Mirza Amjid Baig

سعی لاحاصل (مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ)

موسم نے اچانک ہی کروٹ لی تھی۔ اس کے ساتھ ہی معمولاتِ زندگی میں بڑا خوشگوار بدلاو دیکھنے کو ملا تھا۔ راتوں رات ہی گرم کپڑے نکل آئے تھے۔ سویٹرز، جیکٹس، ٹوپیاں، دستانے اور دیگر ملبوسات کی چہل پہل نظر آ رہی تھی۔ کراچی میں موسمِ سرما نہایت ہی مختصر مدت کے لیے پڑاؤ ڈالتا ہے، اسی لیے اس شہر کے باسی گرم ملبوسات کے شوق کو پورا کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ​ایسی ہی ایک ٹھنڈی ٹھار سہ پہر میں آفس پہنچا تو لابی میں تین چار افراد میرے لیے انتظار میں بیٹھے تھے۔ میں نے سر کی خفیف سی جنبش سے ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنے چیمبر کی جانب بڑھ گیا۔
​میں نے اپنے مخصوص کمرے میں قدم رکھا تو یخ بستگی کا احساس ہوا۔ خوشگوار ٹھنڈک نے میرے جسم کے کھلے حصوں پر خنک بوسے دے ڈالے تھے۔ بے اختیار میری نگاہ ایئر کنڈیشنر کی جانب اٹھ گئی۔ اے سی آف تھا۔ میں اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔ اگلے ہی لمحے انٹرکام کی گھنٹی بج اٹھی۔ ​میں نے ریسیوور اٹھا کر کان سے لگایا۔ دوسری جانب میری سیکریٹری ناہید تھی۔ میرے “ہیلو” کے جواب میں اس نے خوش اخلاقی سے استفسار کیا۔
​”سر! فیصل صاحب ایک گھنٹے سے آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ انہیں اندر بھیج دوں؟”
​”ضرور بھیج دو۔” میں نے سرسری انداز میں کہا۔
​”اللہ کی بندی! اس سے پہلے یہ بتاؤ میرے آفس کے اسٹاف میں سب سے زیادہ گرمی​کس کو لگتی ہے؟”
​”اوہ” ناہید کی متاسفانہ آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ “شوکت نے غلطی سے آپ کے کمرے کا اے سی آن کر دیا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میں نے بند کرایا ہے”
​ناہید کو میرے پاس کام کرتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا لیکن بہت کم وقت میں اس نے آفس کے اور میرے معاملات کو سنبھال لیا تھا۔ وہ نہایت ہی سمجھدار اور موقع شناس لڑکی تھی۔ اس مختصر سی مدت میں میں اس کی ذہانت اور معاملہ فہمی کا قائل ہو گیا تھا۔ ابھی بھی نے اس سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ سب سے زیادہ گرمی کس کو لگتی ہے اور ناہید اس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی تھی۔
​شوکت علی کا تعلق ضلع ملتان سے تھا۔ اسے بھی میرے پاس چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ وہ گھر سے بھاگ کر کراچی آیا تھا۔ میں نے ملتان سے اس کے گھر والوں کو کراچی بلا کر ان کے درمیان پائی جانے والی ناراضی دور کرا دی تھی اور اب سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی دلچسپ اور سبق آموز قصہ ہے جس کا ذکر پھر کسی موقع پر کروں گا۔
​یہ ٹھیک ہے کہ آفس ہوائے شوکت علی کو زیادہ گرمی لگتی تھی یہ الفاظ دیگر سردی بہت کم محسوس ہوتی تھی تاہم میرے چیمبر کا اے سی آن ہو جانے میں اس کی غلطی سے زیادہ معمول کا دخل تھا۔ وہ روزانہ یہ کام کرتا تھا چنانچہ عادتاً آج بھی اس نے معمول کے مطابق اے سی آن کر دیا ہو گا۔ دو روز پہلے تک یہ اے سی بڑے ہی باقاعدگی کے ساتھ چلایا جا رہا تھا۔
​فیصل نامی اس کلائنٹ کی عمر پینتالیس کے قریب رہی ہو گی۔ وہ متناسب بدن کا مالک ایک دراز قامت شخص تھا۔ رنگ گندمی اور آنکھوں سے سادگی کا اظہار ہوتا تھا۔ فیصل نے شرعی ڈاڑھی رکھی ہوئی تھی۔ اس وقت وہ پتلون اور شرٹ میں ملبوس تھا۔ شرٹ کے اوپر اس نے گرم جیکٹ پہن رکھی تھی۔ وہ خاصا الجھا ہوا اور پریشان نظر آتا تھا۔
​میں نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اپنی میز کے سامنے رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “تشریف رکھیے”
​اس نے تشریف رکھ دی۔ رکی علیک سلیک کے بعد میں نے اس کی آمد کی غرض و غایت کے بارے میں دریافت کیا تو وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
​”وکیل صاحب! میں بہت پریشان ہوں”
​”وہ تو آپ شکل ہی سے لگ رہے ہیں۔” میں نے معتدل انداز میں کہا۔ “میرے پاس آنے والے افراد کو کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ بہر حال” میں نے لمحاتی توقف کے بعد ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
​”فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”
​”بٹ صاحب نے آپ کی بہت تعریف کی تھی۔” وہ بہ دستور سنجیدہ لہجے میں بولا۔ “میں اپنے مسئلے کے سلسلے میں پہلے بھی دو تین وکیلوں کو آزما چکا ہوں لیکن یہ معاملہ جہاں سے چلا تھا ابھی تک وہیں کھڑا ہے”
​”آپ کن بٹ صاحب کا ذکر کر رہے ہیں؟” میں نے چونک کر پوچھا۔
​”یونس بٹ صاحب۔” اس نے جواب دیا۔
​یونس بٹ کا تعلق شوبز سے تھا۔ میرے اس کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ میں نے اثبات میں گردن ہلائی اور کہا۔
​”ٹھیک ہے فیصل صاحب! اب ذرا آپ مجھے اپنے اس معاملے کے بارے میں بتادیں جو ابھی تک ایک ہی جگہ پر کھڑا ہے اور اس معاملے کو کسی کنارے لگانے کی غرض سے آپ میرے پاس آئے ہیں؟”
​”مجھے میری بیٹی چاہیے” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
​”میں سمجھا نہیں۔” میں نے الجھن زدہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ “میرا مطلب ہے آپ کی بیٹی کہاں چلی گئی ہے؟”
​”عائشہ اپنی ماں کے پاس ہے۔”
​”عائشہ یقیناً آپ کی بیٹی کا نام ہے؟” میں نے پوچھا۔
​اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
​”وہ اگر اپنی ماں کے پاس ہے تو اس کا مطلب ہے یہ اودھم آپ کی بیوی کے پاس ہے؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
​وہ سپاٹ آواز میں بولا۔ “جی ہاں فی الحال اس کا یہی مطلب ہے۔”
​”اور آپ کی بیوی کہاں ہے؟” میں پوچھنے بنا نہ رہ سکا۔
​”وہ اپنی ماں کے پاس ہے۔” وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا۔
​”ہوں” میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے انداز میں کہا اور کاغذ قلم سنبھالتے ہوئے اضافہ کیا۔ “تو یہ گھریلو ناچاقی کا معاملہ ہے؟”
​”آپ کا اندازہ درست ہے وکیل صاحب۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔ “لیکن میں “ہے” کی جگہ “تھا” استعمال کرنا چاہوں گا۔”
​”گویا گھریلو ناچاقی سے معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے؟”
​”جی ہاں ایسی ہی صورت حال ہے۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
​میں نے کاغذ پر قلم گھسیٹتے ہوئے پوچھا۔ “آپ کیا چاہتے ہیں؟”
​”اپنی دو سالہ بیٹی عائشہ” وہ دوٹوک انداز میں بولا۔
​”صرف بیٹی یا بیٹی اپنی ماں سمیت؟”
​”صرف بیٹی!” وہ پوری قطعیت سے بولا۔
​”اوکے” میں نے ایک گہری سانس خارج کی اور کہا۔ “فیصل صاحب! آپ مجھے ان حالات سے آگاہ کریں جو آپ کی بیوی اور بیٹی کو آپ سے دور لے گئے ہیں۔ میں جب تک آپ کی کہانی نہ سن لوں، حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔”
​”ٹھیک ہے جناب!” اس نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ “آئندہ تیس منٹ میں فیصل نامی اس شخص نے مجھے اپنے پیش آمدہ حالات و واقعات کے بارے میں جو کچھ بتایا میں اس میں سے غیر متعلق اور غیر ضروری باتوں کو حذف کر کے خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل آپ بھی اس کیس کے پس منظر سے اچھی طرح واقف ہو جائیں۔
​فیصل ایک تعلیم یافتہ اور صاحبِ حیثیت شخص تھا۔ وہ ایک بینک میں باعزت پوسٹ پر کام کر رہا تھا اور اپنے اسٹاف کے درمیان آفیسر کہلاتا تھا۔ اس کا عہدہ مینیجر کے بہت قریب تھا، وہ گلشنِ اقبال میں اپنی فیملی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ دو کشتیوں کا مسافر ہمیشہ پریشان اور مسائل زدہ رہتا ہے سو فیصل بھی ایک ایسے ہی گمبھیر مسئلے سے دوچار تھا۔
​جب یہ کیس مجھ تک پہنچا اس وقت فیصل کی شادی کو لگ بھگ پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ وہ اپنی بیوی فرزانہ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ فرزانہ بھی اسے بہت چاہتی تھی۔ اس ​دوسری فیملی کو کسی بھی نوعیت کی مالی تنگی کا سامنا نہیں تھا، بس ان کی زندگی میں ایک ہی کمی ایک ہی غم تھا. اولاد سے محرومی کا روگ۔ شادی کو ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی فرزانہ کی گود ہری نہیں ہو سکی تھی۔ چونکہ کسی قسم کی معاشی پریشانی نہیں تھی لہذا علاج و معالجہ کے ذیل میں انہوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ مختلف ڈاکٹروں کے کلینکس اور ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد وہ صبر شکر کر کے بیٹھ گئے تھے۔ ڈاکٹروں کا متفقہ فتویٰ یہی تھا کہ دونوں میاں بیوی میں کسی بھی طرح کا کوئی میڈیکل نقص نہیں ہے، قدرت ہی کی طرف سے دیری تھی۔ وہ مشیتِ خداوندی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے خاموش ہو بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا، باہمی انسیت نے دونوں کو ایک مضبوط رشتے میں باندھ رکھا تھا۔
​سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ کم و بیش چار سال پہلے ان کی زندگی میں ایک بھونچال سا آ گیا۔ اس بھونچال کا نام سفینہ تھا۔
​سفینہ ایک ایسے آفس میں کام کرتی تھی جہاں بینک کے کام سے فیصل کا اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ سفینہ دل کش نقوش کی مالک اور قبول صورت لڑکی تھی۔ وہ خوب صورتی میں فرزانہ کی پاسنگ بھی نہیں تھی مگر اس کا کیا کیجیے کہ فیصل بہت تیزی سے اس کے قریب ہوتا چلا گیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد دونوں کو بڑی شدت کے ساتھ یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ لڑکی اور لڑکا یا مرد اور عورت جب ایک دوسرے کی الفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو اگلا مرحلہ یقیناً شادی کا ہوتا ہے۔ یہ بھی قربت اور تعلقات کے حوالے سے اسی خطرناک زون میں داخل ہونے والے تھے۔
​فیصل اپنی خواہش اور سفینہ کی مرضی سے بہ خوبی آگاہ تھا۔ ایک روز جب دو پرسکون ماحول میں بیٹھے راز و نیاز کر رہے تھے کہ فیصل نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
​”سفینہ! میں شدت سے اپنی زندگی میں تمہاری کمی محسوس کرنے لگا ہوں۔”
​”کی” سفینہ نے حیرت بھری نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ “میں تو تمہارے آس پاس ہی رہتی ہوں پھر کمی کا ایسا احساس کیوں؟”
​”میں نے زندگی میں تمہاری کمی کی بات کی ہے۔” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “یہ ٹھیک ہے کہ تم میرے بہت قریب ہو لیکن معاشرتی طور پر میری زندگی کا حصہ نہیں ہو”
​”تو بنا لو نا مجھے اپنی زندگی کا حصہ!” سفینہ اٹھلا کر بولی۔ “تمہیں روکا کس نے ہے۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ جب مجھے کوئی اعتراض نہیں تو میرے گھر والوں کو بھی اس نیک کام سے مسئلہ نہیں ہو گا۔”
​”سارا مسئلہ تو میری جانب ہے” وہ ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
​”کیا مسئلہ فیصل؟” سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس نے پوچھا۔
​فیصل نے گہری نظر سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
​”تم تو جانتی ہو سفینہ۔” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
​”میں شادی شدہ ہوں”
​”ہاں جانتی ہوں” وہ سوالیہ نظر سے اسے دیکھنے لگی۔
​”جانتی ہو پھر بھی نہیں پا رہی ہو؟”
​”اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے۔” وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔ “اگر تم شادی شدہ ہو تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ بات میں پہلے بھی تمہیں بتا چکی ہوں۔ میں فرزانہ کے ہوتے ہوئے بھی تمہاری زندگی میں آنے کو تیار ہوں۔”
​”لیکن شاید فرزانہ اس بات کے لیے آمادہ نہیں ہو گی۔” فیصل کی آنکھوں میں پریشانی جھلکنے لگی۔
​”اس سلسلے میں میں کچھ نہیں کر سکتی فیصل۔” سفینہ صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی۔ “اپنی سائیڈ کو تمہیں خود ہی دیکھنا ہو گا”
​فیصل نے امداد طلب نظر سے اس کی طرف دیکھا اور کہا۔ “مگر تم مجھے کوئی اچھا سا مشورہ بھی تو دے سکتی ہو؟”
​”ہاں کیوں نہیں” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔
​”تو پھر دو؟”
​فیصل کی درخواست پر سفینہ نے اسے ایک دو قیمتی مشوروں سے نواز دیا۔ دونوں میں بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی اور طبعی میلان پیدا ہو چکا تھا لہذا اس کا مشورہ فیصل کو بہت پسند آیا۔
