ضلع بہاولپور کی مشہورِ زمانہ تاریخی تحصیل احمد پور شرقیہ کے دور دراز آخری کونے پر، جہاں سے چولستان کے لامتناہی ریگستان کی حدیں شروع ہوتی تھیں، وہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کی اوٹ میں بسا ایک چھوٹا، بھولا بسرا اور حد درجہ پسماندہ دیہات تھا—”جھگیاں چولستان”۔ اس دیہات کی مٹی پر جب جولائی کا بے رحم اور جلتا ہوا سورج اپنی پوری آگ برساتا، تو دور دور تک پھیلی ریت کے بگولے اور کچے مکانوں کی مٹیالی دیواریں تپتے ہوئے تندور کی طرح دہکنے لگتیں۔ پانی کی بوند بوند کو ترستی اس دھرتی پر غریب کسانوں اور مزارعوں کے جسم دن بھر کی مشقت سے جھلس جاتے۔ لیکن اس پورے علاقے کا سب سے بڑا، کڑوا اور ہولناک سچ یہ تپتی ہوئی دھوپ یا پانی کی لامتناہی قحط سالی نہیں تھی، بلکہ چوہدری صاحب داد شاہ کی اس بڑی حویلی کا وہ سیاہ اور سنگین خوف تھا، جو ہر غریب کے کچے مکان کی چھت پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار کی طرح مسلط تھا۔
جھگیاں چولستان میں قانون، عدالت، عزت اور زندگی کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے حویلی کے بند اور تاریک کمروں میں نوابی رعب کے ساتھ طے ہوتے تھے۔ وہاں چوہدری صاحب داد شاہ اور اس کی مغرور بیگم، شاہینہ بیگم کی مرضی کے بغیر ہوا کا ایک سرکش جھونکا بھی اپنا رخ نہیں بدل سکتا تھا۔ شاہینہ بیگم اپنے حسب نسب، اونچی ذات اور خاندانی دولت کے تکبر میں اس حد تک ڈوبی ہوئی سنگدل عورت تھی کہ وہ اس پسماندہ خطے کے غریب کسانوں کو انسان نہیں، بلکہ اپنے پیر کی جوتی کے برابر سمجھتی تھی۔ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے، سارنگ شاہ کی ہر سیاہ کرتوت، اوباشی اور ضد پر ہمیشہ ممتا کی ریشمی چادر ڈال کر اسے چھپایا تھا، اور اسی اندھے لاڈ پیار نے سارنگ شاہ کو پورے علاقے کا سب سے بے رحم اور خونخوار بھیڑیا بنا دیا تھا جس کے سامنے پورا گاؤں سر جھکا کر جیتا تھا۔
مگر اسی پسماندہ، پیاسے اور ظالم دیہات کے ایک ویران کونے میں بنے مٹی اور گارے کے کچے مکان کے اندر، قدرت نے حسن کا ایک ایسا لازوال شاہکار تخلیق کیا تھا جس کی ایک جھلک کی تاب لانا بھی کسی عام انسانی عقل کے بس میں نہ تھا۔
بانو۔۔۔ جو صرف ایک نام نہیں تھی، بلکہ جھگیاں چولستان کی اداس اور گرم فضاؤں میں بکھری ہوئی سحر انگیزی کی ایک مکمل ردا تھی۔ اس کے ریشم جیسے کالے، گھنے اور گھٹنوں تک طویل بال جب اس کی کمر پر لہراتے تو یوں لگتا جیسے چولستان کی تپتی دوپہر میں ایک دم کالی چٹیا رات اتر آئی ہو۔ اس کی بڑی بڑی، گہری مخملی آنکھیں جن میں بلا کا سسپنس اور حیا تھی، چمکتے ہوئے قدرتی گلابی گال اور تیکھے نقش اس کے گندمی نکھرے ہوئے رنگ پر اس طرح سجتے تھے کہ سر سے پاؤں تک وہ خدا کا بنایا ہوا ایک اچھوتا اور نایاب شاہکار لگتی تھی۔ بانو کے سرخ، پتلے ہونٹوں کی معصوم مسکراہٹ اور اس کے چلنے کی دھیمی، باحیا ادا میں ایسا جادو تھا کہ دیکھنے والا اپنے ہوش و حواس کھو کر وہیں ساکت رہ جائے، مگر اس بے پناہ حسن کے گرد اس کی غیرت، خودداری اور پاکیزگی کی ایک فولادی دیوار ہمیشہ تنی رہتی تھی۔ وہ صرف روایتی طور پر حسین نہیں تھی، بلکہ اپنے پورے خاندان کی واحد لڑکی تھی جس نے تمام تر خاندانی پابندیوں کے باوجود شہر کے قریبی اسکول سے میٹرک پاس کیا تھا؛ وہ حد درجہ سمجھدار، سوجھ بوجھ والی، تیز دماغ اور ہر معاملے کی گہرائی کو بھانپ لینے والی لڑکی تھی۔
