Urdu Short Story

سفید کفن – بھوک غیرت کو کھا گئی

شہر کے مضافات میں واقع اس دس بائی بارہ کے کرائے کے کمرے میں صرف دو ہی چیزیں کثرت سے موجود تھیں؛ ایک دیواروں سے جھڑتی ہوئی مٹی اور دوسرا بچوں کی سسکتی ہوئی بھوک۔ اسلم کے لیے اب صبح کا سورج امید کی کرن نہیں، بلکہ ایک نیا تازیانہ بن کر ابھرتا تھا۔ عمر کے چالیس ویں سال میں قدم رکھتے ہی اس کا نحیف جسم اس کا ساتھ چھوڑ رہا تھا، لیکن اس کے کندھوں پر موجود پانچ نفوس کا بوجھ اسے بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
اسلم ایک پرائیویٹ دکان پر تیرہ ہزار روپے ماہوار پر ملازم تھا، جہاں صبح آٹھ سے رات دس بجے تک مسلسل کھڑے رہ کر کام کرنے کی وجہ سے اس کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ مہنگائی کے اس دور میں تیرہ ہزار روپے میں مکان کا کرایہ، بجلی کا بل اور پانچ افراد کا راشن پورا کرنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا، لیکن معجزے صرف کتابوں میں اچھے لگتے ہیں، تلخ حقیقتوں کے بازار میں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
پچھلے دو سال سے اسلم شدید شوگر (ذیابیطس) کا مریض تھا۔ ڈاکٹر نے اسے صاف کہہ دیا تھا:
“اسلم صاحب! اگر آپ نے انسولین اور متوازن غذا کا انتظام نہیں کیا، تو شوگر آپ کے گردوں اور آنکھوں پر حملہ کر دے گی، اور کسی دن آپ کا جسم جواب دے جائے گا۔”
اسلم نے ڈاکٹر کی بات سن کر ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا، “ڈاکٹر صاحب! جہاں بچوں کو دو وقت کی سوکھی روٹی میسر نہ ہو، وہاں انسولین کہاں سے آئے گی؟ میرے لیے دوا خریدنے کا مطلب ہے اپنے بچوں کے منہ سے ایک دن کا نوالہ چھین لینا، اور ایک باپ ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔”
چنانچہ، وہ دوا کی جگہ پانی پی لیتا اور انسولین کی جگہ اپنے رب سے مہلت مانگ لیتا۔ لیکن بیماری کسی کے حالات دیکھ کر رحم نہیں کھاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پاؤں کے زخم ناسور بننے لگے، آنکھوں کے آگے دھندلاپن چھانے لگا، اور دکان کے مالک نے یہ کہہ کر اسے نوکری سے نکال دیا کہ “اب تم سے کام نہیں ہوتا، ہمیں چست بندہ چاہیے”۔
نوکری چلی جانے کے بعد اسلم کے گھر میں اندھیرا چھا گیا۔ تین دن تک گھر کا چولہا نہیں جلا۔ اس کی چھوٹی بیٹی گڑیا بھوک سے بلک بلک کر نڈھال ہو گئی تو اسلم کی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ گیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اپنی غیرت کا سودا کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔
وہ اپنے سگے بڑے بھائی کے گھر گیا، جو ایک کھاتے پیتے سرکاری افسر تھے۔ اسلم نے کانپتے ہاتھوں سے بھائی کا دامن تھاما:
“بھائی جان! خدا کے لیے میری مدد کریں۔ میری گڑیا نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔ مجھے دکان سے نکال دیا گیا ہے، میرے پاس شوگر کی دوا کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ مجھے صرف پانچ ہزار روپے ادھار دے دیں، میں جیسے ہی کوئی کام ڈھونڈوں گا، لوٹا دوں گا۔”
بڑے بھائی نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے بیزاری سے کہا، “اسلم! حالات تو سب کے ہی خراب ہیں۔ ہمارے اپنے اخراجات اتنے ہیں کہ پورا نہیں پڑتا۔ اور ویسے بھی، تم جو ادھار لے جاتے ہو، وہ کبھی واپس تو آتا نہیں۔ اب روز روز کی یہ مانگ تانگ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔”
اسلم خاموشی سے سر جھکا کر باہر نکل آیا۔ اس نے اپنے مخلص دوستوں کو فون کیا، لیکن جیسے ہی اسلم کا نام اسکرین پر چمکتا، دوست یا تو فون کاٹ دیتے یا “یار! میں خود بہت پھنسا ہوا ہوں” کا جملہ بول کر لائن کاٹ دیتے۔ رشتہ داروں نے اس کے گھر آنا چھوڑ دیا کہ کہیں یہ پیسے نہ مانگ لے۔ جس معاشرے میں غربت کو ایک گناہ سمجھا جائے، وہاں غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔
جب وہ خالی ہاتھ گھر لوٹا، تو اس کی بیوی ساجدہ نے پانی میں نمک گھول کر بچوں کو پلا دیا تاکہ وہ سو جائیں۔ بچوں کے پچکے ہوئے گال اور اپنی بیوی کی پتھرائی ہوئی آنکھیں دیکھ کر اسلم کے اندر کچھ ٹوٹ گیا اور وہ رات بھر صحن میں بیٹھ کر خاموشی سے روتا رہا۔
وہ بیس مئی کی ایک اداس دوپہر تھی، جب مکان مالک نے گھر کا سامان باہر پھینکنے کی دھمکی دی اور بجلی کا میٹر کٹ گیا۔ اسلم کا شوگر لیول اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ اس کے جسم سے شدید بدبو آنے لگی تھی اور اس کے پاس پیناڈول کی ایک گولی خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔
