Complete Urdu Novel Mirza Amjad Baig

بازی گری – (مرزا امجد بیگ ایڈوکیٹ)

وہ موسمِ بہار کا آغاز تھا۔ مارچ کا آخری ہفتہ چل رہا تھا۔ ایک روز میں عدالتی بکھیڑوں سے تھوڑا جلدی فارغ ہو کر اپنے دفتر پہنچا تو انتظار گاہ میں ایک خاتون کو براجمان پایا۔ میں نے سر کی خفیف سی جنبش سے اس کے سلام کا جواب دیا اور ویٹنگ لابی سے گزر کر اپنے مخصوص کمرے میں پہنچ گیا، اگلے ہی لمحے میری سیکریٹری صدف نے انٹرکام پر مجھے اطلاع دی۔
​”بیگ صاحب! مسز عرفان آپ سے ملاقات کے لیے کافی دیر سے انتظار کر رہی ہیں.”
​”مسز عرفان.” میں نے استفساریہ انداز میں کہا۔ “وہی خاتون جو ویٹنگ لابی میں بیٹھی ہیں؟”
​”جی. جی سر. وہی۔” صدف نے تائیدی انداز میں جواب دیا۔
​”ٹھیک ہے انہیں اندر بھیج دیں۔” میں نے کہا۔
​صدف کی آواز سنائی دی۔ “اوکے سر. بھیجتی ہوں۔”
​چند سیکنڈ کے بعد مسز عرفان میرے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کے پہناوے اور رکھ رکھاؤ سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ بناؤ سنگھار بھی بڑے سلیقے سے کر رکھا تھا۔ میں یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہا کہ وہ بہ دستِ خود تیار ہو کر میرے پاس آئی تھی یا یہ کسی بیوٹی پارلر کا کارنامہ تھا۔
​میں نے حسبِ معمول پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا اور پوچھا۔ “جی مسز عرفان! فرمائیں، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”
​اس نے میرے سوال کو سنا ان سنا کرتے ہوئے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔ “بیگ صاحب! آپ کی پریکٹس کیسی چل رہی ہے؟”
​اس کے سوال سے میرے ذہن میں پہلا تاثر یہی ابھرا کہ وہ اپنے مسئلے کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہے یا پھر یہ کہ اس کا مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں بہر حال حقیقت جو بھی تھی وہ بات چیت کے بعد ہی کھل کر سامنے آ سکتی تھی۔
​”اللہ کا شکر ہے۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “پریکٹس ٹھیک ٹھاک چل رہی ہے۔”
​”آج ہماری پہلی ملاقات ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کو جانتی نہیں۔” وہ خاصی بے تکلفی سے بولی۔ “میں آپ سے غائبانہ طور پر واقف ہوں۔”
​”بڑی اچھی بات ہے۔” میں نے معتدل انداز میں کہا۔
​”یہ نہیں پوچھیں گے.” وہ سوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے لگی۔ “میں آپ سے کس طرح غائبانہ طور پر واقف ہوں؟”
​”آپ خود بتا دیں۔” میں اس کی جانب متوجہ ہو گیا۔
​”دو سال پہلے آپ نے رشیدہ نامی ایک مڈوائف کا خلع کا کیس لڑا تھا،” وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔
​”رشیدہ میری گہری دوست ہے۔ اسی نے مجھے آپ کا پتا دیا ہے۔ میری دوستی اس کیس کے بعد رشیدہ سے ہوئی تھی۔”
​وہ کسی نرس رشیدہ کا ذکر کر رہی تھی، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ فوری طور پر مجھے یاد نہ آ سکا کہ وہ کس مڈوائف رشیدہ کا حوالہ دے رہی تھی۔ تاہم اخلاقیات کا تقاضا یہی تھا کہ میں اس کے تعارف کا بھرم قائم رکھوں چنانچہ نہایت ہی شائستگی کے ساتھ میں نے پوچھ لیا۔
​”آج کل وہ آپ کی دوست رشیدہ کیا کر رہی ہے؟”
​”خلع کے کچھ ہی عرصہ بعد اس نے دوسری شادی کر لی تھی۔” مسز عرفان نے بتایا۔ “آج کل وہ اپنے شوہر کے ساتھ بیرون ملک میں مقیم ہے۔”
​”بیرون ملک” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ “یورپ یا امریکہ؟”
​”مڈل ایسٹ میں” اس نے جواب دیا۔
​”ہوں” میں نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ “چلیں، یہ بھی اچھا ہے۔ وہ جہاں بھی رہے، اللہ اسے خوش اور مطمئن رکھے۔”
​”آمین” اس نے تہِ دل سے کہا۔
​میں نے گھما کر اسے اصل موضوع کی طرف لانے کی کوشش کی۔ “مسز عرفان! کیا آپ مجھے اپنی دوست رشیدہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے تشریف لائی ہیں یا؟”
​میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا تاکہ اس کا ری ایکشن دیکھنے کو ملے۔ اس نے حسبِ توقع فوراً ہی ردعمل دیا تھا۔ وہ میرے سوال کو سمجھ گئی۔
​”نہیں بیگ صاحب!” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ “رشیدہ کا تذکرہ تو ضمناً نکل آیا۔ میں دراصل اپنے ایک ذاتی کام سے آپ کے پاس حاضر ہوئی ہوں۔”
​”جی ارشاد!” میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ “فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟” میں نے اس کے ساتھ ہی رف پیڈ اور قلم بھی سنبھال لیا۔
​وہ یک دم بے حد سنجیدہ نظر آنے لگی۔ اب نہ تو وہ “آئیں بائیں شائیں” دکھائی دیتی تھی اور نہ ہی اس کے دماغ کا کوئی پیچ ڈھیلا محسوس ہوتا تھا۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ اس کے انداز میں لجاجت جھلکتی تھی۔
​”بیگ صاحب! اگر آپ میرا یہ کام کر دیں تو میں زندگی بھر آپ کی احسان مند رہوں گی۔ میں اپنے شوہر کے لیے بے حد پریشان ہوں”
​”آپ کے شوہریعنی عرفان صاحب؟”
​”جی ہاں، میں انہیں کی بات کر رہی ہوں۔” وہ جلدی سے بولی۔ “میرا نام ہما ہے اور عرفان میرے شوہر ہیں۔”
​”آپ کے شوہر کو کیا ہوا ہے؟” میں پوچھنے بتا نہ رہ سکا۔ “آپ ان کے لیے اتنی پریشان کیوں ہیں؟”
​”عرفان کہیں گم ہو گیا ہے۔” وہ ٹھوس انداز میں بولی۔
​”گم ہو گیا ہے.” میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ “عرفان کہاں گم ہو گیا ہے اور میں اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟”
​”عرفان کو واپس لانے کے لیے آپ بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔
​”بیگ صاحب! میں ایسے ہی آپ کے پاس نہیں آ گئی ہوں۔”
​”لیکن مسز عرفان” میں نے بے حد الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔ “گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کرانا پڑتی ہے۔ یہ وکیل کا نہیں پولیس کا کام ہے۔”
​”آپ سمجھے نہیں بیگ صاحب۔” وہ جلدی سے بولی۔
​”عرفان کی گمشدگی دراصل وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔”
​”پھر یہ کس قسم کی گمشدگی ہے محترمہ؟” میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
​ایک مرتبہ پھر مجھے ہما کی ذہنی صحت پر شبہ ہونے لگا تھا مگر اس سے پہلے کہ میرا شبہ یقین میں بدل جاتا اس نے بڑے صاف الفاظ میں وضاحت کر دی۔
​”عرفان کو ان دنوں ایک لیڈی ڈاکٹر نے اپنے جال میں پھانس رکھا ہے اور مجھے بھول کر وہ دن رات اسی ڈاکٹر کے چکر میں پڑا ہوا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے، لیڈی ڈاکٹر ناہید نے عرفان کو مجھ سے چھین لیا ہے۔ عرفان کہیں گم ہو گیا ہے بیگ صاحب اور آپ عرفان کو واپس لے کر آئیں گے۔ میں بڑی آس امید لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔”
​ہما کی بات اب بھی میرے پلے نہیں پڑی تھی۔ صرف اتنا سمجھ میں آیا تھا کہ ان میاں بیوی کے درمیان ایک تیسرا کردار آ گیا تھا یعنی ڈاکٹر ناہید۔ میں نے اس پرابلم کو سمجھنے کے​لیے سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔
​”یہ ڈاکٹر ناہید کون ہے اور آپ کے شوہر سے اس کا کیا تعلق ہے؟”
​”یہ ڈاکٹر ناہید عرفان کے ہسپتال میں کام کرتی ہے۔” ہما نے جواب دیا۔
​”کیا مطلب……؟” میں نے رف پیڈ پر قلم گھماتے ہوئے پوچھا۔ “کیا آپ کے شوہر عرفان بھی ڈاکٹر ہیں؟”
​اب معاملہ کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا تھا۔ ڈاکٹری کا پیشہ نہایت ہی اینٹی سوشل پروفیشن ہے جس میں انسان کا زیادہ تر وقت کلینک یا ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ اگر زندگی کا ساتھی میڈیکل کے شعبے سے تعلق نہ رکھتا ہو تو قدم قدم پر مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ نان میڈیکل لائف پارٹنر یہی سمجھتا ہے کہ اس کا شوہر یا بیوی اسے نظر انداز کر کے کسی ساتھی ڈاکٹر یا لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اکا دکا کیسوں میں ایسا ہوتا بھی ہو گا تاہم میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ تو یہی کہتا ہے کہ ڈاکٹر ہمارے معاشرے کا مظلوم ترین پیشہ ور انسان ہوتا ہے۔ میرے ایک محسن ڈاکٹر صبح پانچ بجے اٹھتے تھے۔ سات بچے نہیں ایک معروف سرکاری مقامی ہسپتال پہنچنا ہوتا تھا۔ دوپہر ایک بجے وہاں سے فارغ ہوتے اور سہ پہر تین سے شام سات بجے تک ایک پرائیویٹ ہسپتال کے کلینک میں بیٹھتے تھے۔ رات کو آٹھ بجے سے ساڑھے بارہ ایک بجے تک ایک انتہائی پسماندہ بستی میں دس روپے پرچی والے کلینک پر بلا معاوضہ اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرتے تھے، رات گئے وہ گھر پہنچتے تھے اور پہلی فرصت میں سونے کی کوشش کرتے کہ صبح جلدی اٹھنا ہے۔ ان ڈاکٹر صاحب کی بیوی اکثر مجھ سے ایسے شکوے کرتی رہتی تھی جیسا مسز عرفان کر رہی تھی اور میں انہیں ہنس کر یہ مشورہ دیتا تھا۔
​”بھابھی! یہ بتائیں، آپ کی ڈاکٹر صاحب سے شادی پہلے ہوئی تھی یا یہ ڈاکٹر پہلے بنے تھے؟”
​”ظاہر ہے، یہ ڈاکٹر پہلے بنے تھے۔” وہ جواب دیتی تھیں۔ “ہماری شادی تو بعد میں ہوئی ہے۔”
​”پھر میں سمجھتا ہوں ڈاکٹر صاحب کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔” میں نے کہا۔ “یہ بات شادی سے پہلے سوچنے کی تھی کہ آپ نے کس قسم کے معروف انسان کو جیون ساتھی چنا ہے۔”
​”پہلے تھوڑی پتا تھا کہ ان کا اوڑھنا بچھونا ہسپتال اور مریض ہی ہوں گے۔” وہ بے بسی سے کہہ دیتیں۔
​”چلیں، اب تو پتا چل گیا ہے نا” میں شرارت سے مسکرانے لگتا۔
​”کیا مطلب بیگ صاحب!” وہ گھور کر مجھے دیکھتی تھیں۔ “پتا چل گیا ہے تو؟”
​”تو اب آپ کے پاس صرف دو ہی آپشن ہیں۔” میری شرارت میں گہری سنجیدگی شامل ہو جاتی۔
​وہ ٹٹولنے والی نظر سے مجھے دیکھنے لگتی تھیں، “کون سے دو آپشنز بیگ صاحب؟”
​”یا تو آپ ڈاکٹر صاحب کا پروفیشن چھڑا کر انہیں جنرل سٹور کھلوا دیں۔” میں کہتا۔ “اور یا پھر”
​”اور یا پھر کیا؟” وہ اضطراری انداز میں پوچھتیں۔
​”یا پھر آپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لیں۔” میں زیرلب مسکراتے ہوئے مذاق کے رنگ میں کہہ ڈالتا۔
​”میرے پاس ایک تیسرا آپشن بھی ہے بیگ صاحب!” وہ میری شرارت کی تہ میں اتر جاتیں۔
​”تیسرا آپشن!” میں انجان بن جاتا۔ “بھابھی! میں کچھ سمجھا نہیں۔”
​”ایک بات آپ کان کھول کر سن لیں بیگ صاحب۔” وہ بڑے اعتماد سے کہتیں، “میں نہ تو ان کو چھوڑوں گی اور نہ ہی ان سے ان کا پیشہ چھڑواؤں گی”
​”پھر آپ کیا کریں گی بھابھی……؟”
​”میں انہی کو بدل کر رکھ دوں گی۔” وہ بڑے وثوق سے کہتیں۔
​”میں آپ کے حق میں دعا کروں گا بھابھی!”
