”لیکن لگتا ہے تمہاری یادداشت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ تمہیں ایک رات کے لئے اپنا مہمان بنانا پڑے گا۔ ہماری خاطر تواضع سے تو انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، اس کے بعد پندرہواں طبق خود بخود روشن ہو جاتا ہے اور مہمان کسی ٹیپ ریکارڈ کی مانند بولنے لگتا ہے۔”
میرے الفاظ کی سنگینی کو محسوس کر کے وہ سراسیمہ ہو گیا۔ پھر سرسراتی ہوئی آواز میں پوچھ بیٹھا۔ “کیا یہ چوری والی بات آپ کو شادو نے بتائی ہے؟ میں کسی بھی قیمت پر یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ وہ میرے متعلق اس قسم کی جھوٹی اور بے سروپا باتیں بھی کر سکتی ہے۔” وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر بڑی شدت سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
”میں ایک مرتبہ پھر یہی کہوں گا تھانے دار صاحب۔۔۔ کہ میرے بارے میں آپ کو کوئی غلط فہمی۔۔۔”
”اوئے غلط فہمی کے گھوڑے!” میں نے گرج کر اس کی بات کاٹ دی اور تفتیش کے تقاضوں کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ “آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی رات تم کہاں تھے؟”
آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی شب نذیر احمد کے گھر میں چوری ہوئی تھی یعنی جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھا اور میرے سوال کے جواب میں بتایا۔
”جناب! میں اپنی ڈیوٹی پر تھا۔ آج ہی واپس آیا ہوں۔”
”کیا یہ سچ ہے، تم ہر اتوار کو شام کو ڈیوٹی پر جاتے ہو؟” میں نے تیز نظروں سے اسے گھورا۔ “اور ہفتے کی رات کو واپس گھر آتے ہو۔ یہی تمہارا معمول ہے؟”
”جی ہاں، یہ بات سولہ آنے درست ہے۔” وہ سادگی سے بولا۔ “آپ میرے ساتھیوں سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ڈرائیور حشمت علی اور کنڈیکٹر مطلوب میری بات کی گواہی دیں گے۔”
”ضرورت محسوس ہوئی تو میں پینتیس بتیس کے سارے عملے کو لائن حاضر کر دوں گا۔” میں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔ “فی الحال تو تم اس بات کا جواب دو کہ اگر تم پورا ہفتہ کسی بس کی ‘کلینڑی’ کرتے ہو تو آٹھ نو نومبر جمعرات کی صبح تم نظام آباد میں کیا کر رہے تھے؟”
اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر گزر گیا۔
”۔۔۔ میں نے تیکھے لہجے میں دریافت کیا۔ “کیا یہ درست ہے کہ جمعرات کی صبح تم صرف اور صرف شادو سے ملنے کے لئے نظام آباد آئے تھے؟” لمحہ بھر کے توقف کے بعد میں نے سنسنی خیز انداز میں اضافہ کیا۔ “جھوٹ بول کر تم خود کو ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار کرلو گے جبکہ سچ بولنے کی صورت میں، میں تمہارے لئے کوئی گنجائش نکال سکتا ہوں۔”
ان لمحات میں، وہ مجھے بڑی کڑی آزمائش سے دوچار نظر آیا تاہم وہ جس نوعیت کی صورت حال میں پھنس گیا تھا اس کے پیش نظر فرار کی بجائے اس نے اقرار ہی میں عافیت جانی اور مسکینوں جیسی آواز میں بولا۔
”جی۔۔۔ میں شادو ہی سے ملنے آیا تھا۔”
”کیوں۔۔۔؟ کیا اچانک کوئی ضروری کام یاد آ گیا تھا؟” میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔
”جی، ایک ضروری کام ہی تھا۔” وہ جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
”اور وہ ضروری کام کیا تھا؟”
مذکورہ ڈبیا کو فیروز کے سامنے میز پر رکھ دیا اور انگلی سے ڈبیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوالیہ نظروں سے فیروز کو گھورنے لگا۔
وہ لکنت زدہ لہجے میں بولا۔ “یہ۔۔۔ یہ آپ کو۔۔۔ کہاں سے ملی؟”
”میں نے جب یہ ڈبیا شادو کو دکھائی تھی تو اس نے بھی تم سے ملتا جلتا ہی سوال کیا تھا۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا پھر سخت لہجے میں استفسار کیا۔ “کیا تم جمعرات کی صبح یہی ڈبیا شادو کو دینے کے لئے نظام آباد پہنچے تھے نا؟”
اقرار کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ کار نہیں بچا تھا۔ شکست خوردہ انداز میں اس نے لکنت جواب دیا۔ “ہاں۔۔۔!”
