“کیا تم سلامو بابا کو اناڑی اور نا تجربہ کار سمجھتے ہو؟”
سلامو نے اس تبصرے پر خفگی آمیز نظر سے چودھری وقار حسین کی طرف دیکھا۔ وہ جلدی سے بات بناتے ہوئے بولا “یہ بات نہیں ہے ملک صاحب! وہ دراصل کوٹ جھمرا کی طرف جانے کا راستہ تو ایک ہی ہے نا۔۔۔ نہر کے کنارے کنارے۔ میرے بندے اور اغوا کنندگان اسی راستے پر سفر کر کے کوٹ جھمرا پہنچے تھے۔ ان کا کھرا کہیں آپس میں خلط ملط نہ ہو جائے۔”
”پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ابھی تک اغوا کنندگان کے کوٹ جھمرا کی طرف جانے کے بارے یقین نہیں تھا۔ اس کے برعکس چودھری وقار کے بندے کوٹ جھمرا تک گئے بھی تھے اور واپس بھی آئے تھے لہٰذا کھرے کے حوالے سے کوئی پیچیدگی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔” میں نے چودھری وقار کی تسلی کے لئے کہہ دیا۔
”چودھری وقار حسین! بابا سلامو بڑا جہاں دیدہ اور کہنہ مشق کھوجی ہے۔ اگر ایک ہزار افراد بھی گھوڑوں پر سوار ہو کر کوٹ جھمرا کی طرف جا کر واپس بھی آئے ہیں تو ان کا کھرا تو بالکل علیحدہ ہی پہچانا جائے گا۔ تمہیں اس سلسلے میں فکر مند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بابا اس مسئلے کو چٹکی بجاتے میں حل کرے گا۔”
پتہ نہیں، وہ میری وضاحت سے مطمئن ہوا کہ نہیں البتہ اس نے مزید کوئی سوال نہ کیا۔ میں اور سلامو، وقار حسین کے بندے کو اپنے ساتھ لے کر مشتاقا کے گھر کی طرف چل پڑے۔ مذکورہ بندے کا نام جاوید عرف جیدا تھا۔ جیدا بھاری تن و توش کا مالک ایک قوی ہیکل شخص تھا۔ اس نے بڑے اسٹائل کی بھاری مونچھیں رکھ چھوڑی تھیں جو گاما مارکہ مونچھوں سے خاصی حد تک مشابہ تھیں مگر بالکل اس جیسی نہیں تھیں۔ اسی جیدا کی راہ نمائی میں ہم مشتاقا کے گھر پہنچ گئے۔ مشتاقا کا گھر سکھیکی کے عین وسط میں واقع تھا۔
میں نے جیدا اور سلامو کو مشتاقا کی بیٹھک میں چھوڑا اور خود گھر کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔ مشتاقا اندرونی کمرے میں تھا اور اس نے ہماری آمد کی خبر سن کر مجھے اندر اپنے پاس ہی بلا لیا تھا۔ میں اس کے کمرے میں پہنچا تو اسے بستر پر نیم دراز پایا۔ وہ تکیے سے ٹیک لگائے “بیٹھا لیٹا” ہوا تھا۔
مشتاقا کی عمر پینتیس کے قریب ہو گی۔ وہ متناسب جسم کا مالک ایک پستہ قامت شخص تھا۔ اس نے باریک سی لکیر مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور سر کے بال مولا جٹ اسٹائل کے تھے۔ “مولا جٹ” نامی فلم بہت بعد میں ریلیز ہوئی تھی تاہم مشتاقا کے بالوں کے حوالے سے میں نے محض سمجھانے کے لئے مولا جٹ کی مثال دی ہے۔
میری آمد کا سن کر اس نے اپنے بستر کے قریب ہی ایک کرسی رکھوا دی تھی۔ میں اسی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ پیشانی تک لے جاتے ہوئے مجھے سلام کیا اور اپنی جگہ باقاعدہ بیٹھنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے حلق سے ایک سسکاری سی برآمد ہوئی، میں نے اسے اسی طرح نیم دراز پڑے رہنے کی تلقین کی تو وہ فوراً پہلے والی پوزیشن میں چلا گیا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔
”مشتاق! مجھے پتہ چلا ہے، ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے تم زخمی ہو گئے ہو۔ تمہیں کہاں کہاں چوٹیں آئی ہیں اور اب تمہارا کیا حال ہے؟”
وہ گرم چادر کی بکل مارے بیٹھا تھا۔ میرے استفسار پر اس نے چادر کو اپنے دائیں انگ کیا پھر کرتے کی آستین کو اوپر چڑھانے کے بعد مجھے اپنا زخمی کندھا دکھانے لگا۔ اس کے بائیں کندھے پر ایک موٹی تازی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ چہرے پر تکلیف کے تاثرات سجانے کے بعد اس نے بتایا۔
”تھانے دار صاحب! الہی (اندرونی) چوٹیں تو بہت آئی ہیں لیکن ظاہری چوٹ یہی ایک ہے۔ ان ظالموں نے پلٹ کر بے دریغ مجھ پر فائرنگ کر دی تھی۔ ایک گولی میرے کندھے کو چھوتے ہوئے گزر گئی۔ اللہ کا شکر ہے، ہڈی سلامت رہی۔ صرف گوشت ہی پھٹا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس میں انگارے سے بھر گئے ہوں۔”
میں نے ہمدردی کے بول کے ساتھ ساتھ اس سے وقوعہ کی تفصیل بھی پوچھی۔ وقوعہ کے وقت تانگے میں صرف تین افراد سوار تھے اور چوتھا پولیس اہل کار سادہ لباس میں اپنی موٹر سائیکل پر تانگے کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ ریحانہ اغوا ہو چکی تھی۔ کانسٹیبل نجیب اللہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ پیش کر چکا تھا۔ اس واقعے کے صرف دو عینی شاہدین باقی بچے یعنی کو چوان کئی محمد کا بیان میں لے چکا تھا اور اب مشتاق عرف مشتاقا کی باری تھی۔
مشتاقا نے مجھے جو حالات بتائے وہ کئی محمد کے بیان کی تصدیق کرتے تھے۔ اس کے مطابق جب ان کا تانگہ سکھیکی اور جمال پور ٹانڈہ کے درمیان ذخیرے کے پاس پہنچا تو منہ ڈھاتا پوش گھڑ سوار مسلح ڈاکوؤں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مشتاقا کے پاس ریوالور تھا، ڈاکوؤں کی فائرنگ کے جواب میں اس نے بھی گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ ڈاکوؤں نے سب سے پہلے ایک سادہ لباس سائیکل سوار کو نشانہ بنایا۔ سائیکل سوار تانگے کی آڑ میں ہوتے ہوئے ڈاکوؤں کے مقابلے پر اتر آیا لیکن جلد ہی اسے اپنی جان گنوانا پڑی۔ کو چوان تانگے کے بانس پر بیٹھا ہوا تھا، وہ بھی زخمی ہو کر زمین بوس ہو گیا۔ اس مارا ماری کے دوران جب ڈاکوؤں نے ریحانہ کو اٹھا کر اپنے گھوڑے پر ڈال لیا اور وہ لوگ وہاں سے فرار ہونے لگے تو مشتاقا نے آخری کوشش کے طور پر ان کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے تانگے میں جتے ہوئے گھوڑے کو کھول لیا پھر اس کی پشت پر سوار ہو کر وہ بھی ذخیرے میں داخل ہو گیا۔