​”کیا مطلب ہے آپ کا؟” وہ سوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے لگتیں۔
​”مطلب وقت گزرنے کے ساتھ خود ہی آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔” میں مبہم انداز میں اس بحث کو ختم کر دیتا۔ “اس سے زیادہ فی الحال میں کچھ نہیں کہہ سکتا”
​بات آئی گئی ہو جاتی۔ مہینے دو مہینے میں جب بھی میرا ان کے یہاں جانا ہوتا تو میں ان سے پوچھنا نہیں بھولتا تھا۔
​”بھابھی! آپ کی کوشش کا کیا ہوا؟”
​”کوشش جاری ہے۔” وہ بڑے یقین کے ساتھ جواب دیتیں۔ “میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والی نہیں ہوں۔ آپ دیکھ لیجیے گا۔ میں ان کو بدل کر ہی دم لوں گی۔”
​بھابھی نے کہا تھا۔ “آپ دیکھ لیجیے گا۔” اور وہ دیکھتا رہا۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں میاں بیوی اپنی اکلوتی بیٹی کے ہمراہ یو۔ کے پہنچ گئے۔ قدرت نے ڈاکٹر صاحب کی محنت کا صلہ دے دیا تھا۔ میرے دوست ڈاکٹر جس جاں فشانی سے اٹھارہ گھنٹے روزانہ ڈیوٹی دیا کرتے تھے اس خلوص اور جذبے کے نتیجے میں وہ آج کل لندن کے ایک معروف ہسپتال میں سیٹ ہیں۔ میں نہیں جانتا، بھابھی اپنے مشن میں کس حد تک کامیابی حاصل کر پائی ہیں البتہ یہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ برطانیہ میں میڈیکل کا پروفیشن اینٹی سوشل لائف کے زمرے میں نہیں آتا۔
​اپنے سامنے بیٹھی ہوئی مسز عرفان کو میں اس نوعیت کے مشوروں سے نہیں نواز سکتا تھا جو اپنے دوست ڈاکٹر کی بیوی کو دیا کرتا تھا لہذا میں پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ اس سے سوال کر رہا تھا۔
​”جی ہاں……” ہما نے اثبات میں گردن ہلائی۔
​”عرفان خود بھی ڈاکٹر ہیں وہ چائلڈ اسپیشلسٹ ہیں۔”
​میں نے تصدیق کی خاطر پوچھنا ضروری جانا۔ “تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے شوہر ہسپتال کے مالک ہیں اور لیڈی ڈاکٹر ناہید ایک گائنالوجسٹ کی حیثیت سے وہاں کام کرتی ہے۔”
​”جی ہاں میرا یہی مطلب ہے۔” اس نے جواب دیا۔
​میں نے رف پیڈ پر نوٹس لیتے ہوئے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا۔ “اور آپ کو شک ہے کہ ڈاکٹر ناہید عرفان کو آپ سے چھیننے کی کوشش کر رہی ہے؟”
​”شک نہیں، مجھے یقین ہے کہ بیگ صاحب۔” وہ اصراری لہجے میں بولی۔ “وہ چڑیل اتنی تیزی سے عرفان کو مجھ سے دور کر رہی ہے کہ اگر میں نے فوری طور پر کوئی ہنگامی قدم نہیں اٹھایا تو خدانخواستہ کہیں عرفان مجھے چھوڑ کر مستقل طور پر اسی کا نہ ہو جائے”
​بات ختم کرتے کرتے اس کے چہرے پر پریشانی پھیل گئی تھی۔ ان لمحات میں وہ بڑی​قابلِ رحم نظر آ رہی تھی۔ میں نے اس کی حالت کے پیشِ نظر ہمدردی بھرے لہجے میں کہا۔
​”بتائیں میں اس سلسلے میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟”
​”آپ کو ہر صورت میری مدد کرنا ہو گی۔” وہ زور دیتے ہوئے بولی۔ “آپ نے عرفان کو اس منحوس ڈاکٹر کے چنگل سے نکال کر واپس میرے پاس لانا ہے۔”
​”ہوں” میں گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر گمبھیر انداز میں کہا۔ “آپ کا کیس خاصا ٹپیکل ہے، جب تک میں خود نہ مطمئن ہو جاؤں، کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا۔”
​”مطمئن نہ ہو جائیں” اس نے سوالیہ نظر سے مجھے دیکھا اور پوچھا۔ “بیگ صاحب! آپ کس قسم کا اطمینان چاہتے ہیں اپنی فیس کا اطمینان یا یہ کہ میں کس حد تک میں آپ کے ساتھ سچ بول رہی ہوں؟”
​”آپ کی دوسری بات درست ہے۔” میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ “فیس تو میں ہر صورت میں آپ سے وصول کروں گا اور وہ بھی ایڈوانس میں” میں نے لمحاتِ توقف کر کے ایک بوجھل سانس خارج کی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
​”سب سے اہم امر یہ ہے کہ مجھے پتا ہونا چاہیے، میں جس کیس کی پیروی کرنے جا رہا ہوں اس کی حقیقت کیا ہے.”
​”تو آپ کا خیال ہے، میں غلط بیانی سے کام لے رہی ہوں؟” وہ مجھ سے متنفر ہوئی۔
​”میں نے ایسا کچھ نہیں کہا مسز عرفان! میں نے اس کا ذہن صاف کرنے کی غرض سے کہا۔ “میں آپ کو پیش آمدہ حالات کی تفصیل جاننا چاہتا ہوں تاکہ یہ فیصلہ کر سکوں کہ اس معاملے میں کس حد تک قانونی مدد لی جا سکتی ہے۔ عین ممکن ہے، جیسے آپ اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ رہی ہیں وہ بعض سادہ سے معاشرتی مشوروں ہی سے حل ہو جائے”
​”بیگ صاحب! یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ محض آپ کے مشورے سے سب ٹھیک ہو جائے۔” وہ بے یقینی سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ “آپ کو بہت محنت کرنا پڑے گی”
​”ٹھیک ہے۔” میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ “آپ پہلے مجھے اپنے معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔ اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا کہ میں آپ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا کر سکتا ہوں۔”
​اس نے ایک گہری سانس لی اور چند لمحات کے لیے خاموش رہ کر خیالوں میں گم ہو​گئی۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ اپنے ذہن میں بکھرے ہوئے خیالات کو ایک جگہ مجتمع کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے نہایت ہی ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولنا شروع کیا۔ میں ہما کی فراہم کردہ معلومات میں سے غیر ضروری باتوں کو حذف کر کے خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ زیرِ نظر کیس کے مختلف پہلوؤں سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں اور آگے چل کر آپ کا ذہن الجھن کا شکار نہ ہو”
​❖❖❖
​ہما کروڑ پتی باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کا باپ شیخ سلطان رئیل اسٹیٹ کے بزنس کا کنگ تھا۔ بڑے بڑے پراپرٹی ایجنٹ اس سے کاروباری مشورے لینے آتے تھے۔ ایک روز اچانک اس کے ذہن میں پرائیویٹ ہسپتال قائم کرنے کا خیال آیا۔ یہ ایک ایسا خیال تھا کہ جس نے بھی سنا حیرت کا اظہار کیا کیونکہ وہ بذاتِ خود ڈاکٹر نہیں تھا اور نہ ہی اس کی کبھی میڈیکل کے شعبے سے وابستگی رہی تھی۔ جب قریبی بے تکلف دوست اس سے سوال کرتے تو وہ کہتا۔
​”کیا ہمارے ملک میں ہر شخص وہی کام کر رہا ہے جو اس کا اصل پیشہ ہے؟”
​”یہ ضروری نہیں ہے۔” اسے جواب ملتا۔
​”تو پھر مجھ پر بھی یہ فارمولا لاگو نہیں ہوتا۔” وہ بڑے اعتماد سے کہتا۔
​”میری بات سنو بھائی!” وہ گہری سنجیدگی سے کہتا۔ “میں ہسپتال کھولنے جا رہا ہوں اور یہ کام خالصتاً کمرشل پوائنٹ آف ویو پر کروں گا۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں اپنے ہسپتال میں خود بھی ایک ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج معالجہ شروع کر دوں گا تو پھر آپ بالکل غلط انداز میں سوچ رہے ہیں۔”
​”تو پھر آپ کیا کریں گے؟” ان سے پوچھا گیا۔
​”میں صرف انویسٹمنٹ کروں گا۔” شیخ سلطان ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیتا۔ “اپنی جیب سے پیسہ لگا کر ایک پرائیویٹ ہسپتال قائم کروں گا جہاں شہر کے قابل ڈاکٹرز، نرسز اور ٹیکنیکل سٹاف کام کرے گا۔ ہسپتال کی اپنی ایک معیاری لیبارٹری اور ایک فارمیسی ہو گی۔ میں اس ہسپتال میں ایکسریز اور دیگر ٹیسٹس کے لیے جدید مشینیں بھی لگاؤں گا تاکہ میرے ہسپتال میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کو کسی ٹیسٹ وغیرہ کے لیے​کہیں اور نہ جانا پڑے۔ ہسپتال کے نظام کی دیکھ بھال کے لیے میں ایک تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر بھی رکھوں گا۔ وہ ایک جدید اور معیاری ہسپتال ہو گا جہاں علاج کے سلسلے میں کوئی کمی یا خامی دیکھنے کو نہیں ملے گی”
​”پھر تو ٹھیک ہے۔” اعتراضات کرنے والوں کو تسلی ہو جاتی۔ “اگر آپ اس بزنس میں صرف پیسہ لگائیں گے اور میڈیکل کے معاملات میں پریکٹیکلی آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا تو پھر یہ کسی طور بھی نا مناسب نہیں۔”
​”مناسب اور نا مناسب کی کیا بات کرتے ہو بھائی!” شیخ سلطان برا سا منہ بناتے ہوئے کہتا۔ “چاروں طرف بڑی عجیب و غریب صورتِ حال ہے۔ جو لوگ اپنے گھر کا نظام سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ ملک کے حکمران بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پان سگریٹ کی دکانوں پر عام استعمال کی تمام ادویات میسر ہیں۔ جس کا جدھر منہ اٹھتا ہے وہ وہی پیشہ اختیار کر لیتا ہے۔”
​الغرض شیخ سلطان نے “شیخ ہسپتال” کے نام سے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ایک چھوٹا سا پرائیویٹ ہسپتال قائم کر لیا۔ اس کی نیت چونکہ صاف اور شفاف تھی لہذا یہ بزنس بہت اچھا چل نکلا۔ ویسے بھی میڈیکل کا شعبہ اور ہوٹل لائن ایسے کاروبار ہیں جو اگر مناسب توجہ دی جائے تو ضرور ترقی کرتے ہیں۔
​شیخ سلطان نے معیار پر سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ اس نے ٹیکنیکل سٹاف اور ڈاکٹر کے انتخاب میں ان کی قابلیت کو بنیاد بنایا تھا اور اس کام میں ایڈمنسٹریٹر جمال فریدی نے شیخ سلطان کی بہت مدد کی تھی۔ جمال فریدی بہت ہی مخلص اور وفادار شخص تھا۔
​ہما سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ڈاکٹر عرفان بھی “شیخ ہسپتال” کے ڈاکٹروں میں سے ایک تھا۔ وہ چائلڈ اسپیشلسٹ تھا اس لیے شیخ سلطان اس کی بہت عزت کرتا تھا۔ ہما اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں بہت زیادہ بیمار رہا کرتی تھی اور ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کی توجہ اور علاج ہی سے اسے دوسری زندگی ملی تھی۔ زندگی اور موت دینے والی تو خدا کی ذات ہے لیکن ڈاکٹر کو اسی لیے مسیحا کہا جاتا ہے کہ وہ مریضوں کو موت کے منہ سے نکال لاتا ہے۔ قصہ مختصر شیخ سلطان ہما کی بیماری کے باعث ماضی میں ایک چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر احمد کا بہت شکر گزار تھا لہذا وہ اپنے ہسپتال میں ڈاکٹر عرفان کو بہت زیادہ اہمیت دیتا تھا۔
​ڈاکٹر عرفان اپنے شعبے کا تو ماہر تھا ہی، علاوہ ازیں وہ اخلاقیات اور کردار کے حوالے سے بھی ایک مثالی انسان تھا، چنانچہ شیخ سلطان کا اس سے متاثر ہو جانا فطری امر تھا۔ اس نے رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں بھانت بھانت کے لوگوں کو ڈیل کر رکھا تھا۔ وہ ایک مردم شناس اور سرد و گرم چشیدہ شخص تھا، لہٰذا ڈاکٹر عرفان کی خوبیوں نے اس کے دل میں گھر کر لیا اور اس نے ڈاکٹر عرفان کو اپنی نظر میں رکھ لیا۔
​وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گردش میں رہا اور ڈاکٹر عرفان کی شیخ ہسپتال میں کام کرتے ہوئے تین سال گزر گئے۔ ان دنوں شیخ سلطان بیمار رہنے لگا تھا۔ ایک روز عرفان اپنی ڈیوٹی آف کر کے گھر جانے ہی والا تھا کہ اس کے لیے شیخ سلطان کا فون آ گیا۔
​”جی شیخ صاحب!“ ڈاکٹر عرفان نے لائن پر آنے کے بعد کہا۔ ”حکم کریں سر۔“
​”ڈاکٹر عرفان! کیا آپ ابھی میرے پاس آ سکتے ہیں؟“ شیخ سلطان نے استفسار کیا۔ ”مجھے آپ سے چند ضروری باتیں کرنی ہیں“
​پچھلے ایک سال سے شیخ سلطان کی صحت بڑی تیزی سے گرتی جا رہی تھی۔ ڈاکٹر عرفان کو یہ تو اندازہ تھا کہ شیخ صاحب کے ساتھ کوئی پراسرار مسئلہ ہے، لیکن وہ اس میڈیکل پرابلم تک پہنچنے سے قاصر تھا کیونکہ شیخ سلطان نے اپنی بیماری کو اپنے ہسپتال کے کسی ڈاکٹر سے ڈسکس نہیں کیا تھا۔
​”سر! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“ ڈاکٹر عرفان نے ہمدردی بھرے لہجے میں پوچھا۔ ”آپ کا حکم ہو تو میں اپنے ساتھ کسی ڈاکٹر“
​”نہیں“ شیخ سلطان نے قطعیت سے کہا۔ ”مجھے اس وقت صرف ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کی ضرورت ہے ڈاکٹر عرفان کی،“
​”او۔ کے سر!“ ڈاکٹر عرفان نے کسی بحث میں پڑے بغیر حتمی لہجے میں کہا۔ ”میں آ رہا ہوں۔“
​راستے بھر ڈاکٹر عرفان اسی ادھیڑ بن میں پھنسا رہا کہ شیخ سلطان کو کسی چائلڈ اسپیشلسٹ کی کیوں کر ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ان کے گھر میں تو کوئی بچہ بھی نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ شیخ صاحب کی صرف ایک ہی بیٹی ہے جو جوان ہو چکی۔ اس کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی جو یہ سمجھ لیا جاتا کہ انہیں اپنے کسی نواسے یا نواسی کے لیے چائلڈ اسپیشلسٹ کی ضرورت ہو گی۔ بہرحال اپنے باس کے حکم پر ڈاکٹر عرفان اس کے گھر پہنچ گیا۔
​گھریلو ملازم نے ڈاکٹر عرفان کو سیدھا بیڈ روم میں پہنچا دیا۔ شیخ سلطان اپنے بیڈ روم میں موجود تھا اور بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر خاصی پریشانی دکھائی دیتی تھی۔ وہ کسی سنجیدہ الجھن میں نظر آتا تھا۔
​ڈاکٹر عرفان، شیخ سلطان کے بیڈ کے قریب ہی ایک کرسی ڈال کر بیٹھ گیا اور خاصے گبھر لہجے میں پوچھا۔
​”سر خیریت تو ہے نا؟“
​”خیریت نہیں ہے ڈاکٹر عرفان“ وہ نقاہت بھرے لہجے میں بولا اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی۔ ”آپ کو حیرت تو ہوئی ہو گی کہ میں نے اپنے لیے ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کو کیوں کال کیا؟“
​”جی سر بات تو حیرت ہی کی ہے۔“ ڈاکٹر عرفان نے اثبات میں گردن ہلائی اور سوالیہ نظر سے شیخ سلطان کو دیکھنے لگا۔
​شیخ صاحب نے فرمایا۔ ”آپ کو معلوم ہو گا، میری صرف ایک ہی بیٹی ہے، ہما۔ ہما کی والدہ کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ میں نے اسے ماں اور باپ دونوں کی حیثیت سے پالا ہے اور خود سے زیادہ اس کے لیے پریشان رہتا ہوں“
