Urdu Novels PDF

بہتان – (ملک صفدر حیات)

پچاسویں دہائی کے اوائل میں موسمِ خزاں کی ایک صبح ایک خودکشی کی اطلاع ملی۔ میں دو آدمی ساتھ لے کر وقوعہ پر پہنچ گیا۔ جس مکان میں یہ سانحہ پیش آیا تھا وہ چار یا پانچ کمروں پر مشتمل تھا۔ اس میں دو میاں بیوی رہتے تھے۔ ان کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی اور بچہ کوئی نہیں تھا۔
​کشادہ صحن والے اس مکان کے کمرے خاصے بڑے بڑے تھے اور صحن میں کچھ پودے بھی اگے ہوئے تھے۔ خودکشی کرنے والا صاحبِ خانہ تھا۔ اُس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر تھا اور گزشتہ سات آٹھ ماہ سے اس مکان میں رہ رہا تھا۔ اس کا حال ہی میں اس علاقے میں تبادلہ ہوا تھا۔ اس کا نام صفدر حسین معلوم ہوا۔ اس کی لاش ایک کمرے میں شہتیر کے ساتھ لٹک رہی تھی۔ مبینہ طور پر اس نے پھندا ڈال کر خودکشی کی تھی۔
​لاش کے عین نیچے ایک میز رکھی تھی اور میز کے قریب ایک اسٹول اوندھا پڑا تھا جس رہی کو پھندے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا وہ بالکل نئی تھی۔
​صفدر حسین کا رنگ گندمی اور جسم قدرے بھاری تھا۔ اس ​کی عمر چالیس سال سے کچھ کم معلوم ہوتی تھی۔ لیکن بعد میں کاغذات کے معائنے کے بعد اس کی عمر پینتیس سال معلوم ہوئی۔ لاش کا سرسری معائنہ کرنے کے بعد میں نے اسے اتروا کر ایک چارپائی پر ڈال دیا اور اس کی بیوہ سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ​اس کا نام سلمیٰ معلوم ہوا۔ وہ دوسرے کمرے میں، محلے کی عورتوں کے درمیان غمزدہ بیٹھی تھی۔ لیکن ادھر سے رونے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، دونوں اس علاقے میں نئے آئے تھے اور ان کا کوئی قریبی رشتہ دار وہاں نہیں رہتا تھا۔
​تھوڑی دیر کے بعد دو بڑی عمر کی عورتیں سلمیٰ کو سہارا دیے ہوئے بیٹھک میں لائیں۔ اس نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی اور سسکیاں لیتی ہوئی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ اگرچہ اس نے گھونگھٹ نکال رکھا تھا، مگر اس کی چال اور قد و قامت سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ خاصی کم عمر لڑکی تھی۔ بالکل اسکول گرل معلوم ہوتی تھی۔ میں نے سوچا، ممکن ہے کہ اس کی جسمانی ساخت لڑکیوں جیسی ہو۔ لیکن جب میں نے اس کی آواز سنی تو وہ بھی نوجوان لڑکیوں جیسی تھی۔ یہ ایک ایسی بات تھی جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ متوفی انسپکٹر آف اسکولز تھا۔ میرے دل میں شک پیدا ہوا کہ شاید اس نے کسی طالبہ کو ورغلا کر اس سے شادی کر لی تھی۔ میں سلمیٰ کی تعلیم اور عمر جاننے کے لیے بے چین ہو گیا۔ لیکن فوراً یہ سوالات مناسب نہیں تھے۔
​”بی بی! یہ سانحہ کیسے پیش آیا؟” میں نے نرمی سے پوچھا۔
​”جی” مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں چلا۔” اس نے سسکیوں کے درمیان کہا۔ “رات کو ہم ادھر ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے تھے۔ صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ان کا بستر خالی تھا۔ میں سمجھی کہ شاید وہ دوسرے کمرے میں جا کر لیٹ گئے ہوں گے لیکن وہاں جا کر دیکھا تو ان کی لاش چھت سے لٹک رہی تھی۔ میری چیخیں نکل گئیں۔ میں بھاگ کر باہر گئی اور خالہ نذیراں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔”
​”کیا تمہارے میاں کسی وجہ سے پریشان تھے؟”
​”کوئی۔۔۔ خاص پریشانی تو نہیں تھی۔”
​”عام پریشانی کیا تھی؟”
​اس نے جواب دینے میں قدرے تامل کیا۔ “پھر بولی” وہ اپنے کام کی باتیں مجھے نہیں بتاتے تھے۔ ایک دن کہہ رہے تھے کہ دفتر کے حساب کتاب میں کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اس دن کے بعد پریشان پریشان نظر آتے تھے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصے میں آ جاتے تھے۔ جب زیادہ غصہ آتا تھا تو دوسرے کمرے میں جا کر سو جاتے تھے۔”
​”کل رات کو بھی کسی بات پر غصہ کیا تھا؟”
​”ہاں۔۔۔ دو تین باتوں پر غصہ کیا تھا۔” اس نے سوچتے ہوئے کہا۔ “رات کے کھانے میں میں نے کریلے پکائے تھے۔ جب میں نے کھانا لگایا تو غصے سے کہنے لگے۔ پتا نہیں تمہیں یہ پاپا کھانے کا کیوں اتنا شوق ہے۔ کریلے گرم ہوتے ہیں۔ بندہ تھوڑی سی چٹنی ہی بنا لائے۔ میں نے پوچھا کہ نمکین یا میٹھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ نمک بھی ڈال دینا۔ میں سمجھی انہوں نے نمکین لسی بنانے کے لیے کہا ہے لیکن جب انہوں نے لسی کا گھونٹ لیا تو فوراً کلی کر دی اور غصے سے بولنے لگے کہ میں کڑوی زہر لسی بنا لائی تھی۔ انہوں نے تھوڑا سا نمک ڈالنے کے لیے کہا تھا۔ میں دوبارہ لسی بنا لائی مگر ان کا غصہ کم نہیں ہوا۔”
​”اور کس بات پر غصہ کیا تھا؟”
​”میں کئی دنوں سے میکے جانے کا کہہ رہی تھی۔ رات کو میں نے ان کو یہ بات یاد دلائی تو پھر غصے میں آ گئے۔ کہنے لگے۔ کوئی ضرورت نہیں میکے جانے کی۔ یہاں میرا کھانا کون پکائے گا۔۔۔! بس اس قسم کی باتیں کرتے رہے۔ میں کچھ نہیں بولی اور اندر جا کر بستر پر لیٹ گئی۔ وہ باہر صحن میں ٹہلتے رہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اندر آئے اور کہا۔ اگر تمہارا یہاں دل نہیں لگتا تو اپنی امی کو ایک آدھ مہینے کے لیے یہاں بلا لو۔ میں نے غصے سے کہا۔ اگر امی یہاں آ گئیں تو آیا کا کھانا کون پکائے گا؟ اتنی سی بات پر ان کو دوبارہ غصہ آ گیا اور بولنا شروع ہو گئے۔ میں دوسری طرف منہ کر کے سو گئی۔”
​”پھر کیا ہوا؟”
​”تھوڑی دیر کے بعد مجھے نیند آ گئی۔ میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ بھی سو گئے ہوں گے۔ اگر مجھے پتا ہوتا کہ وہ اتنی سی بات پر اپنی زندگی ختم کر لیں گے تو میں ان کے پیر پکڑ کر معافی مانگ لیتی۔” اس نے رونا شروع کر دیا۔
​میں نے پوچھا۔ “تمہاری شادی کو کتنا عرصہ ہوا تھا؟”
​”تقریباً۔۔۔ نو دس مہینے ہوئے تھے۔”
​”تمہاری تعلیم کتنی ہے؟”
​”میں جی۔۔۔ صرف پانچ جماعتیں پڑھی ہوئی ہوں۔”
​”تمہاری عمر تو بہت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔ تم نے زیادہ تعلیم کیوں نہیں حاصل کی؟”
​”یہ تو جی، ماں باپ کی مرضی ہے۔ انہوں نے پانچ جماعتوں کے بعد گھر میں بٹھا لیا تھا۔”
​قریب کھڑی ایک عورت نے کہا۔ “آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے، اس کی عمر صرف چودہ پندرہ سال ہو گی۔”
​”خالہ، میری عمر اتنی کم بھی نہیں ہے۔” سلمیٰ نے کہا۔ “میں سترہ سال سے زیادہ عمر کی ہوں۔”
​”تمہارے میاں کی عمر تو کافی زیادہ تھی۔” میں نے کہا۔ “چالیس سال کے تو ضرور ہوں گے۔”
​”ان کی عمر سینتیس سال تھی۔”
​”کیا یہ شادی تمہاری مرضی سے ہوئی تھی؟”
​”ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ میں ان پڑھ ہوں۔ میرے میاں پڑھے لکھے اور سرکاری افسر تھے۔ میرے ماں باپ نے رشتہ منظور کر لیا۔”
​”کیا صفدر تمہارے رشتہ دار تھے؟”
​”جی، ماموں کے بیٹے تھے۔”
​”کیا تم اس شادی پر خوش تھیں؟”
​”خوش تو ہونا ہی پڑتا ہے جی۔”
​میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اس شادی پر خوش نہیں تھی۔ یہ بات نہایت تعجب خیز تھی کہ اس کے والدین نے اتنا بے جوڑ رشتہ کیوں کیا تھا۔ لڑکی میں بظاہر کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ وہ گورے چٹے رنگ کی خوبصورت لڑکی تھی اور کشمیری معلوم ہوتی تھی۔ جب کہ اس کے شوہر کا رنگ گندمی تھا۔
​مصر کے دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں اے ایس آئی ضابطے کی کارروائی میں مصروف تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا۔ “ملک صاحب، ذرا ادھر آئیں۔”
​وہ مجھے لاش کے پاس لے گیا اور کپڑا ہٹا کر متوفی کی کلائیاں دکھائیں جن پر دہم نشان پڑے ہوئے تھے۔
​”یہ رسی کے نشان معلوم ہوتے ہیں۔” اس نے مزید کہا۔
​”ایسے ہی نشان ٹخنوں پر بھی ہیں۔”
​”یہ رسی ہی کے نشان ہیں۔” میں نے کہا۔
​”یہ خودکشی کا نہیں قتل کا کیس ہے۔” اے ایس آئی نے کہا۔ “سنا ہے کہ اس کی بیوی بہت کم عمر اور خوبصورت ہے۔”
​”تم نے ٹھیک سنا ہے۔ بیوی کی عمر صرف سترہ سال ہے۔ وہ کہتی ہے کہ صفدر اس کا ماموں زاد تھا۔”
​”تو پھر قتل اسی نے کیا ہے۔” اے ایس آئی نے فیصلہ سنایا۔ “اس کو تھانے لے چلیں۔ صبح تک سب کچھ اگل دے گی۔”
​”تمہاری تھیوری کیا ہے؟”
​”سیدھی سی بات ہے جی، شوہر کے سونے کے بعد بیوی نے اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے ہوں گے، منہ پر کپڑا بھی باندھ دیا ہو گا ۔ اس کے بعد اسے چھت سے لٹکا دیا ہو گا ۔”
​”وہ بہت ہلکی پھلکی اور نازک لڑکی ہے۔ اتنے بھاری شخص کو اٹھانا اس کے لیے ناممکن ہے۔”
​”تو پھر ۔۔۔ اس نے یہ کام کسی آشنا کی مدد سے کیا ہو گا۔”
​”میاں بیوی میں رات کو جھگڑا ہوا تھا اور غالباً صفدر اس کمرے میں آ کر سو گیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص رات کے وقت اس کمرے میں گھسا ہو اور اپنا کام مکمل کر کے واپس چلا گیا ہو ۔ یہ کسی مضبوط آدمی کا کام معلوم ہوتا ہے۔ تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ بیوی نے نیند کی حالت میں اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے ہوں گے۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتی تو صفدر کی آنکھ کھل جاتی اور وہ بیوی کو آسانی سے زیر کر لیتا۔ خواہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے کیوں نہ ہوتے۔ کم از کم شور تو مچاہی سکتا تھا۔”
​”اگر یہ کسی باہر کے آدمی کا کام ہے تو دیکھنا یہ پڑے گا کہ اس قتل سے اس کا مقصد کیا ہے ۔”
​”ہاں، پہلے قتل کا محرک تلاش کرنا پڑے گا۔ آشنا والی بات بہت ہلکی معلوم ہوتی ہے۔ سلمیٰ صرف پانچ جماعتیں پڑھی ہوئی ہے اور بظاہر بہت سیدھی سادھی لڑکی ہے۔ وہ اتنی شاطرانہ منصوبہ بندی نہیں کر سکتی۔ قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کا مطلب ہے کہ اس کام میں کسی ذہین شخص کا ہاتھ ہے ۔” میں نے ایس آئی کی کا معائنہ کیا جو پھندے کے طور پر استعمال کی گئی تھی ۔”خودکشی کرنے والے عموماً کوئی رقعہ ضرور چھوڑ جاتے ہیں، تاکہ کسی بے گناہ شخص کو موت کا ذمے دار قرار نہ دے دیا جائے لیکن بعض لوگ اس کے برعکس بھی کر سکتے ہیں ۔”
​”برعکس!”
​”یعنی وہ مرنے سے قبل ایسی کارروائی کر جاتے ہیں جس سے ان کا دشمن قتل کے الزام میں دھر لیا جائے لہذا ہمیں یہ پہلو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ۔ اس کی کلائیوں پر جو نشان ہیں وہ ایسی ہی کارروائی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ صفدر نے خودکشی سے قبل دانستہ یہ نشانات ڈال دیے ہوں تاکہ اس کی بیوی یا کوئی اور شخص اس کے قتل کے الزام میں پکڑا جائے۔”
​”لیکن آپ تو کہتے ہیں کہ بیوی بہت کم عمر اور سیدھی سادھی لڑکی ہے ! ” اے ایس آئی نے کہا۔ ” بلکہ خوبصورت بھی ہے۔”
​”یہ بات قتل کی منصوبہ بندی کے ضمن میں بالکل صحیح ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کم عمر اور حسین لڑکی کے بارے میں یہ قیاس آسانی سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ بڑی عمر کے شوہر کو پسند نہیں کرتی ہو گی۔ اس کے برعکس یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑی عمر کا شوہر اپنی کم عمر اور حسین بیوی سے والہانہ محبت کرتا ہو گا ۔ جب ایسا تضاد موجود ہو تو کم عمر بیوی شوہر کی گھریلو زندگی کو بہ آسانی جہنم بنا سکتی ہے اور اسے رفتہ رفتہ خودکشی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ سلمیٰ کی باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس شادی پر خوش نہیں تھی۔ نیز اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کئی روز سے میکے جانے پر اصرار کر رہی تھی۔”
​”رپورٹ میں کیا لکھا جائے؟”
​”فی الحال اسے ہم پُراسرار موت کہہ سکتے ہیں۔” میں نے کہا۔ “اب یہ رسی جو ہے۔ یہ بالکل نئی ہے۔ اگر یہ خودکشی کا کیس ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صفدر کئی روز سے خودکشی کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس نے احتیاطاً رسی کا انتظام بھی کر لیا تھا لیکن اگر یہ قتل کا کیس ہے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ قتل بھی اچانک نہیں ہوا۔ قاتل بھی کئی دنوں سے منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اس نے پہلے سے رسی خرید کر رکھی ہوئی تھی۔”
​”ہو سکتا ہے رسی کسی اور مقصد کے لیے خریدی گئی ہو اور کئی روز سے گھر میں رکھی ہو۔”
​یہ بات چیک کرنی ضروری تھی۔
​میں نے رسی کو لپیٹ کر گولا بنا لیا اور دوسرے کمرے میں جا کر دوبارہ سلمیٰ کو بلوایا۔
​”بی بی! میں اس رسی کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔” میں نے اسے رسی دکھاتے ہوئے کہا۔ “تمہارے میاں نے یہ رسی کب خریدی تھی؟”
​رسی دیکھ کر وہ تھوڑی سی گڑ بڑا ئی اور قدرے توقف کے بعد بولی ” پتا نہیں جی، مجھے۔۔۔ اس رسی کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔”
​”یاد کرنے کی کوشش کرو۔ ہو سکتا ہے کہ تم نے کپڑے لٹکانے کے لیے یا چارپائی میں ادوائن ڈالنے کے لیے یہ رسی منگوائی ہو کیونکہ یہ بالکل نئی رسی ہے۔”
​”میں تو جی، پہلی دفعہ یہ رسی دیکھ رہی ہوں۔”
​”بی بی، میرا خیال ہے کہ یہ قتل کا کیس ہے ۔” میں نے کہا۔ ” ہمیں کچھ ایسے نشانات ملے ہیں جو قتل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا تمہارے میاں کا کوئی دشمن بھی تھا یا کوئی ایسا شخص جسے ان کی موت سے فائدہ پہنچ سکتا ہو؟”
​”جی۔۔۔ میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتی۔”
​میں نے یہ سوال مختلف زاویوں سے کیا مگر اس نے کسی مشکوک شخص کی نشاندہی نہیں کی۔ تاہم اس سوال کے باعث وہ پریشان ضرور ہو گئی تھی۔
​تھانے پہنچ کر میں نے وہ رسی حوالدار کے سپرد کی اور کہا۔ “یہ رسی لے کر بازار چلے جاؤ اور پتا کرو کہ ایسی رسیاں کتنی دکانوں پر فروخت ہوتی ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے اندر ان دکانداروں نے ایسی کتنی رسیاں فروخت کی ہیں۔ نیز یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ یہ رسیاں کن لوگوں نے خریدی ہیں۔”
​”یہ تو۔۔۔ شاید کوئی بھی نہ بتا سکے۔” حوالدار نے کہا۔
​میں نے اسے صفدر حسین کی تصویر نکال کر دی۔ یہ تصویر میں نے سلمیٰ کی البم سے حاصل کی تھی۔ “یہ تصویر اپنے پاس رکھ لو اور دکانداروں سے پوچھنا کہ اس شخص نے یہ رسی تو نہیں خریدی تھی۔ ہمیں جس شخص کی تلاش ہے وہ کوئی نوجوان اور مضبوط شخص ہے بشرطیکہ صفدر حسین، یعنی اس تصویر والے شخص نے رسی نہیں خریدی تھی۔”
​”بہت بہتر جناب۔” حوالدار نے کہا۔ “میں کوشش کرتا ہوں۔”
​حوالدار کو رخصت کرنے کے بعد میں نے ایک اے ایس آئی کو بلایا اور کہا۔ “تم صفدر حسین کے پڑوسیوں سے مل کر یہ پتا کرنے کی کوشش کرو کہ صفدر حسین کی عدم موجودگی میں کسی مشکوک شخص کا ان کے گھر آنا جانا تو نہیں تھا؟”
