Detective Stories In Urdu

نا معلوم – جرم و سزا کی انوکھی کہانی

ایک پولیس والے کے لیے سب سے مشکل کیس وہ ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی پیٹی بند بھائی ملوث ہو یا کیس اس سے متعلق ہو۔ اس قسم کے کیسوں سے اکثر پولیس افسران گھبراتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی تفتیش ان کے ذمے نہ آئے ۔ مشتاق علی کا کیس بھی ایسے ہی کیسوں میں سے تھا۔ مشتاق علی اسپیشل برانچ میں انسپکٹر تھا۔ جسے عرف عام میں سی آئی ڈی کہتے ہیں۔ اگر چہ ہم نے آگے پیچھے کورس کیا تھا مگر میرا مشتاق سے چند ایک بار ہی واسطہ رہا تھا۔ پہلی بارجب ہم دونوں انویسٹی گیشن میں تھے تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے دفتر میں ہوتے تھے۔ دوسری بار ہم دونوں ایک تھانے میں ساتھ ہوئے اور تیسری بار جب ایک کیس کے سلسلے میں مشتاق کو انویسٹی گیشن کی طرف سے بھیجا گیا اور میں اس کیس کا تفتیشی افسر تھا۔
اس سے پہلے اس سے بس سلام دعا کی حد تک واسطہ تھا لیکن اس کیس کے دوران میں نے جانا کہ مشتاق علی کسی قسم کا شخص تھا ؟ وہ بہت خشک مزاج سمجھا جانے والا شخص تھا۔ محکمے میں یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو پولیس جیسے محکمے میں ہوتے ہوئے بھی عابدانہ حد تک حرام حلال کا خیال رکھتے ہوں ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ وہ تھانے کا پانی تک نہیں پیتا تھا۔ اپنی بوتل گھر سے لاتا تھا۔ اس کے پاس ایک کھٹارا بائیک تھی جس میں صرف انجن، پہیے اور بریک ہی درست حالت میں تھے۔ ویسے یہ ہیوی بائیک تھی ۔ عام بائیک رفتار اور قوت میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اتنا شور مچاتی تھی کہ دور ہی سے اس کی آمد کا پتا چل جاتا تھا۔ کیس ایک گینگ کا تھا جو منشیات فروشی اور بھتا خوری میں ملوث تھا۔
اس کے چند افراد پکڑے گئے تھے اور انویسٹی گیشن کے پاس یہ کیس پہلے سے تھا اس لیے مشتاق کو بھیجا گیا۔ ہم نے مل کر اس کیس پر ۔ چار مہینے کام کیا اور اسے تقریباً حل کر لیا ۔ گینگ کے درجن بھر اہم ارکان پکڑے گئے البتہ اس کا سر براہ بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔مشتاق علی کیس کے بعد واپس چلا گیا اور پھر میں نے اسے اس وقت دیکھا جب وہ اپنے گھر کے سامنے اس حالت میں اوندھے منہ پڑا ہوا تھا کہ اس کی گدی میں گولی کا سوراخ تھا۔ گولی آگے سے نہیں نکلی تھی بلکہ اندر ہی موجود تھی۔ اس کے جسم پر سادہ لباس تھا اور اس کی بائیک نزدیک ہی پڑی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جب اسے نشانہ بنایا گیا تو وہ بائیک پر گھر کے پاس پہنچ کر رکا تھا۔ اس وقت قاتل نے عقب سے اسے گولی ماری اور وہ بائیک سمیت نیچے گر گیا۔
میں نائٹ ڈیوٹی پر تھا جب مجھے ایس ایس پی کی کال آئی۔ اس نے بتایا کہ کسی نے اسپیشل برانچ کے انسپکٹر مشتاق علی کو قتل کر دیا ہے۔ وہ ڈیوٹی سے واپس آیا تھا۔ رات کے دو بچ رہے تھے اور وہ یقینا کسی خاص ڈیوٹی پر تھا۔ مشتاق علی اس تھانے کی حدود میں رہتا تھا جہاں میں ان دنوں نائٹ شفٹ کا ایس ایچ او تھا۔ میں ایک موبائل اور چند پولیس مین لے کر جائے وقوع پر پہنچا۔ مشتاق علی کا گھر ایک عام سے علاقے میں تھا اور گھر بھی عام سا تھا ۔ ایک سو بیس گز پر بنا ہوا یہ دو منزلہ مکان پرانا تھا مگر اس پر رنگ و روغن حال میں ہی کیا گیا تھا ۔ جب میں وہاں پہنچا تو ایک موبائل وین پہلے ہی سے موجود تھی اور اس نے جائے واردات سے عام لوگوں کو دور کر دیا تھا۔ رات دو بجے بھی وہاں رش تھا دو ڈھائی درجن لوگ جمع تھے۔
لوگوں نے اپنے مکانوں کی بیرونی لائٹیں جلائی تھیں اس لیے گلی میں خاصی روشنی تھی۔ نزدیکی مکان والے اپنی چھتوں پر چڑھ کر صورت حال دیکھ رہے تھے۔ مشتاق علی کے گھر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے آتے ہوئے پولیس سرجن کو کال کر دی تھی وہ ایمبولینس کے ساتھ آرہا تھا۔ میں نے لاش کا معائنہ کیا۔ موبائل کے ساتھ آنے والے اے ایس آئی کے مطابق لاش کسی نے نہیں چھیڑی تھی سوائے مشتاق علی کی بیوی کے، کیونکہ لاش سب سے پہلے اس نے دیکھی تھی ۔ وہ اس سے لپٹ گئی تھی تب مشتاق علی کے چھوٹے بھائی شارق نے آکر اسے لاش سے الگ کیا اور اس نے پولیس کو اطلاع دی تھی ۔ مشتاق علی کی کوئی چیز غائب نہیں تھی۔ اس کا سروس پستول بیلٹ سے بندھا ہوا تھا۔ اس کا پرس اور موبائل بھی موجود تھا۔ جب تک میں نے لاش کا معائنہ مکمل کیا پولیس سرجن بھی آگیا۔
اس نے لاش دیکھی اور اپنی رپورٹ لکھنے لگا ۔ پھر اس نے بتایا۔ اسے مرے ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوا ہے۔ ایک ہی گولی لگی ہے اور موت فوری واقع ہوئی ہو گی، کیونکہ زیادہ خون نہیں نکلا ہے ۔ یہ ظاہری موت کی وجہ یہی گولی ہے۔ باقی بات پوسٹ مارٹم سے پتا چلے گی۔۔ میں نے نے اسے لاش اٹھوانے کو کہا اور شارق کے پاس آیا جو ایک طرف افسردہ کھڑا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ مشتاق علی تقریباً پینتیس برس کا تھا مگر شارق خاصا کم عمر تھا، وہ پچیس سے زیادہ کا نہیں تھا۔ میں نے رسمی تعزیت کی اور کہا ۔ مجھے احساس ہے کہ تم اس وقت کسی دکھ سے گزر رہے ہو لیکن پولیس کا کام تفتیش کرنا ہوتا ہے.