​آئندہ روز سے فیصل نے سفینہ کے مشورے پر عمل شروع کر دیا۔ اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ فرزانہ کے لیے فیصل کی محبت میں کسی قسم کی کوئی کھوٹ نہیں تھا۔ وہ ​خالص نیت سے اسے چاہتا تھا لیکن سفینہ کی طلب بھی اس کے دل و دماغ پر اپنا تسلط جما چکی تھی اور وہ جلد از جلد اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے گھر کی چاردیواری کے اندر دیکھنا چاہتا تھا۔ پچھلے دنوں سے جب سے وہ سفینہ کے بہت قریب ہوا تھا اس کی اٹھک بیٹھک اور تال میل میں بہت زیادہ بدلاؤ آ گیا تھا۔ وہ ہر وقت آسودہ اور خوش باش دکھائی دیتا تھا۔ فرزانہ نے اس کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کو فوری طور پر محسوس کر لیا تھا، لیکن جب اس نے سفینہ کی ہدایت کے مطابق گھر میں اداکاری شروع کی تو فرزانہ چونکے بغیر نہ رہ سکی۔ ایک رات اس نے اپنی الجھن کا اظہار ہی کر دیا۔
​وہ رات کو سونے کے لیے لیٹے گئے تو فرزانہ نے پوچھا۔ “فیصل! آپ کسی وجہ سے پریشان ہیں؟”
​”نن نہیں” وہ بدکے ہوئے انداز میں بولا۔
​”ایسی تو کوئی بات نہیں”۔
​”آفس میں کوئی گڑبڑ ہے کیا؟”
​”میرے بینک کا کوئی بھی معاملہ تم سے چھپا ہوا نہیں فرزانہ”
​”جھی تو میں بھی الجھ رہی ہوں۔” وہ بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ “جب بینک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے تو پھر آپ کو کیا ہو گیا ہے”
​”مجھے کیا ہو گیا ہے؟” فیصل نے اسی کے کہے ہوئے الفاظ دہرائے۔
​”آپ پچھلے کچھ عرصے سے بہت خوش اور پرسکون نظر آ رہے ہیں۔” فرزانہ نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “آپ کو خوش دیکھ کر مجھے جو سکون ملتا ہے اسے بیان نہیں کر سکتی لیکن” ​فرزانہ نے جملہ ادھورا چھوڑا تو فیصل نے اضطراری لہجے میں پوچھ لیا۔ “لیکن کیا؟ لیکن دو تین روز سے آپ بہت اداس اور بجھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ “پتا نہیں آپ کی خوشی کو کس کی نظر لگ گئی ہے”
​”ایسی کوئی بات نہیں ہے اللہ کی بندی!” وہ معتدل انداز میں بولا۔ “تمہیں وہم ہو گیا ہے۔”
​”نہیں میں نہ دہی ہوں اور نہ ہی مجھے کسی قسم کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔ “آپ بتانا نہ چاہیں تو الگ بات ہے، لیکن میں یہ ماننے کو تیار​نہیں کہ آپ کے ساتھ کچھ ہوا نہ ہو”
​”وہ دراصل بات یہ ہے کہ”
​”کیا بات ہے فیصل؟” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فرزانہ بول اٹھی۔ “آپ بتائیں مجھے میں آپ کی شریکِ حیات ہوں۔”
​”اسی لیے تو” فیصل جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
​”کیا اسی لیے تو؟” فرزانہ کی حیرت دو چند ہو گئی۔
​”میں تمہیں دکھی نہیں کرنا چاہتا فرزانہ”
​”اور میں آپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتی۔” گہری سنجیدگی سے بولی۔ “اس لیے بتائیں! آخر معاملہ کیا ہے؟”
​”وہ فرزانہ” اتنا کہہ کر فیصل نے توقف کیا پھر ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “مجھے کچھ دنوں سے بڑی شدت سے اپنی محرومی ستانے لگی ہے”
​”کون سی محرومی؟” فرزانہ الجھن زدہ انداز میں اسے تکنے لگی۔
​”ایک ہی تو محرومی ہے زندگی میں۔” وہ بے حد اداس ہو گیا۔ “ہم دونوں کی اکلوتی محرومی۔”
​”اوہ” فرزانہ ایک مضمحل سانس چھوڑتے ہوئے بولی۔ “فیصل! اولاد کی محرومی تو ہماری زندگی کا ایک ایسا خلا ہے جسے بھرنا میرے بس میں ہے اور نہ ہی تمہارے بس میں”
​”لیکن ہم اس خلا کو بھرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں”
​”کیسی کوشش؟” فرزانہ نے متذبذب انداز میں استفسار کیا۔ “جو کچھ ہمارے بس میں تھا وہ سب تو کر چکے۔ علاج معالجہ، دم درود ٹونگے اور ہر وہ ترکیب جو کسی کی بھی آزمودہ کار تھی۔ ہر طرف سے ناکام ہونے کے بعد ہی تو ہم چپ سادھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ جب اللہ ہی کو منظور نہیں تو ہم بھلا کیا کر سکتے ہیں۔”
​”میں تمہاری ہر بات سے اتفاق کرتا ہوں فرزانہ۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “لیکن میں سمجھتا ہوں ہم نے ابھی تک ایک آپشن کو تو چھوا ہی نہیں کیا۔”
​”کون سا آپشن؟” فرزانہ کی حیرت میں الجھن بھی شامل ہو گئی۔
​”تم یہ تو جانتی ہو نا کہ رزق بیوی کے نصیب سے اور اولاد شوہر کے نصیب سے عطا ہوتی ہے۔” وہ گبھرائے انداز میں مستفسر ہوا۔
​”ہاں میں نے ایسا سن تو رکھا ہے۔” وہ تائیدی انداز میں بولی۔
​”تم بہت خوش نصیب ہو فرزانہ۔” وہ بڑی لکاوٹ سے بولا۔ “جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میں مسلسل ترقی کی منزل کی جانب گامزن ہوں، تم سے شادی کے بعد میری آمدنی میں قابلِ فخر اضافہ ہوا ہے لیکن میں” لمحاتی توقف کر کے اس نے دزدیدہ انداز میں فرزانہ کی طرف دیکھا اور اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
​”لیکن میں ایسا بد نصیب ہوں کہ تمہیں کوئی اولاد نہ دے سکا۔”
​”آپ کن فضول باتوں کو لے کر بیٹھ گئے ہیں۔” فرزانہ موضوع کو تبدیل کرتے ہوئے بولی۔ “جب اللہ ہی کی مرضی نہیں ہے تو آپ کیوں خود کو الزام دے رہے ہیں۔ یہ معاملات آپ کے اختیار میں تھوڑی ہی ہیں۔”
​”لیکن میں ایک آپشن کو استعمال کر کے اپنی قسمت کو نئے سرے سے آزمانا چاہتا ہوں۔” وہ نگاہ چراتے ہوئے بولا۔ “اگر تم میرا ساتھ دو تو”
​”آپ نے پہلے بھی کسی آپشن کا ذکر کیا ہے۔” وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی۔ “کھل کر بتائیں! آپ کے ذہن میں کیا ہے؟”
​”وعدہ کرو میرا ساتھ دوگی؟”
​میں پچھلے گیارہ بارہ سال سے زندگی کے ہر معاملے میں آپ کا ساتھ دے رہی ہوں۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔
​”بتائیں! کیا کرنا ہے۔ میں آپ کی خوشی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔”
​”میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں” فیصل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
​”ک… کیا؟” فرزانہ کے ذہن کو ایک دھچکا سا لگا۔
​”ہاں فرزانہ” وہ سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے بولا۔ “اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو میں اولاد کی خاطر دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
​”اور میں؟” فرزانہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ “میں کہاں جاؤں گی​فیصل؟”
​”تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔” وہ جلدی سے بولا۔ “فرزانہ تم تو میری زندگی کا انمول انگ ہو۔ تمہارے بغیر تو میں جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تم ہر صورت میں میرے ساتھ رہو گی بہر حال میں۔”
​”اور وہ؟” فرزانہ نے شاکی نظر سے اسے دیکھا۔
​”میں اسے بھی اسی گھر میں رکھنا چاہتا ہوں۔” وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا۔ “تم دونوں گہری سہیلیوں کی طرح ایک ہی چھت کے نیچے رہو گی۔ میں خود کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں ہوں”
​”فیصل!” فرزانہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ “کوئی بھی عورت اپنی سوتن لانے کے لیے ہنسی خوشی شوہر کو اجازت نہیں دیتی لیکن میں” اس کی آواز میں نمی اتر آئی۔ “میں آپ کی خوشی کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ کٹھن کام کرنے کو تیار ہوں۔” وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی، دوپٹے کے پلو سے آنکھوں میں اتر آنے والے آنسوؤں کو صاف کیا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں اضافہ کرتے ہوئے بولی۔
​”فیصل! میں نے آپ سے سچی محبت کی ہے اس لیے آپ کی چھوٹی سے چھوٹی خوشی بھی مجھے دنیا کی ہر شے سے زیادہ عزیز ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ میں نے آپ کو دوسری شادی کی اجازت دیتے ہوئے “دکھن کام” کے الفاظ استعمال کیے ہیں “زہر پینے” کے نہیں”
​”فرزانہ !تم عظیم عورت ہو۔” وہ ستائشی نظر سے اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے بولا۔ “اولاد سے محرومی اپنی جگہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ہم اس محرومی کے ساتھ گزشتہ گیارہ بارہ سال سے جی ہی رہے تھے۔ میرے ذہن میں کبھی بھولے سے بھی دوسری شادی کا خیال نہیں آیا لیکن ابو کی خواہش نے مجھے مجبور کر دیا ہے”۔
​”ابو کی خواہش؟” فرزانہ نے حیرت بھری نظر سے اسے دیکھا۔
​فیصل نے اثبات میں گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔
​”تو کیا آپ انکل کی خواہش پر دوسری شادی کر رہے ہیں؟” فرزانہ کی آنکھوں میں حد درجے تعجب تھا “اور آپ نے اولاد والی بات کی ہے؟”
​”وہ بات بھی درست ہے۔” فیصل نے گہری سنجیدگی سے بتایا۔ “تم تو جانتی ہو نا ابو کی طبیعیت کتنی خراب ہے؟”
​”ہاں ہاں” وہ جلدی سے بولی۔ “اللہ انکل کو شفاء دے”
​”یہ بات تم بھی جانتی ہو میں بھی جانتا ہوں اور باقی سب لوگ بھی جانتے ہیں کہ ابو اپنی زندگی کے نازک ترین لمحات سے گزر رہے ہیں۔” فیصل نے اذیت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ “ان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی اور حوصلہ افزا بات نہیں کی جا سکتی۔ یہ انہی کا اصرار بلکہ حکم ہے کہ مجھے اولاد کے لیے ان کی زندگی میں ہی دوسری شادی کر لینا چاہیے۔”
​”اوہ” فرزانہ نے متاسفانہ انداز میں کہا۔ “تو یہ بات ہے۔”
​فیصل اپنائیت بھرے انداز میں اسے اپنی منصوبہ بندی کے بارے میں بتانے لگا، ساری بات سننے کے بعد فرزانہ نے چونکتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
​”سفینہ کو آپ کب سے جانتے ہیں؟”
​”لگ بھگ ایک سال سے”
​”تو آپ دونوں کے بیچ یہ معاملہ ایک سال سے چل رہا تھا؟”
​”کون سا معاملہ؟” فیصل نے چونکتے ہوئے انداز میں پوچھا۔
​فرزانہ نے تیکھے انداز میں جواب دیا۔ “یہی باہمی پسندیدگی والا معاملہ اور کون سا؟”
​”ایسی کوئی بات نہیں فرزانہ۔” وہ جلدی سے وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “یہ ٹھیک ہے کہ میرا اکثر سفینہ والے آفس میں جانا ہوتا ہے لیکن اس سے شادی کا خیال پچھلے چند روز سے میرے ذہن میں آیا ہے۔ ابو کی خواہش کے بعد۔”
​”کیا ضروری بات ہے سفینہ آپ سے شادی کے لیے تیار بھی ہو جائے”۔ فرزانہ نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “کیا اس سلسلے میں آپ نے اس سے بات کی ہے؟”
​فیصل نے بتایا۔ “وہ تیار ہے۔”
​”اس کا مطلب ہے سارے معاملات طے پا چکے ہیں۔” فرزانہ نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔
​”مجھے سب سے آخر میں انفارم کیا جا رہا ہے۔”
​فرزانہ کے الفاظ میں چھپی ہوئی شکایت کو فیصل نے فوراً محسوس کر لیا۔ “ایسی بات نہیں ہے فرزانہ۔” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “میں نے ابو کی خواہش سے مجبور ہو کر سفینہ کو اس سلسلے میں ٹٹولنے کی کوشش کی تو پتا چلا وہ مجھے پسند کرتی ہے اور میرے شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی وہ مجھ سے شادی کو تیار ہے۔”
​فرزانہ کے اندر کوئی نازک سی شے بے آواز چٹاخ کے ساتھ ٹوٹ کر کرچیوں کی شکل میں بکھر کر رہ گئی۔ اگلے ہی لمحے وہ جھیلی اور کٹیلی کرچیاں اس کے دل و جگر کو خون کرنے لگیں۔ اس بے نام اذیت کے آثار اس کے چہرے پر ابھر آئے تھے۔
​یہ درست ہے کہ فرزانہ فیصل کو بے پناہ چاہتی تھی اور اس کی خاطر ایک لمحے میں جان دینے کو تیار بھی ہو جاتی لیکن جان دینے اور جان کو ہلکان کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ فیصل کے یہ الفاظ اس کے لیے سوہانِ روح تھے کہ سفینہ فیصل کو پسند کرتی تھی۔ فرزانہ تو فیصل کو اپنی پراپرٹی سمجھتی تھی جس کی وہ بلا شرکتِ غیرے مالک و مختار تھی۔ فیصل کو کوئی اور بھی پسند کرے اور نہ صرف پسند کرے بلکہ اس کی بیوی بن کر گھر میں بھی آ جائے اس کو برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔ پتا پانی اور دل پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
​محبت محبت کرنے والوں کا امتحان لیتی ہے اور قربانی دیے بغیر اس امتحان میں سرخ روئی ممکن نہیں۔ فرزانہ کے اندر قربانی کا جذبہ تو تھا اور وہ فیصل کی خوشی کی خاطر سفینہ کو اپنی سوتن کی شکل میں قبول کرنے کو بھی تیار ہو گئی تھی مگر ایک انسان ہونے کے ناطے وہ انسانی فطرت اور جبلت کے بھی تابع تھی لیکن اس کے گوشت پوست کے وجود میں شکست و ریخت کا عمل بھی اس معاملے کا لازمی جز تھا جس سے وہ دامن بچا سکتی تھی اور نہ ہی آنکھیں چرا نا اس کے بس میں تھا.