​”یعنی کوئی ایسا شخص جو چوری چھپے سلمیٰ سے ملنے آتا تھا؟” اے ایس آئی نے پوچھا۔
​”ہاں، یہ ایک اندازہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتل پرانی دشمنی کی بنا پر کیا گیا ہو۔ اس لیے مشکوک آدمی کسی بھی قسم کا بھی ہو سکتا ہے۔”
​پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق صفدر حسین کی موت پھندا لگنے کے سبب سے واقع ہوئی تھی۔ اس کے جسم پر کوئی مصلک چوٹ مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔ تاہم اس کے معدے سے مواد حاصل کر کے کیمیاوی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا تھا۔
​حوالدار رسی کے بارے میں کوئی قابلِ ذکر خبر نہیں لایا۔ بازار میں رسیوں کی کئی دکانیں تھیں اور انہوں نے ایک ہفتے کے دوران ڈیڑھ دو درجن اس جیسی رسیاں فروخت کی تھیں۔ تاہم صفدر حسین کی شکل کے کسی آدمی نے رسی نہیں خریدی تھی۔
​اے ایس آئی نے بتایا کہ سلمیٰ کے گھر کوئی مشکوک شخص آتا جاتا نہیں دیکھا گیا تھا۔
​”پڑوسیوں نے ایک خاص بات یہ بتائی ہے کہ ڈیڑھ دو مہینے سے میاں بیوی کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے تھے۔” اے ایس آئی نے مزید کہا۔ “ان کے گھر سے ہر دوسرے تیسرے دن جھگڑا کرنے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔ اس سے پہلے ایسی آوازیں کبھی سنائی نہیں دی تھیں۔ سلمیٰ شوہر کے اشاروں پر چلنے والی ایک صم بکم لڑکی تھی اور محلے کی عورتیں اس کی شوہر پرستی کی تعریف کرتی تھیں۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ دو مہینے سے اس نے شوہر سے لڑنا جھگڑنا شروع کر دیا تھا۔ جیسے اسے اچانک زبان مل گئی ہو۔”
​”اس قسم کی بات سلمیٰ نے بھی کی تھی۔” میں نے کہا۔ “اس نے کہا تھا کہ کچھ عرصہ سے اس کا شوہر پریشان تھا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے لگ جاتا تھا۔”
​”ہو سکتا ہے کہ یہ بات بھی ہو۔ لیکن ایک پڑوسن کا کہنا ہے کہ سلمیٰ نے اچانک بہت زیادہ بولنا شروع کر دیا تھا وہ غصے میں بڑی سخت باتیں کہنے لگی تھی۔ اس سے پہلے گھر سے باہر اس کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔ ایک عورت کا خیال ہے کہ اس کے دماغ پر کچھ اثر ہو گیا تھا ۔”
​”کسی مشکوک شخص کے بارے میں کوئی بات معلوم نہیں ہوئی؟”
​”نہیں جی، ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوئی۔ سب عورتوں نے سلمیٰ کے کردار کی تعریف کی ہے۔ اسے بناؤ سنگھار کا زیادہ شوق نہیں ہے شوہر کے دفتر جانے کے بعد گھر کے کاموں میں لگ جاتی تھی۔ سودا لینے کے لیے بازار بھی نہیں جاتی تھی۔ ان کے پڑوس میں عبدالحکیم نامی ایک ہیڈ ماسٹر رہتے ہیں۔ ان کی بیوی نے بتایا ہے کہ سلمیٰ کو اگر کسی چیز کی ضرورت پڑتی تھی تو دیوار کے اوپر سے آواز دے کر مانگ لیتی تھی یا ان کا بیٹا ساجد حسن ضرورت کی چیز بازار سے لا دیتا تھا ۔”
​”کیا تم نے اس لڑکے سے بھی بات کی ہے؟”
​”جی ہاں، دروازہ اسی نے کھولا تھا۔ بہت شریف اور خاموش طبیعت نوجوان ہے۔”
​”کام کیا کرتا ہے؟”
​”اس نے میٹرک کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ آج کل سرکاری نوکری کے لیے کوشش کر رہا ہے۔”
​”بعض خاموش طبیعت نوجوان اندر سے بڑے رنگین مزاج ہوتے ہیں۔” میں نے کہا۔ “تمہیں چاہیے تھا کہ اس نوجوان کو ٹٹولنے کی کوشش کرتے۔”
​”میں نے اس کے ساتھ کافی باتیں کی تھیں۔ مجھے اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔ وہ رنگین مزاج ہو سکتا ہے، لیکن قاتل نظر نہیں آتا تھا ۔”
​”محلے میں کوئی اور ایسا نوجوان تمہاری نظر سے نہیں گزرا جس کا کسی حوالے سے صفدر حسین کے گھر آنا جانا رہا ہو؟”
​”فی الحال تو ایسا کوئی شخص میری نظر میں نہیں آیا مگر میں​دوبارہ پتا کروں گا۔”
××××
​دو روز کے بعد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس گیا اور صفدر کے ساتھ کام کرنے والوں سے اس کے بارے میں پوچھا۔ وہ سب لوگ اس کے بارے میں بہت افسردہ تھے اور کسی کو بھی خودکشی والی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
​”صفدر ایسا شخص نہیں تھا۔” اس کے ایک قریبی ساتھی نے کہا۔ اس کا نام منظور احمد تھا اور وہ بھی انسپکٹر آف اسکولز تھا۔ “اور ایسی کوئی پریشانی والی بات بھی نہیں تھی۔”
​”میں نے سنا ہے کہ صفدر حسین دفتر کے کسی حساب کتاب کی وجہ سے پریشان تھا۔”
​”یہ آپ کو کس نے بتایا ہے؟”
​”یہ بات مجھے صفدر کے ایک قریبی رشتہ دار کی زبانی معلوم ہوئی ہے۔” میں نے سلمیٰ کا نام نہیں لیا۔
​”وہ بہت معمولی سی بات تھی۔ بعض لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ صفدر نے انسپکشن کے دوران ایک اسکول کی انتظامیہ سے نذرانہ وصول کر کے اچھی رپورٹ لکھ دی تھی۔ اس شکایت کی وجہ سے ڈی ای او نے اس کے دو بل روک لیے تھے لیکن یہ معاملہ اس کی موت سے چار دن پہلے حل ہو گیا تھا۔ البتہ وہ اپنی بیوی کی وجہ سے کچھ پریشان تھا۔”
​”یہ بات میں پہلے بھی سن چکا ہوں۔” میں نے کہا۔ “کیا اس نے اس معاملے کی کوئی تفصیل بتائی تھی؟”
​منظور احمد نے بتایا کہ وہ صفدر حسین کو دس بارہ سال سے جانتا تھا۔ دونوں میں بہت بے تکلفی تھی اور وہ شروع سے اکٹھے کام کر رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ صفدر بہت حساس آدمی تھا اور اپنے بے تکلف دوستوں سے بھی دل کی بعض باتیں چھپا جاتا تھا۔
​منظور احمد نے شادی کے بارے میں کتنا روتا تھا اور وہ اس بات کو ہنس کر ٹال دیا کرتا تھا لیکن دس سال پہلے اس نے ایک عجیب بات کہی۔ اس نے شادی کے ذکر پر بڑی سنجیدگی سے کہا۔ “منظور احمد، میرا عورت کی ذات سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔”
​”کوئی محبت کا سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔” منظور احمد نے کہا۔ “کیا وہ بے وفا ثابت ہوئی تھی؟”
​صفدر نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا۔ “دس سال پہلے میں نے عہد کیا تھا کہ میں صرف سلمیٰ سے شادی کروں گا۔”
​”لیکن سلمیٰ بے وفا نکلی اور تم نے فیصلہ کیا کہ تم ساری زندگی سلمیٰ کی یاد میں گزار دو گے۔”
​”شاید کچھ ایسی ہی بات ہے۔”
​”صفدر، تم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور محکمہ تعلیم کے ایک ذمے دار افسر ہو۔ تمہیں ایسا جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تو کم علم اور​غم زدہ نوجوانوں کی باتیں ہیں۔ پرانی باتیں، بھول جاؤ اور شادی نہ کرنے کا فیصلہ ترک کر دو۔“
”میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔“
”تو پھر کیا کہا ہے؟“
”میں نے عہد کیا تھا کہ میں صرف سلمیٰ سے شادی کروں گا اور میں آج بھی اس عہد پر قائم ہوں۔“
​منظور احمد نے کہا کہ اس نے سلمیٰ کے بارے میں پوچھا تو یہ ٹال گیا۔ ساری بات کا خلاصہ یہ تھا کہ بیس سال پہلے صفدر حسین نے سلمیٰ نامی کسی لڑکی سے محبت کی تھی اور یہ عہد کیا تھا کہ وہ صرف اس سے شادی کرے گا لیکن بیس سال بعد اس نے ایک سولہ سالہ سلمیٰ سے شادی کر لی۔
​”یہ تو واقعی عجیب سی بات لگتی ہے۔“ میں نے منظور احمد کی بات سننے کے بعد کہا۔ ”میرے ذہن میں دو باتیں آتی ہیں۔ اول صفدر کو ”سلمیٰ“ نام اچھا لگتا تھا اور وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جس کا نام سلمیٰ ہو۔ دوم اس نے سلمیٰ نام کی کسی لڑکی سے محبت کی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے سے شادی کرنے کا عہد کیا۔ سلمیٰ اس قائم نہ رہ سکی لیکن صفدر کچھ عرصے تک یہ عہد نبھاتا رہا۔ لیکن جب بات پرانی ہو گئی تو اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے سلمیٰ نامی لڑکی سے شادی کر لی۔“
​”یہ دوسری تھیوری زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ اگر بات صرف نام کی حد تک ہوتی تو صفدر عورت کی ذات سے اعتنا رُبا نہ جانے کی بات نہ کرتا اور بہت پہلے سلمیٰ نامی کسی لڑکی سے شادی کر لیتا۔“
​میں نے پوچھا۔ ”کیا وہ ازدواجی زندگی سے مطمئن تھا؟“
”شروع میں تو بہت مطمئن تھا۔ لیکن چند ہفتوں سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کسی نے اس کی بیوی پر عمل کرا دیا ہے۔ اس کے دماغ پر اثر ہو گیا ہے۔ وہ اچانک بہت بددماغ اور منہ پھٹ ہو گئی ہے۔ کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرتی اور اگر سمجھانے کی کوشش کرو تو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔“
​یہ بات میں اے ایس آئی کی زبانی بھی سن چکا تھا۔ میں نے پوچھا۔ ”کیا آپ نے منظور سے پوچھا نہیں کہ عمل کس نے کرایا تھا اور اس کا مقصد کیا تھا؟“
​”جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ حساس آدمی تھا اور اپنی بہت سی باتیں ظاہر نہیں کرتا تھا۔ میں نے یہ بات پوچھی تھی مگر اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ معاملے کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔“
​یہ بات سلمیٰ کے بیان کے الٹ تھی۔ اس نے کہا تھا کہ اس کا شوہر کسی دفتری معاملے کی وجہ سے پریشان تھا اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے غصے میں آ جاتا تھا لیکن شواہد سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وہ خود چڑچڑی ہو گئی تھی اور بقول صفدر حسین کاٹنے کو دوڑتی تھی۔
​چند روز کے بعد کیمیاوی تجزیے کی رپورٹ موصول ہو گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق متوفی کے معدے میں خواب آور دوا کی کچھ مقدار پائی گئی تھی۔ یہ بڑی اہم بات تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ خواب آور دوا کسی منصوبے کا حصہ تھی یا صفدر حسین بے خوابی کی شکایت کے باعث یہ دوا استعمال کرتا تھا۔
​میں ضروری کاموں سے فارغ ہو کر سلمیٰ کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ ایک بوڑھے شخص نے کھولا۔ اس کا رنگ گندمی تھا اور اس کے بال نصف سے زیادہ سفید تھے۔ اس نے خانے دار رنگین دھوتی باندھ رکھی تھی اور کندھے پر سبز رومال نظر آ رہا تھا۔ میرے استفسار پر اس نے اپنا نام رحمت علی بتایا اور کہا کہ وہ سلمیٰ کا باپ تھا۔
​”میرا نام ملک صفدر حیات ہے۔“ میں نے کہا۔ ”میں آپ کے داماد کی موت کے سلسلے میں تفتیش کرنے آیا ہوں۔“ وہ مجھے بیٹھک میں لے گیا اور کسی پانی کا پوچھنے کے بعد بولا۔ ”ہمیں صفدر کی موت سے بڑا دکھ ہوا ہے۔ وہ میری بیوی کے بھائی کا بیٹا تھا اور بڑا ذہین نوجوان تھا۔“
​میں کرسی پر بیٹھ گیا اور بیٹھک کا جائزہ لیا۔ وہاں ہر شے سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔ لمحہ بھر کے بعد سلمیٰ کی ماں بھی کمرے میں آ گئی۔ وہ متوسط طبقے کی ہوشیار عورت معلوم ہوتی تھی۔ رنگ اس کا بھی گندمی تھا۔ اس نے سوتی چادر اوڑھ رکھی تھی اور اپنے شوہر سے چند سال چھوٹی نظر آتی تھی لیکن جو بات مجھے عجیب لگی وہ یہ تھی کہ سلمیٰ ان دونوں سے مختلف تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس کا رنگ گورا تھا اور وہ خوبصورت بھی تھی۔ تاہم میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ دنیا میں اس قسم کے تضادات ناممکن نہیں ہیں۔
​”میں آپ کی بیٹی سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔“ میں نے سلمیٰ کی ماں کے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔ وہ واپس جانے لگی تو رحمت علی نے اسے مخاطب کر کے کہا۔ ”حشمت بی بی! تھانیدار صاحب کے لیے لسی بنوا کر لے آنا۔“ حشمت بی بی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ اُس طرف سے عورتوں اور مردوں کی ملی جلی آوازیں آ رہی تھیں۔ پانچ منٹ کے بعد حشمت بی بی، سلمیٰ کے ہمراہ کمرے میں آئی اور دونوں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
​میں نے حشمت بی بی سے مخاطب ہو کر کہا۔ ”آپ کا داماد بہت ذہین اور پڑھا لکھا آدمی تھا۔ اس کے دوستوں کو خود کشی والی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔ اس کے دفتر کے لوگ کہتے ہیں کہ ایک دن پہلے تک وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھا اور کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی تھی جس سے مایوسی یا زندگی سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہو۔“
​سلمیٰ حسبِ سابق گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی اور سر جھکائے چادر کا کونا مروڑ رہی تھی۔
​”تھانیدار صاحب! یقین تے ساہنوں وی کوئی نہیں آیا سی۔“ حشمت بی بی نے کہا۔ ”پر اس گل دا کی فائدہ! جو ہونا سی او ہو گیا۔ بڑا سوہنا جوان سی میرا بھتیجا! پتا نہیں اس نوں کس دی نظر کھا گئی۔“ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، واضح طور پر اسے بھتیجے کی موت کا بہت دکھ ہوا تھا۔
​میں نے سلمیٰ سے پوچھا۔ ”تمہارے میاں نیند کی گولیاں بھی استعمال کرتے تھے؟“
”جی…!“ اس نے چونک کر کہا۔ پھر جلدی سے بولی۔ ”مجھے تو کچھ پتا نہیں ہے۔ کبھی کبھی دوائیاں تو لاتے رہتے تھے۔“
”کیا گھر میں کچھ دوائیاں موجود ہیں؟“
”شاید الماری میں ہوں گی۔“ وہ کھڑی ہو گئی۔ ”میں ابھی لے کر آتی ہوں۔ مجھے دوائیوں کی پہچان نہیں ہے۔“
​وہ میرے بولنے سے قبل ہی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ یہ حرکت اس نے اتنی عجلت میں کی تھی کہ مجھے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ حالانکہ مجھے خود جا کر وہ جگہ دیکھنی چاہیے تھی جہاں دوائیاں رکھی ہوئی تھیں۔
​وہ دو تین منٹ کے بعد واپس آئی اور چند دوائیاں میز پر رکھ دیں۔ ان میں چند کھانسی اور بخار کی دوائیاں تھیں اور ایک شیشی خواب آور گولیوں کی تھی۔ وہ میں گولیوں کی شیشی تھی۔ میں نے ڈھکن کھول کر گولیاں گنیں، اندر صرف بارہ گولیاں تھیں یعنی آٹھ گولیاں استعمال کی جا چکی تھیں۔
​حشمت بی بی نے خواب آور گولیوں پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ صفدر نے کبھی ایسی دوائی استعمال نہیں کی تھی۔ میں نے وہ شیشی اپنے قبضے میں لے لی اور کچھ دیر کے بعد اٹھ کر باہر نکل گیا۔ گلی خاصی کشادہ تھی اور وہ جگہ بستی کے نواحی علاقے میں تھی۔ کچھ فاصلے پر کھیت بھی دیکھے جا سکتے تھے۔
​میں نے سلمیٰ کے گھر کے عین سامنے والے دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک ادھیڑ عمر عورت دروازے پر آئی۔ اُس نے صاف ستھرا لباس پہن رکھا تھا اور پڑھی لکھی معلوم ہوتی تھی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور پوچھا کہ گھر میں کوئی مرد ہو گا۔ اس نے مجھے رکنے کے لیے کہا اور دروازہ بھیڑ کر واپس چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک چالیس بیالیس سالہ شخص دروازے پر آیا اور میرے استفسار پر اپنا نام عنایت اللہ بتایا۔
​میں نے اپنا تعارف کرانے کے بعد کہا۔ ”میں صفدر حسین کی موت کے بارے میں تفتیش کر رہا ہوں۔ دو چار باتیں آپ سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔“
