Suspense urdu short stories

باپ بیٹی – انسپکٹر نواز خان

باپ اور بیٹی کی محبت ایک انمول محبت ہے۔ اس محبت کی جو شدت میں نے ریٹا اور اُس کے ڈیڈی میں دیکھی، کہیں نہیں تھی۔ میں اس عیسائی فیملی کو اچھی طرح جانتا تھا۔ امرتسر میں میری رہائش کے قریب ہی ان لوگوں کی کوٹھی تھی۔ ریٹا کے والد ڈیوڈ جیکسن ایک پیریل کے مالک تھے۔ جوانی میں اُن کا کاروبار زوروں پر تھا۔ لاکھوں میں کھیلتے تھے۔ پھر بیوی مرگئی۔ کاروبار سے اُن کا دل اچاٹ ہو گیا۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اور محبت کا مرکز کم من ریٹا کو بنالیا۔ انہوں نے ماں بن کر اُس کی پرورش کی اور زندگی میں اُسے کوئی کمی نہیں ہونے دی، اب ریٹا ایک اٹھارہ سالہ خوبرو دوشیزہ تھی۔ ڈیوڈ جیکسن کا کاروبار ختم ہو چکا تھا۔ مگر اب بھی اُن کے پاس اتنی دولت تھی کہ نہ صرف ریٹا بلکہ اس کے ہونے والے بچے بھی آرام و آسائش کی زندگی گزار سکتے تھے۔
میرے سرکاری کوارٹر سے کوئی دو ڈھائی فرلانگ دور کشادہ سڑک پر اُن کی شاندار دو منزلہ کوٹھی تھی ۔ اس کوٹھی میں ڈیوڈ صاحب اپنے بوڑھے ہند و ملازم گنگو، بیٹی ریٹا اور ایک سفید کتے کے ساتھ خاموشی اور سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ جب میں اُن کی کوٹھی کے سامنے سے گزرتا تو کبھی کبھار اندر سے پیانو بجنے کی خوبصورت آواز آتی۔ مجھے معلوم تھا یہ پیانو ڈیوڈ صاحب کی بیٹی بجاتی ہے اور وہ گھنٹوں بیٹھ کر سنتے رہتے ہیں۔ فارغ وقت میں یہ ڈیوڈ صاحب کا محبوب مشغلہ تھا۔ یہ ستمبر 1942ء کا واقعہ ہے۔ شاید ستمبر کا آخری ہفتہ تھا۔ رات کے کوئی دس بجے تھے۔ میرا نیا اے ایس آئی مشتاق چوہدری کمرے میں داخل ہوا۔ وہ اُس رات معمول کے گشت کر تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ باغ را مانند سے اُس نے ایک مشکوک لڑکی پکڑی ہے۔ شاید گھر سے بھاگی ہوئی ہے۔ میں اے ایس آئی کے ساتھ دوسرے کمرے میں پہنچا۔ وہاں ریٹا کھڑی تھی۔ اُس نے اسکرٹ پہن رکھا تھا۔ پاؤں میں جرابیں تھیں اور وہ خاصی پریشان نظر آرہی تھی۔
میں نے حیران ہو کر اے ایس آئی سے کہا۔ ”ارے بھئی ، یہ تو اپنے ڈیوڈ صاحب کی صاحبزادی ہے۔ تم نے کہاں سے دھر لیا ؟“
اب ریٹا کی آنکھوں میں با قاعدہ آنسو تیر رہے تھے۔ اُس نے کہا ۔ انکل، آپ کا یہ اے ایس آئی نرا جانور ہے۔ بالکل تمیز نہیں ہے اسے۔ میں نے بہت کہا لیکن زبردستی مجھے لے آیا۔ اس معاملے پر میرا حیران ہونا لازمی تھا۔ میں نے اے ایس آئی کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر ریٹا کو کرسی پر بٹھایا اور جیب سے رومال نکال کر دیا تا کہ وہ آنسو پونچھ سکے ۔ وہ ذرا پر سکون ہوئی تو میں نے کہا۔
ہاں اب بتاؤ، کیا بات ہے۔ اتنی رات گئے تم باغ میں کیا کر رہی تھی؟“ ریٹا کی اور میری عمر میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا لیکن میں اُس کے والد کا دوست بھی تھا لہذا وہ مجھے انکل ہی کہتی تھی ۔ کہنے لگی ۔ انکل ہم کالج کی کچھ سہیلیوں نے فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا تھا۔ٹکٹ نہیں ملے اس لیے مجبور نو سے بارہ کا شود یکھنے کا فیصلہ کیا۔ پروگرام کے مطابق میں ساڑھے آٹھ بجے باغ میں پہنچ گئی، لیکن اُن میں سے کوئی بھی نہیں آئی۔ میں نے ساڑھے نو بجے تک ویٹ“ کیا اور پھر واپس آنے ہی والی تھی کہ آپ کے مہاشے اے ایس آئی صاحب پہنچ گئے اور کہنے لگے۔
یہاں بینچ پر بیٹھی کیا کر رہی ہو چلو تھا نے ” میں نے بہت سمجھایا لیکن وہ تو کسی کو پہچانتاہی نہیں ۔“
میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔ ”سوری ریٹا۔ نیا آیا ہے ورنہ تمہیں پریشانی نہ ہوتی۔ میں ابھی اُس سے کہتا ہوں کہ تم سے معذرت کرے۔“
وہ بولی ۔ بس انکل … معذرت کی ضرورت نہیں، میں فورا گھر جانا چاہتی ہوں ۔ پاپا جانی بہت پریشان ہوں گے۔“
میں نے کہا ۔ کہو تو میں چھوڑ آتا ہوں۔“
وہ جلدی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔ اونو میں خود چلی جاؤں گی۔“
کہنے پر اے ایس آئی ایک آٹو رکشا لے آیا اور ریٹا اُس پر بیٹھ کر چلی گئی لیکن میں شک میں مبتلا ہو گیا۔ اُس کی کہی ہوئی بات پر مجھے کچھ یقین نہیں آرہا یوں دوستو کا مل کر رات کو آخری شو د یکھنا کوئی معمولی بات نہیں تھی اور اگر فرضِ محال ایسا تھا بھی تو ، پھر اس کی سہیلیاں پہنچی کیوں نہیں تھیں ۔ ساری نہیں ایک آدھ سہیلی تو آتی ہو اے ایس آئی کا کہناتھا کہ جب اس نے دیکھا تو ریٹا اکیلی تھی۔ باغ قریب خالی ہو رہا تھا اور ایک دو آوارہ لڑ کے بھی اُس کے آجو با جوگھوم رہے تھے ۔ مجھے شک گزرا کہ وہ سی ہے ”محبت“ وغیرہ کے چکر میں پڑگئی ہے۔ شاید وہاں بیٹھی اپنے بوائے فرینڈ کا انتظار کرہی تھی۔ ویسے کرسچین ہونے کے باوجود ریٹا زیادہ آزاد خیال لڑکی نہیں تھی۔ میں اُسے دو تین سال سے اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ ایک ذہین، لائق اور پختہ ذہن کی مالک طالبہ تھی۔ حال ہی میں اس نے بڑے اچھے نمبروں سے انٹر کیا تھا اور اب پرائیویٹ طور پر بی ایس سی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
کالج میں داخلہ اس لیے نہیں لے سکی تھی کہ انہی دنوں اُس کے والد یعنی ڈیوڈ صاحب سخت بیمار ہو گئے تھے۔ انہیں معدے کا السر تھا وہ ہسپتال داخل ہوئے۔ وہاں اُن کے دو آپریشن ہوئے اور وہ کوئی ڈھائی ماہ بستر تک محدود رہے ۔ ریٹا کا کردار اور خاص طور پر باپ سے اُس کا والہانہ پیار دیکھتے ہوئے مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کسی ایسے چکر میں پڑسکتی ہے لیکن کچھ بھی تھا بہر حال وہ جوان تھی اور جوانی کے اُس مرحلے میں تھی جہاں لڑکی یا لڑکا کتنا بھی پارسا ہوان کے سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے۔
شاید میں ریٹا کے متعلق اس واقعے کو کچھ دن بعد یکسر بھول جاتا لیکن ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ میں نئے سرے سے اس معاملے میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو گیا۔ کوئی دس پندرہ روز بعد کی بات ہے۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ میں کچہری روڈ سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ریٹا پر پڑی۔ وہ ایک بس سے اتر کر تیز قدموں سے فٹ پاتھ پر چلی جارہی تھی ۔ اُس کا انداز مجھے خواہ مخواہ شبے میں ڈالنے لگا۔ میں اُس وقت سادہ لباس میں تھا لہذا اس بات کا خطرہ نہیں تھا کہ ریٹا مجھے فورا دیکھ لے گی۔ میں نے اپنا موٹر سائیکل ایک طرف کھڑا کیا اور کچھ فاصلے سے ریٹا کے پیچھے چل دیا۔ وہ کوئی دو فرلانگ چل کر ایک ایرانی ریستوران کے سامنے رکی۔ یہ ایک فیشن ایبل ریستوران تھا۔ کار پارکنگ میں ایک سُرخ رنگ کی کار کے پاس ایک دراز قد شخص کھڑا تھا۔ اُس کی عمر اٹھائیس میں سال کے قریب تھی ۔ چوڑے شانے ، مضبوط جسم اور سُرخ و سپید رنگت ۔ وہ ایک وجیہہ مرد تھا۔ ریٹا کی طرف دیکھتے ہی وہ مسکرایا۔ پھر دونوں باتیں کرتے ہوئے تیزی سے اندر چلے گئے ۔ اب یقین میں بدل چکا تھا۔ ریٹا عشق و محبت کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی۔ لیکن زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کا بوائے فرینڈ اُس سے کم از کم بارہ سال بڑا تھا۔ میں نے قریب سے گزرتے ہوئے سُرخ رنگ کی گاڑی کا جائزہ لیا۔ وہ ایک ڈاکٹر کی گاڑی تھی ۔ اُس کا سفید گون اور اسٹیتھ سکوپ پچھلی سیٹ پر پڑا تھا۔ میں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کیا اور تھا نے واپس آ گیا۔
مجھے مسٹر ڈیوڈ سے دلی ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔ اُن کی کل کائنات ریٹا ہی تھی اور ریٹا جو راستہ اختیار کر رہی تھی وہ کسی طرح پسندیدہ نہیں تھا۔ میں نے رجسٹریشن آفس فون کیا اور گاڑی کا نمبر دے کر انہیں مالک کا نام و پتہ معلوم کرنے کی ہدایت کی۔ اگلے روز مجھے سُرخ کار والے شخص کے تمام کوائف معلوم ہو گئے ۔ وہ شہر کا ایک معروف ڈاکٹر تھا۔ میں نے پہلے بھی اُس کا نام سن رکھا تھا۔ اُس کا پورا نا ممکن لال تیواری تھا۔
ڈاکٹر تیواری گورنمنٹ ہسپتال میں انچارج فزیشن تھا۔ اس کے علاوہ اُس کی پریکٹس بھی بہت اچھی چلتی تھی۔ خوب کما رہا تھا اور ابھی مزید ترقی کے امکانات تھے ۔ یہ ڈاکٹر تیواری سے ریٹا کی شناسائی کیسے ہوئی ؟ اچانک میرا ذہن ڈیوڈ جیکسن کی بیماری کی طرف چلا گیا۔ ڈیوڈ جیکسن بیمار ہو کر اسی ہسپتال میں داخل ہوئے تھے ۔ پلک جھپکتے ہی ساری بات میری سمجھ میں آگئی۔ یقینا یہ معاملہ اُس ہسپتال سے شروع ہوا تھا۔ ڈیوڈ جیکسن پورے ڈھائی مہینے اسپتال رہے تھے اور اس دوران زیادہ تر ریٹا ہی اُن کے بستر کے پاس نظر آتی تھی ۔ غالباً یہ ڈاکٹر بطور انچارج فزیشن وہاں آتے جاتے تھے اور اس آمدروفت میں وہ ریٹا کی طرف یا ریٹا ان کی طرف یا دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہو گئے ۔ معاملہ مخدوش تھا۔ ڈاکٹر کی عمر تانی تھی کہ وہ شادی شدہ ہو گا۔ اس کے علاوہ وہ دوسرے مذہب کا تھا۔ ریٹا کے ساتھ اُس کا میل جول کسی طور مناسب نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ بات بگڑنے سے پہلے مجھے اپنے طور پر ریٹا کو سمجھانا چاہیے۔
ایک روز میں مسٹر ڈیوڈ سے ملنے اُن کے گھر جا پہنچا اس وقت سہ پہر کے ڈھائی بجے تھے۔ مجھے معلوم تھا ڈیوڈ صاحب لنچ کے بعد اور ڈاکٹر کی ہدایت کے باوجود شیری کا ایک آدھ نام چڑھا کر گہری نیند سور ہے ہوں گے ۔ اور میں چاہتا بھی یہی تھا۔ میں اندر پہنچا تو ریٹا نے میرا استقبال کیا۔ وہ ڈھیلے ڈھالے لباس میں بال کھولے بڑی دلکش نظر آ رہی تھی ۔ ۔ میرے پوچھنے پر ریٹا نے بتایا کہ پاپا آرام کر رہے ہیں ہے میں انہیں جگا دیتی ہوں ۔ وہ برآمدے کی طرف بڑھی تو میں نے اُسے روک لیا۔ ملازم گنگو نے ہمارے لیے لان ہی میں کرسیاں ڈال دیں اور خود چائے بنانے چھو گیا۔
