جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھر کا ماحول مجھے ہمیشہ بوجھل اور اجنبی سا محسوس ہوا۔ گھر میں محبت اور اپنائیت کی جگہ ایک عجیب سی تلخی بسی ہوئی تھی۔ والد صاحب کا مزاج نہایت سخت اور ترش تھا۔ وہ نہ صرف ہم بچوں سے فاصلے پر رہتے بلکہ اپنے چھوٹے بھائیوں سے بھی ان کے تعلقات کشیدہ تھے۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ تھا جب میں انہیں اپنے بوڑھے والد، یعنی میرے دادا، کے ساتھ بے رحمی اور بے اعتنائی سے پیش آتے دیکھتی۔ ان کے لہجے میں عزت کی جگہ حقارت اور رویے میں شفقت کے بجائے سرد مہری جھلکتی تھی۔ گھر کے بڑے ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے والد کے بڑھاپے کا خیال نہ رکھا، بلکہ کئی بار ان کی تذلیل کر کے دل دکھایا۔ میری معصوم آنکھیں یہ سب دیکھ کر اکثر نم ہو جاتیں، مگر میں کچھ کہنے کی ہمت نہ رکھتی تھی۔
امی کا رویہ بھی اس معاملے میں کچھ مختلف نہ تھا۔ وہ اپنے ضعیف سسر کے ساتھ ایسا سلوک کرتیں جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دے۔ وہ جان بوجھ کر انہیں تکلیف دیتیں، کبھی سارا دن کھانا نہ دیتیں اور کبھی سخت گرمی میں پنکھا بند کر دیتیں۔ دادا اپنی کمزوری اور ناتوانی کے باعث بار بار اٹھ کر پنکھا چلانے کے قابل نہ تھے۔ ایسے میں، ایک ننھی سی بچی ہونے کے باوجود، میں چپکے سے ٹیبل پر چڑھ کر پنکھا چلا دیتی تاکہ انہیں کچھ سکون مل سکے۔ یہ میرے دل کی بے بسی اور محبت کا ایک چھوٹا سا اظہار تھا، جو شاید کسی کو دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ایک دن کا واقعہ تو آج تک میرے دل پر نقش ہے۔ امی نے کئی دنوں سے پڑا ایک گندا گلاس اٹھایا، جس میں پہلے شربت رہا تھا اور اس کے پیندے میں چیونٹیاں جمی ہوئی تھیں، اور اسی میں پانی بھر کر دادا کو دے دیا۔ دادا نے پیاس کی شدت میں وہ پانی پی لیا، مگر جونہی چیونٹیاں ان کے گلے میں پھنسیں، وہ تکلیف سے کراہنے لگے۔ یہ منظر میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا، مگر اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ تھی کہ میری اپنی ماں اس اذیت ناک حالت پر ہنس رہی تھیں۔ انہوں نے دوپٹے کا پلو منہ پر رکھا اور بے تحاشا قہقہے لگانے لگیں، جیسے کوئی مذاق ہو۔ میں صرف سات برس کی تھی، مگر اس لمحے میرے دل میں ایک عجیب سا غصہ اور دکھ جاگا، آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور دل نے سوال کیا کہ آخر ایک بے بس بوڑھے انسان کے ساتھ ایسا سلوک کیسے کیا جا سکتا ہے؟
میری خاموشی میری مجبوری تھی۔ میں نہ تو اتنی بڑی تھی کہ کچھ کہہ سکتی اور نہ ہی اتنی مضبوط کہ اس ظلم کو روک سکتی۔ مگر دکھ کی انتہا تب ہوتی جب میری والدہ اس واقعے پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر محسوس کرتیں۔ وہ اپنی سہیلیوں کے سامنے یہ قصہ اس انداز میں سناتیں جیسے کوئی دلچسپ لطیفہ بیان کر رہی ہوں، اور ہر بار ان کی ہنسی گونج اٹھتی۔ اس ہنسی میں مجھے بے حسی، سنگدلی اور انسانیت کی شکست کی آواز سنائی دیتی، جو میرے ننھے دل کو اندر تک زخمی کر جاتی۔