​اب بھی ڈاکٹر عرفان کے پلے کچھ نہ پڑ سکا۔ وہ بے حد الجھے ہوئے لہجے میں بولا. ”سر! مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نظر نہیں آ رہی اور آپ اپنی صاحب زادی کا ذکر کر رہے ہیں؟“
​اسی لمحے ملازم ایک ٹرے اٹھائے بیڈ روم میں داخل ہوا۔ ٹرے میں چائے کے برتنوں کے علاوہ لائٹ ری فریشمنٹ کا سامان سجا نظر آ رہا تھا۔ اس تکلیف بروقت کے لیے یقیناً شیخ صاحب نے اپنے ملازم کو پہلے ہی احکام دے رکھے تھے۔
​ملازم وہ ٹرے ڈاکٹر عرفان کے نزدیک ہی ایک چھوٹی سی میز پر رکھ کر واپس چلا گیا تو شیخ سلطان نے کہا۔
​”بات تو ہو ہی رہی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی لیتے جائیں۔“
​ڈاکٹر عرفان نے ٹرے کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے پہلے پوچھا۔ ”سر! آپ چائلڈ اسپیشلسٹ کے حوالے سے کوئی وضاحت کرنے والے تھے؟“
​”ہاں“ وہ بیڈ کی پشت گاہ سے ٹیک لگاتے ہوئے کمزوری آواز میں بولا۔ ”ہما جب چھوٹی سی تھی تو اس وقت اسے چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس لے جانا پڑتا تھا“
​شیخ مبہم سی بات کر کے خاموش ہوا تو ڈاکٹر عرفان پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ ”مگر اب تو آپ کی صاحب زادی چائلڈ نہیں رہیں، پھر چائلڈ اسپیشلسٹ کے ضرورت کیوں پیش آ گئی؟“
​”بچے چاہے کتنے بھی بڑے ہو جائیں وہ والدین کی نظر میں بچے ہی رہتے ہیں۔“ شیخ نے معنی خیز انداز میں کہا۔
​”میں سمجھتا ہوں، اب ہما کو ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کی زیادہ ضرورت ہے۔“
​”سر! میں کچھ بھی نہیں سمجھ سکا“ ڈاکٹر عرفان کی حالت دیدنی تھی۔
​ایک لمحے کے لیے تو اسے یوں محسوس ہوا کہ شیخ سلطان اپنے حواس کھو بیٹھا ہے جو یوں بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے پھر جب شیخ صاحب نے تھیلے میں سے بلی کو باہر نکالا تو حقیقت پوری طرح اس پر آشکار ہو گئی۔
​”ڈاکٹر عرفان!“ شیخ سلطان نے نہایت ہی سنجیدگی سے کہنا شروع کیا۔ ”آپ کو یقیناً اس بات کا احساس ہو گا کہ میں اپنے ہسپتال کے دیگر ڈاکٹرز کی بہ نسبت آپ کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔“
​”یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے سر!“
​”ہو گی ڈاکٹر عرفان۔“ وہ اپنی سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے بولا۔ ”لیکن میں اسے ”جوہر شناسی“ سمجھتا ہوں ۔“
​ڈاکٹر عرفان نے سوالیہ نظر سے اپنے باس کو دیکھا۔
​شیخ سلطان اپنی دھن میں بولتا چلا گیا۔ ”میں نے ابتدا ہی میں آپ کی صلاحیتوں کو پہچان لیا تھا۔ اپنے پیشے کے ساتھ آپ کی محبت اور لگن، ایمان داری اور قابلیت نے مجھے بہت متاثر کیا تھا پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر گہرے سے گہرا ہوتا چلا گیا اور اب“ وہ سانس ہموار کرنے کے لیے متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
​”اب آپ کے اس فیصلے کا تعلق میری ذات ہے؟“
​”بالکل آپ کی ذات سے بھی ہے۔“ شیخ نے جواب دیا۔
​ڈاکٹر عرفان نے پوچھا۔ ”بھی ہے سے آپ کی مراد یہ تو نہیں کہ اسے فیصلے میں میرے علاوہ کوئی اور بھی شامل ہے؟“
​”بالکل درست سمجھے آپ۔“ شیخ سلطان تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔ ”میرے اس فیصلے کے دو کردار ہیں۔ نمبر ایک ڈاکٹر عرفان اور نمبر دو ہما“
​”اوہ“ ڈاکٹر عرفان نے ایک بوجھل سانس خارج کی۔ اگرچہ بات اس کی سمجھ میں بیٹھ گئی تھی تاہم تصدیقی انداز میں پوچھنا بھی ضروری تھا۔ ”سر! اور آپ کے اس فیصلے کی تفصیل کیا ہے؟“
​”ڈاکٹر عرفان!“ شیخ سلطان اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مدبرانہ انداز میں بولا۔ ”میں آپ کو بیٹا بنا کر اپنے خاندان میں شامل کرنا چاہتا ہوں ۔“
​”جی؟“ ڈاکٹر عرفان نے کمزوری حیرت ظاہر کی۔
​”میں سمجھتا ہوں، میرے پاس وقت بہت کم ہے۔“
​شیخ سلطان نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ”میں اپنی آنکھ بند ہونے سے پہلے ہما کے مستقبل کو محفوظ ہاتھوں میں سونپ دینا چاہتا ہوں اور میری نظر میں آپ سے زیادہ موزوں اور مناسب داماد مجھے اور کہیں سے نہیں مل سکتا جو میری بیٹی کو بھی خوش رکھ سکے اور میرے بعد اس ہسپتال کو بھی بہ طریق احسن چلا سکے“
​”سر! آپ مایوسی کی باتیں نہ کریں۔“ ڈاکٹر عرفان نے ہمدردی بھرے لہجے میں کہا۔ ”آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ خدا آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے گا۔ آپ دل چھوٹا نہ کریں۔“
​”زندگی کی امید دلانا اور حوصلہ بڑھانا تو آپ کے پیشے کا اولین تقاضا ہے ڈاکٹر عرفان!“ شیخ سلطان نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ”لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایسی باتوں سے محض وقتی تسلی تو ہو جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے جیون کا اختتام ہونے والا ہے“
​”سر! آپ نے کبھی اپنی بیماری کے بارے میں بتایا بھی تو نہیں۔“ ڈاکٹر عرفان نے شاکی نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ ”ورنہ ہمارے ملک میں ہر علاج کی سہولتیں موجود ہیں اور اگر ملک سے باہر جانے کی ضرورت بھی پیش آ جائے تو آپ ماشاء اللہ ہر نوعیت کے اخراجات افورڈ کر سکتے ہیں پھر؟“
​”افورڈ کر رہا ہوں ڈاکٹر عرفان!“ شیخ سلطان، ڈاکٹر عرفان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول اٹھا۔ ”میں ہر تین مہینے کے بعد چند روز کے لیے ملک سے باہر جاتا ہوں۔ انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں بڑے قابل ڈاکٹر میرا علاج کر رہے ہیں لیکن اب وہ بھی امید چھوڑ بیٹھے ہیں“
​اتنا کہہ کر شیخ سلطان خاموش ہوا تو ڈاکٹر عرفان بڑی حد تک اس کی بیماری کے بارے میں سمجھ چکا تھا۔ رہی سہی تفصیل بھی شیخ سلطان نے آنے والے پندرہ منٹ میں بتا دی۔ اس کی آواز بری طرح پھولنے لگی تھی۔ ڈاکٹر عرفان نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
​”سر! آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ہم اس موضوع پر بعد میں بھی بات کر سکتے ہیں۔ آپ کو اس وقت آرام کی ضرورت ہے“
​”نہیں ڈاکٹر عرفان!“ وہ قطعیت سے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے نحیف سی آواز میں بولا۔ ”میں نے زندگی میں کبھی آج کا کام کل پر نہیں ٹالا اور ”بعد میں“ جیسے الفاظ میری ڈکشنری میں کہیں بھی نہیں ہیں۔“ وہ تھوڑی دیر کے لیے رکا چند گہری سانسیں لینے کے بعد اپنی کیفیت کو قابو میں کیا پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
​”میں نے کچھ سوچ کر ہی اس وقت آپ کو یہاں بلایا ہے۔ یہ بہت اچھا موقع ہے اس معاملے کو فائنل کرنے کا۔ اس وقت ہما گھر میں نہیں۔ وہ اپنی کسی دوست کی شادی میں گئی ہوئی ہے لہٰذا جو بھی طے کرنا ہے ابھی اور اسی وقت کرنا ہے اورمجھے امید ہے ڈاکٹر عرفان! آپ میری درخواست کو مسترد نہیں کریں گے۔“
​”سر! آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔“ ڈاکٹر عرفان جلدی سے بولا۔ ”آپ میرے لیے بہت محترم ہیں، میرے بزرگوں کی طرح ہیں۔ آپ مجھ سے درخواست کریں گے تو میں ندامت کے بوجھ تلے دب کر مر جاؤں گا۔“
​”آپ کی اسی سعادت مندی اور شائستگی نے مجھے ہما کے لیے آپ کے انتخاب پر مجبور کیا ہے ڈاکٹر عرفان۔“ شیخ سلطان نے ستائشی نظر سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
​”ٹھیک ہے، میں آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس کام کے لیے درخواست نہیں کرتا بلکہ حکم دیتا ہوں کہ آپ کو ہر صورت میں میری خواہش آخری خواہش کو تکمیل تک پہنچانا ہے“
​بات کے اختتام پر شیخ سلطان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ ان لمحات میں وہ بے حد جذباتی ہو رہا تھا۔ بیڈ روم میں گمبھیر خاموشی کا راج تھا۔ شیخ کی اس کیفیت کے پیش نظر ڈاکٹر عرفان نے کہا۔
​”سر! آپ اتنے اچھے ہیں اور مجھ پر آپ کے اتنے احسانات ہیں کہ میں آپ کے حکم کو ٹال ہی نہیں سکتا مگر“
​”مگر کیا؟“ ڈاکٹر عرفان کے خاموش ہوتے ہی شیخ نے بے تابانہ لہجے میں استفسار کیا۔
​”سر! یہ معاملہ یک فریقی تو نہیں ہے نا۔“ ڈاکٹر عرفان وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”اس کام کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہے۔“
​”مجھے صرف آپ کی رضامندی چاہیے ڈاکٹر عرفان!“ شیخ نے شدید ترین نقاہت کے باوجود ٹھوس لہجے میں کہا۔ ”ہما میری بیٹی ہے۔ وہ میری مرضی سے باہر جا ہی نہیں سکتی۔ وہ میری بیماری سے اچھی طرح واقف ہے۔ ہم رشتے میں ضرور باپ بیٹی ہیں لیکن درحقیقت ہم دو دوستوں کی طرح اپنا ہر معاملہ ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔“
​ڈاکٹر عرفان کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ویسے بھی شیخ سلطان کی مخلصانہ پیشکش میں اس کے لیے فائدہ ہی فائدہ تھا۔ وہ آنے والے دس سال بھی جان توڑ کوشش کرتا پھر بھی اپنا ایسا ہسپتال نہیں بنا سکتا تھا۔ ہما سے شادی کی ”ہامی“ بھرنے میں اس کا فائدہ ہی فائدہ تھا لہٰذا چند لمحات کی رہی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
​”سر! جو آپ کا حکم میں آپ کی توقع پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔“
​”سر نہیں“ شیخ سلطان نے تنبیہی انداز میں کہا۔
​”ڈاکٹر عرفان! آج کے بعد آپ مجھے ”سر“ نہیں کہیں گے۔“
​”او۔ کے انکل“ ڈاکٹر عرفان نے سادگی سے کہا۔
​”ویری گڈ!“ شیخ سلطان نے تعریفی نظر سے ڈاکٹر عرفان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”پہلے آپ کے طرز تکلم میں صرف ادب و احترام تھا۔ اب اس میں اپنائیت بھی شامل ہو گئی ہے۔“
​ڈاکٹر عرفان نے شیخ سلطان کی آخری خواہش کا احترام کرنے کا فیصلہ سنا دیا تو شیخ صاحب کے گویا کلیجے میں ٹھنڈک پڑ گئی۔ اگلے دو ماہ کے اندر ہما اور ڈاکٹر عرفان کی شادی ہو​گئی۔ ہما کی طرح ڈاکٹر عرفان کا خاندان بھی نہایت مختصر سا تھا لہٰذا شادی کی تقریب شاندار انداز میں مگر سادگی سے انجام پا گئی اور اسی سال کے اختتام پر شیخ سلطان اپنی بیماری سے لڑتے لڑتے ہار گیا۔
​شیخ کے انتقال کے بعد ”شیخ ہسپتال“ کا مکمل انتظام وانصرام ڈاکٹر عرفان کے ہاتھ میں آ گیا تھا لہٰذا اس کی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس نے ہسپتال کے اندر ایک چائلڈ اسپیشلسٹ کو بھی اپائنٹ کر لیا تھا تاکہ اس کی انتظامی مصروفیت کے باعث یہ ڈیپارٹمنٹ کسی بھی طرح متاثر نہ ہو۔
​شادی کے بعد ڈاکٹر عرفان نے ہما کا اتنا زیادہ خیال رکھا اور اس قدر ٹوٹ کر محبت دی کہ وہ اپنے باپ کی موت کا غم بھی بھول گئی۔ پھر پے در پے شادی کے بعد آٹھ سالوں میں ان کی تین اولادیں بھی ہو گئیں۔ ہما کو ڈاکٹر عرفان۔ سے گویا عشق ہو گیا تھا۔ ان کی زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی کہ ڈاکٹر ناہید کی ہسپتال میں آمد نے سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا۔
​ناہید ایک لیڈی ڈاکٹر تھی۔ نہایت ہی حسین و جمیل اور پرکشش۔ اسے ڈاکٹری پاس کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ ہاؤس جاب مکمل کرنے کے بعد اس نے ”شیخ ہسپتال“ جوائن کر لیا تھا۔ ناہید کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے تھا تاہم اپنے اسٹائل اور رکھ رکھاؤ سے وہ اپر کلاس والی نظر آتی تھی۔
​ناہید کی آمد نے ڈاکٹر عرفان کی ازدواجی زندگی میں ہلچل مچا دی تھی۔ جلد ہی ہسپتال کے اسٹاف کو یہ محسوس ہو گیا کہ وہ بڑی تیزی سے ڈاکٹر عرفان کے نزدیک ہونے کی کوشش کر رہی تھی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ درحقیقت ڈاکٹر عرفان کے قریب ہو بھی گئی تھی۔ اب ڈاکٹر عرفان کا زیادہ تر وقت ہسپتال میں گزرنے لگا تھا۔ گھر اور بیوی بچوں پر سے اس کی توجہ ہٹ گئی تھی۔ ہما نے ڈاکٹر عرفان کے رویے میں پیدا ہونے والی اس تشویشناک تبدیلی کو فوراً نوٹ کر لیا اور یہیں سے ایک سنسنی خیز کہانی کا آغاز ہوا تھا۔ وہ کہانی جس نے ہما کو میرے پاس آنے پر مجبور کر دیا تھا۔
××××
​اپنی کہانی کو مفصل بیان کرنے کے بعد ہما نے مجھے سے کہا۔ ”بیگ صاحب! میں نے​ہسپتال کے عملے کے ایک بندے کو ”اعتماد“ میں لے کر ڈاکٹر عرفان اور ناہید کی سرگرمیوں کی خبر رکھنے پر مامور کر دیا تھا۔ وہ بندے میرے لیے بہت بھروسے کا تھا۔“
​”پھر آپ کے اس جاسوس نے کیا رپورٹ دی؟“ میں نے پوچھا۔
​”وارڈ بوائے طفیل نے لگ بھگ ایک ماہ تک ان دونوں کی کڑی نگرانی کی۔ ہسپتال کے اندر بھی اور ہسپتال سے باہر بھی۔“ ہما نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بتایا۔ ”اس نے بڑے وثوق سے مجھے بتایا ہے کہ ناہید اور عرفان میں بڑے مضبوط کنکشن پیدا ہو چکے تھے اور وہ ہسپتال سے باہر ایسے ہی ملتے تھے جیسے ان کے بیچ کوئی بہت گہرا رشتہ ہو۔“
​”ایک منٹ!“ میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔
​”کنکشن پیدا ہو چکے تھے سے آپ کی کیا مراد ہے کیا آپ مجھے ماضی کا کوئی قصہ سنا رہی ہیں؟“
​”ماضی قریب کا۔“ اس نے متحمل لہجے میں جواب دیا۔ ”یہ ایک سال پہلے کے واقعات ہیں۔“
​”اور اب کیا صورت حال ہے؟“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
​وہ تشویش بھرے لہجے میں بولی۔ ”اب یہ معاملہ بہت ہی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔“
​”جی بتائیں میں سن رہا ہوں۔“ میں پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہو گیا۔ ”جب آپ نے یہ تصدیق کر لی کہ آپ کا شوہر ڈاکٹر ناہید سے بہت گھل مل رہا ہے تو پھر آپ نے کون سا اقدام کیا؟“
​”میں نے سیدھا سیدھا عرفان سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔“ اس نے جواب دیا۔ ”مجھے یہی ایک راستہ نظر آیا تھا“
