قصبہ جمال پور تارڈ مین روڈ پر واقع تھا اور جس اسکول میں چوہدری نثار حسین کی نواسی ریحانہ زیرِ تعلیم تھی وہ میرے تھانے سے چند گز کے فاصلے پر تھا لہٰذا اس کی حفاظت کے انتظامات کے سلسلے میں مجھے بہت سی آسانیاں حاصل تھیں۔ میں نے نجیب اللہ اور ریاضاحمد نامی دو کانسٹیبلوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے بعد ڈیوٹی پر لگا دیا۔ دونوں نے سادہ لباس میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کو نبھانا تھا۔ وہ دونوں نہایت ہی چاق و چوبند اور تجربہ کار پولیس اہلکار تھے۔ مجھے قوی امید تھی، وہ ریحانہ کا ایک بال بھی بانکا نہیں ہونے دیں گے۔
چودھری سکندر علی آف کوٹ جھمرا کی سن گن لینے کے لیے میں نے ضروری ہدایات کے ساتھ اپنے ایک خاص بندے کو وضع کوٹ جھمرا کی جانب روانہ کر دیا۔ یہی بخش نامی یہ بندہ دراصل پولیس کا مخبر تھا جو عام لوگوں میں گھل مل کر اپنا کام نکالنا یہ خوبی جانتا تھا۔ میں نے اسے تاکید کر دی کہ جیسے ہی اسے کوئی خاص بات پتہ چلے، وہ فوراً مجھے اس کی اطلاع دے۔ اس نے مجھے احکام کی تعمیل کا یقین دلایا اور کوٹ جھمرا کی طرف چلا گیا۔ کوٹ جھمرا، عظیم آباد، وسن پور، سکھیکی اور اس کے گردونواح کا سارا علاقہ میرے تھانے کی حدود میں آتا تھا۔ مجھے امید تھی، اگر واقعی چودھری سکندر علی اپنے ذہن میں کوئی خطرناک ارادہ باندھے بیٹھا ہے تو میں اس کے ایسے مذموم ارادے کو خاک میں ملا کر رکھ دوں گا۔
دو روز خیر و عافیت سے گزر گئے۔ نجیب اللہ اور ریاض احمد اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد تھانے آتے اور مجھے “سب ٹھیک ہے” کی رپورٹ پیش کر دیتے۔ ان میں سے ایک تو اسی وقت تھانے آ جاتا جب اسکول کی چھٹی کے بعد ریحانہ اپنے تانگے پر بیٹھ کر سکھیکی کی جانب روانہ ہو جاتی اور دوسرا سائیکل پر محفوظ تعاقب کرتے ہوئے سکھیکی تک جاتا۔ لہٰذا اس کی واپسی بعد میں ہوتی تھی۔ وہ دونوں باری باری یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے تاکہ شک کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ میں نے جس مخبر کو کوٹ جھمرا میں کام سے لگا رکھا تھا اس کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی خاص اطلاع نہیں ملی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ تین جنوری کو ایک سنسنی خیز واقعہ رونما ہو گیا۔
اس روز کانسٹیبل ریاض احمد اپنی ڈیوٹی انجام دے کر تھانے آ گیا تھا اور اس نے مجھے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ریحانہ حسبِ معمول اپنے گھر کی جانب روانہ ہو چکی ہے۔ اس دن نجیب اللہ نے سائیکل پر اس تانگے کا تعاقب کرنا تھا۔ میں اس کی واپسی کا منتظر تھا۔ وہ عموماً تین بجے تک واپس آ جایا کرتا تھا لیکن اس روز جب وقت چار بجے سے بھی کچھ آگے بڑھ گیا تو مجھے تشویش نے آ گھیرا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میری چھٹی حس نے پیشہ ورانہ تجربے سے گئے جوڑ کے بعد مجھے خبردار کیا کہ کوئی بڑی گڑبڑ ہو چکی ہے۔ میں نے کانسٹیبل ریاض احمد کو اپنے کمرے میں بلایا اور اضطراری لہجے میں کہا۔ “تیار ہو جاؤ، ہمیں اسی وقت سکھیکی جانا ہے۔”
نجیب اللہ کے واپس نہ آنے کے بارے میں وہ بھی جانتا تھا لہٰذا نہایت ہی فرمانبرداری سے بولا۔ “اوکے سر! میں سواری کا بندوبست کرتا ہوں۔”
اتنا کہہ کر وہ مڑا ہی تھا کہ سواری کا بندوبست ہو گیا۔ اسی لمحے چودھری وقار حسین، سلطان کے ساتھ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ غصے کے تاثرات سے تمتما رہا تھا۔ سلطان علی بھی خاصے جوش میں نظر آ رہا تھا۔ ان کے تیور دیکھ کر ریاض احمد بھی ٹھٹک کر رک گیا۔
وقار حسین میرے سامنے پہنچا اور تپتے ہوئے لہجے میں بولا۔ “تھانیدار صاحب! چودھری سکندر علی کو وارننگ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ آپ نے مجھے قانون کو ہاتھ میں لینے سے منع کر دیا تھا اس لیے اطلاع دینے میں آپ کے پاس آ گیا ہوں ورنہ پتہ نہیں، میں اب تک کیا کر چکا ہوتااور اب جو بھی ہو گا اس سے آپ مجھے روکیں گے نہیں۔ چودھری سکندر علی کا حشر دنیا دیکھے گی!”