​ایک ماہ کے بعد سفینہ فیصل کی دوسری بیوی کی حیثیت سے اس کے گھر میں آ گئی۔ اس سے اگلے ماہ فیصل کے والد منصور علی کا انتقال ہو گیا۔ بیٹے نے ایک علیل باپ کی خواہش کو کسی حد تک پورا کر دیا تھا۔ اس خواہش کا باقی حصہ سفینہ کو پورا کرنا تھا، فیصل کی اولاد کی صورت میں، جب ہی منصور علی کی روح کو قرار حاصل ہو سکتا تھا۔
​اس شادی کے موقع پر سفینہ کی والدہ سلطانہ نے اپنی بیٹی کے تحفظ کی خاطر، مناسب ​اور مصلحتِ مہمّل سے کئی ایک کڑی شرائط پر مبنی معاہدہ بھی کرایا تھا۔ مثلاً یہ کہ فیصل سفینہ کو کسی قسم کی بے احساسی نہیں ہونے دے گا، وہ محض اولاد پیدا کرنے کے لیے اسے اپنے نکاح میں نہیں لایا ہے، فرزانہ کو بھی سفینہ کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرنا ہو گا۔ فیصل اپنی دونوں بیویوں کے درمیان انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کا پابند ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ……
​اس تحریری معاہدے میں کوئی بھی ایسی بات درج نہیں تھی جو فیصل کے لیے کوئی دشواری پیدا کرتی ہو۔ وہ معقول سوچ رکھنے کے بعد ایک انصاف پسند اور صلح جو انسان تھا لہذا سفینہ کی آمد کے بعد گھر میں کسی قسم کے فتنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اس سلسلے میں فرزانہ بھی فیصل کے ساتھ اپنی بساط سے بڑھ کر تعاون کر رہی تھی۔ اس نے کسی بھی مرحلے پر سفینہ کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اس کے سوتن بن کر گھر میں آئی ہے۔ وہ سفینہ کے ساتھ ایک سہیلی ایک بہن جیسا برتاؤ کر رہی تھی، دونوں بیویوں کو ایک چھت کے نیچے خوش و خرم زندگی گزارتے دیکھ کر لوگ فیصل کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ بعض کو تو اس آنکھوں دیکھی حقیقت پر یقین ہی نہیں آتا تھا۔ یہ گویا ایک نیا م میں دو تلواریں رکھنے والا معاملہ تھا۔
​لوگ فیصل اور اس کی دونوں بیویوں کے بارے میں چاہے کچھ بھی سوچیں مگر حقیقت وہی تھی جو نظر آتی تھی۔ اس میں کسی مبالغہ آرائی اور ریا کاری کی آمیزش نہیں تھی۔
​ایک سال پر لگا کر گزر گیا۔ سفینہ اور فرزانہ نے مثالی اتفاق کا مظاہرہ کر کے دنیا والوں کو حیران کر دیا تھا، گھر کے کاموں کو انہوں نے اس طرح بانٹ لیا تھا کہ کہیں کوئی بد نظمی یا کسی دکھاوٹی نہیں دیتی تھی۔ وہ اپنی اپنی باری پر فیصل کی خدمت میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی تھیں۔ فیصل کے حصول کے لیے انہوں نے اپنے لیے ہفتے کے تین تین دن مقرر کر لیے تھے۔ ہفتے کا ساتواں دن یعنی اتوار وہ تینوں ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں گزارتے تھے۔ ان لمحات میں فیصل ایک بیوی کا نہیں بلکہ بیک وقت دونوں کا ہوتا تھا۔ جیسے بہار کا موسم پورا سال نہیں رہتا، اس کے بعد خزاں کی آمد بھی لازمی عمل ہے بالکل اسی طرح انسان کی زندگی میں دکھ سکھ بھی آتے رہے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اسے چاہے کچھ بھی نام دے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اکثر لوگ برے وقت کو “خوشیوں کو کسی کی نظر لگ جانا” سے تعبیر کرتے ہیں اور اچھے وقت کو “قدرت کی مہربانی” کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ جو کوئی جیسا بھی سوچتا ہے یہ اس کا حق ہے۔
​ان تین افراد کی “ہپی فیملی” میں اس وقت انتشار نے آنکھ کھولی جب سفینہ نے فیصل کو خوش خبری سنائی کہ وہ باپ بننے والا ہے۔ اس خبر نے فیصل کو نہال کر دیا تھا۔ اگرچہ فرزانہ اس اطلاع پر اندر سے بجھ گئی تھی تاہم اس نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصل اور سفینہ کی خوشی کو نہ صرف یہ کہ دل و جان سے قبول کیا تھا بلکہ اس خوشی میں وہ قدم قدم پر ان کے لیے بس ہے۔ سفینہ کے ہاں بچے کی آمد کے امکان نے اگر فرزانہ کو اندر سے ملول اور آزردہ کر دیا تھا تو اس میں فرزانہ کی کسی بدنیتی کو دخل نہیں تھا۔ وہ اپنی فطری محرومی اور بشری کمزوری کے سامنے مجبور تھی۔
​سفینہ نے شادی کے بعد جاب چھوڑنے کی خیرباد نہیں کہا تھا، لیکن اب فیصل نے اصرار کیا کہ بچے کی ولادت تک وہ اسے آفس نہیں جانے دے گا۔ سفینہ جاب چھوڑ دے یا طویل رخصت لے لے بہرحال وہ اسے جاب پر نہیں بھیجے گا۔ فیصل کی زندگی میں جتنی بڑی خوشی نے قدم رکھا تھا وہ اس کے استقبال اور تحفظ کی خاطر سفینہ کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانا چاہتا تھا۔ سفینہ نے اس کی بات مانتے ہوئے آفس سے طویل رخصت لے لی تھی۔
​فرزانہ ایک گھریلو عورت تھی اور دن بھر گھر ہی میں رہا کرتی تھی۔ اب سفینہ بھی دن میں اس کے ساتھ ہوتی تھی لہذا انہیں پہلے سے دو گناہ وقت ایک ساتھ گزارنے کا موقع مل رہا تھا۔ دو عورتیں جب ایک ساتھ وقت گزارتی ہیں تو سمیجھوان کے بیچ باتوں کے انبار کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ان کے درمیان بھی پیدا ہو گیا۔
​سفینہ کو ایک لحاظ سے فرزانہ پر سبقت حاصل ہو گئی تھی۔ جو کام پچھلے بارہ سال میں فرزانہ نہیں کر پائی تھی وہ کارنامہ سفینہ نے اپنی ازدواجی زندگی کے پہلے ہی سال میں انجام دے ڈالا تھا لہٰذا تفاخر اور برتری کا احساس ایک فطری امر تھا اور اسی احساس نے سفینہ کو گفتگو میں خاصا غیر محتاط بھی بنا دیا تھا۔ وہ فرصت کے ان لمحات میں مزے لے لے کر فرزانہ کو اپنی اور فیصل کی محبت کے قصے بھی سنانے لگی تھی۔ انہی قصوں میں بیشتر واقعات فیصل سے اس کی شادی سے پہلے کے بھی تھے جب فیصل اپنے بینک کے کام سے سفینہ کے آفس جایا کرتا تھا۔
​سفینہ کی اسی قصہ گوئی نے فرزانہ کو اندر سے بے چین کر دیا۔ وہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئی۔ وہ فیصل کی خوشی کی خاطر اپنی اوقات اور بساط سے بڑھ کر قربانی دے رہی تھی لہٰذا سفینہ کی ان غیر محتاط باتوں سے اسے تکلیف زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ جب اس کی برداشت جواب دے گئی تو ایک رات اس نے فیصل سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ فیصل کی تقسیم کے لحاظ سے وہ فرزانہ کی رات تھی۔
​”فیصل! آپ کو مجھ میں کیا کمی نظر آئی تھی؟” فرزانہ نے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔
​”میں سمجھا نہیں فرزانہ!” فیصل نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
​”کیا میری وفا میں کوئی کھوٹ تھا؟”
​”فرزانہ! یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟”
​”وہ اپنی ہی دھن میں بولتی چلی گئی۔” میں نے کبھی آپ کا خیال رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، آپ کی ذرا ذرا سی خوشی اور چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو دنیا کی ہر شے پر مقدم جانا ہے پھر” اس کی آواز بھرّا گئی۔ “پھر آپ نے ایسا کیوں کیا فیصل کیوں؟”
​”فرزانہ!” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ “میں نے دوسری شادی سے پہلے ہی تمہیں بڑے واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ میں کس مقصد بلکہ کن مقاصد کی خاطر یہ قدم اٹھانے جا رہا ہوں اور اور یہ سب کچھ تمہاری اجازت کے بعد ہی ہوا ہے۔” وہ لمحے بھر کے لیے متوقف ہوا پھر ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
​”اب جبکہ میری زندگی میں ایک عظیم خوشی کی آمد آمد ہے تو تم میری دوسری شادی کی فضول باتوں کو کھول کر بیٹھ گئی ہو”
​”آپ غلط سمجھ رہے ہیں فیصل!” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
​فیصل کی الجھن میں حیرت بھی شامل ہو گئی۔ اس نے چونکے ہوئے لہجے میں استفسار کیا۔ “کیا مطلب ہے تمہارا؟”
​”میں آپ کی سفینہ سے شادی کی بات نہیں کر رہی ہوں۔”
​”پھر؟” فیصل کی حیرت دو چند ہو گئی۔
​”میرا مطلب اس شادی سے پہلے والے واقعات سے ہے۔” وہ بدستور فیصل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
​”شادی سے پہلے والے واقعات؟” وہ جھنجھلا کر بولا: “آخر تم کہنا کیا چاہ رہی ہو؟”
​”میں ان دنوں کا ذکر کر رہی ہوں جب آپ صرف میرے شوہر ہوا کرتے تھے۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے ہانپتی لہجے میں بولی۔ “آپ اپنے بینک کے کام کے سلسلے میں سفینہ کے آفس جایا کرتے تھے اور وہیں پر آپ دونوں میں انڈراسٹینڈنگ ہوئی تھی۔”
​”ہاں ہاں۔۔۔۔” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “یہ ساری باتیں میں تمہیں سفینہ سے شادی کرنے سے پہلے ہی بتا چکا ہوں۔”
​”ساری باتیں نہیں بلکہ ادھوری باتیں”
​”کک کیا مطلب ہے تمہارا؟” اس کی الجھن میں اضافہ ہو گیا۔
​”آپ نے انڈراسٹینڈنگ کا صرف ایک پہلو مجھے دکھایا تھا۔” وہ تلخی سے مسکراتے ہوئے بولی۔ “وہ دوسرا پہلو تو سفینہ کی زبانی پتا چل رہا ہے”
​”میں کچھ سمجھا نہیں۔” وہ اکتاہٹ آمیز انداز میں بولا۔ “جو بھی کہنا چاہ رہی ہو کھل کر کہویوں پہیلیاں نہ بجھواؤ۔”
​”آپ نے سفینہ نے شادی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ آپ نے انکل منصور علی کی ضد اور اپنی اولاد کی خواہش کی خاطر سفینہ کو پروپوز کیا تھا، ” وہ ٹھوس انداز میں بولی۔ “اور اسی وقت آپ کو پتا چلا تھا کہ سفینہ چپکے چپکے کافی عرصے سے آپ کو پسند کر رہی تھی؟”
​”ہاں ہاں۔” وہ جلدی سے بولا۔ “یہی حقیقت ہے۔”
​”یہ حقیقت نہیں ہے فیصل!” وہ اٹل لہجے میں بولی۔
​”پھر؟” وہ ایک لفظ سے آگے کچھ نہ بول سکا۔
​”حقیقت تو اب سفینہ کی زبانی کھل کر سامنے آ رہی ہے فیصل۔” وہ مجروح لہجے میں بولی۔ “اور مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے کہ آپ مجھ سے بے وفائی کرتے رہے۔ میں اس اعتماد کے ساتھ روزانہ آپ کو گھر سے رخصت کرتی تھی کہ آپ صرف اور صرف میرے ہیں اور آپ” بولتے بولتے فرزانہ کی آواز میں نمی اتر آئی۔ “آپ میرے خلوص میری وفا کی امانت میں خیانت کرتے رہے۔ میرے اعتماد کو بڑی بے دردی سے ٹھیس پہنچاتے رہے؟”
​”پتا نہیں تم کیسی باتیں کر رہی ہو فرزانہ!” وہ سٹپٹا کر بولا: “میری تو سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا”
​”آپ سب سمجھ رہے ہیں فیصل!” وہ شاکی لہجے میں بولی۔ “آپ کو یہ خوبی اندازہ ہے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔”
​وہ نگاہیں چرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا جس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر خفت محسوس کر رہا تھا۔ فرزانہ نے قدرے جارحانہ انداز میں پوچھا۔
​”کیا یہ سچ ہے کہ شادی سے پہلے آپ سفینہ کے ساتھ کئی مرتبہ سی ویو کی طرف گئے ہیں؟”
​فیصل کی پیشانی پر تفکر کی سلوٹیں نمودار ہو گئیں۔
​”آپ لوگ گاہے بگاہے ایک ساتھ تنہائی میں وقت گزارتے رہے ہو،” فرزانہ کے لہجے میں کڑواہٹ بھی شامل ہو گئی۔ “کبھی اوپن ائیر پارلر میں آئسکریم کھاتے ہوئے اور کبھی کسی ریسٹورنٹ میں لنچ کرتے ہوئے اور آپ دونوں کے بیچ یہ تعلق محض ‘واقفیت’ تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ ایک دوسرے کی محبت میں گردن گردن تک دھنس چکے تھے فیصل! آپ پر اندھا بھروسا کرتی رہی اور آپ میری محبت اور میری وفا کی توہین میں مصروف رہے۔ کیوں آخر کیوں؟”
​”شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی”
​”نہیں فیصل!” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی فرزانہ نے حتمی لہجے میں کہا۔ “مجھے کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ یہ ساری باتیں مجھے خود سفینہ نے بتائی ہیں، ‘امید’ کی خوشی نے اسے خاصا مغرور، بے پروا اور غیر محتاط بنا دیا ہے۔ وہ مجھ پر برتری ظاہر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ مجھ سے سفینہ کے اس نئے رویے کا ذرا شکوہ نہیں مگر اس نے آپ کی ذات کے حوالے سے جو اذیت ناک انکشافات کیے ہیں انہوں نے مجھے جیتے جی مار ڈالا ہے کاش! آپ نے یہ سب نہ کیا ہوتا۔”