‎فی الحال اس سے زیادہ سوالات ممکن نہیں تھے۔ مشتاق علی کی لاش اٹھائی جا رہی تھی کہ اس کی بیوی اندر سے نکل آئی ۔ میں اسے دیکھ کر حیران ہوا تھا ، وہ مشکل سے ہیں اکیس برس کی اور نہایت حسین لڑکی تھی۔ عملی طور پر وہ عورت تھی مگر جسامت اور چہرے مہرے سے وہ لڑکی ہی لگ رہی تھی۔ وہ بری طرح رو رہی تھی اور مشتاق علی کی لاش تک جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہاں موجود تمام ہی لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ شارق اسے روک رہا تھا۔ مگر وہ اس سے سنبھل نہیں رہی تھی۔ میں نے پیرا میڈک عملے کو اشارہ -کیا کہ وہ لاش لے کر یہاں سے جائیں اور انہوں نے عجلت میں اسٹریچر ایمبولینس میں ڈالا ۔ دروازہ بند کیا اور ایمبولینس سائرن بجاتی ہوئی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ اس دوران میں شارق نے نازیہ کو سمجھا لیا تھا اور وہ اسے اندر لے جانے میں کامیاب رہا۔ میں نے وہاں موجود لوگوں کو لتاڑا۔ یہاں قتل ہوا ہے اور تم لوگ تما شا دیکھ رہے ہو۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا۔ ہمارے پاس دیکھنے کے لیے یہی تماشے رہ گئے ہیں۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ “کیا خیال ہے تمہیں کچھ اور تماشے دکھاؤں ۔نوجوان جلدی سے پیچھے ہٹا ۔ ناراض کیوں ہوتے ہو بھائی ، میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا ۔”میں نے مجمع کی طرف دیکھا۔ کسی نے کچھ دیکھا ہے تو بتائے ؟“ مگر حسب توقع کوئی سامنے نہیں آیا۔ مجھے غصہ اس بات پر آیا کہ وہ یہاں ہونے والے سانحے سے بے نیاز مشتاق علی کی بیوہ کو دیکھ رہے تھے۔ خاص طور سے اس نوجوان کی آنکھوں میں بہت گند تھی ۔ یہ سب محلے والے تھے اور ان کا رد عمل افسوسناک ہی کہا جا سکتا تھا۔ بہر حال اب تماشا ختم ہو گیا تھا اس لیے محلے والے بھی رخصت ہو گئے۔ میں نے تماشا دیکھنے والے نوجوان کو مشتاق علی کے مکان کے بالکل سامنے والے مکان میں جاتے دیکھا۔ گویا وہ ان کا پڑوسی تھا اور ایسے میں اس کا رویہ زیادہ افسوسناک تھا۔ موبائل چلی گئی تھی اور میرے ساتھ صرف تھانے کے اہلکار تھے۔ میں نے ٹارچ کی روشنی میں زمین کا جائزہ لیا۔ یہاں کبھی سڑک ہوا کرتی تھی مگر اب وہ مٹی تلے جا چکی تھی اور عملاً گلی کیچی تھی۔ میں نے نوٹ کیا کہ گلی میں صرف ایک بائیک اور دو گاڑیوں کے ٹائروں کے نشانات تھے۔ بائیک مشتاق علی کی تھی جبکہ گاڑیاں پولیس موبائلز تھیں۔ ان کے علاوہ کسی گاڑی کے تازہ نشانات نہیں تھے۔ ہوا خاصی تیز تھی اور یہ نشان بھی تیزی سے مٹ رہے تھے۔ پیروں کے نشانات تو لاتعداد تھے اور انہیں دیکھنا اور یاد رکھنا ممکن بھی نہیں تھا۔ اگر قاتل کسی گاڑی میں آیا
تھا تو اس نے گاڑی یقینا ‎گلی سے باہر رکھی ہوگی اور یہاں سے پیدل ہی گیا ہو گا ۔ میں نے ذہن میں تصور کیا کہ قاتل نے کیس طرح یہ کام کیا ہوگا ۔ وہ مشتاق علی کو چونکنے یا سنبھلنے کا موقع دیے بغیر وار کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے وہ گلی میں گاڑی یا کسی چیز کے بغیر آیا تھا۔ مگر اس صورت میں اسے چھپنا ہوتا ورنہ مشاق علی لازمی اس کی موجودگی سے چوکنا ہو جاتا اور یہاں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ گلی بیس فٹ سے زیادہ چوڑی نہیں تھی۔ مکانوں کے سامنے چھوٹے سلوپ تھے کیونکہ گلی اونچی ہو چکی تھی اور اکثر لوگوں نے اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلز اندر کھڑی کی ہوئی تھیں۔ پوری گلی میں صرف دو گاڑیاں باہر تھیں اور مشتاق علی کے گھر سے خاصی آگے تھیں۔ اگر قاتل ان کے پیچھے چھپتا تو مشتاق علی کی نظروں سے بچ کر وہ اس کے عقب تک نہیں آسکتا تھا۔ مشتاق علی کا گھر گلی کے وسط میں تھا اور گلی ایک سرے سے دوسرے سرے تک کوئی تین سوفٹ لمبی تھی۔ اگر قاتل گلی کے سرے سے آتا تب بھی وہ بائیک کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اور وہ لاش کی حالت سے لگ رہا تھا کہ بائیک رکتے ہی قاتل نے عقب سے وار کیا تھا اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب قاتل پہلے سے یہاں موجود ہوتا۔ تب یہ ایک ہی‎ صورت میں ممکن تھا کہ مشتاق علی قاتل سے واقف تھا۔ رات کے ڈھائی بج چکے تھے۔ میرے ساتھ آنے والے سپاہی جمائیاں لے کر ظاہر کر رہے تھے کہ اب انہیں واپس تھانے جانے کی جلدی تھی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ انہیں اصل کس چیز کی جلدی تھی۔ تھانوں میں کمائی کے اصل دھندے رات کے وقت ہوتے ہیں اور جو تھانوں سے دور ہوں وہ کمائی سے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے پولیس میں گشت کو اصل میں سزا تصور کیا جاتا ہے۔ ہاں مخصوص علاقوں میں گشت کے لیے پولیس والے منہ مانگی رقم بھی دیتے ہیں۔ بالآخر میرا ما تحت اے ایس آئی نزدیک آیا اور دبی زبان میں بولا۔
‎سرجی واپس نہ چلیں “
‎چلتے ہیں ۔ میں نے کہا۔ میں بائیک کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی وقوع میں شامل تھی اور اصولاً اسے بھی تھانے لے جانا چاہیے تھا مگر ہماری موبائل میں اس کی گنجائش نہیں تھی اس لیے میں نے شارق کو بلا کر بائیک اس کے حوالے کی اور اسے خبر دار کر دیا کہ اسے نہ چھیڑے، ممکن ہے پولیس بعد میں اس کا معائنہ کرے۔ اس نے یقین دلایا کہ بائیک کو کوئی نہیں چھیڑے گا۔ پھر اس نے مجھ سے مشتاق علی کی لاش کا پوچھا۔
‎ہمیں جنازے کا انتظام بھی کرنا ہے؟“
‎میرا خیال ہے صبح تک مل جائے گی۔ مگر یہ پوسٹ مارٹم پر ہے، اگر وہ مکمل ہو گیا تو جلد مل جائے گی ورنہ دیر بھی ہو سکتی ہے۔“ میں نے کہا اور موقع پاکر اس سے کچھ سوالات اور کر لیے۔ مشتاق علی کے تمہارے
علاوہ کتنے بہن بھائی ہیں؟“
‎ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں ۔ اس نے کہا اور پھر سرد آہ بھر کر بولا ۔ ” اب ایک بھائی اور ایک بہن رہ گئے ہیں۔ بہن کی شادی ہوگئی ہے، وہ مشتاق بھائی سے چھوٹی اور مجھ سے بڑی ہے۔ ابھی اسے نہیں بتایا ہے ۔”
‎تم لوگ آرام کرو، تدفین کے بعد میں تم سے آکر بات کروں
گا۔ ممکن ہے تمام گھر والوں سے بیان لوں”۔
‎اس نے سر ہلایا اور اندر چلا گیا ۔ میں واپس تھانے آیا اور ابتدائی رپورٹ لکھی ۔ ایف آئی آر کا مرحلہ باقی تھا مگر اس کا فیصلہ مشتاق علی کے لواحقین اور افسران.
‎نے کرنا تھا۔ میری ڈیوٹی صبح آٹھ بجے تک تھی پھر میں آف کر کے گھر چلا گیا ۔ پچھلے کچھ عرصے سے پولیس افسران اور اہلکاروں کی تواتر سے ٹارگٹ کلنگ کی
وارداتوں نے تمام ہی پولیس والوں کو چوکنا کر دیا تھا۔ اب ہم ڈیوٹی پر آتے جاتے سادہ لباس میں ہوتے تھے۔
یہ ظاہر ایسا لگ رہا تھا۔ ‎کہ مشتاق علی کا قتل اس ٹارگٹ کلنگ کی لہر کا ایک حصہ تھا جس کا مقصد پولیس اور حکومت کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرگرمی سے روکنا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ قتل اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ نہیں تھی جو شہر میں اس وقت جاری تھی بلکہ اس کے پس پشت کچھ اور عوامل کارفرما ہو سکتے تھے.