”تم نے یہ ڈبیا شادو کو کس مقصد کی خاطر دی تھی؟” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا پھر فوراً ہی یہ تنبیہی اضافہ بھی کر دیا۔ “میں تمہارے منہ سے وہ جواب نہیں سننا چاہتا جو کہانی تم نے شادو جیسی بھولی بھالی لڑکی کو سنائی ہے۔”
”میں نے شادو سے کوئی غلط بیانی نہیں کی تھی۔” وہ بے یقینی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ “اور آپ سے بھی کوئی جھوٹ نہیں بولوں گا جناب۔۔۔ اس ڈبیا کے اندر ایک تعویذ تھا اور کچھ دم کیا ہوا سفوف تھا۔۔۔”
”اور یہ دونوں چیزیں تم کسی پہنچے ہوئے بابا سے لے کر آئے تھے۔” میں نے اس کی بات کاٹ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔ “تاکہ شادو کی ماں رام ہو جائے۔۔۔ وہ شادو کی منگنی توڑ کر اس کی شادی تم سے کر دے۔ ہے نا؟”
”جی، جی۔۔۔ بالکل یہی بات ہے۔” وہ جلدی سے بولا۔ “لگتا ہے شادو نے آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے۔”
اس نے مجھے وہی بتایا ہے جو پٹی تم نے اسے پڑھائی تھی۔” میں نے پھنکار سے مشابہ لہجے میں کہا۔ “لیکن شادو کی طرح میں تمہارے فریب میں نہیں آؤں گا۔ میں حقیقت جاننا چاہتا ہوں فیروز!”
”جی۔۔۔ یہ حقیقت ہی تو ہے۔” وہ الجھی ہوئی نظر سے مجھے تکنے لگا۔
میں نے ایک گہری سانس خارج کی اور سلگتے ہوئے انداز میں کہا۔ “اس کا مطلب ہے شرافت کی زبان تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تمہیں کم از کم ایک رات کے لئے ٹارچر روم میں رکھنا ہو گا۔”
وہ ٹرائل اور ڈرائنگ روم جیسی اصطلاحات سے بخوبی واقف نظر آتا تھا۔ میری بات سن کر اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں جھلملانے لگیں۔ بڑے ہی عاجز لہجے میں اس نے مجھ سے کہا۔
”تھانے دار صاحب! میں یہ سفوف اور تعویذ واقعی ایک پہنچے ہوئے بابا سے لے کر آیا تھا۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اگر میں نے سفوف اور تعویذ کے سلسلے میں من وعن ان کی ہدایت پر عمل کیا تو میری بگڑی بن جائے گی۔ شادو کی ماں اس کا رشتہ جہانگیر سے توڑ کر مجھ سے جوڑ دے گی۔ بابا جی میرے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں نے انہیں اپنی اور شادو کی کہانی بڑی تفصیل سے سنائی تھی،،۔”
میں نے کڑے لہجے میں کہا۔ “فیروز! شاید میں تمہاری بات کو سچ مان لیتا۔ لیکن کیا کروں، میں نے سچ تک رسائی حاصل کر لی ہے اور یہ سچ تمہارے بتائے ہوئے سچ سے بہت مختلف ہے۔۔۔”
وہ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول اٹھا۔ “اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں آ رہا تو پھر اس سچ کے بارے میں بتائیں جس تک آپ نے رسائی حاصل کی ہے؟”
میں فیروز کے چہرے کے تاثرات کا بہ غور جائزہ لے رہا تھا۔ پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ وہ ڈر اور خوف کو بالائے طاق رکھ کر بات کر رہا تھا۔ میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا۔ یہ وہی آزمودہ کار داؤ تھا جو اس سے پہلے میں شادو پر چلا چکا تھا۔
”میں نے اس ڈبیا میں موجود سفوف کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا ہے۔” میں نے جھوٹ کی مصلحت کو کام میں لاتے ہوئے کہا۔ “اس سفوف میں کوئی تیز نشہ آور شے شامل ہے۔ تمہاری ہدایت پر شادو نے جو حرکت کی اس کے نتیجے میں وہ تینوں ساری رات۔۔۔ بلکہ اگلے روز دن چڑھے تک بے خبر پڑے سوتے رہے اور تم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ شادو جیسی سادہ لڑکی کو بے وقوف بنا کر تم اس کی شادی کا سارا قیمتی سامان لے اڑے تاکہ۔۔۔ اس کی شادی جہانگیر سے نہ ہو سکے اور تم۔۔۔”
”یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔۔ سراسر مجھ پر الزام ہے۔” وہ بے ساختہ احتجاجی انداز میں چیخا۔
”چلاؤ مت۔” میں نے اسے ڈانٹا۔ “تمہیں اس شوق کو پورا کرنے کا مناسب موقع دیا جائے گا۔ جب تم تفتیش کی چکی میں ڈالے جاؤ گے تو تمہارے وجود کا ایک ایک حصہ بے درداک انداز میں چیخے گا، چلائے گا اور مدد کے لئے پکارے گا۔” میں لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر سنسناتے ہوئے لہجے میں اضافہ کیا۔ “میں تم سے آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں، شرافت سے اپنے جرم کا اقرار کر لو ورنہ۔۔۔”
میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ منّت ریز لہجے میں بولا۔ “اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آ رہا تو جا کر بابا جی سے پوچھ لیں کہ انہوں نے مجھے دم کیا ہوا سفوف اور تعویذ دیا تھا کہ نہیں۔ پھر آپ کو میری بے گناہی کا یقین آ جائے گا!”