وہ ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہہ کر معنی خیز انداز میں خاموش ہو گیا۔ میں نے تھوڑی دیر پہلے ریحانہ کے حوالے سے جس بے چینی اور تشویش کو محسوس کیا تھا، چودھری وقار اس کی عملی تفسیر پیش کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر زلزلے جیسے آثار تھے۔ یوں دکھائی دیتا تھا، اگر اسے روکا نہ گیا تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اس دنیا کی ہر شے کو فنا کر کے رکھ دے گااور یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اسے روکنے کی کوشش نہ کرتا!
میں نے اس کی بات کو نہایت ہی انہماک سے سنا اور میٹھے الفاظ میں سمجھا بجھا کر بیٹھنے کے لیے آمادہ کر لیا۔ سلطان کو، اس کے ساتھ ہی اشارہ کر کے میں نے باہر جانے کے لیے کہہ دیا۔ اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی کہ ریحانہ کے ساتھ کوئی سنگین حادثہ پیش آ گیا تھا۔ وقار نے چودھری سکندر علی کے وار کا جس انداز میں ذکر کیا تھا اس سے ظاہر ہوتا تھا، یہ معاملہ خطرناک حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ وہ خطرناک حدود جن کے بارے میں ابھی تک صرف سوچا جا رہا تھا۔
چودھری وقار حسین کو شانت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ بہرحال، میں نے یہ مشکل کام بھی کر ہی ڈالااسے “ہوش” میں لائے بغیر کام کی کوئی بات نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کا “جوش” قدرے سنبھلا تو میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”چودھری وقار حسین! جب قانون پوری طرح تم سے اور تمہارے خاندان سے تعاون کے لیے تیار ہے تو پھر اسے ہاتھ میں لینے کی کیا ضرورت ہے؟ اطمینان سے مجھے بتاؤ کیا واقعہ پیش آیا ہے؟”
وہ چند لمحات تک ٹپکتی ہوئی نگاہ سے مجھے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے ایک خاص قسم کا تذبذب جھلکتا تھا جیسے اسے یقین نہ ہو کہ میں اس کی کوئی مدد کر سکوں گا۔ بہرحال، وہ چل کر اگر میرے پاس آیا تھا تو اس کا ایک ہی مطلب تھا اور وہ یہ کہ وہ مجھے کسی اندوہناک واقعے کی اطلاع فراہم کرنا چاہتا تھا۔ میری کرید کے جواب میں چودھری وقار نے مجھے جو کچھ بتایا، میں اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
ریحانہ عموماً سوا دو بجے تک گھر پہنچ جاتی تھی۔ آج جب وہ حویلی نہیں پہنچی تو ان لوگوں کو اس کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا حویلی کی طرف سے فوری سرگرمی دکھائی گئی۔ چند افراد اس تانگے کی خبرگیری کے لیے روانہ ہوئے جس میں ریحانہ کو حویلی پہنچنا تھا اور پھر صورتِ حال روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی۔
یہ حادثہ سکھیکی اور جمال پور تارڑ کے عین وسط میں پیش آیا تھا۔ جائے وقوع پر تابدِ نگاہ لہلاتے سرسبز کھیتوں کا سلسلہ دراز تھا۔ حویلی کی طرف سے آنے والے لوگ جب جائے حادثہ پر پہنچے تو انہیں ایک سنگین، لرزہ خیز واردات کے خونچکاں آثار دیکھنے کو ملے۔ بغیر گھوڑے کا تانگہ ایک طرف الٹا پڑا تھا۔ تانگے سے چند فٹ کے فاصلے پر کوچوان سخی محمد بے ہوشی کی حالت میں پڑا ملا۔ وہ بری طرح زخمی تھا۔ کانسٹیبل نجیب اللہ (وقار کے مطابق کوئی سائیکل سوار مسافر) اپنی سائیکل سمیت جائے واردات پر پایا گیا۔ سائیکل تو سلامت تھی تاہم اجنبی سائیکل سوار (کانسٹیبل نجیب اللہ) اپنی جان ہار گیا تھا۔ ریحانہ اور چودھری نثار حسین کا متعین کردہ مسلح بندہ موقع سے غائب پائے گئے تھے۔ ان کا غیاب سب سے زیادہ تشویش ناک تھا۔
اس واقعے کی سنسنی خیز اطلاع حویلی تک پہنچی تو وہاں ایک کہرام بپا ہو گیا۔ چودھری نثار اور اس کا بیٹا وقار حسین پہلے سے یہ ذہن بنائے بیٹھے تھے کہ کوٹ جھمرا کا چودھری سکندر علی اپنی بھتیجی یعنی ریحانہ کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لہٰذا ریحانہ کی تلاش کے تمام تر گھوڑے کوٹ جھمرا کی جانب دوڑائے جا چکے تھے۔ اس ابتدائی کارروائی کے بعد ہی چودھری وقار حسین میرے پاس آیا تھا تاکہ اس حادثے کی اطلاع مجھ تک پہنچائی جا سکے۔
اس نے اپنا بیان تمام کیا تو میں نے پوچھا۔ “جو لوگ کوٹ جھمرا کی طرف گئے ہیں ان میں سے کوئی واپس لوٹا یا نہیں؟”