جب میں سو کر اٹھا تو ٹی وی پر چلنے والی ہیڈ لائنز کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے اسے جرائم پیشہ عناصر کی کارروائی قرار دے دیا تھا کیونکہ مشتاق علی ان کے خلاف سرگرم تھا اور اس نے اپنی خفیہ ڈیوٹی کے دوران کئی جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرایا تھا جو سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ مشتاق علی کو ان ہی لوگوں نے قتل کیا ہے۔ قتل کا انداز بتارہا تھا کہ وہ ڈیوٹی کے مقام سے اس کے پیچھے لگے تھے اور عین اس وقت جب وہ گھر میں داخل ہونے والا تھا عقب سے گولی چلا کر اسے شہید کر دیا۔ میں ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا ۔ افسران بالا نے طے کر دیا تھا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ تھی اور اس کا مجرم قسمت سے ہی ہاتھ آتا جب وہ کسی اور کیس میں پکڑا جاتا اور دوران تفتیش اس کا بھی انکشاف کرتا لیکن میری چھٹی حس اپنی رائے پر قائم تھی کہ یہ قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں تھی ۔قتل کے اصل محرکات اور قاتل تک پہنچنے کے لیے تفتیش لازمی تھی اور ڈی آئی جی کی پریس کانفرنس کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ کیس جلد اسپیشل برانچ کو منتقل کر دیا جائے گا اور کچھ عرصے بعد یہ داخل دفتر ہو جائے گا کیونکہ سیکڑوں پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی اور چند ایک کے قاتل اتفاق سے ہاتھ آئے تھے۔ ورنہ باقاعدہ تفتیش کر کے آج تک ایک بھی ٹارگٹ کلر کو نہیں پکڑا گیا تھا۔ حد یہ کہ جن کی سی سی ٹی وی فویج تھیں وہ بھی نہیں پکڑے گئے۔ میں نے معلوم کیا تو مشتاق علی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد وارثوں کے حوالے کر دی گئی تھی اور عصر کے وقت تدفین تھی۔ میں جنازے میں شریک ہوا اور پھر تھانے آیا تو انچارج سلامت قریشی نے مجھ سے کہا۔ ” یاور شاہ آج ہی تمام متعلقہ لوگوں کے بیانات قلم بند کر لو ۔“
‎ایف آئی آر کا کیا ہوگا ؟“
‎شارق نے ایف آئی آر کٹوا دی ہے اور نا معلوم قاتلوں پر الزام لگایا ہے۔“
‎جو شاید اب نا معلوم ہی رہیں گے۔“ میں نے تلخی سے کہا تو سلامت قریشی نے چونک کر میری طرف دیکھا ۔
‎کیا ہوا ہے ؟” آپ نے ڈی آئی جی کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی۔ اس قاتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کل تک یہ کیس اسپیشل برانچ چلا جائے گا ۔ یار یہ ڈی آئی جی صاحبان پر یس کا نفرنس اس شوق میں کرتے ہیں کہ ٹی وی پر آتے رہیں ۔ تم اس چکر میں مت پڑو اور اپنے طور پر کام کرو۔”
‎جیسا آپ کہیں ۔ میں نے کہا اور اپنے کمرے میں آکر کیس فائل منگوائی ۔ اس میں ایف آئی آر کی نقل اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ شامل تھی ۔ معاملہ ایک پولیس والے کا تھا اس لیے سارا کام بہت تیزی سے ہو رہا تھا۔ اگر کوئی عام آدمی ہوتا تو اب تک ایف آئی آر ہی نہ کئی ہوتی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بہت سادہ تھی ۔ اس کے مطابق موت گولی دماغ پر لگنے سے واقع ہوئی تھی۔ طبی وجہ سانس اور دل کا رکنا تھا ۔ وقت دو بجے کے آس پاس تھا یہ ایف آئی آر بھی سادہ تھی ، اس میں شارق نے بھائی کے قتل کا الزام نا معلوم افراد پر لگایا تھا۔ بیانات کا حصہ خالی تھا۔ میں نے ” اپنی ابتدائی رپورٹ فائل میں لگائی اور کمر کس کر تیار ہو گیا۔
‎ اگرچہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں فضول میں بھاگ دوڑ کروں گا۔ کیسں بالآخر مجھ سے لے لیا جائے گا ۔ مگر ابھی تو یہ میرے پاس تھا اور مجھے کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔ میرا تعلق ایک سکہ بند پولیس خاندان سے ہے۔
‎میرے دادا، چچا، تایا اور خاندان کے بے شمار دوسرے لوگ کی ساری عمر پولیس کی ملازمت کرتے رہے تھے۔ اس وقت بھی میرے قریبی ایک درجن رشتے دار پولیس میں مختلف عہدوں پر تھے اور دور کے رشتے دار بھی شامل کیے جائیں تو یہ تعداد دو درجن سے بھی اوپر چلی جاتی ۔ میرے دو بڑے بھائی ڈی ایس پی اور ایس پی کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ بڑے بھائی تو فیڈرل چلے گئے تھے البتہ ان سے چھوٹے یہیں ہوتے تھے۔ شاید اسی لیے میرا پولیس کیریئر آسانی سے بن گیا اور ملازمت کے دس سالوں میں بھی مجھے کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔ چھوٹی موٹی مشکلات کا سامنا تو سب کو کرنا پڑتا ہے۔ مگر ایسی صورت حال ‎درپیش نہیں آئی کہ مجھے استعفے کا سوچنا پڑتا ۔ ان دس سالوں میں ، میں نے بہت گھاٹ گھاٹ کا پانی پی لیا تھا۔ مجھے بحرانوں سے نکلنا آگیا تھا۔ میں مشتاق علی کے گھر پہنچا تو باہر ہی ٹینٹ لگا ہوا تھا اور بہت سے لوگ قرآن خوانی اور گپ شپ میں مصروف تھے ۔ شارق مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر آیا اور اندر لے گیا۔ اس نے نشست گاہ کھلوائی۔ مکان کے اندر اب خاموشی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سوگ کا زور گزر گیا تھا ۔
‎جناب کیا پسند کریں گے ٹھنڈا یا گرم؟”
‎کچھ نہیں بس ایک گلاس پانی منگوا لو ۔ میں نے کہا۔ میں تمہارا اور گھر والوں کا بیان لینے آیا ہوں ۔
‎میں تیار ہوں لیکن نازیہ … بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، ڈاکٹر نے نیند کی دوا دے کر سلا دیا ہے۔“
‎میں نے نوٹ کیا کہ اس نے دوسری بار نازیہ کا نام لیا اور پھر ذرا رک کر اس کے ساتھ بھابی لگایا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اسے بھابی نہیں کہتا تھا۔ رشتے میں وہ اس سے بڑی سہی لیکن عمر میں یقینا کم تھی۔ میں نے سر ہلایا۔ کوئی بات نہیں اس سے بعد میں بات کرلوں گا۔ یہ بتاؤ کہ اس مکان میں کتنے لوگ رہتے ہیں ؟؟؟
‎میں ، میری بیوی رائنا اور بھابی ۔ اس نے جواب دیا۔
‎بچے کتنے ہیں؟“
‎صرف میرا ایک بیٹا ہے۔“ اس نے جواب دیا۔
‎مشتاق بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔
‎مشتاق علی کی شادی کب ہوئی تھی ؟“
‎دو سال پہلے ۔“
‎میں نے سر ہلایا۔ ” اس کا مطلب ہے مشتاق نے خاصی تاخیر سے شادی کی ۔” وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی نوکری سے شادی کر لی ہے. مگر میں نے اور رائنا نے انہیں قائل کر لیا ۔”
نازیہ صرف حسین ہی نہیں کم عمر بھی تھی اور مشتاق علی کے بارے میں ، میں نے بتایا کہ وہ عام سا اور کرخت نقوش والا بندہ تھا۔ پھر مولوی بھی تھا یعنی رشوت سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ اس لحاظ سے نازیہ جیسی بیوی مل جانا اس کی خوش قسمتی تھی اور بدقسمتی یہ تھی کہ وہ اس کے ساتھ صرف دو سال گزار سکا۔ میں مشتاق علی کے پورشن کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا اور یہاں بالکل معمولی سا فرنیچر تھا۔ مکان کی حالت رنگ و روغن کے بعد بھی بہت اچھی نہیں تھی۔ شارق کا بیان لے کر میں نے اس کی بیوی سے بات کی ۔ اصولاً مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنی چاہیے تھی لیکن اگر کیس کسی پولیس والے سے متعلق ہو تو خود پولیس مشکل میں پڑ جاتی ہے۔ اسے تفتیش کے بہت سے طریقے چھوڑنے پڑتے ہیں ۔ رائنا تقریباً بائیس برس کی مناسب صورت والی لڑکی تھی۔ اگرچہ وہ نازیہ کی طرح حسین نہیں تھی مگر اس میں دل کشی موجود تھی۔ اس کی گود میں تقریباً ڈیڑھ سال کا بیٹا تھا۔