اچانک میرے ذہن میں روشنی کا ایک جھماکا سا ہوا اور پتہ نہیں کیوں مجھے یوں محسوس ہوا کہ فیروز کسی بہت بڑی حقیقت کا انکشاف کر رہا ہو۔ اس نے جذبات انگیز لہجے میں جو کچھ کہا تھا اس میں مجھے سچائی کی جھلک نظر آئی۔ مجھے یقین سا آ چلا کہ وہ دروغ گوئی سے کام نہیں لے رہا لیکن اس تمام تر سوچ کے باوجود بھی ایک گنگ سائز سوالیہ نشان بھی ذہن میں ستادہ تھا۔۔۔ اگر نذیر احمد کے گھر میں ہونے والی چوری میں فیروز کا کوئی ہاتھ نہیں تو پھر کسی شیطان کا کارنامہ ہے؟ کہیں اس کیس میں وہ پہنچا ہوا بابا تو ملوث نہیں؟
ان اچھوتے سوالات نے مجھے تفتیش کے ایک نئے رخ کی آگاہی دی اور میں نے اپنے ہی کی گئی کو فوراً موقوف کر کے فیروز کے ساتھ اچانک نرمی کا برتاؤ اپنا لیا اور عام سے لہجے میں کہا۔
”فیروز! میں تو اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ نذیر احمد کے گھر میں چوری تم ہی نے کی ہے یا ہی اور کے ذریعے کروائی ہے اور چوری کے مال کو ٹھکانے لگانے کے لئے آج تم اپنے سا پوری دوست صفدر علی کے ساتھ لاہور چلے گئے ہو لیکن تم اپنے کسی جرم کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں ہو اور سارا الزام اس پہنچے ہوئے بابا پر ڈال رہے ہو۔ ٹھیک ہے، اب میں بارے بابا کو بھی گرفتار کر کے یہاں لاتا ہوں۔”
اس کے چہرے پر زردی سی کھنڈ گئی۔ خوف زدہ لہجے میں بولا۔ “م۔۔۔ م۔۔۔ میں نے۔۔۔ سب بابا جی پر الزام لگایا ہے ۔۔۔۔۔ آپ بہت زیادتی کر رہے ہیں تھانے دار صاحب!” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں استفسار کیا۔ “یہ سفوف تمہیں اسی بابا نے ہی دیا تھا نا؟”
”جی۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں۔۔۔۔۔۔” وہ وحشت زدہ نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔
”پھر تم کیوں پریشان ہوتے ہو؟” میں نے معتدل انداز میں کہا۔ “جس نے سفوف اور تعویذ دیا ہے وہی میرے سوالات کا سامنا بھی کرے گا۔ لیبارٹری ٹیسٹ تو بہرائیک طرف رہی یہ بات نذیر احمد اینڈ کمپنی کی غفلتاً نیند نے بھی ثابت کر دی ہے کہ انہیں رات کے کھانے میں کوئی تیز و اثر نشہ آور شے کھلائی گئی تھی۔ میں تمہیں یہ تو بتا ہی چکا ہوں کہ شادو اپنے کرتوتوں کا اقرار کر چکی ہے۔ تم بتاؤ، اس پہنچے ہوئے بابا کا آستانہ کہاں ہے؟ تاکہ میں اس ششکار (شخصیت) کو کہیں اور پہنچانے کا بندوبست کر دوں۔”
وہ بے حد خوف زدہ تھا ہی، میرے جارحانہ اندازِ تفتیش نے اس کی خوفزدگی میں گنا اضافہ کر دیا۔ بھری ہوئی آواز میں اس نے فریاد کی۔
”تھانے دار صاحب! یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا۔۔۔ بابا بڑے جلالی ہیں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ۔۔۔”
”میں نے جو پوچھا ہے اس کا سیدھا اور سچا جواب دو۔” میں نے اس کی بات کاٹ کر درشت لہجے میں کہا۔ “بابا کے جلال کا سامنا میں خود کر لوں گا۔ تم مجھے اس کا نام اور ٹھکانہ بتاؤ۔۔۔۔۔ جلدی۔”
وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔ “ان کا نام بابا امرود شاہ ہے۔”
”امرود شاہ؟” میں نے حیرت بھری آواز میں دہرایا۔ “یہ کس کا نام ہے؟”
”بس جی، یہی نام ہے ان کا۔” وہ سادگی سے بولا۔ “ان کا آستانہ بھی ‘آستانہ امرود’ کے نام سے مشہور ہے۔ نظام آباد میں ریلوے لائن اور بڑے میدان کے آخری کنارے پر ہے یہ آستانہ۔”
