختم کر دیں گے اور ہماری سیاست کا جنازہ نکل جائے گا! ایک معمولی دیہاتی لڑکی کے لیے تم اپنے باپ کا سیاسی کیریئر داؤ پر لگا رہے ہو؟”
صلاح الدین وہیں رک گیا۔ اس کی انکھوں میں اپنے باپ کے اس متکبرانہ اور سیاسی مکارانہ جملے پر ایک شدید کرب اور غصہ ابھرا۔ اس نے اپنی واسکٹ کے بٹن کھولے اور اپنے باپ کے سامنے ایک ایسی بارعب، کڑک دار اواز میں بولا کہ پورے لاؤنج میں سناٹا چھا گیا:
“اباجی! سیاست اپ کا پیشہ ہوگی، لیکن غیرت میرا اصول ہے! وہ لڑکی کوئی معمولی مزارع کی بیٹی نہیں ہے، وہ ایک ایسے انسان کی منگیتر تھی جسے حویلی کے بھیڑیوں نے بے دردی سے صرف اس لیے مار دیا کیونکہ وہ اپنی عزت کا سودا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر اپ کی سیاست ایک مظلوم لڑکی کی چادر کا سودا کر کے چمکتی ہے، تو ایسی سیاست پر صلاح الدین تھوکتا ہے! چولستان کا وہ وڈیرا سارنگ شاہ جیل سے کیسے رہا ہوا، یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں، لیکن وہ سارنگ شاہ اگر دوبارہ میری بانو کی طرف بڑھا، تو اس بار قانون نہیں، صلاح الدین کا ہاتھ اس کا گریبان پکڑے گا!”
“صلاح الدین۔۔۔!” افتخار احمد نے غصے سے ہاتھ اٹھایا، لیکن صلاح الدین نے رخ موڑا اور تیزی سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا، کیونکہ اس کا دل اچانک کسی انجانے خطرے سے دھک دھک کر رہا تھا۔
رات کے ٹھیک گیارہ بجے، ورکنگ ویمن ہاسٹل کے اندھیرے کمرے میں بانو اکیلی کھڑی تھی۔ اس نے اپنے انسو پونچھے تھے، لیکن اس کے چہرے پر ایک ہولناک فیصلہ ابھر چکا تھا۔ وہ ایک خوددار لڑکی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے محسن صلاح الدین کی جان کو کوئی خطرہ ہو، یا اس کے بوڑھے باپ اور معصوم بھائی ساجد کی لاش چولستان کی ریت پر گرے۔
“امجد سائیں! میں آپ کے پاس ا رہی ہوں۔ اگر میری قسمت میں اس سارنگ شاہ کے ہاتھوں مرنا ہی لکھا ہے، تو بانو اپنی پاکیزگی کی قربانی دے کر اپنے خاندان کو بچا لے گی،” اس نے روتے ہوئے امجد کا وہ لکڑی کا لاکٹ اپنے گلے میں پہنا، اپنی گلابی چادر کو پورے وجود پر لپیٹا، اور خاموشی سے ہاسٹل کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھنے لگی، جہاں اندھیری سڑک پر سارنگ شاہ کی کالی پراڈو گاڑی دھیمی ہیڈ لائٹس جلائے اس کا انتظار کر رہی تھی!
کہانی اب ایک ایسے ہولناک اور سنسنی خیز موڑ پر ا کھڑی ہوئی تھی، جہاں بانو خود چل کر موت کے کنویں میں جا رہی تھی، اور دوسری طرف صلاح الدین کی فورچیونر گاڑی شہر کی سڑکوں پر دیوانہ وار ہاسٹل کی طرف دوڑ رہی تھی!