والد صاحب کی زندگی میں ذمہ داری کا عنصر جیسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ وہ کوئی کام نہ کرتے، نہ ہی روزی کمانے کی فکر انہیں لاحق ہوتی۔ گھر کا سارا بوجھ میرے چچاؤں کے کندھوں پر تھا، جو محنت مزدوری کر کے کماتے اور ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی کمائی والد صاحب کے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ بڑے بھائی ہونے کے ناتے وہی گھر کے سربراہ بنے رہتے، مگر یہ سربراہی محض نام کی تھی.عملی طور پر وہ صرف حکم چلانا جانتے تھے۔ وقت کے ساتھ چچاؤں کے دل میں یہ ناانصافی چبھنے لگی۔ آخرکار وہ والد کے نکمے پن اور بے جا رعب سے تنگ آ کر الگ ہو گئے۔ اس جدائی نے جیسے ہمارے گھر کی بنیادیں ہلا دیں۔ اب نہ وہ آمدنی رہی، نہ وہ شان و شوکت۔ تنگ دستی نے آہستہ آہستہ گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ان حالات میں امی کا لہجہ بھی بدل گیا۔ وہ اکثر تلخی سے کہتیں، “جب بھائیوں کی کمائی پر تم نے اتنی چودھراہٹ دکھائی، تو اب اس کا انجام بھی دیکھ لو۔ گھر میں دال روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اب یا تو خود کچھ کما کر لاؤ یا کہیں سے لے کر آؤ، ہمیں تو زندہ رہنے کے لیے کھانا چاہیے۔” ان کے الفاظ میں شکوہ بھی تھا اور مجبوری بھی۔ گھر کی فضا مزید بوجھل ہو گئی تھی، جہاں ہر دن ایک نئی پریشانی اور ہر رات ایک نیا اندیشہ لے کر آتی تھی۔
میرے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک بات والد صاحب کا رویہ تھا۔ انہوں نے کبھی مجھے بیٹی کہہ کر نہیں پکارا۔ ان کی آنکھوں میں نہ شفقت تھی، نہ اپنائیت صرف ایک اجنبیت اور بیزاری کا احساس ہوتا، جیسے میرا وجود ان پر بوجھ ہو۔ ایک بچی کے لیے یہ احساس کسی سزا سے کم نہیں ہوتا کہ جس شخص سے وہ سب سے زیادہ محبت اور توجہ کی امید رکھتی ہے، وہی اسے نظرانداز کر دے۔ میں اکثر سوچتی کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے کہ مجھے باپ کی محبت نصیب نہیں۔
البتہ دادا اور چچاؤں کی طرف سے مجھے جو تھوڑی بہت محبت ملی، وہ میرے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ ننھیال میں بھی سب مجھ پر جان نچھاور کرتے تھے۔ وہاں جا کر مجھے کچھ دیر کے لیے سکون ملتا، جیسے میں کسی محفوظ پناہ گاہ میں آ گئی ہوں۔ مگر قسمت کو شاید یہ خوشی بھی زیادہ دیر تک گوارا نہ تھی۔ ایک دن اچانک ننھیال میں ایسا سانحہ پیش آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ میرا اکلوتا ماموں، جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہا تھا، ایک موٹر سائیکل حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس خبر نے جیسے پورے گھر کو ساکت کر دیا۔
نانا اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے۔ بیٹے کی جدائی نے انہیں اندر سے توڑ دیا، اور کچھ ہی عرصے بعد وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یوں ننھیال کی وہ چھاؤں، جہاں میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی، یکدم ختم ہو گئی۔ پیچھے رہ گئیں دو بیٹیاں اور ایک بیوہ، جو اب زندگی کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھیں۔ اس سانحے نے نہ صرف ان کی دنیا اجاڑی بلکہ میرے دل میں موجود آخری سہارا بھی چھین لیا، اور میں ایک بار پھر تنہائی اور محرومی کے اندھیروں میں جا گری.