”تفتیش کر رہے ہیں آپ؟“ اس نے حیرانی سے کہا۔ ”ہم نے تو خود کشی کی خبر سنی تھی!“
”ہم نے اس خبر پر یقین نہیں کیا۔“ میں نے کہا۔ ”اگر آپ زیادہ مصروف نہ ہوں تو اندر بیٹھ کر چند باتیں کر لیں۔“
​اس نے بڑا سا منہ بنایا اور مجھے برآمدے میں لے گیا۔ جہاں چند پرانی کرسیاں پڑی تھیں۔ کونے میں ایک حقہ بھی رکھا تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ خشک مزاج زمیندار تھا۔
​”چودھری صاحب! آپ کا گھر صفدر حسین کے گھر کے بالکل سامنے ہے۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے کسی مشکوک شخص کو اس کے گھر میں آتے جاتے تو نہیں دیکھا؟“
”دیکھیں جی! ہم مصروف لوگ ہیں اور دوسروں کے معاملات پر نظر رکھنا ہماری عادت نہیں ہے۔“ اس نے جواب دیا۔ اچانک اس نے بھویں سکیڑیں ”آپ کی بات سے یاد آیا کہ دو ڈھائی مہینے پہلے میں نے دو… اجنبی عورتوں کو صفدر کے گھر جاتے دیکھا تھا۔ وہ کچھ عجیب سی عورتیں تھیں، انہوں نے ایک جیسے سیاہ رنگ کے ریشمی برقعے پہنے ہوئے تھے اور چہرے بھی پردے میں تھے۔ چال ڈھال سے وہ پڑھی لکھی اور کھاتے پیتے گھرانے کی عورتیں لگتی تھیں۔ ان کے ساتھ اس محلے کا ایک لڑکا بھی تھا، جو غالباً گھر کا پتا بتانے کے لیے ان کے ساتھ آیا تھا۔ کیونکہ میں نے دیکھا تھا لیکن وہ عورتیں سیدھی دروازے کی طرف جانے کے بجائے ادھر ادھر چھوٹی گلی میں جا کر کھڑی ہو گئیں اور لڑکے کو دروازے پر بھیجا۔ لڑکے نے دروازے پر جا کر کسی سے بات کی پھر گلی میں جا کر عورتوں کو کچھ بتایا۔ پھر وہ عورتیں گلی سے نکل کر صفدر حسین کے دروازے کی طرف چلی گئیں۔ آٹھ دس دن کے بعد میری بیوی نے بھی ان عورتوں کو گلی میں سے گزرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس وقت وہ واپس جا رہی تھیں۔“
​میں نے حیرت سے اس کی بات سنی پھر کہا۔ ”آپ نے بتایا ہے کہ وہ عورتیں مکمل طور پر پردے میں تھیں۔ انہوں نے اپنے چہرے بھی چھپا رکھے تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مرد تھے، جنہوں نے برقعے پہن رکھے تھے؟“
”میں نے جو کچھ دیکھا تھا وہ آپ کو بتا دیا ہے۔ غیب کا حال خدا ہی جانے۔“
”یہ کتنے بجے کا واقعہ ہے؟“
اس نے سوچتے ہوئے کہا۔ ”اس وقت دن کے دس گیارہ بجے ہوں گے۔“
​اس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت صفدر حسین گھر میں موجود نہیں تھا۔ بظاہر یہ اہم بات معلوم ہوتی تھی لیکن ہو سکتا تھا کہ وہ عورتیں سلمیٰ کی رشتے دار ہوں اور صرف سلمیٰ سے ملنا چاہتی ہوں۔ یعنی صفدر حسین سے ان کے تعلقات اچھے نہ ہوں۔
​عنایت اللہ کے گھر سے نکل کر میں بازار چلا گیا اور دو تین میڈیکل اسٹوروں سے پوچھا کہ کیا صفدر حسین نامی شخص نے ان سے خواب آور گولیوں کی شیشی تو نہیں خریدی تھی؟
جواب نفی میں ملا۔ ایک میڈیکل اسٹور کا مالک صفدر حسین کو جانتا تھا۔ اس نے بتایا کہ صفدر حسین اسی سے دوائیں خریدا کرتا تھا۔ تاہم اس نے خواب آور دوا کبھی نہیں خریدی تھی۔
”ہو سکتا ہے کہ اس کی بیوی یہ گولیاں خرید کر لے گئی ہو۔“ میں نے کہا۔
​وہ شیشی کو انگلیوں میں گھماتے ہوئے کچھ دیر تک سوچتا رہا پھر بولا۔ ”بیوی کو تو میں نہیں پہچانتا۔ لیکن آپ دو دن ٹھہر جائیں۔ میں آپ کو اپنے بیٹے سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ وہ سامان خریدنے لاہور گیا ہوا ہے۔ دو روز تک واپس آ جائے گا۔ یہ شیشی آپ رکھ لیں۔“
​میں نے شیشی واپس لے لی۔ ادھیڑ عمر دکاندار کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اسے کوئی بات یاد آ گئی تھی مگر وہ بیٹے سے تصدیق کیے بغیر جواب نہیں دینا چاہتا تھا۔
​تیسرے روز میں دوبارہ اس کی دکان پر گیا۔ اس وقت اس کا بیٹا بھی دکان پر موجود تھا۔
”ملک صاحب! نیند کی گولیوں والی شیشی ماسٹر عبدالکریم کا بیٹا ساجد خرید کر لے گیا تھا۔“ اس نے رسمی کلمات کے بعد کہا۔
”میرا خیال ہے کہ یہ بات تین روز پہلے بھی آپ کے علم میں تھی۔“ میں نے کہا۔
”آپ بجا فرماتے ہیں۔“ اس نے کہا۔ ”لیکن مجھے پورا یقین نہیں تھا۔ جس وقت ساجد نے گولیوں کی شیشی خریدی تھی اس وقت میں اوپر نیچے بیٹھا ہوا تھا۔“
​بات اس کی ٹھیک تھی مگر تین روز کی اس تاخیر کی وجہ سے ہمارے کام میں گڑبڑ ہو گئی۔ میں ماسٹر عبدالکریم کے مکان پر پہنچا اور اس کے دروازے پر دستک دی۔ تب ہی میری نظر سلفی کے دروازے پر پڑی۔ وہاں موٹا سا تالا لگا ہوا تھا۔ گویا وہ لوگ مکان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
​میری دستک کے جواب میں ایک تیرہ چودہ سالہ لڑکی نے دروازہ کھولا اور میرے استفسار پر جواب دیا کہ اس کے ابا گھر میں نہیں تھے۔ میں نے ساجد حسن کے بارے میں پوچھا۔
”بھائی تو سو رہے ہیں۔“ اس نے جواب دیا۔
اس وقت دن کے گیارہ بجے تھے۔ کسی بے روزگار نوجوان کا اتنی دیر تک سونے کا مطلب یہ تھا کہ وہ راتوں کو دیر تک جاگنے کا عادی تھا یا دوسرے لفظوں میں غیر ذمے دار اور آوارہ گرد تھا۔
”بھائی کو جگا دو۔“ میں نے کہا۔ ”میں انتظار کرتا ہوں۔“
​لڑکی واپس چلی گئی۔ تین چار منٹ کے بعد ایک بکھرے بالوں والا نوجوان دروازے پر آیا اور سلام کرنے کے بعد بولا۔ ”جی حکم کریں۔“
اُس کا قد چھ فٹ کے قریب اور عمر بائیس تئیس سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی۔ اے ایس آئی نے اسے شریف اور خاموش طبیعت نوجوان بتایا تھا۔ لیکن اس وقت وہ بالکل مختلف لگ رہا تھا۔
​”تم نے چمن میڈیکل اسٹور سے کوئی دوائی خریدی تھی؟“ میں نے پوچھا۔
”میں وہیں سے دوائیاں خریدتا ہوں۔“ اس نے میری بات کا سیدھا جواب دینے کے بجائے کہا۔ ”آپ کون سی دوائی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟“
”تم نے نیند کی گولیاں بھی خریدی تھیں؟“
”جی خریدی تھیں۔“ اس نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
”کس کے لیے؟“
”اپنے لیے خریدی تھیں، اور کس کے لیے خریدنی تھیں۔“ اس نے ہنسنے کی کوشش کی۔ ”دراصل مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔ اس لیے کبھی کبھی گولی کھا لیتا ہوں۔“
​اس بات کا ثبوت مانگنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ وہ گیارہ بجے تک سو رہا تھا لیکن سب کچھ ڈراما بھی ہو سکتا تھا ممکن ہے کہ اسے یہ بات معلوم ہو گئی ہو کہ میں نیند کی گولیوں کے بارے میں تفتیش کر رہا تھا اور وہ میری آمد کی توقع میں دیر تک سونے کی اداکاری کر رہا تھا۔
​”کیا میں وہ شیشی دیکھ سکتا ہوں جو تم نے میڈیکل اسٹور سے خریدی تھی؟“
وہ خاموشی سے اندر گیا اور گولیوں کی شیشی لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دی۔ میں نے شیشی چیک کی اس میں پندرہ گولیاں تھیں۔ یہ ویسی ہی شیشی تھی جیسی سلمیٰ کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔ اصولاً اس کے ہاتھ صاف معلوم ہوتے تھے لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اصل بات کچھ اور تھی۔ غالباً سلمیٰ نے اسے بتا دیا تھا کہ میں ان کے گھر سے نیند کی گولیوں والی شیشی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
​میں نے پوچھا۔ ”تم کب سے یہ گولیاں استعمال کر رہے ہو؟“
”ایک ڈیڑھ مہینے سے۔“ اس نے جواب دیا۔ ”پہلے دوسری قسم کی گولیاں استعمال کرتا تھا۔ اب یہ شروع کر دی ہیں۔“
”تم صفدر حسین کی بیوی کو سودا سلف بھی لا کر دیا کرتے تھے؟“
”ہاں، کبھی کبھی لیکن میں ان کے گھر کبھی نہیں گیا۔ میری امی یا بہن دیوار کے اوپر سے چیزیں پکڑا دیتی تھیں۔“ وہ ہر چیز کی صفائی پیش کر رہا تھا۔ جیسے رٹا ہوا سبق سنا رہا ہو۔ میں نے سلمیٰ کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اُدھر تالا لگا ہوا ہے۔ یہ لوگ کہاں گئے ہیں؟“
”پتا نہیں جی۔ کل رات کو ٹرک میں سامان رکھا جا رہا تھا۔“
​میں نے ساجد کی ماں کو بلوا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ لوگ شیخوپورہ کے رہنے والے تھے اور وہیں گئے، سلمیٰ کی ماں اسے اپنا پتا بھی دے گئی تھی۔ میں نے وہ پتا نوٹ کر لیا اور واپس چلا گیا۔ بظاہر وہ معاملہ ختم ہو گیا تھا۔ ہمیں قتل کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا تھا۔ نیز صفدر حسین کے کسی رشتے دار نے اس کی موت پر کسی شک کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن میرے ذہن میں بہت سی باتیں شک پیدا کر رہی تھیں۔ ان میں صفدر حسین کے ہاتھوں پر رسیوں کے نشان، خواب آور گولیاں، سلمیٰ کے مزاج میں اچانک تبدیلی اور پراسرار برقعہ پوش عورتیں شامل تھیں۔
​ممکن ہے کہ یہ کیس داخلِ دفتر ہو جاتا اور وہ انکشافات جو بعد میں ہوئے وقت کی گرد کے نیچے دب کر نیا منسیا ہو جاتے۔ لیکن تین ہفتے کے بعد ایک کیس کے سلسلے میں مجھے شیخوپورہ جانے کی ضرورت پڑ گئی۔ اصل کام معمولی تھا اور ایک حوالدار بھی اسے نبٹا سکتا تھا مگر مجھے صفدر حسین کا کیس یاد آ گیا اور میں بھی شیخوپورہ چلا گیا۔​وہاں پہنچ کر میں نے مقامی تھانے کے ایک سپاہی کو ساتھ لیا اور پتے میں درج محلے میں پہنچ کر رحمت علی کا گھر تلاش کرنے لگا۔ وہ پرانی آبادی تھی اور وہاں زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ رہتے تھے۔
​میں نے تھڑے پر بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے آدمی سے رحمت علی کا پتا پوچھا تو وہ اپنی کمزور نظر سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”کون سا رحمت علی؟ وہی جو سبزی بیچتا ہے؟“
”یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا بیچتا ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے اس کا داماد فوت ہو گیا تھا۔“
”ہاں، وہی ہے۔ وہ دروازہ ہے اس کا۔“ بوڑھے نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ پھر پوچھا۔ ”کیا اس نے لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرادی ہے؟“
”کیا اس کی بیٹی گم ہو گئی ہے؟“
”او جناب! مجھ سے پوچھو میں بتاتا ہوں۔“ ایک ادھیڑ عمر شخص نے کہا۔ وہ چلتے چلتے ہمارے قریب رک گیا تھا۔ ”اصل حقیقت مجھے معلوم ہے۔“
”کون سی حقیقت؟“ میں اس کی طرف مڑا۔
”کسی رحمت علی سبزی فروش کی بیٹی کا پوچھ رہے ہو؟“
​میں نے یہ سوچ کر اثبات میں جواب دیا کہ شاید وہ کوئی انکشاف کرنا چاہتا تھا۔
”وہ لڑکی رحمت علی کی بیٹی نہیں ہے۔“ اس نے کہا۔ ”اس نے غلط رپورٹ درج کرائی ہے۔ یہ قصہ ہی کچھ اور ہے۔“ وہ ڈرامائی انداز میں ہماری طرف دیکھنے لگا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ابھی وہ بہت سے حقائق سے پردہ اٹھا سکتا تھا۔
میں نے پوچھا۔ ”اگر وہ رحمت علی کی بیٹی نہیں ہے تو پھر کس کی بیٹی ہے؟“
”جناب عالی! یہی تو سارا قصہ ہے!“ اس نے عیارانہ انداز میں کہا۔ ”یہ سوال آپ کو آج سے پندرہ سال پہلے کرنا چاہیے تھا۔ رحمت علی تو سدا کا بے اولاد ہے۔ اس نے وید علیم ڈاکٹر ٹونے ٹوٹکے سب کر کے دیکھ لیے تھے۔ مگر اس کے گھر میں بلی کا بچہ بھی پیدا نہیں ہوا، پھر اس نے کسی کی بیٹی اٹھوا لی۔ رحمت کی شکل دیکھو اور لڑکی کی شکل دیکھو۔ او جناب… کوئی جوڑی نہیں ہے! لو جی… کوے کے گھر میں مورنی پیدا ہو گئی! محلے والے کوئی کمپ شپ ڈالتے تو یہ مسئلہ پندرہ سال پہلے حل ہو جاتا۔ لیکن یہاں کسی نے پروا ہی نہیں کی اور یوں چاچا دین محمد میں نے کوئی جھوٹ تو نہیں بولا؟“
”او سراج تو بات ہے! ابوجہل نے کہا۔
”بولتا میں ضرور ہوں، پر حق بات بولتا ہوں۔“ سراج نامی شخص نے کہا۔ ”لو جی، کیسا ظلم کیا پندرہ سالہ لڑکی کو چالیس سالہ بھانجے کے ساتھ بیاہ دیا۔ اپنی بیٹی ہوتی تو ایسا کرتے؟ او ‘نہ جی‘ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لڑکی بڑی ہو کر بھاگ جائے گی۔ تھانیدار صاحب، یہ گمشدگی کا نہیں، پردہ فروشی کا کیس ہے۔“
​میں نے کہا۔ ”آپ اپنا نام پتا لکھوا دیں، آپ کی گواہی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔“
”ضرور لکھیں جی۔ نام میرا سراج بھٹی ہے۔“ اس نے اپنا پتا بھی بتایا پھر بولا ”یہ رحمت علی ذات کا ارائیں ہے اور آپ نے بابا بلھے شاہ کا یہ قول ضرور سنا ہو گا کہ جے توں بندہ سائیں داتے وساہ نہ کریں ارائیں دا۔ لو جی، مجھے اب اجازت دیں…“ بات ختم کرتے ہی وہ اپنے راستے پر ہو لیا۔
​ہم نے رحمت علی کے دروازے پر جا کر دستک دی۔ دروازہ رحمت علی کی بیوی حشمت بی بی نے کھولا اور مجھے دیکھ کر کچھ پریشان نظر آنے لگی۔
میں نے سلام کرنے کے بعد کہا۔ ”آپ نے مجھے پہچان لیا ہو گا۔ میں سلمیٰ سے چند باتیں پوچھنے آیا ہوں۔“
”وہ تو… گھر میں نہیں ہے۔“ اس نے جواب دیا۔
”اچھا… کہاں گئی ہوئی ہے؟“ میں نے انجان بن کر پوچھا۔
”وہ… اپنے رشتے داروں سے ملنے لاہور گئی ہوئی ہے۔“ حشمت بی بی نے ہمیں ٹالنے کی کوشش کی۔ ”ایک آدھ مہینہ ادھر ہی گزارے گی، سن پھر بھی آ جاتا۔“
​رحمت علی کی دکان زیادہ دور نہیں تھی۔ کسی نے اسے ہماری آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ وہ دکان چھوڑ کر گھر پہنچ گیا اور سلام کرنے کے بعد ہمیں اندر لے گیا۔ جس کمرے میں اس نے ہمیں بٹھایا اس میں چند کرسیاں اور ایک چارپائی رکھی تھی۔
​میں نے ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کہا۔ ”رحمت علی، سنا ہے کہ سلمیٰ گھر سے بھاگ گئی ہے۔“
وہ چارپائی پر بیٹھ گیا اور سر جھکا کر بولا۔ ”آپ نے ٹھیک سنا ہے جی۔ سلمیٰ ہمیں کچھ بتائے بغیر گھر سے چلی گئی ہے۔“
”میں نے ایک بات اور سنی ہے۔“؟؟؟
​”وہ بھی سچ ہے۔” اس نے میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی اعتراف کر لیا۔ “سلمیٰ ہماری بیٹی نہیں تھی لیکن ہم نے اسے بیٹیوں سے زیادہ لاڈ و پیار سے پالا تھا۔ ہمیں اس کے اس طرح جانے کی وجہ سے بہت دکھ ہوا ہے۔ ہماری تو بس ایک ہی دعا ہے کہ وہ جہاں بھی رہے، سکھی رہے۔۔۔”
​”یہ قصہ کیا ہے؟” میں نے پوچھا۔ “میں نے سنا ہے کہ کہ آپ نے لڑکی کہیں سے اٹھوائی تھی۔”
​”توبہ توبہ۔۔۔” حشمت بی بی نے کما جوسی کے دو گلاس لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ “اللہ رحم کرے۔ ہم ایسے لوگ نہیں ہیں۔ یہ محلے والے پتا نہیں کیوں ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں۔”
​”تو پھر اصل معاملہ کیا ہے؟” میں نے پوچھا۔ “سلمیٰ کون تھی اور آپ کے پاس کہاں سے آئی تھی؟”
​رحمت علی نے کہا۔ “ملک صاحب، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ اس لیے ہمیں کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
​”کچھ باتیں ہم سلمیٰ کی خاطر چھپاتے تھے۔” حشمت بی بی نے کہا۔ “وہ یہ باتیں سنتی تو اسے تکلیف ہوتی۔”
​دونوں میاں بیوی نے جو واقعات بیان کیے وہ خاصے پر اسرار اور عجیب تھے۔ میں ان واقعات کو اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
​اس کہانی کی ابتدا دوسری جنگِ عظیم سے پہلے ہوئی تھی۔ حشمت بی بی نے بتایا کہ اس کا بڑا بھائی ان دنوں ہوشیار پور میں رہتا تھا اور کسی سرکاری محکمے میں ملازم تھا۔ وہ پڑھا لکھا تھا اور مالی اعتبار سے حشمت بی بی سے بہتر تھا۔ دونوں بہن بھائیوں میں آپس میں کوئی خاص رابطہ نہیں تھا۔