ڈاکوؤں کے اور مشتاقا کے درمیان اچھا خاصا فاصلہ تھا اور گھنے درختوں کے بیچوں بیچ تعاقب جاری رکھنے میں اسے بہت زیادہ دشواری پیش آ رہی تھی، اس پر مستزاد شام ہو چلی تھی اور گھنے درختوں کے سبب دن کی روشنی بہت ہی کم مقدار میں وہاں پہنچ رہی تھی تاہم مشتاقا نے ہمت نہ ہاری اور سنبھل کر گھوڑے کو دوڑاتا رہا۔
جب وہ ذخیرے کے انتہائی حصے پر پہنچا تو ڈاکوؤں کا گردہ اس کی نظر میں آ گیا۔ اس نے اپنے گھوڑے کی رفتار اور بڑھا دی۔ نتیجے کے طور پر ڈاکوؤں نے بھی اپنے تعاقب کو محسوس کر لیا اور پلٹ کر مشتاقا پر فائرنگ کر دی۔ ایک خطرناک گولی اس کے بائیں کندھے پر آئی اور پھرتے ہوئے گزر گئی۔ وہ اپنی جان کی پرواہ نہ رکھتے ہوئے ڈاکوؤں کا تعاقب مسلسل کر رہا ہے، قسمت دغا دے جاتی۔ ڈاکو اسے تعاقب سے روکنے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔ ایک گولی اس کے کندھے کو چھو کر اسے سپردِ عذاب کر چکی تھی، باقی گولیوں نے گھوڑے کے بدن پر شمع آزمائی کی ۔ وہ تکلیف کی شدت سے بڑے کرب ناک انداز میں ہنہنا اٹھا۔ اس ہنہناہٹ میں چیخنے اور چلانے کی سی کیفیت پائی جاتی تھی۔
اس الم ناک فائرنگ نے گھوڑے کو جینے کی مہلت نہ دی۔ وہ ڈگمگایا اور لڑکھڑاتے ہوئے نڈھال ہو گیا پھر تڑپتے ہوئے جان دینے لگا۔ مشتاقا اسی گھوڑے کی پشت پر سوار تھا۔ اب وہ شتر بے مہار ہو گا اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
چودھری وقار حسین کے بھیجے ہوئے بندے ذخیرے کے اس حصے میں پہنچے تو انہیں گھوڑے کی لاش کے قریب ہی مشتاقا زخمی حالت میں پڑا ہوا ملا۔ وہ اسے اپنے ساتھ نہر کے کنارے کنارے سکھیکی لے گئے۔ پھر ان میں سے ایک اس کے پاس ہی ٹھہر گیا اور دوسرے ڈاکو اور اغوا کار ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی طرف روانہ ہو گئے۔ واپسی میں وہ لوگ زخمی مشتاقا کو اپنے ساتھ سکھیکی لے آئے تھے۔
”یہ ہے جناب ساری کہانی۔” اس نے اپنے بیان کے اختتام میں ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے اس بات کا بہت افسوس بلکہ دکھ ہے کہ میں ریحانہ بی بی کو اغوا ہونے سے نہیں بچا سکا حالانکہ چودھری صاحب نے مجھے اس کا محافظ مقرر کر رکھا تھا۔”
بات ختم کرتے ہی وہ ندامت آمیز انداز میں سر جھٹکنے لگا۔
میں نے اس کی کتھا کو پوری توجہ سے سنا۔ اس کے خاموش ہونے پر میں نے سوال کیا۔ “مشتاق! گھڑ سوار ڈاکوؤں کے بارے میں تمہارا اندازہ کیا ہے؟ وہ کون لوگ تھے اور ریحانہ کو اغوا کرنے کے بعد کدھر گئے ہوں گے؟”
میں یہ سوال کرتے ہوئے براہِ راست مشتاقا کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ میری بات سن کر وہ قدرے جھرجھری ہوا پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور دانت بھیچ کر کندھے کی اذیت کو برداشت کرتے ہوئے بولا۔
”تھانے دار صاحب! اگر مجھے یہ بات معلوم ہوتی کہ وہ کدھر گئے ہیں تو میں جیتے جی پڑتے اور مرتے ہوئے بھی ان کا تعاقب جاری رکھتا۔ بس ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے ریحانہ بی بی کا اغوا چودھری سکندر علی کے ایما پر ہوا ہے اسی لئے۔۔۔ اسی لئے چودھری وقار صاحب نے کچھ بندوں کو کوٹ جھمرا کی طرف دوڑایا تھا لیکن وہ بھی ناکام و نامراد واپس آ گئے۔”
میری معلومات کے مطابق یہ قصہ مشتاقا اور جیدا کی باہمی گفتگو کے بعد اٹھا تھا۔ وہ اپنے چودھری سکندر علی کے عزائم سے اسے آگاہ کیا تھا اس طرح ریحانہ کے حادثے سے مستثنیٰ خیر صورتِ حال چودھری وقار حسین اور چودھری نثار حسین تک پہنچ گئی تھی۔ ابھی تک مشتاقا سے میری براہِ راست بات نہیں ہوئی تھی۔ میں نے گھما پھرا کر اس سے سوالات کئے لیکن کوئی نئی بات سامنے نہ آ سکی۔ اس دوران وہ کندھے کی تکلیف کی وجہ سے دھیرے دھیرے کراہنے بھی لگا تھا۔ میں نے دیگر سوالات کو نظر انداز کر کے مرنے والے نجیب اللہ کے بارے میں استفسار کیا۔ مشتاقا نے مجھے بتایا تھا، حملہ آور ڈاکوؤں کی طرف سے پہلے سادہ لباس سائیکل سوار پر فائرنگ کی تھی۔ چودھری وقار حسین مجھے بتا چکے تھے تھا کہ وہ سادہ لباس پولیس اہلکار کی حقیقت سے آگاہ ہو گیا تھا جس کے بعد مجھے یقین تھا کہ یہ بات مشتاقا تک بھی پہنچی ہوگی۔ میں نے مشتاقا سے اسی حوالے سے سوال کیا۔
وہ نقاہت بھرے لہجے میں بولا۔ “مجھے آپ کے سپاہی کے بارے میں چودھری نے بتا دیا تھا اس لئے میں زیادہ مطمئن بھی تھا۔ چودھری صاحب سے اس کی پرانی وقار حسین “تھی۔” چودھری صاحب نے ریحانہ کی حفاظت کا ذمہ مجھے دے رکھا تھا، ڈاکوؤں کا ہم پر حملہ آور ہوا تو میں نے اور آپ کے بندے نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا تھا۔ وہ بے چارہ تو زندگی ہار بیٹھا اور میں اپنا کندھا زخمی۔۔۔”
اس نے جملہ ادھورا چھوڑا اور کراہنے والے انداز میں بولا۔ “یوں محسوس ہوتا ہے کندھا آگ کا گولا بن گیا ہے۔”
میں نے فروعی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھ لیا۔ “مشتاق! ذرا سوچ کر بتاؤ تم نے مرحوم کانسٹیبل نجیب اللہ والی بات اور کس کس کو بتائی تھی؟”
”سنگ ۔۔۔ کسی کو بھی نہیں ۔” وہ گڑبڑائے ہوئے انداز میں بولا۔ “میں بھلا کسی کو اتنی اہم بات کیوں بتاتا۔ چودھری صاحب نے تو مجھے خاص طور پر منع کیا تھا۔”