وہ پھنکار سے مشابہ آواز میں بولا۔ “تھانیدار صاحب! سکھیکی اور کوٹ جھمرا میں بھیگ آٹھ میل کا فاصلہ حائل ہے اور درمیان میں بڑا سا ذخیرہ بھی واقع ہے۔ ابھی تک تو وہ لوگ وہاں پہنچے ہی ہوں گے۔ ان کی واپسی میں ایک گھنٹہ مزید لگ سکتا ہے۔”
”ذخیرہ” سے وقار حسین کی مراد گھنے درختوں والا وہ حصہ تھا جو جائے وقوعہ اور اس راستے کے درمیان پڑتا تھا جس پر سفر کرتے ہوئے سکھیکی سے کوٹ جھمرا پہنچا جا سکتا تھا۔ اس کچے راستے کے ساتھ ساتھ بڑی نہر بھی مشرق سے مغرب کی سمت بہتی تھی۔ مذکورہ نہر سکھیکی اور کوٹ جھمرا کے قریب سے گزرتی تھی۔ کانسٹیبل نجیب اللہ کی ہلاکت نے مجھے دل گرفتہ کر دیا تھا۔
میں نے وقار حسین سے استفسار کیا۔ “اس سائیکل سوار مسافر کے بارے میں کچھ پتہ چلا کہ وہ کون تھا، کہاں سے آ رہا تھا اور کہاں جانے کا ارادہ رکھتا تھا؟”
سادہ لباس کانسٹیبلوں کی سرگرمیوں کے بارے میں صرف مجھے اور چودھری نثار حسین ہی کو پتہ تھا۔ وقار حسین یہ سوال سن کر شاکی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ مجھے یہ سمجھنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا کہ وہ مرحوم کانسٹیبل نجیب اللہ کی حقیقت سے واقف ہو چکا تھا، نہایت ہی تھکے ہوئے انداز میں اس نے مجھ سے کہا۔
”تھانیدار صاحب! آپ بجھارتیں کیوں ڈال رہے ہیں۔ مرنے والے اس سادہ لباس شخص کا تعلق آپ کے تھانے سے تھا۔ بہرحال، اس نے بہت ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد جان دی ہے۔”
اب مزید کسی سوال و جواب کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے میں کانسٹیبل ریاض احمد کو سکھیکی جانے کے لیے تیاری کا حکم دے چکا تھا لیکن موجودہ صورتِ حال میں کانسٹیبل ریاض احمد کی بجائے میرے ساتھ ایسے ایس ایچ او فدا حسین کا جانا زیادہ مناسب تھا۔ ہنگامی تیاری کے بعد ہم فی الفور جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئے۔
راستے میں چھوٹے چودھری وقار حسین کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ کانسٹیبل نجیب اللہ کی لاش کو جائے واردات پر ہی چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ وہ لوگ زخمی کوچوان سخی محمد کو اٹھا کر چودھری کی حویلی لے گئے تھے۔ سخی محمد کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔ ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ہی وہ لوگ کوچوان کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ادھر سے تانگے اور کانسٹیبل کی سائیکل کو بھی موقعِ واردات پر ہی پڑا رہنے دیا گیا تھا، تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
جائے وقوعہ پر درجن بھر افراد موجود تھے۔ مذکورہ افسوس ناک حادثہ سکھیکی سے جمال پور تارڑ جانے والے راستے کے کنارے پیش آیا تھا۔ میں نے سب سے پہلے کانسٹیبل نجیب اللہ کی لاش کا معائنہ کیا۔ نجیب اللہ کے لیے ‘لاش’ کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ پہلی ہی نگاہ میں مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ اب ہم زندہ انسانوں کے درمیان موجود نہیں رہا۔
تفصیلی معائنہ کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ سینے میں لگنے والی گولیوں نے اس کی زندگی کو چاٹ ڈالا تھا۔ موقع پر موجود افراد نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ کانسٹیبل کی لاش کو ایک چادر سے ڈھانپ دیا تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق جس وقت یہ سانحہ پیش آیا، تانگے میں تین افراد موجود تھے۔ چودھری نثار حسین کی نواسی ریحانہ، کوچوان سخی محمد اور محافظ جو ریحانہ کی حفاظت کے لیے پوری طرح مسلح تھا۔ تانگے سے باہر اپنی سائیکل پر نجیب اللہ تھوڑا فاصلہ رکھ کر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ جس لمحے یہ لرزہ خیز واقعہ رونما ہوا، ان کے آس پاس کوئی راہ گیر موجود نہیں تھا ورنہ حویلی تک اس کی اطلاع پہنچنے میں ذرا دیر نہ لگتی۔