​”ویری گڈ!“ میں نے سراہنے والے انداز میں کہا۔ ”پھر آپ کے شوہر نے کس ڈھنگ سے اپنی صفائی پیش کی تھی؟“
​”پہلے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔“ وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔ ”جب میں نے طفیل کا ذکر کیے بغیر ان کی ملاقاتوں کے چند ثبوت مہیا کیے تو وہ شرمندہ ہوا اور ندامت آمیز لہجے میں بولا۔ ”ہما! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔ میں خود کو سنبھال لوں گا۔ آئندہ ​تمہیں کسی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔“
​”اور آپ نے اپنے شوہر کی بات پر یقین کر لیا؟“ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے استفسار کیا۔
​”اس کی معذرت اور اقبال جرم کے بعد میرا یقین کر لینا تو فطری بات تھی۔“ وہ سرسری لہجے میں بولی۔ ”لیکن میں نے اس پر ایک کڑی شرط بھی عائد کر دی تھی۔“
​میں پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ ”کیسی شرط مسز عرفان؟“
​”میں نے عرفان پر واضح کر دیا تھا کہ میں اپنے اور اس کے بیچ کسی تیسرے کو کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔“ اس نے بتایا۔ ”اگر آئندہ ایسا کچھ سننے یا دیکھنے میں آیا تو میں کوئی بھی سنگین قدم اٹھا سکتی ہوں ۔“ لمحاتی توقف کر کے اس نے ایک بوجھل سانس خارج کی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولی۔
​”اور وہ جو میں نے شرط والی بات کہی ہے نا وہ شرط یہ تھی بیگ صاحب کہ عرفان پہلی فرصت میں ڈاکٹر ناہید کو اپنے ہسپتال سے فارغ کر دے گا اور آئندہ کبھی اس سے کسی قسم کا میل جول نہیں رکھے گا۔“
​”تو کیا اس نے آپ کی یہ کڑی شرط مان لی تھی؟“ میں نے پوچھا۔
​”جی ہاں۔“ اس نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”نہ صرف عرفان نے زبانی میرا مطالبہ ماننے کی حامی بھری بلکہ اس نے اپنے ہسپتال سے ڈاکٹر ناہید کو فارغ بھی کر دیا تھا۔“
​”گڈ“ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ”گویا آپ کا مسئلہ نہایت ہی آسانی اور خوش اسلوبی سے حل ہو گیا تھا۔“
​”اس وقت تو میں یہی سمجھی تھی کہ مسئلہ حل ہو گیا۔“ وہ افسردہ لہجے میں بولی۔ ”میں مطمئن بھی ہو گئی تھی کہ میری پرسکون زندگی میں سے ڈاکٹر ناہید کا کانٹا نکل چکا ہے لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد میرا یہ اطمینان ریت کی دیوار کے مانند ثابت ہوا“
​”کیا مطلب ہے آپ کا؟“ میں نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا۔
​”چند ماہ بہت سکون سے گزر گئے تھے۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ ”پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ عرفان کی توجہ ایک بار پھر گھر کے معاملات سے ہٹتی جا رہی ہے۔ اس نے رات کو دیر سے گھر آنا شروع کر دیا تھا۔ پہلے تو میں نے اسے اس کی ہسپتال کی مصروفیت جانا
​لیکن اس خوش گمانی سے جب میرے تجسس کی تسکین نہ ہوئی تو میں نے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر ایک بار پھر ”جاسوس“ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ طفیل ہمیشہ میرے اعتماد پر پورا اترا تھا اور میں بھی اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔ میں نے طفیل کی مٹھی گرم کرنے کے بعد اسے خصوصی ہدایات کے ساتھ ایک مشن سونپ دیا۔“
​”لگتا ہے آپ کے جاسوس نے کوئی نہایت ہی سنسنی خیز اطلاع دی ہے۔“ میں نے بال پین کو انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا۔ ”ورنہ آپ کو میرے پاس آنے کی ضرورت پیش نہیں آتی“
​”آپ کا اندازہ بالکل درست ہے بیگ صاحب۔“
​وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ ”عرفان اور ناہید کا میل جول اب بھی جاری ہے۔ ناہید نیپا چورنگی کے قریب واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کر رہی ہے، اس کی رہائش گلشن اقبال کی ایک اپارٹمنٹس بلڈنگ میں ہے“
​اس کے خاموش ہونے پر میں نے پوچھا۔ ”مگر تھوڑی دیر پہلے تو آپ نے بتایا تھا، ناہید پاپوش نگر میں کہیں رہتی تھی؟“
​”جی ہاں، میری پرانی معلومات کے مطابق تو وہ پاپوش نگر کے ایک گھر ہی میں رہتی تھی۔“ اس نے جواب دیا۔ ”وہ ایک چھوٹا سا دو منزلہ مکان تھا۔ نیچے کا حصہ اس کے بھائی کی فیملی کے پاس تھا۔ بالائی منزل پر ناہید نے رہائش رکھی ہوئی تھی لیکن تازہ ترین معلومات کے مطابق وہ گلشن اقبال کے ایک لگژری فلیٹ میں شفٹ ہو چکی ہے۔“
​”اوہ“ میں نے ایک گہری سانس خارج کی۔
​”تو ڈاکٹر عرفان آج کل ناہید سے ملنے اس کے ہسپتال جا رہے ہیں؟“
​”نہیں جناب“ وہ شدت سے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ ”وہ ہسپتال میں بالکل نہیں ملتے بلکہ عرفان اس حرافہ کے فلیٹ پر جاتا ہے اور بعض اوقات آدھی آدھی رات تک وہیں بیٹھا رہتا ہے۔“
​”یہ تو کافی گمبھیر حالات ہیں ۔“ میں نے تشویش بھرے انداز میں کہا۔ ”آپ نے اس سلسلے میں ڈاکٹر عرفان سے بات کی؟“
​”نہیں۔“ اس نے بتایا۔
​میں نے پوچھا۔ “کیوں نہیں کی بات؟”
“میں اندر سے ڈر رہی ہوں۔” وہ سہمے ہوئے لہجے میں بولی۔ “میرے اندر ایک خوف سا بیٹھ گیا ہے۔”
“کیسا خوف؟” میں نے الجھن زدہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“مجھے شک ہے کہ کہیں عرفان نے اس کمینی کے ساتھ شادی نہ کر لی ہو۔” وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔ “اگر میں نے اس معاملے کو اچھالا تو بڑی گڑبڑ ہو جائے گی”
“گڑبڑ. کیسی گڑبڑ؟” میں نے سوال کیا۔
“اگر میرا شک درست نکلا اور عرفان نے واقعی ناہید سے شادی کر رکھی ہے تو میرے لیے بہت برا ہو جائے گا۔”
وہ بدستور پریشان لہجے میں بولی۔
“یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کا اس میں کیا نقصان ہے؟”
“میرے شور مچانے یا پوچھ گچھ کرنے سے عرفان کا مستقبل جھکاؤ ناہید کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔” وہ اپنے خدشات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے بولی۔ “یوں سمجھ لیں کہ میرے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہیں۔ اگر عرفان نے مجھے چھوڑ کر مستقلًا ناہید کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تو میرا کیا ہوگا، میں تین بچوں کے ساتھ کہاں جاؤں گی؟”
“تو دراصل آپ کو یہ ڈر ہے کہ اگر اس کھٹ راگ میں عرفان نے آپ کو طلاق دے دی تو آپ کہاں جائیں گی۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “آپ خود کو اپنے تین بچوں کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔”
“جی ہاں یہی بات ہے۔” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
میں نے اس سے چند اہم سوالات کیے۔ “مسز عرفان! اس وقت آپ کی رہائش کہاں پر ہے؟”
“پی۔ای۔سی۔ایچ سوسائٹی میں۔” اس نے جواب دیا۔ “شادی سے پہلے میں اور ابو سوسائٹی آفس کے نزدیک ایک چھوٹے سے بنگلے میں رہتے ہیں۔”
“اس وقت آپ کی جہاں رہائش ہے وہ بنگلا کس کے نام ہے؟”
“میرے نام ہے۔” اس نے جواب دیا۔
​”اور ہسپتال؟” میں نے پوچھا۔
“وہ میں نے اصرار کر کے عرفان کے نام کرا دیا تھا۔” اس نے بتایا۔
“یعنی فوری طور پر آپ کے لیے اور بچوں کے لیے رہائش کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔” میں نے “دو اور دو چار” کے فارمولے کی روشنی میں کہا۔ “آپ اس لیے پریشان ہیں کہ آمدنی کا بڑا ذریعہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔”
“ایسی بات نہیں ہے بیگ صاحب۔” وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ “مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ اگر عرفان نے مجھے اپنی زندگی سے نکال دیا تو میرا اور بچوں کا گزارہ کیسے ہوگا۔ اس بنگلے کے علاوہ بھی میرے پاس بہت کچھ ہے۔ اللہ کے فضل سے میرا بینک بیلنس بھی خاصا معقول ہے۔ ابو نے میرے نام سے بعض اسکیمز میں بھی پیسہ لگا رکھا ہے جہاں سے ماہانہ ششماہی اور سالانہ منافع آتا رہتا ہے۔ پھر میں نے ایم ایس سی کر رکھا ہے۔ اگر خدانخواستہ اپنی اور بچوں کی ذمے داری مجھ پر آن بھی پڑی تو میں بڑی خوش اسلوبی سے نمٹ سکتی ہوں”
“پھر” میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔
“پھر آپ کی پریشانی کا سبب کیا ہے؟”
“دو بڑے اسباب ہیں بیگ صاحب!” وہ پہلو بدلتے ہوئے بولی۔
میں سوالیہ نظر سے اسے تکنے لگا۔
“نمبر ایک!” وہ سنجیدہ لہجے میں بتانے لگی۔ “میں بچوں کو ان کے باپ سے محروم ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔ باپ جیسا تیسا بھی کیوں نہ ہو، بچوں کے سر پر اس کا سایہ ہمیشہ قائم و دائم رہنا چاہیے۔ جن بچوں کی تربیت باپ کے بغیر ہوتی ہے ان کے کندھے ہمیشہ جھکے رہتے ہیں۔ نمبر دو……” وہ لمحے بھر کے لیے سانس درست کرنے کو رکی پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولی۔
“بیگ صاحب!” اس کی آواز میں بڑا پختہ عزم تھا۔
“مجھے یہ کسی قیمت پر منظور نہیں کہ ناہید شکست دے کر عرفان کو اپنا بنا لے۔ یہ میرے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔”
“ہوں” میں نے ایک گہری سانس خارج کی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں​کہا۔ “مسز عرفان! موجودہ صورت حال میں آپ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی ہیں، آپ نے جو حالات و واقعات بیان کیے ہیں ان کی رو سے دو امکانات ہیں۔ اول یہ کہ ڈاکٹر ناہید اور ڈاکٹر عرفان کے بیچ سنجیدہ نوعیت کا دوستانہ چل رہا ہے۔ ڈاکٹر عرفان اکثر و بیشتر ڈاکٹر ناہید سے ملنے اس کے فلیٹ پر جاتا رہتا ہے” میں نے لمحاتی توقف کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
“دوم یہ کہ ان دونوں نے آپس میں شادی کر لی ہے اور ڈاکٹر عرفان ایک شوہر کی حیثیت سے وہاں اپنی بیوی ناہید سے ملنے جاتا ہے۔ جب تک صورت حال واضح نہ ہو، میں آپ کو درست مشورہ نہیں دے سکوں گا۔ آپ کسی طرح یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ عرفان نے ناہید کے ساتھ باقاعدہ شادی کی ہے یا محض ان میں دوستی کا رشتہ چل رہا ہے۔”
“یہ سب کچھ آپ ہی کو معلوم کرنا ہے بیگ صاحب۔” وہ اُمید بھری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔
“یاد ہے، رشیدہ کے کیس میں آپ نے عدالت کے باہر بھی بہت بھاگ دوڑ کی تھی”
“ہاں، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔” میں نے بات نبھانے کی غرض سے کہہ دیا۔ “بعض اوقات کیس سے متعلق اہم ثبوت جمع کرنے کے لیے خود بھی فیلڈ میں گھوم پھر کر سرگرمی دکھانا پڑتی ہے۔”
“بس تو پھر آپ میرے کیس کے لیے بھی کمر کس لیں۔” وہ جوشیلے انداز میں بولی۔ “پہلے کس طرح یہ پتا لگانے کی کوشش کریں کہ انہوں نے باقاعدہ شادی کر لی ہے یا نہیں۔”
“فرض کریں میں نے پتا لگا لیا پھر؟” میں نے سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“پھر” اس نے میرے کہے ہوئے آخری لفظ کو خاصے دبنگ انداز میں دہرایا اور بولی۔ “اگر انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تو انہیں کسی ایسے قانونی چکر میں الجھائیں کہ ہزار کوشش کے باوجود بھی شادی نہ کر سکیں۔ اس سلسلے میں، میں آپ سے ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔”
بعض اوقات کلائنٹس مجھ سے ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو بہ ظاہر بہت غیر منطقی​دکھائی دیتی ہیں۔ بہر حال ایک لاکنسلٹنٹ کی حیثیت سے مجھے ان کی خواہشات اور جذبات کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ اسی خیال کے پیش نظر میں نے کہہ دیا۔
“ٹھیک ہے مسز عرفان! اگر وہ لوگ بغیر نکاح کے خفیہ ملاقاتوں کا پُراسرار سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تو انہیں نکیل ڈالنے کے لیے کوئی قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ باقاعدہ شادی کر چکے ہیں اور ان کی حیثیت میاں بیوی کی ہے تو پھر؟”
میں نے سوالیہ انداز میں جملہ نامکمل چھوڑا تو وہ جلدی سے بولی۔ “تو پھر آپ ان کے نکاح کو باطل کر دیں گے۔”
“باطل کیا مطلب ہے آپ کا؟” میں نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
“کمال ہے” وہ حیرت سے مجھے گھورتے ہوئے بولی۔ “آپ اتنے تجربہ کار وکیل ہیں اور آپ کو اس قانون کے بارے میں آگاہی نہیں؟”
میں سمجھ گیا کہ اس کا اشارہ کون سے عائلی قانون کی جانب تھا تاہم میں نے اسی کی زبانی سننے کی غرض سے کہہ دیا۔
“ہو سکتا ہے میرے ذہن سے نکل گیا ہو۔ آپ ہی وضاحت کر دیں۔”
“میری معلومات کے مطابق کوئی بھی شادی شدہ مرد اپنی پہلی بیوی کی اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا۔” وہ بڑے فخر سے بتانے لگی۔ “اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کا دوسرا نکاح باطل قرار پائے گا”
“اچھا، آپ اس قانون کی بات کر رہی ہیں۔” میں نے سرسری انداز میں کہا۔ “یہ قانون سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم نے فیملی کورٹ قوانین کے سیکشن میں شامل کیا تھا جس کا مقصد بیویوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن میں اپنی ذاتی حیثیت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس قانون میں بہت سے سقم ہیں اسی لیے جب بھی اس قانون کے استعمال کا موقع آتا ہے تو اس سے سب سے زیادہ نقصان بھی بیویوں ہی کو پہنچتا ہے۔”
“میں کچھ سمجھی نہیں۔” وہ پلکیں جھپکاتے ہوئے بولی۔ “آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟”
“دراصل یہ قانون انسان کی بنیادی ضرورت، اس کی نفسیات، اس کی فطرت اور اسلام کی روح کے متصادم ہے۔” میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ “ممکن ہے بعض لوگوں کو ​میری رائے سے مکمل اختلاف ہو لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے جسے تجربے کی کسوٹی پر غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔”