جب تکلیف اور بھوک حد سے بڑھ گئی، تو اسلم نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ اس بے حس دنیا کا بوجھ مزید نہیں اٹھائے گا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ مر جائے گا، تو کم از کم اس کے حصے کا نوالہ بچوں کو مل جائے گا اور رشتہ دار شاید لاوارث بچوں پر کچھ رحم کھا لیں۔
اس نے اپنے پھٹے ہوئے بستر پر بیٹھ کر ایک کاغذ اور قلم اٹھایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور آنکھوں سے گرنے والے آنسو کاغذ پر سیاہی کو پھیلا رہے تھے۔ اس نے اپنا “آخری بیان” لکھنا شروع کیا:
“میں، اسلم ولد رحمان، پورے ہوش و حواس میں یہ بیان لکھ رہا ہوں کہ میری موت کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں، بلکہ میری اپنی غربت اور میرے بچوں کی بھوک ہے۔ میں اس نظام سے، اپنے رشتوں سے اور اپنی زندگی سے ہار گیا ہوں۔ پولیس یا کوئی بھی ادارہ میرے پیچھے میری بیوی، بچوں یا کسی معصوم کو تنگ نہ کرے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔”
اس نے نیچے لائن تبدیل کی اور اپنے دل کا سارا درد اس کاغذ پر انڈیل دیا:
“اور سنیں… میرے مرنے کے بعد میرے کسی بھی امیر رشتہ دار، بھائی یا دوست کو میرے جنازے پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب میں زندہ تھا اور میرے بچے بھوک سے تڑپ رہے تھے، تب تمہارے دروازے بند تھے۔ اب میری لاش پر آ کر جھوٹے آنسو مت بہانا۔ میری غیرت گواہی نہیں دیتی کہ تمہارے پیسوں سے میرا کفن خریدا جائے۔ میری بیوی سے گزارش ہے کہ میرے مرنے کی اطلاع ‘ایدھی سینٹر’ کو دی جائے۔ میرا کفن، میری تدفین اور میرا جنازہ سب ایدھی والے کریں گے۔”
بیان مکمل کرنے کے بعد، اسلم نے اپنے انگوٹھے پر نیلے رنگ کی سیاہی لگائی اور اس کاغذ کے نیچے اپنا انگوٹھا ثبت کر دیا۔ اس نے اپنے سستے اینڈرائیڈ فون سے اس خط کی تصویر لی اور اسے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کر دیا، جس کا کیپشن لکھا: “الوداع…
خط پوسٹ کرنے کے چند منٹ بعد، جب اس کی بیوی باورچی خانے میں بچوں کو بہلانے کے لیے خالی پتیلی چولہے پر رکھ کر رو رہی تھی، اسلم نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا اور چھت کے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
جب دروازہ توڑا گیا، تو اسلم کی روح پرواز کر چکی تھی، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے اسے شوگر کی تکلیف اور بھوک کے خوف سے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی ہو۔
فیس بک پر اس کا پوسٹ کیا ہوا آخری بیان جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو چکا تھا۔ محلے دار، رشتہ دار اور میڈیا کے لوگ اس کے کچے گھر کے باہر جمع ہو گئے۔ اسلم کا بڑا بھائی، جو دو دن پہلے اسے پانچ ہزار روپے دینے سے انکار کر چکا تھا، اب لوگوں کو دکھانے کے لیے دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا: “ہائے میرا بھائی! مجھے بتا تو دیا ہوتا، میں اپنا سب کچھ بیچ کر تمہیں بچا لیتا”۔
لیکن اسی لمحے ایدھی کی سفید ایمبولینس گلی میں داخل ہوئی۔ ایمبولینس سے دو رضاکار اترے۔ اسلم کی بیوی نے روتے ہوئے شوہر کا وہ خط رضاکاروں کے ہاتھ میں تھما دیا۔ جب رضاکار نے اونچی آواز میں وہ خط پڑھا کہ “میرے کسی رشتہ دار کو آنے کی ضرورت نہیں، میرا سب کچھ ایدھی والے کریں گے”، تو وہاں موجود پورے ہجوم پر سانپ سونگھ گیا۔ بڑے بھائی کے آنسو یکدم خشک ہو گئے اور وہ شرمندگی سے سر جھکائے گلی سے نکل گیا۔
ایدھی کے رضاکاروں نے احترام کے ساتھ اسلم کی لاش کو سفید کفن میں لپیٹا، اسے ایمبولینس میں رکھا اور اسے غسل اور تدفین کے لیے لے گئے۔ اسلم کا جنازہ کسی رشتہ دار کے پیسوں کا محتاج نہیں ہوا، بلکہ اس بے حس معاشرے کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ بن کر ایدھی کے قبرستان میں دفن ہو گیا۔
یہ کہانی کسی ایک اسلم کی نہیں، بلکہ ہمارے ارد گرد بسنے والے ان ہزاروں سفید پوشوں کی ہے جو مانگنے سے پہلے مرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیں، کسی غریب کی بھوک کا تماشہ مت بنائیں اور اپنے رشتہ داروں کے حالات سے بے خبر مت رہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو رزق دیا ہے، تو اپنے ارد گرد جھانکیں، کہیں کوئی اسلم اپنے بچوں کی بھوک دیکھ کر زندگی کی بازی ہارنے کا فیصلہ تو نہیں کر رہا؟ کیونکہ جب ایک باپ خودکشی کرتا ہے، تو صرف ایک انسان نہیں مرتا، بلکہ پورے معاشرے کا ضمیر مر جاتا ہے۔