نانا کے انتقال کے بعد بظاہر یہ تسلی تھی کہ انہوں نے وراثت میں اتنی زمین چھوڑ دی تھی جو ان کی بیوہ اور بیٹیوں کے لیے سہارا بن سکتی تھی۔ مگر یہ سہارا بھی جلد ہی آزمائش میں بدلنے والا تھا۔ میری نانی ایک سادہ مزاج، پرانی سوچ کی حامل خاتون تھیں، جن کی دنیا اپنے گھر اور بچوں تک محدود تھی۔ انہیں دنیا داری کی پیچیدگیوں اور لوگوں کی نیتوں کا اندازہ نہ تھا۔ اس کے برعکس میری ماں نہایت ہوشیار اور موقع شناس تھیں۔ جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ ان کی ماں اور دونوں چھوٹی بہنیں ایک بڑے صدمے کے بعد بے سہارا ہو چکی ہیں، وہ فوراً میکے جا پہنچیں۔ بظاہر وہ ماں اور بہنوں کی دلجوئی میں مصروف ہو گئیں، ان کے دکھ میں شریک ہوئیں اور ہر طرح کی ہمدردی کا اظہار کرنے لگیں۔ والد صاحب بھی اس دکھاوے میں برابر کے شریک تھے، جیسے وہ واقعی اس غم میں برابر کے شریک ہوں۔
حقیقت مگر اس کے برعکس تھی۔ دراصل ان دنوں ہمارے اپنے گھر کے حالات بھی بدتر ہو چکے تھے۔ غربت اور تنگ دستی نے ہمیں جکڑ رکھا تھا، اور اب نانا کی چھوڑی ہوئی زمین انہیں ایک سہارا نہیں بلکہ ایک موقع نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے دل ہی دل میں یہ منصوبہ بنا لیا کہ کسی طرح نانی اور خالاؤں کی زمین اپنے نام کروا لی جائے، تاکہ ہمیشہ کے لیے مالی پریشانی سے نجات حاصل ہو جائے۔ اسی نیت کے تحت انہوں نے نانی کو باتوں میں لینا شروع کیا۔ انہیں سمجھایا گیا کہ اب جبکہ ان کا شوہر اور بیٹا دونوں دنیا میں نہیں رہے، وہ اکیلی عورت ان جائیداد کے معاملات کیسے سنبھالیں گی؟ لڑکیاں بھی ابھی کم عمر اور ناتجربہ کار ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اور لالچی شخص انہیں دھوکہ دے کر سب کچھ ہتھیا لے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ کسی قابلِ اعتماد فرد کے نام زمین منتقل کر دیں، جو ان کا خیال بھی رکھے اور جائیداد کی حفاظت بھی کرے۔
میری نانی، جو پہلے ہی صدموں سے نڈھال تھیں، ان باتوں میں آ گئیں۔ انہوں نے سادگی سے کہا، “بیٹا، اب تم ہی ہمارے اپنے ہو، جو بہتر سمجھو وہی کرو۔ ہم عورتیں کہاں ان جھمیلوں میں پڑیں گی۔” یہ وہ لمحہ تھا جب اعتماد کا رشتہ ایک خطرناک موڑ لے چکا تھا۔ چند دن بعد، امی اور ابو نے نانی کو بتایا کہ زمین کے انتقال کے لیے انہیں تحصیل دار کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ نانی نے بغیر کسی شک و شبہ کے ان کی بات مان لی، کیونکہ انہیں اپنی بیٹی اور داماد پر اندھا یقین تھا۔
ایک دن وہ انہیں کچہری لے گئے۔ وہاں ایک عرضی نویس کے پاس لے جا کر کاغذات پر انگوٹھا لگوا لیا گیا۔ نانی یہ سمجھی کہ شاید یہ معمول کی کارروائی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ جب وہ کاغذات تصدیق کے لیے تحصیل دار کے سامنے پیش کیے گئے، تو اچانک نانی پر حقیقت آشکار ہوئی۔ یہ زمین کے انتقال کے نہیں بلکہ فروخت کے کاغذات تھے.بیع نامہ، جس کے ذریعے ان کی زمین کسی اور کے نام کی جا رہی تھی۔ اس لمحے ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ انہیں احساس ہوا کہ جن پر انہوں نے سب سے زیادہ بھروسہ کیا، انہی نے انہیں سب سے بڑا دھوکہ دیا ہے.