“میں نے لمحاتی توقف کر کے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی مسز عرفان کے چہرے کا جائزہ لیا۔ وہ بڑی توجہ سے میری بات سن رہی تھی۔ میں نے وضاحت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
“پہلی بات تو یہ کہ اگر کوئی شوہر دوسری شادی کا ارادہ رکھتا ہو اور وہ اپنی پہلی بیوی سے عقد ثانی کی اجازت مانگے تو وہ کسی بھی قیمت پر ایسی اجازت نہیں دے گی۔ آپ اس سچویشن میں خود کو رکھ کر دیکھ لیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ شخص پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے جا رہا ہے اور پہلی بیوی نے اس قانون کا سہارا لے کر اور بہت زیادہ اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے شوہر کو عقد ثانی سے روک بھی دیا تو یہاں سے شوہر کے سامنے دو راستے کھل جائیں گے۔”
“کون سے دو راستے؟” میں لمحے بھر کو خاموش ہوا تو اس نے سوال داغ دیا۔
“نمبر ایک، وہ اپنی پہلی بیوی کے سامنے قانونی سطح پر بہت کمزور پڑ جائے، مطلب یہ کہ وہ پہلی بیوی کو چھوڑ نا افورڈ نہ کر سکتا ہو یعنی چھوڑنے کی صورت میں وہ اپنی بیوی کے حقوق پورے کرنے اور واجبات ادا کرنے کی حیثیت میں نہ ہو تو پھر وہ دوسری شادی سے تو باز آ جائے گا، مگر اپنی نفسانی اور جبلی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ چوری چھپے حرام کاری کا مشغلہ ضرور اپنا سکتا ہے، گویا وہ اپنی بیوی کے ساتھ مخلص و وفادار نہیں رہے گا۔”
“اور دوسرا راستہ؟” ہما نے پوچھا۔
میں نے بدستور ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ “دوسری صورت میں وہ پہلی بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لے گا۔”
“گویا دونوں صورتوں میں نقصان پہلی بیوی ہی کا ہے؟” وہ پریشان ہوتے ہوئے بولی۔
“ہاں، یہ حقیقت تو بڑی واضح اور کھلی ہے۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر، دونوں صورتوں میں خربوزہ ہی کٹتا ہے۔”
“یہ تو بڑی زیادتی والی بات نہیں؟” وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔
“جو بھی ہے، میں نے حقائق آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔” میں نے کہا۔ “فیصلہ کرنا ​آپ کا کام ہے۔”
“آپ وکیل ہیں، قانونی داؤ پیچ کے ماہر ہیں۔ وہ امید بھری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ “میرے لیے کوئی مناسب راہ نکالیں۔ ایسی راہ جس پر چلتے ہوئے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے.” لمحاتی توقف کر کے اس نے گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے بولی۔
“میں کسی بھی قیمت پر عرفان کو کھونا نہیں چاہتی اور آپ ہر صورت میں اسے واپس لے کر آئیں گے۔ اگر اس نے ابھی تک ڈاکٹر ناہید سے شادی نہیں کی تو وہ اس خیال سے باز آ جائے اور اگر انہوں نے شادی کر لی ہے تو بھی وہ ناہید کو اپنی زندگی سے نکال کر صرف اور صرف میرا اور اپنے تین بچوں کا ہو جائے۔”
“میں نے آپ کے تمام تر حالات سن لیے ہیں۔”
اس کے خاموش ہونے پر میں نے کہا۔ “آپ مجھے چار پانچ دن کی مہلت دے دیں تاکہ میں لائحہ عمل تیار کر سکوں کہ اس پروجیکٹ پر کس انداز میں پیش قدمی کرنا ہے۔”
“آپ کو جتنا وقت چاہیے لے لیں اور خوب غور و خوض کے بعد آگے بڑھیں۔” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ “آپ جو بھی چکر چلائیں، کوئی بھی قانون آزمائیں لیکن ہر صورت میں اور ہر قیمت پر جیت میری ہونا چاہیے۔ آپ ڈاکٹر عرفان کو ڈاکٹر ناہید کے چنگل سے نکال کر میرے حوالے کریں گے۔”
اوکے!” میں نے پُراعتماد انداز میں کہا۔ “کچھ کرتے ہیں”
“میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں؟” اس نے سوالیہ نظر سے میری طرف دیکھا اور اپنے ہینڈ بیگ کی جانب ہاتھ بڑھا دیے۔
میں نے وکالت نامہ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
“اسے پُر کرنے کے بعد دستخط کر دیں۔” میں نے کہا۔
“آپ کے دستخط کر دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے آپ کا کیس ڈیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بظاہر تو ایک رسمی سی کاغذی کارروائی ہے لیکن یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ نے ایک قانونی کام میرے سپرد کیا ہے اور میں نے اس کام کو کرنے کی حامی بھری ہے۔”
​اس نے اثبات میں گردن ہلائی اور وکالت نامے کے ضروری کالمز میں ضروری معلومات کا اندراج کرنے لگی۔ پھر وکالت نامے کے آخری حصے میں اپنے دستخط کر کے اس نے کام مکمل کر دیا۔ اس نے وکالت نامہ میری جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
“آپ کی فیس کیا ہے بیگ صاحب؟”
میں نے اپنی فیس کے اکاؤنٹ سے اسے آگاہ کرنے کے بعد کہا۔ “میں فیس ایڈوانس میں لیتا ہوں اور یہ صرف میری فیس ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی عدالتی اخراجات ہوں گے وہ آپ کے ذمے ہیں۔”
“او۔کے” اس نے مضبوط لہجے میں کہا اور فیس کی رقم گن کر میرے حوالے کر دی۔
میں نے گنے بغیر مذکورہ رقم کو اپنی میز کی دراز میں ڈال دیا اور ثبوت کے طور پر فیس کی وصولی کی مد میں ایک رسید بنا کر اس کے حوالے کر دی۔ اس نے مذکورہ رسید پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالی پھر میرے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے مستفسر ہوئی۔
“بیگ صاحب! میں نے آپ کو جو رقم دی ہے وہ آپ نے گنی کیوں نہیں؟”
“گن لی ہے” میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔
“کب؟” اس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
“جب آپ ہینڈ بیگ میں سے نکال کر نوٹ گن رہی تھیں تو آپ کی انگلیوں کے ساتھ ساتھ میری آنکھوں نے بھی گن لیے تھے۔” میں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ اطمینان رکھیں۔ آپ کی ادا کردہ رقم میری فیس کے عین مطابق ہے۔ اگر کوئی اونچ نیچ ہوتی تو میں آپ کے ہاتھ سے نوٹ لینے سے ٹوک دیتا”
“بیگ صاحب! آپ کی نظر تو بہت تیز ہے” وہ دیدے گھماتے ہوئے بولی۔
“میں ایک پروفیشنل ہوں۔” میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ “اس لیے اپنے پیشے کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نظر کو تیز اور مغز کو بیدار رکھنا پڑتا ہے۔”
“آپ کی ان نظری اور مغزی صلاحیتوں کے بارے میں جان کر بڑی خوشی ہوئی بیگ صاحب۔” وہ مطمئن انداز میں بولی۔ “مجھے اُمید ہے آپ کی یہی پیشہ ورانہ صلاحیتیں مجھے میرے مقصد میں کامیابی دلائیں گی۔”
​”ان شاء اللہ۔” میں نے تہہ دل سے کہا۔
اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور چند روز بعد دوبارہ ملاقات کا وعدہ کر کے رخصت ہو گئی۔ جاتے ہوئے وہ میرا وزٹنگ کارڈ بھی لے گئی تھی جس پر میرے کاروباری رابطہ نمبر درج تھے۔ اس نے ضد کر کے میرے گھر کا فون نمبر بھی کارڈ کے پیچھے لکھوا لیا تھا اور اس بات کا وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ مجھے خواہ مخواہ تنگ نہیں کرے گی۔
​ہما عرفان نے جو کیس میرے حوالے کیا تھا اس میں فی الحال عدالتی کام سے زیادہ سراغ رسانی کا کام تھا۔ مجھے اپنے ہتھکنڈے اور ذرائع استعمال کر کے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا ڈاکٹر عرفان کی ڈاکٹر ناہید کے ساتھ محض دوستی کا رشتہ تھا یا انہوں نے باقاعدہ شادی کر لی تھی۔ اس کے بعد ہی لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکتا تھا۔ یہ میرے لیے نہایت ہی آسان کام تھا لہٰذا میں نے اسے ایک دو روز بعد پڑتال دیا اور دیگر ہنگامی نوعیت کے عدالتی کاموں میں مصروف رہا۔ میں نے شاید اس معاملے کو اس لیے بھی دوسری عدالتی مصروفیات پر فوقیت نہیں دی تھی کہ اس کیس میں مجھے کسی قسم کی ایمرجنسی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
یہ تین روز بعد کی بات ہے۔ میں اپنے گھر میں سونے سے پہلے کسی ضخیم قانونی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ تیسری گھنٹی پر میں نے ریسیور اٹھا لیا۔
“ہیلو” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
دوسری جانب سے ہما کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔ “بیگ صاحب”
“ہاں بات کر رہا ہوں ۔ ” میں نے جواب دیا۔
“اینی پرابلم؟”
“آپ اس وقت کہاں ہیں؟” اس نے پوچھا۔
اس کا یہ سوال مجھے احمقانہ سا لگا۔ میں پوچھے بنا نہ سکا۔ “آپ نے میرے کس نمبر پر رنگ کیا ہے مسز عرفان؟”
“گھر کے نمبر پر” وہ بدستور گھبراہٹ آمیز لہجے میں بولی۔
“بس تو پھر آپ اطمینان رکھیں کہ میں اس وقت اپنے گھر پر ہی ہوں۔” میں نے​معتدل انداز میں کہا۔ “آواز سے اندازہ ہوتا ہے آپ کی جانب کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے؟”
“بہت بڑی گڑبڑ. بیگ صاحب!” وہ ہراساں لہجے میں بولی۔
“اوہ” میں نے گہری سانس خارج کی اور پوچھا۔ “تفصیل کیا ہے؟”
“عرفان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے.” وہ بکھری ہوئی آواز میں بولی۔
مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔
“کیا مطلب؟”
“ڈاکٹر ناہید کو کسی نے گزشتہ رات اس کے فلیٹ میں قتل کر دیا ہے۔” ہما نے بدستور پریشان لہجے میں بتایا۔
“تو کیا عرفان کو ناہید کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے؟” میں نے پوچھا۔
“جی ہاں” اس نے اثبات میں جواب دیا۔
“میں ابھی اور اسی وقت آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔”
اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے میں نے سوال کیا۔ “عرفان اس وقت کہاں ہے؟”
وہ متعلقہ تھانے کا نام بتانے کے بعد بولی۔ “مجھے یقین ہے عرفان نے ناہید کو قتل نہیں کیا۔ پولیس کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
“عرفان کو کب اور کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے؟” میں نے پوچھا۔
“آج رات آٹھ بجے۔” اس نے جواب دیا۔ “شیخ ہسپتال میں اس وقت گرفتاری عمل میں آئی ہے۔”
“کیا گرفتاری کے بعد آپ کی عرفان سے ملاقات ہوئی ہے؟”
“جی ہاں، میں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس سے مل کر آئی ہوں۔” اس نے بتایا۔ “تھانے سے نکلنے کے بعد میں سب سے پہلے آپ ہی کو فون کر رہی ہوں۔”
“عرفان اس واقعے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟” میں نے پوچھا۔
“اس نے اپنی قطعی لاعلمی ظاہر کی ہے۔”
“پولیس کا موقف کیا ہے؟”
“میں نے تھانہ انچارج سے بات کی ہے۔” اس نے بتایا۔ “اس نے کھل کر مجھ سے​کچھ نہیں کہا۔ بس اتنا بتایا ہے کہ ڈاکٹر ناہید کی لاش دریافت ہونے کے بعد جب پولیس نے اس سلسلے میں تفتیش کا آغاز کیا تو جلد ہی انہیں پتا چل گیا کہ عرفان نامی ایک ڈاکٹر اکثر و بیشتر ناہید سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا کرتا تھا۔ پولیس نے بڑی سرگرمی سے تلاش کرتے ہوئے اس بات کا سراغ لگا لیا کہ مذکورہ ڈاکٹر عرفان “شیخ ہسپتال” کا مالک ہے لہٰذا انہوں نے ہسپتال پہنچ کر عرفان کو گرفتار کر لیا”
میں نے پوچھا۔ “اس کے علاوہ تھانہ انچارج نے اور کچھ بتایا؟”
“نہیں بیگ صاحب!” وہ ٹھوس لہجے میں بولی۔
“میں نے بہت پوچھنے کی کوشش کی۔ تھانہ انچارج کا ایک ہی جواب تھا. باقی کی باتیں عدالت میں ہوں گی۔”
“ٹھیک ہے۔” میں نے ہما کی بات سننے کے بعد کہا۔
“آپ زیادہ پریشان نہ ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق پولیس کل صبح عرفان کو عدالت میں پیش کر کے اس کا ریمانڈ لینے کی کوشش کرے گی۔ آپ بھی عدالت آ جائیں۔ میں آپ کو وہیں مل جاؤں گا۔”
“کیا آپ اس وقت مجھ سے نہیں مل سکتے بیگ صاحب؟” اس کی توقع سے لبریز آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
میں نے جواب دینے سے پہلے نگاہ اٹھا کر دیوار گیر کلاک کی جانب دیکھا اور کہا۔ “مسز عرفان! اس وقت رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آدھی رات کو ہماری ملاقات بے سود ہی ثابت ہوگی۔ عرفان پولیس کی کسٹڈی میں ہے۔ وہ اسے کل صبح ہی عدالت میں پیش کرے گی۔ آپ کے پاس جو معلومات تھیں وہ آپ مجھے فراہم کر چکی ہیں”
“میں چاہتی ہوں عرفان کا کیس آپ فوراً ہاتھ میں لے لیں۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ “مجھے صد فیصد یقین ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔ عرفان کو کسی گہری سازش کے تحت پولیس اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
“اگر آپ کا کہنا یہ سب درست بھی ہے تو بھی اس وقت تھانے جانے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔” میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ “آپ اس بات کی تسلی رکھیں کہ یہ کیس میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ آپ فیس تو مجھے ایڈوانس میں ادا کر ہی چکی تھیں”
کل صبح عدالت کا وقت شروع ہونے سے پہلے میں ڈاکٹر عرفان سے وکالت نامہ وغیرہ بھی سائن کرا لوں گا۔“
​”بیگ صاحب! اگر اس وقت تھانے جانے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا تو ممکن ہے کوئی عام فائدہ ہی حاصل ہو جائے۔“ وہ ملتجیانہ انداز میں بولی۔ ”بیگ صاحب…… پلیز!“
​جب مصیبت میں گھری ہوئی خواتین اس انداز میں ”پلیز“ کہتی ہیں تو انکار کرنا میرے بس میں نہیں رہتا۔ میں نے ہما کے اطمینان کی خاطر اپنا آرام قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا اور فیصلہ کن انداز میں کہا۔
​”ٹھیک ہے مسز عرفان! میں آدھے گھنٹے کے بعد آپ کو متعلقہ تھانے کے باہر ملوں گا۔ آپ بھی وہیں پہنچ جائیں۔“
​”میں اس وقت آپ کی رہائش کے بہت قریب آپ کو فون کر رہی ہوں۔“ اس نے انکشاف انگیز لہجے میں بتایا۔ ”تھانے سے نکلنے کے بعد میں ڈرائیو کرتے ہوئے آپ کے علاقے کی طرف آ گئی تھی تاکہ آپ کو پک کر کے اپنے ساتھ لے جاؤں۔“