بانو کا گھرانہ ایک روایتی، سفید پوش اور حد درجہ غیور کسان کا گھرانہ تھا۔ اس کے والد، اللہ دتا، عمر بھر چوہدریوں کی زمینوں پر اپنا خون پسینہ بہانے اور ہل چلانے کے باوجود ایک نہایت غیرت مند انسان تھے، جو بھوکے مر سکتے تھے لیکن اپنی عزت اور دستار پر کبھی ایک آنچ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی ماں، بلقیس بیگم، ایک روایتی، سیدھی سادی اور ڈرپوک ممتا کا روپ تھیں جن کا دل حویلی کے بندوق بردار کارندوں کی بھاری آوازیں سن کر ہی حلق میں آ جاتا تھا اور وہ ہر وقت اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے جائے نماز پر بیٹھ کر آنسو بہاتی رہتی تھیں۔ گھر کی سب سے بزرگ خاتون، دادی رحمت بی بی تھیں، جن کے چہرے کی گہری جھریوں اور سفید بالوں میں زندگی کے سرد و گرم کا کڑا تجربہ اور ایک عجیب سی دلیری جھلکتی تھی۔ وہ پورے گھر کا حوصلہ تھیں اور ان کی باتوں میں پرانی حکمت ہوتی تھی۔ بانو کا ایک چودہ سال کا معصوم چھوٹا بھائی تھا، ساجد، جو ابھی زندگی کی ان تلخ حقیقتوں اور وڈیروں کے ظلم و ستم سے بالکل بے خبر، اپنی معصوم دنیا میں مست رہتا تھا۔
بانو کی منگنی بچپن ہی میں اس کے چچا زاد امجد سے ہو چکی تھی۔ امجد ایک غیرت مند، محنتی اور نہایت سلجھے ہوئے مزاج کا نوجوان تھا جو بہاولپور شہر کی ایک بڑی اناج منڈی میں منشی کا کام کرتا تھا۔ وہ بانو سے سچی، پاکیزہ اور والہانہ محبت کرتا تھا، اور بانو بھی اپنے دل کی ہر دھڑکن میں صرف امجد کا نام سنتی تھی۔ دونوں کے خاندان اس سیدھی سادی، سفید پوش زندگی میں بے حد خوش تھے اور اگلے ہی مہینے ان کی شادی کی تاریخیں پکی ہونی تھیں، جس کی خوشی میں بانو اکثر رات کو اپنے کچے دالان میں چارپائی پر بیٹھی چولستان کے صاف چمکتے ستاروں کو دیکھ کر اپنے ہاتھوں کی مہندی اور آنے والی نئی زندگی کے خوبصورت خواب بنتی تھی۔
جولائی کی اسی طرح کی ایک شدید گرم اور تھکا دینے والی شام، جب سرخ جھلساتا ہوا سورج دیہات کے کچے مکانوں اور ریت کے دور دراز ٹیلوں کے پیچھے آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا اور فضا میں دن بھر کی حبس کے بعد ایک ہلکی سی ٹھنڈی ہوا اتر رہی تھی، بانو اپنے سر پر مٹی کا گھڑا رکھے، اپنی بڑی سوتی چادر کو اپنے وجود کے گرد اچھی طرح لپیٹے، نہر کے کنارے بنے کچے اور ویران راستے سے گزر کر کھیتوں کی طرف جا رہی تھی۔ اس کے پیروں میں موجود چاندی کی پرانی پازیب کی دھیمی سی چھن چھن اس خاموش اور سنسان راستے پر ایک مدہم موسیقی بکھیر رہی تھی اور وہ شرمائی ہوئی نظریں زمین پر جھکائے اپنے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ اج کی یہ اداس شام اس کے پرسکون مقدر کے پرخچے اڑانے والی ہے۔
اسی وقت، کچی سڑک پر مٹی اور ریت کا ایک بہت بڑا غبار اڑاتی ہوئی کالی پراڈو گاڑی نہایت تیز رفتاری سے آئی اور ایک زوردار، خوفناک بریک کے ساتھ بانو سے چند قدم کے فاصلے پر رک گئی۔ گاڑی کے ٹائروں سے اڑتی ہوئی ریت بانو کی چادر پر آ گری۔ بانو کا دل دھک سے رہ گیا۔ گاڑی کا بھاری دروازہ کھلا اور اس میں سے سارنگ شاہ باہر نکلا۔