چند رسمی باتوں کے بعد میں جلد ہی اصل موضوع پر آ گیا۔ میں نے ڈھکے چھے انھوں میں رینا کو بتا دیا کہ میں اس کی مصروفیات سے آگاہ ہو چکا ہوں ۔ اُس کے ہونٹ خشک ہو گئے اور آنکھوں میں پریشانی کروٹیں لینے لگی ۔ میں نے کہا ۔ دیکھو بیٹا! تم مجھے انکل کہتی ہو۔ مجھے بڑا مانتی ہو ناں؟“ اس نے ساری سے اقرار میں سر ہلایا۔ میں نے کہا۔ یہ راستہ جو تم نے اختیار کیا ہے وہ ٹھیک نہیں ۔ اس میں سوائے بدنامی اور جگ ہنسائی کے کچھ تمہارے حصے آنے والا نہیں۔ ذرا سوچو تمہارے پاپا جانی بیمار ہیں۔ جب انہیں پتہ چلے گا کہ ان کی لاڈلی بیٹی اُن کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر یہ کیان کھیل رہی ہے تو اُن کے دل پر کیا گزرے گی۔ میں سمجھتا ہوں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا تم اس راستے سے با آسانی واپس آسکتی ہو ۔ کوئی ایسا راستہ اپناؤ جس میں تمہاری عزت بڑھے اور تمہارے پاپا جانی کا نام بھی روشن ہو۔ انہیں تم سے بڑی امید میں ہیں۔ اس طرح اُن کی آرزوؤں کو خاک میں نہ ملاؤ ریٹا خاموشی سے میری باتیں سنتی رہی۔ پھر چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سیکیوں سے رونے لگی۔ اُس کے سینے میں جیسے طوفان مچل رہے تھے ۔ اس دوران گنگو چائے لے آیا۔ ریٹا نے جلدی جلدی آنسو پونچھ کر چائے بنائی اور خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
گنگو چلا گیا تو میں نے ریٹا سے پوچھا۔ کیا میں امید رکھوں کہ تم میری باتوں پر غور کرو گی ؟“
ریٹا بے دردی سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹ رہی تھی ۔ شاید اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے سوال کا کیا جواب دے۔ وہ زبر دست الجھن کا شکار نظر آتی تھی۔ دفعہ برآمدے میں کال بیل کی آواز گونجی۔ گنگو بھاگ کر گیا اور ایک سانولے سے درمیانے قد کے نوجوان کو لے کر اندر آ گیا۔ نوجوان نے چیک دار بوشرٹ اور سفید پتلون پہن رکھی تھی۔ آنکھوں پر سیاہ چشمہ تھا جو اس نے اندر داخل ہوتے ہی اتار لیا تھا۔ وہ بنگال کا رہنے والا نہ تھا۔ اُسے دیکھتے ہی ریٹا بری طرح چونک گئی۔ جلدی سے کھڑی ہوکر بولی۔ آئیے بابوجی ، کیسے آنا ہوا ؟“ مابو بھائی نے ایک نگاہ غلط مجھ پر ڈالی۔ پھر بولا ۔ تمہیں بلایا ہے سخت پریشان ہیں۔باہر بھی نہیں گئے ۔“
جانے ریٹا نے اُسے کیا اشارہ کیا۔ وہ اچانک خاموش ہو گیا۔ ریٹا اُسے لے کر ایک طرف چلی گئی ۔ دونوں مدھم لہجے میں کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ پھر ریٹا میری طرف آئی۔ کہنے لگی ۔ انکل مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ میں پاپا جانی کو جگا دیتی ہوں ۔ آپ اُن کے پاس بیٹھیں ۔“
میں اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے بولا ۔ ”نہیں بھئی ! اب میں بھی جارہا ہوں ۔ ایک دو دن میں پھر آؤں گا۔ میری طرف سے اُن کی خیریت دریافت کرنا ۔“
تھینک یو انکل ۔ ریٹا نے افراتفری میں کہا۔ وہ میرے ساتھ گیٹ تک آئی۔ جو نہی میں نے اپنے کوارٹر کا رخ کیا وہ بنگالی بابو کے ساتھ ایک سفید کار میں بیٹھ کر روانہ ہوگئی۔ ریٹا نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا لیکن نو وارد شخص کی گفتگو سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ ریٹا کے لیے ڈاکٹر تیواری کا پیغام لے کر آیا ہے اور اب ریٹا اُس کی طرف گئی ہے۔ پیغام لانے والے اس مشخص کو میں پہلے بھی کہیں دیکھ چکا تھا۔ شاید ہسپتال میں مسٹر ڈیوڈ کے بستر کے پاس۔ یہ شخص پہلی نظر میں مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب طرح کی مکاری تھی اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔
چوتھے پانچویں روز مجھے تھانے کے پتے پر ایک رجسٹر ڈ خط ملا۔ عموماً گمنام مخبرا ایسے خط بھجتے ہیں۔ میں نے لفافہ چاک کیا تو یہ ریٹا کا خط نکالا۔ تین چار صفحات پر مشتمل اس خط میں کہیں بھی ریٹا کا نام نہیں تھا تا ہم صاف ظاہر تھا کہ یہ ریٹاہی کی تحریر ہے۔ اُس نے لکھا تھا۔ “انکل! مجھے افسوس ہے پرسوں میں آپ کے سوالوں کا صحیح جواب نہ دے سکی۔ میں اپنے رویے پر شرمندہ ہوں اور اُن باتوں پر بھی شرمندہ ہوں جواب آپ سے کرنے جا رہی ہوں۔ پتہ نہیں مجھے ایسی باتیں آپ کو لکھنی چاہئیں یا نہیں لیکن کیا کروں کوئی ایسا ہمدرد بھی تو نظر نہیں آتا۔ جس سے دل کا حال بیان کرسکوں اور جو مجھے کوئی صحیح مشورہ دے سکے۔ ایک دوست انکل کی حیثیت سے میں سب کچھ آپ کو بتا دینا چاہتی ہوں۔ انکل میں نے ڈاکٹر تیواری کو سب پہلے پاپا جانی کے سرہانے اُن سے باتیں کرتے دیکھا تھا۔ میں اُن کی شخصیت سے بے حد متاثر بلکہ مرعوب ہوئی ۔ آنے والے دنوں میں پسندیدگی کا یہ احساس بڑھتا گیا لیکن یہ احساس صرف پسندیدگی تک ہی محدود تھا۔ پھر پاپا جانی کا پہلا آپریشن ہوا۔ بھاگ دوڑ کے اُن دنوں میں ڈاکٹر تیواری نے ہر طرح ہماری کر اپنے خلوص سے ہم لوگوں کے دل جیت لیے۔ اُن دنوں ہماری پریشانی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کیا کریں۔ کچھ عزیزوں کا خیال تھا کہ یہاں علاج ٹھیک نہیں ہورہا۔
پاپا جانی کو دوسرے ہسپتال شفٹ کیا جائے ۔ کچھ کا خیال تھا کہ بیرون ملک لے جایا جائے ۔ کچھ کہتے تھے کہ آپریشن کی ضرورت ہی نہیں۔ گھر میں چار دن کھا پی کر بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ پریشانی اور کشمکش کے اُس دور میں ڈاکٹر تیواری نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا۔ اپنے گھر کے ذاتی فرد کی طرح پاپا کی دیکھ بھال کی ہم دونوں بتدریج ایک دوسرے کے قریب آگئے یہاں میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہوں مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ کب میرے دل میں تیواری صاحب کے لیے جگہ پیدا ہوگئی ہے۔ جان پہچان تو ہو ہی چکی تھی ۔ اب دوستی کا آغاز ہوا۔ اور یہ دوستی تھوڑے ہی دنوں میں محبت میں بدل گئی۔
پاپا جانی ہسپتال سے فارغ ہو گئے لیکن ڈاکٹر تیواری سے اُن کا دل کچھ ایسا لگا کہ انہوں نے انہیں اپنا مستقل فیملی ڈاکٹر بنالیا۔ ڈاکٹر تیواری وقتاً فوقتاً ہمارے گھر آنے لگے۔ ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن اظہار تک نوبت نہیں آئی تھی اور شاید کبھی نہ آتی۔ کیونکہ تیواری اس قدر شریف النفس ہیں کہ شاید آپ گمان بھی نہیں کر سکتے ۔ اُن کی شائستگی اُن کے جذبے پر ہر وقت حاوی رہتی ہے۔ ایک روز بابو بھائی کی زبانی مجھے پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کی ٹرانسفر ہو رہی ہے۔ شاید آپ بابو بھائی کے بارے میں نہیں جانتے۔ بابو بھائی ڈاکٹر تیواری کے عزیز ترین دوست ہیں اور اسی ہسپتال میں اکاؤنٹس کے شعبے میں ہیں۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر تیواری اپنی ڈیوٹی سے بہت لا پرواہی برت رہے ہیں اور ہفتوں تک ہسپتال کا رخ نہیں کرتے ۔ اُن کی پریکٹس بھی دن بدن کم ہوتی جارہی ہے۔ سگریٹ نوشی کے علاوہ شراب نوشی بھی شروع کردی ہے اور ان تمام مشکلات کی وجہ میں ہوں۔ میں بابو بھائی کی اس بات پر حیران رہ گئی ۔ بابو بھائی نے کہا۔
ریٹا! تم اور صرف تم تیواری کو اس دلدل سے نکال سکتی ہو۔ میں اُس کا دوست ہوں۔ اُس کے دل میں جھانک سکتا ہوں وہ تمہاری محبت میں گرفتار ہے تمہیں چاہتا ہے۔ اس کی چاہت کی وجہ یہ ہے کہ اسکی زندگی میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ اُس کی بیوی ہرگز اُس کے لائق نہیں۔ وہ ایک مغرور اور بدمزاج عورت ہے۔ وہ تیواری کو گھریلو سکون دے سکتی ہے اور نہ ہی ذہنی خوشی ۔ وہ بیوی بچوں میں رہ کر بھی تنہا ہے۔ ازدواجی زندگی کی سچی خوشی سے کوسوں دور ہے۔ اگر تم اُسے سہارا دو تو اُس کی ڈانواں ڈول زندگی بچ سکتی ہے ور نہ آج کا معروف ڈاکٹر کل کا بے کار انسان بن جائے گا اور شاید آئندہ سالوں میں کسی کو اُس کا نام بھی یاد نہ رہے۔“
بابو بھائی کے کہنے پر میں خود ڈاکٹر تیواری کو دیکھنے گئی جو کچھ سنا تھا وہ درست تھا۔ اُن کی حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل آئے ۔ میں نے اُسی وقت اپنے دل سے عہد کر لیا کہ آج کے بعد کم از کم میری طرف سے ڈاکٹر تیواری کو کوئی دکھ نہ پہنچے گا۔ میں دیر تک اُن کے پاس بیٹھی باتیں کرتی رہی اور جب وہاں سے اٹھی تو ، میں سمجھتی ہوں اُن کی زندگی کا رخ بدل چکا تھا۔ بلکہ ہم دونوں کی زندگی کا رخ بدل چکا تھا۔
انکل! میں اعتراف کرتی ہوں کہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر تیواری سے ملتی رہتی ہوں ۔ کبھی کبھار وہ پاپا جانی کو دیکھنے آجاتے ہیں … میں جانتی ہوں کہ میرے لیے یہ سب کچھ نقصان دہ ہے، لیکن گاڈ جانتا ہے. میرے بس میں اب کچھ نہیں رہا۔ انکل جب میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں ڈاکٹر تیواری سے محبت کرتی ہوں۔ اتنی زیادہ کہ اب میرا دل کوئی رکاوٹ قبول نہیں کرتا نہ کوئی نقصان مجھے ڈراتا ہے اور نہ کوئی نصیحت مجھ پر اثر کرتی ہے۔
انکل! میں آپ سے معافی مانگتی ہوں جن کا دل کسی نہ کسی طرح میں توڑ رہی ہوں اور جن کی توقعات پر میں پوری نہیں اتر رہی۔ امید ہے میری مجبوری سمجھ کر آپ مجھے معاف کر دیں گے ۔“ ریٹا کے اس خط نے صورتِ حال بہت حد تک واضح کر دی۔ ڈاکٹر تیواری واقعی ایک پرکشش اور وجیہ آدمی تھا۔ ایسے لوگوں کے لیے صف نازک کے دل میں گھر کرنا چنداں مشکل نہیں ہوتا لیکن اپنے تیر نظر کے لیے اُس نے جو شکار منتخب کیا تھا وہ کسی طور مناسب نہیں بیس برس کی ایک ادھ کھلی کلی جس کی آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خواب تھے ۔ زندگی کے میدان میں کئی معر کے سر کرنے تھے اور جو ایک بوڑھے باپ کی
واحد محبت تھی.بہر حال اس خط سے مجھے یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ مسٹر ڈیوڈ اس معاملے سے بالکا بے خبر نہیں ہیں۔ اُن جیسا جہاندیدہ آدمی بے خبر رہ بھی نہیں سکتا تھا۔ یقینا یہ ریٹا سے ان ک شدید اور غیر مشروط محبت تھی جو انہیں چپ رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ایک طرح سے یہ اس عیسائی فیملی کا ذاتی معاملہ بن جاتا تھا اور کسی طرح بھی قابل دست اندازی پولیس نہیں تھا۔ میں نے اس بارے میں ایک روز مسٹر ڈیوڈ سے سرسری سی بات کی لیکن جب اندازہ ہوا کہ دہ اس موضوع کو چھیڑ نانہیں چاہتے تو مکمل خاموشی اختیار کر لی۔