ریحانہ اور مسلح محافظ سرے سے غائب تھے۔ سرِ دست وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ریحانہ کی گمشدگی میں اس مسلح نگران محافظ کا کوئی ہاتھ ہے یا پھر ان دونوں کو کسی تیسرے شخص نے غائب کیا ہے۔ کوچوان سخی محمد کی بے ہوشی بھی تشویش ناک تھی۔ اگر وہ بیان دینے کے قابل ہوتا تو اس واقعے پر روشنی ڈال سکتا تھا۔ ویسے میں نے ابھی تک اسے دیکھا نہیں تھا۔ ادھر سے فارغ ہونے کے بعد میں سیدھا حویلی جاتا، پھر ہی صورتِ حال واضح ہو سکتی تھی۔ تانگے والا گھوڑا بھی نہایت ہی پراسرار انداز میں غائب پایا گیا تھا۔ موجودہ صورتِ حال سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا کہ سخی محمد یا پھر مسلح محافظ میں سے اس واقعے کے بارے میں کوئی تفصیل بتا سکتا تھایا پھر چودھری وقار حسین کے وہ لوگ جنہیں اس نے کوٹ جھمرا کی جانب روانہ کیا تھا۔
میں نے اے ایس آئی فدا حسین کے تعاون سے جائے واردات کا تفصیلی نقشہ تیار کیا، پھر کانسٹیبل نجیب اللہ کی لاش کوضلعی ہسپتال بھیج دیا۔ اے ایس آئی کو بھی میں نے لاش کے ساتھ ہی ہسپتال روانہ کر دیا۔ میں اس ضروری کارروائی سے فارغ ہوا ہی تھا کہ چودھری وقار حسین میرے قریب آ گیا۔
”اب بتائیں تھانیدار صاحب ! آپ کتنی دیر میں میری بھتیجی کو واپس لائے ہیں؟” اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔ “آپ جو وقت دیں گے، میں اتنے وقت تک اپنی طرف سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھاؤں گا۔ لیکن اس کے بعد” وہ ناتمام خیر انداز میں متوقف ہوا پھر جارحانہ لہجے میں اضافہ کرتے ہوئے بولا۔ “اس کے بعد آپ مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کریں گے۔”
چودھری وقار حسین نے “عملی قدم” کے الفاظ پر خاصا زور دیا تھا جس کا واضح مطلب تھا، وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے لیے پر تول رہا تھا۔ وقار کے انداز اور الفاظ سے مجھے کوفت تو بہت محسوس ہوئی لیکن میں نے اس کی ذہنی کیفیت اور جذباتی حالت کے پیشِ نظر اینٹ کے جواب میں پتھر پھینکنے سے گریز کیا اور نہایت ہی معتدل و تسلی بخش انداز میں کہا۔
”چودھری وقار حسین! میں تمہارے جذبات کو بڑی اچھی طرح سمجھ رہا ہوں۔ اس موقع پر میں تمہیں یہی نصیحت کروں گا کہ جوش و خروش کی بجائے تحمل سے کام لو۔ قانون کو ہاتھ میں لے کر تم اپنے لیے کوئی بہت بڑی مصیبت کھڑی کر لو گے۔ تم فکر نہ کرو، میں انشاء اللہ بہت جلد تمہاری بھانجی کو بازیاب کر لوں گا۔”
میرے الفاظ کی پختگی اور لہجے کے اعتماد نے اس کے مشتعل جذبات پر خاطر خواہ اثر کیا۔ قدرے نرم پڑتے ہوئے بولا۔ “ٹھیک ہے ملک صاحب! آپ اطمینان سے اپنا کام کریں۔ کیا میں امید رکھوں کہ آپ اس سلسلے میں مجھے زیادہ انتظار نہیں کروائیں گے؟”
میں نے اس کی تشفی کی خاطر کہہ دیا۔ “میں کہہ رہا ہوں نا، تم صرف اپنے جذبات کو قابو میں رکھو۔ جب میں اپنی تمام تر مشینری کے ساتھ حرکت میں آ چکا ہوں تو تمہیں پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
میں نے مزید تھوڑا وقت جائے وقوعہ پر گزارا پھر چودھری وقار کو ہدایت کی۔ “یہ جو راستہ ذخیرے کی طرف جا رہا ہے ادھر کسی کو جانے کی اجازت نہ دیں۔”
میں نے یہ بات ایک خاص مقصد کے تحت کہی تھی۔ جائے واردات کا نقشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا تھا کہ ریحانہ کو اغوا کرنے والوں نے اسی ذخیرے کا رخ کیا ہو گا۔ اس ذخیرے کی دوسری جانب وہ راستہ تھا جو نہر کے کنارے کے ساتھ چلتے ہوئے سکھیکی کو کوٹ جھمرا سے ملاتا تھا۔
چودھری وقار حسین میری بات سن کر چونک اٹھا اور پوچھا۔ “اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟”
”ہاں، خاص ہی وجہ ہے۔” میں نے گمبھیر انداز میں کہا۔ “ہو سکتا ہے اس طرف کسی کا کھرا وغیرہ نکالنے کی ضرورت پیش آ جائے۔”
”ہوں!” چودھری وقار نے معنی خیز انداز میں گردن ہلائی پھر بتایا۔ “میں نے جن لوگوں کو ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی جانب روانہ کیا ہے وہ اسی ذخیرے کے اندر سے گئے ہیں۔”
میں نے بات کو ختم کرتے ہوئے کہا۔ “اب تک جو ہو چکا، سو ہو چکا۔ اب وہی کرو، جو میں کہہ رہا ہوں۔”
اس نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی اور مجھے یقین دلایا کہ میری ہدایات کو فراموش نہیں کرے گا بلکہ عملی طور پر اسی وقت اس نے ایک شخص کو پاس بلا کر اس سلسلے میں ضروری تاکید بھی کر دی۔ جائے وقوع کی کارروائی سے نمٹنے کے بعد میں چودھری وقار حسین کے ہمراہ حویلی آ گیا۔