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ “خاص طور پر منع کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اس راز کو راز رکھنے کے لئے بڑے چودھری نثار حسین کو خصوصی ہدایت کی تھی۔ اس نے اس راز کو اپنے بیٹے تک منتقل کیا اور ساتھ ہی تاکید بھی کر دی کہ کسی اور کو پتہ نہیں چلنا چاہئے۔ تمہارے چودھری وقار حسین نے روایت کو قائم رکھتے ہوئے تمہیں بھی اس راز میں شریک کر لیا اور کسی کو بتانے کے لئے خاص طور پر منع بھی کر دیا اس لئے۔۔۔”
میں سانس لینے کی غرض سے متوقف ہوا پھر سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “اس لئے میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ تم نے اسی روش پر چلتے ہوئے سادہ لباس کانسٹیبل والی بات اور کس کس کو بتائی تھی؟”
وہ گھبراہٹ آمیز انداز میں بولا۔ “آپ مجھ پر خواہ مخواہ شک نہ کریں جناب! میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔ میں نے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائی۔ آپ چاہیں تو مجھ سے بڑی سے بڑی قسم لے سکتے ہیں۔”
”قسم کی ضرورت نہیں۔” میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ “نہ لینے کی اور نہ ہی دینے کی۔” ایک لمحے کا توقف کر کے میں نے ٹٹولنے والی نظر سے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا۔ “کوٹ جھمرا والا جیدا تمہارا لنگوٹیا دوست ہے، چودھری سکندر علی کی حویلی سے وابستہ ہونے کے باوجود بھی اس نے تمہیں ریحانہ کے حوالے سے سکندر علی کی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے، وہ تم سے کتنا قریب ہے۔ اسی قرب کی وجہ سے کہیں تم نے سادہ لباس پولیس اہل کار والا راز جیدا تک تو نہیں پہنچا دیا؟”
”توبہ ۔۔۔ توبہ ۔۔۔!” وہ اپنے دائیں سلامت ہاتھ سے دونوں کانوں کو باری باری چھوتے ہوئے بولا۔ “جناب! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا ہوں بھلا، ون پوو والے میلے میں ملنے کے بعد سے تو میں نے جیدا کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ اور پھر اتنی اہم بات میں جیدا کیا، کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔”
بات ختم کرتے ہی مشتاقا نے آنکھیں بند کر لیں اور تکلیف کے باعث دھیرے دھیرے کراہنے لگا۔ میں نے پٹی کھول کر اس کے زخمی کندھے کا جائزہ نہیں لیا تھا تاہم اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوتا تھا وہ خاصی اذیت میں ہے۔ میں نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے مشتاق! تم گھر پر ہی آرام کرو۔ میں شام میں پھر چکر لگاؤں گا۔ اس دوران گاہے بگاہے تم اپنے ذہن پر زور دیتے رہو۔ ممکن ہے، کوئی اہم بات یاد آ جائے۔”
اس نے میری ہدایت پر عمل کرنے کا یقین دلایا۔ میں اس کے گھر سے باہر نکل آیا اور کھوجی سلامو اور جیدا کے ہمراہ جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گیا۔
××××
سلامت علی عرف سلامو بابا نہایت ہی تجربہ کار اور ماہر کھوجی تھا۔ ہم نے جیسے ہی ذخیرے کے آغاز سے کھرے کی تلاش کا کام شروع کیا تھا، سلامو کے جوہر کھل کر میرے سامنے آنے لگے۔ تھوڑا آگے آنے کے بعد اس نے فتوٰی جاری کر دیا کہ گھڑ سواروں کے دو جتھے وہاں سے گزرے تھے جن میں سے ایک گروہ واپس بھی آیا تھا۔ اس کا فتوٰی بہت ہی واضح تھا۔
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “سلامت علی! جو گھڑ سوار یہاں واپس آیا ہے، اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں چودھری وقار حسین نے ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی طرف روانہ کیا تھا۔ اس جتھے کا ایک کردار جاوید عرف جیدا اس وقت ہمارے ساتھ ہے۔” میں تھوڑی دیر کے لئے متوقف ہوا پھر سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “تم اپنا تمام تر دھیان اور توجہ ڈاکوؤں کے دوسرے گروہ پر مرکوز کرو۔ یہ وہی لوگ ہیں جو گزشتہ روز دو بجے دوپہر ریحانہ کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے، ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں لہٰذا ان کا کھرا ابھی واپسی کا راستہ ناپتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ہم نے ان گھڑ سواروں کے کھرے کو پکڑ کر اس مقام تک پہنچنا ہے جہاں انہوں نے ریحانہ کو پہنچایا ہے۔”
وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے اپنے تکنیکی کام میں مصروف ہو گیا۔ ہم تینوں کے پاس صحت مند گھوڑے تھے۔ ہم کبھی ان کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے اور کبھی ان کی لگام تھام کر پیدل چلنے لگتے۔ اس دوران ہمارے درمیان ہلکی پھلکی باتیں بھی ہو رہی تھیں۔ ایک موقع پر جیدا ہم سے چند گز دور تھا، میں اور سلامو پہلو بہ پہلو چل رہے تھے تو سلامو نے دبی ہوئی آواز میں کہا۔
”ملک صاحب! آپ نے ایک بات خاص طور پر محسوس کی ہے؟”
”کون سی بات؟” میں نے بھی دھیمے لہجے میں پوچھا۔
وہ بولا۔ “چھوٹے چودھری وقار حسین کا رویہ آپ کو کچھ عجیب سا نہیں لگا؟”
”ان چودھریوں اور ڈیروں کے رویے عجیب و غریب ہی ہوا کرتے ہیں سلامو!” میں نے سرسری انداز میں کہا۔ “تم کس خاص واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہو؟”
