احمد پور شرقیہ کی رات کا اندھیرا جتنا گہرا تھا، جھگیاں چولستان سے نکلنے والے کچے راستے اتنے ہی بھیانک لگ رہے تھے۔ بانو اپنے وجود پر اس گلابی چادر کو مضبوطی سے لپیٹے، ریت کے ٹیلوں پر گرتی سنبھلتی، دیوانہ وار بھاگ رہی تھی۔ اس کے پیروں میں موجود چاندی کی پازیب، جو کبھی امجد کی سماعتوں میں رس گھولتی تھی، اب اس کی جان کی دشمن بن چکی تھی، اس لیے اس نے بھاگتے ہوئے راستے میں ہی انہیں اتار کر چادر کے پلو سے باندھ لیا تھا۔ اس کے سانس پھول رہے تھے، اس کا میٹرک پاس سمجھدار ذہن اس وقت شدید صدمے اور خوف کی زد میں تھا، لیکن اس کی غیرت اور پاکیزگی کا جذبہ اسے رکنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ صبح ہونے سے پہلے بہاولپور شہر جانے والی آخری لاری میں نہ بیٹھی، تو سارنگ شاہ کا وحشیانہ جنون اسے زندہ چاٹ جائے گا اور اس کے بوڑھے ماں باپ کے سر پر لٹکتی تلوار گر جائے گی۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی ہوئی، رات کے آخری پہر کسی طرح شہر جانے والی ایک خستہ حال لاری میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گئی، جہاں سے اس کا سفر ایک انجان دنیا کی طرف شروع ہوا۔
دوسری طرف، بہاولپور شہر کی ایک پوش سوسائٹی کے ایک عالی شان، پرسکون بنگلے میں زندگی کا رنگ بالکل مختلف تھا۔
صلاح الدین۔۔۔ جو شہر کے سب سے نامور اور بااثر سیاستدان افتخار احمد کا اکلوتا بیٹا تھا، لیکن اس کے مزاج میں سیاست کی مکاری اور باپ کی دولت کا کوئی غرور نہیں تھا۔ وہ ایک طویل القامت، بارعب شخصیت، گہری سانولی رنگت اور عقابی نظروں والا ۲۵ سالہ نوجوان تھا، جو اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے باپ کے بنے بنائے سیاسی ایمپائر سے الگ ہو کر، دن رات محنت کر کے اپنی ایک کنسٹرکشن کمپنی اور بزنس کھڑا کر رہا تھا۔ اس کی ماں، ثریہ بیگم، ایک نہایت باوقار اور نرم دل خاتون تھیں جو صلاح الدین کی اسی خوددار طبیعت پر ناز کرتی تھیں۔ صلاح الدین کے لیے اس کی عزت، اس کے اصول اور اس کا کام ہی اس کی کل کائنات تھے، اور وہ فضول کی رومانوی داستانوں سے کوسوں دور رہنے والا ایک انتہائی سنجیدہ مرد تھا۔
بہاولپور شہر میں جولائی کی وہ رات شدید طوفانی ہو چکی تھی۔ آسمان پر کالے بادل گرج رہے تھے اور تیز موسلا دھار بارش نے سڑکوں کو ندی نالوں میں بدل دیا تھا۔ رات کے دو بج چکے تھے اور صلاح الدین اپنے آفس کا ایک بڑا پروجیکٹ فائنل کرنے کے بعد شدید تھکن کی حالت میں اپنی سفید فورچیونر گاڑی تیز رفتاری سے چلاتا ہوا گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ گاڑی کے وائپر تیزی سے چل رہے تھے، لیکن بارش اتنی تیز تھی کہ سامنے کا راستہ بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔
اسی وقت، بانو لاری اڈے پر اترنے کے بعد، شہر کی اس اجنبی دنیا، تپتے ہوئے اسفالٹ اور تیز بارش سے بالکل گھبرا چکی تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی شہر کی سڑکیں اور رات کا یہ ہولناک منظر نہیں دیکھا تھا۔ وہ سڑک کے کنارے کھڑی، بارش میں پوری طرح بھیگی ہوئی، اپنی چادر کو سر پر سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک سڑک کے دوسرے پار اسے کچھ اوباش قسم کے لوگ اپنی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ خوف کی ایک سرد لہر بانو کے پورے وجود میں دوڑ گئی۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی اور ان اوباشوں سے بچنے کے لیے بغیر دیکھے، نہایت تیزی سے سڑک عبور کرنے کے لیے دوڑ پڑی۔
کررررچچچچ!