ریحانہ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا وہ کوئی معمولی نوعیت کا نہیں تھا۔ حویلی کے اندر اور باہر پورے سکھیکی میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔ “میری” فرمائش پر سب سے پہلے مجھے زخمی کوچوان سخی محمد کے پاس لے جایا گیا۔ ایک وہی شخص تھا جو اس واقعے کے بارے میں کچھ بتا سکتا تھا لہٰذا سب سے پہلے میں نے اسی کو ٹٹولنا مناسب جانا۔
حویلی کے سامنے والے حصے میں بڑے گیٹ کے ساتھ ایک قطار میں تین چار کمرے بنے ہوئے تھے جن کی پشت بیرونی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ مذکورہ کمرے عمومی مہمانوں کے قیام و طعام کے لیے مخصوص تھے خصوصاً مہمانوں کو حویلی کے اندرونی حصے میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ سخی محمد کو انہی بیرونی کمروں میں سے ایک میں رکھا گیا تھااور خوشی کی بات یہ تھی کہ جب میں زخمی کوچوان کے پاس پہنچا تو وہ ہوش میں آ چکا تھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ دھیرے دھیرے کراہ رہا تھا۔
میں نے صرف چودھری وقار حسین کو اپنے پاس رہنے دیا، باقی تمام افراد کو کمرے سے نکال دیا۔ سب سے پہلے میں نے سخی محمد کے زخموں کا جائزہ لیا۔ بلاشبہ وہ شدید زخمی تھا اور انہی زخموں کے سبب وہ بے ہوش بھی ہوا تھا تاہم وہ ایسے زخم نہیں تھے جو زندگی کے لیے مہلک ثابت ہوتے البتہ اسے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ میری معلومات کے مطابق اسے طبی امداد کے لیے حویلی لایا گیا تھا لیکن میرے خیال میں اسے کسی ڈھنگ کے باقاعدہ ڈاکٹر کی ضرورت تھی۔ بہرحال میں نے اسے پیش آنے والے واقعے پر دلی افسوس کا اظہار کیا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ گلوگیر آواز میں بولا۔
”تھانیدار صاحب! وہ بہت ہی ظالم اور سفاک لوگ تھے۔ میرا یہ حشر انہوں نے ہی کیا ہے۔”
”تم فکر نہ کرو۔” میں نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ “جب وہ لوگ میرے قابو میں آئیں گے تو میں ان کی سادگی سفاکی اور بربریت ناک کے راستے نکال کے رکھ دوں گا۔ تم مجھے ان کے بارے میں بتاؤ تاکہ میں جلد از جلد انہیں اپنی گرفت میں لے سکوں۔”
تکلیف کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے مختصر الفاظ میں اس نے مجھے اس سانحے کے بارے میں بتایا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ فوری طور پر سخی محمد کو کسی ہسپتال بھجوانے کی ضرورت ہے اور اسی لمحے میں نے یہ فیصلہ بھی کر لیا کہ جیسے ہی وہ اپنی بات مکمل کرے گا، میں اسے ہسپتال روانہ کرنے کے لیے معقول بندوبست کر دوں گا۔ سخی محمد کو چوان کی زبانی مجھے اس واردات کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئیں، میں اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
کوچوان کے مطابق وہ لوگ حسبِ معمول بخیر و عافیت اسکول سے روانہ ہوئے تھے۔ ریحانہ تانگے کی عقبی نشست پر بیٹھی تھی اور مشتاق اگلی نشست پر۔ سخی محمد خود تانگے کے بانس پر نشست جمائے بیٹھا تھا جیسا کہ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔ تانگہ خراماں خراماں جمال پور تارڑ سے سکھیکی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند لمحات بعد اتنا بڑا حادثہ پیش آ جائے گا۔ حادثے سے پہلے والی پراسرار خاموشی نے سب کو بے پروا سا کر دیا تھا۔
جب تانگہ جمال پور تارڑ اور سکھیکی کے درمیان پہنچا تو ایک قیامت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ آناً فاناً میں وہ ایک طوفان کی زد میں تھے۔ تین ڈھانٹا پوش گھڑ سواروں کا ایک دستہ ذخیرے کے اندر سے برآمد ہوا اور انہوں نے بجلی کی سی سرعت سے تانگے پر ہلا بول دیا۔ تینوں گھڑ سوار پوری طرح مسلح تھے۔ ان کے حملہ آور ہوتے ہی فضا فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھی۔ بلاشبہ وہ گھڑ سواروں کی فائرنگ کا دھواں دھار جواب دیا۔ علاوہ ازیں ایک سائیکل سوار جو ان کے تانگے کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا، اس نے بھی ڈاکوؤں (ڈھانٹا پوش سواروں) پر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے سب سے پہلے سائیکل سوار کو نشانہ بنایا تھا لہٰذا وہ جلدی زمین بوس ہو گیا۔ زمین پر گرتے ہی وہ اس طور ٹھنڈا ہوا گویا جیسے اس کا “کام” ہو گیا ہو۔
