Urdu Short Stories

اپنوں کا فریب – بھائیوں کے ظلم کا شکار بیوہ بہن

فیصل آباد کے ایک پرانے محلے میں ایک چھوٹا سا گھر تھا، جس کے باہر سفید رنگ کا دروازہ لگا ہوا تھا۔ دروازے کا رنگ کئی جگہ سے اتر چکا تھا، مگر گھر کے اندر رہنے والی عورت ہر جمعہ اسے گیلے کپڑے سے صاف کرتی تھی۔ اس عورت کا نام نازیہ تھا۔ عمر چالیس کے قریب تھی، چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں وہ عجیب سی نرمی تھی جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جو زندگی کے ہاتھوں بہت ٹوٹنے کے بعد بھی دوسروں کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔
نازیہ کے شوہر کا انتقال آٹھ سال پہلے ایک فیکٹری حادثے میں ہو گیا تھا۔ اس وقت اس کا بیٹا احسن صرف دس سال کا تھا اور بیٹی مریم سات سال کی۔ شوہر کے جانے کے بعد نازیہ پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، راشن، بجلی کا بل، دوا، کپڑے، سب کچھ ایک ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ لوگ پہلے چند دن آئے، تعزیت کی، گلے لگایا، “بہن، ہم ہیں نا” کہا، پھر آہستہ آہستہ سب اپنی زندگیوں میں واپس چلے گئے۔
نازیہ کے دو بھائی تھے۔ بڑا بھائی کامران اور چھوٹا بھائی آصف۔ دونوں شروع میں بہت ہمدرد بنے۔ کامران نے بہن سے کہا، “نازیہ، فکر نہ کر۔ تیرے بچے میرے بچے ہیں۔ میں ہوں نا تیرے ساتھ۔” آصف نے بھی سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، “باجی، آپ نے ہمیں بچپن میں ماں کی طرح پالا ہے۔ اب ہماری باری ہے۔”
نازیہ کو لگا شاید وہ اکیلی نہیں ہے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جملے بھی پرانی دیواروں کے رنگ کی طرح اتر جائیں گے۔شوہر کے انتقال کے بعد کمپنی کی طرف سے کچھ رقم ملی، اور ایک چھوٹا سا پلاٹ بھی تھا جو نازیہ کے شوہر نے قسطوں پر لیا تھا۔ پلاٹ شہر سے ذرا باہر تھا، مگر کاغذات نازیہ کے پاس تھے۔ نازیہ نے سوچ رکھا تھا کہ بچوں کے بڑے ہونے تک وہ اس پلاٹ کو نہیں بیچے گی۔ شاید کبھی اللہ نے چاہا تو وہ اس پر چھوٹا سا گھر بنا لے گی، جہاں اس کے بچوں کو کرائے کے خوف سے نجات مل جائے گی۔
کامران کو اس پلاٹ کا پتا تھا۔ ایک دن وہ نازیہ کے گھر آیا۔ ہاتھ میں پھل کا شاپر، چہرے پر ہمدردی۔ بولا، “بہن، میں سوچ رہا تھا وہ پلاٹ خالی پڑا ہے۔ آج کل قبضے بہت ہو رہے ہیں۔ بہتر ہے اس کے کاغذات میرے پاس رکھ دو۔ میں مرد آدمی ہوں، دیکھ بھال کر لوں گا۔”
نازیہ نے سادگی سے کہا، “بھائی، کاغذات تو میرے پاس محفوظ ہیں۔”
کامران نے ہلکی ناراضی دکھائی۔ “مطلب تجھے اپنے بھائی پر اعتماد نہیں؟”