نانی نے جب حقیقت جانی تو وہ چیخ اٹھیں، ان کی آواز میں دکھ، حیرت اور بے بسی سب شامل تھے۔ انہوں نے وہیں کچہری میں واویلا مچا دیا، مگر میری ماں نے نہایت سفاکی سے سب کے سامنے یہ تاثر دیا کہ نانی کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ انہوں نے بڑے یقین سے کہا کہ وہی اپنی ماں اور بہنوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں اور یہ سب اقدامات بھی انہی کی بھلائی کے لیے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ چھوٹی بہنوں کی شادی کے لیے رقم درکار ہے۔ کچھ لوگوں نے نانی کی حالت دیکھ کر ان کا ساتھ دینے کی کوشش بھی کی، مگر والد صاحب کے ایک وکیل دوست نے مہارت سے صورت حال کو اپنے حق میں موڑ دیا۔ اس نے قانونی موشگافیوں اور چالاکی سے نانی کی آواز کو دبا دیا، اور یوں حق کی وہ کمزور سی صدا بھی شور میں گم ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میری ماں اور باپ کی اپنی سگی ماں اور بہنوں کے خلاف رچی گئی سازش کامیاب ہو گئی، اور زمین کی فروخت سے ایک خاصی رقم ان کے ہاتھ آ گئی۔
مگر اس کامیابی کی قیمت کسی اور نے چکائی۔ زمین بکنے کے بعد نانی جیسے جیتے جی مر گئیں۔ صدمہ اتنا گہرا تھا کہ ان کی زبان جیسے بند ہو گئی۔ وہ گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھی رہتیں، نظریں کہیں دور خلا میں گم، جیسے ان کی روح اس دنیا سے کٹ چکی ہو۔ ابتدا میں میرے والدین نے چند دن تک ان کی اور ان کی بیٹیوں کی کفالت کا ڈھونگ رچایا، مگر جلد ہی وہ بھی ختم ہو گیا اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ نانی کا ذہنی توازن چاہے پہلے درست تھا یا نہیں، مگر اس ظلم اور دھوکے نے ان کی ہمت اور جینے کی خواہش ضرور چھین لی تھی۔ اب ان کی گزر بسر ہمسایوں کی دی ہوئی خیرات پر ہونے لگی، اور وہ گھر جو کبھی خوشیوں سے آباد تھا، خاموشی اور محرومی کی تصویر بن گیا۔
ان سب حالات نے میرے ننھے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ میں پہلے ہی اپنے بوڑھے دادا کی حالت دیکھ کر دکھی رہتی تھی، مگر اب میری فکر میں نانی اور میری چھوٹی خالائیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتی تھیں اور میں ان سے، مگر فاصلے اور حالات نے ہمیں بے بس کر دیا تھا۔ اکثر میں سوچتی کہ آخر کیوں مشکل وقت میں اپنے ہی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں؟ مگر پھر کبھی کبھی قسمت کوئی ایسا موڑ بھی لے آتی ہے جہاں امید کی ایک ہلکی سی کرن نظر آنے لگتی ہے۔
ایسا ہی ایک موڑ اس وقت آیا جب نانی کے خاندان کا ایک نوجوان، محی الدین، جو فوج میں صوبیدار تھا، ان کے حالات سے آگاہ ہوا۔ وہ نہ صرف وجیہہ اور باوقار تھا بلکہ دل کا بھی نرم اور احساس کرنے والا انسان تھا۔ جب اسے اس بے سہارا خاندان کی حالت کا علم ہوا تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ اس نے فوراً اپنی والدہ سے کہا، “ہمیں جا کر ان لوگوں کا حال دیکھنا چاہیے، وہ اس وقت بہت مشکل میں ہیں۔” اس کے لہجے میں خلوص تھا اور آنکھوں میں ہمدردی، جیسے وہ اس ٹوٹے ہوئے گھر کو سہارا دینے کا عزم کر چکا ہو۔