کھوجی بابا نے کھرے کا کام جاری رکھتے ہوئے کہا۔ “ادھر حویلی میں جب آپ چودھری کے ایک بندے سے پوچھ رہے تھے کہ اسے یہ شک کیوں ہوا کہ ریحانہ کے اغوا کے پیچھے چودھری سکندر کا ہاتھ ہے تو اس نے جواب دینے سے پہلے کن اکھیوں سے چودھری وقار کی طرف دیکھا تھا اور اس کی آنکھ کا اشارہ پا کر بات بدل دی تھی لیکن۔۔۔” وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوا پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
”لیکن ۔۔۔۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ کہنا چاہتا تھا، چودھری وقار حسین نے اسے بتایا کہ ریحانہ کو چودھری سکندر علی آف کوٹ جھمرا کے اشارے پر اغوا کیا گیا ہے۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
سلامو بہت ہی دور اندیش اور معاملہ فہم شخص تھا۔ وہ بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔ میں نے ان کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے مدہم لہجے میں کہا۔
”تم نے بالکل درست اندازہ لگایا ہے۔ یہ سب لوگ چودھریوں کے غلام اور نمک خوار ہیں۔” یہ جملہ ادا کرتے ہوئے میں نے مڑ کر جیدا کی طرف دیکھ لیا تھا کہ کہیں وہ میری بات تو نہیں سن رہا۔ میں خواہ مخواہ کسی کی دل آزاری کا قائل نہیں ہوں۔ جیدا ہم سے اتنے فاصلے پر تھا کہ اس نے یقیناً اپنے بارے میں کہا گیا میرا جملہ نہیں سنا ہو گا۔ میں نے بات کو مکمل کرتے ہوئے کھوجی بابا سے کہا۔
”میں یہ بات جانتا ہوں کہ چودھری وقار، ریحانہ کے اغوا کے ذمے دار چودھری سکندر علی کو سمجھتے ہیں۔ یہ خیالات ان کے غلاموں اور نمک خواروں تک پہنچنا ممکن تو نہیں۔”
وہ معنی خیز انداز میں گردن ہلاتے ہوئے اپنے کام میں جُت گیا۔
جائے وقوعہ اور نہر کے درمیان کم و بیش ایک میل کا فاصلہ حائل تھا اور یہ تمام تر علاقہ بلند و بالا گھنے درختوں پر مشتمل تھا۔ یہ فاصلہ زیادہ تر ہم نے پیدل ہی طے کیا تھا اور وہ بھی رک رک کر تا کہ سلامو اپنا تحقیقاتی کام بھی جاری رکھ سکے۔ ان حالات سے گزر کر ہم دوپہر کے وقت اس ذخیرے کے آخری سرے پر پہنچ گئے۔ اسی لمحے جیدا کی سرسراتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
”تھانے دار صاحب! وہ سامنے دیکھیں، گھوڑے کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ ہم نے ادھر
ہی سے مشتاقا کو اٹھایا تھا۔”
جیدا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ روز اس ذخیرے کا ایک چکر لگا چکا تھا لہٰذا وہ ہم سے زیادہ راہ شناس تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ہم سے پہلے گھوڑے کی لاش دیکھ لی تھی۔ اس کے توجہ دلانے پر جب ہم نے مذکورہ مقام کی طرف دیکھا تو مُردہ گھوڑا ہمیں بھی نظر آ گیا۔ گویا ہم ایک اہم جگہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ہم تینوں نے مل کر ادھر ہی قدم بڑھانا شروع کر دیئے کیونکہ ہمارا مطلوبہ کھرا بھی اسی سمت راہ نمائی کر رہا تھا۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم مُردہ گھوڑے کے قریب پہنچ گئے۔ سلامو اپنے پیشہ ورانہ کام میں مصروف ہو گیا تو میں نے مُردہ گھوڑے کا تنقیدی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ اس کی لاش اسی کے خون میں لت پت پڑی تھی تاہم ایک دن اور ایک رات گزر جانے کی وجہ سے وہ تلون پوری طرح جم چکا تھا۔ اس جماد میں موسم کی شدت نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
جہاں گھوڑے کی لاش اگڑی پڑی تھی وہاں کی زمین کی حالت کو دیکھ کر مجھے یہ اندازہ لگانے میں قطعاً کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی کہ اس جانور نے بڑی کسمپرسی میں “ایڑیاں” رگڑ رگڑ کر جان دی ہو گی۔ اس کے تڑپنے اور بھڑکنے کے آثار بڑے واضح اور بھیا نک تھے۔ یہ بات تو مجھے مشتاقا نے بھی بتائی تھی کہ گھوڑا فائرنگ کی زد میں آ کر کس طور پر ہراساں ہوا تھا اور اس نے بے دردی سے اسے اپنی پشت پر سے نیچے پھینکا تھا۔
ہم نے لگ بھگ پندرہ منٹ اس مقام پر گزارے پھر سلامو نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہئے۔ میں نے اس سے پوچھا۔
”سلامت علی! آگے بڑھنے کے لئے سراتم نے اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے نا؟”
”جیا جیا مضبوطی سے جناب!” وہ فخر سے سینہ پھلاتے ہوئے بولا۔ “مجھے یقین ہے، اس کھرے کو پکڑ کر ہم نہر کے کنارے پہنچ جائیں گے۔”
میں نے کہا۔ “دوپہر ہو گئی ہے اور کچھ بھوک بھی محسوس ہونے لگی ہے۔ کیوں نہ نہر کے کنارے کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھا لیا جائے؟”
جب ہم صبح تھانے سے روانہ ہوئے تھے تو مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ واپسی میں ضرور شام ہو جائے گی او اس بات کا امکان بھی بہت واضح تھا کہ دوپہر گھنے درختوں والے ذخیرے میں کٹے گی۔ لہٰذا کھانے پینے کے بندوبست کے ساتھ نکلے تھے۔ میں نے کھانے کی تجویز دی تو میرے دوسرے دونوں راہیوں نے فوراً اس پر اتفاق کیا۔ اس کا مطلب تھا،
میری طرح وہ بھی بھوک محسوس کر رہے تھے۔
موسمِ سرما میں انسان کو نسبتاً زیادہ بھوک لگتی ہے۔ وہ جو کچھ کھاتا ہے اس سے حاصل ہونے والی توانائی کا زیادہ تر حصہ جسم کو گرم رکھنے میں استعمال ہو جاتا ہے۔ لہٰذا کھانا بہت جلد ہضم ہو جاتا ہے اور بھوک ستانے لگتی ہے۔ وہ فروری کے ابتدائی ایام تھے اور موسمِ سرما کی شدت اپنے عروج پر نظر آتی تھی۔ آسمان گھنے بادلوں سے اٹاہوا تھا۔ یہ بادل اب تب میں پھٹنے کو تھے اور میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ منزل کے حصول سے پہلے بارش شروع نہ ہو۔ یہ منزل پر پہنچ کر منزل کا نشان کھونے والی بات ہوتی!