تیز رفتاری سے آتی ہوئی صلاح الدین کی گاڑی کے ٹائروں نے پانی سے بھری سڑک پر ایک ہولناک بریک ماری۔ گاڑی کے ہیڈ لائٹس کی تیز ترین روشنی سیدھی بانو کے چہرے پر پڑی۔ بانو نے خوف سے اپنی بڑی بڑی مخملی آنکھیں بند کر لیں، لیکن گاڑی کی باڈی کا ایک ہلکا سا جھٹکا اسے لگا اور وہ سڑک کے کنارے لگے ایک پتھر سے ٹکرا کر بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ اس کے سر سے گلابی چادر سرک گئی اور اس کے ریشم جیسے گھنے کالے بال سڑک کے گندے پانی پر بکھر گئے۔
صلاح الدین کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بارش کی پروا کیے بغیر باہر نکل آیا۔ “کیا مصیبت ہے! یہ لڑکی پاگل ہے کیا؟” وہ غصے میں بڑبڑاتا ہوا جیسے ہی سڑک کے کنارے لیٹی بانو کے قریب پہنچا، اس کے قدم وہیں جم گئے، اس کی عقابی نظریں ساکت رہ گئیں۔
گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی سفید روشنی سیدھی بانو کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جس پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ بانو کا وہ بے پناہ حسن، اس کے چمکتے گلابی گال جن پر اب ہلکی سی خراش آئی تھی، اس کے سرخ ہونٹ اور اس کے چہرے پر پھیلی معصومیت اور درد کا وہ تاثر دیکھ کر صلاح الدین کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں، شہر کی بڑی بڑی ماڈرن لڑکیوں میں بھی ایسا سحر انگیز، پاکیزہ اور شاہکار حسن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ چند سیکنڈ کے لیے بالکل سکتہ میں آ گیا، اس کی نبض جیسے رک سی گئی۔
لیکن جب اس کی نظر بانو کے سر سے بہتے ہوئے ہلکے سے خون پر پڑی، تو وہ فوراً ہوش میں آیا۔ اس نے جھک کر بانو کو اپنی مضبوط باہوں میں اٹھایا۔ بانو کا وجود چولستان کی مٹی کی طرح بالکل ہلکا تھا، لیکن اس کے ریشمی بال صلاح الدین کے ہاتھوں پر پھیل گئے تھے۔ صلاح الدین نے اسے جلدی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور گاڑی کو ہسپتال کی طرف دوڑا دیا۔
ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں جب ڈاکٹر بانو کا علاج کر رہے تھے، صلاح الدین باہر کوریڈور میں کھڑا بے چین ٹہل رہا تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار اس لڑکی کا وہ بھیگا ہوا، معصوم چہرہ گھوم رہا تھا۔ صبح کے پانچ بج چکے تھے جب ڈاکٹر باہر آیا اور اس نے اطمینان بخش سانس لیتے ہوئے کہا، “مسٹر صلاح الدین! لڑکی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، سر پر گہرا زخم تھا لیکن کوئی اندرونی چوٹ نہیں آئی۔ بس شدید صدمے اور کمزوری کی وجہ سے وہ اب بھی بے ہوش ہے۔ آپ اسے گھر لے جا سکتے ہیں یا یہاں رکھ سکتے ہیں۔”
صلاح الدین نے ایک گہرا سانس لیا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک انجان لڑکی کو ہسپتال میں اکیلا چھوڑنا اس کی غیرت کے خلاف تھا۔ اس نے ہسپتال کے اخراجات ادا کیے اور بانو کو دوبارہ گاڑی میں لٹا کر اپنے گھر لے آیا۔ جب ثریہ بیگم نے صبح سویرے اپنے باوقار بیٹے کے ساتھ اس بے پناہ حسین لیکن بدحال لڑکی کو دیکھا، تو ان کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ صلاح الدین نے اپنی ماں کو مختصر بتایا کہ یہ سڑک پر اس کی گاڑی سے ٹکرائی ہے اور اس کا کوئی ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا۔ ثریہ بیگم کا نرم دل پگھل گیا، انہوں نے فوراً بانو کو اپنے مہمان خانے کے نرم بستر پر لٹایا، اس کے گیلے کپڑے تبدیل کروائے اور اس کی دیکھ بھال میں لگ گئیں، جبکہ صلاح الدین اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا، باہر برستی بارش کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اس انوکھی لڑکی کے سحر میں گرفتار ہو چکا تھا!