جب محی الدین اور ان کی والدہ اس ویران سے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں کی حالت دیکھ کر ان کے دل کانپ اٹھے۔ نانی کی خاموش آنکھیں، جن میں کبھی شفقت اور زندگی کی روشنی ہوا کرتی تھی، اب صرف دکھ اور تھکن کا عکس پیش کر رہی تھیں۔ دونوں خالائیں بھی حالات کی سختیوں سے قبل از وقت بڑی ہو گئی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر محی الدین کی والدہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہوں نے وہیں دل میں ایک فیصلہ کر لیا کہ وہ اس بے سہارا خاندان کو یوں ٹوٹنے نہیں دیں گی۔ انہوں نے نہایت وقار اور خلوص کے ساتھ نانی کے سامنے ان کی منجھلی بیٹی، خالہ تانیہ، کے لیے اپنے بیٹے محی الدین کا رشتہ پیش کیا۔ ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ چھوٹی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے میں بھی بھرپور مدد کریں گی۔ یہ پیشکش اس اندھیرے میں امید کی پہلی کرن تھی۔ نانی نے بھاری دل مگر شکر گزار آنکھوں کے ساتھ اس رشتے کو قبول کر لیا، اور یوں جلد ہی محی الدین کی شادی خالہ تانیہ سے ہو گئی، جبکہ ان کے چچا زاد بھائی کمال نے خالہ نازیہ کو اپنے گھر کی زینت بنا لیا۔
یہ شادیاں نہ صرف دو بے سہارا لڑکیوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کا ذریعہ بنیں بلکہ نانی کے دل کو بھی کچھ سکون ملا۔ مگر ظلم کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ جن لوگوں نے نانا کی زمین خریدی تھی، وہ گاؤں کے ہی بااثر مگر فریب کار لوگ تھے، جن کی میرے والد کے ساتھ ملی بھگت تھی۔ انہوں نے دھوکے سے اس زمین کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ مگر اب حالات کچھ بدلنے والے تھے۔ خالو محی الدین کے کزن، کمال صاحب، جو خالہ نازیہ کے شوہر تھے، کے بڑے بھائی ایک قابل اور تجربہ کار وکیل تھے۔ جب انہیں اس سارے معاملے کی حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے قانونی پہلو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سودا سرے سے درست ہی نہیں تھا، کیونکہ قانون کے مطابق والدین اپنی اولاد کے حصے کی جائیداد فروخت نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ زمین اب بھی خالاؤں کا حق تھی اور اسے واپس حاصل کیا جا سکتا تھا۔
محی الدین خالو فطرتاً جھگڑوں اور مقدمہ بازی سے دور رہنے والے انسان تھے۔ وہ سکون سے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے، مگر جب بات حق اور ناانصافی کی آئی تو خالو کمال کے اصرار اور وکیل کی رہنمائی نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ آخرکار انہوں نے ہمت کی اور مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ ایک طویل اور کٹھن سفر تھا.چھ برس تک عدالتوں کے چکر، پیشیاں، دلائل اور انتظار۔ ہر دن ایک نئی آزمائش لے کر آتا، مگر اس بار وہ اکیلے نہیں تھے۔ سچ ان کے ساتھ تھا، اور آخرکار سچ کی جیت ہوئی۔ طویل جدوجہد کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا اور دونوں خالاؤں کے حصے کی زمین واپس دلوا دی گئی۔