سارنگ شاہ۔۔۔ حویلی کا وہ اکلوتا اور بگڑا ہوا شہزادہ، جس کی اوباشی، ہٹ دھرمی اور سنگدلی کے قصے پورے بہاولپور ریجن میں مشہور تھے۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی چیز کے آگے لفظ “ناں” نہیں سنا تھا، اور جو لڑکی یا جو چیز اسے ایک بار پسند آ جاتی، وہ اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتا تھا، کسی کی بھی جان لے سکتا تھا کیونکہ اس کے پیچھے اس کے باپ کا سیاسی رعب اور اس کی ماں شاہینہ بیگم کا اندھا لاڈ کھڑا تھا۔
سارنگ شاہ نے اپنے مہنگے لائٹر سے سگریٹ سلگائی، ایک لمبا کش لیا اور دھواں ہوا میں اڑاتے ہوئے جیسے ہی مڑا، اس کی گندی، پیاسی اور سفاک نظریں سامنے کھڑی بانو پر پڑیں۔ بانو نے جیسے ہی گاڑی کی تیز اواز اور بھاری قدموں کی آہٹ سنی، اس نے خوف اور حیا کے مارے اپنی گلابی چادر کو اپنے چہرے پر مزید تان لیا اور تیزی سے آگے بڑھنے لگی۔ لیکن اس ایک سیکنڈ کے ہیر پھیر میں سارنگ شاہ نے جو دیکھا، اس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔ بانو کے حسن کا وہ لازوال سحر، اس کے گالوں کی قدرتی سرخی، اس کے ہونٹوں کی بناوٹ اور اس کا وہ رعب سارنگ شاہ کے دل و دماغ میں ایک زہریلے اور پاگل کر دینے والے جنون کی طرح اتر گیا۔ وہ سگریٹ ہاتھ میں لیے وہیں مٹی پر ساکت ہو گیا، اس کی آنکھیں بانو کے لہراتے اور چادر میں لپٹے وجود پر جم گئیں اور اس کے اندر ایک وحشیانہ خواہش نے جنم لے لیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں جاگی تھی۔
بانو نے اس کی اس تیز، گھناؤنی اور مردانہ نظر کی تپش کو اپنے وجود پر صاف محسوس کیا۔ اس کا دل کسی پنجرے میں بند خوفزدہ پرندے کی طرح سینے میں زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنی چلنے کی رفتار بڑھائی، نظریں مزید زمین میں گاڑیں اور سارنگ شاہ کے پاس سے ایک طوفان کی طرح گزر گئی۔ سارنگ شاہ نے مڑ کر اسے تب تک دیکھا جب تک وہ ریت کے ایک اونچے ٹیلے کے سبز موڑ پر ہمیشہ کے لیے غائب نہیں ہو گئی۔
“جبار! اوئے جبار۔۔۔ کون ہے یہ لڑکی؟” سارنگ شاہ نے اپنی بڑی سی ڈبل بیرل بندوق تانے کھڑے اپنے خاص غنڈے اور حویلی کے باڈی گارڈ، جبار کا کالر ایک زوردار جھٹکے سے پکڑ کر پوچھا۔ سارنگ شاہ کی آواز میں ایک عجیب سی ہٹ دھرمی، بے چینی اور جنونی چمک تھی۔ جبار نے حویلی کے چھوٹے سائیں کا بدلا ہوا موڈ اور آنکھوں کا خونخوار رنگ دیکھ کر ڈرتے ہوئے فوراً سر جھکایا اور لرزتی آواز میں بولا، “سائیں۔۔۔ یہ اپنے ہی پرانے مزارع اللہ دتا کی بیٹی بانو ہے، میٹرک پاس ہے اور بہت سیدھے سادے لوگ ہیں۔ اس کی منگنی اس کے سگے چچا زاد امجد سے ہوئی ہے سائیں، جو شہر کام کرتا ہے۔ اگلے مہینے شادی ہے ان کی سائیں۔۔۔”