​پندرہ سولہ سال پہلے رات کے نو بجے کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ حشمت بی بی نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ باہر اس کا نوجوان بھتیجا صفدر کھڑا تھا اور اس نے ایک گوری چٹی بچی کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ بچی اس کے کندھے پر سر ٹکائے سو رہی تھی۔ دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے اندر داخل ہوا اور بچی کو بستر پر لٹا دیا۔ بچی کی عمر ڈیڑھ دو سال کے لگ بھگ تھی۔
​حشمت بی بی چونکہ بے اولاد تھی، اس لیے وہ بچی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اسے اٹھا کر پیار کرنے لگی۔
​”صفدر، یہ کس کی لڑکی ہے؟” رحمت علی نے پوچھا۔
​”پھوپھا جان، آج سے یہ آپ ہی کی بیٹی ہے۔” صفدر نے کہا۔ “اس کی ماں کو اس کے بھائیوں نے قتل کر دیا ہے اور باپ چھپتا پھر رہا ہے۔”
​یہ بات سن کر دونوں میاں بیوی گھبرا گئے۔ حشمت بی بی نے کہا۔ “نہ بابا، ہم اس لڑکی کو نہیں رکھ سکتے۔ اس کو واپس لے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ کل کو ہمارے اوپر کوئی مصیبت نازل ہو جائے، اسے لے جا کر اس کے باپ کے حوالے کر دو۔”
​”آپ فکر نہیں کریں۔ آپ کے پاس کوئی نہیں آئے گا۔” صفدر نے کہا۔ “قصہ کچھ یوں ہے کہ تین سال پہلے اس کی ماں، ایک لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی اور دونوں نے سول میرج کرلی تھی۔ اس شادی کے نتیجے میں یہ لڑکی پیدا ہوئی۔ لڑکی کے بھائیوں کو اس بات کا بہت صدمہ تھا۔ وہ اس کی تلاش میں تھے۔ پرسوں وہ اس کے گھر پہنچ گئے اور اسے قتل کر دیا۔ لڑکی کا شوہر اپنی اس بیٹی کو لے کر گھر سے بھاگ گیا اور سیدھا میرے پاس آیا۔ کیوں کہ وہ میرا دوست ہے۔ میں نے اسے اور اس بچی کو ایک رات ایک دوست کے گھر میں چھپائے رکھا۔ پھر ہم دونوں لاہور آ گئے۔ دوست بہت پریشان تھا۔ وہ اکیلا اس بچی کو کہیں سنبھال سکتا تھا اور اسے یتیم خانے میں داخل کرانا چاہتا تھا لیکن یہ بات مناسب نہیں تھی۔ میں نے آپ کا ذکر کیا اور بتایا کہ آپ بے اولاد ہیں تو وہ فوراً اسے آپ کے حوالے کرنے پر راضی ہو گیا۔ لہٰذا میں اسے آپ کے پاس لے آیا ہوں۔”
​حشمت بی بی نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ “ایسا نہ ہو کہ اس کے نھیالی رشتے دار یہاں بھی پہنچ جائیں؟”
​”ان کے فرشتے بھی یہاں نہیں پہنچ سکتے اور ان کو بچی کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے اس کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ پھوپھی جان، آج سے یہ آپ کی بیٹی ہے۔”
​یہ تفصیل سن کر دونوں میاں بیوی مطمئن ہو گئے۔ صفدر نے کہا کہ اس کی امی اور ابا کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس بات کو راز رکھیں اور کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔
​حشمت بی بی پیار بھری نظروں سے بچی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “میں کافی عرصے سے سوچ رہی تھی کہ کسی یتیم خانے سے بچہ لے کر پال لوں گی لیکن مولا نے گھر ہی بیٹی بھیج دی۔ اس کا نام کیا ہے؟”
​”سلمیٰ۔۔۔” صفدر نے جواب دیا۔
​”بہت پیارا نام ہے۔” حشمت بی بی نے کہا۔ “شکل و صورت بھی بہت پیاری ہے۔ میں اپنے ہاتھوں سے اس کی شادی کروں گی۔”
​رحمت علی نے کہا۔ “ایسا نہ ہو کہ کچھ عرصہ کے بعد اس کا باپ اسے لینے کے لیے آ جائے۔”
​”وہ بہت سیدھا سا آدمی ہے۔ میں اسے سمجھا دوں گا کہ ادھر کا رخ نہ کرے۔ کیونکہ اگر اس بچی کو بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کے اصلی حالات معلوم ہوئے تو اس کو بہت دکھ ہو گا۔ ہاں۔۔۔ صرف ایک بات ہے اس کی شادی میں اس کے باپ کی رائے ضرور شامل ہونی چاہیے۔ بے چارے کو آپ اتنا حق تو ضرور دیں گے۔”
​”خیر۔۔۔ ہم اتنے بھی خود غرض نہیں ہیں کہ بیٹی کی شادی کرتے وقت باپ سے مشورہ نہ کریں۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ۔۔۔ اس کی شادی ایسی جگہ کر دے جہاں ہم نہ پہنچ سکیں۔”
​”ایسی بات نہیں ہو گی۔ اس کی شادی ہمارے رشتہ داروں میں ہی ہو گی۔” صفدر نے پورے یقین سے کہا “اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کا باپ یہ بات کبھی ظاہر نہیں کرے گا کہ سلمیٰ اس کی بیٹی ہے۔ وہ چاچو وغیرہ بن کر یہاں آئے گا۔ یہ بات ہمارے سوا کسی کو معلوم نہیں ہو گی کہ وہ سلمیٰ کا حقیقی باپ ہے۔”
​حشمت بی بی خوشی سے دیوانی ہوئی جا رہی تھی۔ اس کو بیٹے بٹھائے ایک بیٹا جاگتا کھلونا مل گیا تھا۔ اگلے روز وہ سب سے پہلے بازار گئی اور سلمیٰ کے لیے ڈھیروں کپڑے خرید لائی۔ محلے والوں سے اس نے کئی دن تک سلمیٰ کو چھپائے رکھا۔ جب لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں تو اس نے اپنے شوہر سے کہہ کر مکان ہی بدل لیا۔​سلمیٰ نے کچھ دن پریشان کیا پھر وہ نئے ماحول سے مانوس ہو گئی۔ صفدر وقتاً فوقتاً وہاں آتا رہا اور سلمیٰ کے لیے کھلونے اور اچھی اچھی چیزیں لاتا رہا۔ سلمیٰ اس سے بہت مانوس ہو گئی اور جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی اسے صفدر کا انتظار رہنے لگا۔ وہ اس کے لیے ایک آئیڈیل شخصیت بن گیا۔ کیوں کہ وہ اسے تفریح کرانے لے جاتا تھا۔ اس کے لیے اچھی اچھی چیزیں لاتا تھا اور اس کے ساتھ پیاری پیاری باتیں کرتا تھا۔ تاہم اسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ ان نوازشات کے پیچھے کوئی ذاتی مقصد چھپا ہوا تھا۔
​جب سلمیٰ سولہ سال کی ہو گئی تو صفدر نے یہ کہہ کر پھوپھی اور پھوپھا کو حیران کر دیا کہ وہ سلمیٰ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔
​پھوپھی نے حیرانی سے کہا۔ “صفدر بیٹے، تم اپنے دوست کی بیٹی سے شادی کرو گے! ذرا اپنی اور اس کی عمر کا فرق تو دیکھو۔”
​”عمر کے فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔” صفدر نے کہا۔ “سلمیٰ میرے پاس بہت خوش رہے گی اور دوست کی بیٹی والی بات بھول جائیں۔ سلمیٰ میری پھوپھی کی بیٹی ہے۔”
​”منہ سے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔” رحمت علی نے کہا۔ “دوست کی بیٹی اپنی بیٹی جیسی ہوتی ہے۔ سلمیٰ کے باپ کو یہ بات اچھی نہیں لگے گی۔ تم پڑھے لکھے اور سمجھدار آدمی ہو۔ تمہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے۔ تمہیں اپنے جوڑ کی لڑکی سے شادی کرنی چاہیے۔”
​”سلمیٰ کے باپ کو بیٹی کی کوئی فکر نہیں ہے۔” صفدر نے کہا۔ “اس نے دوسری شادی کر لی تھی اور کئی بچوں کا باپ ہے۔”
​سلمیٰ کو رحمت علی کے گھر میں رہتے ہوئے چودہ سال ہو چکے تھے اور اس دوران میں اس کا باپ ایک دفعہ بھی بخود وہ نہیں آیا تھا۔ بلکہ رحمت علی اور حشمت بی بی کو اس کا نام بھی معلوم نہیں تھا۔ ان کے دل میں یہ خواہش بھی نہیں تھی کہ وہ ان کے گھر آئے۔ رحمت علی اپنی بہن کے بیٹے سے سلمیٰ کی شادی کرنا چاہتا تھا اور حشمت بی بی بھی اس رشتے پر راضی تھی لیکن صفدر کی بے تکی خواہش نے انہیں پریشان کر دیا۔ وہ اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے تھے۔
​حشمت بی بی نے کہا۔ “ہم نے سلمیٰ کے باپ کو نہیں دیکھا۔ ہمیں اس کا نام بھی نہیں معلوم لیکن باپ باپ ہی ہوتا ہے۔ اگر وہ تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دینے پر راضی ہو جائے تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔”
​صفدر نے کہا۔ “میں اس کے باپ کو یہاں نہیں لانا چاہتا۔ اس سے آپ کی پوزیشن خراب ہو گی۔”
​”یہ ٹھیک ہے کہ سلمیٰ ہمیں اپنے ماں باپ ہی سمجھتی ہے لیکن ادھر ادھر کی باتیں اس کے کانوں میں پڑتی رہتی ہیں اور اسے کچھ شک بھی ہو گیا ہے۔ اگر ہم نے اس کی شادی تمہارے ساتھ کر دی تو اس کا دل میلا ہو جائے گا اور وہ دل میں یہ سوچنے لگے گی کہ اگر ہم اس کے اصل ماں باپ ہوتے تو ایسا بے جوڑ رشتہ نہ کرتے۔”
​”ٹھیک ہے۔۔۔ میں سلمیٰ کے باپ سے بات کروں گا۔” صفدر نے کہا۔ “اور اسے یہاں لانے کی کوشش کروں گا۔”
​رحمت علی اور اس کی بیوی کو پورا یقین تھا کہ سلمیٰ کا باپ اس رشتے پر کبھی راضی نہیں ہو گا لیکن ساتھ ہی یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ جوان بیٹی کو ساتھ ہی نہ لے جائے۔​تقریباً ڈیڑھ مہینے کے بعد صفدر ایک چالیس بیالیس سالہ شخص کو ساتھ لے کر پھوپھی کے گھر آیا اور بتایا کہ وہ سلمیٰ کا باپ تھا۔ اس کا اس نے غلام حسین کے نام سے تعارف کرایا۔ اس کا رنگ گورا تھا اور وہ سیدھا سادہ شخص نظر آتا تھا۔ سلمیٰ سے اس کا تعارف دور کے چچا کی حیثیت سے کرایا گیا۔ اس نے سلمیٰ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے چند تحفے دیے جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس کے بعد سلمیٰ کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا گیا۔
​رحمت علی اور حشمت بی بی سیدھے سادھے لوگ تھے۔ اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے تو باریکی سے اس شخص کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ وہ واقعی سلمیٰ کا باپ تھا یا محض اداکاری کر رہا تھا۔
​کچھ دیر تک رسمی باتیں ہوتی رہیں پھر صفدر نے شادی کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہا۔ “میں نے غلام حسین سے بات کر لی ہے۔ ان کو میرے اور سلمیٰ کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔”
​حشمت بی بی نے غلام حسین سے کہا۔ “بھائی صاحب، ہم نے آپ کی بیٹی کو پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اب یہ ہمیں واقعی اپنی بیٹی لگتی ہے۔ ہم نے اس کے لیے اپنے رشتہ داروں میں ایک لڑکا بھی پسند کر لیا تھا۔ اس کا دکھ ہمارا دکھ اور اس کا سکھ ہمارا سکھ ہے۔ صفدر میرے بھائی کا بیٹا ہے اور بہت کھرا لڑکا ہے لیکن اس کی اور سلمیٰ کی عمر میں بہت فرق ہے یہ رشتہ بہت بے جوڑ لگتا ہے۔”
​غلام حسین نے کہا۔ “بات تو آپ کی سولہ آنے ٹھیک ہے، لیکن میں صفدر کی فرمائش کو ٹال نہیں سکتا۔ کیونکہ انہوں نے مشکل وقت میں میری اور سلمیٰ کی مدد کی تھی۔ اگر یہ ہماری مدد نہ کرتے تو سلمیٰ اس وقت کسی یتیم خانے میں پرورش پا رہی ہوتی اور مجھے اس کی خیریت بھی معلوم نہ ہوتی۔”
​سیدھے سادھے میاں بیوی یہ دلیل سن کر لاجواب ہو گئے۔ اگر کوئی اور ہوتا تو وہ غلام حسین نامی شخص سے بیسیوں سوالات کرتا اور کہتا۔ ‘بھائی صاحب، آپ لڑکی کے باپ ہونے کے دعوے دار ہیں، اپنی بات کا کوئی ثبوت تو پیش کریں۔’
​اس کہانی کی ابتدا ۱۹۳۶ء، ۱۹۳۷ء کے زمانے میں ہوئی تھی۔ درمیان میں تقسیمِ ہند اور انتقالِ آبادی کا ہنگامہ بپا ہوا اور نظامِ زندگی الٹ پلٹ ہو کر رہ گیا۔
​صفدر کے والدین کا پاکستان بننے کے دو سال کے اندر یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور ذہین ہونے کے ساتھ ضدی بھی تھا۔ جس بات کا فیصلہ کر لیتا تھا اسے کر کے دم لیتا تھا۔
​حشمت بی بی نے غلام حسین کی منظوری کے بعد سلمیٰ اور صفدر حسین کی شادی کر دی۔ سلمیٰ نے چونکہ صفدر کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا تھا اس لیے اس نے شادی پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ تاہم اس کو “ماں باپ” کے فیصلے پر تعجب ضرور ہوا تھا۔
​حشمت بی بی اور رحمت علی نے بڑی سادہ زبان میں یہ تفصیل بیان کی تھی اور ان کی کسی بات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تھی۔ بلکہ حشمت بی بی، سلمیٰ کے ذکر پر دو تین دفعہ آبدیدہ بھی ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ بے اولاد عورت سلمیٰ ہی کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی۔
​”آپ کے خیال میں سلمیٰ گھر چھوڑ کر کیوں گئی ہے؟” میں نے پوچھا۔
​”ہم کیا کہہ سکتے ہیں جی۔” حشمت بی بی نے جواب دیا۔ “ہم نے سلمیٰ کو کوئی دکھ نہیں دیا تھا۔ پتا نہیں وہ ہمیں اتنا بڑا دکھ دے کر کیوں چلی گئی!”
​رحمت علی نے کہا۔ “ہو سکتا ہے کہ اسے ساری بات معلوم ہو گئی ہو اور وہ اپنے باپ کے پاس چلی گئی ہو ۔”
​میں نے پوچھا۔ “آپ کے پاس غلام حسین کا پتا موجود ہے؟”
​”نہیں جی، ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ وہ کس شہر میں رہتا ہے۔”
​”آپ کے پاس صفدر کے بھائی اور بہن کا پتا تو ضرور ہو گا۔”
​حشمت بی بی نے اندر سے ایک پرانی سی نوٹ بک نکال لائی۔ اس میں ان کے قریبی رشتے داروں کے پتے لکھے ہوئے تھے۔ اس نے وہ نوٹ بک میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔ “صفدر کے بڑے بھائی کا نام اعجاز حسین اور بہن کا نام نرگس ہے۔ آپ خود ہی ان کے پتے تلاش کر لیں۔ اعجاز کراچی میں اور نرگس لاہور میں رہتی ہے۔”
​میں نے ڈائری سے دونوں کے پتے نوٹ کر لیے۔ پھر پوچھا۔ “کیا یہ دونوں صفدر کی شادی میں شریک ہوئے تھے؟”
​”صرف نرگس اور اس کے تین بچے شادی میں آئے تھے۔ اعجاز، دور ہونے کی وجہ سے نہیں آ سکا۔ اس نے تحفہ بھیج دیا تھا۔”
​”اور نرگس کا خاوند؟”
​”حبیب تھوڑی دیر کے لیے آیا تھا نکاح کے بعد واپس چلا گیا تھا کہہ رہا تھا کہ کمپنی والے چھٹی نہیں دیتے۔”
​”کیا نرگس سلمیٰ کے بارے میں جانتی ہے؟”
​”اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ سلمیٰ یتیم لڑکی ہے جسے ہم نے بیٹی بنایا ہوا تھا۔”
​میں بوڑھے میاں بیوی کو یہ تاکید کر کے رخصت ہو گیا کہ اگر سلمیٰ کی کوئی خبر ملے تو مجھے فوراً اطلاع کریں۔
​شیخوپورہ سے لاہور پچیس میل کے فاصلے پر ہے۔ ہم نے ایک رات شیخوپورہ میں گزاری اور واپس جانے کے بجائے بس کے ذریعے لاہور چلے گئے۔
​صفدر حسین کی بہن نرگس کا گھر بیرون شاہ عالمی گیٹ میں تھا۔ لاہور پہنچ کر ہم نے چند گھنٹے ہوٹل میں آرام کیا اور تقریباً چار بجے نرگس کے گھر پہنچ گئے۔ اس کا شوہر حبیب احمد بھی اس وقت گھر میں موجود تھا۔ وہ پینتالیس چھیالیس سال کا ایک خوش مزاج شخص تھا۔ تعارف کلمات کے بعد وہ ہمیں ڈرائنگ روم میں لے گیا اور بیوی سے شربت بنانے کے لیے کہا۔
​”حبیب صاحب، میں آپ کے برادرِ نسبتی کی پر اسرار موت کے بارے میں تفتیش کر رہا ہوں اور اسی سلسلے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ صفدر حسین کی موت بظاہر خودکشی معلوم ہوتی ہے، لیکن ہمیں بعض ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے قتل کیا گیا تھا اور اس قتل کی جڑیں بہت گہری معلوم ہوتی ہیں۔”
​”ملک صاحب، جب مجھے پتا چلا کہ صفدر ایک سولہ سالہ لڑکی سے شادی کرنے والا ہے تو میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ شادی کامیاب نہیں ہو گی۔ کافی عرصے تک تو وہ شادی سے انکار کرتا رہا تھا۔ حالانکہ ہم نے اس کے لیے بعض اچھے اچھے رشتے تجویز کیے تھے لیکن جب اس نے فیصلہ کیا تو بالکل غلط فیصلہ کیا۔ اول تو کسی کو یہی نہیں معلوم کہ سلمیٰ ہے کون۔ پھوپھی حشمت کا کہنا ہے کہ وہ ایک یتیم لڑکی ہے جسے انہوں نے بچپن میں گود لیا تھا۔ صفدر انسپکٹر آف اسکولز تھا اور بیوی ان پڑھ اور عمر میں اس کی بیٹی کے برابر!”