یہ صرف زمین کی واپسی نہیں تھی، بلکہ ایک چھینی گئی عزت، ایک پامال کیے گئے حق اور ایک ٹوٹے ہوئے اعتماد کی جزوی بحالی تھی۔ اس فیصلے نے نہ صرف نانی کے دل کو کچھ قرار دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ ظلم چاہے جتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر اس کے مقابلے میں سچ اور حوصلہ ہو تو ایک دن انصاف ضرور ملتا ہے۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میں لڑکپن کی دہلیز عبور کر کے جوانی کے قریب جا پہنچی۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میرے والدین کو اچانک میری شادی کی فکر لاحق ہو گئی۔ ایک دن میں حسبِ معمول اسکول سے واپس آئی تو گھر کا منظر بدلا بدلا سا لگا۔ چند اجنبی چہرے بیٹھے تھے، فضا میں ایک رسمی سی سنجیدگی تھی۔ امی نے مجھے دیکھتے ہی کہا، “جاؤ، منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدل لو اور مہمانوں کے لیے چائے بنا لو۔” میں نے خاموشی سے سر ہلا دیا اور ان کے کہنے پر عمل کرنے لگی، مگر دل میں ایک انجانی سی بے چینی سر اٹھانے لگی تھی۔
جب میں چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو سب کی نظریں یکدم مجھ پر جم گئیں۔ ان نظروں میں ایک عجیب سا تجسس تھا، جیسے وہ مجھے پرکھ رہے ہوں۔ مہمان اپنے ساتھ مٹھائی لائے تھے، اور کچھ دیر بعد ایک خاتون نے مسکراتے ہوئے امی کو نیا جوڑا دیا، پھر میرے سر پر ایک سرخ دوپٹہ رکھ دیا۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے زمین میرے قدموں تلے سے کھسک گئی ہو۔ چند رسمی جملے، کچھ دعائیں، اور پھر مجھے بتایا گیا کہ یہ میری منگنی کی رسم تھی.ایک ایسا فیصلہ جو میری زندگی کے بارے میں تھا، مگر جس میں میری کوئی رائے شامل نہیں تھی۔
مہمان تو خوشی خوشی رخصت ہو گئے، مگر میں وہیں بیٹھی رہ گئی، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ذہن سوالوں سے بھرا ہوا تھا اور دل میں عجیب سا خوف۔ میں ابھی اس ذمہ داری کے لیے تیار نہ تھی۔ میری عمر بمشکل پندرہ یا سولہ برس تھی، اور سامنے میٹرک کے امتحانات کھڑے تھے۔ میری دنیا تو ابھی کتابوں، خوابوں اور امیدوں کے گرد گھوم رہی تھی۔ میں نے خود کو ہمیشہ ایک کالج کی طالبہ کے طور پر دیکھا تھا، جہاں میں مزید تعلیم حاصل کروں، اپنے لیے ایک بہتر مستقبل بناؤں۔
شاید امی نے میرے چہرے پر چھپی پریشانی پڑھ لی تھی۔ وہ میرے پاس آ کر نرمی سے بولیں، “رابعہ، اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم ابھی تیری شادی نہیں کر رہے۔ تُو سکون سے اپنے امتحان دے لے، باقی باتیں بعد میں دیکھیں گے۔” ان کی باتوں سے وقتی طور پر دل کو کچھ تسلی تو ملی، مگر ایک بے یقینی پھر بھی باقی تھی۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “لیکن میں تو کالج جانا چاہتی ہوں، پڑھنا چاہتی ہوں…”
امی نے فوراً جواب دیا، “پڑھ لے گی تُو، کیوں نہیں۔ جب تُو بی اے کر لے گی، تب ہی ہم تیری شادی کریں گے۔” ان کے الفاظ سن کر میں نے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک خوف سا جاگ چکا تھا کہ کہیں یہ وعدے بھی وقت کے ساتھ بدل نہ جائیں، جیسے میری زندگی کے باقی فیصلے بغیر پوچھے بدل دیے گئے تھے۔
امی کی باتوں سے وقتی طور پر مجھے کچھ سہارا تو مل گیا تھا، اس لیے میں نے خود کو سنبھالا اور پوری توجہ کے ساتھ اپنے امتحانات دیے۔ دن رات کی محنت کے بعد جب میٹرک کے نتائج آئے تو میرے دل میں ایک نئی امید جاگی کہ شاید اب میرے خوابوں کو حقیقت کا رنگ ملے گا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ نتیجہ آتے ہی وہی لوگ دوبارہ ہمارے گھر آ پہنچے اور اس بار انہوں نے کھل کر شادی کا تقاضا شروع کر دیا۔ امی نے حسبِ سابق انہیں وقتی طور پر ٹال تو دیا، مگر اس دن ان کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور بوجھل پن تھا۔