”میں نے کہا۔ “ہر نام کے کوئی معنی یا وجہ تسمیہ ہوتی ہے۔ لگتا ہے، یہ پہنچا ہوا بابا امرود کسی درخت پر بیٹھ کر وظیفے پڑھتا رہتا ہے۔”
فیروز نے جس جلالی بابا کا ذکر کیا تھا وہ کوئی سچی روحانی شخصیت نہیں ہو سکتا تھا۔ میاں بیوی کے درمیان نفاق پیدا کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب کی بات کی ہے اور شادو کے معاملے میں یہ امرود شاہ اسی نوعیت کا منفی کردار ادا کر رہا تھا لہذا اس کی جھوٹی شان سے مرعوب ہونے والا نہیں تھا۔
فیروز نے میرے گستاخانہ تبصرے کے جواب میں گہری سنجیدگی سے بتایا۔ “تھانے دار صاحب! سننے ہیں، امرود شاہ کے پیر و مرشد جمرود شاہ کسی زمانے میں بہت مشہور بزرگ تھے۔ امرود شاہ کے والد کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ آستانہ جمرودیہ پر پہنچے اور جمرود…”
سے اولاد کی بھیک مانگی۔ جمرود شاہ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو آستانے پر لے کر آؤ، وہ اس پر کوئی خاص دم کریں گے۔ امرود شاہ کے والد کو صاحبِ اولاد ہونے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ بیوی کو دم کرانے آستانہ جمرودیہ پر لے گئے۔ جمرود شاہ نے ایک طویل دم کیا اور ہدایت کی کہ چاند کی چودہ تاریخ کو وہ ایک ایسا امرود کھائے جو کچا بھی ہو اور پکا بھی، کھٹا بھی اور میٹھا بھی، ہرا بھی ہو اور بھرا بھی۔۔۔۔ چنانچہ امرود شاہ کے والد ایسے ہمہ گیر امرود کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ پتہ نہیں، کیسے انہوں نے مذکورہ امرود حاصل کر کے اپنی بیوی کو چودھویں کی رات میں کھلایا جس کے نتیجے میں بابا امرود شاہ پیدا ہوئے۔ جمرود شاہ کی ہدایت پر ہی ان کا نام امرود شاہ رکھا گیا تھا” وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر انتہائی ہمدردانہ لہجے میں بولا۔ “تھانے دار صاحب! میں ایک مرتبہ پھر آپ کو بتا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ امرود شاہ بہت پہنچا ہوا جلالی۔۔۔۔”
میں نے فیروز کی بات سے توجہ ہٹائی اور حوالدار کرامت اللہ کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔ کرامت اللہ میرے پاس پہنچا تو میں نے فیروز کو اس کی تحویل میں دیتے ہوئے گہری سنجیدگی سے کہا۔ ”یہ رات کے باقی حصے میں تمہارا مہمان ہے۔ اس کی خاطر مدارات کی ضرورت نہیں۔ یہ صبح مجھے ایسا ہی بھولا بھالا چاہیے جیسا کہ میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں”۔
حوالدار، فیروز کو اپنے ساتھ حوالات کی طرف لے گیا۔
××××
نادانستگی میں فیروز نے مجھے تفتیش کے ایک نئے رخ کی آگاہی دی اور میں نے اپنے ہی۔ میں نے اسی روشنی میں پیر امرود شاہ کو چھاپنے کا ایک مضبوط پلان ترتیب دے ڈالا۔ اس مشن میں، میں نے اے ایس آئی جمال کے علاوہ دو کانسٹیبلوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس رات مجھے ایک لمحے کے لئے بھی آنکھ لگانے کی مہلت نہ مل سکی۔ پوری تیاری کے بعد ہم لوگ گیارہ نومبر کو علی الصبح آستانہ امرودیہ پر پہنچ گئے۔
پیر امرود شاہ کا آستانہ ایک بندگی میں واقع تھا جس کے عقب میں ایک وسیع و عریض میدان تھا۔ میں نے اے ایس آئی اور ایک کانسٹیبل کو میدان میں بھیج دیا، آستانے کا عقبی دروازہ اسی میدان کی طرف کھلتا تھا۔ اس نے آگے ریلوے لائن تھی۔ اس بات کے قوی امکانات تھے کہ جب میں آستانے پر ریڈ کروں تو پیر موصوف عقبی دروازے سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کریں۔ میں دوسرے کانسٹیبل کے ہمراہ آستانے کے سامنے سے حملہ آور ہوا۔