مجھے اس معاملے سے کہیں زیادہ ضروری معاملات در پیش تھے لہذا میرا دھیان پھر کئی ہفتوں تک ریٹا اور مسٹر ڈیوڈ کی طرف نہیں گیا۔ ہاں کبھی کبھار اُڑتی ہوئی سی بات کانوں میں ضرور پڑ جاتی تھی۔ سیکنڈل خوبصورت لڑکی کا ہو تو افواہوں کو عقاب کے پر لگ جاتے ہیں۔ ایسی ہی تیز رفتار افواہیں چاروں طرف گردش کرتی پھرتی تھیں۔ بے ہودہ افسانے گھڑے اور سنائے جارہے تھے ۔ ایک روز میرے ایک حوالدار نے بتایا کہ اُس نے خود اپنی آنکھوں سے ڈاکٹر تیواری کی سُرخ کار ریلوے لائن کے پار درختوں میں کھڑی دیکھی ہے۔ اُس میں تیواری اور ریٹا موجود تھے ۔ جب کچھ لڑ کے کار کی طرف گئے تو تیواری کار چلا کر لے گیا۔ چند دن بعد میرے ایک مخبر نے بتایا کہ اُس نے آدھی رات کے وقت تیواری صاحب کو دیکھا وہ ریٹا کو سہارا دے کر اپنی کار سے باہر نکال رہے تھے ۔ پھر وہ اُسے سہارا دے کر اُس کے گیٹ تک چھوڑ گئے ۔ ریٹا سے چلا نہیں جار ہا تھا وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہی تھی۔ ایسی ہی بے شمار الٹ پلٹ باتیں سننے میں آ رہی تھیں۔ وہ برسات کے دن تھے ایک روز میں دوستی کے رشتے سے مجبور ہوکر مسٹر ڈیوڈ کے گھر پہنچا۔
انہوں نے حسب معمول بستر پر لیٹے لیٹے نہایت خندہ پیشانی سے میرا استقبال کیا۔ میری نگاہیں شرمندگی سے جھکی ہوئی تھیں لیکن اُن کے چہرے پر خجالت کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔ نہ ہی اُن کے لہجے سے کسی پشیمانی کا پتہ چلتا تھا۔ کوئی اور انہیں اس حالت میں دیکھتا تو سمجھتا کہ وہ بالکل نارمل ہیں اور اپنے افسوس ناک حالات پر انہیں کسی قسم کا دکھ نہیں لیکن میں انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔ مجھے معلوم تھا وہ بہت گہرے انسان ہیں۔ اُن کے دل میں سمندر بھی ہوتا ہے تو آنکھوں میں قطرہ نہیں آتا تھا۔ انہوں نے حسب معمول ریٹا کو آواز دی
ریٹو، دیکھو یہ کون آیا ہے؟“
اُن کی آواز سن کر ریٹا ایک نیپکین سے ہاتھ صاف کرتی دروازے پر نمودار ہوئی ۔ مجھے دیکھ کر ایک لمحے کوٹھٹکی۔ پھر ”ہیلو انکل“ کہہ کر مسکراتی ہوئی ہمارے پاس بیٹھ گئی ۔ وہ شاید باورچی خانے میں مصروف تھی۔ ماتھے پر پسینہ تھا اور ہاتھوں پر سفیدہ لگا ہوا تھا۔ ڈیوڈ صاحب چاہتے تو ایک چھوڑ دس نو کر رکھ سکتے تھے لیکن گنگو کے سوا اُن کے گھر میں کبھی کوئی ملازم نہیں آیا۔ اس کی وجہ ریٹا ہی تھی ۔ وہ گھر کا سارا کام اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی ۔ خاص طور پر اپنے پاپا جانی کے کسی کام کو تو وہ دوسرے کا ہاتھ نہیں لگنے دیتی تھی ۔ کھانے پینے سے لے کر اُن کے اوڑھنے بچھونے اور پہنے اتارنے تک وہ ہر کام خود بخود انجام دیتی تھی ۔ شدید بیماری کی حالت میں میں نے اُسے ڈیوڈ صاحب کو بول براز کراتے تک دیکھا تھا۔ کوئی بیٹی اپنے باپ کے اتنا قریب کب ہوگی؟ اس وقت بھی وہ گھر کے کام کاج سے ہلکان ہورہی تھی ۔ ڈیوڈ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ریٹو ! ان کو کولڈ ڈرنک پلاؤ ۔ گرم شربت سے تو یہ کوسوں دور بھاگتے ہیں ۔ ورنہ ایک
آدھ جام ہو جاتا۔“ ریٹا مسکراتی ہوئی اٹھی اور باہر چلی گئی۔ میں دیر تک ڈیوڈ صاحب کی خاموش گہری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ آخر میں نے کہا۔ ڈیوڈ صاحب! میرے لیے کوئی خدمت ہو تو تائیں۔“
ڈیوڈ صاحب میرے معنی خیز لہجے کا مقصد سمجھ رہے تھے۔ کہنے لگے۔ نو تھینک یو۔ اٹ از آل رائٹ “ میں نے کہا۔ ڈیوڈ صاحب! یہ پولیس کیس نہیں ہے لیکن ہو بھی سکتا ہے۔ ڈاکٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے سے بارہ سال چھوٹی ایک لڑکی کو ورغلائے اور اُس کے لیے اور اُس کے والدین کے لیے بدنامی کا باعث بنے۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ وہ خود شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔ ڈیوڈ صاحب نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔ ”نواز ڈیئر ! تمہاری ہمدردی کا بہت شکریہ۔ میں تو صرف ایک بات جانتا ہوں ۔ جو میری ریٹو سے دغا کرے گا وہ بھی سزا سے نہیں بچے گا۔ تم نے ریٹا کی آنکھیں دیکھی ہیں؟ وہ گہری نیلی ہیں اور وہ سال کی سب سے چھوٹی رات کو پیدا ہوئی تھی یعنی 22 جون کی رات۔ ہمارے بزرگوں کا عقیدہ رہا ہے کہ 22 نے والا بچہ جس کی آنکھیں نیلی ہوں بڑا قسمت والا ہوتا ہے۔
ریٹو بھی بڑی قسمت والی ہے۔ اس سے دشمنی کرنے والا کوئی بد قسمت ہی ہو سکتا ہے۔“ مجھے معلوم تھا ڈیوڈ صاحب کبھی کبھی مذہبی اور روایتی باتیں بھی کرتے ہیں۔ میں نے کہا۔ ” آپ کا عقیدہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ڈیوڈ صاحب یہ ایک کمزور لڑکی کا معاملہ ہے۔ اُسے ہماری مدد اور مشوروں کی ضرورت ہے… اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتا ریٹا ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوئی اور ہم خاموش ہو گئے۔ پھر جتنی دیر میں وہاں رہا بس رہی باتیں ہوتی رہیں ۔ ان باتوں کے دوران میں نے محسوس کیا کہ بے شک ڈیوڈ صاحب اور ریٹا کے چہروں سے کوئی الجھن ظاہر نہیں ہوئی مگر دلوں کی آب و ہوا بدلی بدلی تھی۔ باپ بیٹی کا بے مثال رشتہ اپنی جگہ قائم و دائم تھا لیکن اس رشتے کے شیشے پر کوئی دھندی ضرور چھائی ہوئی تھی۔ میں مسٹر ڈیوڈ سے مل کر واپس آیا تو دل پر ایک بوجھ سا تھا۔ نگاہوں میں مسٹر ڈیوڈ کا با ہمت اور یہ دبار چہرہ گھوم رہا تھا۔ کیسا عجیب باپ تھا وہ؟ بیٹی کی دی ہوئی ندامت کو بھی اُس کا تحفہ سمجھ کر ماتھے پر سجا رہا تھا۔ اُس کے دیئے ہوئے دکھوں کو اُس کی محبت کا ایک حصہ سمجھ رہا تھا۔
پھر مسٹر ڈیوڈ سے اس ملاقات کو پانچ چھ ہفتے گزر گئے ۔ ایک روز شام کے وقت میں تھانے پہنچا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ میرے اے ایس آئی نے ریسیور اٹھایا اور مجھے بتایا کہ میری کال ہے۔ میں نے ریسیور کان سے لگایا تو دوسری طرف سے مسٹر ڈیوڈ کی گھبرائی ہوئی آواز آئی ۔ ہیلو مسٹر نواز ! اور تھینکس گاڑ۔ خدا کا شکر ہے تم مل گئے مجھے اس وقت تمہاری مدد کی شدید ضرورت ہے پلیز کسی طرح ریٹو کو روکو۔ وہ پستول لے کر گئی ہے۔ وہ کچھ کر بیٹھے گی ۔ فون پر اُن کے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
میں نے کہا ۔ ڈیوڈ صاحب ! آپ مجھے اطمینان سے بتا ئیں ، کیا بات ہے؟“ وہ بولے ۔ ”میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا نواز خان ۔ اس وقت تم اس کو روکو۔ وہ موٹر رکشاپر بیٹھ کر گئی ہے۔ رکشا نمبر 988 ہے ۔ وہ ابھی زیادہ دور نہیں گیا ہے تم موٹر سائیکل پر جاؤ تو پرل ٹاکیز (سینما) کے آس پاس اُسے پکڑ لو گے۔ پلیز جلدی کرو ۔ اُسے ہر صورت میں روکنا ہے۔“
میں نے پوچھا۔ اُسے جانا کہاں ہے؟” وہ جلدی سے بولے ۔ الیگزانڈ را گراؤنڈ “
میں سمجھ گیا کہ وہ ڈاکٹر تیواری کی طرف گئی ہے۔ ڈاکٹر تیواری کا کلینک الیگزانڈرا گراؤنڈ کے پاس ہی تھا۔ میں نے فون بند کیا اور اپنی موٹر سائیکل کی طرف لپکا۔ چند ہی لمحے بعد میں حتی الامکان رفتار سے پرل ٹاکیز کی طرف اُڑا جارہا تھا۔ ذہن میں کئی سوال اُدھم مچا رہے تھے جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ ریٹا پستول لے کر تیواری کی طرف کیوں گئی ہے؟ بر حال اس وقت سب سے اہم مسئلہ ریٹا کو پانے کا تھا۔ موٹر سائیکل سڑک پر اُڑی جارہی تھی اور میری نگاہیں مطلوبہ نمبر کا رکشا ڈھونڈ رہی تھیں ۔ پرل ٹاکیز سے کوئی ایک فرلانگ آگے میں نے رینا کو جالیا۔ موٹر سائیکل رکشے سے آگے لے جاکر میں نے اُسے روکنے کا اشارہ کیا۔ رکشا رک گیا۔ مجھے دیکھ کر ریٹا کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ اس وقت پتلون قمیص میں ملبوس تھی۔ بال کس کر پیچھے باندھے ہوئے تھے۔ وہ رنج والم کی تصویر نظر آتی تھی۔ میں نے تحاکمانہ لہجے میں کیا۔
ریٹا، نیچے اتر و۔ میں تمہیں واپس لے جانے آیا ہوں۔“ وہ زخمی شیرنی کی طرح غرائی ۔ ” انکل ، آپ لوگ میرے راستے سے ہٹ جائیں۔ میں کسی کے روکنے سے نہیں رکوں گی ۔“ اُس کا سنگین لہجہ بتا رہا تھا کہ اُس کے ساتھ کوئی المناک حادثہ ہو چکا ہے اور اب وہ زندگی سے اس قدر بے زار ہے کہ کوئی خطرہ اُس کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ اُس کی سُرخ آنکھوں میں آنسو شعلے کی طرح چمک رہے تھے اور وہ کسی پر جلال دیوی کی طرح خوبصورت مورتی نظر آتی تھی ، لیکن کچھ بھی تھا وہ ایک لڑکی تھی اور میں تھانیدار ۔
وہ مجھ سے جیت نہیں سکتی تھی۔ میں نے پلک جھپکتے میں اندازہ لگا لیا کہ یہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے گا۔ اگر میں اس سے زیادہ تکرار کرتا تو لوگ اکٹھے ہو سکتے تھے۔ اگر ہم دونوں میں کھینچا تانی ہوتی تو بھرے بازار میں تماشا بن جاتا۔ جتنا زیادہ ہنگامہ ہوتا مسٹر ڈیوڈ کی اتنی بدنامی ہوتی۔ پھر اُس کے پاس بھرا ہوا ریوالور بھی تھا۔ طیش کے عالم میں وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ میں نے دو سیکنڈ کے اندر اندر یہ ساری باتیں سوچیں اور لیک کر رکشے میں سوار ہوگیا۔ دوسرے ہی لمحے میں اُسے کسی چڑیا کی طرح اپنے بازوؤں میں دبوچ چکا تھا۔ وہ مچلی اور زور سے چلائی۔
“”انکل چھوڑ دیں مجھے، میں کہتی ہوں … ام کے آخری الفاظ حلق میں گھٹ کر رہ گئے کیونکہ میں نے ایک ہاتھ سے اُس کا منہ دبوچا رکشا والا میری آنکھ کے اشارے پر جست لگا کر اگلی سیٹ پر بیٹھا اور پہلے گیئر میں ہی رفتا کوئی میں میل فی گھنٹہ تک لے گیا۔ مختلف راستوں پر تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے ہم مسٹر ڈیوڈ کی کوٹھی کے سامنے رکے۔