​اتنا کہہ کر فرزانہ خاموش ہو گئی اور آنکھوں میں اتر آنے والے آنسوؤں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کرنے لگی۔ فیصل گم صم کی کیفیت میں مسلسل اسے تک جا رہا تھا۔ چند لمحات اسی خاموشی اور بوجھل فضا میں گزر گئے پھر فرزانہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
​”فیصل! اگر آپ کو میری باتوں کا یقین نہ ہو تو میں گواہی کے لیے دوسرے کمرے سے سفینہ کو بھی بلوا سکتی ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گی”
​فیصل نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ گبھرائے لہجے میں بولی۔
​”میں نے آپ کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے سوال کو پڑھ لیا ہے فیصل۔ آپ یہی جاننا چاہتے ہیں نا کہ میں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے سفینہ کو یہاں کیوں نہیں بلوانا چاہتی؟”
​فیصل منہ سے کچھ نہیں بولا تاہم اس کی آنکھوں میں یہ سوال مجسم رہا۔ “کیوں؟”
​”میں اسے لیے سفینہ کو یہاں نہیں بلواؤں گی کہ میں نے آپ سے سچی محبت کی ہے،” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ “مجھے گوارا نہیں کہ میری محبت کی یوں تذلیل ہو۔ آپ نے جو کیا وہ آپ کا ظرف ہے لیکن شاید۔۔۔۔” بولتے بولتے وہ خیالوں میں کھو گئی۔ لمباتی توقف کے بعد وہ خواب ناک لہجے میں بولی۔
​”شاید آپ محبت کرنے والی کسی عورت کے ظرف کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ عورت زندگی میں صرف ایک بار کسی مرد سے محبت کرتی ہے۔ پھر اپنا تن من دھن سب اس پر نچھاور کر دیتی ہے۔”
​”آئی ایم ریلی ویری سوری فرزانہ” فیصل نے دل سے کہا۔
​”اب مجھے اور شرمندہ نہ کریں فیصل!” فرزانہ اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے بولی۔ “میں اسے آپ کی پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر بھول جاؤں گی کیونکہ مجھے یقین ہے آپ صرف اور صرف میرے ہیں”
​فیصل کے چہرے اور آنکھوں میں محبت، عقیدت، چاہت اور شکر گزاری کے تاثرات چمکنے لگے۔ وہ پیار بھری نظر سے ایک ٹک فرزانہ کو دیکھتا چلا گیا۔
​سفینہ کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر ماہ چند دن کے لیے اپنے میکے جایا کرتی تھی۔ یہ عموماً وہی دن ہوا کرتے تھے جب فیصل ایک طے شدہ پروگرام کے تحت فرزانہ کے حصے میں ہوا کرتا تھا۔ اس ماہ بھی سفینہ اپنے میکے گئی لیکن معمول کے مطابق واپس نہیں آئی تو فیصل تشویش میں مبتلا ہو گیا۔
​فیصل خود ہی سفینہ کو میکے چھوڑنے جاتا تھا اور وہاں سے واپس بھی خود ہی لایا کرتا تھا مگر اب کی بار جب وہ اپنی سسرال پہنچا تو وہاں کا موسم ہی بدلا ہوا نظر آیا۔ اس کی ساس سلطانہ بیگم نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا۔
​”سفینہ ایک شرط پر واپس جائے گی فیصل میاں اور وہ شرط ہے فرزانہ کو طلاق”
​فیصل یہاں تک پہنچنے کے بعد خاموش ہوا تو میں نے چونک کر پوچھا۔ “آپ کی ساس نے یہ کس قسم کی شرط عائد کر دی تھی؟”
​”نہایت ہی بے ہودہ اور واہیات قسم کی شرط۔” وہ زہر خند لہجے میں بولا۔ “اس روز مجھے پتا چلا تھا کہ میری ساس کیسی احمق عورت ہے۔”
​”بات کچھ سمجھ میں نہیں آ رہی فیصل صاحب!” میں نے الجھن زدہ نظر سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ “جب آپ سفینہ کو اس کے میکے چھوڑنے گئے تھے تو کیا سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا؟”
​”ایک دم ٹھیک ٹھاک وکیل صاحب!” وہ پروقار انداز میں بولا۔ “سب کچھ معمول کے عین مطابق تھا۔”
​”یہاں آپ کے گھر میں فرزانہ کے ساتھ سفینہ کا کوئی جھگڑا ہوا ہو؟”
​”بالکل نہیں جناب۔” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “سب امن امان تھا، میں نے تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سفینہ کے میکے پہنچ کر مجھے اس قسم کی صورت حال کا سامنا ہو گا۔”
​”آپ نے اپنی ساس صاحبہ سے سوال نہیں کیا کہ وہ کس جرم کی سزا کے طور پر فرزانہ کو طلاق دینے کے لیے کہہ رہی ہیں؟” میں نے فیصل نے پوچھا۔
​اس نے بتایا۔ “میں نے سوال کیا تھا”
​”پھر سلطانہ بیگم نے کیا جواب دیا؟”
​”نہایت ہی نامعقول جواب،” وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا۔ “کہنے لگیں، فیصل میاں! تمہیں دو میں سے ایک بیوی کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اگر سفینہ کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے ہو تو فرزانہ کو طلاق دینا ہو گی۔ اس کی موجودگی میں میں اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گی۔”
​”اس موقع پر آپ کی سیکنڈ وائف سفینہ نے کیا موقف اختیار کیا تھا؟” میں نے نہایت ہی اہم سوال کیا۔
​”جس روز یہ ایشو اٹھا اس وقت سفینہ کی اپنی کوئی رائے دیکھنے اور سننے میں نہیں آئی تھی،” فیصل نے بتایا۔
​”لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی اپنی ماں کی ہم نوا بن گئی۔ اس نے بھی واضح الفاظ میں مجھ سے بھی مطالبہ کیا کہ اگر میں اسے اپنی بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہوں تو پھر مجھے فرزانہ کو اپنی زندگی سے نکالنا ہو گا اور اگر میں فرزانہ کو طلاق دینے پر تیار نہیں ہوتا تو پھر اس کا خیال دل سے نکال دوں۔”
​”یہ کتنا عرصہ پہلے کی بات ہے؟”
​”لگ بھگ اڑھائی سال۔” فیصل نے جواب دیا۔
​عائشہ کی عمر اس وقت کم و بیش دو سال ہے۔ عائشہ اپنی نھیال ہی میں پیدا ہوئی تھی۔”
​”اوہ” میں نے رف پیڈ پر قلم گھمتے ہوئے سوال کیا۔ “جب ماں بیٹی ایک ہی سبق دہرانے لگی تھیں تو اس موقع پر آپ نے کیا موقف اختیار کیا تھا؟”
​”میں نے اپنی ساس کو سمجھانے اور اپنی بیوی کو منانے کی کوشش کی تھی”
​”تو کیا آپ کی بات ان کی سمجھ میں آئی تھی؟”
​”وکیل صاحب! اگر میری بات ان میں سے کسی ایک کی سمجھ میں بھی آ گئی ہوتی تو آج سفینہ اور عائشہ میرے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتیں اور مجھے عائشہ کے حصول کے لیے کسی قسم کی قانونی مدد لینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔”
​”ایک بات کہوں فیصل صاحب!” میں نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو؟”
​”نیور مائنڈ وکیل صاحب۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔
​”آپ جو بھی کہنا چاہتے ہیں بے دھڑک کہہ ڈالیں”
​”آپ نے مجھے اپنی زندگی کی جتنی کہانی سنائی ہے۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اس سے میں ایک یہ نتیجہ پر پہنچا ہوں۔”
​”کون سے نتیجہ پر وکیل صاحب؟”
​”سفینہ اور آپ کی شادی جن بھی حالات میں ہوئی ہو،” میں نے کہا: “لیکن یہ شادی ہو جانے کے بعد سفینہ اور اس کی ماں نے ایک مخصوص ذہن بنا لیا تھا۔ انہیں ایک خاص وقت کا انتظار تھا”
​وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “میرا بھی یہی خیال ہے۔”
​”عورت چاہے کتنے بھی وسیع دل کی مالک ہو اور وہ کسی مرد نے کتنی بھی محبت کیوں نہ کرتی ہو” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ “لیکن وہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کا فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچتی ہے اور جب تک کوئی اہم مقصد اس کے پیش نظر نہ ہو وہ یہ خطرناک قدم نہیں اٹھاتی۔”
​میں نے لمحاتی توقف کر کے فیصل کی جانب دیکھا۔ وہ یک ٹک مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
​آپ کے کیس میں بھی کچھ ایسا ہوا ہے فیصل صاحب۔ آپ کی سفینہ سے شادی ہو گئی جتنی وسیع القلبی سے فرزانہ نے سفینہ کو قبول کیا ایثار کا ایسا مظاہرہ سفینہ کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ وہ بظاہر فرزانہ کو ایک بہن اور ایک سہیلی سمجھتی رہی ہی تاہم اس نے دل سے فرزانہ کو قبول نہیں کیا تھا۔ وہ فرزانہ کی اس کمزوری سے بخوبی واقف تھی کہ وہ آپ کے لیے اولاد پیدا نہیں کر سکتی تھی لہٰذا سفینہ بڑے صبر و سکون سے اس وقت کا انتظار کرتی رہی جب وہ امید سے ہو جائے۔ آپ نے اولاد کے حصول کی خاطر دوسری شادی کی تھی چنانچہ فطری طور پر آپ کا جھکاؤ اسی بیوی کی جانب زیادہ ہوتا جو آپ کے لیے اولاد پیدا کرنے جا رہی تھی” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔
​”میں سمجھتا ہوں سفینہ اور اس کی ماں سلطانہ بیگم نے ایک گہری سازش کے تحت آپ کو پھانسا ہے۔ وہ دونوں آپ کی نفسیاتی کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انہیں پتا ہے آپ اپنی بیٹی کی خاطر سفینہ کی جانب جھکیں گے اور وہ آپ کو مجبور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی کہ آپ فرزانہ کو طلاق دے دیں۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
​”آپ قطعاً غلط نہیں کہہ رہے وکیل صاحب۔” وہ بڑی رسان سے بولا۔ “انہوں نے اب تک میرے ساتھ وہی کیا ہے جو تجزیہ آپ نے پیش کیا ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے وہ ماں بیٹی ابھی تک مجھے شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکیں اور اب تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
​”میں نے ایک حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔” وہ بڑے عزم سے بولا۔
​میں نے پوچھا۔ “کیا فیصلہ؟”
​”میں نے سفینہ پر لعنت بھیج کر اپنی بچی کو حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وکیل صاحب!” وہ بڑے ٹھوس انداز میں بولا۔
​”فیصل صاحب! آپ نے تھوڑی دیر پہلے مجھے بتایا تھا کہ یہاں آنے سے پہلے بھی آپ دو تین وکلا سے ملاقات کر چکے ہیں، لیکن آپ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔” میں نے کہا۔
​”جی ہاں میں نے آپ کو بالکل ٹھیک بتایا ہے۔” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “دو وکلا کا تجربہ تو انتہائی تلخ رہا ہے۔ اب تیسرے سے واسطہ ہے اور یہ کیس بھی عدالت میں ہے۔” وہ ایک لمحے کے لیے متوقف ہوا پھر عجیب سے لہجے میں اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
​”وکیل صاحب! میں نے سنا ہے ہمارے ملک کی عدالتوں میں سب کچھ ممکن ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟”
​”میں سمجھا نہیں” میں نے تعجب خیز نظر سے اسے دیکھا۔
​”مطلب یہ کہ یہاں پیسے کی طاقت سے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنا بہت آسان ہے” اس نے جواب دیا۔
​”بعض کیسوں میں یقیناً ایسا ہوتا ہو گا،” میں نے سرسری انداز میں کہا۔ “اگر آپ اس نیت سے میرے پاس آئے ہیں تو آپ کو سخت مایوسی ہو گی فیصل صاحب! میں ان وکیلوں میں سے نہیں ہوں جو پیسے کے زور میں لگے رہتے ہیں۔”
​”میرا یہ مطلب نہیں تھا بیگ صاحب!” وہ جلدی سے بولا۔
​”پھر آپ نے مجھ سے کیوں ایسا سوال کیا؟” میں نے پوچھا۔ “یہ بات کرتے ہوئے آپ کے ذہن میں کیا تھا؟”
​”وہ دراصل بات یہ ہے کہ” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “میں نے سن رکھا ہے جب تک بچے کی عمر آٹھ سال نہ ہو جائے عدالت اسے ماں کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیتی ہے اس لیے میں چاہ رہا تھا کہ اگر پیسہ بھی خرچ کرنا پڑے تو میں تیار ہوں۔ کوئی ایسا چمتکار دکھائیں کہ میری بیٹی عائشہ مجھے مل جائے۔”
​”دیکھیں فیصل!” میں نے گہری سنجیدگی سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ “پہلی بات تو یہ کہ آپ نے چائلڈ کسٹڈی (بچے کی تحویل) کے بارے میں جو بھی سنا ہے وہ سراسر غلط ہے آپ کی اطلاع کے لیے عرض کر دوں کہ اس سلسلے میں بچے کی عمر آٹھ نہیں سات سال مقرر ہے اور یہ کوئی فارمولا نہیں کہ عدالت اس مخصوص مدت تک بچے کو ماں کی تحویل میں دینے کا حکم دیتی ہے۔”
​”پھر؟” میں لمحے بھر کے لیے تھما تو اس نے سوال داغ دیا۔
​”جب چائلڈ کسٹڈی کا کوئی کیس عدالت میں جاتا ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس بچے کے والدین میں علیحدگی ہو چکی ہے یعنی ان میں رشتہ ازدواج باقی نہیں رہا۔ ایسی صورت میں مذکورہ بچہ عدالت کی ذمے داری بن جاتا ہے اور قانون کی زبان میں ‘وائنڈ’ کہلاتا ہے۔ عدالت ماں اور باپ کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف مائنر کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ ماں اور باپ کے معاشی اور معاشرتی سیٹ اپ کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے اور عدالت کی نظر میں صحت، تعلیم، خوراک اور اخلاقی ترتیب کے حوالے سے جہاں کا ماحول زیادہ مفید اور موزوں ہو بچہ اسی ماحول کے حامل فرد کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ وہ فرداں بھی ہو سکتی ہے اور باپ بھی”