وہ ایسا وقت تھا کہ امرود شاہ اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ خوابِ خرگوش کے مزے لےرہا تھ.ا ہم نے آنِ واحد میں انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ آستانے کا دروازہ کھلوانے میں مجھے کسی دقت کا سامنا نہیں ہوا۔ میری دھواں دھار دستک کے جواب میں مجاور قسم کا ایک توند یلا چیلا دروازے پر آیا۔ وہ اس طرح بے خودانہ انداز میں آنکھیں مل رہا تھا جیسے اس سے پہلے وہ خواب کی کسی دور افتادہ وادی میں کھڑا ہو۔ کھلنے سے گریزاں آنکھوں کے ساتھ جب اس نے پولیس کو دیکھا تو بوکھلا کر ایک دم ریڈ الرٹ ہو گیا پھر بدحواسی کے انداز میں اس نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔
میں اس لئے وہاں نہیں گیا تھا کہ امرود شاہ اور اس کے چیلے کی کوشش کو بار آور ہونے دوں۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص دروازے کو بند کر پاتا، میں نے دروازے میں پاؤں اڑا دیا۔ اس سریع العمل کے ساتھ ہی میں نے دروازے کے ادھ کھلے پٹ کو ایک زور دار دھکا دیا۔ دروازہ ایک دھڑاکے سے کھل گیا۔ دروازے کو بند کرنے کی کوشش میں مصروف اس کے حلق سے ایک دردناک چیخ برآمد ہوئی اور وہ پشت کے بل آستانے کے صحن میں جا گرا۔ میرے طوفانی دھکے نے دروازے کے پٹ کو کسی ہتھوڑے کی مانند اس کے تھوبڑے پر مارا تھا۔ اسی لئے ہم دونوں بھرا مار کر اندر داخل ہو گئے۔
مضروب شخص دونوں ہاتھوں سے اپنے گھائل منہ کو تھامے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر بے دردی سے اس کو تین چار وزنی اور خطرناک سُتھڑے کیے۔ اس کی پسلیوں اور سینے پر ٹھوکریں پڑیں تو وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھا۔ میں نے کانسٹیبل کو اشارہ کرتے ہوئے تحکمانہ انداز میں کہا۔
”تم اسے سنبھالو۔ میں دوسروں کو دیکھتا ہوں”۔
پیر امرود شاہ اور اس کے چیلوں کے لئے میرا دل اور دماغ غم و غصے سے لبریز تھے۔ تک جو حالات و واقعات اور شواہد نکل کر سامنے آئے تھے ان کی روشنی میں فیروز مرکز کا کر شلر والی ڈبیا میں موجود سفوف کی حقیقت سے آگاہ نہیں تھا۔ اس کا کمزور ذہن امرود شاہ کی مٹھی میں تھا۔ امرود شاہ نے تعویذ اور سفوف کے حوالے سے اسے جو بھی پٹی پڑھائی، آنکھیں بند کر کے اس پر ایمان لے آیا تھا اور یہی سمجھا تھا کہ پیر صاحب کی بتائی ترکیب پر عمل کر کے وہ شادو کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
جو لوگ عقل و شعور کو زحمت دیے بغیر آنکھوں پر جہالت کی پٹی باندھ کر اپنے ذہنی عیار اور مکار شخص کے پاس گروی رکھوا دیتے ہیں بالاخر انہیں ایک روز بری طرح پچھتا ہے۔ روحانیت اور روحیت کی راہ بہت ہی نازک اور آزمائشی ہوتی ہے۔ مرشد کے چناؤ میں اگر انسان سے غلطی ہو جائے تو دنیا میں دین تو ہاتھ سے جاتے ہی ہیں، اس کے ساتھ…
آخرت کا بھی بیڑا غرق ہو کر رہ جاتا ہے۔ سچے روحانی پیشوا ہر دور میں موجود ہوتے ہیں لیکن ان تک رسائی کے لئے آنکھوں اور دماغ کے لیے وارکھتے ہوئے تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے ورنہ اکثر لوگ امرود شاہ جیسے لٹیروں کے چنگل میں پھنس کر خود کو تو برباد کرتے ہی ہیں، اس کے ساتھ ہی اپنے لواحقین کو بھی تباہی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں!
