دروازے پر لگی سستی سی رنگ برنگی لائٹیں اب بھی ٹمٹما رہی تھیں، لیکن ان کی روشنی گھر کے اندر پھیلے اس اندھیرے کو کم نہیں کر پا رہی تھی جس نے ایک ہنستے کھیلتے خاندان کو قبرستان کے سکوت میں بدل دیا تھا۔ ساجد علی نے اپنی پوری زندگی کی کمائی ایک رات میں ہار دی تھی، اور اس کی قیمت کوئی جوا نہیں بلکہ ایک باپ کی غیرت اور اس کی بیٹی کی لٹی ہوئی خوشیاں تھیں۔
ساجد علی ایک سرکاری محکمے میں ادنیٰ گریڈ کا کلرک تھا، جس کی کل کائنات اس کی تئیس سالہ بیٹی، خدیجہ تھی۔ خدیجہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ پورے محلے میں اپنی شرافت کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ ساجد علی نے پچھلے دس سالوں سے اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹ کر، پرانے جوتے گانٹھ کر اور آدھی روٹی کھا کر خدیجہ کے جہیز کی ایک ایک چیز جمع کی تھی۔ وہ اکثر رات کو اٹھ کر اس پیٹی کو دیکھتا جس میں اس نے خدیجہ کے لیے کپڑے اور برتن چھپا کر رکھے تھے، اور اس کی آنکھوں میں سکون کے آنسو آ جاتے۔
بالآخر خدیجہ کا رشتہ ایک کھاتے پیتے گھرانے میں طے پا گیا۔ لڑکا برانڈڈ کپڑے پہنتا تھا اور بظاہر بہت سلجھی ہوئی گفتگو کرتا تھا۔ شادی کا دن آیا، ساجد علی نے اپنی ریٹائرمنٹ کے پیسے، جی پی فنڈ اور یہاں تک کہ اپنے محلے کے ایک سود خور سے بھاری سود پر قرض لے کر ایک چھوٹے سے میرج ہال کا بندوبست کیا۔
شادی والے دن ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ خدیجہ سرخ عروسی جوڑے میں سجی، ہاتھوں پر مہندی لگائے، اپنی سہیلیوں کے بیچ بیٹھی شرما رہی تھی۔ بارات آئی، ساجد علی نے اپنی بساط سے بڑھ کر باراتیوں کا استقبال کیا، انہیں مہنگا کھانا کھلایا۔
نکاح کا وقت قریب آیا تو اچانک دولہا کے باپ نے ساجد علی کو ہال کے ایک کونے میں بلایا۔ اس کے چہرے پر روایتی شرافت کی جگہ ایک وحشیانہ لالچ تھا ۔
“ساجد صاحب! بات سنیں، ہمارے خاندان کے کچھ لوگ آئے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جہیز میں موٹر سائیکل نہیں ہے؟ میرا بیٹا اتنی بڑی کمپنی میں ہے، کیا وہ پیدل گھومے گا؟ ہمیں ابھی اور اسی وقت ایک نئی 150cc موٹر سائیکل کی چابی چاہیے، ورنہ نکاح نہیں ہوگا،” دولہا کے باپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔
ساجد علی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔ “شاہ صاحب! خدا کے لیے ایسا مت کہیں۔ میں ایک غریب کلرک ہوں، میں نے اس ہال اور کھانے کے لیے اپنا گھر تک گروی رکھ دیا ہے۔ اب میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں بچا۔ میں عید پر جیسے ہی کچھ انتظام ہوگا، موٹر سائیکل لے دوں گا۔”
“عید کس نے دیکھی ہے؟ چابی ابھی آئے گی تو نکاح ہوگا ورنہ بارات واپس جا رہی ہے،” دولہا نے بھی آگے بڑھ کر باپ کا ساتھ دیا۔
ساجد علی نے چاروں طرف دیکھا، ہال میں موجود مہمان سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اس نے اپنی وہ سفید پگڑی، جو اس کی عزت کی نشانی تھی، اتاری اور دولہا کے باپ کے پیروں میں رکھ دی۔ “میری بیٹی کی زندگی برباد مت کریں… خدا کے لیے اسے اپنا لیں… میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔”
لیکن لالچ کے اندھے انسانوں کو اس بوڑھے کے آنسو نظر نہیں آئے۔ دولہا کے باپ نے پگڑی کو پاؤں سے ٹھکرا دیا اور اونچی آواز میں بولا، “چلو بھائی! یہاں ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ بارات واپس لے چلو۔”
پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ باراتی کھانا کھا کر، ہنستے ہوئے اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ پیچھے رہ گیا تو صرف ایک ٹوٹا ہوا باپ اور ہال کا عملہ جو لکڑی کی کرسیاں سمیٹ رہا تھا۔
خدیجہ اپنے کمرے سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کے سرخ جوڑے پر اس کے آنسو گر رہے تھے، جن سے مہندی کی خوشبو دم توڑ رہی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئی اپنے باپ کے پاس آئی، جس نے ہال کے وسط میں اپنا سر پکڑ رکھا تھا۔
“بابا… آپ نے ان کے پیروں میں پگڑی کیوں رکھی؟ بابا، مجھے ایسے گھر نہیں جانا جہاں میرے باپ کی عزت نہ ہو،” خدیجہ نے روتے ہوئے ساجد علی کا ہاتھ پکڑا۔
ساجد علی نے بیٹی کے چہرے کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ یکدم سفید ہو چکا تھا اور سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھا۔ اس کے سینے میں ایک ہولناک درد اٹھا تھا۔ وہ معاشرے کے اس طنز، سود خور کے قرضے اور بیٹی کی ٹوٹی ہوئی بارات کا بوجھ نہیں اٹھا سکا۔
“خدیجہ… میری بچی… مجھے معاف کر دینا… میں تیرے نصیب اچھے نہیں کر سکا…” یہ ساجد علی کے آخری الفاظ تھے۔ وہ وہیں ہال کے فرش پر گرا اور چند سیکنڈز میں اس کی روح پرواز کر گئی۔
اگلی صبح، اسی مٹی کے گھر کے باہر جہاں رات کو عید کا سماں تھا، اب لوگوں کا ہجوم تھا۔ ہر طرف رونے کی آوازیں تھیں۔ خدیجہ اب بھی اسی سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس تھی، اس کی آنکھیں پتھرا چکی تھیں اور وہ اپنے باپ کی چارپائی سے لپٹی ہوئی تھی۔
لوگ آ رہے تھے، لیکن کوئی جہیز کی بات نہیں کر رہا تھا، کوئی موٹر سائیکل کا نہیں پوچھ رہا تھا۔ اب وہاں صرف ایک سفید کفن تھا جو ساجد علی کا آخری تحفہ تھا اپنی بیٹی کے لیے۔
دوپہر کے وقت جب ساجد علی کا جنازہ گھر سے نکلا، تو محلے والوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ خدیجہ نے اپنے سرخ دوپٹے کا ایک کونا اپنے باپ کے جنازے کے بانس سے باندھ دیا تھا۔ اس کا باپ اس کی ڈولی تو نہ اٹھا سکا، لیکن وہ اپنی بیٹی کو اس بے حس اور لالچی دنیا میں اکیلا چھوڑ کر اپنی آخری ڈولی میں روانہ ہو چکا تھا۔