“شادی۔۔۔؟” سارنگ شاہ کے لبوں پر ایک انتہائی مکروہ، سرد اور وحشیانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے آدھی جلتی ہوئی سگریٹ کو اپنے مہنگے چمڑے کے جوتے تلے چولستان کی گرم مٹی میں بے دردی سے مسلتے ہوئے سفاکی سے کہا، “جھگیاں چولستان کی اس مٹی پر پیدا ہونے والا اتنا بڑا شاہکار کسی عام، دو ٹکے کے امجد کی ڈولی میں نہیں بیٹھ سکتا، جبار! بانو اب سارنگ شاہ کے سر کا وہ جنون بن چکی ہے جس کا کوئی علاج نہیں، اور جو میرا جنون بن جائے، وہ یا تو سارنگ شاہ کی حویلی کی زینت بنتی ہے یا پھر سیدھا قبر کی اندھیری مٹی کی! اس امجد کو کہو کہ اپنے کفن کا انتظام کر لے۔”
اس رات، حویلی کے عالی شان اور ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں شاہینہ بیگم اپنے بیٹے سارنگ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی کیونکہ وہ شام سے بے چین تھا اور اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا، لیکن سارنگ کی بند آنکھوں کے سامنے بانو کا وہ چہرہ، اس کے ریشمی بال اور اس کی وہ حیا دار ادا ایک ایسے نشے کی طرح چڑھ چکی تھی جو جھگیاں چولستان کے اس معصوم، غریب کسان کے گھرانے کو ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد کرنے والا تھا!
جھگیاں چولستان کی مٹی پر سارنگ شاہ کا وہ کالا جنون ایک سائے کی طرح پھیل چکا تھا، لیکن اللہ دتا کا وہ چھوٹا سا کچا مکان اس آنے والے خونی طوفان سے بالکل بے خبر اپنی سفید پوشی میں مگن تھا۔ گھر کے دالان میں ایک پرانی کٹیا کے نیچے بلقیس بیگم بیٹھی بانو کی شادی کے لال جوڑے پر سنہری تلے اور کڑھائی کا کام کر رہی تھیں۔ ان کی ضعیف آنکھوں میں اپنی اکلوتی بیٹی کو رخصت کرنے کے سچے ارمان چمک رہے تھے اور وہ سوئی کا ایک ایک ٹانکا بھرتے ہوئے بانو کے اچھے نصیب کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔ اللہ دتا بھی شام کو جب چوہدریوں کے کھیتوں سے دن بھر ہل چلا کر، پسینے میں شرابور ہو کر لوٹتا، تو اپنی بیٹی کے معصوم اور چاند جیسے چہرے کو دیکھ کر اپنی کمر کا سارا درد بھول جاتا۔ دادی رحمت بی بی حجرے کے دالان میں پرانی لکڑی کی چارپائی پر بیٹھی تسبیح کے دانے گراتیں اور رہ رہ کر بانو کو اپنے پاس بلاتیں، اس کے ماتھے کو چومتیں اور کہتیں، “میری بانو! خدا تجھے بری نظروں سے بچائے، اس چولستان کی مٹی میں ایسا حسن میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔” بانو شرما کر دادی کے سینے سے لگ جاتی، لیکن اس کے معصوم دل کے کسی گہرے کونے میں سارنگ شاہ کی وہ پہلی زہریلی اور سفاک نظر اب بھی ایک تیز کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی، جس کا ذکر اس نے خوف کے مارے اپنے بوڑھے باپ یا ڈرپوک ماں سے کبھی نہیں کیا تھا۔
امجد دو دن کی چھٹی لے کر بہاولپور شہر کی اناج منڈی سے گاؤں آیا ہوا تھا تاکہ شادی کے کارڈ اور تاریخ کو حتمی شکل دی جا سکے۔ وہ شام بانو کی زندگی کی آخری پرسکون، خوبصورت اور رومانوی شام تھی۔ جھگیاں چولستان کے کنارے پر بہتی پرانی نہر، جہاں گھنے کیکر کے درختوں کا سایہ تھا اور شام کی سرخ صحرائی دھوپ پانی کی لہروں پر تیر رہی تھی، بانو اور امجد ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ بانو نے اپنے سر پر گلابی رنگ کی ایک بڑی سوتی چادر اوڑھ رکھی تھی، جس کے سائے میں اس کے نکھرے ہوئے گال اور سرخ، نازک ہونٹ کسی ریگستانی گلاب کی طرح لگ رہے تھے۔ اس کے کالے ریشمی بال چادر کی حدوں کو توڑ کر اس کے شانوں پر لہراتے ہوئے ہوا میں اڑ رہے تھے۔