​”آپ مجھے صفدر کی جوانی کے زمانے کی کوئی بات بتائیں۔” میں اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے بولا۔ “کیا اس نے جوانی میں کوئی عشق وغیرہ بھی کیا تھا؟”
​حبیب احمد ہولے ہولے سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “اس قسم کا کچھ سلسلہ ہوا تو تھا۔”
​اتنے میں نرگس ٹرے میں شربت کے گلاس رکھے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ اپنے شوہر سے تین چار سال چھوٹی تھی اور خاصی وضع دار خاتون نظر آتی تھی۔
​حبیب احمد نے اس سے مخاطب ہو کر کہا۔ “نرگس تمہیں یاد ہے ہوشیار پور میں صفدر کی محبت کا ایک واقعہ سننے میں آیا تھا؟”
​نرگس بیگم نے ٹرے میز پر رکھی اور قدرے ناگواری سے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “کوئی اچھی بات کریں۔”
​”ملک صاحب کا کہنا ہے کہ صفدر کو قتل کیا گیا تھا۔” حبیب احمد نے کہا۔ “یہ اس سلسلے میں تفتیش کر رہے ہیں۔”
​”مجھے تو اس وقت بھی شک ہوا تھا جب ہمیں صفدر کی خودکشی کی اطلاع ملی تھی۔ وہ اس قسم کا آدمی نہیں تھا۔”
​”میرا خیال ہے کہ اس قتل کا کسی پرانے واقعے سے تعلق ہے۔” میں نے کہا۔ “کسی عشق و محبت کے واقعے سے۔ صفدر کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ بہت حساس اور ضدی شخص تھا۔ آپ مجھے ہوشیار پور والے عشق کے بارے میں کچھ بتائیں۔”
​”جوانی میں انسان سے اس قسم کی حماقتیں ہو جاتی ہیں۔” نرگس بیگم نے کہا۔ “مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، میرا خیال ہے کہ صفدر ان دنوں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے محلے کی ایک لڑکی نے اس میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ دونوں کی چوری چھپے کچھ ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں لیکن لڑکی کے والدین ہم سے زیادہ حیثیت والے تھے اور ان کی ذات بھی ہم سے مختلف تھی۔”
​”کیا آپ کی طرف سے رشتے کی کوشش کی گئی تھی؟”
​”غالباً میری والدہ لڑکی کے گھر گئی تھیں لیکن لڑکی کے والدین نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ ان کے خاندان میں برادری سے باہر رشتے کرنے کی روایت نہیں ہے۔ بعد میں لڑکی کی شادی ہو گئی اور بات ختم ہو گئی۔۔۔۔”
​”آپ کو اس لڑکی کا نام یاد ہے؟”
​میرے اس سوال پر نرگس بیگم کے چہرے پر چمک سی پیدا ہوئی، بولی “آپ کے پوچھنے پر یاد آیا کہ اس لڑکی کا نام بھی سلمیٰ تھا۔”
​”یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔” حبیب احمد نے کہا۔ “صفدر کی بیوی کا نام بھی سلمیٰ ہے۔”
​”یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔” نرگس بیگم نے مرحوم بھائی کا دفاع کیا۔
​”یہ محض اتفاق نہیں ہے۔” میں نے کہا۔ “یہ سب کچھ کسی منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ آپ کے بھائی نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ صرف سلمیٰ سے شادی کرے گا اور اس نے کم از کم نام کی حد تک یہ عہد ضرور پورا کیا۔ یہ بات مجھے صفدر کے ایک دوست نے بتائی تھی۔”
​”آپ نے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ صفدر بہت حساس اور ضدی تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس نے اپنی ضدی طبیعت کی وجہ سے اور کچھ شرمندگی مٹانے کے لیے سولہ سالہ سلمیٰ سے شادی کی ہو گی وہ ایسا ہی ضدی تھا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے۔”
​”آپ کچھ بتا سکتے ہیں کہ یہ ہوشیار پور والی سلمیٰ اور اس کے گھر والے آج کل کہاں ہوتے ہیں؟”
​”میں۔۔۔ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ میرا خیال ہے کہ میں نے اس لڑکی کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔”
​”میرا خیال ہے کہ یہ لوگ لاہور میں ہوتے ہیں۔” حبیب احمد نے کہا۔ “کچھ عرصہ پہلے میں نے ہائی کورٹ میں سلمیٰ کے شوہر کو دیکھا تھا۔ وہ غالباً وکیل ہے۔”
​”اس کا نام کیا ہے؟”
​”اس کا نام۔۔۔ شفقت علی ہے۔” اس نے سوچتے ہوئے کہا۔ “خواجہ شفقت علی۔۔۔۔”
​میں نے یہ نام ڈائری میں نوٹ کر لیا۔
​اگلی صبح ہم ہائی کورٹ پہنچے اور خواجہ شفقت علی ایڈووکیٹ کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ حوالدار اس کارروائی سے بہت بور ہو رہا تھا۔ اس نے دبی زبان سے کہا۔ “ملک صاحب، ہم کچھ زیادہ دور آ گئے ہیں۔”
​”کیا مطلب ہے تمہارا؟” میں نے اسے گھورا۔
​”ہم۔۔۔ مطلب تو کچھ بھی نہیں ہے جی۔” اس نے مودب ہوتے ہوئے کہا۔ “بس ایک بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔ ہائی کورٹ کا وکیل کسی کو قتل نہیں کر سکتا۔”
​”پھر۔۔۔؟”
​”میرا مطلب ہے کہ ہم تو۔۔۔ قتل کی تفتیش کر رہے ہیں۔”
​”بات یہ ہے برخوردار کہ کبھی کبھی بوٹی کے لیے بکرا کاٹنا پڑ جاتا ہے۔ اس لیے چپ چاپ میرے ساتھ چلے رہو۔”
​خواجہ شفقت علی خاصا جانا پہچانا وکیل تھا۔ تقریباً نصف گھنٹے کی بھاگ دوڑ کے بعد ہم اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ عدالت کے ایک کمرے میں بیٹھا فائل دیکھ رہا تھا۔ جج کی کرسی ابھی خالی تھی۔
​خواجہ شفقت گورے چٹے رنگ کا دراز قد اور صحت مند شخص تھا۔ اس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی۔ جس وکیل نے ہماری راہنمائی کی تھی وہ دروازے سے ہی واپس چلا گیا تھا۔ میں نے حوالدار کو برآمدے میں روکا اور اندر جا کر کہا۔ “خواجہ صاحب، میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟”
​اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولا۔ “بڑی خوشی سے بیٹھیں۔ لیکن میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ کیا آپ کسی کیس کے سلسلے میں آئے ہیں؟”
​میں کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنا تعارف کرایا۔
​”اوہ۔۔۔ تو آپ تھانیدار ہیں۔” اس نے خوش دلی سے کہا۔ “معلوم ہوتا ہے کہ کسی ملزم کے پیچھے یہاں آئے ہیں۔ فرمائیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
​”خواجہ صاحب، آپ ہوشیار پور کے رہنے والے ہیں؟” میں نے پوچھا۔
​اس نے بھویں سکیڑیں، بولا۔ “تقسیم سے پہلے ہم ہوشیار پور میں رہتے تھے لیکن جدی پشتی ہوشیار پور کے رہنے والے نہیں۔”
​”آپ کی مسز کا نام سلمیٰ بیگم ہے؟”
​وہ چونک سا گیا حالانکہ پرانے وکیل ذرا کم ہی چونکا کرتے ہیں، بولا۔ “معاملہ کیا ہے؟ کیا سلمیٰ بیگم پر کوئی کیس بن گیا ہے؟”
​”کیس تو نہیں بنا، لیکن میں ایک کیس کے سلسلے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔”
​وہ ایک دم لا تعلق سا نظر آنے لگا۔ قدرے توقف کے بعد بولا۔ “ملک صاحب، میری بیوی کا نام ممتاز بیگم ہے”
​ایک ہوشیار وکیل سے ایسے ہی جواب کی توقع کی جا سکتی تھی لیکن میں حقیقت کی حد تک پہنچ چکا تھا۔ میں نے سلمیٰ بیگم سے علیحدگی اختیار کر کے دوسری شادی کر لی تھی۔ میں نے بھی وکیلوں والا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔ “خواجہ صاحب، میں آپ کی پہلی بیوی کی بات کر رہا ہوں ۔”
​وہ کچھ دیر تک خالی نظروں سے فائل کو گھورتا رہا پھر بولا۔ “تفصیل سے بات کریں۔”
​میں نے کہا۔ “خواجہ صاحب، آپ وکیل ہیں اور میں پولیس آفیسر ہوں۔ ہمیں لفظوں کی گرفت سے بچنے اور لفظوں کے ذریعے گرفت میں لینے کا فن آتا ہے لیکن یہ ایسا موقع نہیں ہے اس لیے میں بہت سادہ بات کروں گا اور آپ سے بھی سیدھی سادہ بات کی توقع رکھوں گا۔ آپ میرے صرف ایک سوال کا جواب دے دیں، اس کے بعد میں آپ کو ساری تفصیل بتا دوں گا۔”
​”سوال کریں۔”
​”کیا آپ سلمیٰ بیگم کو طلاق دے چکے ہیں؟”
​”نہیں۔” اس نے مختصر جواب دیا۔
​”میں آپ کی بیوی کے ماضی کا ایک ناخوشگوار ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ چونک پڑے تھے اور جہاندیدہ شخص ہیں اس لیے مجھے امید ہے کہ آپ اس کا زیادہ اثر نہیں لیں گے بلکہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ پہلے سے آپ کے علم میں ہو۔ شادی سے پہلے سلمیٰ بیگم، صفدر نامی ایک نوجوان کو پسند کرتی تھی۔ یہ پسند دو طرفہ تھی اور دونوں نے، جیسا کہ جوانی میں ہوتا ہے۔۔۔ ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں۔ یہ عہد بھی کیا تھا کہ وہ کسی اور سے شادی نہیں کریں گے۔ صفدر کے گھر والے سلمیٰ بیگم کے گھر پیغام لے کر گئے تھے مگر بات نہیں بنی اور سلمیٰ بیگم کی آپ سے شادی ہو گئی۔ صفدر ایک طویل عرصے تک اپنے عہد پر قائم رہا۔ اس نے اپنے دوستوں کے سامنے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سلمیٰ بیگم کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرے گا لیکن بالآخر وہ اس عہد پر قائم نہ رہ سکا اور اس نے تقریباً سوا سال پہلے غالباً اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے سلمیٰ نامی ایک لڑکی سے شادی کر لی۔ ان دنوں وہ محکمہ تعلیم میں انسپکٹر آف اسکولز کے عہدے پر فائز تھا۔ یہ شادی کچھ عرصہ تک کامیاب رہی لیکن پھر اچانک کوئی گڑبڑ ہو گئی اور میاں بیوی کے تعلقات کشیدہ رہنے لگے۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے پہلے صفدر نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اس کی لاش گھر کے ایک کمرے میں شہتیر سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ بظاہر وہ خودکشی ہی معلوم ہوتی تھی لیکن ہمیں کچھ ایسے شواہد ملے جن سے اندازہ ہوا کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ میں اب تک جو تفتیش کی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس قتل کا محبت کی پرانی کہانی سے ضرور کوئی تعلق ہے۔ میں اس سلسلے میں سلمیٰ بیگم سے ملنا چاہتا ہوں۔”
​”کیا آپ ان شواہد کے بارے میں کچھ بتائیں گے جن کی بنا پر آپ قتل کا سلمیٰ بیگم کے ماضی سے تعلق جوڑ رہے ہیں؟”
​”تفتیش کے اس مرحلے پر میں شواہد کا ذکر نہیں کر سکتا۔ آپ چونکہ وکیل ہیں اس لیے آپ اس مجبوری کو بخوبی سمجھتے ہوں گے۔”
​”ملک صاحب، اگرچہ میں نے سلمیٰ کو طلاق نہیں دی، لیکن ہمارے درمیان طویل عرصے سے نا چاقی چل رہی ہے اور ہم الگ الگ رہ رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صفدر نے جس سلمیٰ سے شادی کی تھی وہ۔۔۔ میری بیوی ہو ممکن ہے کہ اس نے کسی مولوی یا مفتی سے تنسیخِ نکاح کا فتویٰ حاصل کر لیا ہو ۔”
​”نہیں، وہ آپ کی بیوی نہیں تھی۔ اس کی عمر بہت کم ہے۔” اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔ “سلمیٰ بھی محکمہ تعلیم سے وابستہ ہے اور موضع سرگوداں کے گرلز اسکول میں ہیڈ مسٹریس ہے۔”
​”یہ موضع تو ہمارے علاقے سے سات آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔” میں نے حیرانی سے کہا۔ “اور مجھے یقین ہے کہ صفدر کا سلمیٰ سے ضرور رابطہ رہا ہو گا کیونکہ وہ انسپکٹر آف اسکولز ہونے کی وجہ سے اسے اس بات کا علم ہو گا کہ سلمیٰ بیگم ان کے علاقے کے ایک گرلز اسکول میں ہیڈ مسٹریس تھی۔”
​”ہو سکتا ہے۔” اس نے کہا اور جیب سے اپنا کارڈ نکال کر مجھے دیا۔ “میرا کارڈ رکھ لیں اور اگر آپ کی تفتیش میں کوئی حرج واقع نہ ہو تو مجھے کیس کی پروگریس سے ضرور مطلع کریں۔”
​”میں کوشش کروں گا۔” میں نے اس کا کارڈ جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔
​اس نے میرا پتا نوٹ کر لیا اور مجھے باہر تک چھوڑنے آیا۔
​سرگوداں مڈل اسکول بستی سے باہر ایک پر فضا مقام پر واقع تھا۔ اگرچہ وہ گرلز اسکول کے نام سے موسوم تھا تاہم اس میں لڑکے بھی پڑھتے تھے۔ لڑکوں کی کلاسیں صرف پرائمری اسکول تک تھیں۔
​اسکول کی عمارت سے ہٹ کر نصف جریب کے قریب رہائشی کوارٹرز بنے ہوئے تھے۔ ایک کوارٹر میں ہیڈ مسٹریس رہتی تھی۔ وہ دوسروں سے قدرے نمایاں تھا۔ اس کے باہر باڑھ لگی ہوئی تھی۔ جس کے اندر خوبصورت باغیچہ بنا ہوا تھا۔
​میں نے کوارٹر کے دروازے پر دستک دی اور انتظار کرنے لگا۔ اس وقت میں سادہ لباس میں تھا اور اکیلا وہاں آیا تھا۔ ایک روز پہلے مجھے محکمہ تعلیم سے معلوم ہوا تھا کہ صفدر حسین اپنی موت سے تین مہینے پہلے اس اسکول کا انسپکشن کرنے گیا تھا۔ اس نے اسکول کی کارکردگی کے بارے میں بڑی اچھی رپورٹ دی تھی اور اسکول کی گرانٹ میں اضافہ کے ساتھ ہیڈ مسٹریس کی تنخواہ میں اضافے کی سفارش بھی کی تھی۔
​دستک کے تھوڑی دیر بعد کسی عورت نے کھڑکی سے باہر جھانکا اور تیزی سے پیچھے ہو گئی۔ اس کے فوراً بعد اندر سے قدموں کی تیز آوازوں کے ساتھ دبی دبی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اندر ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے دوبارہ دستک دی۔
​چند لمحوں کے بعد ایک خاتون نے دروازہ کھولا اور قدرے اوٹ میں رہتے ہوئے پوچھا۔ “آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟”
​اس نے ململ کا سفید دوپٹا اوڑھ رکھا تھا اور وضع قطع سے استانی معلوم ہوتی تھی۔
​”میرا نام ملک صفدر حیات ہے۔” میں نے نرم لہجے میں کہا۔ “میں اسکول کی ہیڈ مسٹریس سے ملنا چاہتا ہوں۔ مسز سلمیٰ شفقت سے۔”
​دروازے کی اوٹ میں ایک دوسری خاتون موجود تھی۔ اس نے سرگوشی میں سامنے والی خاتون سے کہا۔ “پوچھو کہ آپ کون ہیں۔”
​”آپ کون ہیں جی؟” سامنے والی خاتون نے پوچھا۔
​”میں تھانیدار ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں یہاں آیا ہوں۔”
​اندر سے پھر سرگوشی کی گئی۔
​”آپ کس سلسلے میں ہیڈ مسٹریس سے ملنا چاہتے ہیں؟”
​”صفدر حسین کے سلسلے میں۔”
​خاتون نے دروازہ بھیڑ دیا اور کچھ دیر تک اندر مشورہ کرتی رہی پھر اس نے دروازہ کھولا اور بولی۔ “آپ کل صبح دفتر آ جائیں۔ ہیڈ مسٹریس صاحبہ اس وقت آرام کر رہی ہیں۔”
​”بی بی، میں تو بہت سوچ کر اسکول کی چھٹی ہونے کے بعد آیا ہوں کیونکہ وہ معاملہ بہت ذاتی قسم کا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل میں وردی میں آؤں اور اسکول کے بچے گھروں میں جا کر بتائیں کہ ہیڈ مسٹریس کے پاس پولیس آئی تھی۔ ہیڈ مسٹریس سے کہیں کہ ابھی بات کر لیں۔ رات بھر کی پریشانی سے بچ جائیں گی۔”
​چند لمحوں کے بعد خاتون نے مجھے ایک آراستہ ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر اندر چلی گئی۔ میں ڈرائنگ روم کا جائزہ لینے لگا۔ دیوار پر دو تصویریں آویزاں تھیں۔ ایک کسی طالبہ کی بنائی ہوئی خوبصورت تصویر تھی۔ آتشدان کے اوپر گلدان رکھے تھے جن میں تازہ پھول سجے ہوئے تھے۔
​تھوڑی دیر کے بعد ایک ادھیڑ عمر کیلو ار کمرے میں داخل ہوا اور سلام کرنے کے بعد میز پر بسکٹوں کی دو پلیٹیں رکھ دیں۔ تب ہی دو عورتیں کمرے میں داخل ہوئیں اور سلام کرنے کے بعد صوفے پر بیٹھ گئیں۔ دونوں نے ململ کے سفید دوپٹے اوڑھ رکھے تھے۔ میں ان کے چہرے واضح طور پر نہیں دیکھ سکتا تھا ایک وہی خاتون تھی جس نے دروازے پر مجھ سے بات کی تھی۔ لہٰذا میں سمجھ گیا کہ دوسری ہیڈ مسٹریس تھی۔
​”میں آپ کو بے وقت پریشان کرنے پر معذرت چاہتا ہوں۔” میں نے نرمی سے کہا تا کہ تھانیداری کا اثر کچھ کم ہو جائے۔ “آپ صفدر حسین نامی انسپکٹر آف اسکولز کو ضرور جانتی ہوں گی۔ وہ چند ماہ قبل اس اسکول کا معائنہ کرنے بھی آیا تھا۔ غالباً آپ کو یہ بھی علم ہو گیا ہو گا کہ تقریباً پونے دو مہینے قبل اس نے خود کشی کر لی تھی۔”
​میں نے بات خودکشی تک محدود رکھی تا کہ سلمیٰ بیگم کو اعتماد میں لینے میں آسانی رہے۔
​”جی ہاں، ہمیں یہ خبر سن کر بہت افسوس ہوا تھا۔” سلمیٰ بیگم نے کہا اور چھوٹے سے رومال سے اپنی پیشانی صاف کی۔
​”میں نے صفدر حسین کے ماضی کے بارے میں چھان بین کی تو پتا چلا کہ اس کا آپ سے خاص تعلق رہ چکا تھا۔”
​اس نے پہلو بدلتے ہوئے کہا۔ “یہ بہت پرانی بات ہو چکی ہے۔”
​”بات تو واقعی بہت پرانی ہے مگر اس کے اثرات ابھی تک چل رہے ہیں۔ تین چار روز پہلے میں لاہور ہائی کورٹ میں آپ کے شوہر سے بھی ملا تھا۔ کچھ باتیں ان کی زبانی بھی معلوم ہوئی ہیں۔ مسز شفقت، یہ بات آپ کی ذاتی زندگی سے تعلق رکھتی ہے مجھے علم نہیں ہے کہ آپ اس خاتون کے سامنے اس کا تذکرہ پسند کرتی ہیں یا نہیں۔۔۔۔”
​”مس شگفتہ سینئر ٹیچر اور میری سہیلی بھی ہیں۔” سلمیٰ بیگم نے کہا۔ “ان سے میری کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ میرے ساتھ اس کوارٹر میں رہتی ہیں۔ لیکن۔۔۔۔ آپ ان باتوں کی چھان بین کیوں کر رہے ہیں؟”
​”یہ۔۔۔ معمول کی کارروائی ہے۔ جب کوئی شخص غیر طبیعی موت مرتا ہے تو اس قسم کی کارروائی کرنی پڑتی ہے۔ اس کارروائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صفدر حسین کی بیوہ، جو آپ کی ہم نام ہے، روپوش ہو گئی ہے اور اس کے والدین بہت پریشان ہیں۔ میں چند روز پہلے شیخوپورہ جا کر ان سے ملا تھا۔ حشمت بی بی بیٹی کی جدائی کے باعث بار بار رونے لگ جاتی تھی۔”
​”وہ مکر کر رہی ہو گی!”