مسٹر ڈیوڈ اُس وقت اپنے بیمار جسم کو گھسیٹتے ہوئے ایک تانگے پر سوار ہورہے تھے۔ ظاہر تھا وہ ریٹا کے پیچھے جارہے ہیں۔ رکشے میں میرے ساتھ ریٹا کو دیکھ کر وہ تیزی سے نیچے اتر آئے۔ گنگو نے لپک کر گیٹ کھول دیا۔ میں رکشا اندر پورچ تک لیتا چلا گیا۔ ریٹا ابھی تک بری طرح مچل رہی تھی اور خود کو چھڑانے کی کوشش میں تھی ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس میں سمجھدار اور پڑھی لکھی لڑکی کو آٹھ دس مہینوں میں یہ کیا ہو گیا ہے۔ ایک سال پہلے کی ریٹا اور آج کی ریٹا میں زمین آسمان کا فرق نظر آرہا تھا۔ میں اُسے تقریباً کندھے پر اٹھا کر اندر لایا۔ جونہی اندر پہنچ کر میں نے اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹایا وہ دہاڑنے لگی ۔ ” مجھے چھوڑ دیں انکل۔ پاپا جانی آپ بھی چھوڑ دیں مجھے۔ میں اُس کو شوٹ کر دوں گی۔ میں اُس کو زندہ نہیں چھوڑوں گی ۔ صاف طور پر سمجھ آرہی تھی کہ اُس کا اشارہ ڈاکٹر مگن لال تیواری کی طرف ہے۔ وہ اس کے خون کی پیاسی ہو رہی تھی۔
آج اُس کی معصوم آنکھوں میں حسین خوابوں کی جگہ شعلے رقص کر رہے تھے۔ مسٹر ڈیوڈ رو ر ہے تھے اور اُسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اُسے ایک ننھی سی گڑیا کی طرح اپنی گود میں لے لینا چاہتے ہیں اور یوں اپنے بازوؤں کے گھیرے میں جکڑنا چاہتے ہیں کہ کوئی زندگی بھر ا سے اُن سے جدا نہ کر سکے مگر وہ گڑیا نہیں تھی۔ ایک بھپری ہوئی لڑکی تھی اور اُن کے بوڑھے باز و کمزور تھے۔ اُن کا بیمار جسم ہانپ رہا تھا وہ بے بسی اور بے چارگی کی مکمل تصویر نظر آرہے تھے۔ میں نے غصے میں بھنا کر رینا کو تھپڑ مارا اور وہ چیختی ہوئی اُس پیانو پر جا گری جو کمرے کے وسط میں رکھا تھا۔ ایک پایہ اُس کے سر میں لگا اور تھوڑا سا خون بہہ نکلا۔ وہ جیسے نڈھال سی ہو گئی۔ میں اُسے کندھے پراٹھ کر اُس کے کمرے میں لے آیا۔ مسہری پر لٹایا تو وہ تکیے میں سر چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رد نے لگی۔ مسٹر ڈیوڈ بے قراری سے مسہری کے چاروں طرف پھر رہے تھے۔ شاید انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بیٹی کا دکھ بانٹے کے لیے کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ میں نے ڈیوڈ صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں لے کر کمرے سے باہر آ گیا۔ میں نے کہا۔ یہ لیجئے ریٹا کا پستول اور بہتر ہے کہ فی الحال اُسے اُس کے حال پر رہنے دیا جائے۔ غصہ اتر گیا تو وہ ہماری بات سنے گی اور اپنی سنائے گی بھی ۔ ابھی کچھ کہنا مت لیکن ایک بات یادر کھیے اُس کے کمرے کو باہر سے کنڈی ضرور لگا دیجئے۔ایسا نہ ہو پھر کوئی مصیبت پڑ جائے اور میں تھانے ہی میں ہوں۔ کوئی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے کال کردیجئے ۔ باقی صبح تفصیل سے بات کریں گے۔
ڈیوڈ صاحب نے ایک صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا۔ ”نہیں نواز خان تھانے مت جاؤ۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ یہیں میرے پاس بیٹھو۔ مجھے اکیلا مت چھوڑو ۔“ ڈیوڈ صاحب کی حالت واقعی قابل رحم تھی ۔ میں نے اُسی کمرے سے تھانے میں اپنے اے ایس آئی کو ٹیلی فون کر دیا کہ میں مسٹر ڈیوڈ کی کوٹھی میں ہوں۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو مجھے رنگ کر لینا۔
ریٹا کے کمرے میں اب خاموشی تھی ۔ میں نے دبے پاؤں جا کر شیشے سے جھانکا۔ وہ نڈھال سی پڑی تھی ۔ آنکھیں بند تھیں۔ میں نے یہ آہستگی کمرے کے دروازے کو باہر سے مقفل کر دیا۔ تب میں ڈیوڈ صاحب کے پاس آبیٹھا۔ گنگو گرم چائے ہمارے سامنے رکھ گیا۔ میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی ڈیوڈ صاحب نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا۔ نواز خان ! وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ ڈاکٹر تیواری غلط آدمی نکلا۔“
میں نے کہا ” غلط سے آپ کا کیا مطلب ہے؟“ ڈیوڈ جیکسن بڑے آزردہ لہجے میں بولے ۔ وہ شیطان ریٹو کے معصوم دل سے کھیلتا رہا اور جب جی بھر گیا تو دوسری عورتوں کے پیچھے بھاگنے لگا۔ وہ کلی کلی منڈلانے والا بھنورا ہے۔
میری ریٹو اُس بدذات کی فطرت نہ سمجھ سکی ۔
میں نے کہا۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“
وہ بولے ۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ ڈاکٹر تیواری اب ریٹو کو اگنور کر رہا ہے۔ وہ اُس کے نازک دل پر اپنی بے رخی کے چر کے لگا رہا ہے۔ میں حالات کا یہ رخ کئی دن پہلے دیکھ چکا تھا۔ اپنے طور پر میں ریٹو کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہوں لیکن وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔ جھوٹی آس اور امید کی ڈوروں سے بندھی ہوئی تھی۔ کل اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اُس نے کالج سے آتے ہوئے ڈاکٹر تیواری کو ایک لڑکی کے ساتھ کار میں جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ آگ بگولہ گھر پہنچی۔ اُس نے بنگالی کو ٹیلی فون کیا۔ وہی بنگالی جسے سب بابو بابو کہتے ہیں۔ جس وقت وہ غصے میں بھری ہوئی بابو کو ٹیلی فون کر رہی تھی۔ میں ساتھ والے کمرے میں موجود تھا۔ ریٹو کا خیال تھا کہ میں سورہا ہوں لیکن میری ریٹو انگاروں پر لوٹ سو سکتا تھا۔ میں جاگ رہا تھا۔ میں نے ریٹو اور بابو کی باتیں سن لیں۔ ریٹو کی کہ آج سہ پہر ڈاکٹر کے ساتھ کار میں جانے والی لڑکی کون تھی ؟ جواب میں بابو اُسے ٹالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر دونوں غصے میں بولنے لگے۔ ریٹو بولی ” میں جانتی ہوں وہ کیا کرتا پھر رہا ہے۔ میں نے بہت باتیں سنی ہیں اور سن رہی ہوں ۔
تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو اچھا نہیں کر رہے ریٹا کی تلخ باتوں کے جواب میں بابو نے شاید اسے کئی برے نام سے پکارا تھا۔ وہ چلا کر بولی ” آوارہ میں نہیں تم ہو ۔ دغا بازی بھی تم لوگوں کے حصے میں آئی ہے ۔ تم نے قدم قدم پر مجھے دھوکا دیا ہے. دوسری طرف بابو نے رابطہ کاٹ دیا تھا۔ ریٹو کچھ دیر خود ہی چیخ چلا کر چپ ہو گئی ۔ آج صبح سے وہ اپنے کمرے میں بند تھی۔ نہ کچھ کھایا پیا تھانہ کسی سے بات کی تھی ۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے. آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہ پستول لے کر غصے میں بھری ہوئی نکلی اور ڈاکٹر تیواری کی طرف روانہ ہوگئی۔ وہ میری بیٹی ہے۔ میں اُس کے چہرے سے بھانپ لیتا ہوں کہ اُس کے ارادے کیا ہیں۔ میں نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔
آخر میں نے تمہیں ٹیلی فون کر دیا ۔“ مجھے ڈاکٹر تیواری پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا اور اس سے بھی زیادہ غصہ اُس بنگالی بابو پر تھا۔ واقعات سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ‘بابو نامی یہ شخص ڈاکٹر کے دست راست کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرح سے ریٹا کو پھنسانے کا کام بھی اُسی نے کیا تھا۔ اُس نے اپنی باتوں سے ریٹا کے دل میں ڈاکٹر کے لیے ہمدردی پیدا کی اور بعد ازاں اُن کے معاملے کو آگے بڑھانے میں ہر طرح کی مدد کی۔ اب یہی بنگالی بابو ریٹا کی بات سننے کا روادار نہیں تھا۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ اس شخص کا مزاج ٹھکانے لگا کر رہوں گا لیکن اس سے پہلے میں ڈاکٹر تیواری سے چند باتیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے ڈیوڈ صاحب سے اپنے ارادوں کا قطعاً ذکر نہیں کیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ وہ مجھے روک دیں گے۔ میں اُن کے پاس بیٹھا ادھر اُدھر کی گفتگو کرتا رہا اور جب ریٹا اپنے کمرے میں گہری نیند سوگئی تو میں ڈیوڈ صاحب کی ڈھارس بندھا کر تھانے واپس آگیا۔
اگلے روز دوپہر کے وقت میں اُس ہسپتال پہنچا جہاں تیواری ملازم تھا۔ اُس کا کمرہ دوسری منزل پرتھا۔ دروازے پر ڈا کٹر گن لال تیواری کے نام کی پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ نام کے نیچے اُس کی ڈگریوں کی فہرست تھی ۔ دہلیز پر ایک چوکیدار چوکس کھڑا تھا۔ میں وردی میں تھا اُسے جرات نہیں ہوئی کہ مجھے دروازہ کھول کردند تا تا ہوا اندر چلا گیا۔ یہ ایک شاندار کمرہ تھا۔ ڈاکٹر تیواری ہاں میز پر بابو ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا اور ٹیلی فون پر کسی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ میز پر ایک دو ڈھائی سال کا بچہ اٹھکیلیوں میں مصروف تھا۔ حالانکہ ہسپتال کے اس حصے میں بچوں کو لانے کی اجازت نہیں تھی لیکن یہ قانون تو بے چارے عام لوگوں کے لی تھا۔ تیواری جیسے ڈاکٹر صاحبان اور اُن کے یاروں دوستوں پر اس قانون کا بھلا کیا اثر ہونا مجھے دیکھ کر بابو ذرا سا گھبرا گیا۔ جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔ شاید وہ ہسپتال کے خرچے پر لبی لبی کالیں کرنے کا عادی تھا۔ میں نے درشت لہجے میں پوچھا۔
ڈاکٹر تیواری کہاں ہے؟“ وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پا کر لا پرواہی سے بولا۔ ‘ بھی مجھے تو پتہ نہیں میں تو کل مدراس سے آیا ہوں ۔ ابھی تک اُن سے ملاقات نہیں ہوئی ۔“ میں نے کہا۔ ” میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔ ضروری کام ہے۔“
وہ رکھائی سے بولا ۔ آپ نے اُن سے وقت لیا ہوا ہے؟“ میں نے کہا۔ پولیس کو وقت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور تم ذرا اپنے لہجے کو درست کر کے بات کرو۔ مجھے لگتا ہے تمہارے دماغ کو کافی خشکی چڑھی ہوئی ہے۔” میرے اس فقرے پر اُس کی اکڑی ہوئی گردن کچھ اور اکثر گئی اور وہ بھینسے کی طرح تھے پھلا کر بولا ۔ ایک تو آپ بغیر اجازت کے اندر گھس آئے ہیں۔ دوسرے تمیز سکھانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کوئی اکیلے ہی تھانیدار نہیں ہیں اس شہر میں، اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت میٹنگ میں ہیں۔ براہ مہربانی آپ باہر تشریف رکھیئے ، جب آئیں گے آپ کو بلا لیا جائے گا۔“
میں نے کہا۔ ابھی تو تم کہہ رہے تھے تمہیں ڈاکٹر کا پتہ نہیں اور اب بتا رہے ہو وہ میٹنگ میں ہیں …..