فیروز چونکہ اکثر و بیشتر اپنے من کی مراد پانے کے لئے اس آستانے کے پھیرے بھرتا رہتا تھا لہذا اسے وہاں کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ میں نے اس کی فراہم کردہ ‘جغرافیائی’ معلومات سے فائدہ اٹھایا اور پندرہ بیس منٹ کے اندر ہی ہم نے پیر امرود شاہ اور اس کے دو چیلوں جنگی اور سولو کو اپنے “قبضے” میں کر لیا۔ آستانے کی سرسری تلاشی کے دوران مالِ مسروقہ ہاتھ نہیں آسکا تھا۔
میں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق مخصوص انداز میں سیٹی بجا کر اسے ایسی آئی جمال اور اس کے ہمراہی کانسٹیبل کو بھی اس طرف بلا لیا۔ پیر امرود شاہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غضب ناک انداز میں دھمکیاں دینے لگا۔ میں نے امرود شاہ سمیت ان تینوں افراد کو قابو کرتے ہی آہنی زیورات سے “آراستہ” کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی “فرو جرم” بھی اس کے گوش گزار کر دی تھی۔
”تھانے دارا یہ تم اچھا نہیں کر رہے” وہ بدتمیزانہ انداز میں غرّایا۔ “ہم پر چوری کا الزام لگا کر تم اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو۔ جانتے ہو، ہم کتنے پہنچے ہوئے ہیں؟”
میں نے مضحکہ خیز نظر سے پیر امرود شاہ کا تنقیدی جائزہ لیا۔ اس کی عمر پینتالیس اور پچاس کے درمیان رہی ہو گی۔ رنگ توے کی مانند سیاہ اور نقش و نگار بھدے۔ اس پر مستزاد اس کا جٹا بیدا بدن تھا۔ وہ عناب اور بد وضعی کی آخری حدود کو چھو رہا تھا۔ آواز سے کرختگی اور غصہ ٹپکتا تھا۔ ان چند سطور کی روشنی میں جو شخصیت تشکیل پاتی تھی اسے دیکھ کر کراہت تو محسوس ہو سکتی تھی مگر کسی قسم کی کوئی روحانی کشش ہرگز پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے با وجود بھی اگر لوگ فیوض و برکات کے لئے اس کی تقلید میں اندھے ہو گئے تھے تو ان نادیدوں کی عقل پر ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پیر امرود شاہ جیسے کردار دراصل انسانی نفسیات اور خواہش کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے آزمودہ کارڈز مار کر کمزور ذہن کے لوگوں کو اپنے دام میں پھانس لیتے ہیں۔
جواب میں نے بھی امرود شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفاک لہجے میں کہا۔ “امرود شاہ! میں تمہاری اس مکر وہ شیطانی شخصیت سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں تم کتنے اور کہاں تک پہنچے ہوئے ہو، مگر تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ میں تمہیں کہاں پہنچانے والا…
ہوں۔۔۔۔۔ اور یہ تم عاقبت خراب کرنے والی کیا بات کر رہے ہو۔ آخرت اور عاقبت کے بارے میں تو یہ دنیا چھوڑنے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن میں نے تمہاری دنیا خراب کرنے کا پکا پروگرام بنا لیا ہے”۔
پھر میں نے سفوف اور تعویذ کی ہسٹری اور مسٹری کا پردہ چاک کرنے کے بعد اسے دوستانہ مشورہ دیا کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کر لے لیکن وہ کچھ زیادہ ہی چراغ پا ہو گیا اور اچھل اچھل کر مجھے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دینے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس فتنہ گر نا مرد نے مجھے اپنی روحانی اور پراسرار قوتوں سے ڈرانے کی کوشش بھی کی۔
میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ “اس کا مطلب ہے شرافت تمہیں راس نہیں آئے گی۔ میں تو چاہ رہا تھا، تم مجھے مالِ مسروقہ کے بارے میں ہمیں اپنے آستانے پر آگاہ کر دو۔ لیکن تمہاری ضد کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تمہیں ان مراحل سے گزارنا بہت ضروری ہے جس کے بعد بندہ صحیح معنوں میں بندے دا پتر بن جاتا ہے۔” میں لمحہ بھر کو متوقف ہوا، پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”میں نے آج تم لوگوں کو سوتے میں سے جگا دیا، ابھی تک تم تینوں نے کوئی کسی پانی چائے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ تمہاری بھرپور تواضع کے لئے تھانے ہی چلتے ہیں”۔