سخی محمد کے بیان سے ظاہر ہوا کہ ان گھڑ سوار مسلح ڈھانٹا پوشوں کا اصل ٹارگٹ ریحانہ تھی۔ وہ واضح طور پر اسی کو اغوا کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ مشتاق نے انہیں روکنے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن اس سعی میں اسے کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ وہ لوگ ریحانہ کو اٹھا کر ذخیرے کی جانب بڑھ گئے۔ مشتاق نے ہمت نہ ہاری اور آخری کوشش کے طور پر اس نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے تانگے میں جتے ہوئے گھوڑے کو آزاد کیا پھر اس کی پیٹھ پر سوار ہو کر اسے ذخیرے کی سمت دوڑا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی ماری کی نگاہ سے اوجھل ہو گیا۔ اس کے بعد جائے واردات پر کیا واقعات پیش آئے نئی محمد کو اس کی مطلق خبر نہیں تھی کیونکہ وہ اس قدر زخمی ہو چکا تھا کہ تکلیف کی شدت سے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیا۔
میں نے سخی محمد سے دو چار نہایت ہی اہم سوالات کیے۔ اس نے حتی المقدور جواب دیے۔ پھر میں نے چودھری وقار حسین کے تعاون سے اسے جمال پور تارڑ روانہ کر دیا۔ جمال پور تارڑ میں ایک بڑا شفا خانہ موجود تھا جو حکومت اور مقامی لوگوں کے مشترکہ تعاون سے بہ خوبی چل رہا تھا۔ اس وقت سخی محمد کی جو حالت تھی اس کے پیشِ نظر علاج معالجے کے لیے اسے مذکورہ شفا خانے ہی کا رخ کرنا چاہیے تھا۔
میں حویلی آنے سے پہلے جائے وقوعہ کا اچھی طرح معائنہ کر چکا تھا۔ میں نے وہاں کچھ دیکھا اور محسوس کیا، سخی محمد کے بیان نے اس کی تصدیق کر دی تھی۔ ریحانہ کو اغوا کرنے والوں نے ذخیرے ہی کا رخ کیا تھا۔ اس تصدیق کے باوجود بھی چند باتیں ایسی تھیں جو میرے ذہن کو اُلجھا رہی تھیں۔ میں اس اُلجھن کو سلجھانے میں مصروف ہی تھا کہ بڑے چودھری صاحب کا بلاوا آ گیا۔
چھوٹے چودھری کی معیت میں، میں بڑے چودھری کے پاس پہنچ گیا۔ چودھری نثار مجھے اپنے باپ کے بیڈ روم تک چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ چند روز قبل میں اسی خواب گاہ میں چودھری نثار حسین سے ملاقات کر کے گیا تھا۔ وہ اس وقت اپنی نواسی ریحانہ کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا تھا اور اب تو اس تشویش نے عملی جامہ پہن لیا تھا۔ چودھری نثار کی حالت بہت غیر تھی لیکن اس واقعے نے اسے اس طور توڑ کر رکھ دیا تھا کہ وہ نوے کے پیٹے میں دکھائی دیتا تھا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد چودھری نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔ “دیکھیے لیں ملک صاحب! وہی ہو گیا جس کا ڈر تھا۔ آپ کی حفاظتی پیش بندی بھی کسی کام نہ آئی۔”
”ایسی بات نہیں ہے چودھری صاحب!” میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ “میری تدبیریں رائیگاں نہیں جا سکتی۔ میں نے موقع کی کارروائی مکمل کر لی ہے اور وہاں مجھے کچھ ایسے پتے ملے ہیں جن کا تعاقب کر کے میں اغوا کنندگان تک بہت جلد رسائی حاصل کر لوں گا، آپ فکر نہ کریں، میرے محکمے کے ایک سپاہی کی قربانی ضرور رنگ لائے گی۔ میں ان ڈاکوؤں کو زمین سے بھی کھود نکالوں گا۔ اس کے لیے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔”
چودھری نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا پھر دھیمے لہجے میں استفسار کیا۔ “اس سلسلے میں آپ مجھ سے کس قسم کا تعاون چاہتے ہیں؟”
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “چودھری صاحب! چند روز قبل ہمارے درمیان ایک بات طے ہوئی تھی لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی خاموش معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔” میرے الفاظ میں بڑا اکھلا شکوہ جھلکتا تھا۔
”میں کچھ سمجھا نہیں ملک صاحب!” اس کی پیشانی پر تشویش کی مخصوص لکیریں نمودار ہوئیں۔ “میں نے کس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جناب؟”