​”کیا مطلب؟” میں ایک دم تھانیدار بن گیا۔ یہ ٹھیک تھا کہ حشمت بی بی سلمیٰ کی سگی ماں نہیں تھی، لیکن اصولاً سلمیٰ بیگم کو اس بات کا علم نہیں تھا۔۔۔ یا نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اس کا یہ کہنا کہ حشمت بی بی مکر کر رہی ہو گی، اس بات کو ظاہر کرتا تھا کہ وہ اتنی بے خبر بھی نہیں تھی۔
​”سلمیٰ بیگم، آپ حشمت بی بی کے بارے میں کیا جانتی ہیں؟” میں نے پوچھا۔ “آپ نے یہ کیسے کہا کہ وہ مکر رہی ہو گی؟”
​وہ بے دھیانی میں بات کر کے پھنس گئی تھی۔ لیکن عورت سمجھدار تھی، اس لیے اس نے پہلو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ بولی۔ “میرا خیال ہے کہ آپ بہت ساری چھان بین کرنے کے بعد یہاں آئے ہیں لیکن آپ کے سوال کا جواب دینے کے لیے مجھے بہت پیچھے جانا پڑے گا۔”
​”انہیں سو پینتیس چھتیس کے زمانے میں۔”
​”اس سے بھی کچھ پہلے۔۔۔۔”
​اس نے اپنے ماضی میں جھانکتے ہوئے کہا کہ وہ جوانی اور نادانی کا زمانہ تھا۔ اس کے والدین کشمیری تھے اور کاروبار کے سلسلے میں ہوشیار پور میں مقیم تھے۔
​صفدر حسین ان کے پڑوسیوں کے گھر آتا جاتا تھا۔ غالباً اپنے کلاس فیلو سے ملنے وہاں آتا تھا۔ اس کا شمار کالج کے ذہین لڑکوں میں ہوتا تھا۔ اس کے دوست کا نام شاید مجید تھا۔
​سلمیٰ کی مجید کی بہنوں سے دوستی تھی۔ چونکہ صفدر پڑھائی میں بہت تیز تھا اس لیے مجید کی بہنیں اس سے بھی کبھار سوالات وغیرہ حل کرا لیا کرتی تھیں۔ سلمیٰ نے صفدر کو دیکھا تو وہ اسے بہت اچھا لگا۔ خصوصاً اس کا سمجھانے کا انداز بہت اچھا تھا۔ پس سلمیٰ نے بھی اس سے پڑھائی میں مدد لینی شروع کر دی۔ یہ تعلق رفتہ رفتہ گہرا ہوتا چلا گیا۔
​مجید کے والد احمد جی فوج میں افسر تھے اور ان کے گھر کے ماحول میں بھی مفہومیت پائی جاتی تھی۔ وہاں لڑکے اور لڑکیاں آزادانہ ایک دوسرے سے مل سکتے تھے۔ اس آزاد ماحول میں سلمیٰ اور صفدر کی ملاقاتیں محبت کا رنگ اختیار کر گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی قسمیں کھائیں اور عہد کیا کہ وہ ایک دوسرے کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کریں گے۔ اگر شادی نہ کر سکے تو ساری زندگی بغیر شادی کے گزار دیں گے۔
​یہ نہایت احمقانہ عہد تھا۔ دونوں مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلمیٰ کے خاندان میں باہر شادی کرنے کا رواج نہیں تھا لیکن جوانی میں جب انسان پر محبت کا جنون سوار ہو تو وہ دور کی باتیں نہیں سوچ سکتا۔
​کچھ عرصے کے بعد سلمیٰ کے گھر والوں نے اس کی شادی کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ صفدر نے سلمیٰ کے کہنے پر اپنی ماں کو ان کے گھر بھیجا۔ وہاں سے کو را جواب مل گیا۔ صفدر نے سلمیٰ کو گھر سے بھاگ جانے کا مشورہ دیا مگر اس نے انکار کر دیا۔ گھر والوں کو اس کی محبت کا علم ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے اس پر پابندیاں لگا دیں اور چند مہینوں کے اندر اپنے خاندان کے ایک لڑکے سے اس کی شادی کر دی۔
​شادی کے بعد سلمیٰ نے صفدر کا خیال دل سے نکال دیا اور گھر گرہستی میں لگ گئی۔ اس نے شوہر خواجہ شفقت علی کو اس کی محبت کا علم ہو گیا تھا، لیکن اس نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں کوئی باز پرس نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ آئندہ اس کی زبان پر صفدر کا نام نہیں آنا چاہیے۔
​ایک سال کے بعد سلمیٰ نے ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا۔ جس کا نام سائرہ رکھا گیا۔ سائرہ کی پیدائش کے بعد سلمیٰ کے دل و دماغ سے صفدر کا خیال بالکل محو ہو گیا اور اس کی ساری توجہ بچی کے لیے وقف ہو گئی۔
​ایک شام شفقت کا کوئی دوست ملنے آیا۔ شفقت دروازہ کھول کر باہر نکلا اور گلی میں کھڑا ہو کر دوست سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے دروازہ پوری طرح بند نہیں کیا۔ اس وقت سائرہ دو سال کی ہو چکی تھی اور دن بھر ادھر ادھر دوڑتی پھرتی رہتی تھی۔ باپ کو باہر نکلتے دیکھ کر وہ بھی باہر نکل گئی اور گلی میں کھیلنے والوں بچوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔
​شفقت اپنے دوست سے باتیں کرتا ہوا ایک طرف نکل گیا۔ سلمیٰ یہ سمجھی کہ شفقت بچی کو ساتھ لے گیا تھا۔ لیکن جب نصف گھنٹے کے بعد شفقت اکیلا واپس آیا تو سلمیٰ کا دل دھک سے رہ گیا۔
​”سائرہ کہاں ہے؟” اس نے شوہر سے پوچھا۔
​”کیا مطلب؟” شفقت نے گھبرا کر پوچھا۔
​”وہ آپ کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی۔ میں سمجھی آپ اسے ساتھ لے گئے ہیں۔”
​”میں نے تو اسے نہیں دیکھا۔ وہ گھر میں ہی ہو گی۔ اندر کسی کمرے میں کھیل رہی ہو گی۔”
​سلمیٰ دوڑ کر اندر گئی اور تمام کمرے دیکھ ڈالے۔ گھر کے دیگر افراد نے بھی سائرہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ شفقت جلدی سے باہر نکلا اور آس پاس کی تمام گلیاں دیکھ ڈالیں۔ اس وقت گلی میں کھیلنے والے بچے اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ سلمیٰ نے چادر سر پر ڈالی اور آس پاس کے گھروں سے پوچھنے لگی۔
​کچھ بچوں نے کہا کہ انہوں نے ایک عجیب سے فقیر کو گلی میں دیکھا تھا۔ اس نے بڑا سا تھیلا کندھے پر ڈال رکھا تھا۔
​پورے خاندان میں بھگدڑ مچ گئی۔ کچھ لوگ پر اسرار فقیر کی تلاش میں جنگل کی طرف دوڑے، کچھ بازار کی طرف نکل گئے۔ تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی مگر سائرہ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
​پانچویں دن شفقت بیوی پر برس پڑا۔ “سارا قصور تمہارا ہے۔ اگر تم نے بچی کو باہر نکلتے دیکھا تھا تو اسی وقت اس کو پکڑ کر اندر لانا چاہیے تھا۔ میں ساری عمر تمہارا یہ جرم معاف نہیں کروں گا۔”
​”غلطی آپ کی ہے۔” سلمیٰ بھی بہت غصے میں تھی۔ “سائرہ آپ کے ساتھ باہر نکلی تھی۔ آپ اندھے نہیں تھے کہ وہ آپ کو نظر نہ آتی۔ میں بھی آپ کو ساری عمر معاف نہیں کروں گی۔”
​”بچی کو سنبھالنا تمہارا کام تھا۔” شفقت نے چیخ کر کہا۔ “جس دن سے یہ بچی گم ہوئی ہے مجھے تمہاری شکل سے نفرت ہو گئی ہے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو ورنہ۔۔۔۔”
​”ورنہ آپ کیا کریں گے؟”
​”ورنہ میں۔۔۔ میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا۔ تمہارا اگلا گھونٹ ڈالوں گا۔ تم آوارہ عورت ہو۔ شادی سے پہلے تم مردوں کے ساتھ دوستیاں لگاتی رہی ہو۔ اب بھی تمہارا کوئی بھروسا نہیں ہے۔ اسی وجہ سے سائرہ تمہاری توجہ سے محروم تھی۔”
​”شفقت۔۔۔۔ اپنی زبان بند کر لو ورنہ میں گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔”
​”جاؤ۔۔۔۔ فوراً چلی جاؤ۔ نکل جاؤ میرے گھر سے۔۔۔ دروازہ کھلا ہے۔ نکل جاؤ یہاں سے اپنی منحوس شکل لے کر ۔”
​”اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے امید نہیں تھی کہ تم اس حد تک گر سکتے ہو۔ اپنی غلطی میرے سر تھوپ رہے ہو اور مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دے رہے ہو۔ میں بھی بے غیرت نہیں ہوں۔ کسی بھوکے ننگے خاندان کی عورت نہیں ہوں۔ اب میں ایک منٹ بھی اس گھر میں نہیں ٹھہر سکتی۔”
​سلمیٰ بیگم نے چادر سر پر ڈالی اور گھر سے نکل گئی۔
​بعد میں خاندان کے بزرگوں نے صلح کرانے کی بہت کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ دونوں ضد پر اڑ گئے۔ سلمیٰ بیگم نے کہا کہ جب تک شفقت گھر آ کر اس سے معافی نہیں مانگے گا وہ سسرال نہیں جائے گی۔ شفقت علی نے کہا کہ جب تک سلمیٰ بچی کی گمشدگی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی وہ اسے لینے نہیں جائے گا۔ اس طرح دونوں ضد پر اڑے رہے اور وقت گزرتا چلا گیا۔ تاہم دونوں میں سے کسی نے بھی طلاق کی بات نہیں کی ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں کے دل میں صلح کی خواہش پائی جاتی تھی لیکن جھکنے پر کوئی بھی تیار نہیں تھا۔
​سلمیٰ بیگم نے دوبارہ پڑھائی شروع کر دی اور بی اے بی ٹی کر کے سرکاری اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ شوہر سے نا چاقی کے چھٹے سال اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ شوہر سے نا چاقی کے چھٹے سال اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ باپ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ شوہر سے معافی مانگ کر اس کے گھر چلی جائے لیکن اس کے بھائی آڑے آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ معافی شفقت علی مانگے گا۔
​ساتویں سال شفقت علی نے سلمیٰ بیگم کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنی غلطی مان لے اور گھر آ جائے ورنہ اسے نقصان ہو گا۔ ماں کی وفات کے بعد سلمیٰ بیگم بھائیوں کے رحم و کرم پر تھی اور بھائی معافی کو اپنی بے عزتی سمجھتے تھے۔ پس انہوں نے انکار کر دیا۔ اس انکار کے بعد شفقت علی نے دوسری شادی کر لی اور صلح کے امکانات اور زیادہ معدوم ہو گئے۔
​تقسیمِ ہند کے دوران سلمیٰ بیگم کے دونوں بھائی فسادات میں ہلاک ہو گئے اور وہ اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پاکستان آ گئی۔ ان کی جائداد سکھوں نے لوٹ لی تھی اور وہ بالکل خالی ہاتھ پاکستان پہنچے تھے۔
​سلمیٰ بیگم کے باپ کا نام خواجہ سراج الحسن تھا۔ جو ان بیٹوں کی موت نے اسے بہت کمزور کر دیا تھا اور وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ سلمیٰ بیگم نے لاہور پہنچتے ہی محکمہ تعلیم میں رپورٹ کی اور اسے فوراً ملازمت میں لے لیا گیا۔ اب وہ اپنے بوڑھے اور ضعیف باپ کا واحد سہارا تھی۔ اس کے دو ہی کام رہ گئے تھے۔ ملازمت کرنا اور بوڑھے باپ کی دیکھ بھال کرنا۔
​پاکستان بننے کے دو سال بعد اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور وہ دنیا میں بالکل تنہا رہ گئی۔ چونکہ اس کا تدریسی ریکارڈ بہت اچھا تھا، اس لیے اسے ہیڈ مسٹریس بنا کر سرگوداں بھیج دیا گیا۔ اس اثنا میں اس کے ساتھ کام کرنے والے کئی افراد نے اس کے قریب ہونا چاہا لیکن اس نے کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ اس نے اپنی شادی اور شوہر سے ناراضگی کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر لوگ اسے کنواری ہی سمجھتے تھے۔
​چونکہ شفقت علی نے اسے طلاق نہیں دی تھی اس لیے وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم سارے ہنگاموں سے گزرنے کے بعد اس کی زندگی پرسکون گزر رہی تھی اور اس کے دل میں دوسری شادی کی خواہش بھی نہیں تھی۔
​ایک دن اس کی پرسکون زندگی میں تلاطم پیدا ہو گیا۔ محکمے کی طرف سے اسے ایک چٹھی موصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ موسمِ گرما کی تعطیلات سے قبل ایک انسپکٹر ان کے اسکول کا معائنہ کرنے آ رہا تھا۔ انسپکٹر کا نام صفدر حسین لکھا ہوا تھا۔ یہ نام دیکھ کر سلمیٰ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اسے سترہ اٹھارہ سال پرانی محبت کی کہانی یاد آ گئی۔ تاہم اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والا انسپکٹر وہی ذہین لڑکا ثابت ہو گا جس کے ساتھ اس کی چند خوشگوار یادیں وابستہ تھیں۔
​لیکن جب مقررہ تاریخ کو انسپکٹر آف اسکولز نے ان کے اسکول میں قدم رکھا تو اس کی عجیب حالت ہو گئی۔ اس کے لیے اپنے دلی جذبات چھپانے مشکل ہو گئے۔ کیونکہ آنے والا وہی صفدر حسین تھا جسے وہ اتنے انقلابات کے باوجود فراموش نہیں کر سکی تھی۔
​وہ براؤن پینٹ اور سلک کی بش شرٹ میں ملبوس تھا۔ اس کے سر پر فیلٹ ہیٹ اور ہاتھ میں چرمی بیگ تھا۔ سلمیٰ بیگم نے دیکھا کہ وہ پہلے سے قدرے فربہ ہو گیا تھا اور بہت باوقار اور سنجیدہ لگ رہا تھا۔ سلمیٰ ڈر رہی تھی کہ کہیں وہ سب کے سامنے پرانی شناسائی کا اظہار نہ کر دے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
​پہلے دن کلاسوں کے انسپکشن کے بعد وہ سلمیٰ بیگم کے دفتر میں آیا اور بولا۔ “مس صاحبہ، آپ کے اسکول کی صفائی اور نظم و ضبط دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔”
​”جی، شکریہ۔۔۔” سلمیٰ بیگم نے کہا۔ اس وقت اس کے کمرے میں دو سینئر ٹیچرز بھی موجود تھیں۔ “اس نظم و ضبط میں ہماری ٹیچروں کی توجہ اور محنت کا بڑا دخل ہے۔”
​صفدر حسین نے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا۔ “یہ صفائی جو آج میں نے دیکھی ہے کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے یا اس کا تعلق صرف معائنے سے ہے؟”
​”میں غلط بیانی سے کام نہیں لوں گی۔” سلمیٰ بیگم نے کہا۔ “یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ انسپکشن سے قبل خصوصی صفائی کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ معیار سارا سال برقرار رہے”
​صفدر حسین خوشگوار موڈ میں باتیں کرتا رہا۔ اس نے کچھ رجسٹر وغیرہ بھی چیک کیے اور انسپکشن بک میں اچھے ریمارکس لکھے۔ کچھ دیر کے بعد دوسری دو ٹیچرز کمرے سے باہر چلی گئیں ۔
​صفدر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور سلمیٰ بیگم کو گھورنے لگا۔ سلمیٰ نے آنکھیں نیچی کر لیں اور پوچھا۔ “کیا آپ کو پتا تھا کہ میں اس اسکول میں ہیڈ مسٹریس ہوں؟”
​”ہاں، میں خاص طور پر آپ سے ملنے آیا ہوں۔” صفدر نے کہا۔ “کیسی ہیں آپ؟”
​”ٹھیک ہوں۔۔۔۔” سلمیٰ بیگم نے بدستور آنکھیں نیچی کر رکھی تھیں۔ اس وقت ہیڈ مسٹریس کے بجائے سترہ اٹھارہ سال کی شرمیلی لڑکی لگ رہی تھی۔
​”شفقت کہاں ہوتے ہیں؟”
​”پتا نہیں ۔ ”
​”آپ نے ابھی تک صلح نہیں کی؟”
​سلمیٰ بیگم نے نفی میں سر ہلا دیا۔
​”کیا مکمل علیحدگی ہو چکی ہے؟ میرا مطلب ہے کہ کیا شفقت نے آپ کو طلاق دے دی ہے؟”
​”نہیں، طلاق نہیں دی۔”
​”آپ کا مطلب ہے کہ آپ پندرہ سولہ سال سے الگ رہے ہیں اور ابھی تک میاں بیوی ہیں؟”
​”ہاں، یہی بات ہے۔” سلمیٰ بیگم نے کہا۔ پھر نظر اٹھا کر صفدر کی طرف دیکھا۔ “آپ کے بیوی بچے کہاں ہوتے ہیں؟”
​”میری شادی کو تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔ ابھی بچہ کوئی نہیں ہوا ۔”
​سلمیٰ بیگم نے آہستہ سے کہا۔ “کبھی اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آئیں۔”
​”آپ کو اس سے مل کر خوشی نہیں ہو گی۔”
​”میں پرانی باتیں بھول چکی ہوں۔”
​”میری بیوی کو دیکھ کر آپ کو بہت سی پرانی باتیں یاد آ جائیں گی۔” صفدر نے خاص انداز سے کہا۔ “کیونکہ اس کا نام بھی سلمیٰ ہے۔”
​”اچھا! یہ تو بڑا عجیب اتفاق ہے۔”
​کمرے میں ایک ٹیچر آگئی اور یہ گفتگو منقطع ہو گئی۔
​اگلے روز ایک ٹیچر نے سلمیٰ بیگم سے کہا۔ “سلمیٰ باجی، میں نے ایک عجیب چیز دیکھی ہے!”