​”اور اگر بچے کی ماں اور باپ دونوں عدالت کے مقررہ معیار پر پورے نہ اترتے ہوں تو؟” اس نے اضطراری لہجے میں سوال کیا۔
​”عموماً ایسا ہوتا نہیں،” میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ “ماں اور باپ میں سے کوئی ایک بچے کے لیے نسبتاً زیادہ موزوں ثابت ہو ہی جاتا ہے اور بالفرض محال” میں نے ایک گہری سانس خارج کی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ “اگر ایسا ہی ہو جیسا آپ بیان فرما رہے ہیں تو پھر مذکورہ بچے کو عدالت بچوں کے کسی فلاحی مرکز کے حوالے کر دیتی ہے۔”
​”اوہ” اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات چمکنے لگے۔ “اگر یہی صورت حال ہے تو عدالت یقیناً عائشہ کو میری کسٹڈی ہی میں دے گی۔”
​”اس کا مطلب ہے عائشہ صحت، تعلیم، خوراک اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے آپ کے پاس زیادہ محفوظ رہ سکتی ہے؟” میں نے پوچھا۔
​”یقیناً۔” وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ “میرے اور میری سسرال کے گھر کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔”
​”یعنی آپ کے گھر کا ماحول ان کے گھر کے ماحول سے بہتر ہے؟”
​”صرف بہتر نہیں بہت بہتر اور محفوظ و مضبوط” وہ ٹھوس انداز میں بولا۔
​”عدالت میں اس امر کو ثابت بھی کرنا ہو گا،” میں نے کہا۔
​”میں بہت آسانی سے ثابت کر سکتا ہوں۔” وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ “مجھے تو ایک وکیل صاحب نے ڈرا ہی دیا تھا۔”
​”کیا مطلب فیصل صاحب؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
​”میں نے اس کیس کے سلسلے میں جن وکیل صاحب سے سب سے پہلے رابطہ کیا تھا انہوں نے پتا ہے مجھ سے کیا کہا تھا”
​”بتائیں کیا کہا تھا؟” میں نے پوچھا۔
​”انہوں نے پوری توجہ سے میری کہانی سنی اور میرے خاموش ہونے پر کہا تھا، آپ فکر ہی نہ کریں فیصل صاحب! اس کیس کا فیصلہ آپ ہی کے حق میں ہو گا۔ میں مطمئن ہو گیا۔ جب انہوں نے کیس تیار کر لیا اور مجھے پڑھنے کے لیے دیا کہ ایک نظر میں بھی دیکھ لوں تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران میں کوئی الجھن پیش نہ آئے۔ میں نے وہ کیس پڑھا تو چونک اٹھا اور حیرت بھرے لہجے میں ان وکیل صاحب سے کہا۔
​’وکیل صاحب! اس میں تو نوے فیصد باتیں جھوٹی لکھی ہوئی ہیں۔ ایسا تو کچھ نہیں۔’
​’میاں فیصل’ انہوں نے معنی خیز انداز میں مجھے دیکھا اور کہا۔ ‘اگر آپ یہ کیس جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے سچ کو عدالت سے دور ہی رکھیے گا ورنہ آپ کا پیسہ اور میری محنت ضائع ہو جائے گی۔’
​”میں سمجھ گیا ان وکیل صاحب نے کیس کی بنیاد کس نقطے پر رکھی ہو گی۔” میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔
​فیصل منڈ ذب انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔
​”اس کا مطلب ہے آپ کی بیوی سفینہ کو بدکردار اور فاحشہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی نا؟” انہوں نے آپ کی بیوی سفینہ کو بدکردار اور فاحشہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی نا؟
​”جی جی ہاں۔” وہ جلدی سے بولا۔ “آپ کو کیسے پتا چلا بیگ صاحب؟”
​”ایسے پتا چلا کہ” میں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔ “چائلڈ کسٹڈی کے کیسوں میں نوے فیصد وکلا یہی حربہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ بچہ باپ کی تحویل میں دلوانے کے لیے اس کی ماں کو بدکردار اور فاحشہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ گھٹیا اور غیر اخلاقی ہتھکنڈہ ہے۔ صحیح اور مستحسن عمل وہی ہے جو میں نے تھوڑی دیر پہلے بیان کیا ہے۔ عدالت کو کبھی کمزور اور بے وقوف نہیں سمجھنا چاہیے۔”
​”میں نے ان وکیل صاحب سے جان چھڑائی اور دوسرے وکیل صاحب کی خدمات حاصل کر لیں۔” فیصل نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “یہ وکیل صاحب بڑے غیر محسوس انداز میں فریق مخالف سے جاملے اور کیس ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا مجبوراً مجھے ان سے بھی جان چھڑانا پڑی اور اب میرا کیس جاوید ترمذی صاحب کے پاس ہے۔”
​”اوہ جاوید ترمذی کے پاس ہے۔” میں نے ایک گہری سانس خارج کی۔
​”بیگ صاحب! میں ترمذی صاحب کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔” فیصل نے اکتاہٹ آمیز لہجے میں کہا۔ “اسی لیے اب میں یہ کیس آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔”
​”جاوید ترمذی صاحب وکیل کم اور سیاست دان زیادہ ہیں۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “انہیں خبروں میں رہنے کا شوق ہے۔ ایک مقامی اخبار میں وہ کالم نویسی بھی فرماتے ہیں۔ مجھے تو حیرت ہے انہوں نے آپ کا کیس لے لیے کیا۔ ان کی تو دیگر سیاسی مصروفیات ہی اتنی زیادہ ہیں کہ اس قسم کے چھوٹے موٹے کیسوں میں وہ ہاتھ ہی نہیں ڈالتے۔”
​”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بیگ صاحب۔” وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ “ابھی تک تو وہ میرے کیس کے سلسلے میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے میرا معاملہ اپنے ایک اسسٹنٹ وکیل کے حوالے کر رکھا ہے” وہ لمحاتی توقف کر کے اس نے ایک گہری سانس لی پھر بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
​”ترمذی صاحب سے ان کے آفس ہی میں دو چار مرتبہ میری ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے جب بھی اپنے کیس کی جانب ان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تو بڑی سنجیدگی سے یہ کہہ دیتے ہیں، ‘فیصل صاحب! آپ بالکل بے فکر ہو جائیں۔ آپ کا کیس میرے ذہن میں ہے۔ میں بس ایک بار عدالت جاؤں گا اور ایک جملہ بولوں گا۔ اس وقت اس کیس کا فیصلہ ہو جائے گا۔’ لیکن وہ دن آ کر نہیں دے رہا جب وہ عدالت میں پہنچ کر وہ تاریخ ساز جملہ بولیں گے”
​”اب تک آپ کے کیس کے ساتھ جو کچھ بھی ہو چکا ہے اسے بھول جائیں۔ میں کل عدالت جا کر آپ کے کیس کی اسٹڈی کر لوں گا۔” میں نے تسلی آمیز انداز میں کہا۔ “آپ مجھے اپنے کیس کا نمبر، اندراج کی تاریخ، ماتحت عدالت اور آخری پیشی کی تاریخ نوٹ کرا دیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیں کہ آئندہ پیشی کب ہے؟”
​اس نے آئندہ پانچ منٹ میں میری مطلوبہ معلومات فراہم کر دیں۔ میں مزید پندرہ منٹ تک گھما پھرا کر اس سے مختلف سوالات کرتا رہا پھر فیس وصول کرنے کے بعد اسے رخصت کر دیا۔
​فیصل سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق جب سفینہ روٹھ کر میکے جا بیٹھی تھی تو اس نے اسے واپس لانے کے لیے ہر وہ جتن کر ڈالا تھا جو اس کے بس میں تھا۔ سمجھانے بجھانے سے لے کر منت سماجت تک ہر حربہ آزمایا، لیکن اسے ایک ذرا سی بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ سفینہ اور اس کی ماں سلطانہ بیگم نے بس جنید گل محمد کی عملی تصویر بن کر رہ گئی تھیں۔ فیصل کے پاس تحریری معاہدے کے نقل موجود تھی جو سلطانہ بیگم نے سفینہ کی شادی سے قبل فیصل سے ایک اسٹامپ پیپر پر تیار کرایا تھا۔ اس معاہدے کے مندرجات فیصل کے حق میں جاتے تھے کیونکہ وہ اپنی بیوی کو واپس لے جانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے یونین کونسل میں اپنا مسئلہ پیش کر دیا۔
​یونین کونسلر نے فیصل کو حق بہ جانب ٹھہراتے ہوئے سفینہ کو اس کے ساتھ جانے کی ہدایت کی تھی لیکن سلطانہ بیگم نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونین کونسل کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا، یہی نہیں بلکہ اس کے ایما پر بعض غنڈہ صفت لوگوں نے فیصل کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس صورت حال نے فیصل کو بوکھلا کر رکھ دیا اور اس نے اپنے ایک مخلص دوست سے تذکرہ کیا۔ اس کا مذکورہ دوست خاصا پڑھا لکھا تھا اور بڑی حد تک وہ فیصل کے خانگی حالات سے واقفیت بھی رکھتا تھا۔ اس نے فیصل کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
​”یار! یہ بتاؤ تم نے ابھی تک بھائی کو طلاق تو نہیں دی نا؟”
​”میری ساس کی کوشش تو یہی ہے کہ میں یا تو اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دوں یا پھر دوسری بیوی کو بھول جاؤں۔” فیصل نے اپنے دوست کے سوال کے جواب میں بتایا۔ “لیکن میں نے ابھی تک ان دونوں میں سے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا۔”
​”گویا سفینہ بھائی ابھی تک تمہارے نکاح میں ہیں۔” دوست نے تصدیقی انداز میں استفسار کیا۔ “وہ تمہاری بیوی ہیں؟”
​”بالکل۔ اس میں کیا شک ہے۔” فیصل نے پورے تیقن سے جواب دیا۔
​دوست ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا۔ “آؤ میرے ساتھ۔”
​”کہاں؟” فیصل بھونچکا نظر سے اسے دیکھنے لگا۔
​”لیاقت آباد چلتے ہیں۔” دوست بڑے عزم سے بولا۔ “تمہاری سسرال میں۔”
​بات ختم کرتے ہی اس نے اپنے لباس میں سے ایک خطرناک گن برآمد کر لی۔ فیصل نے سراسیمہ انداز میں پوچھا۔ “تم تمہارا ارادہ کیا ہے؟”
​”تم میرے ساتھ چلو۔ ہم ابھی بھابی کو لے کر آ رہے ہیں۔” دوست خطرناک انداز میں گن کی نمائش کرتے ہوئے بولا۔ “جس سالے سسر نے بھی ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی اس کی لاش گرا دوں گا۔”
​فیصل اپنے دوست کے تیور دیکھ کر سہم گیا، جلدی سے بولا۔ “ابھی اس قسم کی جارحانہ کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔”
​”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے فیصل!” وہ سنگین لہجے میں بولا۔ “تم نے شرافت اور انسانیت کا ہر کلیہ قاعدہ استعمال کر کے دیکھ لیا نا۔ یہ گھی سیدھی انگلی سے نکلنے والا نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ چلو پھر دیکھو میں کس طرح اس معاملے کو نمٹاتا ہوں۔”
​”نہیں نہیں۔” فیصل نے بڑی شدت سے نفی میں گردن ہلائی۔ “تم اپنے منصوبے کو چند روز کے لیے موقوف کر دو۔ اگر تمہاری ضرورت پیش آئی تو میں تمہیں ضرور زحمت دوں گا۔”
​”چند دن” دوست نے الجھن زدہ لہجے میں کہا۔ “چند دن میں کیا ہونے والا ہے فیصل؟”
​”وہ بات دراصل یہ ہے” فیصل وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ “ایک صاحب ہیں فیضان۔ وہ ہم دونوں کے مشترکہ واقف کار ہیں۔ میں نے ان کو بیچ میں ڈالا ہے۔ وہ ہماری صلح کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے فیضان صاحب کی بات سفینہ اور سلطانہ بیگم کی سمجھ میں آ جائے گی۔”
​”سب بے کار ہے فیصل۔” دوست نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “مجھے تمہارا یہ کام ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بہر حال۔۔۔۔۔” اس نے معنی خیز انداز میں کندھے اچکائے اور بے پروائی سے بولا۔
​”جیسی تمہاری مرضی۔ میں کوئی زور زبردستی تو کر ہی سکتا ہوں ۔”
​اپنے دوست کو تو فیصل نے کسی بھی نوعیت کی ہنگامی کارروائی سے روک دیا تھا، لیکن فیضان پر وہ اندھا اعتماد کیے ہوئے تھا۔ فیصل بنیادی طور پر ایک شریف اور صلح جو انسان تھا۔ ہر شریف آدمی عموماً بزدل واقع ہوتا ہے۔ وہ دنگا فساد اور افرا تفری کے کاموں سے دامن چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی حال فیصل کا بھی تھا۔ اس نے ایک مخلص اور جذباتی دوست کا ساتھ دینے سے تو انکار کر دیا تھا تاہم وہ فیضان پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کر رہا تھا جبکہ فیضان اس سے زیادہ مخالف پارٹی کا وفادار تھا۔ وہ فیصل کی زبان سے نکلنے والی ایک ایک بات سلطانہ بیگم تک پہنچا رہا تھا۔ جب فیضان کی اصلیت فیصل پر کھلی تو پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ اس نے فیضان سے قطع تعلق کر لیا۔ تاہم فیضان کی ذات سے فیصل کو جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا تھا، اسی فتنہ پروری کے باعث کیس عدالت تک پہنچا تھا۔