”آپ کو یاد ہو گا، میں نے کہا تھا” میں نے یاد دہانی والے انداز میں بولنا شروع کیا۔ “دونوں کانسٹیبلوں کی تعیناتی اور نگرانی والی بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔ آپ ریحانہ کو، کوچوان کے ساتھ بھیجے ہوئے بندے یا کسی بھی شخص کو اس بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔”
”ہاں، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “لیکن لیکن میں نے اس سلسلے میں کون سی غلطی کی ہے؟”
میں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے چودھری نثار حسین کو بتایا۔ “چودھری صاحب! ریحانہ کے اغوا والے واقعے کی اطلاع چودھری وقار حسین کے ذریعے مجھ تک پہنچی ہے۔ مذکورہ تفصیل بیان کرتے ہوئے اس نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ موقع پر ایک سادہ لباس سائیکل سوار کی لاش بھی پڑی ہوئی تھی۔ میرا ماتھا ٹھنکا اور میں فوراً ہی یہ سمجھ گیا کہ وہ اجنبی سائیکل سوار میرے متعین کانسٹیبل نجیب اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ میں نے جب چودھری وقار سے اس سادہ لباس سائیکل سوار کے بارے میں سوال کیا تو اس نے شکایتی لہجے میں کہا کہ تھانیدار صاحب! آپ بجھارتیں کیوں ڈال رہے ہیں؟ مرنے والے اس سادہ لباس شخص کا تعلق آپ کے تھانے سے ہے۔” میں لمحہ بھر کو سانس لینے کی غرض سے متوقف ہوا پھر سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”چودھری صاحب! مجھے تو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بات میں نے چودھری وقار حسین کو نہیں بتائی تھی۔ اس معنی کو آپ ہی حل کر سکتے ہیں کہ جو بات صرف ہم دونوں کے درمیان طے ہونے کے بعد تہہ ہو گئی تھی، وہ چودھری وقار تک کیسے پہنچ گئی؟”
ایک لمحے کے لیے چودھری کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوئے پھر قدرے سنبھلتے ہوئے اس نے جواب دیا۔ “اس میں منے والی کوئی بات نہیں ہے ملک صاحب! وہ دراصل وقار، ریحانہ کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ وہ اپنے طور پر پتہ نہیں، کون کون سے اور کیسے کیسے ایسے سیدھے قدم اٹھانے والا تھا لیکن میں نے اسے روک کر رکھا ہوا تھا۔ اس کو تسلیاں دیتے ہوئے ایک موقع پر میں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ وہ زیادہ فکر مند نہ ہو، میں نے ریحانہ کی حفاظت کا بڑا مضبوط بندوبست کر دیا ہے۔”
”پھر اس نے “مضبوط بندوبست” کے بارے میں سوال کیا ہو گا؟” چودھری کی بات کاٹتے ہوئے میں نے پوچھا۔
خاموش ہوتے ہی میں نے پوچھا۔
اس نے ایک طویل ساس خارج کی اور بتایا۔ “اللہ آپ کا بھلا کرے ملک صاحب! وقار نے واقعی مجھ سے یہ سوال کیا تھا اور میں نے اس کے اطمینان کے لیے سادہ لباس پولیس والوں کی خفیہ نگرانی کے بارے میں اسے بتا دیا تھا۔ میں بھی ایک بندہ بشر ہوں۔ بندے سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ مجھ سے بھی یہ کوتاہی ہوئی ہےآپ فکر نہ کریں، وہ لمے بھر کو رکا پھر اضطراری لہجے میں کہنے لگا۔ “وقار اس بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہے گا۔ میں نے راز کو راز رکھنے کے لیے اسے خصوصی تاکید کی ہے۔”
”اس خصوصی تاکید کا کوئی فائدہ نہیں چودھری صاحب!” میں نے شاکی لہجے میں کہا۔ “کیونکہ ریحانہ کے ساتھ اغوا جیسا افسوس ناک واقعہ پیش آ چکا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے، وقار حسین نے سادہ لباس پولیس والوں کی خفیہ نگرانی کے بارے میں کسی اور کو بھی ضرور بتایا ہے۔”
”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ملک صاحب؟” چودھری نے یقین سے میری طرف دیکھا۔ “وقار اتنی اہم بات بھلا اور کس کو بتائے گا۔ وہ میری ہدایت کے خلاف نہیں جا سکتا۔”
میں نے جیتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “چودھری صاحب! مجھے بھی یہی امید تھی کہ آپ میری ہدایت کے خلاف نہیں جائیں گے مگر آپ سے غلطی ہو گئی۔ آپ کی طرح وقار حسین بھی بندہ بشر ہے، اس سے بھی بھول چوک ہو سکتی ہے۔ حالات و واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وقار حسین کے توسط سے یہ راز آگے کہیں منتقل ضرور ہوا ہے۔”
”آپ یہ بات اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں ملک صاحب؟” وہ گہری نظر سے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔ “اس بارے میں آپ کو کچھ شواہد ملے ہیں کیا؟”