مہمان خانے کے پرسکون اور عالی شان کمرے میں، جہاں سفید ریشمی پردے ہلکی ہوا سے ہل رہے تھے، بانو کی بند پلکوں میں اچانک ہلچل ہوئی۔ اس کے ذہن کے پردے پر جھگیاں چولستان کی وہ کالی رات، امجد کا خون میں لت پت چہرہ اور سارنگ شاہ کی وحشیانہ ہنسی ایک بھیانک خواب کی طرح لہرائی۔
“امجد سائیں۔۔۔ ساجد۔۔۔!”
بانو کے خشک ہونٹوں سے ایک دھیمی اور دردناک چیخ نکلی اور اس نے تڑپ کر اپنی بڑی بڑی مخملی آنکھیں کھول دیں۔ اس کا سانس بری طرح پھول رہا تھا اور پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ اس نے گھبرا کر اپنے سر پر ہاتھ رکھا جہاں سفید پٹی بندھی ہوئی تھی، اور پھر اپنے اردگرد دیکھا۔ یہ جھگیاں چولستان کا کچا مکان نہیں تھا، نہ ہی یہ حویلی کا کوئی تاریک کمرہ تھا۔ یہ ایک انتہائی پرسکون اور مہنگا شہری کمرہ تھا۔ بانو نے فوراً اپنے وجود پر نظر ڈالی، اس کے پرانے کپڑے بدل دیے گئے تھے اور اب وہ ایک صاف ستھرے، باحیا سوتی لباس میں ملبوس تھی جو ثریہ بیگم نے اسے پہنایا تھا، لیکن اس کی اپنی گلابی چادر سائیڈ ٹیبل پر تہہ کر کے رکھی ہوئی تھی۔
بانو کا خوددار اور میٹرک پاس تیز ذہن سہم گیا۔ وہ ابھی بستر سے اٹھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ کمرے کا بھاری لکڑی کا دروازہ کھلا اور ثریہ بیگم ایک ہاتھ میں سوپ کا پیالہ لیے اندر داخل ہوئیں۔ بانو کو جاگتا دیکھ کر ان کے باوقار چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ ابھری۔
“شکر ہے اللہ کا، تمہیں ہوش آ گیا میری بچی! تم رات بارش میں میرے بیٹے کی گاڑی کے سامنے آ گئی تھی، بہت گہرا زخم تھا سر پر۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟” ثریہ بیگم نے پیار سے بانو کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا، لیکن بانو خوف کے مارے بستر کے دوسرے کونے کی طرف سمٹ گئی۔
“میں۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی، مجھے جانے دیں مائی جی! میرا یہاں کوئی نہیں ہے، مجھے جانے دیں۔” بانو کی آواز میں خودداری اور خوف کا ایک عجیب امتزاج تھا، اس کی آنکھوں سے موتیوں جیسے آنسو ٹپک کر اس کے گلابی گالوں پر بہنے لگے۔ وہ کسی بھی اجنبی شہری گھرانے پر بھروسہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
ٹھیک اسی لمحے، صلاح الدین کمرے کے دروازے پر آ کر رک گیا۔ اس نے پینٹ شرٹ پر ہاؤس کوٹ پہن رکھا تھا اور اس کی عقابی، سنجیدہ نظریں بانو کے روتے ہوئے چہرے پر جم گئیں۔ بانو نے جیسے ہی ایک طویل القامت، بارعب اور گہری سانولی رنگت والے اجنبی نوجوان کو دیکھا، اس نے جھٹکے سے سائیڈ ٹیبل سے اپنی گلابی چادر اٹھائی اور اپنے پورے وجود اور چہرے کو اس میں چھپا لیا۔ اس کی یہ حیا دار اور خوددار ادا صلاح الدین کے دل پر ایک اور گہرا نقش چھوڑ گئی۔