​”اوہ……“ میں نے ایک گہری سانس خارج کی۔
​”میں براہِ راست بھی آپ کی ڈور بیل بجا سکتی تھی۔“ وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔ ”فون اس لیے کیا کہ پتا چلا سکوں، آپ گھر میں موجود بھی ہیں یا نہیں۔“
​”مسز عرفان!“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”آپ مجھے دس سے پندرہ منٹ دے دیں، پھر میں آپ کے ساتھ تھانے جانے کے لیے تیار ملوں گا۔“
​”اوکے بیگ صاحب!“ وہ گہری سنجیدگی سے بولی۔ ”ٹھیک بیس منٹ کے بعد میں آپ کے بنگلے کے سامنے اپنی گاڑی میں آپ کی منتظر ملوں گی۔“
​”آپ نے میری رہائش گاہ دیکھ رکھی ہے؟“ میں نے حیرت بھرے لہجے میں پوچھا۔
​”لوکیشن کا اندازہ ہے۔“ وہ بڑے اعتماد سے بولی۔
​”دس پندرہ منٹ میں یقیناً ڈھونڈ لوں گی۔“
​”اوکے……“ میں نے مختصراً کہا۔
​”تھینک یو بیگ صاحب!“ اس کی ممنونیت بھری آواز سنائی دی۔
​میں نے ”خدا حافظ“ کہہ کر ریسیور کریڈل کر دیا۔
​××××
​اس رات میں نے تھانے جا کر ڈاکٹر عرفان سے ایک بھرپور ملاقات کی۔ پولیس کسٹڈی میں کسی ملزم خصوصاً قتل کے ملزم سے ملاقات کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مجھے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنا پڑتے ہیں جن کا ذکر میں پہلے کئی بار تفصیلاً کر چکا ہوں لہٰذا مختصراً یہی سمجھ لیں کہ میں نے اپنے آزمودہ طریقوں پر عمل کر کے ڈاکٹر عرفان سے ملاقات کر لی۔
​یہ ملاقات خاصی سنسنی خیز ثابت ہوئی۔ عرفان کی زبانی جو معلومات مجھے حاصل ہوئیں وہ انتہائی دلچسپ اور سبق آموز تھیں۔ ان کی تفصیل عدالتی کارروائی کے دوران میں گاہے بہ گاہے آپ کے سامنے کھلتی رہے گی…… بس اتنا بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر عرفان نے لگ بھگ چار ماہ پہلے ڈاکٹر ناہید سے شادی کر لی تھی۔
​میں نے درخواست ضمانت اور وکالت نامے پر ڈاکٹر عرفان کے دستخط لیے۔ اسے ضروری ہدایات دیں اور تھانے سے باہر نکل آیا۔
​میں چونکہ ہما کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر سے تھانے پہنچا تھا لہٰذا واپسی میں اسی نے مجھے ڈراپ بھی کرنا تھا۔ ہم تھانے سے روانہ ہوئے تو اس نے مجھ سے پوچھا۔
​”بیگ صاحب! عرفان سے آپ کی ملاقات کیسی رہی؟“
​اس کے لہجے میں گہری تشویش جھلکتی تھی۔ تھانہ انچارج نے صرف مجھے حوالات میں جا کر ڈاکٹر عرفان سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ اس دوران میں ہما برآمدے میں بچھی ایک چوبی بینچ پر بیٹھی رہی تھی لہٰذا وہ نہیں جانتی تھی کہ میرے اور عرفان کے بیچ کس نوعیت کی گفتگو ہوئی تھی۔
​میں نے کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ کے لیے دو خوشخبریاں ہیں مسز عرفان……“
​”کون سی خوشخبریاں بیگ صاحب؟“ اس نے ڈرائیونگ پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے چونک کر پوچھا۔
​”خوشخبری نمبر ایک……“ میں نے ڈرامائی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ ڈاکٹر عرفان کو جس چڑیل کے چنگل سے آزاد کرانے کی تگ و دو میں میرے پاس پہنچی تھیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ کر دوسری دنیا میں جا چکی ہے۔ میرا اشارہ ڈاکٹر ناہید کی جانب​ہے۔“
​”میں آپ کا اشارہ بہ خوبی سمجھ رہی ہوں بیگ صاحب!“ وہ سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے بولی۔ ”لیکن وہ چڑیل تو مرنے کے بعد بھی عرفان کی ذات سے لپٹی ہوئی ہے۔ عرفان کو پولیس نے اسی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔“
​”دوسری خوشخبری اسی حوالے سے ہے۔“ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”عرفان نے مجھے جو معلومات فراہم کی ہیں ان کی روشنی میں میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ عرفان بے گناہ ہے۔ اس نے ڈاکٹر ناہید کو قتل نہیں کیا۔“
​”آپ کا وثوق اس امر کا مظہر ہے کہ آپ عرفان کی باعزت رہائی کے لیے سرتوڑ کوشش کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں……؟“ وہ ٹھوس مگر سوالیہ انداز میں بولی۔
​”بالکل!“ میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”میں نے عرفان سے وکالت نامہ اور درخواستِ ضمانت سائن کروا لی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ میں اس کا کیس جی جان سے لڑوں گا۔“
​”شکریہ بیگ صاحب!“ وہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
​”اس کے ساتھ ہی ایک ایسی خبر بھی ہے جس سے آپ کو جذباتی صدمہ پہنچ سکتا ہے۔“ میں نے محتاط انداز میں کہا۔
​”کیا مطلب؟“ اس کے استفسار سے تشویش جھلکتی تھی۔
​”چار ماہ پہلے عرفان نے ناہید سے شادی کر لی تھی۔“ میں نے انکشاف انگیز انداز میں کہا۔
​”کک…… کیا……؟“ اس کے حلق سے حیرت بھری آواز خارج ہوئی۔
​”ہاں…… یہ حقیقت ہے۔“ میں نے تصدیقی انداز میں کہا۔
​عرفان اور ناہید کی شادی کی خبر سے ہما کو ذہنی دھچکا لگا تھا۔ چند لمحات کے لیے وہ سن سی ہو کر رہ گئی تھی۔ اسٹیرنگ پر ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے تھے تاہم جلد ہی وہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور اس کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ اس اطمینان کا تھا کہ اس کی حریف ڈاکٹر ناہید اب اس دنیا میں باقی نہیں رہی تھی۔ اگر وہ چار ماہ پہلے اس کی سوتن بن بھی گئی تھی تو اس کی موت نے یہ کانٹا نکال دیا تھا۔
​”کیا شادی والی بات آپ کو خود عرفان نے بتائی ہے؟“ اس نے میرے گھر کی سمت ڈرائیونگ جاری رکھتے ہوئے پوچھا۔
​”ظاہر ہے، اور مجھے کیسے پتا چل سکتا تھا۔“ میں نے سرسری انداز میں جواب دیا۔
​”لیکن تھوڑی دیر پہلے جب میں عرفان سے مل کر گئی تھی تو اس نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔“ وہ الجھن زدہ انداز میں بولی۔
​”اس کا سبب ندامت کا شدید ترین بوجھ ہو سکتا ہے۔“ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”عرفان بیک وقت ضمیر کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے اسی لیے وہ آپ کے سامنے اپنے جرم کا اقرار نہ کر سکا……“
​”دوسری شادی کی تفصیلات کیا ہیں بیگ صاحب؟“
​ذہنی پریشانی میں گھرے ہونے کے باوجود بھی وہ بیویوں والی مخصوص نفسیات سے مجبور ہو کر یہ سوال کیے بنا نہ رہ سکی۔
​میں نے کہا۔ ”مسز عرفان! آپ عرفان اور ناہید کی انڈراسٹینڈنگ سے تو اچھی طرح واقف ہی ہیں۔ بس اس بات کی آپ کو خبر نہیں تھی کہ ان لوگوں نے باقاعدہ شادی کر لی ہے یا ماضی کی دوستی کو بغیر نکاح ہی کے نبھائے چلے جا رہے ہیں۔“
​”جی ہاں، صورتِ حال میرے نزدیک تو کچھ اسی قسم کی تھی۔“ وہ تائیدی انداز میں بولی۔ ”یہ انکشاف تو آپ کی زبانی مجھ تک پہنچا ہے کہ وہ پچھلے چار ماہ سے میاں بیوی کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔“
​”عرفان کی زبانی جو حالات میرے علم میں آئے ہیں ان کے مطابق ڈاکٹر ناہید نے پوری طرح عرفان کے دل و دماغ کو اپنے قبضے میں کر رکھا تھا۔ عرفان اس کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا تھا۔ ان دنوں ناہید جس فلیٹ میں رہ رہی تھی وہ بھی ڈاکٹر عرفان ہی نے اسے اس کے نام سے لے کر دیا تھا……“
​”اوہ مائی گاڈ……!“ اس کی سرسراتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ ”معاملات اس نہج تک جا پہنچے تھے اور مجھے کوئی خبر ہی نہیں تھی……؟“
​”اس کا بھی ایک خاص سبب ہے؟“ میں نے کہا۔
​”ابتدا میں آپ نے عرفان پر اندھا اعتماد کیا تھا۔ آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ ​سکتا تھا کہ عرفان آپ سے اس نوعیت کی بے وفائی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔“
​”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بیگ صاحب۔“ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ ”میرا تو کبھی اس طرف دھیان بھی نہیں گیا تھا……“
​”اور جب ان معاملات کی طرف دھیان گیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔“ میں نے ایک بوجھل سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ ”جب تک ڈاکٹر ناہید کا جادو ڈاکٹر عرفان کو اپنے شکنجے میں پوری طرح کس چکا تھا۔“
​”ہوں……“ اس نے گمبھیر انداز میں کہا۔
​”آپ نے اپنے جاسوس طفیل کی مدد سے عرفان کی چوری پکڑی۔“ میں نے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”عرفان بوکھلا کر رہ گیا۔ فوری طور پر اس کی سمجھ میں یہی آیا کہ وہ اپنے جرم کا اقرار کر کے آپ کا ہر مطالبہ مان لے۔“
​”ہاں واقعی بیگ صاحب……“ وہ چونکتے ہوئے ہوئے انداز میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بولی۔ ”اس نے نہ صرف شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے اپنے کیے کی معافی مانگی تھی بلکہ میری خواہش پر فوراً ناہید کو اپنے ہسپتال سے نکال بھی دیا تھا لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ……“
​وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔
​میں نے کہا۔ ”جو کچھ ہو چکا وہ آپ کے سامنے ہے۔ آپ کو اس موقع پر عقل مندی اور بردباری کا ثبوت دینا ہے۔“
​”مثلاً……؟“ وہ میرے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
​”مثلاً یہ کہ عرفان اس وقت بری طرح ٹوٹا ہوا ہے۔“ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”اس کو آپ کی جانب سے مورل سپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔ آپ اس موقع پر اس کی غلطیاں اور کوتاہیاں گنوانے نہیں بیٹھ جائیں گی۔ ایک تو اس کی بیوی قتل ہوئی۔ دوسرے اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں اس کو دھر لیا گیا ہے۔“
​”ٹھیک ہے بیگ صاحب!“ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی۔ ”میں آپ کی ہدایت پر ضرور عمل کروں گی۔ میرے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ناہید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے راستے سے ہٹ گئی ہے۔ میں عرفان کی واپسی سے بہت خوش ہوں، لیکن وہ بیٹھے بٹھائے جس چکر میں پھنس گیا ہے نا……“
​”آپ اس چکر کی ذرا پروا نہ کریں مسز عرفان!“ میں نے حوصلہ بخش انداز میں کہا۔ ”آپ کے شوہر کو اس چکر سے نکالنے کے لیے میں اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں صرف کر دوں گا۔“
​”اللہ آپ کی زبان مبارک کرے بیگ صاحب!“
​وہ دعائیہ انداز میں بولی اور میرے گھر کے سامنے گاڑی روک دی۔
​”ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔“ میں نے بڑے وثوق سے کہا پھر پوچھا۔ ”آپ کو اس وقت گھر جاتے ہوئے کوئی پرابلم تو نہیں ہوگی؟“
​”اگر آپ کہیں تو میں چھوڑ دیتا ہوں……؟“
​”اس کی ضرورت نہیں ہے میں بڑے آرام سے چلی جاؤں گی۔“ اس نے پر اعتماد انداز میں کہا۔ ”میں پہلے ہی آپ کو بہت زحمت دے چکی ہوں۔“
​میں نے اس سے زیادہ بحث مناسب نہیں جانی اور ”خدا حافظ“ کہہ کر اپنے گھر میں داخل ہو گیا۔
××××
آئندہ روز پولیس نے میرے موکل اور اس کیس کے ملزم ڈاکٹر عرفان کو عدالت میں پیش کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست کی۔
میں نے اس موقع پر اپنے وکالت نامے کے علاوہ ملزم کی درخواستِ ضمانت بھی عدالت میں دائر کر دی۔ وکیلِ استغاثہ نے ملزم کی ضمانت رکوانے کے لیے بڑے بھرپور دلائل دیے۔ میرے دلائل بھی خاصے وزنی تھے۔ جج نے بڑی توجہ سے دونوں جانب کی باتیں سنیں اور ایک گھنٹے کی سماعت کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت کو رد کرتے ہوئے ڈاکٹر عرفان کو سات دن کے ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں دے دیا۔
جج کا فیصلہ میرے لیے حیرت کا موجب نہیں تھا، قتل کے ملزم کی ضمانت ناممکن حد تک مشکل ہوتی ہے۔ استغاثہ کی جانب سے چند ایسے پوائنٹ عدالت کے سامنے رکھ دیے گئے تھے جن کو نظر انداز کرتے ہوئے عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کر سکتی تھی۔
میں بخوبی جانتا تھا کہ ان اہم ”پوائنٹس“ کا توڑ کس طرح کرنا ہے، لیکن سردست اس بحث کو چھیڑنا ممکن نہیں تھا۔ جب عدالت کی باقاعدہ کارروائی شروع ہو جاتی تو مناسب مواقع ​پر ان معاملات کو اجاگر کیا جا سکتا تھا۔
ہما خاصی پریشان نظر آ رہی تھی۔ میں نے کہا۔ ”مسز عرفان! آپ ابتدائی مرحلے پر ہی اتنی مایوس ہو گئی ہیں تو آگے چل کر کیا ہو گا؟“
”میں مایوس نہیں ہوں بیگ صاحب!“ وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ ”بس یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں یک بیک اکیلی ہو گئی ہوں۔“
”ایسا ہوتا ہے۔“ میں نے تسلی بھرے لہجے میں کہا۔ ”لگتا ہے عدالتی معاملات سے آپ کا پہلی مرتبہ واسطہ پڑا ہے؟“
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، باقاعدہ واسطہ پہلی مرتبہ ہی پڑا ہے۔“ وہ تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔ ”ابو کو پراپرٹی کے معاملات کی غرض سے اکثر عدالت وغیرہ میں آنا جانا پڑتا تھا، لیکن انہوں نے کبھی مجھے ان چکروں میں نہیں الجھنے دیا تھا“
”تو پھر آپ مجھ پر مکمل بھروسا رکھیں،“ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ”میں آپ کو کسی الجھن میں نہیں پڑنے دوں گا اور عرفان کو اس کیس سے اس طرح نکال لوں گا جیسے مکھن میں سے بال کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے“
”آپ پر تو پورا بھروسا ہے بیگ صاحب۔“ اس نے کہا۔
”بس تو مطمئن ہو جائیں۔“ میں نے کہا۔ ”عدالتی معاملات کو مکمل طور پر مجھ پر چھوڑ دیں، آپ اپنے بچوں پر توجہ دیں۔“
”یہ آپ نے خوب کہا۔“ وہ چونکے ہوئے لہجے میں بولی۔ ”میں کل سے انہیں نظر انداز کیے ہوئے ہوں۔“