کھانے کے دوران ہمارے درمیان حالاتِ حاضرہ پر ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہوتی رہی۔ جیدا کا موقف بھی چودھری وقار حسین کی سوچ کا آئینہ دار تھا۔ ریحانہ کے اغوا کو وہ چودھری سکندر علی کی شرارت سمجھ رہا تھا۔ جیدا کی ایک خصوصیت کھانے پر کھل کر ہمارے سامنے آئی۔ وہ گراں ڈیل بہت پیچو تھا لہٰذا ہمارے کھانے کا ساٹھ ستر فی صدی اسی کے معدے میں اتر گیا۔ باقی خوراک سے ہم نے اپنے شکم بھرے۔ سلامو بابا کی خوراک بہت ہی کم تھی۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد کھرے کی تلاش کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم ایک ایسے مقام تک جا پہنچے جہاں نہر پر ایک پُل بنا ہوا تھا۔ سلامو چوکنے والے انداز میں رُکا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہاں کی کچی زمین کو گھورنے لگا۔ میں اور جیدا خاموشی سے اس کی کارروائی کو دیکھتے رہے۔ پانچ منٹ کے بعد نہر کے کنارے پر تحقیقاتی معائنے کے بعد سلامو نے ایک سنسنی خیز فتوٰی جاری کر دیا۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے ٹھوس لہجے میں بولا ۔
”ملک صاحب! اس مقام سے کھراد و حصوں میں تقسیم ہو کر دو مختلف سمتوں میں جا رہا ہے۔ آپ حکم کریں، پہلے کس سمت کو جانا ہے؟”
مائیکل نے اس کے اس حیرت انگیز فتوے کی وضاحت طلب کر لی۔
وہ پُر اعتماد لہجے میں بولا۔ “ایک کھرا تو نہر کے ساتھ ساتھ شمال مغرب کی طرف جا رہا ہے اور یہی کھرا واپس آتا ہوا بھی دکھائی دے رہا ہے اور دوسرا کھرا۔۔۔” وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
”دوسرا کھرا نہر کا پُل عبور کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ کھرا دراصل تین ایسے گھوڑوں کے سموں کے نشانات پر مشتمل ہے جن میں سے ایک گھوڑے کی پشت پر دو افراد سوار تھے۔”
یہ واقعی ایک سنسنی خیز اور حیرت آمیز انکشاف تھا۔ موضع سکھیکی اور کوٹ جھمرا نہر کے الگ الگ کنارے پر آباد تھے۔ یہ نہر جنوب مشرق سے شمال مغرب کی سمت بہتی تھی اور اگر کوئی شخص سکھیکی سے کوٹ جھمرا یا کوٹ جھمرا سے سکھیکی کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہو اسے ہرگز ہرگز نہر عبور کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اور ۔۔۔۔ سلامو کھرے کے حوالے سے نہر عبور کرنے کی بات کر رہا تھا۔ اس نے جس انداز میں تین گھڑ سواروں کے کھرے کا تذکرہ کیا اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے وہ ریحانہ کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں کا کھرا تھا۔ سلامو نے ایک گھوڑے پر دو سواروں کی خصوصی نشاندہی بھی کی تھی جو اس حقیقت کی عکاس تھی کہ دو سواروں میں سے ایک ڈاکو اور دوسری ریحانہ ہو گی۔ وہ لوگ مارا ماری کے بعد جائے وقوعہ سے ریحانہ کو گھوڑے پر ڈال کر فرار ہوئے تھے۔ میری چھٹی حس نے تصدیق کر دی کہ اغوا کنندگان گھڑ سواروں نے اس پُل سے نہر کو عبور کیا تھا۔ گویا وہ کوٹ جھمرا کی طرف نہیں گئے تھے۔ میں نے سراتے ہوئے لہجے میں سلامو سے پوچھا۔
”جو کھرا کوٹ جھمرا کی طرف جاتا اور پھر ادھر سے واپس آتا ہوا ملا ہے اس کے بارے میں تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میرے مطلب ہے، کیا یہ وہی کھرا ہے جو ذخیرے کے اندر بھی دوسرے کھرے کے ساتھ آتا جاتا پایا گیا ہے؟”
”جی ملک صاحب!” وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بڑے وثوق سے بولا۔ “میں نے دونوں کھروں کو الگ الگ اپنے ذہن میں بٹھا رکھا ہے اور تازہ ترین حالات سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ریحانہ بی بی کو اغوا کرنے والے گھڑ سوار مسلح ڈاکوؤں نے اسی پُل پر سے نہر کو عبور کیا ہے۔ کوٹ جھمرا کی جانب جانے اور پھر واپس آنے والا کھرا چودھری وقار حسین کے ان بندوں کے گھوڑوں کا ہے جو ریحانہ کی تلاش میں ادھر آئے تھے۔”
میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ “سلامو! چودھری وقار کے بندوں والے کھرے کو فی الحال بھول جاؤ۔ ہم نہر کی دوسری طرف جا رہے ہیں۔”
اس نے اثبات میں سر ہلایا پھر ہم تینوں یکے بعد دیگرے پُل پر سے گزر کر نہر کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ سلامو نے اپنا ماہرانہ کام جاری رکھا اور ڈاکوؤں کے کھرے کو پکڑ کر آگے بڑھنے لگا۔ نہر کا بہاؤ شمال مغرب کی طرف تھا جب کہ ڈاکوؤں کا کھرا جنوب مغرب کی سمت اشارہ کر رہا تھا۔ لہٰذا ہم نہر کو اپنی پشت پر چھوڑ کر آگے بڑھنے لگے۔ یہ ایک کچا راستہ تھا جو لہلاتے کھیتوں کے بیچ سے گزرتا تھا۔ نہر اور مذکورہ راستہ ایک دوسرے پر زاویہ قائم بناتے تھے۔ ہم ڈاکوؤں کے کھرے کا سرا پکڑ کر اس راستے پر پیش قدمی کرنے رہے۔
میں نے اوپر بار بار “ڈاکوؤں کا کھرا” جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس بات کا کوئی بین ثبوت تو ابھی تک سامنے نہیں آیا تھا کہ وہ انہی ڈاکوؤں کا کھرا ہے جنہوں نے گزشتہ روز دن دیہاڑے، ریحانہ کو اغوا کر لیا تھا تاہم امکانات اور حالات و واقعات کلی طور پر اسی جانب اشارہ کرتے تھے۔ پھر میرے اندر سے بھی بار بار یہی صدا اُبھر رہی تھی کہ میں نے اغوا کنندگان کا سراغ پا لیا ہے!
ہم بڑی کامیابی سے کھرے کا پیچھا پکڑ کر آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ سلامو نے شاکی نظر سے آسمان کی طرف دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔
جیدا نے برہمی سے کہا۔ “لو جی ۔۔۔۔ ہو گیا کام!”