‎ظاہر اس کی شادی کو بھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا ۔
‎جس وقت یہ واقعہ ہوا تم سورہی تھیں ؟”
‎جی انسپکٹر صاحب ۔ اس نے جواب دیا۔
‎تمہیں کیسے پتا چلا ؟”
‎” مجھے شارق نے اٹھایا۔ اس نے سادگی سے جواب دیا۔ تب پتا چلا ۔”
‎میں نے اس سے چند سوالات اور کیے۔ جوابات میں اپنی چھوٹی سے نوٹ بک میں لکھتا جا رہا تھا۔ ان کے پاس بتانے کو زیادہ نہیں تھا۔ میں نے اٹھتے ہوئے شارق سے کہا۔ میں بیانات کو باقاعدہ ٹائپ کروا کے بھیج دوں گا ، تم دونوں دیکھ کر سائن کر دینا ۔
‎شارق میرے ساتھ باہر آیا۔ اس نے انکار کیا کہ مشتاق علی کو کسی طرف سے خطرہ تھا۔ اس نے اس سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر ایسا تھا بھی تو اسے علم نہیں۔ اس سوال کے جواب پر کہ مشتاق اور اس کے تعلقات بے تکلفانہ تھے، اس نے کسی قدر ہچکچا کر کہا وہ عمر میں اس سے بڑے تھے اور ان کے درمیان بے تکلفی نہیں تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے آہستہ سے کہا۔ ایک بات میرے علم میں ہے لیکن پتا نہیں اس سے آپ کو مدد ملے یا نہیں ۔“ کیسی بات؟
‎دو دن پہلے مشتاق بھائی اسی طرح رات کے وقت آئے تو میں جاگ رہا تھا اور واش روم میں تھا۔ میں نے مشتاق بھائی کو کسی سے بات کرتے سنا۔ مشتاق بھائی اونچی آواز میں بول رہے تھے …
‎ایک منٹ میں نے اس کی بات کائی ۔ ” تم واش روم میں تھے تو تم نے کیسے سن لیا ؟“
‎میرے کمرے کا واش روم مین گیٹ کے بالکل اوپر ہے۔ اس نے اشارے سے دکھایا۔ واقعی واش روم اس جگہ سے بہت نزدیک تھا اور باہر کے رخ پر اس میں ایک بڑا سا روشن دان بھی تھا۔ میں نے سر ہلایا۔
‎ٹھیک ہے اس کے بعد کیا ہوا ؟“
‎میں عجلت میں باہر آیا کہ دیکھوں مشتاق بھائی کس سے بات کر رہے ہیں مگر اس وقت تک دوسرا فرد جا چکا تھا اور گلی میں صرف مشتاق بھائی تھے۔“
‎تم نے دوسرے فرد کی آواز بھی نہیں سنی ؟“
‎وہ بہت ہلکی آواز میں بول رہا تھا۔ سچی بات ہے کہ میں مشتاق بھائی کے بھی چند الفاظ سمجھ سکا تھا ، وہ کسی سے غصے میں بات کر رہے ہیں۔”
‎تم نے مشتاق سے پوچھا کہ وہ کس سے بات کر رہا تھا ؟”
‎” پوچھا تھا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا اور رکھائی سے بولے کوئی نہیں تھا۔
‎گیٹ کس نے کھولا ؟”
‎” مشتاق بھائی کے پاس چھوٹے گیٹ کی چابی ہوتی ہے ، وہ اس کا لاک کھول کر اندر آ جاتے ہیں ۔
‎تم نیچے آئے توتم نے کسی گاڑی یا بائیک کی آواز سنی تھی۔
‎نہیں، مجھے ایسی کوئی آواز نہیں آئی ۔
‎” تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟“
‎کل تو میرے حواس ہی گم تھے اور آج میں سوچ رہا تھا کہ شاید آپ اس بات کو اہمیت نہ دیں ۔ اس لیے بیان میں نہیں بتایا مگر پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور اب بتارہا ہوں، چاہیں تو اسے بیان کا حصہ بنالیں ۔
‎یہ تو کرنا پڑے گا ۔ میں نے کہا۔ لیکن اس لحاظ سے بے سود ہو گا کہ تم نے نہ تو اس شخص کو دیکھا اور نہ ہی شناخت کر سکے، تم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ گیا کہاں ؟“ باہر نکل کر میں نے محلے والوں کو پکڑا۔ خاص طور سے جن کے مکانات مشتاق علی کے مکانات کے پاس تھے۔ ان میں سے کسی نے اعتراف نہیں کیا کہ اس نے گولی چلنے کی آواز سنی تھی۔ وہ سب نازیہ کی چیخ و پکار پر باہر آئے تھے۔ یہ عجیب بات تھی ۔ کیا ایک عورت کی چیخ گولی کی آواز سے زیادہ بلند تھی۔ میں نے چار افراد کے بیان قلم بند کیے جو واقعے کے پانچ منٹ کے اندر اندر باہر آئے تھے اور انہوں نے مشتاق کی لاش دیکھی تھی۔ نازیہ اس سے لپٹ کر رو رہی تھی اور شارق اسے الگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر لوگوں کے جمع ہونے پر وہ بہ مشکل اسے اندر لے گیا تھا۔ بیانات میں کچھ خاص نہیں تھا۔ ان سے بس فائل کا پیٹ بھرتا اور خانہ پری ہوتی ۔ مگر مشتاق علی کے قاتل یا قاتلوں تک کوئی رہنمائی نہیں ہو رہی تھی۔ چار پڑوسیوں کے بیانات قلم بند کر کے میں واپس جانے کا سوچ رہا تھا کہ مجھے وہی نوجوان نظر آیا۔ وہ بائیک پر کہیں سے آیا تھا۔ وہ جس گھر میں رہتا تھا اس کے مالک فیاض احمد سے میں نے بیان لے لیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا ایک بیٹا ریاض احمد ہے۔ میں نے اشارے سے بلایا۔ تم یقینا ریاض احمد ہو؟“‎ابا جی نے بتایا ہو گا ۔
اس نے بے پروائی سے کہا۔ ” مجھ سے کیا کام ہے.تم پڑھتے ہو۔ میں نے کہا ۔ لیکن یہ باپ کا کہنا ہے، میرا خیال ہے تم صرف وقت اور خود کو ضائع کر رہے ہو۔“
‎اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ” آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔
‎کچھ نہیں، یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسے پتا چلا کہ محلے میں کچھ ہو گیا ہے۔“
‎چیخیں سن کر ۔ اس نے جواب دیا۔ ” میں اوپر رہتا ہوں اور میرے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ اس نے اوپری کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ کھڑکی باہری حصے
میں تھی۔
‎تم نے کیا دیکھا ؟
‎ مشتاق بھائی کی بیوی اور شارق بھائی کو دیکھا تھا۔
‎اور پھر تمہاری ساری توجہ مشتاق کی بیوہ کی طرف ہو گئی۔ میں نے خفیف سے طنز کے ساتھ کہا تو اس نے بدمزہ ہو کر جواب دیا۔ صرف میں تو نہیں دیکھ رہا تھا۔
‎‎اس کی بات درست تھی اس لیے میں نے اس کی جان چھوڑ دی اور تھانے آ کر بیانات تحریر کراۓ اور شارق علی کے بیان کا بھی ذکر کر ڈالا ۔ اگرچہ اس سے کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اس نے نہ تو کسی کو دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی آواز سنی تھی ۔ پھر بھی یہ ریکارڈ کا ایک حصہ تھا۔ میں نے بیانات بھجوانے سے پہلے سلامت قریشی کو دکھائے اور اس نے بھی مشتاق کی کسی سے لڑائی کو پوائنٹ آؤٹ کیا۔ اس سے تو لگ رہا ہے کہ مشتاق کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔
‎ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا۔ مگر عام طور ہے ٹارگٹ کلرز اتنی خاموشی سے کام نہیں کرتے ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا شکار بچنے نہ پائے باقی انہیں کوئی دیکھ لے اس سے انہیں خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔ وہ اپنے شکار سے زبانی لڑائی بھی نہیں کرتے ہیں ۔‎سلامت قریشی نے سر ہلایا ۔ یہ بھی تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ لگتا ہے اس کیس میں بھی قاتل کا کوئی سراغ نہیں ملے گا. کیونکہ ہمارے بڑوں کی یہ نیت ہی نہیں ہے ۔ میں نے تلخی سے کہا۔ مارے جانے والے سارے نچلے ‎درجے کے افسران ہیں جن سے کام لیا جاتا ہے اور جب کام نکل جاتا ہے تو انہیں قاتلوں کے آگے مرنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔” ‎یہ تو ہے یار، پر کیا کریں نوکری نوکری ہوتی ہے۔ سلامت قریشی نے سر ہلایا ۔ کچھ قصور ہمارا بھی ہے، اوپر والوں کی نظروں میں چڑھنے اور ترقی پانے کے لیے سب کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔”‎حالانکہ بیشتر ترقی پاکر ہمیشہ کے لیے اوپر چلے جاتے ہیں ۔ میں نے کہا۔ مشتاق علی کے بارے میں معلوم کیا ہے کہ وہ آج کل کس ڈیوٹی پر تھا ؟”