وہ انگلی اٹھا کر بولا ۔ دیکھیں جی! آپ خواہ مخواہ اپنی وردی کا رعب نہ جھاڑیں۔ ہم کوئی چور لفنگے نہیں ، باعزت گورنمنٹ ملازم ہیں۔ اتنے میں شور سن کر ایک نرس اندر آگئی۔ بابو اس سے بولا۔ ‘سٹر! چوکیدار کو بلاؤ ان صاحب کو ویٹنگ روم میں بٹھائے ، خواہ گواہ دماغ خراب کر رہے ہیں ۔” میرے اندر پہلے ہی لاوا کھول رہا تھا۔ بابو کے فقرے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ میرا جٹاخ کی آواز سے ایک تھپڑر بابو کے گال پر پڑا اور وہ اچھل کر میز پر گرا۔ ۔ نرس چیچنی ہوئی باہر بھاگی۔ اس
پہلے کہ اسپتال کا علملا اندر پہنچتا اور بابو کو چھڑاتا میں تھپڑوں اور مکوں سے اُس کی اچھی تواضع کر چکا تھا۔ لوگوں نے بھینچ تان کر بمشکل ہم دونوں کو علیحدہ کیا۔ بابو کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھ اور وہ کبھی اردو اور کبھی بنگالی میں مجھے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ باہو کے حمائتیوں نے مجھ پر جھپٹنا چاہا لیکن اُس وقت دو سینئر ڈاکٹر وہاں پہنچ گئے۔ اتفاقاً اُن میں سے ایک میرا واقف کار نکلا آیا۔ اُس نے اپنی رعب دار آواز میں ڈانٹ ڈپٹ کر مشتعل افراد کو پ کرایا اور مجھے اپنے ہمراہ اپنے کمرے میں لے آیا۔ کہنے لگا آپ کو ڈاکٹر کے کمرے میں گھس کر مار پیٹ نہیں کرنی چاہیے تھی ۔
خواہ مخواہ مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ یہ لوگ تو ذرا ذرا سی بات پر ہڑتال کر دیتے ہیں ۔“ میں نے کہا۔ اگر آپ قانون کی بات کر رہے ہیں تو قانون مجھے بھی تھوڑا بہت آتا ہے۔ یہ شخص ڈاکٹر کے کمرے میں گھس کر ٹیلی فون کالیں کر رہا تھا اور دو ڈھائی سال کا بچھ ساتھ بٹھا رکھا تھا۔ یہ کہاں کا قانون ہے؟ اس کے علاوہ یہ لوگ مریضوں کے ساتھ جو جو قانونی کارروائیاں کر رہے ہیں، آپ سنیں تو آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے۔“ میرا واقف کار ڈاکٹر کافی بااثر آدمی تھا۔ اُس نے معاملے کو طول نہیں پکڑنے دیا۔ چار پانچ آدمیوں کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔ اُن میں بابو بھی شامل تھا۔ چائے اور بسکٹ وغیر منگوائے گئے اور وہیں ہماری صلح کروادی گئی۔ ڈاکٹر تیواری ابھی تک میٹنگ سے فارغ نہیں ہوا تھا، لہذا میں اُس سے ملے بغیر واپس آگیا۔ واپسی کے وقت بنگالی بابو مجھے قہر ناک نظروں سے گھور رہا تھا۔ میرے دل میں بھی اُس کے لیے کچھ کم غصہ موجود نہیں تھا۔ بلکہ یہ غصہ کر کے غصے سے کہیں زیادہ شدید اور سنگین تھا۔ اس غصے میں ایک بے گناہ لڑکی کی بے چارگی اور بے بسی بھی شامل تھی۔
تین چار روز تک میں ڈکیتی کے ایک سنگین کیس میں الجھا رہا اور کسی دوسری طرف دھیان دینے کی بالکل فرصت نہیں ملی۔ چوتھے روز میں علی اصبح تھانے پہنچا تو ایک خبر میری منتظر تھی۔ اے ایس آئی مشتاق چوہدری نے بتایا کہ مسٹر ڈیوڈ جیکسن کے گھر قتل ہو ؟ قتل ہونے والا ڈاکٹر مگن لال تیواری ہے۔ اُس کی لاش کوٹھی کے پورچ میں پری ہے۔ نگاہوں میں ریٹا کا لال بھبھوکا چہرہ گھوم گیا۔ اُس کی چیختی ہوئی آواز ۔ ” میں اُسے زندہ نہیں چھوڑوں گی میں اُسے شوٹ کر دوں گی۔”
میں فوراً اپنے عملے کے ساتھ موقعہ واردات پر پہنچا۔ ابھی اجالا پوری طرح نہیں پھیلا نہ کوٹھی کے پورچ میں تین چار افراد کھڑے زمین کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ یہ لوگ مسٹر ڈیوڈ کے پڑوسی تھے۔ خود مسٹر ڈیوڈ لان کی گھاس پر بے قراری سے ٹہل رہے تھے۔
میں لاش کے نزدیک پہنچا مگن لال تیواری جو سفید قمیص اور نیوی بلیو پتلون میں تھا اوندھے منہ فرش پر پڑا تھا۔ اُس کی چیک دار ٹائی خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی تھی ۔ ایک ہاتھ ہم کے نیچے آ گیا تھا جب کہ دوسرا ہاتھ آگے کی طرف پھیلا ہوا تھا۔ اس کے جسم میں دو گولیاں لگی تھیں ۔ ایک گولی بائیں آنکھ ضائع کر کے دماغ میں گھس گئی تھی اور دوسری نے ائیں پہلو میں کوئی چار انچ قطر کا شگاف ڈال دیا تھا۔ ڈاکٹر کی سُرخ گاڑی بھی پاس ہی کھڑی تھی۔ اُس کا اگلا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ یوں لگا تھا ڈ اکٹر جو نہی گاڑی سے برآمد ہوا اُسے کوٹھی کے کسی اندرونی کمرے سے شوٹ کر دیا گیا۔ خون اور زخموں کی حالت سے ظاہر تھا کہ یہ واقعہ رات دوسرے پہر کے دوران پیش آیا ہے لیکن اس کی رپورٹ صبح چار بجے کی گئی تھی۔
رپورٹ کرنے والا مسٹر ڈیوڈ کا ایک پڑوسی تھا۔ اُس نے مسٹر ڈیوڈ کی درخواست پر ایسا کیا تھا۔ موقعہ واردات پر ایک اور عبرتناک منظر بھی دیکھا جاسکتا تھا ڈاکٹر کی لاش چونکہ کئی گھنٹے اہاں پڑی رہی تھی لہذا مسٹر ڈیوڈ کا سفید کتا رات بھر اس کے گرد منڈلاتا رہا تھا اور کبھی کبھی مقتول کو اپنے دانتوں سے بھنبھوڑتا بھی رہا تھا۔ مقتول کی گردن کے پچھلے حصے، اُس کی پشت کے نزم گوشت اور کندھوں پر دانتوں کے نشان اور پنجوں کی گہری خراشیں تھیں ۔ سفید قمیص بھی جگہ جگہ سے اُدھڑی ہوئی تھی۔ مجھے مسٹر ڈیوڈ کی بات یاد آئی۔ انہوں نے چند ہفتے پہلے ہی کہ تھا کہ میری بیٹی کو دغا دینے والا اپنی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ ایک دکھی باپ کے دل سے نکلی ہوئی بددعا پوری ہوئی تھی۔ اُس کا زخم زخم جسم میرے سامنے پڑا تھا۔ میں نے وقوعہ کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ پھر مسٹر ڈیوڈ سے پوچھا۔
ڈیوڈ صاحب ! ریٹا کہاں ہے؟“
وہ کانپ کر بولے ۔ اُسے تم نے کیا کہنا ہے؟“
میں نے خشک لہجے میں کہا۔ ” ڈیوڈ صاحب آپ بھی جانتے ہیں میں نے اُس سے کیا
کہتا ہے۔ وہ اس کیس میں شامل تفتیش ہے ۔“ ر آواز میں بولے۔ نواز خان ! وہ بے قصور ہے۔ اُس نے کچھ نہیں کیا۔
اس نے کچھ نہیں کیا ۔“ ۔ ” تو پھر کس نے کیا ہے؟“
وہ گڑ بڑا کر بولے۔ ‘بائی گاؤ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ہم کچھ نہیں جانتے۔ صبح گنگو اٹھا تو اُس نے بتایا کہ پورچ میں ایک ڈیڈ باڈی پڑی ہے اور باہر کا گیٹ کھلا ہوا ہے۔ میں کرتا پڑہ یہاں پہنچا تو ڈاکٹر تیواری مرا پڑا تھا۔ میں نے آواز میں دے کر ریٹا کو جگایا۔ وہ گہری نیند سے اٹھی اور تیواری کو مردہ دیکھ کر اونچی آواز میں رونے لگی۔ وہ اپنے کمرے میں بھی ابھی تک رورہی ہے.