“امی! آپ باہر تشریف لے جائیں، میں اس سے بات کرتا ہوں،” صلاح الدین نے اپنی بھاری اور بارعب آواز میں کہا۔ ثریہ بیگم نے بانو کو تسلی دی اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔
صلاح الدین بانو سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا اور نہایت سنجیدگی سے بولا، “دیکھو لڑکی! میرا نام صلاح الدین ہے۔ تمہیں مجھ سے یا میری ماں سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ تم رات جس حالت میں سڑک پر پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھیں، اگر میری گاڑی نہ ہوتی تو کوئی دوسرا تمہیں کچل کر چلا جاتا۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا اس شہر میں کوئی نہیں ہے، تمہارا یہ حلیہ اور تمہاری باتیں بتا رہی ہیں کہ تم کسی بہت بڑی مصیبت سے بھاگ کر آئی ہو۔”
بانو نے چادر کی اوٹ سے صلاح الدین کو دیکھا۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں سارنگ شاہ جیسی گندگی یا پیاس نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا رعب، غیرت اور تحفظ کا احساس تھا، لیکن بانو اپنے ماضی کا سچ کسی شہری امیر زادے کو بتا کر اپنے خاندان کو مزید خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور مضبوطی سے بولی، “آپ کا بہت احسان ہے سائیں، آپ نے میری جان بچائی۔ لیکن میں ایک غیرت مند گھرانے کی بیٹی ہوں، میں کسی انجان مرد کے گھر میں ایک پل بھی نہیں رک سکتی۔ مجھے جانے دیں، میں اپنا راستہ خود ڈھونڈ لوں گی۔”
صلاح الدین نے اس کی بات سن کر ایک گہرا سانس لیا۔ اس لڑکی کی خودداری اسے حیران کر رہی تھی۔ “ٹھیک ہے، اگر تم جانا چاہتی ہو تو میں زبردستی نہیں کروں گا۔ لیکن کم از کم اس وقت تک رک جاؤ جب تک تمہاری کمزوری دور نہیں ہو جاتی۔” لیکن بانو نہ مانی۔ وہ شام ہونے سے پہلے ہی اس بنگلے سے نکل گئی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ شہر کی یہ بے رحم سڑکیں اس کے لیے کتنی انجان ہیں۔ صلاح الدین نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی، لیکن اپنے خاص سیکورٹی گارڈ کو اس کے پیچھے لگا دیا کیونکہ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ لڑکی کسی شدید خطرے میں ہے۔
دوسری طرف، جھگیاں چولستان سے لاریوں اور گاڑیوں کا ایک قافلہ بہاولپور شہر کی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔ سارنگ شاہ اپنی کالی پراڈو کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا، اس کا چہرہ غصے اور نیند کی کمی سے بالکل مسخ ہو چکا تھا اور آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں امجد کو مارنے والی وہی پسٹل چمک رہی تھی۔ جب اسے صبح پتا چلا کہ بانو رات کے اندھیرے میں گاؤں سے بھاگ گئی ہے، تو اس کا جنون پاگل پن کی حدوں کو چھونے لگا۔