​ہوا کچھ یوں کہ اس معاملے میں مسلسل ناکامی کے بعد فیصل نے ایک سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تھا، وہ سفینہ کو واپس اپنے گھر لانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ سفینہ واپس آ جاتی تو اس کے ساتھ ہی عائشہ کو بھی آنا پڑتا۔ اسٹامپ پیپر پر تحریر شدہ معاہدہ اس سلسلے میں فیصل کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا تھا، لیکن قبل اس کے کہ فیصل اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتا دوسری جانب سے پہل کر دی گئی تھی۔
​فیصل نے اپنے منصوبے سے فیضان کو بھی تفصیلاً آگاہ کر دیا تھا۔ فیضان نے اس کے ارادے کی تائید بھی کی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی فیضان نے مخالفت پارٹی کو فیصل کے منصوبے کے بارے میں بھی بتا دیا تھا، مگر فیصل اپنی بیوی اور بیٹی کے حصول یا واپسی کے لیے پہلے عدالت سے رجوع کر لیتا تو یقیناً اس کا پلا بھاری رہتا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ فیصل اپنی سوچ کو عملی شکل دینے کی منصوبہ بندی کر ہی رہا تھا کہ سفینہ کی جانب سے ضلع کے علاوہ بچی کے اخراجات وغیرہ کا بھی کیس دائر تھا۔ یہ سب کچھ تو تھا، لیکن ابھی تک تمام تر کیسز کی مد میں کوئی قابل ذکر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی تھی اور۔۔۔۔ اب یہ کیس میرے ہاتھ میں تھا۔ ​میں نے آئندہ روز عدالت جا کر اس کیس کا بغور مطالعہ کر لیا، پھر فیصل کو اپنے آفس بلا کر اس سے کچھ معاملات لیں اور نئے سرے سے اس کیس کی تیاری میں لگ گیا۔
​اگلی پیشی پر میں عدالت میں حاضر ہوا اور اپنا وکالت نامہ دائر کر دیا۔ جج نے زیادہ حیرت کا اظہار نہیں کیا، کیونکہ وکلا کی تبدیلی کوئی چونکا دینے والی بات نہیں سمجھی جاتی۔ میرے وکالت نامہ دائر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اب میں اس کیس کی پیروی میں کروں گا۔
​اپنی باری پر میں نے دلائل کا سلسلہ شروع کیا۔
​”جناب عالی! یہ کیس حال ہی میں میرے ہاتھ آیا ہے، لیکن خوش قسمتی سے مجھے اس کی اسٹڈی کا بھرپور موقع مل گیا اور یہ جان کر مجھے سخت افسوس ہوا کہ ایک معمولی سے کیس کو اتنے عرصے تک لٹکا کر رکھا گیا ہے میں سمجھتا ہوں میں تاخیر کا ذمے دار صرف اور صرف وہ وکیل ہے جو مجھ سے پہلے مستغیث کی وکالت کر رہا تھا” میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے اپنے دلائل جاری رکھے۔
​”پورآ نرا جیسا کہ معزز عدالت یہ خوبی جانتی ہے کہ میرے موکل کی سیکنڈ وائف مسماۃ سفینہ کی جانب سے ضلع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ میرے موکل نے مسماۃ سفینہ کو اپنے گھر میں بسانے کی ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی۔ یہ معاملہ یونین کونسل سے ہوتے ہوئے عدالت تک پہنچا اور مسماۃ سفینہ کی طرف سے خلع کا مطالبہ اس امر کا غماز ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے شوہر یعنی میرے موکل کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ اپنی تمام تر کوششوں میں ناکامی کے بعد ​میرا موکل بھی بالآخر اسی فیصلے پر پہنچا ہے کہ اگر مسماۃ سفینہ اس کی زندگی سے خارج ہونا چاہتی ہے تو اب وہ بھی اسے روکنے کی تگ و دو نہیں کرے گا۔ گویا یہ کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اس بات کا مطالبہ کرنا مسماۃ سفینہ کے وکیل کا فرض بنتا ہے کہ طلع کا دعویٰ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے لیکن میں اپنے کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ چائلڈ کسٹڈی والا معاملہ اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب مسماۃ سفینہ اور کسی فیصلے کے بیج پایا جانے والا تعلق کسی حتمی شکل کو اختیار کر لے لہٰذا میری معزز عدالت سے استدعا ہے کہ اس کیس کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کی جائے۔“
طلع کا دعویٰ چونکہ سفینہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا چنانچہ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں اس کا وکیل کسی قسم کی روایتی رخنہ اندازی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اپنے دعوے کے حق میں دلائل دینے پر مجبور ہو گیا۔
طلع کے کیسز کم از کم ایک ایک اور زیادہ سے زیادہ دو پیشیوں کی مار ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس کیس کی ابھی تک ایک بھی باقاعدہ سماعت نہیں ہوئی تھی۔ کسی نہ کسی وجہ سے معاملہ ٹل جاتا اور اگلی پیشی کے لیے تاریخ دے دی جاتی۔ آج پہلی مرتبہ ڈھنگ سے عدالتی کارروائی ہو رہی تھی۔
کوئی بھی کام جب ڈھنگ سے کیا جائے تو اس کے بڑے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوتے ہیں لہٰذا اس دن کی سماعت کے اختتام پر عدالت نے سفینہ کو طلع دے دی۔ گویا اب وہ قانونی طور پر فیصل کی بیوی نہیں رہی تھی۔
جج نے آئندہ پیشی کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔
”دی کورٹ از ایڈجرنڈ۔۔۔۔“
​اب یہ کیس ایک مخصوص ٹریک پر آ گیا تھا۔ فیصل کی دو سالہ بچی عائشہ اپنی ماں کی کسٹڈی میں تھی اور مجھے اسے وہاں سے نکال کر فیصل کی تحویل میں لانا تھا، آئندہ دو پیشیاں پر سفینہ نے دانستہ ایسا رویہ اپنایا کہ فیصل اپنی بچی کی ایک جھلک بھی نہ دیکھ سکے۔ وہ فیصل کی کمزوری سے بخوبی واقف تھی اور عائشہ کو وہ ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر فیصل کے خلاف استعمال کر رہی تھی۔
​اس سے بعد کی دو پیشیوں پر فیصل عائشہ سے مختصر سی ملاقات کرنے میں کامیاب تو رہا لیکن ”ملاقاتیں“ جس نوعیت کی ہوتی ہیں اور جس قسم کے ماحول میں کرائی جاتی ہیں، وہ عائشہ کے ہونے کے علاوہ بچے کی نفسیات کے لیے بھی انتہائی ہولناک اور تباہ کن ہے۔ ایک نیلے اور گندے سے کمرے میں باپ و اژدھام کھولنا نہ جانے اپنی اولاد کے ساتھ ملن کے چند لمحوں میں مصلے سے سکون اور خوشی کو کشید کرنے کی کوشش میں لایعنی اور عجیب و غریب حرکتیں کرتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنی سمندر سے زیادہ گہری اور آسمان سے زیادہ وسیع و عریض محبت کو چند لملات میں اپنے جگر گوشے پر نچھاور کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ کوشش دیکھنے والوں کو بڑی بھونڈی نظر آتی ہے۔ بچے کے قریب ہی ایک جانب اس کی ماں اپنے سابق شوہر سے منہ موڑے بیٹھی غصے اور اکتاہٹ کی تصویر بنی دکھائی دیتی ہے۔ اس پر مستزاد خوف ناک چہروں والے پولیس اہلکار جن کی نگرانی میں یہ ملاقات کرائی جا رہی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ حتوش اور قابل رحم وہ بچہ نظر آتا ہے۔ اس کا معصوم دماغ اور پھول سوچ یہ سمجھنے سے قاصر رہتی ہے کہ والدین کے ان اختلافات میں آخر اس کا تصور کیا ہے۔ ماں نے اس کے باپ کو اور باپ نے اس کی ماں کے کس گناہ کی پاداش میں اس سے چھین لیا ہے۔ اگر کوئی بھی صاحب دل مرد یا عورت بچے کی حالت کو آنکھوں سے دیکھے تو زندگی میں کبھی اپنے شریک حیات سے الگ ہونے کے بارے میں نہ سوچے ۔ میں نے اہل دل والدین کی بات کی ہے انسان نما چلتی پھرتی مشینوں کی نہیں۔
اگلی پیشی پر میں نے اس انتہائی نازک ایشو کو جج کے سامنے اٹھایا۔ ”جناب عالی!“ میں نے نہایت ہی احترام کے ساتھ کہا۔ ”ہماری عدالتوں کے لیے جو ماحول اور طریقہ کار سال ہا سال سے رائج ہے، وہ بہت ہی شرم ناک اور غیر انسانی ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت کے احاطے میں ایک پلے لینڈ بنایا جا سکتا ہے جہاں کے پرسکون ماحول اور خوشگوار فضا میں یہ ملاقات یادگار کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔“
جج نے میری تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا بلکہ محض سر ہلانے پر اکتفا کیا اور منتظر نگاہ سے مجھے تکنے لگا کہ میں آگے کچھ بولوں۔
میں نے کہا۔ ”پور آنر! جیسا کہ عدالت جانتی ہے میرے موکل مسٹر فیصل نے دوسری شادی ایک خاص مقصد کے تحت کی تھی۔ پہلی بیوی سے اس کی اولاد نہیں تھی۔ دوسری شادی​کے موقع پر میرے موکل اور اس کی سابق بیوی کی ماں سلطانہ بیگم کے درمیان باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر ایک معاہدہ تحریر کیا گیا تھا۔ اس تحریر کے اندر بھی دوسری شادی کی وجہ کا ذکر موجود ہے۔“ میں نے توقف کر کے وکیل مخالف کی جانب دیکھا اور سلسلہ دلائل کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”اس معاہدے کی کاپی کیس فائل کے اندر لگی ہوئی ہے۔ میرے موکل نے ہر قدم پر اس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور عدالت یہ بھی جانتی ہے کہ خلع والے معاملے سے پہلے تک میرے موکل کی مکملی اور آخری کوشش یہی رہی تھی کہ کسی طرح مصالحت ہو جائے۔ وہ اپنی بیوی اور بچی کو کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا لیکن دوسری جانب تو نہایت ہی منصوبہ بندی کے ساتھ میرے موکل کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا۔“
میں ایک مرتبہ پھر کا ایک گہری سانس خارج کی اور تھمرے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کیا۔ ”سر! آنر! میرے موکل کی سیکنڈ وائف اور اس کی والدہ سلطانہ بیگم کے دل میں پہلے ہی ری جب تک وہ امید والی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد امید کی کرن جاگتے ہی ماں بیٹی کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی۔ سفینہ ایسی اپنے میکے آئی کہ پھر جانے کا نام ہی نہیں لیا۔ اس کی والدہ سلطانہ بیگم کا ایک ہی مطالبہ رہا کہ پہلے فیصل اپنی فرسٹ وائف کو طلاق دے پھر سفینہ اس کے گھر جائے گی۔ فیصل کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وہ ایک مستقل‘ سمجھدار اور متوازن شخص ہے، اس نے ان ماں بیٹی کے مطالبے کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور سفینہ کی واپسی کی کوششوں میں مصروف رہا تا ہم یہ تال تملف منہ نہ چڑھ سکی اور اب یہ دونوں ایک دوسرے کے کچھ نہیں لگتے۔ سفینہ سے فیصل کا ہر تعلق اور رشتہ ختم ہو چکا ہے لیکن عائشہ تو فیصل کی بیٹی ہے۔ سفینہ سے فیصل کا تعلق اور رشتہ ختم ہو چکا ہے لیکن عائشہ تو فیصل کی بیٹی ہے۔ سفینہ سے فیصل کا تعلق اور رشتہ ختم ہو چکا ہے؟۔۔۔۔ میں نے ڈرامائی انداز میں توقف کر کے حاضرین عدالت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی پھر ونے سخن جج کی طرف پھیرتے ہوئے کہا۔
”لہٰذا۔۔۔۔ معزز عدالت سے میری استدعا ہے کہ معصوم عائشہ کو میرے موکل فیصل کی تحویل میں دیا جائے، ویش آل یور آنر۔۔۔۔“
وکیل مخالف اٹھ کھڑا ہوا اور استہزائیہ انداز میں مجھے دیکھتے ہوئے بولا۔ ”جناب عالی! ​میرے فاضل دوست نے اپنی خوش کلامی کے آغاز پر بچوں کی اپنے والدین سے ملاقات کے سلسلے میں جو گراں قدر تجاویز دی ہیں ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن موصوف شاید اس خطے اور اس قوم کے مزاج سے واقف نہیں ہیں۔ ہم بہت مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ شہنشاہ شاہ جہاں کی عیاشی اپنی زندگی کے دوران عیاں بھی تھی۔ شاہ جہاں اپنی اس بیوی سے بے اندازہ اور طوفانی محبت کرتا تھا، اس کی یاد میں شاہ جہاں نے سلطنت کا تمام خزانہ پانی کی طرح بہا کر تاج محل تعمیر کرایا تھا۔ شاہ جہاں ہی کے زمانے میں کسی انگریز کی بیوی بھی زندگی کے دوران میں زندگی ہار گئی تھی، وہ انگریز بھی اپنی بیوی کو بے پناہ چاہتا تھا، اس نے بیوی کی یادگار کے طور پر کوئی تاج محل کھڑا نہیں کیا بلکہ فوری طور پر ایک میٹرنٹی ہوم قائم کر دیا تاکہ زندگی کے دوران میں عورتوں کی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ بچانے کی کوشش کی جا سکے۔“ وہ اس واقعے کو سنا کر متوقف ہوا پھر اپنے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