میں ریٹا کے پاس پہنچا۔ وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے بستر پر خاموش بیٹھی تھی ۔ اس کی آنکھیں رورو کر سوجی ہوئی تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔ میں نے ڈیوڈ صاحب سے کہا کہ میں ریٹا سے تنہائی میں چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ وہ میری طرف رحم طلب نظروں سے دیکھتے باہر چلے گئے ۔ میں نے ریٹا سے کہا۔ ”دیکھو ریٹا! بہتر یہی ہے کہ مجھے سب کچھ صاف صاف بتا دو۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جو چھپانے سے چھپ سکے گا۔ جھوٹ بولنے سے میری اور تمہاری مشکلات میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا ۔
ریٹا نے چہرہ چھپا کر روتے ہوئے کہا۔ ” مجھے کچھ معلوم نہیں انکل … میں کچھ نہیں جانتی میں نے کسی کو قتل نہیں کیا ۔“ میں نے کہا۔ ریٹا یہ تو وہ بیان ہے جو تمہارے پاپا جانی نے تمہیں پڑھایا ہے۔ میں وہ بیان چاہتا ہوں جو سچا ہو اور جو تمہارے دل سے نکلے کسی سخت گیر پولیس آفیسر کے سامنے سچ بولنے سے بہتر ہے کہ اپنے انکل کے سامنے سچ بول دو… ریٹا روتے ہوئے ایک بار پھر نفی میں سر ہلانے لگی ۔ نہیں انکل … میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں نے کسی کا خون نہیں کیا … اس دوران میرا اے ایس آئی اجازت لے کر اندر آ گیا۔ اُس نے کچھ کاغذات اور دوسری اشیاء میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔ ” جناب ! یہ چیزیں کار کے ڈیش بورڈ سے ٹی ہیں۔
میں نے دیکھا ان اشیاء میں سگریٹ لائٹر سگریٹ کا پیکٹ ، دھوپ کی عینک کنگھی پر کچھ دوسری اشیاء تھیں ۔ اس کے علاوہ ایک پتلی سی کتاب بھی تھی ۔ اے ایس آئی نے کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس میں ایک رقعہ بھی ہے جناب۔ اُس پر ریٹا کا نام لکھا ہوا کتاب کھول کر رقعہ نکالا۔ یہ بڑے سائز کی کاپی کا آدھا ورق تھا۔ ” آپ شاید مجھ سے ناراض ہیں، لیکن پاپا جانی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔ وہ بیمار ہیں اور تین چار دن سے آپ کو یاد کر ر ہے ہیں۔ اپنے قیمتی وقت میں سے چند منٹ نکال کر ایک باران کو دیکھ جائیں ، پھر چاہے آئیں، چاہے نہ آئیں۔“ میں نے اے ایس آئی سے پوچھا۔ ” رقعہ کتاب میں تھا؟“
تھا۔
اُس نے کہا۔ ”نہیں جناب ! ڈیش بورڈ میں رکھا ہوا تھا۔ کتاب میں تو میں نے نکالا
میں نے اے ایس آئی کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور رقعہ ریٹا کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ ” کیا اب بھی تمہیں انکار ہے کہ تم نے اس رقعے کے ذریعے مقتول کو یہاں بلایا ہے۔” ریٹا نے ایک نگاہ تحریر پر ڈالی اور پھر بال مٹھیوں میں جکڑ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔ یہ جھوٹ ہے۔ یہ جھوٹ ہے. میں نے کسی کو رقعہ نہیں لکھا۔“
چند منٹ بعد میں نے ریٹا کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا اور عملے کے ساتھ مل کر آلہ قتل کی تلاش شروع کر دی۔ معمولی کوشش کے بعد ہم ایک بیڈ روم کی الماری سے ڈبل بیرل بندوق برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ بارہ بور کی ایسی ہی بندوق سے مقتول پر فائرنگ کی گئی تھی۔ جب ہم نے بندوق برآمد کی تو وہ بکس میں بند تھی لیکن بکس کی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بہت دیر سے مقفل نہیں ہے۔
اسی دوران مقتول کے کچھ لواحقین بھی روتے پیٹتے پہنچ گئے ۔ ان میں مقتول کا والد، اُس کی بیوی اور دوست بھی شامل تھے ۔ میں نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی اور حاضرین سے بیان لینے شروع کیے۔ میرے نکتہ نظر سے سب سے اہم بیان علاقے کے چوکیدار کا تھا۔ دوسرے نمبر پر اہم بیان ڈاکٹر تیواری کے دوست ‘بابو’ کا تھا۔ بابو کا بیان مندرجہ ذیل تھا۔
ریٹا کل سہ پہر کوئی ساڑھے تین بجے میرے گھر پہنچی تھی۔ اُس نے کہا کہ وہ دو دن سے ڈاکٹر تیواری سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کامیابی نہیں ہوئی ۔ اُس نے ایک لفافہ دیتے ہوئے مجھ سے درخواست کی کہ میں یہ ڈاکٹر صاحب تک پہنچا دوں۔ (رقعے کا مضمون وہی ہے جو ہماری نظر سے گزر چکا تھا) میں نے چونکہ ریٹا سے وعدہ کر رکھا تھا لہذا میں نے سوا دس بجے تیواری کو دوبارہ رنگ کیا۔ وہ گھر آچکے تھے ۔ میں نے انہیں ریٹا کی آمد اور اُس کے پیغام کے بارے بتایا۔ اُن کی آواز سے تھکاوٹ ظاہر ہورہی تھی مگر کہنے لگے۔ اچھا میں کپڑے بدل کر بھی آپ ہوں ۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد اُن کی گاڑی میرے مکان کے سامنے رکی۔ میں نے باہر ہی آکر اُن سے بات چیت کی اور رقعے کے ساتھ ریٹا کا زبانی پیغام بھی انہیں دے دیا۔ وہ زیادہ دیر ر کے نہیں اور ریٹا کی طرف چلے آئے …
بابو کے اس بیان سے حالات پر کافی روشنی پڑتی تھی۔ علاقے کے پٹھان چوکیدار کا بیان بھی اس بیان کی تصدیق کرتا نظر آتا تھا۔ اُس نے بتایا کہ وہ حسب معمول گشت پر تھا۔ رات سوا گیارہ اور ساڑھے گیارہ کے درمیان ایک سُرخ کار تیزی سے مسٹر ڈیوڈ کی رہائش گا: کی طرف جاتی نظر آئی۔ اس کے بعد کچھ فاصلے سے اُسے دو یا تین فائر کی آواز سنائی دی۔ اس نے سوچا کہ شادیوں کا سیزن ہے۔ شاید کسی شادی والے گھر سے فائرنگ کی گئی تھی . اس کے بعد وہ دیر تک سڑک پر ٹہلتا رہا لیکن سُرخ کار دوبارہ نظر نہیں آئی۔ چوکیدار کے بیان کی تصدیق ایک ہمسائے نے بھی کی۔ اُس نے کہا کہ رات کے کسی پہر اُس نے فائرنگ کی آواز سنی تھی لیکن یہ فائرنگ کتنے بجے ہوئی اور کتنے فائر ہوئے وہ اس کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا۔
بہر حال اب شک و شبے کی گنجائش بہت کم رہ گئی تھی ۔ حالات اور واقعات صاف طور پر جس کی طرف اشارہ کر رہے تھے وہ ریٹا تھی ۔ اُس نے اپنی بربادی کا انتقام لیا تھا اور کئی ماہ تک اپنے دل اور جسم سے کھیلنے والے ہر جائی عاشق کو زندگی کی سرحد پار کرا دی تھی ۔ اب وہ اپنے جرم کو مانتی یا نہ مانتی اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ وہ انتہائی قدم اٹھا چکی تھی اور اب اُسے انصاف کی اندھی تلوار کا سامنا کرنا تھا۔ وقوعہ کے جائزہ سے یہ بات سمجھ میں آتی تھی کہ جس وقت ڈاکٹر تیواری کار لے کر اُن کی کوٹھی پر پہنچا، ریٹا کوٹھی کے ایک اندرونی کمرے میں بھری ہوئی بندوق کے ساتھ موجود تھی۔ پروگرام کے مطابق اُس نے کوٹھی کا بیرونی گیٹ پہلے سے کھول رکھا تھا تا کہ تیواری کو کال بیل بجانے کی زحمت نہ ہو ۔ جو نہی ڈاکٹر گاڑی سے نکل کر اندرونی حصے کی طرف بڑھا۔ اُس نے اُسے شوٹ کر دیا۔
ریٹا جوڈ یشنل ریمانڈ پر جیل پہنچ چکی تھی۔ میں جلد از جلد چالان مکمل کرنے کی کوشش بظا ہر صاف تھا لیکن میں اپنے طور پر کوئی گوشہ تار یک چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
یہ مینان تھا کہ ڈاکٹر تیواری کو کسی اور وجہ سے قتل کیا گیا ہو اور قاتل بھی کوئی اور ہو۔ یہ ممکن تھا کہ اُسے کہیں اور سے مار کر مسٹر ڈیوڈ کے گھر ڈال دیا گیا ہو آخر اس کے بہت سے رقیب اور دشمن موجود تھے۔ کوئی کاروباری رقابت یا گھریلو جھگڑا بھی اس واردات کا سبب ہو سکتا تھا۔ اس کیس کی تفتیش میں دو نکتے ایسے تھے جو مجھے کبھی کبھی سخت الجھن میں ڈال دیتے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ریٹا اپنے جرم سے انکار کر رہی تھی ۔ اُس کے انکار کو ایک عام مجرم کا انکار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ تفتیش کے دوسرے ہفتے جب میں اُس سے ملنے جیل پہنچا تو وہ آہنی سلاخوں سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی۔ اُس نے کہا۔ ” انکل! مجھے آپ ے یہ امید نہیں تھی۔ کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ریٹا جھوٹ بولتی ہے۔ اب ریٹا مر ہی جائے تو اچھا ہے۔ اب ریٹا کو مر ہی جانا چاہیے۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے گولی مار دیں انکل ۔ میں ان جیلوں میں سڑنا نہیں چاہتی۔
اس کے بعد اُس نے کوئی اور بات نہیں کی تھی اور یہی کہتی رہی تھی کہ اگر آپ کے خیال میں میں مجرم ہوں تو پھر مجرم ہی ہوں۔ بس مجھے جلدی سے پھانسی دلوادیجئے تا کہ میری مشکلوں سے میری اور میرے پاپا جانی کی جان چھوٹ سکے۔ اس کیس کا دوسرا پریشان کن نکتہ یہ تھا کہ مقتول کی کار کے ڈیش بورڈ میں ایک ڈیڑھ سو صفحے کی انگریزی کتاب پائی گئی تھی۔ یہ کتاب ڈاکٹری کے بارے میں تھی اور اسے ڈاکٹر تیواری کے ایک ساتھی ڈاکٹر راجندر پال نے لکھا تھا۔ وقوعہ کے روز ڈاکٹر راجندر پال نے اس کتاب کی ایک کاپی ڈاکٹر تیواری کو دی تھی ۔ کتاب کے ایک صفحے پر راجندر پال کے دستخط اور تاریخ بھی درج تھی۔ تفتیش سے ثابت ہوتا تھا کہ وقوعہ کے روز سارا دن ڈاکٹر تیواری اور ڈاکٹر راجندر کی ملاقات نہیں ہوئی، ہو بھی نہیں سکتی تھی ۔ کیونکہ ڈاکٹر راجندر پال اپنی کتاب کی رونمائی کے سلسلے میں امرتسر سے باہر گیا ہوا تھا۔ وہ وقوعہ کی رات نو بجے امرتسر واپس آیا تھا۔ اس کا مطلب صاف تھا وہ کتاب مقتول کو اُس وقت دی گئی تھی جب وہ شادی کی تقریب سے واپس آیا اور بابو سے رقعہ لے کر ریٹا کی طرف روانہ ہوا۔ راستے ہی میں ڈاکٹر راجندر کی کوٹھی پڑتی تھی۔ وہ وہاں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا اور ڈاکٹر راجندر نے اُسے کتاب دے دی، جسے اُس نے ڈیش بورڈ میں رکھ دیا۔ اس سے ثابت ہوتا تھا کہ مقتول اپنی زندگی میں جس آخری شخص سے ملا وہ ڈاکٹر راجندر پال تھا۔ میری تفتیش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں ڈاکٹر راجندر اور مقتول میں خاصی کاروباری دشمنی رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے ۔ کوئی ایک ماہ پہلے ہی اُن میں بول چال شروع ہوئی تھی۔ ان حالات میں کسی حد تک ڈاکٹر راجندر پر شبہ کیا جا سکتا تھا۔ اور نہیں بھی کیا جاسکتا تھا۔ مگر ڈاکٹر نے جو بیان دیا تھا وہ اُسے خواہ مخواہ اس کیس میں پھنسار ہا تھا۔ وہ اپنی اس بات پر ڈٹا ہوا تھا.