”یہ افتاد ہی ایسی تھی۔ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں میں نے کہا۔ ”ہسپتال کے معاملات کو کون دیکھ رہا ہے؟“
”ایڈمنسٹریٹر صاحب نے سب کچھ سنبھال رکھا ہے۔“ وہ پر اعتماد انداز میں بولی۔ ”ہسپتال کا ایک سسٹم بنا ہوا ہے۔ اس طرف سے مجھے کوئی فکر نہیں۔“
”یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہمارے بیچ ڈاکٹر عرفان کے کیس کے حوالے سے مزید پانچ چھ منٹ تک بات ہوتی رہی، پھر میں اس سے رخصت ہو کر دوسری عدالت کی جانب بڑھ گیا۔
​ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد پولیس نے عدالت میں چالان پیش کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو سخت ترین سزا دلوانے کے لیے خاصا مضبوط چالان تیار کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن میں جانتا تھا کہ چالان کی اس بظاہر مضبوط نظر آنے والی دیوار میں کس کس مقام پر شگاف موجود ہیں۔ مجھے انہی شگاف کو اپنے دلائل سے وسعت دے کر اتنا بڑا کرنا تھا کہ اس راستے سے بہ آسانی اپنے موکل کو نکال لانے میں کامیاب رہوں اور مجھے سو فیصد یقین تھا کہ میں ایسا کر کے دکھاؤں گا۔
اس پیشی اور آنے والی مزید دو پیشیوں پر کوئی قابلِ ذکر کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ یہ تینوں پیشیاں مختلف نوعیت کی عدالتی تکنیکی کارروائیوں کی نذر ہو گئیں، جن کی تفصیل میں جانا آپ کو بور کرنے کے مترادف ہو گا۔ یوں سمجھ لیں کہ لگ بھگ چار ماہ کے بعد اس کیس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔ آگے بڑھنے سے قبل میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کا ذکر ضرور کروں گا۔
اس رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ناہید کی موت اٹھائیس مارچ کی رات گیارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ اسے گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ اسے موت کے منہ میں دھکیلنے سے قبل جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کا سب سے انکشاف انگیز پہلو یہ بھی تھا کہ اپنی موت کے وقت ڈاکٹر ناہید اُمید سے تھی۔ علاوہ ازیں اس رپورٹ کے ساتھ منسلک کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ سے پتا چلا تھا کہ مقتول ڈاکٹر کے معدے سے خواب آور دوا کے آثار بھی ملے تھے۔ گویا پہلے مقتول کو کوئی نشہ آور شے کھلا کر بے ہوش یا نیم بے ہوش کیا گیا تھا، پھر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور آخر میں اس کا گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد گواہوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ استغاثہ کی جانب سے کل آٹھ گواہوں کی فہرست دائر کی گئی تھی، لیکن میں یہاں پر نہایت ہی اہم گواہوں اور ان پر ہونے والی جرح کا ذکر کروں گا۔
جیسا کہ میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ مقتول ڈاکٹر ناہید شیخ ہسپتال سے بے دخل کیے جانے کے بعد نیا چورنگی پر واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال سے منسلک ہو گئی تھی اور اس نے پاپوش نگر والی رہائش بھی چھوڑ دی تھی۔ اپنی موت کے وقت وہ گلشنِ اقبال میں واقع ایک لگژری اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہائش پذیر تھی۔
​عام گواہوں میں سب سے پہلے اپارٹمنٹ بلڈنگ کے چوکیدار زمان خان کو پیش کیا گیا۔ زمان خان کی عمر تیس اور چالیس سال کے درمیان رہی ہوگی۔ اس نے سچ بولنے کا حلف اٹھایا پھر وکیل استغاثہ اس کے قریب چلا گیا۔ اس نے اپنی جرح کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
​”زمان خان! کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟“ سوال کے اختتام پر اس نے ڈاکٹر عرفان کی جانب اشارہ کر دیا۔
​”جی بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔“ گواہ نے جواب دیا۔
​”اس ’اچھی طرح‘ کی وضاحت کرو۔“ وکیلِ استغاثہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
​گواہ نے تھوک نگل کر گلا تر کیا پھر وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ جناب! میں ڈائمنڈ اپارٹمنٹس کا چوکیدار ہوں لہٰذا مکینوں کے ساتھ ہی میں ان سے ملنے کے لیے آنے والے افراد پر بھی گہری نظر رکھتا ہوں۔“
​”تو تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملزم اکثر و بیشتر مقتول سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا کرتا تھا؟“
​”جی…… جی ہاں……“ گواہ نے اثبات میں گردن ہلائی۔ وکیلِ استغاثہ نے دو چار ضمنی سوالات کے بعد جرح موقوف کر دی۔
​اپنی باری پر میں وٹنس باکس کے قریب چلا گیا پھر استغاثہ کے گواہ زمان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
​”خان صاحب! کیا آپ کو معلوم ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے؟“
​وہ میرے اس عجیب و غریب سوال پر شپٹا کر رہ گیا پھر اضطراری انداز میں جواب دیا۔ ”ظاہر ہے…… قبر میں جاتا ہے۔“
​”ویری گڈ!“ میں نے تعریفی نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ ”آپ کا جواب صد فیصد درست ہے خان صاحب۔“
​وہ میرے الفاظ پر الجھن زدہ نظر سے مجھے تکنے لگا۔ میں نے اپنی جرح کو آگے​بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”اور یقیناً آپ کو یہ بھی پتا ہوگا کہ ہر انسان کو اپنی ہی قبر میں جانا ہے؟“
​”جی…… جی ہاں……“ اس نے جواب دیا۔
​”تو پھر آپ کسی اور کی قبر میں گھسنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
​”کک کیا مطلب جناب……؟“ وہ بکھری ہوئی آواز میں بولا۔
​”آبجیکشن یور آنر۔“ وکیلِ استغاثہ نے احتجاجی انداز میں کہا۔ ”میرے فاضل دوست بے تکے سوالات سے استغاثہ کے معزز گواہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
​جج نے گہری سنجیدگی سے استغاثہ کیا۔ ”بیگ صاحب! آپ کے اس سوال کی کوئی اہمیت ہے؟“
​”یس سر!“ میں نے سر کو تعظیمی انداز میں جنبش دیتے ہوئے کہا۔ ”اگر وکیلِ استغاثہ چند لمحات کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں تو میں اس اہمیت کی وضاحت کر دوں گا۔“
​”بیگ صاحب! پلیز پروسیڈ۔“ جج نے مجھے جرح جاری رکھنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
​”نن……نہیں۔“ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔
​”بالکل نہیں۔“
​”پھر آپ اسے اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟“
​”جی……“ اس کی الجھن میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا۔
​”میں نے تو ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔“
​”آپ نے وکیلِ استغاثہ کے ایک سوال کے جواب میں تھوڑی دیر پہلے معزز عدالت کو بتایا ہے کہ آپ ڈائمنڈ اپارٹمنٹس کے مکینوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے ملاقاتیوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں……“
​”تو……؟“ اس نے سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھا-
​”تو…… یہ کہ آپ نے اس سلسلے میں کھلا جھوٹ بولا ہے۔“ میں نے رفتہ رفتہ اسے اپنے دام میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ”نہ تو آپ مقتول ڈاکٹر ناہید کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہ ہی اس کے ملاقاتیوں پر آپ کی گہری نظر تھی……“ ایک لمحے کا توقف کر کے میں نے گہری سانس لی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
”اگر تم نے اپنے بیان کے مطابق اس ذمے داری کا ثبوت دیا ہوتا تو پھر یہ اندوہناک واقعہ پیش ہی نہ آتا“
”میں سمجھا نہیں جناب۔“ وہ بے بسی سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا۔ ”میں نے تو کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں“
”یہ کس قسم کی باتیں ہیں۔ میں ابھی بتاتا ہوں۔“ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا پھر گواہ سے پوچھا۔ ”تم مقتول کے بارے میں کیا جانتے ہو؟“
”وہ ایک ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر تھیں۔“ اس نے بتایا۔ ”اور نیپا چورنگی کے قریب ایک ہسپتال میں ان کی ڈیوٹی تھی۔“
”اور ملزم کے بارے میں تمہاری کیا معلومات ہیں؟“
”یہ اکثر ڈاکٹر صاحبہ سے ملنے آتا تھا۔“ میں نے جواب دیا۔ ”اور کئی گھنٹے اس کے فلیٹ پر گزار کر جاتا تھا۔“
”اس کے علاوہ تم ملزم کے بارے میں کیا جانتے ہو؟“
”کچھ نہیں۔“ اس نے نفی میں گردن ہلا دی۔
”تمہارا بیان ہے کہ ملزم اکثر مقتول سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا کرتا تھا اور کئی گھنٹے وہاں گزار کر واپس جاتا تھا۔“
میں نے جرح کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے کہا۔ ”کیا تم بتا سکتے ہو کہ ملزم کس حیثیت سے مقتول ڈاکٹر سے ملنے آیا کرتا تھا؟“
”حیثیت یہ میں کیسے بتا سکتا ہوں جناب۔“
”تم ایسے بتا سکتے ہو“ میں نے اس کے چہرے پر نگاہ جماتے ہوئے کہا۔ ”کہ تھوڑی دیر پہلے تم نے معزز عدالت کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ تم اس بلڈنگ کے مکینوں کو اچھی طرح جانتے ہو اور ان کے ملاقاتیوں پر گہری نظر رکھتے ہو۔“
میں ایک مخصوص انداز میں اسے اپنے گھیرے میں لا رہا تھا۔ اس نے ایک ایسا سوال کیا کہ پوری طرح میرے چنگل میں پھنس گیا۔ ”جناب! میں بلڈنگ میں آنے والے ملاقاتیوں کا شناختی کارڈ چیک نہیں کرتا اور نہ ہی ان سے اس سلسلے میں پوچھ گچھ کرتا ہوں کہ ان کا مکین کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔“
”تو گویا یہ تم معزز عدالت کو یہ بتانا چاہتے ہو کہ تمہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ مقتول ڈاکٹر اور ملزم کے بیچ تعلقات کی نوعیت کیا تھی. مطلب ان کے بیچ کیا رشتہ تھا؟“
”جناب عالی! مجھے سخت اعتراض ہے۔“ وکیل استغاثہ ایک بار پھر بیچ میں کود پڑا۔ ”استغاثہ کی تفصیلی رپورٹ اور پولیس کے پیش کردہ چالان میں یہ ساری باتیں درج ہیں۔ مقتول کسی زمانے میں ملزم کے ہسپتال میں جاب کرتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان گہری وابستگی پیدا ہو گئی تھی۔ ملزم کی بیوی کے دباؤ پر ملزم نے مقتول کو اپنے ہسپتال سے فارغ کر دیا تھا تاہم وہ تعلقات نبھانے اس کے گلشن اقبال والے فلیٹ پر بھی آتا رہا۔ ملزم کی بیوی نے اپنے بیان میں ان تمام باتوں کی تائید اور تصدیق کی ہے۔“ وہ لمحے بھر کے لیے سانس ہموار کرنے کو رکا پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
”ظاہر ہے ملزم اپنے دیرینہ تعلقات نبھانے کے لیے مقتول کے فلیٹ پر آیا تھا۔ ان تعلقات کی نوعیت بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عیاں ہے۔ ان کے جسمانی تعلقات نے جو گل کھلایا تھا وہ اس رپورٹ میں درج ہے۔ ظاہر ہے اس کے بعد مقتول نے شادی کے لیے ضد کی ہو گی اور ڈاکٹر اس کے لیے تیار نہیں ہوا ہو گا لہٰذا وہی ہوا جو اس طرح کے کاموں میں ہوا کرتا ہے۔“
”گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ“ میں نے براہ راست وکیل استغاثہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
”ملزم نے مقتول سے جان چھڑانے اور اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے پہلے خواب آور گولیاں کھلا کر مقتول کو بے ہوش کیا پھر اسے جنسی تشدد سے گزارنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا؟“
”جی ہاں. کرائم سین اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔“
”اوکے۔“ میں نے معتدل انداز میں پوچھا۔
”آپ کے اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت ہے؟“
”پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ ساری باتیں لکھی ہوئی ہیں۔“ وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولا۔ ”اور کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ بھی یہی کہانی سنا رہی ہے۔“
”یہ سب میں بھی جانتا ہوں۔“ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ”میں نے آپ سے اس امر کا ثبوت مانگا ہے جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ یہ سب کچھ میرے مؤکل اور اس کیس کے ملزم نے کیا ہے۔“
وہ چند لمحات تک ٹپلوٹی ہوئی نظر سے مجھے دیکھتا رہا پھر طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”تو کیا آپ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت ہے جس سے ثابت ہو جائے کہ یہ سب ملزم نے نہیں کیا اور وہ بے گناہ ہے؟“
”جی ہاں. میرے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہے۔“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
عدالت میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ جج نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”بیگ صاحب! آپ وہ ثبوت پیش کریں جو آپ کے مؤکل کے بے گناہ ہی کو ثابت کرتا ہے۔“
”جناب عالی!“ میں نے مؤدبانہ انداز میں کہا۔
”میں نے ٹھوس ثبوت عدالت کی خدمت میں ضرور پیش کروں گا، لیکن اس سے پہلے چند بنیادی باتیں واضح ہو جانا ضروری ہیں اور اس سلسلے میں سب سے پہلے استغاثہ کے گواہ زمان خان پر اپنی جرح مکمل کرنا چاہتا ہوں۔“
جج نے اثبات میں گردن ہلا کر مجھے اجازت دے دی۔ میں دوبارہ گواہ کی جانب متوجہ ہو گیا اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”زمان خان! کیا تم معزز عدالت کو بتا سکتے ہو کہ ملزم کے علاوہ مقتول ڈاکٹر کے ملاقاتیوں میں اور کون کون شامل تھا؟“
”آں کوئی نہیں۔“ اس نے ذرا اٹک کر جواب دیا۔
”کمال ہے“ میں نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا اور کہا۔ ”تمہارا مطلب ہے کہ صرف ملزم ہی مقتول سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا کرتا تھا؟“