‎ظاہر ہے سی آئی ڈی کی ڈیوٹی تھی مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ کس خاص مشن پر تھا یا معمول کی ڈیوٹی کر رہا تھا ۔ ‎یہی تو معلوم کرنا ہے۔“
‎میں نے اس کی مکمل رپورٹ مانگی ہے، اب دیکھو کب ملتی ہے، ملتی بھی ہے یا نہیں ۔“
‎معاملہ سی آئی ڈی کا تھا اور ان لوگوں کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ یہ ان باتوں کو خفیہ سمجھ رہے ہوتے ہیں جن سے سارا شہر واقف ہوتا ہے اور اس وجہ سے ان سے کچھ حاصل کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ سلامت قریشی نے مشورہ دینے کے انداز میں کہا۔ ”یاور تفتیش آرام سے کرو۔ کچھ عرصے بعد کیس انویسٹی گیشن کو چلا جائے گا ۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔ میرا بھی یہی خیال تھا مگر نہ جانے کیوں جب مجھے مشتاق علی کا خیال آتا تو مجھے لگتا وہ اس انجام کا مستحق نہیں تھا۔ اس نے اپنی ساری سروس میں کوئی ناجائز کام نہیں کیا تھا ، نہ تو رشوت نہ کوئی فائدہ اٹھایا تھا اور نہ ہی کسی پر ظلم کیا تھا بلکہ تھانے میں وہ بہت سے بے گناہ پھنس کر آنے والوں کی مدد کرتا تھا اور اسی وجہ سے اپنے ساتھیوں کی نظروں میں برا بنتا تھا۔
وہ بے دردی سے اپنے گھر کے دروازے پر قتل کر دیا گیا تھا اور وہ مستحق تھا کہ اس کے قاتل یا قاتلوں کو گرفتار کر کے سزا دلوائی جائے ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے بہت نزدیک سے گولی ماری گئی تھی اور فاصلہ شاید چند فٹ تھا۔ پوسٹ مارٹم کے ساتھ لیب کی رپورٹ بھی آگئی تھی جس کے مطابق گولی جس ہتھیار سے چلائی گئی وہ بائیس بور کا پستول تھا۔ مجھے تعجب ہوا کیونکہ ٹارگٹ کلر وارداتوں میں ننانوے فیصد نائن ایم ایم استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے میگزین میں خاصی گولیاں آتی ہیں۔ دوسرے یہ جام نہیں ہوتا ہے۔ گولی کی قوت بہت زیادہ ہوتی ہے اور نزدیک سے فائر کرنے پر یہ ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مگر مشتاق علی کو قتل کرنے والے نے بائیسں بور کا کمزور پستول استعمال کیا تھا۔ اس کی گولی عام طور سے دس بارہ فٹ کے فاصلے سے ہی جان لیوا ہوتی ہے اگر فاصلہ اس سے زیادہ ہو تو شکار کے مارے جانے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں ۔
شاید یہی وجہ تھی کہ قاتل نے چند فٹ کے فاصلے سے گولی چلائی تھی۔ میں نے لیب کال کر کے پوچھا کہ اس سال مارے جانے والے افراد میں سے کتنے بائیسں بور کے ہتھیار کی گولی کا شکار ہوئے ہیں ؟ آدھے گھنٹے بعد جواب ملا کہ واحد شکار مشتاق علی تھا۔ اس کے علاوہ جو ساڑھے نو سو افراد مارے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی بائیسں بور کے پستول کا شکار نہیں ہوا تھا۔ یہ حیران کن انکشاف تھا۔ ٹارگٹ کلرز تو چھوڑیں عام لڑائی جھگڑوں اور دشمنی میں ہونے والے قتل میں بھی بائیسں بور کا ہتھیار استعمال نہیں ہوا اور یہاں قاتل نے ایک تربیت یافتہ اور سی آئی ڈی میں کام کرنے والے مسلح پولیس افسر کو بائیسں بور کے ہتھیار سے قتل کیا تھا۔ مشتاق علی کے پاس بتیس بور کا سروس پستول تھا اور یہ بہت خطرناک ہتھیار تھا۔ سلامت قریشی نے بتایا کہ اس نے مشتاق علی کی ڈیوٹی کی تفصیلات طلب کی تھیں مگر امکان کم تھا کہ یہ تفصیلات ہمیں آسانی سے ملیں۔ اس کے لیے مجھے ہی کوشش کرنا تھی۔
مگر مجھے کوشش کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ میرے خیال میں مشتاق کا قتل ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس خیال نے مجھے دوسرے امکانات پر غور کرنے پر مجبور کیا ۔ اگر قتل کا محرک گھر یا اس کے آس پاس تھا تو مجھے گھر یا آس پاس والوں سے ہی تفتیش کرنی تھی ۔ میرے ذہن میں رہ رہ کر شارق کی بات آرہی تھی کہ قتل سے دو دن پہلے مشتاق علی کی کسی سے تلخ کلامی ہوئی تھی ۔ ممکنہ طور پر قتل اس تلخ کلامی کا نتیجہ تھا۔ میں نے نازیہ کا بیان نہیں لیا تھا۔ اگلے دن میں شام کے وقت مشتاق علی کے گھر پہنچا تو سوگ کی علامت یعنی ٹینٹ اٹھا لیا گیا تھا اور زندگی جیسے معمول پر آگئی تھی لیکن گھر والے یقینا کئی دن ڈسٹرب رہتے ۔ خاص طور سے مشتاق علی کی بیوہ جس کا سہاگ اجڑ گیا تھا۔ کال بیل کے جواب میں رائنا نے دروازہ کھولا اور سلام کے بعد مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ میں نے کہا ۔ میں مسز مشتاق کا بیان لینے آیا ہوں ۔” اب وہ مسز مشتاق کہاں ؟ اس نے کسی قدر استہزائیہ انداز میں کہا ۔ ہاں ان کی بیوہ کہہ لیں ۔
‎‎میں چونکا کیونکہ رائنا نے شارق کی موجودگی میں مجھ سے بہت سادہ سے انداز میں بات کی تھی۔ وہ نپے تلے جواب دے رہی تھی اور اس نے اپنی طرف سے ایک بات بھی نہیں کی تھی لیکن اس وقت اس نے نہ صرف اپنی طرف سے بات کی تھی بلکہ اس کا لہجہ بھی کسی قدر بدلا ہوا تھا۔ ‎میں نے سرسری سے انداز میں کہا۔ چلو بیوہ ہی سہی ۔ اندر آئیے ۔ ” اس نے چھوٹا گیٹ وا کر دیا ۔
شارق کہاں ہیں؟
وہ قبرستان گئے ہیں ۔ رائنا نے کہا اور مجھے اندر لے آئی ۔ نازیہ آپ کے سامنے نہیں آسکے گی لیکن پردے کے پیچھے رہ کر بات کر سکے گی۔ کوئی مسئلہ نہیں، اسے صرف میرے سوالوں کے جوابات دینے ہیں ۔ رائنا اندر چلی گئی اور چند منٹ بعد ڈرائنگ کے آرچ نما حصے پر لگے پردے کے پیچھے نازیہ آگئی ۔ سلام کے بعد میں نے رسمی تعزیت کی اور مشتاق علی کا افسوس کیا تو وہ سکیاں لینے لگی۔ میں نے اسے کچھ وقت دیا۔ وہ سنبھل گئی اور بھرائی آواز میں بولی ” میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مشاق یوں مجھے چھوڑ جائیں گے۔“ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر آتی ہے ۔ میں نے کہا۔ “تم صبر سے کام لو اور مشتاق کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔“ اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ ہاں اب یہی رہ گیا ہے ۔ ” میں سوالات کی طرف آیا۔ جب مشتاق علی گھر کے سامنے پہنچا تو آپ جاگ رہی تھیں ؟”
‎میں روز ہی جاگی رہتی ہوں تا کہ انہیں کھانا گرم کر کے دوں۔ دروازہ کون کھولتا ہے؟
‎اس سوال کا اس نے شارق والا جواب دیا۔ ”ان کے پاس باہر کے چھوٹے گیٹ کے لاک کی چابی ہوتی تھی، وہ خود کھول کر اندر آتے تھے۔ میں نے دو تین بار ان سے کہا کہ میں کھول دیا کروں گی مگر انہیں پسند نہیں تھا کہ میں اتنی رات کو باہر گیٹ تک آؤں۔ ‎تم نے فائر کی آواز سنی تھی ؟
‎ہاں، اگرچہ آواز بہت مدھم تھی مگر میں نے سن لی تھی اور اس وقت مشتاق کی موٹر سائیکل کا انجن بند ہوا تھا۔ میں لیٹی ہوئی تھی اور انجن کی آواز سن کر اٹھی تھی ۔ فائر کی آواز سنتے ہی میرے دل کو کچھ ہوا اور میں تڑپ کر بھاگی تھی۔ ‎گیٹ کھول کر باہر آئی تو …. اس کی آواز گھٹ گئی اور وہ سکیاں لینے لگی ۔ میں انتظار کرتا رہا حتی کہ اس نے سیکیوں پر قابو پالیا اور بولنے لگی ۔ موٹر سائیکل گری ہوئی تھی اور مشتاق … بھی گرے ہوئے تھے۔ ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے انہیں جھنجوڑا مگر وہ ساکت رہے پھر میں چیخنے لگی اور میری چیخیں سن کر اوپر سے شارق آگیا ۔ مجھے کیسے اندر لایا، مجھے ہوش نہیں تھا ۔” فائر ہونے کے کتنی دیر بعد تم باہر نکلیں؟“ مشکل سے ایک منٹ کے اندر ۔ اس نے یقین سے کہا۔ انسپکٹر صاحب میں بہت تیز بھاگی تھی۔