“بانو! جب میں بہاولپور شہر کے منڈی کے شور میں ہوتا ہوں نا، تو وہاں کی رونق میں بھی مجھے صرف تمہاری پازیب کی دھیمی سی چھن چھن سنائی دیتی ہے،” امجد نے اپنے دل کی تمام تر سچائی اور محبت کو آواز میں ڈھالتے ہوئے بانو کے تیکھے نقش کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں میں بانو کے لیے گہری عقیدت اور مان تھا۔ بانو نے شرم اور حیا کے مارے اپنی لمبی، گھنی پلکیں جھکا لیں اور نہر کے بہتے پانی میں اپنے پیر کی انگلی سے مٹی کریدتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی، “امجد سائیں! بس دعا کریں یہ ایک مہینہ جلدی سے خیر و عافیت کے ساتھ گزر جائے، مجھے جاگیرداروں کے اس گاؤں اور حویلی کے کارندوں سے اب عجیب سا خوف آنے لگا ہے۔” امجد نے ایک قدم آگے بڑھایا، اس کا چہرہ غیرت اور محبت کے جذبے سے تمتمانے لگا۔ اس نے پورے مان سے بانو کے سر پر ہاتھ رکھا اور مضبوط لہجے میں بولا، “جب تک امجد کے سینے میں سانس چل رہی ہے بانو، جھگیاں چولستان کا کوئی وڈیرا، کوئی چوہدری یا کوئی جاگیردار تمہاری طرف انکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ تم میری منگنی ہو، میری ہونے والی بیوی ہو اور میری غیرت ہو۔ اور ایک غیرت مند مرد اپنی غیرت کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی ہنس کر دے دیتا ہے۔” دونوں ایک دوسرے کی محبت کے اس پاکیزہ مان میں گم مسکرا رہے تھے، یہ جانے بغیر کہ ان کے ٹھیک پیچھے، گھنے کیکر کے درختوں کی اوٹ میں موت کا ایک خوفناک، کالا سایہ کھڑا ان کی ایک ایک بات اپنے کانوں میں اتار رہا تھا۔
سارنگ شاہ اپنی کالی پراڈو گاڑی میں جبار اور دو بندوق بردار غنڈوں کے ساتھ اسی نہر والے کچے راستے سے گزر رہا تھا جب اس کی نظر ان دونوں پر پڑی۔ امجد کا اتنے مان سے بانو کے سر پر ہاتھ رکھنا اور بانو کا اس کے سامنے اپنی حیا دار مسکراہٹ بکھیرنا سارنگ شاہ کے اندر حسد اور انا کی ایک ایسی وحشیانہ آگ بھڑکا گیا جس نے اس کے بچے کچے انسانی ہوش بھی جلا کر راکھ کر دیے۔ اس کی آنکھیں ایک سیکنڈ میں خونخوار بھیڑیے کی طرح سرخ ہو گئیں، اس کے ہاتھ گاڑی کے اسٹیرنگ پر اتنے زور سے بھینچے کہ اس کے ہاتھ کے جوڑ سفید پڑ گئے۔ “یہ کتے کا بچہ امجد۔۔۔ اس کی اتنی جرات؟ اس کی یہ اوقات کہ یہ سارنگ شاہ کی پسند، میرے جنون کے اتنے قریب کھڑا ہو کر مسکرائے؟” سارنگ شاہ کی آواز میں ایک وحشیانہ، غصیلے شیر جیسی کڑک تھی جس نے ساتھ بیٹھے جبار کا بھی خون جما دیا۔ “سائیں! وہ اس کا بچپن کا منگیتر ہے۔۔۔” جبار نے ڈرتے ہوئے بات کاٹنی چاہی، لیکن سارنگ شاہ نے مڑ کر اس کے منہ پر ایک ایسا زوردار طمانچہ مارا کہ جبار کے ہونٹ سے خون نکل آیا۔ “منگیتر تھا جبار! اب وہ اس دھرتی پر صرف ایک لاش ہے! جبار۔۔۔ مجھے یہ لڑکا اج کی اس تاریک رات کے بعد اس چولستان کی مٹی پر زندہ نظر نہیں آنا چاہیے۔ اسے ہمیشہ کے لیے راستے سے مٹاؤ تاکہ بانو کا یہ اکلوتا مان ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے اور اسے پتا چلے کہ جھگیاں چولستان کا اصل خدا کون ہے!”