کہ وقوعہ کی رات ڈاکٹر تیواری اُس کے پاس ہرگز نہیں آیا اور نہ ہی اُس تاریخ میں دن کے وقت اُس سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس پر میرا سوال تھا کہ پھر کتاب پر دستخط کس کے ہیں؟ اس کا جواب راجندر پال یہ دیتا تھا کہ دستخط کے نیچے اُس نے غلطی سے ایک دن بعد کی تاریخ درج کر دی ہے۔ یہ کتاب اُس نے وقوعہ سے ایک دن پہلے ڈاکٹر تیواری کو دی تھی۔ ان دونکنتوں کے علاوہ مسٹر ڈیوڈ کا بیان بھی مجھے الجھن میں ڈال گیا جو انہوں نے وقوع کے دسویں روز مجھے تھا نے آکر دیا ۔ گلو گیر آواز میں انہوں نے کہا۔
نواز خان ! میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ ریٹا نے یہ مرڈر نہیں کیا۔ میں نے اُسے ماں بن کر پالا ہے۔ میں اُس کی ایک ایک ادا کو سمجھتا ہوں ۔ وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی ۔ ہم نے زندگی بھر ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولا اور شاید کبھی نہ بول سکیں گے ۔ حالات اُسے مجرم گردان رہے ہیں لیکن وہ مجرم نہیں ہے۔“ میں نے کہا۔ ڈیوڈ صاحب! میں یہ کیسے مان لوں ۔ میں نے اپنے کانوں سے اُسے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے سنا ہے۔ اگر اُس روز ہم اُس سے پستول چھین کر اُسے کمرے میں بند نہ کر دیتے تو کیا وہ تیواری کو شوٹ نہ کر دیتی ؟ ضرور کر دیتی اور اُس نے کر بھی دیا ہے۔ اُس دن نہ سہی چار دن ٹھہر کر سہی ۔“ مسٹر ڈیوڈ نے کراہتے ہوئے کہا۔ انسپکٹر نواز ! تم اُس روز کی بات دو ہرا ار ہے ہو اور یہ نہیں جانتے اُس کے بعد کیا ہوا تھا۔ تمہیں کچھ معلوم نہیں ۔ سنو ! میں ریٹو کو مکمل طور پر پرسکون کر چکا تھا۔ میں نے اُس سے کہا تھار یٹو! تیرے پاپا جانی نے زندگی میں کبھی تجھ سے کچھ نہیں مانگا۔ آج ایک چیز مانگ رہا ہوں۔ دیکھو انکار نہ کرنا۔ مجھے میری ایک برس پہلے کی ریٹو دے دو۔
وہی ہنستی کھیلتی ناچتی گاتی رینو ۔ جو کچھ بھی ہوا تمہارے دل کے ساتھ یا تمہارے جسم کے ساتھ سب کچھ بھول جاؤ ۔ سب کچھ فراموش کر دو ۔ آؤ ہم باپ بیٹی ایک نئی زندگی شروع کریں۔ شملے کی برف پوش چوٹیوں پر جو کالج تم نے بڑی چاہت سے بنوایا ہے، ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ آؤ اس شہر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اُس کالج میں آباد ہو جا ئیں اُس کی دیواروں میں پناہ لے کر اپنی زندگی کو دکھوں سے دور کر دیں۔ وہ کالج ہمارے زخموں پر مرہم رکھ دے گا اور ہماری کھوئی ہوئی خوشیاں لوٹ آئیں گی ۔ وہاں صرف میں ہوں گا، گنگو ہوگا اور ہمارا رچی ( کتا) ہوگا۔ ہم تمہارے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے کھا ئیں گے اور تمہارے سنائے ہوئے لطیفوں پر ہنسا کریں گے۔ پھر تم فارغ وقت میں پیانو بجایا کرنا اور میں گھنٹوں بیٹھ کر سنا کروں گا۔
میں ریٹو کو بہت دیر تک سمجھاتا رہا اور آخر دھیرے دھیرے اُس کی آنکھوں سے غیض و غضب کی سُرخی چھٹ گئی۔ اُس کی نیلی پیلیوں میں امید کی روشن کر نہیں چمکنے لگیں۔ آخر وہ بھاگ کر مجھ سے چمٹ گئی۔ اتنا روئی کہ اُس کے آنسوؤں سے میری قمیص بھیگ گئی۔ ہچکیوں اور سیکیوں کے درمیان کہنے لگی ۔ پاپا جانی ! میرا دل مر چکا ہے لیکن میں آپ کی خاطر زندہ رہوں گی ۔ ساری دنیا کو انکار کر دیتی لیکن آپ کو انکار نہیں کروں گی ۔ آپ کی بات نہیں ٹالوں گی ۔ سب کچھ بھول جاؤں گی۔ جو بھول سکتی ہوں وہ بھی اور جو نہیں بھول سکتی وہ بھی .. میں نے اُسے اپنی گود میں سمیٹ لیا اور دیر تک دلا سا دیتا رہا۔ ایسے سمجھا تا رہا کہ جو کچھ ہوا اُس میں اُس کا کوئی قصور نہیں۔ میری تربیت میں ہی کوئی کمی رہ گئی تھی۔
وہ سک سک کر میری گود میں ہی سو گئی۔ اگلے روز ہم نے شملے جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ میں سارا سامان بندھوا چکا تھا۔ ٹکٹ بھی لے چکا تھا کہ روانگی سے ایک رات پہلے تیواری قتل ہو گیا۔ میں ایک باپ ہوں میری بات غور سے سنو نواز خان میں پھر تم سے کہہ رہا ہوں میری ریٹو نے قتل نہیں کیا۔ اگر یہ بات جھوٹ ہے تو پھر دنیا میں کہیں سچ نہیں ہے اور کل کا سورج کبھی طلوع نہیں ہوگا ۔ ریٹا کا بیمار اور بوڑھا باپ آنسو پونچھتا اور لڑکھڑاتا ہوا تھانے سے باہر چلا گیا اور میری الجھن کو کچھ اور الجھا گیا۔ میں ایک روشن کمرے میں بیٹھا تھا لیکن میرے چاروں طرف اندھیرا تھا۔ کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے سوچتا رہا اور سوچتا رہا۔ دو روز بعد مجھے ہر صورت چالان مکمل کر کے دینا تھا اور اگر ایک بار تیر کمان سے نکل جاتا تو اُسے واپس لانا خاصا مشکل تھا۔ سوچتے سوچتے میرے ذہن میں اچانک ایک بات آئی۔ میں نے میز کی دراز کھول کر کاغذات کے اندر سے وہ رقعہ نکالا جو ریٹا نے ڈاکٹر تیواری کو گھر بلانے کے لیے لکھا تھا اور جس کے بارے میں مجھے ایک سو دس فیصد یقین تھا کہ یہ ریٹا کا ہی تحریر کردہ ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بڑی کاپی کا قریباً آدھا صفحہ تھا لیکن ایک عجیب سی بات تھی کاغذ کا یہ ٹکڑا صفحے کے درمیان سے نکالا گیا تھا۔ یعنی یہ اوپر نیچے سے پھٹا ہوا تھا۔
نہ ورق کا بالائی حاشیہ نظر آتا تھا اور نہ نیچے والا کنارہ موجود تھا۔ دفعتا مجھے شک ہونے لگا کہ اس ٹکڑے کو کسی بڑے خط کے درمیان سے نکالا گیا ہے۔ یہ خیال ذہن میں کوندتے ہی میں اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور موٹر سائیکل لے کر آندھی وطوفان کی طرح جیل خانے کی طرف لپکا کوئی آدھ گھنٹے بعد میں لاک آپ میں ریٹا کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ بے حد کمزور اور افسردہ نظر آ رہی تھی اور پہلے کی طرح کچھ بھی بتانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ میں نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ” نا! اگر تم پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کرو گی تو کی لوگوں کو فائدہ ہوگا؟ اُن لوگوں کو فائدہ ہوگا جو تمہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچانا چاہتے ہیں اور تمہارے پاپا کو خودکشی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں دیکھو اس رقعے کو یہ تحریر تمہاری تو ہے ناں..