مجھے تو دوپٹا لینے کا خیال بھی نہیں رہا تھا ۔“ جب تم باہر آئیں تو تم نے مشتاق علی کے علاوہ کسی کو گلی میں دیکھا ؟ نہیں اور مجھے اس کا ہوش ہی کہاں تھا۔ میرے حواس تو مشتاق کو یوں گرے دیکھ کر اڑ گئے تھے۔“ دیکھو بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں دیکھا لیکن آنکھیں جو دیکھتی ہیں، وہ دماغ محفوظ کر لیتا اپنے ذہن پر زور دو اور اس وقت کی کوئی ایسی چیز یاد کرنے کی کوشش کرو جو تم نے دیکھی تھی مگر اس پر توجہ نہیں دی تھی ۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے بے بسی سے کہا ۔ ۔” مجھے ایسا کچھ یاد نہیں آرہا ہے۔” ٹھیک ہے، میں کچھ ذاتی سوالات کرنا چاہوں گا ۔ امید ہے تم محسوس نہیں کرو گی ، یہ ہم پولیس والوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ اس نے سر ہلایا ” آپ پوچھیں ۔” ” تمہارے اور مشتاق علی کے تعلقات کیسے تھے؟ بہت اچھے ” اس نے جلدی سے کہا۔ ” وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے اور بہت محبت کرتے تھے ۔“ حالانکہ تم دونوں کی عمروں میں خاصا فرق ہے۔ ۔ وہ مجھ سے پندرہ سال بڑے تھے لیکن ہمارے درمیان یہ فرق کبھی حائل نہیں ہو سکا ۔ یہ شادی کیسے ہوئی ؟“ مشتاق کا رشتہ آیا تھا۔ اس نے کہا ۔ میرا دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے رشتے کی ایک خالہ نے پالا ہے مگر اب وہ خود اپنے بچوں کی محتاج ہو گئی تھیں اس لیے وہ چاہتی تھیں۔ کہ جلد از جلد میری شادی کر دیں ۔ اس لیے جب مشتاق کا رشتہ آیا تو انہوں نے یہ دیکھ کر وہ اچھے آدمی ہیں اور پھر اپنا مکان ہے ہاں کر دی ۔
گویا ارینج میرج تھی۔ نازیہ نے شادی والے دن ہی مشتاق علی کو پہلی بار دیکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے دل و جان سے مشتاق کو قبول کیا تھا اور اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔ بچوں کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ اور مشتاق علی دونوں ہی بچوں کے خواہش مند تھے اور انہوں نے طبی معائنہ بھی کرایا تھا ۔ وہ دونوں بالکل ٹھیک تھے بس قدرت کی طرف سے دیر تھی ۔ یہ سب بتاتے ہوئے نازیہ روہانسی ہو گئی ۔ اس نے کہا۔ ” اب میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، میں بالکل خالی ہوں ۔ میں نے اسے تسلی دی پھر پوچھا۔ واقعے سے دودن پہلے جب مشتاق رات گھر آیا تب تم جاگ رہی تھیں ؟“ اس نے سر ہلایا۔ میں ہر روز جاگتی تھی ۔“ تم نے کوئی ایسی آواز سنی تھی جیسے مشتاق کس سے بات کر رہا ہو؟ نہیں اس نے انکار کیا۔ ویسے میں باہر نہیں گئی تھی ۔ مشتاق خود اندر آئے تھے۔“ اس کا موڈ کیسا تھا ؟“ میرے سوال پر وہ سوچ میں پڑگئی پھر اس نے کہا۔ وہ کچھ غصے میں تھے مگر میرے ساتھ انہوں نے بالکل ٹھیک سے بات کی تھی ۔مشتاق نے کبھی ایسا ذکر کیا کہ اسے کسی سے خطرہ ہے؟ نہیں اور وہ ایسی باتیں کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔” یعنی صرف شارق نے مشتاق کو کسی سے بات کرتے سنا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس بارے میں شارق سے مزید سوالات کی ضرورت ہے۔ مگر وہ قبرستان گیا ہوا تھا۔ مجھے دیر تک بیٹھنا مناسب نہیں لگا ۔ یہاں کیونکہ گھر میں صرف عورتیں تھیں۔ میں نے نازیہ سے کہا۔ میں نے بیان لے لیا ہے لیکن اگر کوئی اور بات پوچھنی ہوئی تو میں پھر آؤں گا۔
‎جی اچھا ۔ اس نے جواب دیا۔
‎‎تم کو مشتاق کے حوالے سے کوئی ایسی بات یاد آئے جو اس کے قاتل تک پہنچنے میں پولیس کی معاون ہو تو مجھ سے شارق کے توسط سے رابطہ کرنا ۔ ‎میں باہر نکلا تو رائنا منتظر تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا رکھا تھا، وہ دروازے تک آئی ۔ جب میں باہر نکل رہا تھا تو اس نے آہستہ سے کہا۔ نازیہ نے آپ سے جھوٹ کہا ہے۔ میں چونکا۔ اس نے اتنے دھیمے لہجے میں کہا تھا کہ میں بھی یہ مشکل سن سکا۔ کیا مطلب۔۔۔کیا جھوٹ کہا ہے ؟” رائنا نے مڑ کر اندر کی طرف دیکھا اور پھر دھیمی آواز میں بولی ۔ اس کے اور مشتاق بھائی کے تعلقات اچھے نہیں تھے مگر وہ ظاہر ایسا کرتی ہے جیسے ان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ ‎اگرچہ یوں دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کرنا کچھ عجیب سا تھا مگر رائنا نے بات ہی ایسی کی تھی کہ میں رکنے پر مجبور ہو گیا۔ میں نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟
‎ ‎لو ایک ہی گھر میں تو رہتے ہیں ۔ وہ بے تکلفی سے بولی ۔ میں نے کتنی بار دونوں کو بند کرے میں جھگڑا کرتے سنا ہے۔‎میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے تعلقات خراب ہیں ۔ ‎اس نے ایک بار پھر پلٹ کر اندر کی طرف دیکھا اور مڑکر بولی ۔ نازیہ کا کسی سے چکر ہے کیونکہ میں نے مشتاق بھائی کو ایک بار کہتے سنا تھا کہ جب تم اس سے شادی کرنا چاہتی تھیں تو مجھ سے کیوں کی ؟
‎‎رائنا نے خاصا اہم انکشاف کیا تھا۔ ” مشتاق نے کسی کا نام لیا تھا یا بعد میں تمہارے علم میں کوئی نام آیا ؟
‎‎اس نے سر ہلایا۔ نازیہ کو پالنے والی خالہ کا لڑکا ہے.
نازیہ کو پالنے والی خالہ کا لڑکا ہے سرفراز ، اس سے اس کا چکر چل رہا تھا تو خالہ نے بیٹے کو بچانے کے لیے زبردستی اس کی شادی مشتاق بھائی سے کر دی۔ اس وقت ہمیں علم نہیں تھا ورنہ اس طرح نہ پھنستے اور مشتاق بھائی اپنی جان سے نہ جاتے ۔”
میں نے اسے کہا۔ تم جو بتا رہی ہو، یہ سب سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنے گا۔“
‎بنے جی۔ وہ بولی ۔ میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں ، بے شک شارق کو بھی اچھا نہ لگے مگر میں سچ بات ضرور کہوں گی۔“
‎اسی لمحے شارق آگیا۔ اسے دیکھ کر رائنا جلدی سے اندر چلی گئی اور شارق نے موٹر سائیکل سے اتر کر مجھ سے ہاتھ ملایا۔ کیسے آنا ہوا انسپکٹر صاحب؟”
‎نازیہ کا بیان لینا تھا وہ لے لیا ہے مگر اب تم سے مزید کچھ باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔“
‎‎” آئیے میرے ساتھ ۔ شارق نے کہا اور مجھے اوپر لے آیا ۔ اوپری پورشن کی حالت سے مجھے اندازہ ہوا کہ شارق کی مالی حالت اپنے بھائی سے زیادہ اچھی تھی۔ اس نے اچھا فریچر ڈلوایا ہوا تھا اور بیڈ روم کے ساتھ اسپلٹ اے سی کا باہر والا یونٹ لگا ہوا تھا ۔ اپنے بیڈ روم کے بارے میں وہ پہلے ہی بتا چکا تھا۔ بیڈ روم کے آگے اٹیچ باتھ روم تھا اور باقی حصہ بالکونی میں شامل تھا ۔ اس میں بیڈ روم کی کھڑکی بھی کھل رہی تھی اور اے سی کے اوپر اسپلٹ کا بیرونی یونٹ لگا ہوا تھا۔ نشست گاہ ٹیرس کے پار اندر کر کے تھی ۔ وہ مجھے اندر لایا ۔ اس نے ٹھنڈے گرم کا پوچھا مگر میں نے منع کر دیا تو اس نے کہا۔ ”جی پوچھیں ؟
‎تم نے بتایا کہ تم واش روم میں تھے جب تم نے مشتاق علی کو باہر کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے سنا۔
‎‎جی یہ درست ہے۔
‎تب تم کتنی دیر میں نیچے پہنچے؟“
‎اس نے سوچا اور بولا ۔ مشکل سے ایک منٹ لگا ہو گا ، تب تک مشتاق بھائی بڑا گیٹ کھول کر موٹر سائیکل اندر لا رہے تھے۔
‎” جب تم واش روم میں تھے تب مشتاق کی آواز آرہی تھی یا تم نے باہر آنے کے بعد بھی اس کی آواز سنی تھی ؟“
‎اس نے پھر سوچا اور بولا ۔ “نہیں باہر آنے کے بعد مجھے ان کی آواز نہیں آئی تھی ۔
‎” تم نے باہر دیکھا تھا کہ گلی میں کون ہے؟“
‎ظاہر ہے مجھے تجس تھا کہ مشتاق بھائی کس سے یوں بات کر رہے تھے مگر گلی بالکل خالی تھی ۔” ” مشتاق اور نازیہ کے آپس کے تعلقات کیسے تھے؟