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ پورے دیہات پر گہرا اندھیرا اور قبرستان جیسا سکوت طاری تھا، چولستان کی ٹھنڈی ہوا ریت کے ٹیلوں سے ٹکرا کر سائیں سائیں کر رہی تھی اور دور کہیں کتوں کے روتی ہوئی آوازیں گونج رہی تھیں۔ امجد بانو کے گھر والوں سے شادی کی باتیں فائنل کر کے، چائے پی کر اپنے گھر کی طرف کچے اور ویران راستے پر پیدل جا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں بانو کے ساتھ بتائے ہوئے وہ خوبصورت لمحے گھوم رہے تھے اور وہ اپنی ہی دھن میں سرائیکی کا ایک میٹھا گیت گنگناتا ہوا جا رہا تھا۔ اچانک، اس کے پیچھے سے ایک تیز ہیڈ لائٹ کی روشنی چمکی جس نے کچے راستے کے اندھیرے کو چیر دیا۔ امجد نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو وہی بغیر نمبر پلیٹ کی کالی پراڈو گاڑی نہایت خاموشی سے اس کے بالکل پاس آ کر رکی۔ اس سے پہلے کہ امجد کے ذہن میں کوئی خطرے کی گھنٹی بجتی یا وہ کچھ سمجھ پاتا، گاڑی کا پچھلا کالا شیشہ آہستہ سے نیچے ہوا اور اندھیرے میں جبار کا سفاک اور ہنستا ہوا چہرہ نمودار ہوا جس کے ہاتھ میں چمکتی ہوئی پسٹل تھی۔
ٹھا! ٹھا! ٹھا!
تین پے در پے گولیوں کی ہولناک اواز نے جھگیاں چولستان کی خاموشی کے پرخچے اڑا دیے۔ گن پاؤڈر کا کڑوا دھواں رات کی ہوا میں پھیلا اور امجد کے سینے سے گرم خون کا فوارہ ابل پڑا۔ اس کے منہ سے ایک ادھوری، دردناک چیخ نکلی، “بانو۔۔۔!” اور وہ چولستان کی اسی گرم مٹی پر اوندھے منہ گر گیا۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جن میں بانو کا وہ گلابی چہرہ آخری بار چمکا اور پھر ہمیشہ کے لیے موت کا اندھیرا چھا گیا۔ گاڑی مٹی اور ریت اڑاتی ہوئی اندھیرے میں غائب ہو گئی، اور چولستان کی پیاسی مٹی ایک معصوم، غیور عاشق کے خون کو چاٹ گئی۔
صبح جب دیہات کی نہر کے کنارے امجد کی خون میں لت پت، سرد لاش ملی، تو بانو کے گھر میں جیسے ایک دم قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ اللہ دتا اپنا سر پکڑ کر دالان کی مٹی پر بیٹھ گیا اور بلقیس بیگم اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں، گھر کی دیواریں ان کے بین سے گونج اٹھی۔ بانو جیسے ہی اپنے کمرے سے نکل کر باہر آئی اور اس نے دالان میں رکھی امجد کی سفید کفن میں لپٹی خاموش لاش کو دیکھا، اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی سرک گئی۔ اس کا وہ سچا منگیتر، اس کا اکلوتا مان، اس کا محافظ اج ہمیشہ کے لیے خاموش لیٹا تھا۔ بانو کے منہ سے کوئی اواز نہیں نکلی، وہ ایک دم پتھر کی مورت بن گئی۔ اس کی سوجھ بوجھ اور میٹرک پاس عقل نے ایک سیکنڈ میں اشارہ کر دیا کہ یہ کوئی عام چوری یا دشمنی نہیں ہے، یہ اسی ظالم اور اوباش سارنگ شاہ کا خونی کام ہے جس نے چند دن پہلے اسے کھیتوں کے راستے پر روکا تھا۔
ابھی امجد کا جنازہ بھی گھر سے نہیں اٹھا تھا کہ حویلی کے مسلح کارندے جبار کی قیادت میں اللہ دتا کے کچے مکان کے باہر ا کر کھڑے ہو گئے۔ جبار نے اپنی بندوق کا رخ سیدھا کرتے ہوئے دالان میں بیٹھے اللہ دتا کو جوتے کی زوردار ٹھوکر ماری اور سنگدلی سے ہنستے ہوئے بولا، “اوئے اللہ دتا! حویلی کے چھوٹے سائیں کا سیدھا حکم ہے، تمہارا یہ چودہ سال کا بیٹا ساجد اب سے حویلی کے اصطبل میں کام کرے گا، اسے ہمارے ساتھ بھیجو۔ اور ہاں۔۔۔ اگر اپنے اس پورے خاندان کی اور اپنی بوڑھی ہڈیوں کی خیر چاہتے ہو، تو اپنی اس لاڈلی بیٹی بانو کو سمجھاؤ کہ وہ خود چل کر حویلی ائے اور چھوٹے سائیں کے پیروں میں گر کر اپنے اس سرکش خاندان کی معافی مانگے، ورنہ یاد رکھنا، امجد کا جو حال ہوا ہے، تمہارا پورا خاندان اسی چولستان کی ریت میں زندہ دفن کر دیا جائے گا!”