میں نے سلامو سے کہا۔ “سلامت علی! جہاں تک بھی ممکن ہو، اس کھرے کا تعاقب کرنا ہے۔ یہ تمہاری ماہرانہ صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے۔”
”قدرت نے مجھ جیسے گناہ گار بندے کو بڑے کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔” سلامو نے ذو معنی انداز میں کہا اور اپنے تحقیقاتی کام میں بہت زیادہ تیزی لے آیا۔
جیدا نے تبصرہ کرنے والے انداز میں کہا۔ “تھانے دار صاحب! بارش کے تیور بہت خطرناک نظر آ رہے ہیں۔ جس رفتار سے مینہ برس رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ چند منٹ کے اندر اندر کھرے کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔”
”اللہ مالک ہے۔۔۔” سلامو نے ہماری طرف دیکھے بغیر بے ساختہ کہا اور اپنے کام میں جُتا رہا۔
میں اس وقت شدید شش و پنج میں تھا۔ ذہن یک لخت بے حد اُلجھ کر رہ گیا تھا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آگے بڑھوں یا واپسی کی راہ پکڑووں۔ جیدا کے تبصرے میں اچھا خاصا وزن تھا۔ بارش کے انداز و اطوار تو یہی پیغام دے رہے تھے کہ چند منٹ میں کھرا اور کھرے کا اتہ پتہ بے نشان ہو کر رہ جائے گا۔ اس وقت ہم جس کچی راہ پر گامزن تھے وہ میلوں آگے تک چلی گئی تھی۔ اس راہ پر سفر کرتے ہوئے ہم موضع احمد آباد، صورت گھر اور فتح گڑھ تک پہنچ سکتے تھے۔ یہ تینوں گاؤں نہر والے پُل سے علیٰ الترتیب پانچ، سات اور چار میل کے فاصلے پر واقع تھے یعنی اگر ہم سب سے قریبی گاؤں فتح گڑھ کا رخ بھی کرتے تو ہمیں مزید تین میل سفر کرنا پڑتا۔ اس وقت ہم نہر کے پُل سے ایک میل آگے نکل آئے تھے۔
یہ بڑی تشویش ناک صورت حال تھی۔ بارش ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ ڈاکوؤں کا کھرا تقریباً ناپید ہو چکا تھا۔ تاہم بہ وقتِ تمام ہی سہی مگر سلامو اپنا پیشہ ورانہ جدوجہد میں مصروف تھا۔ میں اسی پریشانی کے عالم میں کھڑا کوئی فیصلہ کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ سلامو کی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز میری سماعت تک پہنچی۔
”ملک صاحب! ذرا دیکھیں تو سہی، یہ کیا ہے؟”
میں نے چونک کر یک لخت اس کی طرف دیکھا۔ وہ ہاتھ میں کوئی شے تھامے کھڑا تھا۔ میں اس کے قریب چلا گیا۔ وہ کالی ڈوری میں پروئے ہوئے تین طلائی تعویز تھے جن میں درمیان والا گول اور دائیں بائیں والے مربع تھے۔ ان تینوں تعویزوں کو سیاہ ڈوری میں پرو کر ایک چھوٹی سی مالا بنا دی گئی تھی۔ میں نے مذکورہ مالا سلامو کے ہاتھ سے لے لی اور پوچھا۔
”یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے؟”
اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ “وہاں سے۔”
میں اس طلائی تعویز کو ڈاکوؤں کی کوئی نشانی سمجھا اور یہ خیال کیا کہ ان کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اسی لمحے جیدا میرے قریب آ گیا۔ اس نے میرے ہاتھ میں سیاہ ڈوری والے تعویز کو دیکھا تو بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا۔
”یہ تعویز تو مشتاقا کا ہے۔”
میں اچھل پڑا۔ جیدا کا انکشاف ایٹمی دھماکے کا خیز تھا۔ میں نے دو تھپڑ جیدا کے ہاتھ میں دے دیا اور اضطراری لہجے میں استفسار کیا۔ “تم اس تعویز کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کر رہے؟ ذرا اچھی طرح دیکھ کر بتاؤ۔”
غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جناب!” وہ مذکورہ تعویز کو اپنے ہاتھوں میں گھمانے پھرانے کے بعد حتمی لہجے میں بولا۔ “یہ تعویز میں نے خود کئی مرتبہ مشتاقا کے گلے میں دیکھا ہے۔ ایسا کوئی اور تعویز بھی میری نگاہ سے نہیں گزرا۔”
حالات و واقعات کی روشنی میں، جیدا کے وثوق کو دیکھتے ہوئے میں ایک حتمی نتیجے پر پہنچ گیا اور اسی برستی بارش میں واپسی کی راہ پکڑ لی۔
××××
زخمی مشتاقا میرے سامنے حیران و پریشان کھڑا تھا۔
گزشتہ روز تعویز کی دریافت کے بعد ہم تینوں واپسی کی راہ اختیار کر کے سیدھے موضع کوٹ جھمرا پہنچے تھے اور اتفاق دیکھئے کہ جیسے ہی ہم نے کوٹ جھمرا کی حدود میں قدم رکھا بارش تھم گئی ۔ میں نے چودھری سکند ر علی کی حویلی کا رخ کرنے کی بجائے اسے الیس الحاظ حسین اور مخبر نبی بخش کو تلاش کر لیا۔ اس مضبوط کیس کا ایک سرا میرے ہاتھ لگ گیا تھا جس میں نے ادھر ادھر کے ملازموں پر طبع آزمائی نہیں کی ۔ میرے سامنے جو محاذ کھل گیا تھا کامیابی کا دروازہ تھا۔
میں نے فدا حسین اور نبی بخش کو خصوصی ہدایات کے ساتھ موضع سکھیکی روانہ کر دیا
میں نے ان سے جو کچھ بھی کہا تھا وہ جیدا کے کان تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس سلسلے میں راز داری کی بڑی اہمیت تھی۔ میرے حکم پر انہوں نے مشتاق عرف مشتاقا کو گرفتار کر کے تھانے پہنچانا تھا، میں خود جیدا اور سلامو کو اپنے ساتھ لے کر تھانے آ گیا۔ سلامو کو تو بہر حال جمال پور جاڑ نا ہی تھا، جیدا کو میں نے ایک خاص مقصد کے تحت اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ مشتاقا کے طلائی تعویز کو اسی نے شناخت کیا تھا، وہ اگر آزادانہ سکھیکی پہنچ جاتا تو کوئی گڑ بڑ ہو سکتی تھی اور اس گڑ بڑ کے نتیجے میں مشتاقا کی گرفتاری میں کوئی رکاوٹ کھڑی ہو سکتی تھی۔
میری حکمتِ عملی نے کام دکھایا اور کسی دشواری کے بغیر فدا حسین کل رات گئے مشتاقا کو گرفتار کر کے تھانے لے آیا تھا اور آج صبح ہی صبح وہ میرے سامنے پیش تھا۔ گزشتہ رات کا نصف آخر اس نے میرے تھانے کی حوالات میں گزارا تھا۔ آج مجھ سے ملاقات ہوئی تو اس کی حالت دیدنی تھی۔ گزشتہ رات اس کے متعدد سوالات کے جواب میں اسے کچھ نہیں بتایا گیا تھا اسی لئے وہ سراپا سوال بنا میرے سامنے کھڑا تھا۔