ریٹا نے ایک نگاہ غلط انداز تحریر پر ڈالی۔ کچھ دیر خالی نگاہوں سے اُسے دیکھتے رہی کچھ یکا یک اُس کے چہرے پر تاثرات نمودار ہونے لگے۔ اُس کی آنکھوں میں چمک آئی ۔ ہونٹ کپکپائے اور اُس نے لپک کر رقعہ میرے ہاتھ سے لے لیا۔ پھر تیزی سے بولی ۔ یہ میری ہی تحریر ہے لیکن یہ مکمل خط نہیں ، خط کا ایک حصہ ہے۔ اوہ مائی گاڈ یہ خط تو میں نے کوئی پانچی باد پہلے لکھا تھا۔ ریٹا نے لرزاں لہجے میں اور بھی بہت کچھ کہا مگر اُس کے یہی تین چار فقرے میری تفتیش کی گاڑی پٹری پر چڑھانے کے لیے کافی تھے۔ میں نے اُس کی ڈھارس بندھانے کے لیے ایک دو باتیں کی اور اُس سے رخصت لے کر فوراً باہر آ گیا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا رخ کس شخص کی طرف تھا … جی ہاں ڈاکٹر تیواری کے پیارے دوست بنگالی بابو کی طرف۔ اُس وقت شام ہو چکی تھی اور سرما کی ٹھٹھری ہوئی تاریکی قدم قدم شہر کے گلی کوچوں میں اتر رہی تھی۔ میں نے منہ سر اچھی طرح گرم مظر میں لپیٹ رکھا تھا۔ الیگزانڈ را گراؤنڈ کے بالمقابل پہنچ کر میں نے موٹر سائیکل ایک ذیلی سڑک پر کھڑی کی ۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر بابو کی کوٹھی نظر آرہی تھی ۔ ابھی میں موٹر سائیکل سے اتر نے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ کوٹھی کے گیٹ سے ایک ٹیکسی کار برآمد ہوئی۔ کار میرے قریب سے گزری تو اُس میں دو عورتیں نظر آئیں۔ اُن میں سے ایک ادھیڑ عمرتھی اور دوسری جوان ۔ میں نے فوری فیصلہ کیا اور موٹر سائیکل دوبارہ اسٹارٹ کر کے ٹیکسی کے پیچھے چل دیا۔
✩============✩
کوئی دو گھنٹے بعد جب رات کے ساڑھے آٹھ بجے تھے اور ایک نہایت سرد ہوا تھی کوچوں کو ویران کر رہی تھی ، میں نے اپنے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھ اوور کوٹ کی جیبوں سے نکال کر بنگالی بابو کے دروازے پر لگی کال بیل کا بٹن دبایا۔ چند لمحے بعد ایک چرسی سے ملازم نے دروازہ کھولا ۔ اس سے بیشتر کہ وہ مجھ سے کوئی سوال جواب کرتا میں اُسے دھکیلتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ برآمدے سے گزر کر میں نے ایک بند دروازے کو کھولا تو سامنے بنگالی بابو ایک سجے سجائے کمرے میں بیٹھا نظر آیا۔ وہ نشے میں مدہوش تھا۔ ایک نو خیز بازاری لڑکی اُس کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ۔ اس کے بالائی جسم پر کوئی لباس نہیں تھا۔ دونوں کے چہرے آتش دان کی روشنی میں تمتما رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر لڑکی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی ۔ وہ میز پوش سے جسم ڈھانپتی ہوئی دوسرے کمرے میں بھاگ گئی ۔ ‘بابو’ کچھ دیر ہکا بکا میری طرف دیکھتا رہا۔ ایک لمحے کے لیے اُس کے چہرے پر سخت طیش نظر آیا مگر پھر فورا ہی اُس نے خود پر قابو پالیا۔ شاید ہسپتال کے کمرے والی پٹائی اُسے یاد آگئی تھی ۔ اٹھ کر خوش اخلاقی سے بولا۔ آئے آئے انسپکٹر صاحب! آپ نے کیوں تکلیف کی۔ مجھے فون کر دیا ہوتا میں مام حاضر ہو جاتا ۔
ہوں ۔
میں نے کہا۔ ” آپ مصروف آدمی ہیں میں نے سوچا خود ہی نیاز حاصل کر آتا وہ مجھے صوفے پر بٹھاتا ہوا بولا۔ فرمائیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔ میرا خیال ہے
ی آپ تیواری کیس کے سلسلے میں آئے ہوں گے ۔“
میں نے کہا۔ ” آپ کا اندازہ درست ہے۔“ وہ اچانک ہی خود پر رقت طاری کرتے ہوئے بولا ۔ انسپکٹر اس سلسلے میں میں ہر وقت اور ہر جگہ حاضر ہوں۔ جب تک تیواری صاحب کے قاتل زندہ ہیں میں نہ مُردوں میں ہوں نہ زندوں میں آپ دیکھ ہی رہے ہیں، میں نے خود کو کس طرح شراب میں غرق کر رکھاہے۔ یہ غم تو شاید میری جان ہی لے لے گا۔ وہ با قاعدہ آنسوؤں سے رونے لگا تھا۔ میں نے کہا۔ ”ہاں مجھے بھی لگتا ہے اب آپ مشکل سے ہی بچیں گے وہ ناک سے شوں شوں کی آواز نکال رہا تھا۔ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے کہا۔ ” لگتا ہے تیواری آپ جیسے دوست سے بچھڑ کر ہلکان ہو رہا ہے، آپ کو اپنے پاس بلا کر ہی چھوڑے ا ویسے بائی دی وے وہ گن کہاں ہے جس سے آپ نے اپنی دوستی کو ”امر“ کیا تھا۔“ بابو اب پوری طرح چونک گیا تھا۔ کہنے لگا۔ ” کیا باتیں کر رہے ہو انسپکٹر ، مجھے کچھ کجھ نہیں آرہی ۔
میں نے کہا۔ “اپنے گھر میں کسی مجرم کو کچھ مجھ نہیں آتی۔ سمجھ والا خانہ تو تھانے جا کر کھلتا وہ چلا کر بولا ۔ کہیں کہیں تم مجھے تیواری کیس میں تو ملوث نہیں کر رہے۔“ میں نے اطمینان سے سگریٹ سلگایا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر کہا۔ ”میں تمہیں ملوث نہیں کر رہا کیوں کہ ملوث ہونے کا کام تم آج سے دس روز پیشتر کرچکے ہو۔ آج سے دس روز پہلے نمبر کی نو تاریخ کو بروز اتوار رات گیارہ بج کر میں منٹ پر تم نے اپنے چہیتے دوست مگن لال تیواری کو شوٹ کیا ہے۔“ یہ فقرہ بابو کے سر پر ہائیڈ روجن بم کا دھما کہ تھا۔ وہ سکتے کے عالم میں میری طرف دیکھتا چلا گیا۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔ پورن بھگت عرف بنگالی بابواب سے دو گھنٹے قبل تہاری ماتا اور بہن یہاں سے نکل کر گئی تھیں۔ میرے حال پر مہربانی کرتے ہوئے انہوں نے مجھے ساری کہانی سنادی ہے۔
میرا خیال ہے تم بھی سن لو آج سے کوئی دو برس پہلے تم کلکتے سے بھاگ کر پنجاب کے اس دور دراز شہر میں آئے تھے۔ تم پر وہاں ایک قتل کا کیس تھا اور تم اتنے خوفزدہ تھے کہ کبھی واپس جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے۔ تم یہاں گورنمنٹ ہسپتال میں ملازم ہو گئے اور اپنی عیاری اور چرب زبانی کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرنے لگے۔ تم نے ڈاکٹر تیواری سے دوستی گانٹھی اور اُس کی رنگ رلیوں میں اُس کے دست راست بن گئے ۔ ڈاکٹر خوبصورت لڑکیوں کا دلدادہ تھا اور تم اُس کے لیے شکاری کے پھندے کا کام کر رہے تھے ۔ وہ عورتوں کو تاڑتا تھا اور تم اس کے لیے راستے ہموار کرتے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ کوئی ذات ہمارے اُو پر بھی موجود ہے۔ جو ہماری ہر حرکت کو دیکھتی ہے ۔ وہ ذات کبھی کبھی گناہ گاروں کو یوں بھی سزا دیتی ہے کہ شکاریوں کے اپنے جال ہی انہیں پھانس لیتے ہیں اور قاتلوں کے خنجر لوٹ کر اُن کے اپنے ہی بدن میں ترازو ہو جاتے ہیں۔
تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا بنگالی بابو کلکتے میں تمہاری ماں اور بہن کو کسی طرح پتہ چلا کہ تم پنجاب کے شہر امرتسر میں موجود ہو ۔ وہ محبت کی ماری تمہیں تلاش کرتی ہوئیں ہزاروں میل دور یہاں پہنچیں۔ انہیں تمہارے ٹھکانے کا علم نہیں تھا اور وہ شہر کے گلی کوچوں میں تمہیں ڈھونڈتی پھر رہی تھیں۔ اس پریشانی اور غریب الوطنی میں تمہاری نوجوان بہن لاجونتی جسے تم پیار سے لا جو کہا کرتے تھے بیمار ہوگئی ۔ تمہاری دکھیاری ماں اُسے لے کر ایک ڈاکٹر کے پاس پہنچی ۔ اتفاق سے یہ ڈاکٹر تمہارا دوست تیواری ہی تھا۔
یہ کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے کی بات ہے۔ تم ان دنوں مدراس گئے ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر تیواری تمہاری بہن کا علاج کرنے لگا اور تمہیں تو اچھی طرح معلوم ہی ہے وہ نو جوان اور خوبصورت عورتوں کا علاج کتنی توجہ سے کرتا ہے۔ معلوم ہے ناں تمہیں؟ ہاں تو علاج کے ساتھ ساتھ اُسے تمہاری بے آسرا ماں اور بہن سے ہمدردی بھی ہو گئی۔ اُس نے نہ صرف انہیں کرائے کا ایک مکان لے کر دیا بلکہ وقتا فوقتا اُن کی خبر گیری کرنے بھی جانے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں بیٹی لتے سے اپنے کسی گمشدہ عزیز کو ڈھونڈ نے آئی ہیں جس کا نام پورن بھگت ہے۔ یہ تو اُس کے تصور میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ یہ پورن بھگت اُس کا ہم پیالہ بابو احمد ہے جو فرضی نام سے یہاں رہ رہا ہے۔
لہذا پورن بھگت صاحب! ایک روز جب تمہاری ماں شہر کی گلیوں میں تمہیں ڈھونڈ نے نکلی ہوئی تھی اور تمہاری بہن جو تقریباً تقریبا ریٹا ہی کی ہم عمر ہے. گھر میں اکیلی تھی ۔ ڈاکٹر نے اُسے اپنی مردانہ وجاہت کے کلوروفارم سے بے ہوش کر کے اُس کی عزت کا آپریشن کر دیا ہاہا کتنا اچھا دوست تھا تمہارا؟ تم ڈاکٹر کے قتل سے پانچ چھ روز پہلے مدراس سے واپس آئے۔ تمہیں یہاں کے حالات کا کچھ علم نہیں تھا۔ ایک روز ڈاکٹر نے تمہیں اپنے نئے شکار کے بارے میں بتایا اور کچھ روپے دیتے ہوئے کہا کہ پندرہ بیس روز کا راشن لڑکی اور اُس کی ماں کے ہاں پہنچا دو۔ تم راشن لے کر خراماں خراماں اپنے یار کا نیا شکار دیکھنے کے لیے پہنچے۔ وہاں اپنی بہن کو دیکھ کر تمہیں جو دلی مسرت ہوئی ہوگی، میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ وہ اوپر والا تم جیسے بے ضمیروں کو ایسے ہی خوش کیا کرتا ہے ۔ ”جوش اور مسرت سے تمہارا سینہ پھٹنے لگا۔ تمہاری باچھوں سے جھاگ بہنے لگا اور کیوں نہ بہتا، تمہاری اپنی بہن کا معاملہ تھا ناں تم نے دیواروں سے ٹکریں ماریں اور رورو کر اپنا گلا بٹھا لیا۔ پھر تم سراپا انتقام بن گئے۔ نو دسمبر کی رات تقریبا دس بجے جب تیواری فنکشن سے واپس آیا تو تم نے اُسے ٹیلی فون کر کے اُسی گھر میں بلا لیا جہاں تمہاری آبرو باختہ بہن رہتی تھی۔ جب ڈاکٹر گھر میں پہنچا تو تم نے اُسے شوٹ کر دیا۔
سارا منصو بہ تم پہلے ہی بنا چکے تھے۔ تم نے فوراً اُسے اپنے ایک دوست کی گاڑی میں ڈالا اور سُرخ گاڑی میں خود بیٹھ گئے۔ دونوں گاڑیاں تیزی سے مسٹر ڈیوڈ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئیں ۔ مسٹر ڈیوڈ کی کوٹھی وہاں سے صرف تین فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ تم نے بڑی ہوشیاری سے ڈاکٹر کی خونچکاں لاش پورچ میں ڈال دی۔ پھر اُس کی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں ریٹا کے ایک پرانے خط کا حصہ رکھ دیا۔ یہ ڈاکٹر کی جیب میں اس لیے نہ رکھا گیا کہ کہیں پولیس کے پہنچنے سے پہلے کوئی اسے نکال نہ لے۔ ڈاکٹر کی گاڑی میں خون کی آلائش تھی لہذا کسی کے ذہن میں نہیں آیا کہ ڈاکٹر کو کہیں اور سے قتل کر کے یہاں لایا گیا ہے۔ سب سے بڑی ہوشیاری جو تم نے دکھائی اور جس کا میں اعتراف کرتا ہوں، یہ ہے کہ تم نے قتل کے بعد ڈاکٹر کا خون ضائع نہیں ہونے دیا۔ اُس کا زیادہ تر حصہ تم نے ربڑ کے ایکڈاکٹری بیگ میں محفوظ کرلیا اور بعد میں یہی خون مسٹر ڈیوڈ کے پورچ میں پھینک دیا۔ میرا خیال ہے مجھے وائسرے ہند سے سفارش کرنی چاہئے کہ اس زبر دست عیاری پر تمہیں مجرمانہ مہارت کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا جائے.. میرا آخری فقرہ سننے سے پہلے ہی ‘بابو’ اچانک اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑ لگا دیا تھا۔ میں نے اُس کے پیچھے بھاگنے کی کوشش نہیں کی ۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ میں اُسے فرار کا موقع دیتا چاہتا تھا بلکہ دروازے پر میرا عملہ موجود تھا۔ جو نہی بابو نے دروازہ کھولا، ایک صحت مند کانسٹیبل نے اُسے اپنی ٹھوس توند سے دھکا مارا اور وہ اُلٹ کر کمرے کے وسط میں آن گرا۔
✩============✩
پورن بھگت عرف بابو گرفتار ہوا۔ اُس کی ماں اور بہن واپس مغربی بنگال چلی گئیں۔ ریٹا رہا ہوئی، تیسرے شخص یعنی ڈاکٹر تیواری کے انجام کے بارے میں آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے “ات خدا دا ویر۔ ریٹا کی رہائی کے فورا بعد مسٹر ڈیوڈ اُسے لے کر شملے چلے گئے ۔ وہاں اُن کا اپنا کالج نما بنگلہ تعمیر ہو چکا تھا۔ میں انہیں خود لاہور ائیر پورٹ چھوڑنے گیا تھا۔ ریٹا قید و بند کی تکلیفوں سے نڈھال تھی۔ اُس کی نقاہت نے مسٹر ڈیوڈ کو اپنی بیماری بھلا ڈالی تھی۔ میں نے دیکھا جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انہوں نے ریٹا کو اپنی بانہوں کے حلقے میں یوں چھپا رکھا تھا جیسے کوئی کمزور بوڑھا اپنی زندگی کی آخری پونچی ڈاکوؤں
کے نگر سے بچا کر لے جا رہا ہو۔
✩============✩
ختم شد