​”کیسی عجیب چیز؟”
​”کل انسپکٹر صاحب نے ہماری کلاس کے معائنے کے دوران کسی ضرورت کے تحت اپنی جیب سے بٹوا نکالا۔ میں ان کے پیچھے کھڑی تھی۔ انہوں نے بٹوا کھولا اور کوئی کاغذ تلاش کرنے لگے۔ اچانک میری نظر بٹوے میں لگی ہوئی ایک تصویر پر پڑی۔ میں اس تصویر کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ کسی لڑکی کی تصویر تھی اور اس کی شکل بالکل آپ جیسی تھی۔ بلکہ مجھے یوں لگا جیسے وہ آپ کی جوانی کی تصویر تھی۔”
​یہ سن کر سلمیٰ بیگم دل میں گھبرا گئی کہ کہیں صفدر نے اس کی کوئی تصویر تو اپنے پاس نہیں رکھی ہوئی تھی۔
میں نے انسپکٹر صاحب سے تصویر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جلدی سے بٹوا بند کر دیا اور بولے کہ میری بیوی کی تصویر ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا۔” ٹیچر نے مزید کہا۔ “انسپکٹر صاحب کی عمر چالیس سال کے قریب تو ضرور ہوگی لیکن تصویر والی لڑکی کی عمر بیس سال سے بھی کم لگتی تھی”۔
​”دنیا میں ہم شکل لڑکیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔” سلمیٰ بیگم نے ٹیچر کو ٹالنے کے لیے کہا لیکن تصویر کے ذکر سے اس کے دل میں زبردست تجسس پیدا ہو گیا تھا اور دماغ میں طرح طرح کے وسوسے جنم لینے لگے تھے۔
​اس نے صفدر سے کوئی بات نہیں کی اور ایک ہفتے کے بعداسکول کے کلرک کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ کسی طرح انسپکٹر صفدر حسین کے گھر کا پتا معلوم کرے۔ ساتھ ہی یہ تاکید کی کہ اس بات کا چرچا نہیں ہونا چاہیے۔ کلرک نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس سے صفدر حسین کا پتا حاصل کر کے سلمیٰ بیگم کو دے دیا۔
سلمیٰ بیگم نے سینئر ٹیچر شگفتہ بیگم کو ساتھ لیا اور ایک صبح صفدر حسین کے گھر پہنچ گئی۔ دونوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے برقعے پہن رکھے تھے۔ انہوں نے گلی کے ایک لڑکے کے ذریعے پہلے یہ معلوم کروا لیا تھا کہ صفدر حسین گھر میں نہیں تھا۔
دروازہ سلمیٰ نے کھولا اور دونوں کو اندر لے گئی۔ جب سلمیٰ بیگم نے نقاب الٹی تو سلمیٰ جونیئر حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی، کیوں کہ وہ عورت حیرت انگیز طور پر اس کی ہم شکل تھی۔
“آ۔۔۔ آپ کون ہیں؟” اس نے پوچھا۔
سلمیٰ بیگم کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا کہ اس کے سامنے اس کی گمشدہ بیٹی سائرہ کھڑی تھی۔ ماں کی ممتا جوش مار رہی تھی اور پندرہ سال کا دبا ہوا طوفان آنکھوں کے راستے بہہ نکلنے کے لیے زور لگا رہا تھا۔ تاہم رسمی تصدیق کے علاوہ بیٹی کو بھی صورتِ حال سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔
“بیٹی، تم کہاں کی رہنے والی ہو؟” سلمیٰ نے اپنے جوش کو دباتے ہوئے پوچھا۔
“جی۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ شیخوپورہ کی رہنے والی ہوں۔” سائرہ کی بھی عجیب حالت ہو رہی تھی۔ وہ اس اجنبی عورت کے لیے اپنے دل میں بے پناہ کشش محسوس کر رہی تھی۔
“تمہارے باپ کا کیا نام ہے؟”
“ان کا نام۔۔۔۔ رحمت علی ہے۔”
“اور ماں کا نام؟”
“حشمت بی بی۔۔۔۔”
“کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ تمہارے سگے ماں باپ ہیں؟”
“نہیں۔” سائرہ نے نفی میں سر ہلایا۔ “انہوں نے خود تو کبھی یہ بات نہیں کہی لیکن میں نے ادھر ادھر سے سنا تھا کہ انہوں نے مجھے کسی سے لے کر پالا تھا لیکن آپ کون ہیں؟”
“میں تمہاری سگی ماں ہوں۔” سلمیٰ بیگم نے بیٹی کو گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ سائرہ بھی رونے لگی۔
وہ منظر اتنا جذباتی تھا کہ شگفتہ بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔
“تمہارا نام سلمیٰ نہیں سائرہ ہے۔” سلمیٰ بیگم نے قدرے نارمل ہونے کے بعد کہا۔ “یہ شخص۔۔۔۔ جو تمہارا شوہر بنا ہوا ہے اس نے تمہیں دو سال کی عمر میں اغوا کیا تھا۔”
“صفدر نے مجھے اغوا کیا تھا؟” سائرہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ “صفدر تو بہت اچھے ہیں۔ میرا بڑا خیال رکھتے ہیں۔”
“ہم ہوشیار پور کے رہنے والے ہیں۔ صفدر بھی وہیں رہتے تھے۔ ان کا گھر ہمارے محلے میں تھا۔ یہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن میرے والدین راضی نہیں ہوئے اور میری شادی تمہارے ابو سے کر دی۔ صفدر نے انتقاماً تمہیں اغوا کر لیا اور جب تم بڑی ہو گئی تو تمہارے ساتھ شادی کر لی۔”
ساری تفصیل سن کر سائرہ کا غصے سے برا حال ہو گیا۔ جس شخص کو وہ اپنا مجازی خدا سمجھتی تھی وہ اسے اغوا کر کے لایا تھا۔
سلمیٰ بیگم نے بیٹی کو تاکید کی کہ وہ فی الحال خاموش رہے اور صفدر کو کوئی بات نہ بتائے۔ سارا معاملہ بہت الجھا ہوا تھا اور اسے سلجھانا آسان نہیں تھا۔ سائرہ، صفدر کی منکوحہ تھی۔ اتنے پرانے کیس کے ثبوت پیش کرنا بہت مشکل تھا۔ یوں بھی یہ دو کمزور عورتوں کے بس کا معاملہ نہیں تھا۔
ساری بات بڑی واضح ہو چکی تھی۔ قتل کا محرک بھی واضح تھا پھر بھی عجلت میں کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں تھا۔ میں نے سلمیٰ بیگم سے پوچھا۔ “سائرہ کہاں ہے؟”
“سائرہ اندر ہے۔” اس نے جواب دیا۔
“میں اس سے دو چار باتیں کرنا چاہتا ہوں۔”
“وہ۔۔۔۔ بہت پریشان ہے۔ پلیز۔۔۔ فی الحال اس سے کوئی بات نہ کریں وہ اور زیادہ پریشان ہو جائے گی۔”
“سلمیٰ بیگم، بات یہ ہے کہ میں صرف کہانیاں سننے کے لیے یہ بھاگ دوڑ نہیں کر رہا۔” میں نے سنجیدگی سے کہا۔ “بات یہ ہے کہ میری تفتیش کے مطابق صفدر نے خودکشی نہیں کی تھی۔”
“جی۔۔۔۔!” اس کے چہرے پر گھبراہٹ نظر آنے لگی۔ “کیا سائرہ نے آپ کو کچھ نہیں بتایا؟”
“کون۔۔۔۔ کس سلسلے میں؟”
“قتل کے سلسلے میں۔”
“پتا نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں!”
“میں یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ صفدر حسین کو قتل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں آپ کی بیٹی کی پوزیشن صاف نہیں ہے لیکن میں نے تھانیداروں والے اختیارات استعمال نہیں کیے۔” وہ اندر گئی اور اپنی بیٹی کو بلا کر لے آئی۔ آج سائرہ نے مجھ سے پردہ نہیں کیا۔ وہ ہلکے رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی اور بہت پریشان لگ رہی تھی۔
“میں شیخوپورہ تمہارے گھر گیا تھا۔” میں نے اسے مخاطب کر کے کہا۔ “تمہارے والدین تمہاری گمشدگی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ تمہیں ان کو بتا کر آنا چاہیے تھا۔”
“وہ۔۔۔۔ میرے والدین نہیں ہیں۔” اس نے جواب دیا۔
“انہوں نے چودہ سال تک تمہاری پرورش کی، تمہاری ضروریات پوری کیں اور اس وقت تمہیں ماں باپ کا پیار دیا جب تمہیں اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ میں نے غلط تو نہیں کہا؟”
“نہیں۔۔۔۔۔ نہیں جی۔”
“کیا انہوں نے تمہیں نوکروں کی طرح رکھا تھا یا بیٹی کی طرح؟”
“جی۔۔۔۔ بیٹی کی طرح رکھا تھا لیکن۔۔۔۔”
“اگر وہ اچھے لوگ نہ ہوتے تو تمہیں کسی دلال کے ہاتھ فروخت کر کے تمہارے پیسے کھرے کر لیتے، تم نے ان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جتنی انسان ایک وقت کا کھانا کھلانے والے میزبان کو دیتا ہے۔ مہمان جاتے وقت میزبان سے اجازت لیتا ہے اور اس کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ حشمت بی بی تمہارا ذکر کرتے وقت بار بار رونے لگ جاتی ہے۔ وہ بھی تمہاری ماں ہی ہے، کیوں کہ اس نے بہت محبت سے تمہاری پرورش کی تھی۔”
“لیکن۔۔۔۔ ان کو پتا تھا کہ صفدر مجھے اغوا کر کے لائے تھے۔”
“نہیں۔” میں نے کہا۔ “ان کو یہ بات معلوم نہیں تھی۔ صفدر نے ان کو ایک من گھڑت کہانی سنائی تھی۔”
“میں تو یہی سمجھ رہی تھی کہ ان کو سب کچھ پتا تھا۔ اب آپ نے بتا دیا ہے تو میں ان سے ضرور ملنے جاؤں گی۔”
میں نے اصل بات کی طرف آتے ہوئے کہا۔ “صفدر کی لاش کے معائنے اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟”
“جی۔۔۔۔ جی، میرا تو کوئی خیال نہیں ہے۔” اس نے گھبرا کر کہا۔ “ہم۔۔۔۔ میں نے آپ کو ساری بات بتا دی تھی۔”
“سائرہ بی بی، تم نے مجھے ساری بات بتائی ہوتی تو مجھے یہاں تک پہنچنے کے لیے اتنا لمبا چکر نہ لگانا پڑتا لیکن اب ہتھ نکل گیا ہے اور صرف دم رہ گئی ہے۔ مجھے تمہارے بتائے بغیر ساری بات معلوم ہو چکی ہے۔ تم نازک اور کمزور لڑکی ہو۔ لہٰذا یہ بات یقینی ہے کہ تم نے اتنے وزنی آدمی کو پھندے پر نہیں لٹکایا تھا۔ یہ کام کسی مرد نے کیا تھا۔”
“ہم۔۔۔۔ میں کیا کہہ سکتی ہوں جی۔۔۔۔”
“میں نے اس میڈیکل اسٹور سے پتا کیا ہے جہاں سے صفدر دوائیں خریدتا تھا۔ اس نے نیند کی گولیاں نہیں خریدی تھیں۔”
“پ۔۔۔۔ پتا نہیں جی۔۔۔۔”
“نیند کی گولیاں تمہارے پڑوسی ساجد حسن نے خریدی تھیں۔”
یہ بات سن کر اس کا رنگ سفید پڑ گیا۔
“ساجد حسن نے مجھے بتایا ہے کہ نیند کی گولیوں کی شیشی وہ تمہارے کہنے پر لایا تھا۔” میں نے سچ اگلوانے کے لیے تھوڑا سا جھوٹ بولا۔ “یہ سچ ہے نا؟”
“جی۔۔۔۔ جی۔” اس کے خوبصورت ہونٹ کپکپائے۔
“اور رسی بھی وہی لایا تھا؟”
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
میں نے اس کی ماں سے مخاطب ہو کر کہا۔ “آپ کی بیٹی اس وقت پریشان ہے، اس لیے میں اس سے مزید سوال نہیں کروں گا۔ آپ اسے لے کر کل صفدر حسین کے مکان میں آ جائیں۔”
شگفتہ بیگم نے پہلی دفعہ لب کشائی کرتے ہوئے کہا۔ “ملک صاحب، آپ ایک بات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس بچی کے ساتھ صفدر نے بہت بڑا ظلم کیا تھا۔ اس کے جرم کی وجہ سے یہ بچی ماں باپ کے سائے سے محروم ہوئی اور اس ظالم کی نفسانی خواہش کی بھینٹ چڑھ گئی۔ پھر اس کے جرم کا اس کے ماں باپ پر بھی اثر پڑا اور ان میں جدائی پڑ گئی۔ ایسے شخص کو اس سے بھی بڑی سزا ملنی چاہیے تھی۔ میری درخواست ہے کہ اس بات کو یہیں ختم کر دیں۔”
“بی بی، اگر کوئی شخص اپنے مکان کی چھت کمزور بنوائے گا تو وہ ہر موسمِ برسات میں ٹپکے گی اور پورے کنبے کو تکلیف پہنچائے گی۔ خواہ وہ بچے ہوں یا بڑے، میں نے غلط تو نہیں کہا؟”
“آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے، لیکن۔۔۔”
“کمزور چھت کا اس سے بھی بڑھ کر نقصان ہو سکتا ہے۔” میں نے مزید کہا۔ “کسی طوفانی بارش میں وہ چھت گر جائے گی اور ایک دو افراد اس کے نیچے آ کر ہلاک یا زخمی ہو جائیں گے۔ حالانکہ اس چھت کے بنانے میں ان کا کوئی دخل نہیں تھا۔”
“میں اس مثال کا مطلب نہیں سمجھی۔”
“مطلب یہ ہے کہ آپ نے درگزر کی اپیل کرتے وقت اس معاملے کے ابتدائی حصے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ سلمیٰ بیگم نے صفدر کے ساتھ کچھ عہد و پیمان کیے تھے۔ انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ یہ صفدر کے سوا کسی سے شادی نہیں کریں گی اور صفدر نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ سلمیٰ کے سوا کسی سے شادی نہیں کرے گا۔ لیکن یہ اپنا عہد نہ نبھا سکیں۔ صفدر جذباتی اور ضدی نوجوان تھا اس نے اپنا عہد نبھانے کے لیے غلط راستہ اختیار کر لیا۔ میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص زہر کھائے گا وہ خود بھی متاثر ہو گا اور اس کی اولاد بھی متاثر ہو گی۔ خواہ اس نے جان بوجھ کر زہر کھایا ہو یا غلطی سے۔”
میں جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ “سلمیٰ بیگم، میں آپ کے شوہر کو اس معاملے کی اطلاع بھجواتا ہوں۔ وہ ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اور آپ کی قانونی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی سہولت کے مطابق کل صفدر حسین کے مکان میں آ جائیں۔ خدا حافظ۔”
واپس پہنچ کر میں نے خواجہ شفقت علی کے نام ایک مختصر سا رقعہ لکھا اور اسے حوالدار کے ہاتھ لاہور بھیج دیا۔ رقعے کا مضمون یہ تھا۔
خواجہ صاحب، آپ کی گمشدہ بیٹی سائرہ بازیاب ہو گئی ہے لیکن یہ پڑھ کر آپ کو یقیناً افسوس ہو گا کہ وہ ایک قتل کے کیس میں ملوث ہے۔ میں نے ابھی اس کو گرفتار نہیں کیا۔ وہ اپنی ماں کے پاس ہے اگر آپ اس کی مدد کرنا چاہیں تو حوالدار کے ساتھ یہاں آ جائیں۔
حوالدار کو رخصت کرنے کے بعد میں نے ساجد حسن کی گرفتاری کے لیے دو آدمی روانہ کر دیے اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد دونوں آدمی ساجد کو گرفتار کر کے تھانے لے آئے۔ انہوں نے اسے ہتھکڑی نہیں لگائی تھی اور وہ سینہ تان کر پولیس والوں کے ساتھ چل رہا تھا، اس کے دو حمایتی بھی ساتھ تھے جن کو باہر ہی روک دیا گیا تھا۔
میں کرسی سے اٹھا اور ساجد کے سامنے پہنچ گیا۔
“کتنی عمر ہے تمہاری؟” میں نے پوچھا۔
“ہوگی کوئی بتیس چوبیس سال۔۔۔۔” اس نے بے نیازی سے جواب دیا۔
“کتنی جماعتیں پڑھے ہوئے ہو؟”
“میٹرک پاس ہوں۔”
“دس سال سے کیا کر رہے ہو؟”
“دس سال سے؟!”
“میٹرک پاس کرنے کے بعد سے اب تک کیا کیا ہے تم نے؟”
“آج کل کوئی کام ہی نہیں ملتا کیا کریں!”