میں نے گہری نظر سے اسے گھورنے کا عمل جاری رکھا تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، وہ باسی آواز میں اس نے مجھ سے استفسار کیا۔
”تھانے دار صاحب! آپ نے مجھے حوالات میں کیوں بند کر دیا ہے؟”
”میں تمہارے کندھے کا آپریشن کرنا چاہتا ہوں ۔” میں نے سلگتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “میں محسوس کر رہا ہوں کہ محض پٹی سے کام نہیں چلے گا۔ ایک فوری آپریشن بہت ضروری ہے۔”
وہ چند لمحات تک سبھی ہوئی نظر سے مجھے دیکھتا رہا پھر الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔ “جناب! آپ کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آ رہیں۔ پتہ نہیں، آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”
”سب کچھ ابھی تمہاری سمجھ میں آ جائے گا۔” میں نے زہریلے لہجے میں کہا۔ “اس تھانے میں مشکل سے مشکل بات سمجھانے کا بڑا اچھا بندوبست ہے۔ ایسا آپریشن تھپڑ دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔”
وہ ہراساں نظر سے مجھے تکنے لگا۔ میں نے اس کے چہرے کو متغیر ہوتے دیکھا۔ پولیس کی کسٹڈی میں آیا ہوا کوئی بھی شخص پریشان تو ہوتا ہی ہے لیکن مشتاقا کی پریشانی مجھے قدرے مختلف نوعیت کی لگی۔ میری تجربہ کار آنکھوں نے فوراً بھانپ لیا کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔ میں نے اس کے اعصاب کو توڑنے کی غرض سے کہا۔
”آپریشن سے پہلے میں تمہاری یادداشت کا امتحان لینا چاہتا ہوں۔ یہ نہ ہو کہ بعد میں تم خود کو پہچاننے کے قابل بھی نہ رہو۔ بتاؤ، تمہارا نام کیا ہے؟
میرا یہ انداز اس کی سمجھ کے اوپر سے گزر گیا تھا تاہم جواب دینا بھی ضروری تھا لہٰذا الجھن زدہ لہجے میں بولا۔ “مشتاق عرف مشتاقا۔”
”تم چودھری کے خاص بندے ہو؟”
”جی ہاں، میں اس چودھری خاندان کا پرانا نمک خوار ہوں۔”
”تم قابلِ اعتماد نمک خوار ہو۔” میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جرح جاری رکھی۔ “اسی لئے تمہیں، ریحانہ کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا اور تم نے اپنی جان کو داؤ پر لگا کر اس کی حفاظت کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔”
”جناب! مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے کہ میں ریحانہ بی بی کو ڈاکوؤں کے چنگل سے نکال نہ سکا ۔” وہ ندامت آمیز انداز میں گردن کو جھٹکتے ہوئے بولا۔
میں نے کہا۔ “تم ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے ذخیرے کے آخری حصے تک پہنچ گئے تھے اور وہاں ڈاکوؤں نے پلٹ کر تم پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ میں تمہارا گھوڑا جان سے گیا اور تم گھوڑے کی پیٹھ پر سے الٹ کر ایسے گرے کہ پھر اُٹھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ ایک گولی تمہارے بائیں کندھے میں بھی لگی۔ تم زخمی ہو کر زمین بوس ہو گئے۔ ڈاکو ریحانہ کو لے کر نو دو گیارہ ہو گئے۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟”
وہ جزبز ہوتے ہوئے بولا۔ “نہیں جناب! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔”
میں نے مزید کہا۔ “اگر چودھری وقار کے بھیجے ہوئے گھڑ سوار تمہارے پاس سے نہ گزرتے تو شاید تم زخمی حالت میں وہیں پڑے رہتے۔ تمہاری قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے تمہیں مُردہ گھوڑے کے پاس پڑے دیکھ لیا۔ یہ تمہیں اٹھا کر نہر کے کنارے تک لے آئے ۔ ایک شخص تمہاری حفاظت اور دیکھ بھال کے خیال سے وہیں رک گیا، باقی ریحانہ کی تلاش میں کوٹ جھمرا کی جانب روانہ ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہ ناکام و نامراد واپس آئے ، پھر تمہیں اپنے ساتھ لے کر رات گئے موضع سکھیکی پہنچ گئے ۔ تم نے مجھے یہی بیان دیا تھا نا؟”
”جی ہاں۔۔۔ جی یہی حقیقت ہے۔۔۔ میں نے سولہ آنے سچ بولا ہے۔” اس نے کہا۔
میں چند لمحات تک سوچتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر نٹھرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “ابھی تک تم نے تمام سوالات کے بالکل درست جواب دیئے ہیں۔ اب میں تم سے آخری دو سوال کروں گا لہٰذا نہایت ہی سوچ سمجھ کر جواب دینا۔”
وہ متذبذب مگر سہمی ہوئی نگاہ سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے استفسار کیا۔ “جب چودھری وقار کے بندے تمہیں نہر کے کنارے چھوڑ کر کوٹ جھمرا کی طرف چلے گئے تھے تو ان کی واپسی کے دوران تم نہر کے کنارے سے اٹھ کر کہیں اور بھی گئے تھے؟”
”نہیں۔۔۔” وہ قطبیت سے بولا۔ “بالکل نہیں ۔ مجھ میں اتنی سکت کہاں تھی جناب!”
”شاباش!” میں نے تحسین آمیز انداز میں سراہا۔ “اب آخری سوال ۔۔۔” میں نے اتنا کہہ کر دانستہ توقف کیا تو وہ بے یقین نظر سے مجھے تکنے لگا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد میں نے اچانک پوچھ لیا۔
”مشتاقا! تمہارا طلائی تعویز کہاں ہے؟”
بے ساختہ اس کا دایاں ہاتھ گریبان کی طرف چلا گیا۔ وہ اپنی گردن کو ٹٹولتے ہوئے ہڑ بڑا گیا۔ “تعویز۔۔۔۔!”
میں اس دوران گہری نظر سے اس کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ تعویز کے ذکر نے اسے بری طرح بوکھلا دیا تھا۔ جب کچھ اس کی سمجھ میں نہ آیا تو بات بناتے ہوئے اس نے کہہ دیا۔ “میرا سونے کا تعویز گھر میں رکھا ہے جناب!”
میں نے اپنی میز کی دراز میں سے وہ طلائی تعویز برآمد کیا جو گزشتہ روز کھرے کی تلاش کے دوران ہمیں ملا تھا اور جسے دیکھتے ہی جیدا چلا اٹھا تھا ۔۔۔۔ یہ تعویز تو مشتاقا کا ہے!