یہ جملہ نازیہ کے دل پر لگا۔ وہ پہلے ہی بہت کچھ کھو چکی تھی۔ وہ بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس نے کہا، “نہیں بھائی، ایسی بات نہیں۔ آپ بڑے ہیں، آپ ہی سنبھال لیں۔”
کامران نے کاغذات لے لیے۔ نازیہ نے اس لمحے سوچا بھی نہیں کہ جس ہاتھ پر وہ اعتماد کر رہی ہے، وہی ہاتھ ایک دن اس کا سہارا چھیننے کی کوشش کرے گا۔
زندگی چلتی رہی۔ نازیہ نے گھر میں سلائی کا کام شروع کیا۔ پہلے محلے کی عورتوں کے کپڑے سیتی، پھر بچوں کے یونیفارم، پھر شادی بیاہ کے کپڑے۔ رات کو جب بچے سو جاتے تو وہ مشین چلاتی رہتی۔ سلائی مشین کی ٹک ٹک اس گھر کی دھڑکن بن گئی تھی۔ کبھی کبھی سوئی اس کی انگلی میں چبھ جاتی، خون نکل آتا، مگر وہ کپڑے کا ٹکڑا دباکر پھر کام شروع کر دیتی۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر آج کام رک گیا تو کل بچوں کی فیس رک جائے گی۔
احسن پڑھائی میں اچھا تھا، مگر باپ کی کمی نے اسے جلد بڑا کر دیا تھا۔ وہ ماں کو رات دیر تک کام کرتے دیکھتا تو کہتا، “امی، میں بھی کام کر لیتا ہوں۔”
نازیہ فوراً ڈانٹ دیتی، “نہیں بیٹا، تیرا کام پڑھنا ہے۔ تو پڑھ لے گا تو میری محنت کامیاب ہو جائے گی۔”
مریم ماں کے پاس بیٹھ کر دھاگے سلجھاتی۔ وہ کہتی، “امی، جب میں بڑی ہو جاؤں گی نا، آپ کو کام نہیں کرنے دوں گی۔”
نازیہ مسکرا کر بیٹی کا ماتھا چومتی۔ “بس تم دونوں اچھے انسان بن جانا، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔”
سال گزرتے گئے۔ احسن نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا، پھر کالج میں داخلہ لیا۔ مریم بھی پڑھائی میں آگے تھی۔ نازیہ کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ مگر گھر کے حالات اب بھی سخت تھے۔ کامران کبھی کبھار آتا، بچوں کے سر پر ہاتھ رکھتا، دو تین نصیحتیں کرتا، پھر چلا جاتا۔ آصف شروع میں آتا رہا، پھر اس کی بیوی کو نازیہ کا آنا جانا پسند نہ رہا۔ آہستہ آہستہ دونوں بھائیوں کا “ہم ہیں نا” صرف عید کے پیغام تک رہ گیا۔
ایک دن کامران بہت خوش شکل بنا ہوا نازیہ کے گھر آیا۔ اس کے ساتھ ایک پراپرٹی ڈیلر بھی تھا۔ نازیہ نے حیرت سے پوچھا، “بھائی، یہ کون ہیں؟”
کامران نے کہا، “یہ رانا صاحب ہیں۔ بہت اچھے آدمی ہیں۔ وہ پلاٹ جو تیرا ہے نا، اس کے بارے میں بات کرنی تھی۔”
نازیہ چونک گئی۔ “کون سی بات؟”
کامران نے آرام سے کہا، “دیکھ بہن، پلاٹ ابھی اچھے ریٹ پر بک سکتا ہے۔ بچوں کی پڑھائی ہے، گھر کے خرچے ہیں، تیرے لیے آسانی ہو جائے گی۔ ویسے بھی خالی زمین کا کیا فائدہ؟”
نازیہ نے فوراً کہا، “نہیں بھائی، میں پلاٹ نہیں بیچنا چاہتی۔ وہ بچوں کے مستقبل کے لیے ہے۔”
کامران کا لہجہ بدلا۔ “مستقبل پیسوں سے بنتا ہے۔ یہ جذباتی باتیں چھوڑ۔ ابھی خریدار اچھا مل رہا ہے۔”
نازیہ نے نرمی سے کہا، “بھائی، کاغذات واپس دے دیں۔ میں خود سوچ لوں گی۔”