پھر میں انہیں اپنے ساتھ لے کر تھانے آ گیا۔
پیر امرود شاہ نے آج تک نذرانوں کی مرغن اشیاء کو معدے میں اتار اتار کر اپنے بدن پر جو چربی دار بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا۔ “تفتیش” کی چکی سے اس کا پہلی مرتبہ واسطہ پڑا تھا اس جیسے شقی القلب اور ظالم شخص کے لئے میرے دل میں ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی لہذا ہم نے کسی رعایت سے کام نہیں لیا اور تھانے پہنچاتے ہی اسے ایک تگڑے “ناشتے” سے نواز یاب کیا۔ اس عقوبتی ناشتے کا اثر ابھی باقی تھا کہ وہ دوپہر میں ایک ‘ صحت مند، لذیذ” دیا گیا۔
اس خاطر داری سے اس کی چیخیں بول گئی۔ اس نے مزید شکم سیری سے بچنے کے لئے بولنے کا فیصلہ کر لیا اور یہ سچ۔۔۔۔ اس کا اقبال جرم تھا۔۔۔۔۔ یعنی اس کے بیان کے میرے قائم کردہ اندازے کی صد فیصد تصدیق کر دی۔ نذیر احمد کے گھر میں ہونے والی چوری کی واردات کے ذمے دار امرود شاہ کے چیلے جنگی اور سولو تھے۔ مجھے نذیر کے کارخانے سے قینچی مارکہ سگریٹ کی جو ڈبیا ملی وہ سولو کی تھی۔ سولو اور جنگی چرس اور بھنگ وغیرہ کے عادی تھے، نذیر احمد کے گھر میں نقب لگانے والا کارنامہ انہوں نے اپنے مرشد سائیں قبلہ و شہنشاہِ امرود شاہ کے حکم پر انجام دیا تھا۔
امرود شاہ کی نشان دہی پر میں نے مالِ مسروقہ بھی برآمد کر لیا۔ چوری شدہ سامان کو…
پیر فروت، سیاہ کرتوت نے آستانے ہی میں ایک خفیہ مقام پر چھپا رکھا تھا، لیکن وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں کسی راہنمائی کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں تھا اسی لئے جب گرفتاری کے وقت میں نے آستانے کی تلاشی لی تو مجھے وہاں کچھ بھی نہیں ملا تھا۔
میں نے پیر امرود شاہ اور اس کے دونوں چیلوں جولو اور جنگی کے خلاف ایک مضبوط کیس بنا کر انہیں حوالہ عدالت کیا۔ مالِ مسروقہ اور نقدی کو ضروری قانونی کارروائی سے گزارنے کے بعد نذیر احمد کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی زبان خشک ہو رہی تھی۔ میں نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے صرف اتنا کہا۔
”میں نے کچھ نہیں کیا نذیر احمد ! یہ تو میرے فرائض کا حصہ تھا”۔
اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں ۔ فرطِ جذبات سے اس نے کہا۔ “ملک صاحب! آج کل اپنا فرض ادا کرنے کا کس کو ہوش ہے۔ آپ بہت عظیم ہیں۔ آپ نے میری شادو کی زندگی تباہ ہونے سے بچالی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا، میں کن الفاظ اور کس زبان سے۔۔۔”
”کسی اور کو اپنے فرض کی ادائیگی کا ہوش ہو یا نہ ہو لیکن مجھے امید ہے، اس سلسلے میں تم ضرور ہوش و حواس میں رہو گے”۔ میں نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا۔ “تم میرا مطلب سمجھ رہے ہو نا؟”
نذیر کے ساتھ اس کی بیوی نور جہاں بھی موجود تھی، میری بات سن کر وہ جلدی سے بولی۔ “تھانے دار صاحب! میں آپ کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی ہوں۔ آپ کا اشارہ شادو کی شادی کی طرف ہے۔ آپ چاہتے ہیں، ہم جلد از جلد اسے اپنے گھر سے رخصت کر دیں”۔
نور جہاں واقعی میری بات کی تہہ میں اتر گئی تھی۔ میں نے نذیر احمد کی طرف دیکھتے ہوئے شگفتہ لہجے میں کہا۔ “یار! تمہاری بیوی تو بہت دور اندیش اور سمجھ دار ہے۔ میرے خیال میں نور جہاں کو تمہارا شوہر ہونا چاہیے۔” میں نے آخری جملہ مذاق کے رنگ میں کہا تھا لیکن نذیر احمد نے نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