“اگر وہ زمین پھاڑ کر چولستان کی ریت میں بھی اتر گئی ہے نا جبار، تو مجھے وہ لڑکی واپس چاہیے۔ سارنگ شاہ کی پسند شہر کے اوباشوں کے ہتھے چڑھے، یہ میں مرتے دم تک برداشت نہیں کروں گا! شہر کا ایک ایک بس اڈا، ایک ایک ہسپتال اور ایک ایک سڑک چھان مارو، مجھے بانو چاہیے!” سارنگ شاہ نے گاڑی کے ڈیش بورڈ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے وحشیانہ طریقے سے چلایا۔ جبار اور حویلی کے درجنوں غنڈے شہر کی گلیوں میں پھیل گئے، ان کے ہاتھوں میں بانو کا حلیہ اور سارنگ شاہ کا خوف تھا۔
اگلے دن کی دوپہر، بانو شہر کے ایک مصروف اور پرہجوم بازار کے کنارے، اکیلی کھڑی ایک سستا سا ہاسٹل یا پناہ گاہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے اپنے بچے کچھے پیسے جو دادی نے دیے تھے، سنبھال رکھے تھے، لیکن اس کا گلابی چادر میں لپٹا بے پناہ حسن شہر کے بازاروں میں بھی لوگوں کی گندی نظروں کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ ابھی ایک گلی کے موڑ پر پہنچی ہی تھی کہ اچانک ایک کالی پراڈو گاڑی تیز بریک کے ساتھ اس کے بالکل سامنے آ کر رکی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور جبار دو بندوق برداروں کے ساتھ باہر نکل آیا۔ بانو کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔
“مل گئی سائیں کی چڑی! اوئے بانو، تو کیا سمجھتی تھی کہ حویلی کے چنگل سے بھاگ کر شہر میں چھپ جائے گی؟ چل اب شرافت سے گاڑی میں بیٹھ، ورنہ تیرے اس بوڑھے باپ کی گردن حویلی کے اصطبل میں کاٹ دی جائے گی!” جبار نے آگے بڑھ کر بانو کا بازو انتہائی بے دردی سے مروڑ کر اسے گاڑی کی طرف گھسیٹنا شروع کیا۔ بانو نے دیوانہ وار چیخنا شروع کر دیا، “چھوڑو مجھے! ظالمو چھوڑو مجھے! امجد سائیں۔۔۔ مجھے بچا لو!” بازار کے لوگ تماشائی بنے کھڑے تھے، جاگیردار کے غنڈوں اور ان کے اسلحے کے سامنے کسی کی بولنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی۔
جبار نے جیسے ہی بانو کو گاڑی کے پچھلے دروازے کے اندر دھکیلنے کی کوشش کی، اچانک ایک سفید فورچیونر گاڑی نہایت تیز رفتاری سے آئی اور سارنگ شاہ کی پراڈو کے آگے آ کر اس کا راستہ بلاک کر دیا۔ گاڑی کا دروازہ اتنے زور سے کھلا کہ جبار کا ایک غنڈہ اس کی زد میں آ کر دور جا گرا۔
گاڑی سے صلاح الدین باہر نکلا۔ اس کی عقابی آنکھوں میں اس وقت سچی غیرت اور غصے کا طوفان تھا، اور اس کا بارعب وجود کسی چٹان کی طرح جبار اور بانو کے درمیان کھڑا ہو گیا۔
“چھوڑو اس لڑکی کو!” صلاح الدین کی بھاری، غصیلی آواز پورے بازار میں ایک دھماکے کی طرح گونجی۔
جبار نے ہنس کر اپنی پسٹل صلاح الدین کے سینے پر تان لی، “اوئے شہری بابو! دور رہ اس معاملے سے، یہ جھگیاں چولستان کے چھوٹے سائیں سارنگ شاہ کی امانت ہے۔ اگر جان پیاری ہے تو چپ چاپ اپنا راستہ لو، ورنہ یہی گولی مار کر سڑک پر لاش گرا دوں گا!”