”جی. میرا یہی مطلب ہے۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
”اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم گڑبڑ کر رہے ہو۔“ میں نے معنی خیز انداز میں کہا۔
”کیسی گڑبڑ جناب؟“ وہ جزبز ہو کر بولا۔
”یا تو تم سراسر جھوٹ بول رہے ہو یا پھر اپنی ڈیوٹی سے غفلت کے مرتکب ہو رہےہو۔“
”کیا مطلب جناب؟“ وہ روہانسی آواز میں بولا۔
”آپ مجھ پر ہی الزام لگائے جا رہے ہیں۔“
”میں الزام نہیں لگا رہا بلکہ حقیقت بیان کر رہا ہوں-“ میں نے کہا۔
”آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا گواہ زمان خان غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔“ وکیل استغاثہ اپنے گواہ کی حمایت میں بولا۔ ”آپ کے مطابق ملزم کے علاوہ کوئی اور بھی مقتول سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا کرتا تھا اور زمان خان کی اس پر نظر نہیں پڑی؟“
”تھینک یو میرے فاضل دوست میں نے وکیل استغاثہ کی جانب فاتحانہ نظر سے دیکھا۔ ”آپ نے تو میرے منہ کی الفاظ چھین کر میرا کام آسان کر دیا ہے. بس میں یہی کہنا چاہ رہا تھا۔“
وہ سپٹا کر رہ گیا۔ میری اس کاری ضرب نے اسے کافی تکلیف پہنچائی تھی۔ پچنکار سے مشابہ لہجے میں اس نے کہا۔
”تو پھر آپ ہی بتا دیں کہ وہ کون شخص ہے؟“
میں خاموشی سے اپنی فائلوں کی جانب بڑھ گیا۔ پھر ایک فائل میں سے پوسٹ کارڈ سائز کی ایک تصویر نکال کر دوبارہ وٹنس باکس کی طرف چلا گیا۔ یہ تصویر میں نے پاپوش نگر والے اہم سراغ میں حاصل کی تھی۔ اس سلسلے میں ملزم کی بیوی ہمانے مجھ سے بھرپور تعاون کیا تھا۔ میں نے اس کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں دو چکر پاپوش نگر کے لگائے تھے جن سے کافی کارآمد معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ یہ تصویر بھی انہی میں سے ایک تھی۔
میں نے مذکورہ فوٹو استغاثہ کے گواہ زمان خان کو دکھاتے ہوئے پوچھا۔ ”کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟“
چند لمحے غور کرنے کے بعد اس نے کہا۔ ”چہرہ کچھ دیکھا بھالا تو لگ رہا ہے لیکن مجھے یاد نہیں آ رہا کہ میں نے اسے کہاں دیکھا ہے.“
”میں یاد دلاتا ہوں۔“ میں نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ”اس شخص کا نام صفدر عباسی ہے۔ یہ پاپوش نگر کا رہنے والا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وقوعہ کی رات یہ شخص مقتول ڈاکٹر ہما سے ملنے اس کے فلیٹ پر آیا تھا۔“
”ہو سکتا ہے آیا ہو مگر میرے ذہن میں نہیں ہے۔“ گواہ نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
میں نے مذکورہ فوٹو جج کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
”جناب عالی! اگرچہ استغاثہ کے گواہ نے اس شخص صفدر عباسی کو وثوق سے نہیں پہچانا لیکن اس نے اس خیال کا اظہار ضرور کیا ہے کہ یہ چہرہ اس کا دیکھا ہوا ہے لہٰذا میں معزز عدالت سے استدعا کروں گا کہ اس شخص کو شامل تفتیش کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس شخص کی گرفتاری کیس کو نیا رخ دے گی۔“
اس کے ساتھ ہی عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ جج نے پندرہ دن بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
××××
اگلی پیشی پر استغاثہ کی جانب سے تین گواہ عدالت میں پیش کیے گئے لیکن ان کے بیانات اور ان کے بیانات اور ان پر ہونے والی جرح میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔آئندہ پیشی پر میں نے جج سے درخواست کر کے اس میں کیس کے انکوائری آفیسر کو کٹہرے میں بلا لیا۔
انکوائری آفیسر رینک کے اعتبار سے ایک سب انسپکٹر تھا۔
”آئی او صاحب! آپ نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ تو بڑی توجہ سے پڑھی ہو گی؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔“ وہ گہری نظر سے مجھے گھورتے ہوئے بولا۔ ”پوسٹ مارٹم رپورٹ اور کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کسی بھی کیس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہوتی ہیں۔ انہیں بھلا کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟“
”بجا فرمایا آپ نے۔“ میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی اور کہا۔ ”پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول ڈاکٹر ناہید کی موت اٹھائیس مارچ کی شب گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ ایم آئی رائٹ؟“
”جی بالکل۔“ اس نے اثبات میں جواب دیا۔
”لیکن میرے مؤکل اور اس کیس کے ملزم کا دعویٰ ہے کہ وہ وقوعہ کی رات گیارہ بجے سے پہلے ہی مقتول کے فلیٹ سے رخصت ہو گیا تھا۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟“
”ملزم غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ اس نے مختصر سا جواب دیا۔
”پوسٹ مارٹم رپورٹ یقیناً غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتی۔“ میں نے سرسری انداز میں کہا پھر اپنی بات کو ان الفاظ میں آگے بڑھا دیا۔ ”اس رپورٹ کے مطابق مقتول کو گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ کیا آپ کا بھی یہی خیال ہے؟“
”جی بالکل لیکن آپ کچھ بھول رہے ہیں؟“ میں طنزیہ انداز میں بولا۔
”کیا میں کیا بھول رہا ہوں؟“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
”گلا گھونٹنے سے پہلے مقتول کو خواب آور دوا کھللا کر بے ہوش کیا گیا تھا اور اسے موت کے منہ میں دھکیلنے سے قبل ملزم نے اس کے ساتھ زیادتی بھی کی تھی۔ یہ تمام باتیں رپورٹ سے ثابت ہیں۔“
”اوہ واقعی میں تو یہ اہم پوائنٹ بھول ہی گیا تھا۔“
میں نے شرمندہ ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔ ”تو ٹھیک ہے۔ پہلے ہم انہی پوائنٹ کو ڈسکس کر لیتے ہیں“
میں نے لمحاتی توقف کر کے ایک گہری سانس لی پھر اپنی جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”اس بات میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ مقتول کو خواب آور دوا کھلا کر ہوش وحواس سے بے گانہ کیا گیا تھا تاکہ قاتل اپنی ہوس کی تکمیل کر سکے۔ کیا آپ نے وقوعہ پر چائے، کافی یا شربت وغیرہ کے ایسے برتن دیکھے یا دیکھا جس میں خواب آور دوا مقتول کو دی گئی تھی؟“
”ہم نے وقوعہ پر موجود کچن کے تمام برتنوں کو چیک کیا تھا لیکن کسی کپ یا گلاس میں اس قسم کی دوا کے آثار نہیں ملے۔“ وہ خاصے مضبوط لہجے میں بولا۔ ”عیار قاتل نے وقوعہ سے رخصت ہونے سے پہلے ایسے تمام ثبوت مٹا دیے تھے۔“
”عیار قاتلوں سے ایسی توقعات رکھی جا سکتی ہیں۔“ میں نے آئی او کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا پھر پوچھا۔
”مقتول کو گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا- کیا آپ نے مقتول کی گردن پر سے قاتل کے فنگر پرنٹس اٹھانے کی کوشش کی تھی؟“
”جی کوشش کی تھی“ وہ بڑی رسان سے بولا۔
”لیکن ایسی کوئی رپورٹ استغاثہ میں کہیں نظر نہیں آ رہی؟“ میں نے چھپتے ہوئے انداز میں کہا۔ ”کہیں عیار قاتل نے استغاثہ کی فائلوں میں سے مذکورہ رپورٹ بھی تو نہیں چرالی؟“
”ایسی کوئی بات نہیں۔“ وہ میری چوٹ پر تلملاتے ہوئے بولا۔
”پھر کیسی بات ہے؟“ میں نے بے ساختہ پوچھا۔
”وہ دراصل بات یہ ہے کہ مقتول کی گردن پر کسی قسم کے فنگر پرنٹس نہیں پائے گئے تھے۔“ وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔ ”لگتا ہے قاتل نے مقتول کی گردن پر کوئی کپڑا وغیرہ رکھ کر اس کا گلا دبایا تھا البتہ“ وہ ڈرامائی انداز میں رکا پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔
”مقتول کے فلیٹ میں متعدد مقامات پر ملزم کی انگلیوں کے نشانات پائے گئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس سے ملنے اس فلیٹ پر جایا کرتا تھا۔“
”ملزم اس بات سے انکاری نہیں ہے کہ مقتول کے فلیٹ پر جایا کرتا تھا۔“ میں نے ٹھوس انداز میں کہا۔
”مگر آپ کے بیان کردہ فلسفے سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ملزم ہی نے مقتول کی جان لی ہے۔“
”تو پھر یہ وہاں جاتا ہی کیوں تھا؟“ وہ سرسراتی ہوئی آواز میں بولا۔ ”پوسٹ مارٹم رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مقتول کو موت کے گھاٹ اتارنے سے پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور. اور یہ کہ اپنی موت کے وقت وہ اُمید سے تھی۔“
”اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ مقتول کی موت سے قبل اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور یہ کہ وہ اُمید سے بھی تھی۔“ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”لیکن اس کے قتل کا الزام میرے مؤکل کے سرلگانا درست نہیں ہے اور اب آپ کے سب سے اہم سوال کا جواب“
میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ ایسی نظر سے مجھے تکنے لگا جیسے میں نے کوئی عجیب بات کر دی ہو۔ بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا۔
”میرا کون سا اہم سوال؟“
”تو پھر یہ وہاں جاتا ہی کیوں تھا؟“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”بتاؤں. میرا مؤکل مقتول کے فلیٹ پر کیوں جاتا تھا؟“
”جی بتائیں“ وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ تکنے لگا۔
جج بھی گہری سنجیدگی سے مجھے دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی اہم انکشاف کرنے والا ہوں۔ میں نے نہایت ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
”میرا مؤکل مقتول ڈاکٹر ناہید سے ملنے اس لیے جاتا تھا کہ یہ اس کا شوہر تھا.ایک شوہر کو اپنی بیوی سے ملنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔“
”کک. کیا؟“ وکیل استغاثہ بھونچکا رہ گیا۔ حاضرین عدالت پر بھی سکتہ طاری ہو گیا۔
”بیگ صاحب!“ جج نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“
”میں حقیقت بیان کر رہا ہوں جناب عالی!“ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ملزم ڈاکٹر عرفان نے پچھلے سال نومبر میں مقتول ڈاکٹر ناہید سے کورٹ میرج کرلی تھی۔ یہ چونکہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور اپنی دوسری شادی کو پہلی بیوی سے چھپا کر رکھنا چاہتا تھا اس لیے اس نے دوسری شادی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔“
”کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ ملزم نے چار ماہ پہلے مقتول سے کورٹ میرج کرلی تھی؟“ جج نے گہری سنجیدگی سے سوال کیا۔
”لیس سر. میں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
پھر تمام اہم دستاویزات اپنی فائل سے نکال کر جج کے سامنے میز پر رکھ دیے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ چار ماہ پہلے ڈاکٹر عرفان اور ڈاکٹر ناہید نے باقاعدہ کورٹ میرج کی تھی۔“
جج نے مذکورہ کاغذات کا مطالعہ کرنے کے بعد اثبات میں گردن ہلا دی تو میں دوبارہ آئی او کی جانب متوجہ ہو گیا۔
”آئی او صاحب! آپ کیا کہتے ہیں بیچ اس مسئلے کے۔ کیا کوئی شوہر اپنی بیوی کو اس انداز میں قتل کر سکتا ہے جبکہ چار ماہ پہلے انہوں نے لو میرج کی ہو اور بیوی امید سے بھی ہو.؟“
انکوائری آفیسر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وکیل استغاثہ کی حیرت سے معمور آواز عدالت کے کمرے میں ابھری۔
”اگر ڈاکٹر عرفان نے ڈاکٹر ناہید کو قتل نہیں کیا تو پھر اس کا قاتل کون ہے؟“
”سبحان اللہ!“ میں نے وکیل مخالف کی لوز بال پر باؤنڈری مارتے ہوئے کہا۔ ”استغاثہ کے ٹھیکے دار آپ ہی اور سوال مجھ سے کر رہے ہیں کہ مقتول کو کس نے قتل کر دیا. میں نے گزشتہ پیشی پر آپ کی مدد کرنے کی ایک کوشش کی تھی، لیکن شاید آپ نے میرے خلوص کی قدر نہیں کی-“
”کیسی مدد؟“ وہ بے ساختہ بولا۔
”صفدر عباسی کا فوٹو“ میں نے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا۔
اس کے ساتھ ہی عدالت کا مقرر وقت ختم ہو گیا۔ عدالت نے ایک ہفتہ بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔
”دی کورٹ از ایڈ جارنڈ“
××××
آئندہ پیشی پر جج نے میرے مؤکل اور اس کیس کے ملزم ڈاکٹر عرفان کو باعزت بری کر دیا میرے چھوڑتے ہوئے خطرناک فوٹو کی انگلی پکڑ کر پولیس نے اگلے روز ہی صفدر عباسی نامی اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔ وہ زیادہ دیر تک پولیس کی تفتیشی کا سامنا نہ کر سکا اور اس نے ڈاکٹر ناہید کے قتل کا اقبال کر لیا۔ واقعات کے مطابق۔
کسی زمانے میں ڈاکٹر ناہید پاپوش نگر میں رہا کرتی تھی۔ اسی زمانے میں اس کا صفدر عباسی سے تعلق استوار ہو گیا تھا، لیکن بعد میں ناہید نے پٹری بدل کر ڈاکٹر عرفان کو اپنا منظور نظر بنا لیا تو یہ بات صفدر عباسی کو بہت بری لگی۔
جب ناہید کو شیخ ہسپتال سے برخاست کیا گیا تو صفدر عباسی نے دوبارہ ناہید کے ساتھ ربط ضبط پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن ناہید نے اسے کوئی لفٹ نہ کرائی۔ اس کے نتیجے میں صفدر اسے بلیک میل کرنے لگا۔ وقوعہ کے روز وہ بلیک میلنگ کا مواد ناہید کے حوالے کر کے اس سے بھاری رقم وصول کرنے آیا تھا اور یہ اس کی چال تھی۔ اس کے ذہن کے اندر جو منصوبہ تھا اس نے اس کے مطابق عمل کیا اور چپ چاپ اس کے فلیٹ سے نکل گیا۔
مسز عرفان اپنے شوہر کی باعزت رہائی پر بہت خوش تھی۔ جب ہم عدالت کے کمرے سے باہر آئے تو اس نے فرط جذبات میں کہا۔
”بیگ صاحب! کوئی چاہے کتنا بھی بڑا بازیگر کیوں نہ ہو۔ اسے بھی مات ہو سکتی ہے۔“
”اس میں تو کسی شک وشبہے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔“ میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ ”اللہ نے ہر سیر کے لیے سوا سیر پیدا کر رکھا ہے اس لیے ہر انسان کو اپنی کھال میں رہنا چاہیے۔“ وہ زیر لب مسکرانے لگی۔
ختم شدہ