کامران کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سختی آئی، پھر وہ سنبھل گیا۔ “کاغذات میرے پاس محفوظ ہیں۔ جلدی کیا ہے؟”
رانا صاحب خاموش بیٹھے سب دیکھ رہے تھے۔ جاتے ہوئے انہوں نے کامران سے باہر گلی میں کہا، “لگتا ہے بہن راضی نہیں ہو گی۔”
کامران نے دھیمی آواز میں کہا، “راضی کرنا بھی آتا ہے، اور بغیر راضی کیے کام کرنا بھی۔”
نازیہ نے یہ جملہ نہیں سنا، مگر شاید قسمت نے سن لیا تھا۔
کچھ دن بعد نازیہ کے گھر بجلی کا بل بہت زیادہ آ گیا۔ پھر احسن کی کالج فیس کا مسئلہ ہوا۔ پھر مریم کی کتابیں لینی تھیں۔ نازیہ پریشان تھی، مگر اس نے پلاٹ بیچنے کا خیال پھر بھی دل میں نہیں آنے دیا۔ اسی دوران کامران نے آصف کو ساتھ ملایا۔ دونوں بھائیوں نے بہن کے خلاف ایک خاموش منصوبہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ نازیہ کمزور ہے، عورت ہے، کاغذات ان کے پاس ہیں، اسے قانونی معاملات کا کیا معلوم۔ اگر پلاٹ بک گیا تو رقم کا بڑا حصہ وہ رکھ لیں گے، بہن کو تھوڑا دے کر کہہ دیں گے کہ یہی ریٹ ملا تھا۔
ایک دن کامران نے نازیہ کو فون کیا۔ “بہن، کل دفتر آ جانا۔ پلاٹ کی فائل اپڈیٹ کرنی ہے۔ بس ایک فارم پر دستخط کرنے ہیں تاکہ قبضہ محفوظ رہے۔”
نازیہ نے پوچھا، “کون سا فارم؟”
کامران نے جھنجھلا کر کہا، “ہر بات میں شک کرتی ہے؟ میں تیرا بھائی ہوں۔ میرے ہوتے ہوئے تجھے کون نقصان دے گا؟”
نازیہ خاموش ہو گئی۔ اسے اپنے ہی سوال پر شرمندگی ہوئی۔ اگلے دن وہ کامران کے ساتھ ایک دفتر گئی۔ وہاں چند کاغذات رکھے تھے۔ کامران نے جلدی جلدی کہا، “یہاں سائن کر، یہاں انگوٹھا لگا، بس فائل محفوظ ہو جائے گی۔”
نازیہ نے کہا، “بھائی، پڑھ تو لوں؟”
کامران نے غصے سے دیکھا۔ “تو مجھے جھوٹا سمجھتی ہے؟ اچھا، رہنے دے۔ پھر اگر پلاٹ پر قبضہ ہو گیا تو مجھے نہ کہنا۔”
نازیہ گھبرا گئی۔ اس نے دستخط کر دیے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ فارم فائل اپڈیٹ کا نہیں، پاور آف اٹارنی کا تھا۔ کچھ ہفتوں بعد پلاٹ بک گیا۔
نازیہ کو اس بات کا علم بھی نہیں ہوا۔ کامران اور آصف نے ڈیلر کے ذریعے پلاٹ بیچا۔ رقم آئی، بانٹی گئی، کچھ قرض اتارے گئے، کچھ کاروبار میں لگائے گئے، کچھ گھروں کے خرچ میں گئے۔ نازیہ کو صرف اتنا بتایا گیا کہ “پلاٹ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، فکر نہ کر۔” جب اس نے تفصیل پوچھی تو کامران نے بات ٹال دی۔
وقت گزرتا رہا، مگر ایک دن حقیقت خود دروازے پر آ گئی۔ نازیہ کے گھر ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا، “آپ نازیہ ہیں؟ پلاٹ آپ کا تھا نا؟ ہم نے وہ زمین خریدی ہے۔ کچھ پرانے کاغذات پر آپ کے دستخط چاہیے تھے۔”