”بالکل ملے ہیں، میں نے یقین سے کہا۔ “میں ابھی ابھی کوچوان سخی محمد کا “انٹرویو” کر کے آیا ہوں۔ وہ اس اندوہناک واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک ہے۔ اس نے مجھے ڈھانٹا پوش گھڑ سوار حملہ آوروں کی کارروائی کے بارے میں تفصیلاً بتایا ہے۔ اس کے مطابق جب تانگہ جمال پور تارڑ اور سکھیکی کے درمیان ذخیرے کے نزدیک پہنچا تو تین ڈھانٹا پوش گھڑ سوار افراد نے ان پر حملہ بول دیا۔ حملہ آوروں نے سب سے پہلے سادہ لباس سائیکل سوار یعنی کانسٹیبل نجیب اللہ کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش تلاش کرنا ممکن نہیں کہ وہ ڈھانٹا پوش گھڑ سوار ریحانہ کو اغوا کرنے آئے تھے۔ اس تناظر میں ایک غیر متعلق اور بے ضرر سائیکل سوار سے مڈبھیڑ کا آغاز کرنا یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ وہ جس مقصد سے حملہ آور ہوئے تھے، وہ وہی مقصد حاصل کرتے اور رفوچکر ہو جاتے۔ کانسٹیبل نجیب اللہ کی موت کسی اتفاقیہ حادثہ کا نتیجہ بن کر سامنے آتی تو دوسری بات تھی۔”
میں نے سانس لینے کی غرض سے تھوڑا وقفہ دیا پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “ریحانہ اغوا ہو چکی ہے۔ گویا حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں، اغوا کی اس خونیں کارروائی میں سب سے پہلے انہوں نے کانسٹیبل نجیب اللہ پر فائرنگ کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سادہ لباس سائیکل سوار کو اپنے لیے سب سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھے یا یوں کہہ لیں کہ انہیں یہ بات خاص طور پر سمجھائی گئی تھی کہ سب سے پہلے سائیکل سوار کو ختم کرنا ہے۔ ان کا عمل اس حقیقت کا بین ثبوت ہے۔ مرحوم نجیب اللہ نے خود پر خطرناک حملہ ہونے کے باوجود بھی ڈاکوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی مذموم کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔ میرا خیال ہے، چودھری صاحب! اب تو آپ میری بات کی تہہ تک پہنچ گئے ہوں گے۔”
وہ دھیرے دھیرے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے سوچنے والے انداز میں یک ٹک مجھے دیکھتا رہا پھر گمبھیر آواز میں گویا ہوا۔ “ملک صاحب! آپ نے جو متبادل حقائق بیان کیے ہیں ان سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ کار دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ دشمنوں تک یہ خبر کس نے پہنچائی؟”
میں نے اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہ کی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “چودھری صاحب! آپ کو اچھی طرح یاد ہو گا، ریحانہ کے حوالے سے چودھری سکندر علی کے عزائم یہاں تک کیسے پہنچے تھے۔ چودھری وقار حسین اپنے معتمدِ خاص مشتاق عرف مشتاقا کے ساتھ موضع وسن پور کے میلے میں گیا تھا جہاں جمال مشتاقا کی اس کے ایک شناسا جیدا سے بات ہوئی تھی۔ جیدا کوٹ جھمرا میں رہتا ہے اور چودھری سکندر علی کی حویلی میں اس کا آنا جانا رہتا ہے۔ جیدا کی زبانی یہ خبر مشتاقا تک پہنچی کہ چودھری سکندر اپنی بھتیجی ریحانہ کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس کے بعد ہی آپ لوگ چوکنا ہوئے تھے۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ملک صاحب!” چودھری نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی اور بولا۔ “حالات بالکل اسی طرح پیش آئے تھے لیکن اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ سادہ لباس کانسٹیبل نجیب اللہ کے بارے میں حملہ آور دشمنوں کو کس نے بتایا ہو گا؟”
”میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوں چودھری صاحب!” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے نہایت ہی مستحکم لہجے میں کہا۔ ”چودھری وقار تک آپ کے توسط سے یہ خبر پہنچی۔ مشتاقا، چودھری وقار کا خاص بندہ ہے۔ وہ اس پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وقار حسین نے مشتاقا کو سادہ لباس کانسٹیبل کے بارے میں بتا دیا ہو، مقصد یہی رہا ہو گا کہ مشتاقا کو حوصلہ رہے کہ پولیس بھی ان لوگوں کی حفاظت پر مامور ہے۔“