بار میرے استفسار پر اس نے بتایا تھا کہ اس نے مذکورہ طلائی تعویز کئی مرتبہ مشتاقا کے گلے میں دیکھا تھا۔ میں نے اس طلائی تعویز کو مشتاقا کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے تحکمانہ لہجے میں پوچھا۔
”اس کو پہچانتے ہو؟”
”جی۔۔۔۔” وہ لکنت زدہ لہجے میں بولا۔ “یہی ہے وہ تعویز۔۔۔۔ یہ میرا ہی تعویز ہے” اس کے انداز سے پناہ بوکھلاہٹ جھلکتی تھی۔
میں نے جارحانہ انداز میں پوچھا۔ “اگر تم نے اپنے طلائی تعویز کو گھر میں رکھا ہوا ہے تو پھر یہ میرے پاس کیسے پہنچ گیا؟”
اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا جواب دے، پراگندہ انداز میں پوچھ بیٹھا۔ “یہ۔۔۔۔۔ یہ آپ کے پاس کیسے پہنچا ؟”
میں نے نہایت ہی مختصر مگر جامع الفاظ میں اس کے احمقانہ سوال کا دھواں دھار جواب لٹایا تو وہ بے پناہ خوف زدہ ہو گیا اور بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہنے لگا۔
”م۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔ میں تو نہر کے کنارے تک ہی محدود رہا تھا
۔۔۔۔۔ میں کیا بتاؤں کہ میرا سونے کا تعویز نہر سے ایک میل دور کیسے چلا گیا۔۔۔۔ نہیں، یہ کیسا جادو ہے ۔۔۔۔۔ میں تو خود بھی بہت حیران ہوں ۔”
”تمہیں حیران یا پریشان ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے مشتاقا!” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غراہٹ آمیز لہجے میں کہا۔ “میں تمہارا جو آپریشن کرنے آیا ہوں، اس کے بعد تمہارا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔”
اس کے بعد میں نے حوالدار مولا بخش کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔ مختصر الفاظ میں را بر یف کرنے کے بعد میں نے مشتاقا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہایت ہی معنی خیز سفاک لہجے میں کہا۔
”مولا بخش! مشتاقا کے بائیں کندھے میں گولی لگی ہے۔ اسے ذرا ڈرائنگ روم دار آپریشن تھیٹر میں لے جاؤ۔ اس کو شافی علاج کی ضرورت ہے۔ ڈاکوؤں کی چلائی ہوئی گمراہ نے اس کی زبان میں ٹیڑھ پیدا کر دی ہے۔ یہ سوچتا کچھ اور بولتا کچھ ہے۔ تمہیں اس زبان کھولنا ہے۔ تم میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا ؟”
”یہی جی چنگی طراں ملک صاحب!” مولا بخش اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بو “آپ فکر نہ کریں۔ میں حتیٰ حتیٰ (تین منٹ کے اندر اندر اس کی ٹیڑھی زبان کو سیدھا کر کے اس طرح رواں دواں کر دوں گا جیسے راوی اور چناب بہتے ہیں ۔”
پھر وہ مشتاقا کو اپنے ساتھ لے کر ٹرائل روم کی طرف چلا گیا۔
مولا بخش تین منٹ کی بجائے تیس منٹ کے بعد میرے پاس آیا اور یہ خوش خبری سنائی۔ “ملک صاحب! بندہ عادی مجرم نہیں لگتا اس لئے میری ” تفتیش” کے آگے زیادہ دیر ٹھیر نہ سکا۔ اس نے اقبالِ جرم کر لیا ہے۔ میں اسے آپ کے پاس لے کر آ رہا ہوں۔ آپ نے کے جرم کا اقراری بیان لے لیں ۔”
میں نے آئندہ پندرہ منٹ کے اندر مشتاق عرف مشتاقا کا بیان لے لیا جس کی رو ریحانہ کے اغوا میں اس نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔ قصہ کچھ اس طرح تھا۔ فتح گڑھ کا چودھری، کوٹ جھمرا کے چودھری سکندر علی سے گہری پرخاش رکھتا تھا اور اس نے کوئی دیرینہ حساب چکانے کے لئے ایک انوکھا منصوبہ بنایا۔ چودھری اعظم خان کو چودھرا سکندر اور چودھری شار کی باہمی چپقلش کا بخوبی اندازہ تھا۔ اعظم خان آف فتح گڑھ نے کا طرح جیدا کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔ اس طرح کوٹ جھمرا کی خبریں فتح گڑھ پہنچنے لگیں۔ اعظم خان ہی کے ایما پر جیدا نے مشتاقا کو یہ خبر پہنچائی کہ چودھری سکندر ریحانہ کی واپسی کے ل منصوب بندی کر رہا ہے۔ جیدا نے پرانے تعلقات کی بنا پر مشتاقا کو اپنے ساتھ ملایا۔ وہ لمحے میں یہ تاثر قائم ہو گیا کہ چودھری سکندر ریحانہ کو اغوا کرنے والا ہے۔ پھر جب اعظم خان کے آدمیوں نے ریحانہ کو اغوا کیا تو سکھیکی میں بھی سمجھا گیا کہ چودھری سکندر نے اپنے منصوبے پر عمل کر ڈالا ہے۔ چودھری سکندر بے چارے کو اس کی خبر بھی نہیں تھی۔ اعظم خان نے ایک گہری سازش کے ذریعے ریحانہ کو اغوا کر کے سکھیکی اور کوٹ جھمرا کے چودھری خاندانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا تھا لیکن اس کی بدقسمتی کہ میری مداخلت کے باعث اس کا منصوبہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ کھوجی سلامو کے تعاون سے ملنے والے طلائی تعویز نے اس کھیل کا پانسا پلٹ دیا۔
مشتاقا نے اعظم خان کے آدمیوں سے تعاون کے عوض دو سو روپے وصول کئے تھے۔ اعظم خان اور مشتاقا کے درمیان جیدا نے ایک پُل کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ اغوا کنندگان گھڑ سوار ڈاکوؤں کے پیچھے پیچھے فتح گڑھ کی حدود تک گیا تھا۔ واپسی میں ذخیرے کے انتہائی حصے میں پہنچ کر اس نے فائرنگ کر کے پہلے گھوڑے کو ہلاک کیا پھر اپنے کندھے کو زخمی کر لیا تاکہ واردات میں حقیقت کا رنگ ابھر آئے لیکن اس کی بدقسمتی کہ فتح گڑھ سے واپسی پر اس کا طلائی تعویز راستے میں گر گیا جو اس کی گردن پسوانے کا سبب بن گیا۔ وہ طلائی تعویز کسی محافظ کی مانند ہر وقت اس کی گردن میں پڑا رہتا تھا جیسے ہی وہ گردن سے جدا ہوا، مشتاقا مصیبت میں گھر گیا۔
میں نے مشتاقا اور جیدا کو حوالات میں بند کر دیا۔ پھر پہلی فرصت میں ایک چھاپہ مار پارٹی ترتیب دے کر موضع فتح گڑھ پر چڑھائی کر دی۔ میں نے مضبوط ہاتھ پاؤں سے یہ کارروائی کی تھی لہٰذا کامیابی نے میرے قدم چومے۔ ریحانہ کو بازیاب کر کے موضع سکھیکی پہنچا دیا گیا اور اعظم خان، مشتاقا اور جیدا کو ان کے جرائم کی روشنی میں مضبوط کیس میں باندھ کر حوالۂ عدالت کر دیا۔
جس طرح ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح ہر کیس کے بھی دو زاویے ہوتے ہیں۔ اگر میں چودھری شار اور چودھری وقار کی جذباتی باتوں میں آ کر اس کیس کے دوسرے زاویے کو نظر انداز کر دیتا اور چودھری سکندر کو گرفتار کر کے ریحانہ کو واپس لانا چاہتا تو یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے الجھ کر رہ جاتا۔ میں نے دونوں زاویوں پر نگاہ رکھی، بالآخر دوسرے زاویے نے مجھے کامیاب کر دیا۔
ختم شد