بلقیس بیگم نے چیخ مار کر معصوم ساجد کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کارندوں کے آگے ہاتھ جوڑنے لگیں، لیکن جبار کے بے رحم غنڈوں نے چودہ سال کے معصوم اور روتے ہوئے ساجد کو ماں کی گود سے وحشیانہ طریقے سے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال لیا۔ اللہ دتا نے غیرت کے مارے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی تو جبار نے اپنی بندوق کے بھاری بٹ سے اس کے سر پر زوردار وار کیا جس سے اللہ دتا کا سر پھٹ گیا اور خون کا فوارہ اس کی داڑھی پر بہنے لگا۔ بانو یہ سب دیکھ رہی تھی، اس کے معصوم بھائی کا وحشیانہ اغوا، اس کے باپ کا بہتا ہوا خون اور اس کی ماں کی بے بسی اس کی غیرت اور روح کو ہلا گئی تھی۔ وہ میٹرک پاس، سمجھدار لڑکی اج جاگیردارانہ نظام کے اس ننگے اور وحشی ظلم کے سامنے اکیلی کھڑی تھی، لیکن اس کی پاکیزگی اور خودداری اب بھی ایک ناقابلِ تسخیر چٹان کی طرح مضبوط تھی۔
شام کو جب اندھیرا گہرا ہوا، تو دادی رحمت بی بی بانو کے اندھیرے کمرے میں آئیں، ان کی آنکھوں میں انسو بہہ رہے تھے لیکن ان کے لہجے میں زندگی کا سب سے بڑا اور کڑا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بانو کے لرزتے ہوئے ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں تھامے اور کانپتی، گہری آواز میں کہا، “میری بچی! یہ سارنگ شاہ انسان نہیں، ایک خونخوار بھیڑیا ہے، یہ تیری پاکیزگی کو چاٹ جائے گا اور تیرے بھائی اور باپ کو بھی مار دے گا۔ اس سے پہلے کہ یہ حویلی کی کالی دیواریں تیری عزت کا جنازہ نکالیں، تو یہ گاؤں، یہ جھگیاں چولستان چھوڑ کر بھاگ جا! شہر چلی جا بانو۔۔۔ سب کچھ چھوڑ کر چلی جا، اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر، یہی تیرے باپ کا مان ہے!”
بانو نے روتے ہوئے اپنی دادی کے چہرے کو دیکھا، اس کے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اج کی اس کالی، طوفانی رات، جب پورا دیہات سو رہا تھا، بانو نے اپنے بہتے ہوئے آنسو پونچھے، اپنی اسی گلابی چادر کو مضبوطی سے اپنے سر اور وجود پر تانا اور اپنے بوڑھے ماں باپ اور بھائی کی زندگی کی دعا مانگتے ہوئے، اندھیرے کے سائے میں جھگیاں چولستان کے کچے راستوں سے ہمیشہ کے لیے شہر کی طرف فرار ہو گئی، یہ جانے بغیر کہ شہر کی تیز رفتار سڑکوں پر ایک اور مقدر، ایک اور سچا انسان،صلاح الدین،اس کی زندگی کا محافظ بننے کے لیے اس کا انتظار کر رہا ہے!