”میرا آنر! ہم لوگ بنیادی طور پر مردہ پرست واقع ہوئے ہیں۔ زندگی میں انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور موت کے بعد ان کے مقبرے اور مزار تعمیر کر ڈالتے ہیں۔ اگر میرے فاضل دوست کی تجویز کے مطابق بچوں کے لیے کوئی پلے لینڈ بنا بھی لیا گیا تو سب جانتے ہیں اس کا مستقبل کیا ہو گا، جس طرح میرے ہم پیشہ دوست کو معلوم نہیں کہ ان کے تجویز کردہ پلے لینڈ کا کیا انجام کیا ہو گا اسی طرح وہ بھی نہیں جانتے کہ ایک دو سالہ بچی کو ماں سے چھین کر باپ کی تحویل میں دینا سراسر ناانصافی اور غیر انسانی فعل ہو گا۔۔۔۔ ایک معصوم بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہی خوش رہ سکتا ہے۔“
وکیل مخالف گھما پھرا کر بہت دور کی کوڑی لایا تھا، ایک آسان سی بات کہنے کے لیے اس نے زمین آسمان کے قلابے ملا ڈالے تھے۔ میں نے اس کی اس کوشش پر مسکرا کر اس کی جانب دیکھا اور جواباً کہا۔
”میں اپنے فاضل دوست کی تقریر دل پذیر سے بہت متاثر ہوا ہوں اور ان کے اٹھائے ہوئے اس پوائنٹ سے بھی مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ایک معصوم شیر خوار بچے کے لیے اس کی ماں کی آغوش سب سے محفوظ پناہ گاہ ہے لیکن اگر اسی آغوشِ مادر میں اچانک ہول کی جھاڑی نمودار ہو جائے تو ماں بکلی فرصت میں اپنے بچے کو گود سے نکال باہر کرے گی۔ ایک ​ماں اپنے لخت جگر کو ایک معمولی سا کاٹا چبھنے کی تکلیف کا تصور نہیں کر سکتی کجا یہ کہ ہول کی پوری جھاڑی۔۔۔۔“ میں نے رک کر ایک گہر بھری لی پھر سلسلہ دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”لیکن سفینہ جیسی بعض مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اپنی آغوش میں اگ آنے والی اول کی جھاڑی کا مطلق احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اورگ۔ وہ اپنی اندھی محبت میں بچے کو گود میں کھینچے بیٹھی رہتی ہیں اور ان کی اس حماقت نما چاہت سے معصوم بچے کا جان لیوا ہرج ہو جاتا ہے لہٰذا۔۔۔۔“ میں نے لملاتی توقف کے بعد میں اضافہ کیا۔
”لہٰذا ایسی پاگل اور حشکی اندھی ماؤں کو اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا، بکلی فرصت میں ان کی زہریلی گود میں سے بچے کو نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے۔“
”آپ۔۔۔۔ آخر۔۔۔۔ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟“ وکیل مخالف کی بکھری ہوئی آواز ابھری۔ ”سفینہ کی آغوش میں ہول کی جھاڑی کہاں سے آ گئی؟“
”یہ جھاڑی صرف انہی لوگوں کو نظر آ سکتی ہے جو دیکھنے والی آنکھ رکھتے ہیں۔“ میں نے وکیل مخالف کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”تو آپ کا خیال ہے میری آنکھیں نہیں ہیں؟“ وہ حیرت سے پلکیں پھپکاتے ہوئے بولا۔
”میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میرے فاضل دوست!“
”پھر۔۔۔۔؟“ اس کی حیرت الجھن میں بدل گئی۔ جج نے اس موقع پر چل ہونا ضروری جانا، اس نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے ٹھہرے ہوئے انداز میں سوال کیا۔
”بیگ صاحب! ہول کی جھاڑی سے آپ کی کیا مراد ہے، ذرا اس کی وضاحت کر دیں۔۔۔۔؟“
”او کے سر!“ میں نے سر کو تعظیمی انداز میں جنبش دی پھر نہایت ہی سنجیدگی سے بولنا شروع کیا۔
”جناب عالی! ہول کی جھاڑی اور مسماۃ سفینہ کی آغوش کو میں نے محض سمجھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ جیسے اشاروں کنایوں میں سمجھانے کے لیے مختلف اشیاء سے مدد لی جاتی​ہے، بان صد افسوس کہ میرے فاضل دوست نے میری بات کو سمجھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی، اگر انہوں نے اس سلسلے میں ذرا سی بھی کوشش کی ہوتی تو ان کے ذہن میں یہ سوال ابھر ہی نہیں سکتا تھا جو انہوں نے مجھ سے کیا ہے۔۔۔۔“ میں سانس ہموار کرنے کے لیے متوقف ہوا پھر سلسلہ وضاحت کو دراز کرتے ہوئے کہا۔
”میرا آنر! ان تمام تر تفصیلات سے میں صرف ایک حقیقت کو سامنے لانا چاہتا ہوں کہ معصوم عائشہ کے لیے اس کی ماں کی آغوش اور اردگرد کا ماحول انتہائی مبلک اور زہر یلا ہے، اگر وہ ننھی جان اس جان لیوا فضا میں سانس لے گی تو دن چوتھی تو اس کے ذہن اور نفسیات پر انتہائی خطرناک اور برے اثرات مرتب ہوں گے؟ آگے چل کر جن کا علاج ممکن نہیں رہے گا اس لیے۔۔۔۔ اسی لیے میں یہ معذ اصرار معزز عدالت سے استدعا کرتا ہوں کہ ننھی عائشہ کو اس کے باپ مسٹر فیصل کی تحویل میں دیے جانے کے احکام صادر کیے جائیں، اس گھر میں فیصل کی پہلی بیوی فرزانہ موجود ہے، وہ بڑی ذمے داری اور احتیاط کے ساتھ عائشہ کو سنبھال لے گی۔“
جج نے سوچتی ہوئی نظر سے مجھے دیکھا۔
اسی لمحے وکیل مخالف کی طنز میں ڈوبی ہوئی آواز عدالت کے کمرے میں ابھری۔ ”واہ واہ۔۔۔۔ سبحان اللہ! میرے فاضل دوست نے کیا خوب تجویز پیش کی ہے۔ ایک معصوم دو سالہ بچی کو اس کی سگی ماں سے چھین کر ایک سوتیلی ماں کی چتائی اور بربادی کا سبب ہے۔ اس قسم کی صلاح کا ہے کو سنے کو ملی ہو گی؟۔۔۔“
جج نے وکیل مخالف کے انجینکشن کو سرے سے نظرانداز کر دیا اور بدستور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے استفسار کیا۔
”بیگ صاحب! آپ نے سفینہ کی آغوش اور اس کے گھر کے ماحول کو انتہائی مبلک اور زہر یلا قرار دیا ہے، عدالت آپ کے بیان کی وضاحت چاہتی ہے؟“
”پور آنر!“ میں نے نہایت ہی ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”جب والدین میں علیحدگی کا کوئی کیس عدالت میں چلتا ہے تو عدالت اور انصاف کی نظر مائنر پر فوکس ہوتی ہے۔ دونوں جانب کے بیانات اور دونوں پارٹیوں کے وکلاء کے دلائل کو سننے کے بعد عدالت اس پارٹی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے جو مائنر کے لیے زیادہ مفید ہو۔ ایم آئی رائٹ؟“
​میں نے توقف کر کے سوالیہ نظر سے جج کی جانب دیکھا تو وہ گمبھیر آواز میں بولا۔ ”ی آر ابسلوٹلی رائٹ۔۔۔۔“
”تھینک یو سر!“ میں نے سر کی خفیف سی جنبش سے جج کا شکریہ ادا کیا پھر اپنی وضاحت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”جناب عالی! جب مائنر کے مفادات کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں مائنر کی صحت، خوراک، تعلیم، تربیت، پرورش اور نشوونما کو سر فہرست رکھا جاتا ہے یعنی مائنر کے ماں باپ میں سے جو کوئی بھی اسے یہ تمام تر چیزیں زیادہ بہتر انداز میں مہیا کر سکتا ہو، فیلڈ اسی کے حق میں سنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر کا ماحول، علاقے کی فضا اور آب و ہوا کا نمبر آتا ہے۔“ میں نے تھوڑی دیر رک کر مخونی ہوئی نظر سے وکیل مخالف کی جانب دیکھا پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”جناب عالی! اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ میرے موکل مسٹر فیصل کی معاشی اور معاشرتی حالت مسماۃ سفینہ کی نسبت دو سو گناہ بہتر اور مضبوط ہے۔ مسٹر فیصل اور ان کی مسز فرزانہ تعلیم یافتہ اور روشن خیال لوگ ہیں، وہ دونوں مل کر ننھی عائشہ کو بہتر خوراک، عمدہ صحت اور اعلیٰ تعلیم دے سکتے ہیں جبکہ مسز فیصل مسماۃ سفینہ کے مقابلے میں زیادہ صاف ستھرے اور صحت افزا علاقے میں رہتے ہیں جہاں ننھی عائشہ کی زیادہ بہتر انداز میں تربیت کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بھی نہایت ہی اہم پہلو ہے جناب عالی۔۔۔۔“ میں نے ڈرامائی انداز میں بولتے ہوئے ختم کیا۔
”کون سا پہلو۔۔۔۔؟“ وکیل صاحب کی سرسراتی ہوئی آواز ابھری۔
جج نے بھی دلچسپی لیتے ہوئے اصرار کیا۔ ”بیگ صاحب! آپ کس پہلو کا ذکر کر رہے ہیں؟“
”جناب عالی!“ میں نے مؤدبانہ انداز میں کہا۔
”میں نے ابھی جس پہلو کا ذکر کیا ہے اس کی وضاحت کے لیے مسماۃ سفینہ کا عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے۔ میں ان سے چند نہایت ہی اہم سوالات کرنا چاہتا ہوں۔“
اتفاق سے اس روز سفینہ عدالت نہیں آئی تھی۔ جج نے دیوار گیر کلاک کی جانب دیکھا، عدالت کا مقررہ وقت ختم ہونے میں انیس منٹ باقی تھے۔ جج نے وکیل مخالف کو ہدایت ​لی کہ آئندہ پیشی پر مسماۃ سفینہ کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
وکیل مخالف نے جج کے احکامات کی تعمیل کا یقین دلایا تو جج نے اگلی پیشی کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
​مقررہی عدالت کا تھا اور گواہوں والے کٹہرے میں عائشہ کی والدہ اور میرے موکل کی سابقہ دوسری بیوی سفینہ کھڑی تھی۔ سفینہ ایک قبول صورت اور چالاک عورت تھی، اس وقت وہ انتہائی سنجیدہ اور چپ چاپ نظر آ رہی تھی۔
جج سے اجازت حاصل کرنے کے بعد میں نے پس پاس کے قریب پہنچ گیا اور سفینہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی جرح کا آغاز کیا۔
”سفینہ صاحبہ! میں آپ کے ماضی بعید میں جھانکنے کی کوشش نہیں کروں گا تاہم ماضی قریب کا ذکر کہ یہ بغیر مائنر کے بارے میں گفتگو کرنا ممکن نہیں ہو گا لہٰذا میں چند ایسے سوالات کرنے پر مجبور ہوں جو ہو سکتا ہے آپ کو پسند نہ آئیں یا ناگوار گزریں۔۔۔۔“
وہ منہ سے کچھ نہیں بولی خاموش نظر سے مجھے دیکھتی چلی گئی۔
میں نے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے کہا۔
سفینہ صاحبہ! کیا یہ درست ہے کہ شادی سے پہلے آپ ایک ایسے ادارے میں کام کرتی تھیں جہاں کا م کے سلسلے میں آپ کے سابق شوہر فیصل کا آنا جانا تھا؟“
”جی ہاں یہ درست ہے۔“ اس نے مختصر سا جواب دیا۔
”کیا یہ بھی صحیح ہے کہ رچی پر آپ دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا تھا؟“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”آپ دونوں میں پیدا ہونے والی انڈر اسٹینڈنگ رنگ دکھایا اور بالآخر آپ شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے؟“
اس نے اثبات میں گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔
”جب آپ کے وجود میں امید کی کرن جاگی تو آپ کے سابق شوہر فیصل نے آپ سے عارضی طور پر وہ جاب چھڑوا دی تھی۔“ میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”آپ نے طویل رخصت لے لی تھی حالانکہ شادی کے بعد آپ نے جاب کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔۔۔۔؟“
​”جی ہاں! آپ جو بھی فرما رہے ہیں، وہ سو فیصد درست ہے۔“ وہ سپاٹ آواز میں بولی۔
”اور یہ بھی درست ہے کہ عائشہ کی پیدائش کے بعد کچھ عرصہ آپ نے آرام کیا تھا پھر جاب کو کنٹینیو کر لیا تھا؟“
”جی ہاں۔۔۔۔“ اس نے مختصر جواب دیا۔
”گویا ایک معصوم اور دودھ پیتی بچی اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں اپنی ماں سے پچھڑ گئی تھی۔“ میں نے چبھنے والے انداز میں کہا۔ ”آپ سمارا دن آفس میں ہوتی تھیں اور ہے چاری عائشہ گھر میں آپ کے بغیر۔۔۔۔ بیگ یہ سلسلہ ابھی تک جاری وساری ہے۔۔۔۔ ہیں نا؟“
”اگر میں جاب کے لیے گھر سے نکلتی ہوں تو یہ میری مجبوری ہے۔“ وہ تیکھے ہوئے لہجے میں بولی۔ ”اور یہ غلط ہے کہ عائشہ میری غیر موجودگی میں گھر میں افراوہوتی ہے۔“
”میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ ننھی عائشہ کو گھر میں تنہا چھوڑ کر جاب کے لیے چلی جاتی ہیں بلکہ میرے الفاظ تھے۔۔۔۔ آپ سمارا دن آفس میں ہوتی تھیں اور ہے چاری عائشہ گھر میں آپ کے بغیر۔۔۔۔“
”ہاں۔۔۔۔ شاید آپ نے ایسا ہی کہا تھا“ وہ جز بز ہوتے ہوئے بولی۔
”شاید نہیں یقیناً میں نے ایسا ہی کہا تھا۔“ میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔ ”اپنے لخت جگر کو گھر میں چھوڑ کر آپ نوکری پر چلی جاتی ہیں اور گھر میں موجودہ افراد اس کا بہت خیال رکھتے ہیں میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟“
”نہیں جناب۔۔۔۔ یہی حقیقت ہے۔“
”کیا آپ معزز عدالت کو بتانا پسند کریں گی کہ آپ کے اور عائشہ کے سوا گھر میں اور کتنے افراد رہتے ہیں؟“