صلاح الدین کے چہرے پر خوف کا ایک سایہ بھی نہیں ابھرا۔ اس نے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جبار کا پسٹل والا ہاتھ پکڑا، اسے اوپر کی طرف مروڑا اور ایک ایسا زوردار، ہڈی توڑ مککا جبار کے منہ پر مارا کہ جبار کے دو دانت ٹوٹ گئے اور وہ خون تھوکتا ہوا زمین پر جا گرا۔ دوسرے غنڈے نے جیسے ہی بندوق سیدھی کرنے کی کوشش کی، صلاح الدین کے باڈی گارڈز نے، جو پیچھے دوسری گاڑی میں آ رہے تھے، ان پر بندوقیں تان لیں۔
بازار میں بھگدڑ مچ گئی۔ صلاح الدین نے جھٹکے سے بانو کا ہاتھ پکڑا، جو خوف سے بری طرح کانپ رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے انسو بہہ رہے تھے۔ اس نے بانو کو اپنی گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو وہاں سے بھگا لے گیا، جبکہ جبار زمین سے اٹھتا ہوا سارنگ شاہ کو فون ملا رہا تھا کہ بانو کو ایک بااثر شہری نوجوان نے بچا لیا ہے۔
گاڑی کے اندر بانو بری طرح رو رہی تھی اور اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔ صلاح الدین نے گاڑی ایک پرسکون سڑک کے کنارے روکی اور بانو کی طرف دیکھا، اس کی آواز میں اب غصہ نہیں بلکہ ایک گہرا تحفظ تھا۔
“میں نے کہا تھا نا بانو، کہ تم بہت بڑے خطرے میں ہو۔ اب تم سچ بتاؤ گی یا دوبارہ ان بھیڑیوں کے پاس جانا چاہتی ہو؟”
بانو نے روتے ہوئے صلاح الدین کی طرف دیکھا۔ اج اگر یہ نوجوان نہ ہوتا، تو اس کی عزت اور پاکیزگی سارنگ شاہ کے پیروں تلے روندی جا چکی ہوتی۔ اس نے اپنی گلابی چادر کو اپنے چہرے سے تھوڑا ہٹایا اور ہچکیاں لیتے ہوئے بولا، “سائیں۔۔۔ وہ جاگیردار سارنگ شاہ ہے، اس نے میرے امجد کو مار دیا، میرے چودہ سال کے معصوم بھائی ساجد کو اغوا کر لیا اور میرے باپ کا سر پھاڑ دیا۔ وہ مجھے حاصل کرنے کے لیے کسی کو بھی مار سکتا ہے، آپ کی جان بھی خطرے میں ہے سائیں، مجھے اپنے پاس نہ رکھیں، وہ بہت ظالم لوگ ہیں!”
جب صلاح الدین نے بانو کے منہ سے جھگیاں چولستان کے اس سنگدل جاگیردار سارنگ شاہ کا نام، امجد کا قتل اور ساجد کے اغوا کا سارا دردناک سچ سنا، تو اس کے غیور دل میں ایک عجیب سا طوفان ابھرا۔ اس کی غیرت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اس معصوم اور پاکیزہ لڑکی کو ان وڈیروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔
“بانو! تم میری بات غور سے سنو،” صلاح الدین نے بانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے مان سے کہا۔ “تم اب کہیں نہیں جاؤ گی۔ تم ایک خوددار لڑکی ہو نا؟ تم ہمارے کمپنی کے دفتر میں ایک باعزت نوکری کرو گی، تمہیں باقاعدہ تنخواہ ملے گی تاکہ تمہاری خودداری پر حرف نہ آئے۔ اور رہنے کے لیے تم شہر کے ایک محفوظ ہاسٹل میں رہو گی، جہاں پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جب تک صلاح الدین زندہ ہے بانو، چولستان کا وہ جاگیردار تمہارے اس گلابی چادر کے ایک دھاگے کو بھی نہیں چھو سکتا!”
بانو نے صلاح الدین کو دیکھا، اس کے دل میں اپنے مرے ہوئے منگیتر امجد کی سچی محبت اب بھی خوشبو کی طرح بسی ہوئی تھی، لیکن اس وقت، شہر کے اس طوفان میں، صلاح الدین کی یہ باتیں اس کے لیے کسی تپتے ہوئے صحرا میں گھنے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں جیسی لگ رہی تھیں، جہاں وہ اپنی پاکیزگی اور عزت کو محفوظ رکھ سکتی تھی!