“سگریٹ پیتے ہو؟”
“کبھی کبھی سوٹا لگا لیتا ہوں۔”
“آج میں سلمیٰ سے مل کر آیا ہوں۔” میں نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ “اس نے مجھے ساری کہانی سنا دی ہے۔ اب میں باقی کہانی تمہاری زبانی سننا چاہتا ہوں۔”
اس کے چہرے کا رنگ قدرے متغیر ہو گیا۔ “سلمیٰ نے آپ کو کیا بتایا ہے؟”
میں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا “سوال مت کرو۔ جواب دو۔”
“کیا بات ہے جناب، کس بات کا جواب دوں؟” اس نے گال سہلاتے ہوئے کہا۔
“رسی کس دکان سے خریدی تھی؟”
“ملک۔۔۔۔ کون سی رسی جناب؟”
میں نے ایک اور تھپڑ مارا۔ “پھر سوال کیا تم نے۔ میں اُسی رسی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، جس سے تم نے صفدر حسین کو پھندا لگا کر چھت سے لٹکایا تھا”۔
“وہ تو جی۔۔۔۔ اُس نے خودکشی کی تھی۔ وہ خود ہی رسی لایا ہوگا۔ میں بالکل بے گناہ ہوں”۔
میں نے حوالدار کو رسی نکال کر دی اور کہا۔ “اسے ہتھکڑی لگا کر بازار لے جاؤ اور پتا کرو کہ اس نے کس دکان سے رسی خریدی تھی”۔
حوالدار نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالتے ہوئے کہا۔ “چلو میرے ساتھ”۔
“ٹھہریں جی۔۔۔۔” اس نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا۔ “میں استاد کا بیٹا ہوں۔ میرے باپ کی شہر میں بڑی عزت ہے۔ مجھے ہتھکڑی لگا کر باہر نہ لے جائیں”۔
“ہم قاتلوں کو ہتھکڑی ہی لگایا کرتے ہیں”۔ میں نے کہا۔ “اگر باپ کی عزت کا خیال تھا تو یہ حرکت نہ کرتے”۔
حوالدار جانے لگا تو میں نے اسے روکا اور دراز سے خواب آور گولیوں کی شیشی نکالی۔ “اس دوا کے بارے میں بھی پتا کرو۔ اس شیشی میں نیند کی گولیاں ہیں۔ اس کی ایک شیشی اس نے چمن میڈیکل اسٹور سے خریدی تھی۔ یہ شیشی اس نے سلمیٰ کو دے دی تھی لیکن ہمیں دھوکا دینے کے لیے ایک شیشی اس نے کسی دوسرے اسٹور سے خرید کر گھر میں رکھ لی تھی۔ اس کے بارے میں بھی پتا کرو کہ یہ دوسری شیشی اس نے کس اسٹور سے خریدی تھی”۔
حوالدار نے ایک سپاہی کو ساتھ لیا اور اسے لے کر رخصت ہو گیا۔ ساجد کے حمایتی بھی اس کے ساتھ چلے گئے۔
تقریباً دو گھنٹے کے بعد حوالدار واپس آ گیا۔ دونوں چیزوں کی تصدیق ہو گئی تھی۔ ساجد نے خواب آور گولیوں کی دوسری شیشی ایک دوسرے اسٹور سے خریدی تھی۔ میرا یہ اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا کہ اس نے ہمیں دھوکا دینے کے لیے دوسری شیشی خرید کر گھر میں رکھ لی تھی۔ رسی فروخت کرنے والے دکاندار نے بھی اسے پہچان لیا تھا۔
میں نے ساجد سے کہا۔ “اب بتاؤ۔۔۔۔ کیا کہتے ہو؟”
“جناب، یہ چیزیں سلمیٰ نے مجھ سے منگوائی تھیں۔” اس نے اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا “مجھے کچھ پتا نہیں کہ اس نے یہ چیزیں کس مقصد کے لیے منگوائی تھیں”۔
میں نے اسے رات کی ڈیوٹی والے اے ایس آئی کے سپرد کرتے ہوئے کہا۔ “آج رات اس کے ساتھ گپ شپ لگاؤ اور اس کی یادداشت تازہ کرنے کی کوشش کرو۔ میں صبح اس سے بات کروں گا”۔
وہ اپنی بے گناہی کی قسمیں کھانے لگا۔ اے ایس آئی نے اس کی زنجیر پکڑی اور اسے حوالات کی طرف لے گیا۔
اگلی صبح تک ساجد نے سب کچھ اگل دیا۔ تاہم اس نے زیادہ ذمہ داری سائرہ پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بیان کی روشنی میں میں نے سائرہ سے بھی پوچھ گچھ کی اور جو کہانی سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی۔
سائرہ نے بتایا کہ ساجد اس سے فرئی ہونے کی کوشش کرتا رہتا تھا لیکن اس نے کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔ وہ اپنے شوہر کی وفادار تھی اور کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے اس کے شوہر کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی لیکن جب اسے اپنی ماں سے ملاقات کے بعد، صفدر کی اصلیت معلوم ہوئی تو اس کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے اور اس کے دل میں صفدر کے لیے شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ وہ اسے تکلیف پہنچانے کے مختلف طریقے اختیار کرنے لگی۔
ساجد سے دوستی بھی انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس طرح وہ شوہر سے انتقام لے رہی تھی۔ اس نے ساجد کو بتایا کہ صفدر نے اس کے ساتھ دھوکے سے شادی کی تھی اور یہ کہ وہ صفدر سے سخت نفرت کرتی تھی۔
ساجد نے کہا کہ وہ صفدر سے طلاق کیوں نہیں لے لیتی۔
“کیسی باتیں کرتے ہو۔” سائرہ نے کہا۔ “طلاق لینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ صفدر حیثیت والا آدمی ہے۔ میں غریب ماں باپ کی بیٹی ہوں اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں ہے۔ اس شخص کی موت کے بعد ہی میری جان چھوٹ سکتی ہے”۔
ساجد چند روز تک اس بات پر غور کرتا رہا۔ پھر اس نے سائرہ سے کہا۔ “اگر صفدر مر گیا تو تم کیا کروگی؟”
“خدا کا شکر ادا کروں گی اور کیا کروں گی۔” سائرہ نے جواب دیا۔
“دوبارہ شادی نہیں کروگی؟”
“اگر کوئی شریف آدمی مل گیا تو کر لوں گی”۔
“میں کیسا لگتا ہوں تمہیں؟”
“ٹھیک ہو۔۔۔۔ اتنے برے نہیں ہو”۔
“اگر میں صفدر کا کام صاف کر دوں تو مجھ سے شادی کروگی؟”
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ میں تمہارے بندے کو اگلے جہاں پہنچا سکتا ہوں بشرطیکہ تم میری بننے کا وعدہ کرو”۔
سائرہ کو اس بات پر یقین نہیں آیا۔ اس نے سوچنے کا وعدہ کیا۔
دونوں اس موضوع پر کئی روز تک باتیں کرتے رہے اور بالآخر دونوں نے صفدر حسین کے قتل کا ایک قابلِ عمل منصوبہ تیار کر لیا۔
ساجد کا بیان تھا کہ سائرہ نے اسے شادی کے وعدے پر قتل کی ترغیب دی تھی، جب کہ سائرہ کا کہنا تھا کہ قتل کا سارا منصوبہ ساجد نے بنایا تھا اور اسی نے اس پر عمل کیا تھا۔
بہر حال قتل والی رات سائرہ نے صفدر کو ایسی لسی پلائی جس میں خواب آور دوا ملی ہوئی تھی۔ سائرہ کے بیان کے مطابق یہ لسی ساجد کے گھر سے آئی تھی۔ ساجد کا بیان تھا کہ لسی سائرہ نے خود تیار کی تھی۔
ساجد نے مزید کہا کہ رات کے بارہ بجے سائرہ کی طرف سے اسے طے شدہ سگنل ملا۔ اس نے وقفے وقفے سے تین دفعہ دیوار بجائی۔ ساجد اس سگنل کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ وہ صحن کی مشترکہ دیوار پھلانگ کر سائرہ کے صحن میں کود گیا۔ سائرہ برآمدے میں اس کا انتظار کر رہی تھی اور خاصی گھبرائی ہوئی تھی۔
ساجد نے سرگوشی میں پوچھا۔ “لسی پلا دی تھی؟”
“ہاں، پلا دی تھی”۔
“کس کمرے میں ہے؟”
“وہ اندر بیچ والے کمرے میں لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ہم ٹھیک نہیں کر رہے”۔
“صرف پندرہ منٹ کی بات ہے۔ پتا بھی نہیں چلے گا۔ آؤ میرے ساتھ۔”
اس وقت تمام گھر کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں اور اندر مکمل سناٹا تھا۔ صرف صفدر کے سانس لینے کی مدہم آواز سنائی دے رہی تھی۔
سائرہ نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا “مگر یہ جاگ گیا تو؟”
“میں سنبھال لوں گا۔ تم فکر نہیں کرو۔” ساجد نے کہا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ “کوئی چھری یا چاقو لانا۔”
“چھری سے قتل کرو گے؟”
“نہیں۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کہ پہلے اس کے ہاتھ پیر باندھ دیتے ہیں تاکہ اسے لٹکانے میں آسانی رہے۔”
سائرہ باورچی خانے سے چھری لے آئی۔ ساجد نے رسی کے چند ٹکڑے کاٹے اور صفدر کے ہاتھ پیر باندھنے لگا۔ صفدر نے کچھ اوں آں کی اور کروٹ بھی بدلی مگر خواب آور دوا کے باعث اس کی آنکھ نہیں کھلی۔ ساجد نے اس کے منہ پر کپڑا بھی باندھ دیا۔ پھر دوسرے کمرے میں جا کر شہتیر کے ساتھ پھندا باندھا اور صفدر کو کندھے پر ڈال کر ادھر لے گیا۔
سائرہ صحن میں جا کر ٹہلنے لگی۔ اس کے کانوں میں سست رفتار مدہم آوازیں آ رہی تھیں اور وہ سخت بے چینی محسوس کر رہی تھی۔ تقریباً پندرہ منٹ کے بعد آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ پھر ساجد باہر آیا اور بولا۔ “سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ اب تم اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ اور صبح یہ کہنا کہ صفدر نے خودکشی کر لی ہے۔”
یہ سائرہ کا بیان تھا۔ ساجد کا بیان یہ تھا کہ سائرہ تمام وقت کمرے میں موجود رہی تھی اور اس نے صفدر کے ہاتھ پیر باندھنے میں اس کی مدد کی تھی۔
تقریباً بارہ بجے خواجہ شفقت علی تھانے پہنچ گیا۔ اے حوالدار کی زبانی ساری تفصیل معلوم ہو گئی تھی اور وہ اپنی بیٹی کی ضمانتِ قبل از گرفتاری منظور کروا کے لایا تھا۔ اس نے میرے کمرے میں قدم رکھتے ہی پہلا سوال یہ کیا کہ میں نے اس کی بیٹی کو گرفتار تو نہیں کیا تھا۔
“نہیں۔” میں نے جواب دیا “اور یہ بات میں نے خط میں بھی لکھ دی تھی۔”
اُس نے میرا شکریہ ادا نہیں کیا۔ بولا “میرا آپ سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، لیکن پولیس والوں کا اعتبار کرنا بہت مشکل ہے۔ بہرحال، میں نے اپنی بیٹی کی ضمانتِ قبل از گرفتاری کرالی ہے۔ یہ اس کے کاغذات ہیں۔” اس نے ضمانت کے کاغذات میرے سامنے رکھے۔ “قتل کے اصل ملزم کے بارے میں کیا رپورٹ ہے؟”
اس کی بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا۔ “خواجہ صاحب، میں روایتی تھانیداروں سے ذرا مختلف ہوں۔ آپ میرے ساتھ بے شک کھل کر گفتگو کریں۔ اگر میں آپ کی بیٹی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہتا تو آپ کو اس معاملے کی ہوا بھی نہ لگنے دیتا۔ آپ کو اس وقت پتا چلتا جب دونوں کو بہت نقصان پہنچ چکا ہوتا۔ میں نے اپنا آدمی بھیج کر آپ کو یہاں بلایا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ میں آپ کو جائز سہولت فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ یہ اچھا ہوا کہ آپ ضمانتِ قبل از گرفتاری کرا لائے ہیں، لیکن اگر آپ ایسا نہ کر پاتے تو میں آپ کو اس کی مہلت بھی فراہم کرتا۔”
“سوری، ملک صاحب، آج میں بہت جذباتی ہو رہا ہوں۔” اس نے کہا “پندرہ سال کے بعد بیٹی کی بازیابی کا سن کر مجھے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں اگر آپ مجھے اطلاع نہ بھجواتے تو میری بیٹی کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ ایک مہربانی اور کریں کہ مجھے دوسرے شخص کے بارے میں بھی کچھ تفصیل بتا دیں۔”
“دوسرے شخص کا نام ساجد حسن ہے۔ اس کو ہم نے گزشتہ رات گرفتار کر لیا تھا۔ وہ اس وقت حوالات میں ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ قتل کا منصوبہ دونوں نے مل کر بنایا تھا اور دونوں نے ہی اس پر عمل کیا تھا۔”
میں نے اسے ساجد حسن کے بیان کی تھوڑی سی تفصیل بتائی۔
“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔۔” اس نے تفصیل سننے کے بعد کہا۔ “میں اس معاملے کو سنبھال لوں گا۔ میں۔۔۔ اپنی بیوی اور بیٹی سے ملنا چاہتا ہوں لیکن۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان کا سامنا کس طرح کروں گا۔ پلیز۔۔۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔”
“خواجہ صاحب، ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ پڑھے لکھے اور سمجھدار آدمی ہیں۔ بیٹی کا معاملہ اپنی جگہ پر تھا، وہ اغوا ہو گئی تھی اور بازیاب نہیں ہو سکتی لیکن آپ نے اپنی بیوی کو کس بات کی سزا دی۔ اگر آپ صلح نہیں کرنا چاہتے تھے تو اسے آزاد کر دیتے۔۔”
میری بات سن کر اس نے سر جھکا لیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ایک طویل توقف کے بعد اس نے کہا۔ “ملک صاحب، بعض معاملات میں سمجھدار آدمی کی عقل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ ایک بے ثبوت بات کے باعث برسوں نقصان اٹھاتا رہتا ہے۔ اس معاملے میں اصل غلطی میری تھی اور میں نے سلمیٰ بیگم سے معذرت کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا لیکن ہمارے خاندان کا ایک شخص، جو اس وقت میری نظر میں بہت معتبر تھا، صلح کے راستے میں روک بن گیا۔ یہ بات آج میں پہلی دفعہ آپ کو بتا رہا ہوں۔ سائرہ کی گمشدگی کے تقریباً چھ ماہ بعد میں نے سوچا کہ ناراضگی ختم کر کے بیوی سے صلح کر لینی چاہیے لیکن میری بدقسمتی کہ میں نے اس معتبر شخص سے مشورہ کر لیا۔ اس نے میری بات سننے کے بعد کہا۔ شفقت میاں، میں بہت دنوں سے تمہیں ایک بات بتانا چاہ رہا تھا لیکن کوئی موقع نہیں بن رہا تھا۔ تمہاری بیٹی سائرہ گم نہیں ہوئی۔۔۔ اور سچی بات یہ ہے کہ وہ تمہاری بیٹی نہیں تھی، میں یہ بات سن کر اندر سے ہل گیا۔ میں نے کہا۔ بڑے صاحب، یہ آپ کیا فرما رہے ہیں! معتبر صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔ تمہیں شاید پتا نہیں کہ شادی سے پہلے سلمیٰ کے صفدر نامی ایک لڑکے سے خفیہ مراسم تھے، ان کا یہ تعلق شادی کے بعد بھی قائم تھا اور سائرہ، صفدر کی بیٹی تھی۔ وہ گم نہیں ہوئی۔ سلمیٰ نے اسے اس کے اصلی باپ کے حوالے کر دیا تھا۔ ملک صاحب، میں ان دنوں وکالت پڑھ رہا تھا اور خود کو نہایت بیدار مغز انسان سمجھتا تھا۔ لیکن اس بہتان کو میں نے سن و عن قبول کر لیا۔ نہ کوئی دلیل طلب کی اور نہ ہی ثبوت مانگا۔ یہ بات پندرہ سال تک میرے دل میں قائم رہی۔ میں عدالتوں میں دلائل اور شواہد کی باتیں کرنے والا شخص ہوں، لیکن اس بہتان پر میں نے کبھی غور نہیں کیا لیکن جب کل حوالدار نے مجھے بتایا کہ سائرہ سے جس شخص نے شادی کی تھی وہ صفدر ہی تھا تو میری آنکھیں کھلیں۔ میں نے دل میں کہا کہ کوئی شخص کتنا بڑا بہتان تھا جو بظاہر ایک معتبر شخص نے لگایا تھا۔ لیکن باطن میں وہ انتہائی خبیث اور سفلہ شخص تھا۔ اس بہتان کی وجہ سے میں پندرہ سال تک اپنی بیوی سے دور رہا اور دل ہی دل میں اس کی جلن برداشت کرتا رہا۔”
“خواجہ صاحب، یہ تو محض ایک بہتان تھا لیکن اگر یہ سچا الزام بھی ہوتا تو اس کی کوئی حیثیت نہ ہوتی۔ اسلام کہتا ہے کہ ایسا الزام لگانے والے کو مزید تین گواہ پیش کرنے چاہئیں۔ اور اگر وہ گواہ پیش کرنے میں ناکام رہے تو اسے اسی کوڑوں کی سزا دی جائے اور آئندہ اس کی شہادت قبول نہ کی جائے۔”
“آپ نے بالکل بجا فرمایا ہے”۔ اس نے کہا۔ “میں اپنی بیوی اور بیٹی سے ملنے کے لیے بے چین ہو رہا ہوں۔ مجھے ان کے پاس لے چلیں”۔
سلمیٰ بیگم اپنی بیٹی کے ہمراہ صفدر حسین کے مکان میں پہنچ چکی تھی۔ اس نے اپنے شوہر کو دیکھ کر دوسری طرف منہ پھیر لیا۔
میں نے سائرہ سے اس کے باپ کا تعارف کرایا۔ وہ کھڑی ہو گئی اور دھیمی آواز میں باپ کو سلام کیا۔ اس نے کسی گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا، کیونکہ اسے ماضی کے تمام واقعات معلوم ہو چکے تھے اور وہ ان کا ذمہ دار اپنے باپ کو سمجھتی تھی۔
شفقت علی اسے گلے سے لگانے کے لیے آگے بڑھا تو وہ پیچھے ہو گئی۔ بولی “میں اپنی امی کی بیٹی ہوں اور امی آپ سے ناراض ہیں۔”
شفقت علی ایک مجرم کی طرح سر جھکائے اپنی بیوی کی طرف بڑھا۔ اب میرا وہاں رکنا مناسب نہیں تھا، اس لیے میں خاموشی سے باہر نکل گیا۔

ختم شدہ