‎میرے اس سوال پر وہ محتاط ہو گیا اور اس نے جواب دیا ۔ اچھے تھے، تھوڑی بہت کھٹ پٹ تو سارے ہی میاں بیوی میں ہوتی ہے۔“ نازیہ مشتاق سے پندرہ سال چھوٹی ہے، کیا وہ اس شادی سے خوش تھی؟ بالکل جی تبھی تو دو سال سے بھائی کے ساتھ رہ رہی تھی ۔ ممکن ہے وہ کسی اور کو پسند کرتی ہو مگر اس کے سر پرستوں نے اس کی مرضی کا خیال کیے بغیر اس کی شادی مشتاق علی سے کر دی ہو ؟“
‎شارق کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے جناب ۔ بھابی کسی کو پسند نہیں کرتی تھیں ۔
‎سرفراز ، نازیہ کی رشتے کی خالہ کا لڑکا ہے۔ نازیہ اس کے ساتھ شادی ہونے تک ایک گھر میں رہی ۔”
‎شارق نے گہری سانس لی۔ اب میں سمجھ گیا کہ یہ فساد کس کا پھیلایا ہوا ہے۔ یہ سب رائنا نے آپ کو بتایا ہے ؟
‎ہاں اس نے بتایا ہے۔
‎جناب یقین کریں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ سب رائنا کے دماغ کا فتور ہے۔“ اس کے دماغ میں یہ فتور کہاں سے آیا ؟“
‎آپ نے دونوں کو دیکھا ہے۔ بھابی اس کے مقابلے میں زیادہ خوب صورت ہے بس یہی بات اسے ہضم نہیں ہوتی ہے۔ وہ اس سے چڑتی ہے اور اس کے خلاف باتیں کرتی ہے۔“ مگر یہ الزام بہت سنگین ہے اور بات پولیس ریکارڈ میں جائے گی ۔ شارق پریشان ہو گیا ۔ ”خدا کے لیے انسپکٹر صاحب میری بات کا یقین کریں ۔ سرفراز بہت اچھا اور شریف لڑکا ہے۔ بھابی کو بہن کی طرح سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے اب تک ملنے کے لیے آتا ہے۔ رائنا نے
اسی بات کا بتنگڑ بنایا ہے۔
‎تب میں رائنا سے ایک بار پھر بات کروں گا ۔ میں اسے بلا کر لاتا ہوں۔” ضرور لیکن اس سے پہلے میں تمہارا واش روم دیکھنا چاہوں گا۔ اس نے نہ سمجھنے والے انداز میں میری طرف دیکھا ۔ جب میں نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ میں کیوں واش روم دیکھنا چاہتا ہوں تو وہ سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہوا اور مجھے واش روم تک لایا۔ یہ اچھا اور صاف ستھری ٹائلوں اور جدید سینٹری سے آراستہ واش روم تھا۔ باہر کی طرف فرش سے کوئی چھ فٹ کی بلندی پر اس کا خاصا بڑا روشن دان تھا اور یہ کوئی ڈیڑھ فٹ اونچا اور دو فٹ چوڑا تھا۔ ویسٹ اوپن ہونے کی وجہ سے اس سے ہوا فرفر اندر آ رہی تھی۔ اس کا درمیان میں گھومنے والا پٹ لگا ہوا تھا جسے آرام سے کھولا یا بند کیا جا سکتا تھا۔ واش روم کا معائنہ کر کے میں باہر آیا تو شارق رائنا کو بولا لایا۔ میں نے اس سے دوٹوک انداز میں کہا۔ دیکھو جو تم کہہ رہی ہو اس کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ پولیس ریکارڈ کا حصہ بننے اور تفتیش ہونے کی صورت میں اگر سرفراز اور نازیہ بے قصور نکلے تو تم پھنس جاؤ گی۔
‎میں کیوں پھنسوں گی ؟ وہ ذرا تنک کر بولی ۔ یہ قانونی معاملہ ہے اور عدالت میں ثابت کرنا پڑتا ہے۔
‎یہی تو میں اس احمق عورت کو اب تک سمجھاتا رہا ہوں ۔ شارق نے غصے سے کہا۔ لیکن اس کے سر میں بھوسا بھرا ہوا ہے۔
‎ثبوت تو کوئی نہیں ہے لیکن آپ اس لڑکے کو پکڑیں، وہ خود قبول کر لے گا۔ پولیس ایسے ہی کسی کو نہیں پکڑ سکتی۔ میں نے انکار کیا۔ جب تک ہمارے پاس ثبوت یا ضروری وجوہات نہ ہوں. رائنا کا چہرہ بجھ گیا۔ اچھا جی تب میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں ۔
‎ مشتاق علی میرا دوست اور محکمے کا ساتھی تھا اس لیے میں تم لوگوں کے ساتھ رعایت کر رہا ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم لوگ اپنے خاندانی جھگڑوں میں مجھے استعمال کرو۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک تم لوگ بہت بڑی مشکل میں پڑھے ہوتے ۔ ” میں کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
‎رائنا کا منہ پھول گیا اور اس نے شارق کے غصے کی پروا کیے بغیر بیٹا اسے تھما دیا۔ میں باہر آرہا تھا تو میں نے رائنا کو کہتے سنا۔ اسے نیچے لے جائیں، میں نہانے جا رہی ہوں یہ تنگ کرتا ہے۔“
‎شارق بیٹے کو لیے میرے پیچھے آیا۔ وہ معذرت کر رہا تھا کہ رائنا کی ایک غلط بات نے میرا وقت ضائع کیا تھا۔ میں نے اس کی معذرت قبول کر کے بات ختم کر دی۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھابی اور مشتاق بھائی کے تعلقات آپس میں بہت اچھے تھے۔“ میرا بھی یہی خیال ہے۔“
‎اندر سے ایک چھوٹا بچہ آیا اور اس نے شارق سے کہا۔ آپ کو اندر بلا رہے ہیں۔“
‎شارق اندر چلا گیا اور میں بائیک پر بیٹھ رہا تھا کہ میری نظر زمین پر گئی جہاں پتھروں سے مشتاق کی لاش کی نشان دہی کی گئی تھی ، وہاں زمین پر اب بھی لہو کی سرخی تھی۔ میں گہری سانس لے کر رہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا لہو بھی رائگاں جائے گا۔ میں بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا کہ میری نظر سامنے والے مکان کے اوپری حصے پر گئی ۔ یہ فیاض کا مکان تھا مگر میں نے ریاض کے کمرے کی طرف دیکھا تھا اور میں بائیک سے اتر کر اس کے گیٹ کی طرف بڑھا۔ کال بیل بجائی تو ایک منٹ تک کوئی رد عمل نہیں ہوا مگر جب میں نے دوبارہ کاس بیل دی تو کچھ دیر بعد اندر سے ریاض برآمد ہوا۔ وہ کچھ گھبرایا ہوا تھا۔ ” آپ … کیوں آئے ہیں ؟” بتاتا ہوں ۔ میں نے کہا اور اسے دھکیل کر اندر داخل ہوا۔
‎یہ کیا کر رہے ہیں ۔ ” اس نے مزاحمت کی کوشش کی۔ آپ میرے گھر میں یوں داخل نہیں ہو سکتے ۔”
‎میں تمہاری … میں بھی داخل ہو سکتا ہوں۔” میں نے پولیس کی زبان استعمال کی اور اسے گدی سے پکڑ کر آگے دھکیلا ۔ اپنے کمرے میں چلو ”
‎کیوں؟ وہ زور سے بولا۔ اباجی دیکھیں، یہ پولیس والا بردستی اندر آیا ہے۔“
‎ذرا سی دیر میں فیاض اور اس کی بیوی بھی وہاں آگئے اور وہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے۔ مگر ان کی آواز میں بس اس حد تک تھیں کہ گھر سے باہر نہ جاسکیں۔ میں ان کے احتجاج کی پروا کیے بغیر ریاض کو دھکے دیتا ہوا سیڑھیوں سے اوپر اس کے کمرے تک لایا اور اندر
داخل ہوا تو اس نے لپک کر کھڑکی کا پردہ برابر کرنے کی کوشش کی مگر میں نے اسے گدی سے پکڑ کر پیچھے کھینچ لیا اور کہا۔ اتنی جلدی کیا ہے برخودار، تمہارے کرتوت تمہارے ماں باپ کو بھی دکھاتا ہوں۔“
‎انسپکٹر صاحب ۔ فیاض نے کسی قدر تیز لہجے میں کہا۔ یہ سب کیا ہے، آپ میرے بیٹے کے ساتھ کیوں تشدد کر رہے ہیں ؟“
‎میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا مگر جب مجھے مطلوبہ منظر نظر نہیں آیا تو میں نے کھڑکی کے ساتھ لگے بیڈ پر چڑھ کر دیکھا اور میں جو دیکھنا چاہ رہا تھا وہ مجھے نظر آگیا۔ مشتاق علی کا مکان پرانا تھا اور کسی قدر نیچا تھا جبکہ فیاض کا مکان نیا اور گلی سے خاصی بلندی پر تھا اس لیے دونوں کی بلندی میں فرق تھا اور اسی فرق کی وجہ سے یہ سب ہو رہا تھا۔ میں نے فیاض صاحب سے کہا۔ “دیکھیں دیکھیں ۔ اپنے بیٹے کے کرتوت۔“
‎وہ نہ سمجھتے ہوئے بیڈ پر چڑھے اور جب انہوں نے میری بتائی ہوئی سمت دیکھا تو ان کا چہرہ سرخ ہو گیا اور انہوں نے ہڑ بڑا کر لاحول پڑھی۔ رائنا اپنے واش روم میں نہا رہی تھی اور بڑے سے روشن دان سے یہ منظر بڑی حد تک صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے ریاض کو کھڑکی پر چڑھے دیکھا تھا اور مجھے علم تھا کہ رائنا اس وقت واش روم میں نہا رہی ہے اس لیے معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ فیاض نے نیچے اترتے ہی ریاض کو تھپڑ مارا ذلیل شخص، مجھے معلوم نہیں تھا تو اتنا گرا ہوا نکلے گا تو نے پڑوسیوں کی تو کیا ہماری عزت بھی نہیں رکھی ۔” ابا جی میں نے کچھ نہیں کیا ہے ۔ اس نے ہٹ دھرمی سے کہا۔ ” یہ شخص بلا وجہ