”تھانے دار صاحب! ہونا چاہے کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔۔ ایسا ہی تو ہے۔”
نذیر کے تبصرے پر میں اور نور جہاں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں مجھے ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے تھانے سے رخصت ہو گئے۔
اس کیس کا ایک اہم کردار فیروز بھی تھا۔ اس نے اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لئے غیر اخلاقی اور غیر سماجی راستے کا انتخاب کیا لیکن اس کوشش میں اسے کامیابی نہ مل سکی۔ اس واقعے کے ایک ماہ بعد ہی نذیر احمد نے شادو کی شادی کر دی۔ شادو بیاہ کر نظام آباد سے بستی خدا بخش چلی گئی اور فیروز دل برداشتہ ہو کر اپنے کام میں مگن ہو گیا۔
جب تک میں اس قصبے کے تھانے میں تعینات رہا، گاہے بہ گاہے مجھے فیروز کی خبر ملتی رہی۔ وہ کلینر سے کنڈیکٹر ہوا پھر ڈرائیونگ سیٹ پر پہنچ گیا۔ قدرت نے جب کسی شخص سے کام لینا ہوتا ہے تو وہ اسی طرح کے اسباب پیدا کرتی ہے۔ شادو اور فیروز کی شادی تو نہ ہو سکی لیکن فیروز کے توسط سے قدرت نے ایک بہت بڑے معاشرتی ناسور کو کیفر کردار تک ضرور پہنچا دیا۔ اگر پیر امرود شاہ جیسا فتنہ گر شخص قانون کی گرفت میں نہ آتا تو پتہ نہیں اس علاقے میں اور کون کون سے فتنوں کو اجاگر ہونا تھا۔ میں نے درست الفاظ میں فساد کی جڑ کو کاٹ ڈالا تھا۔
جب تک اس دنیا میں انسان موجود ہیں، ان انسانوں کے بیچ پیر امرود شاہ جیسے فتنہ پرور لوگ جنم لیتے رہیں گے۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے گردو نواح پر گہری نگاہ رکھیں اور ایسا کوئی فسادی اُبھرتا دیکھیں تو اسے پہلے ہی قدم پر روک دیں۔ اللہ ہم سب کو امرود و جمرود جیسے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے۔۔۔۔۔ آمین!
پیغام، چوہدری شار کا تھا اور پیام بر اس کا خاص بندہ۔ اس لئے میں نے اس پر دھیان دیا۔ میں نے سلطان کی بات پوری توجہ سے سنی اور اس کے خاموش ہونے پر کہا۔
”ٹھیک ہے سلطان! تم مطمئن ہو کر جاؤ اور چوہدری صاحب سے کہہ دو کہ میں آج تھانے سے اٹھنے کے بعد ان کی طرف چکر لگاؤں گا۔”
سلطان فدویانہ لہجے میں بولا۔ “سرکار! اگر آپ کوئی وقت دے دیں تو میں سواری لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ چوہدری ہوراں نے کہا تھا، آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔”
”یہ تو چوہدری صاحب کی محبت ہے۔” میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ “بہر حال، تم آٹھ بجے تک آ جاؤ۔ میں تمہیں تیار ملوں گا۔”
سلطان مجھے سلام کر کے تھانے سے رخصت ہو گیا۔
اس وقت دن کے گیارہ بجے تھے۔ وہ ماہِ جنوری کے انتہائی ایام تھے۔ سردی اپنے جو بن پر تھی۔ صبح کا آغاز کہر اور دھند سے ہوتا، سورج کی شکل دیکھنے کے لئے کم و بیش دس بجے کا انتظار کرنا پڑتا اور اگر کبھی مطلع ابر آلود ہوتا تو پورا دن اس روشنی کے صبح کی صورت دیکھے بغیر ہی گزر جاتا۔ جاڑے کے موسم میں صبح جتنی دیر سے ہوتی، شام اتنی ہی جلدی اتر آتی اور یہ “جلدی و دیری” گاؤں دیہات کی سادہ اور محدود زندگی میں کچھ زیادہ ہی کار فرما دکھائی دیتی ہے۔
ان دنوں میں قصبہ جمال پور تارڈ کے تھانے میں تعینات تھا۔ جمال پور تارڈ خاصا گنجان آباد قصبہ تھا۔ اس کے گردونواح میں ون پورہ، عظیم آباد، کوٹ جھمرا اور موضع سکھیکی واقع تھے۔ چوہدری شار کا تعلق سکھیکی (سکھیکے) سے تھا۔ خنک اور دھند دھار موسم کے سبب تھانے میں بھی زیادہ چہل پہل نظر نہیں آتی تھی۔ میں صبح نو بجے تک تھانے پہنچتا اور شام کو چھ بجے اٹھ جاتا۔ انہی اوقات کی روشنی میں، میں نے سلطان کو آٹھ بجے آنے کے لئے کہا تھا تا کہ اس وقت تک میں رات کے کھانے اور عشاء کی نماز سے فارغ ہو چکا ہوتا۔