میں نے غیر سُرت نماز میں اسے گھسیٹنا شروع کیا۔
”چار افراد۔۔۔۔“ اس نے جواب دیا۔
”یعنی آپ کی امی آپ کے آپ کی بڑی بہن اور آپ کا بھائی؟“
”جب آپ کو سب کچھ معلوم ہے تو مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں؟“ وہ بیزاری سے بولی۔
​”سفینہ صاحبہ! میرے ذہن میں موجود معلومات کو یہ عدالت تسلیم نہیں کرتی۔“ میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔ ”جب آپ یہاں موجود ہیں تو آپ کی زبانی سن کر عدالت کو زیادہ پختہ یقین آئے گا۔۔۔۔“
وہ کچھ نہ بولی وٹنس باکس میں کھڑے کھڑے پہلو بدل کر رہ گئی۔ میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
”سفینہ صاحبہ! آپ نے تھوڑی دیر پہلے میرے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ جاب کے لیے گھر سے نکلنا آپ کی مجبوری ہے۔ کیا یہ مجبوری انہی چار افراد کی وجہ سے ہے؟“
”میں سب سے پہلے اپنے اور عائشہ کی زندگی کے لیے گھر سے نکلتی ہوں۔“ وہ گھور کے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔
”باقی سب اس کے بعد آتے ہیں۔“
”آپ کے والد تصدیق حسین کیا کام کرتے ہیں؟“ میں نے اچانک پوچھ لیا۔
”وہ رنگ وروغن وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔“ اس نے بتایا۔
”لیکن اکثر ان کی صحت خراب رہتی ہے۔“ میں نے کہا۔
”وہ ایک دن کام پر جاتے ہیں تو تین دن چھٹی کرتے ہیں؟“
”یہ ان کی عمر کا تقاضا ہے۔“ وہ سرسری لہجے میں بولی۔
”آپ کو اپنی امی ابو بھائی اور بہن سے بہت محبت ہے نا؟“
”جی ہاں۔۔۔۔ اس میں کیا شک ہے۔۔۔۔“
”آپ کو جاب کے لیے اس لیے بھی گھر سے نکلنا پڑتا ہے کہ اس گھر کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”ہاں یہ حقیقت ہے اور۔۔۔۔ اس میں غلط کیا ہے وہ انا بھی سے سوال کر بیٹھی۔ ”اپنے والدین کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔“
”جی ہاں۔۔۔۔ بالکل۔۔۔۔ میں نے جلدی سے کہا۔ ”مجھے آپ کے جذبے کی سچائی پر کوئی شک ہے اور نہ ہی اعتراض۔“
وہ سوالیہ نظر سے مجھے تکنے لگی۔
​میں نے کہا۔ ”آپ کے چھوٹے بھائی نوید کو دیکھ کر آپ کا دل کڑھتا رہتا ہے نا۔۔۔۔؟“
”جی۔۔۔۔ میں اس کے لیے بہت پریشان رہتی ہوں۔“
”غلط صحبت انسان کو تباہ برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔“ میں نے ہوردی بھرے انداز میں کہا۔ ”کتنا خوب صورت اور ہینڈسم نوجوان تھا۔“
”جی ہاں۔۔۔۔ جس نے نوید کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا ہے۔“ وہ دکھی لہجے میں بولی۔
”سفینہ صاحبہ! میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”مجھے کہنا تو نہیں چاہیے کیونکہ غالباً آپ کا گھریلو معاملہ ہے مگر۔۔۔۔ کیا یہ سچ ہے کہ نوید نشے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اکثر گھر سے مختلف اشیاء بھی چوری کرتارہتا ہے۔۔۔۔؟“
”جی ہاں۔“ وہ جز بز ہوتے ہوئے بولی۔ ”بعض اوقات اس قسم کے واقعات بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔“
”سفینہ صاحبہ!“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ”یہ درست ہے کہ میں آپ کا مخالف وکیل ہوں لیکن اس کے باوجود بھی میں آپ کی ہمت اور برداشت کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔“
وہ خند ذب نظر سے مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ یقیناً اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ وکیل مخالف اور حاضرین عدالت کی نظریں بھی مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں نہایت ہی غیر محسوس انداز میں جملہ باجی منزل کی جانب گامزن تھا۔ سفینہ سوالیہ نظر سے مجھے دیکھے جا رہی تھی، میں نے گفتار کا گلا صاف کیا اور استشارات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”نوید کی حالت تو اپنی جگہ ایک افسوس ناک اور تکلیف دہ حقیقت ہے ہی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے زرینہ بھی آپ کے گھر میں قیام پذیر ہے اور اب اسے زندگی بھر وہیں رہنا ہے۔“
”کیا کر سکتے ہیں وکیل صاحب۔“ وہ دکھی نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”جس خدا نے ہمیں مصیبت میں ڈالا ہے وہی اس مصیبت سے نکالے گا بھی۔“
”زر ینہ آپ سے کتنے سال بڑی ہے؟“ میں نے جرح کے سلسلے میں یک دم تیزی​لاتے ہوئے سوال کیا۔
میری معلومات کے مطابق زرینہ سفینہ کی بڑی بہن تھی۔ وہ بدسملتہ ہوئی۔ ”باجی مجھ سے چار سال بڑی تھا“۔
”کیا یہ سچ ہے کہ آپ کی زرینہ بانی کو ان کے ایک خطرناک مرض کے باعث طلاق ہوئی ہے؟“ میں نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
”باجی کی بیماری تو اپنی جگہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور اس کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔“ وہ دائل انداز میں بولی۔
”لیکن میں سمجھتی ہوں باجی کی طلاق ان کے سابق شوہر کی کم ظرفی اور بے حسی کا زیادہ ہاتھ تھا۔“
”کیا مطلب۔۔۔۔؟“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
”میرے سابق بہنوئی کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ ”اگر باجی کسی دائمی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا ہو ہی گئی تھی تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ باجی کا پورا علاج کراتے۔ اب دیکھیں ہم بھی تو انہیں جیسے ڈاکٹروں کو دکھا ہی رہے ہیں؟“
”میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی تو کہا تھا کہ آپ بہت ہمت والی ہیں، میں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گہرے لہجے میں پوچھا۔ ”سفینہ صاحبہ! کیا یہ درست ہے کہ زرینہ بانی کو آپ ہی ایک معروف نفسیاتی ہسپتال لے کر جاتی ہیں؟“
”جی ہاں یہ درست ہے۔“ اس نے جواب دیا۔
”اور جب اس نفسیاتی ہسپتال میں آپ کی زرینہ بانی کو الیکٹریکل شاکس لگائے جاتے ہیں اور ان کی کیفیت کو دیکھ کر آپ کا کلیجا منہ کو آنے لگتا ہے۔۔۔۔؟“
”جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ مجھے ان کی حالت دیکھ کر بہت اذیت پہنچتی ہے۔“ وہ تانیہی انداز میں بولی۔ ”باجی کی بے بسی میرا دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔“
”اکثر انہیں گھر میں دماغی دورے پڑتے ہیں؟“۔۔۔۔ سفینہ نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
”اور آپ کی زرینہ بانی کی وجہ سے پورے گھر کا سکون درہم برہم ہو کر رہ جاتا​ہے؟“ میں نے جرح کے بارے میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے پوچھا۔
”ظاہر ہے۔“ اس نے مختصر الفاظ میں تصدیق کر دی۔
میں نے روتنے سحن جج کی جانب موڑتے ہوئے باآواز بلند کہا۔ ”جناب عالی! جس مختصر سے گھر میں مسائل اور مصائب کا میلا لگا ہو وہاں دو سالہ ایک معصوم بچی کی کیا خاک تعلیم و تربیت ہو سکے گی۔ وہ اپنے ماموں کی نشے کی عادت سے کیا سیکھے گی کہ اپنی خالہ کو دماغی دورے کی حالت میں پاکر اس کے معصوم دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور۔ اور جس ماں کا یہ مطالبہ ہے کہ ننھی عائشہ کو اس کی تحویل میں دیا جائے اس کے پاس تو اپنے بال سنوارنے کی فرصت نہیں، وہ اپنی بچی کا کیا خیال رکھے گی اور اس کی نگہداشت کب کرے گی، اسے تو ایک گھر میں دو مریضوں کو سنبھالنا ہے جو مے والدین کی بھی دیکھ بھال کرنا ہے اور اس گھر کی معاشی گاڑی کو چلانے کے لیے آٹھ گھنٹے کی ایک جاب بھی کرنا ہے۔“ لملاتی توقف کے بعد میں نے ایک گہری سانس لی پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔ ”جناب عالی! حالات و واقعات کی روشنی میں اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مائنر یعنی عائشہ کو اس کے درخشندہ حال اور تاباناک مستقبل کی خاطر اس کے باپ یعنی میرے موکل فیصل کی تحویل میں دیا جائے۔ ویش آل یور آنر!“
اس کے ساتھ ہی عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں :: بازی گری – (مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ)

​آئندہ و ہی مختصر سی کارروائی کے بعد عائشہ کو اس کے باپ فیصل کی تحویل میں دینے کے احکامات صادر کر دیے گئے۔
میں نے پہلی پیشی پر اپنے دلائل کی طاقت سے معزز عدالت کو یہ باور کرا دیا تھا کہ ننھی عائشہ کا مستقبل صرف اور صرف میرے موکل فیصل ہی کے پاس محفوظ رہ سکتا ہے لہٰذا انصاف کا تقاضا بھی تھا کہ اس کیس کا فیصلہ فیصل کے حق میں صادر ہوہوا بھی ایسا ہی تھا۔
اس روز اس کیس سے متعلق تمام افراد عدالت کے کمرے میں موجود تھے۔ فیصل کو اس جیت پر بے حاشا خوشی دُرہم دکھائی دینا چاہیے تھا لیکن جب وہ مجھے اپنی سنجیدہ نظر آیا تو میں چونک اٹھا۔
”کیا بات ہے فیصل۔“ میں نے اس کے پاس جا کر کہا۔ ”تمہیں کیس جیتنے کی خوشی نہیں​ہوئی۔؟“
”یقیناً بہت خوش ہوں۔“ وہ بدستور سنجیدہ لہجے میں بولا۔ مگر میرے چہرے کو دیکھنے ہوئے اندیشہ کیا۔ ”بیگ صاحب! میں جج صاحب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“
میں چند لمحات تک سوچتی ہوئی نظر سے اسے گھورتا، پھر اس کی خواہش کو سچ ہمک مائل دیا۔
فیصل وٹنس باکس میں آ کر کھڑا ہوا۔ جج سمیت عدالت میں موجود ہر شخص کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ چند لمحات تک وہ ہند نب نظر سے ادھر ادھر دیکھتا رہا پھر نہایت ہی ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
”سر! اوں اس کا حاطب جج تھا، میں ایک انسان ہوں اور میرے سینے میں ایک انسانی دل ہے جس میں زیادہ نہ سہی مگر تھوڑی بہت انسانیت ضرور پائی جاتی ہے اور اسی انسانیت نے مجھے زبان کھولنے پر مجبور کیا ہے“ وہ رکا تھوک نگل کر غص کو تزکیا پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
”یہ ایک ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے کہ اب سفینہ میری بیوی نہیں رہی، لیکن اس سے بھی بڑی اور اہم ایک حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی عائشہ کی ماں ہے۔ خدا کے بعد اس دنیا میں کسی بھی بچے کے لیے سب سے اہم رشتہ اس کی ماں کا ہوتا ہے۔ ایک معصوم دو سالہ ننھی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر دینا میری نظر میں کائنات کا سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہو گا“
”لیکن“ جج نے بے حد تعجب سے فیصل کی طرف دیکھا۔ ”مسٹر فیصل! چائلڈ کسٹڈی کا کیس آپ کی طرف سے دائر کیا گیا تھا اور اس کیس کا فیصلہ بھی آپ کے حق میں ہو چکا ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ بچی کو اس کی ماں سے جدا کرنا ناانصافی ہو گی؟“
”جیمیرا یہی مطلب ہے۔“ وہ سانوئی سے بولا۔ ”اور اس سلسلے میں میرے ذہن میں ایک تجویز ہے۔“
”کیسی تجویز۔۔۔۔؟“ جج نے پوچھا۔
”یہ ٹھیک ہے کہ اس کیس کا فیصلہ میرے حق میں ہوا ہے۔“ وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ ”اور میں اپنی بچی کو اپنی تحویل میں رکھنے کا حق رکھتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ عائشہ ایک ماہ میرے پاس رہے اور ایک ماہ اپنی ماں کے پاس تا کہ اسے ماں اور باپ دونوں کی محبت ​اور شفقت ملتی رہے۔ جب یہ بچی سنِ شعور کو پہنچے تو یہ فیصلہ اسی پر چھوڑ دیا جائے کہ آگے چل کر اسے ماں کے ساتھ رہنا ہے یا باپ کے ساتھ عائشہ جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے منظور ہو گا۔“
”واہ واہ۔۔۔۔ سبحان اللہ!۔۔۔۔“ عدالت کے کمرے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔
ہر شخص فیصل کے تجویز نما فیصلے کی تعریف کر رہا تھا۔ وہ بڑا جذباتی منظر تھا۔ سفینہ کی حالت دیدنی تھی۔ وہ بار بار عائشہ اور فیصل کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں میں اُن لمحات میں صرف ایک ہی پچھتاوا تھا۔
”کاش! میں نے اتنے عظیم انسان کو نہ کھویا ہوتا کاش!“
”کاش!“ ایک ایسا لفظ ہے کہ جس کے بعد کہنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔ سفینہ بھی اس وقت تہی دست و تہی داماں نظر آ رہی تھی۔
ختم شد