اسی شام وہ میرے پاس آئیں اور دھیرے سے بولیں، “بیٹی، آج میں تجھے ایک ایسا راز بتانا چاہتی ہوں جو شاید مجھے پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا۔” ان کے لہجے میں ہچکچاہٹ بھی تھی اور مجبوری بھی۔ میں خاموشی سے ان کی بات سننے لگی۔ انہوں نے گہری سانس لی اور کہا، “میں تیرے والد کے سامنے بے بس ہوں… کیونکہ میرے تین بچے ان سے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میری دوسری شادی ہے، اور قدیر تیرے حقیقی والد نہیں، بلکہ سوتیلے باپ ہیں۔”
یہ الفاظ میرے کانوں میں جیسے گونج بن کر رہ گئے۔ ایک لمحے کو لگا جیسے میری پوری دنیا ہی بدل گئی ہو۔ جس شخص کو میں نے ہمیشہ اپنا باپ سمجھا، وہ دراصل میرا باپ ہی نہیں تھا۔ میں کچھ بول نہ سکی، بس ان کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ امی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “اب میں تیرے لیے اپنا گھر نہیں توڑ سکتی۔ یہ رشتہ انہوں نے اپنے دوست کے بیٹے سے کیا ہے، اور ظاہر ہے کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔”
پھر انہوں نے ایک اور تجویز پیش کی، “اگر تُو کالج پڑھنا چاہتی ہے تو ایک معاہدہ کر لیتے ہیں۔ ہم ایک کاغذ پر لکھ دیں گے کہ چار سال تک تیری رخصتی نہیں ہوگی۔ وہ لوگ بھی اس بات پر راضی ہو جائیں گے، اور تُو آرام سے اپنی تعلیم مکمل کر لے گی۔”
یہ سن کر میں جیسے دوہری چوٹ کا شکار ہو گئی۔ ایک طرف اپنی زندگی کے سب سے بڑے راز کا انکشاف، اور دوسری طرف اپنے مستقبل کا یوں کاغذ کے ایک ٹکڑے سے بندھ جانا۔ سولہ برس کی عمر میں انسان اتنا سمجھدار تو ہو ہی جاتا ہے کہ سچ اور دھوکے میں فرق کر سکے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل میں ایک گہرا شگاف پڑ گیا ہو۔
میں خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دروازہ بند کرتے ہی آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ ایسا لگا جیسے برسوں کا درد آنکھوں کے راستے باہر آ رہا ہو۔ میں دیر تک روتی رہی، یہاں تک کہ آنکھیں سوج گئیں اور دل بوجھل ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد امی میرے پاس آئیں، مجھے گلے لگایا اور نرمی سے بولیں، “بیٹی، میں مجبور تھی… تیرے والد کے انتقال کے بعد مجھے یہ سب کرنا پڑا۔”
ان کے الفاظ میں سچائی بھی تھی اور پچھتاوا بھی، مگر میرے دل کا زخم اتنا گہرا تھا کہ کوئی تسلی اسے بھر نہ سکتی تھی۔ اب میں حقیقت جان چکی تھی، اور یہ حقیقت میری معصوم دنیا پر ایک بوجھ بن کر آن گری تھی۔ زندگی اچانک بہت مشکل، بہت اجنبی سی لگنے لگی تھی۔ پھر بھی میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی، دل ہی دل میں صبر کیا اور اللہ پر بھروسہ رکھا کہ شاید وہی میرے لیے کوئی آسانی پیدا کرے گا۔
کالج میں داخلہ ملنے کے بعد میں نے خود کو پوری طرح پڑھائی میں جھونک دیا۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا.ایک قابل وکیل بننا، تاکہ میں بھی ان لوگوں کے لیے آواز اٹھا سکوں جن پر ظلم ہوتا ہے اور جو بے بسی کے عالم میں انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ کتابیں، لیکچرز اور خواب… یہی میری دنیا بن چکے تھے۔ مگر ایک دن جب میں گھر لوٹی تو وہاں ایک کہرام برپا تھا۔ فضا سوگوار تھی، لوگ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، اور ہر چہرہ سنجیدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ والد ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے اور موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔
یہ خبر سن کر میرے اندر کوئی ہلچل نہ ہوئی۔ میں خود بھی اس بے حسی پر حیران تھی، مگر شاید دل واقعی پتھر ہو چکا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کے رویے، ان کے ظلم اور بے رحمی کو دیکھا تھا.اپنے بھائیوں کے ساتھ، اپنی ماں کے ساتھ، اور کہیں نہ کہیں میرے ساتھ بھی۔ اس لیے ان کی موت پر آنسو نہ آئے، صرف ایک خاموشی تھی جو میرے اندر گھر کر گئی۔
وقت گزرتا گیا اور میں نے اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے وکالت کے امتحانات کامیابی سے پاس کر لیے۔ یہ میری زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، ایک ایسا لمحہ جس نے مجھے میرے خواب کے قریب کر دیا۔ ادھر میری منگنی، جو والد کی خواہش پر ہوئی تھی، اب اپنی بنیاد کھو چکی تھی۔ وہ لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے اور ایک دن منگنی ختم کر دی گئی۔ مگر اس بار بھی میرے دل میں کوئی افسوس نہ تھا۔ شاید میں اب ان رشتوں سے اوپر اٹھ چکی تھی جن میں میری مرضی اور میری خوشی شامل ہی نہیں تھی۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزاروں گی۔ سوتیلی بیٹی ہونے کا احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہا، اس لیے میں نے ایک نئے شہر کا رخ کیا، جہاں میں آزادانہ طور پر اپنی تعلیم اور وکالت کی پریکٹس جاری رکھ سکوں۔ وہاں میں نے ایک نئی دنیا بسائی.جہاں میری پہچان میرے کام سے تھی، نہ کہ میرے ماضی سے۔ کبھی کبھار میں اپنی والدہ سے ملنے ضرور چلی جاتی، مگر اب میرا اصل سہارا میرا مقصد بن چکا تھا۔
انہی دنوں میری ملاقات سرفراز نامی ایک نوجوان وکیل سے ہوئی۔ وہ نہایت ذہین، محنتی اور مخلص انسان تھا۔ ابتدا میں وہ صرف پیشہ ورانہ طور پر میری مدد کرتا رہا، مگر آہستہ آہستہ اس کی سنجیدگی، اس کا خلوص اور اس کا احترام میرے دل میں جگہ بنانے لگا۔ ہم دونوں ایک جیسے خواب رکھتے تھے.ایک بہتر وکیل بننے کے، انصاف کے لیے لڑنے کے۔ شاید یہی ہم آہنگی ہمیں قریب لے آئی۔
ایک دن اس نے نہایت سادہ مگر خلوص بھرے انداز میں مجھے شادی کی پیشکش کی۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ فیصلہ واقعی میرا اپنا ہو سکتا ہے۔ میں نے اس پیشکش کو قبول کر لیا، اور یوں ہماری شادی ہو گئی۔ سرفراز کے ساتھ مجھے وہ سکون، وہ عزت اور وہ محبت ملی جس کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی تھی۔
وقت کے ساتھ ہماری خوشیاں بھی بڑھتی گئیں۔ شادی کے تین سال بعد اللہ نے ہمیں جڑواں بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے نوازا۔ وہ لمحہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں میں سے ایک تھا۔ اب ہمارا گھر ہنسی، محبت اور امیدوں سے بھر چکا تھا۔
یوں لگتا تھا جیسے ہم نے ماضی کی تمام تلخیوں، مجبوریوں اور اذیتوں کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اب میری زندگی میں سکون تھا، مقصد تھا، اور ایک ایسا ساتھ تھا جو ہر دکھ میں میرے ساتھ کھڑا رہنے کا وعدہ نبھا رہا تھا۔