میرے پیچھے پڑا ہے۔”
‎بکواس نہ کر ۔ فیاض نے اسے پھر تھپڑ مارنا چاہا مگر اس نے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور غرا کر بولا ۔
‎” بس اباجی ، اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔” “عزت کے بچے ۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ تم اس لفظ کا مطلب
سمجھتے ہو۔”
‎لیکن اس سے پہلے کہ میں اسے پکڑتا یا کچھ کہتا اس نے نہایت پھرتی سے اپنی پتلون میں اڑسا ہوا چھوٹا سا پستول نکال لیا اور میری طرف کر کے بولا ۔ میرے پاس مت آنا ۔”
‎ریاض کی ماں چلائی ۔ یہ کیا کر رہا ہے ؟ فیاض بھی پریشان ہو گیا۔ ریاض پستول رکھ لو، یہ تمہارے پاس
کہاں سے آیا ؟“
‎مگر میری نظر پستول پر مرکوز تھی۔ یہ چھوٹا بائیس بور کا پستول تھا۔ ویسا ہی ہتھیار جس سے مشتاق علی کو قتل کیا گیا تھا۔
‎ریاض پیچھے ہٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ دھمکیاں دے رہا تھا۔
‎خبر دار میرے نزدیک مت آنا ورنہ میں گولی چلا دوں گا ۔
‎جیسے تم نے مشتاق علی پر چلائی تھی ۔ “ میں نے سکون سے کہا اور ایک قدم آگے بڑھایا۔
‎رک جاؤ ۔ ریاض چلایا۔ اس کا چہرہ خاصے خنک موسم میں بھی پسینے میں تر بتر ہو گیا تھا۔ وہ دروازے کے پاس تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ دروازے سے نکلتا اچانک ایک نو عمر لڑکی نمودار ہوئی اور ریاض سے ٹکرائی ۔ وہ گھبرا کر مڑا تھا کہ مجھے موقع مل گیا اور ایک منٹ سے بھی پہلے میں اسے قابو کر کے پستول اس سے چھین چکا تھا۔ میں نے احتیاط کی کو پستول پر اس کی انگلیوں کے نشانات متاثر نہ ہوں اور پستول کو رومال میں لپیٹ کر اپنی جیب میں رکھ لیا پھر تھانے کال کر کے مو بائل بلوائی ۔ نہتا ہونے اور پکڑے جانے کے بعد ریاض کی ساری اکڑ فوں غائب ہو چکی تھی۔ وہ اب معافی مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اس کے ماں باپ بھی میرے سامنے گڑ گڑا رہے تھے کہ ان کے بچے سے غلطی ہوئی ہے۔ مگر میں اسے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ کچھ دیر میں موبائل آئی اور میں نے ریاض کو تھانے بھیجوا دیا۔
فیاض کو پابند کر دیا کہ اس نے جو دیکھا تھا وہ اپنے تک رکھے۔ اگر یہ بات شارق یا اس کے گھر والوں تک پہنچی تو اس کی خیر نہیں ہوگی ۔ اس نے کہا پتا نہیں مجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے جو میرا بیٹا ایسا نکلا ہے۔ لیکن میں عزت والا آدمی ہوں اور دوسروں کی عزت رکھنا جانتا ہوں ۔”
‎حسب توقع ایک رات تھانے میں گزار کر ریاض نے اقرار جرم کر لیا ۔ اگر وہ ایسا نہ بھی کرتا تو اس کے پاس سے پستول برآمد ہوا تھا اور یہی سب سے بڑا ثبوت تھا۔ اس سے وہ گولی چلائی گئی تھی جس نے مشتاق علی کی جان لی تھی ۔ ریاض نے اقرار کیا کہ اس نے مشتاق کوقتل کیا تھا کیونکہ مشتاق نے ایک بار اسے اپنی کھڑکی سے رائنا کو غسل کے دوران تاڑتے دیکھ لیا تھا۔ مشتاق نے اسے لتاڑا تھا اور دھمکی دی کہ اب ایسا کرتے دیکھا تو اسے گھر میں گھس کر مارے گا۔ تب ریاض نے ڈر کر اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے خوف یہ تھا کہ مشتاق اسے گرفتار کر کے کسی کیس میں نہ پھنسا دے۔ حالانکہ مشتاق علی اس ذہن کا پولیس افسر نہیں تھا جو بے گناہوں کو ناکردہ جرم میں پھانس لے۔ یہ یقینا ریاض کی ذہنی کج روی تھی جو اس نے اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔
‎بائیس بور کا یہ پستول اسے ایک لڑکے نے صرف ہزار روپے کے عوض فروخت کیا تھا اور اس نے اسے گھر والوں سے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ دو دن بعد وہ رات کے وقت مشتاق علی کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی بائیک آکر رکی ، وہ گیٹ کھول کر دبے قدموں باہر آیا۔ بائیک کے انجن کے شور میں مشتاق علی اس کی آمد سے باخبر نہیں ہو سکا۔ اس نے عقب سے چند فٹ کے فاصلے سے گولی چلائی اور مشتاق کے گرتے ہی وہ بھاگ کر اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب شور ہونے پر محلے والے نکلے تو وہ بھی یہ ظاہر کرتا ہوا باہر آیا جیسے سو رہا تھا اور شور سن کر آیا ہے۔ ہمارے لیے یہ نا قابل یقین تھا کہ اس نے اتنی سی بات پر ایک پولیس والے کو قتل کر دیا تھا۔ اس سے تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار اس کا اعتراف سن کر مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ریاض کو تشدد کا نشانہ بنانا چاہا لیکن میں نے انہیں روک دیا۔
‎تشدد کے نشانات آنے کی صورت میں اس کے وکیل کو آسانی ہوتی اور وہ اس کے اعتراف کو تشدد کا نتیجہ قرار دیتا ۔
‎فوری طور پر اس کے اعتراف کو ایک مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔ پولیس نے اس کا ایک ہفتے کا ریمانڈ لیا اور ایک ہفتے بعد چالان پیش کر دیا۔ اپنے بیان میں ریاض نے اعتراف کر لیا تھا کہ وہ کھڑکی سے رائنا کو نہاتے دیکھتا تھا اور اس کا دعوی تھا کہ رائنا اس سے واقف تھی مگر اس نے کبھی روشن دان کا پٹ بند نہیں کیا۔ مجھے بھی اس کی بات میں صداقت محسوس ہوئی تھی کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی عورت اس بات سے مسلسل بے خبر رہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اور وہ بھی اس طرح نہاتے ہوئے ۔ ایک دو بار بے خبری میں ایسا ممکن ہے لیکن مستقل ممکن نہیں ہے۔ میں نے اس کے بیان کے اس حصے کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔ شارق حیران تھا اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے بھائی کا قاتل اس کا پڑوسی نکلے گا اور بیان سے قتل کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی تھی۔ اس نے اگلے ہی دن روشن دان مستقل بند کر دیا تھا۔
‎سیشن کورٹ نے ریاض کو سزائے موت سنائی تھی مگر ہائی کورٹ نے اسے پندرہ سال قید با مشقت میں بدل دیا۔ مگر یہ پندرہ سال دن رات والے نہیں تھے اسے اپنی عمر کے قیمتی پندرہ سال اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے تھے۔ جس دن اسے قید کی سزا سنائی گئی کورٹ میں شارق اور نازیہ بھی تھے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ نازیہ کی گود میں شارق اور رائنا کا بیٹا تھا۔ میں اس سے ملا تو اس نے میرا شکر یہ ادا کیا۔
‎آپ کی وجہ سے مشتاق بھائی کا قاتل پکڑا گیا۔“
‎میں نے تو اسے اخلاقی مجرم سمجھا تھا مگر جب اس نے پستول نکالا تو مجھے اس کے قاتل ہونے کا پتا چلا۔“
‎اخلاقی مجرم صرف وہی نہیں تھا۔ شارق نے تلخی سے کہا۔ رائنا بھی اس میں ملوث تھی ۔
‎میرا بھی یہی خیال تھا مگر میں نے حیرت سے کہا۔ ” وہ “کیسے؟
‎وہ ایسے کہ وہ میرے کہنے کے باوجود روشن دان کھول کر نہاتی تھی اور اگر میں بند کر دیتا تو وہ اندر جانے کے بعد کھول لیتی تھی اور نہا کر واپس آتے ہوئے دوبارہ بند کر دیتی تھی ۔ وہ مجھے دھوکا دے رہی تھی ۔
‎تب تم نے کیا کیا ؟ میں نے پوچھا۔ ظاہر ہے ایسی عورت کو کون رکھتا ہے، میں نے اسے طلاق دے دی ہے اور جلد نازیہ سے شادی کرلوں گا۔ اس کی عدت ختم ہونے والی ہے۔