نازیہ کے ہاتھ سے کپڑے گر گئے۔ “کیا مطلب خریدی ہے؟ میں نے تو نہیں بیچا۔”
آدمی نے حیرت سے فائل نکالی۔ “یہ دستخط آپ کے ہیں؟ پاور آف اٹارنی کے ذریعے آپ کے بھائی نے ڈیل کی ہے۔”
نازیہ کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے کاغذات دیکھے۔ دستخط اسی کے تھے۔ انگوٹھا اسی کا تھا۔ مگر نیت اس کی نہیں تھی۔ وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کی آواز جیسے گلے میں پھنس گئی۔
“میرے بھائی نے…؟”
وہ آدمی کچھ سمجھ گیا۔ اس نے آہستہ سے فائل بند کی اور کہا، “بہن، آپ کسی وکیل سے بات کریں۔”
اس کے جانے کے بعد نازیہ کافی دیر تک دیوار کو دیکھتی رہی۔ سلائی مشین خاموش تھی، گھر خاموش تھا، مگر اس کے اندر چیخیں تھیں۔ احسن گھر آیا تو ماں کا چہرہ دیکھ کر گھبرا گیا۔ “امی، کیا ہوا؟”
نازیہ نے پہلے کچھ نہ کہا، پھر کاغذات اس کے سامنے رکھ دیے۔ احسن نے پڑھا، پھر اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ “ماموں نے یہ کیا کیا؟”
نازیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ “بیٹا، میں نے تو بھائی سمجھ کر دستخط کیے تھے۔”
احسن نے غصے سے کہا، “میں ابھی ان کے پاس جاتا ہوں!”
نازیہ نے اسے روک لیا۔ “نہیں، غصے میں نہیں۔ پہلے سچ پورا سمجھنا ہے۔”
مگر سچ پورا سمجھنے سے پہلے ہی درد پورا ہو چکا تھا۔
اگلے دن نازیہ کامران کے گھر گئی۔ کامران کی بیوی نے پہلے اسے اندر بٹھانے میں بھی بے رخی دکھائی۔ کامران آیا تو نازیہ نے سیدھا پوچھا، “بھائی، میرا پلاٹ بیچ دیا آپ نے؟”
کامران کے چہرے پر گھبراہٹ آئی، مگر فوراً سختی میں بدل گئی۔ “ہاں بیچ دیا۔ تیرے فائدے کے لیے۔”
نازیہ نے کانپتی آواز میں کہا، “میری اجازت کے بغیر؟”
کامران بولا، “اجازت دی تھی تو نے۔ دستخط کیے تھے۔”
نازیہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “آپ نے کہا تھا فائل محفوظ کرنی ہے۔”
کامران نے بے شرمی سے کہا، “تو نے پڑھا کیوں نہیں؟”
یہ جملہ نازیہ کے دل پر ایسا لگا جیسے کسی نے زخم پر نمک نہیں، آگ رکھ دی ہو۔ وہ بھائی جس نے کہا تھا “میں ہوں نا”، آج کہہ رہا تھا “تو نے پڑھا کیوں نہیں؟”
نازیہ نے پوچھا، “پیسے کہاں ہیں؟”
کامران نے کہا، “بہت خرچے تھے۔ کچھ تیرے بچوں پر بھی لگے ہیں۔ جب ضرورت ہو گی دے دیں گے۔”
نازیہ نے پہلی بار بھائی کی آنکھوں میں دیکھا اور اسے اپنا نہیں پایا۔ “بھائی، آپ نے میرے بچوں کا مستقبل بیچ دیا۔”
کامران غصے سے بولا، “زیادہ ڈرامہ نہ کر۔ اکیلی عورت تھی، ہم نے سنبھالا۔ اب ہمیں ہی چور بنا رہی ہے؟”
نازیہ نے آہستہ سے کہا، “چور وہ نہیں بنتا جسے کوئی کہہ دے، چور وہ بنتا ہے جو امانت کھا جائے۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھ گئی۔ اس کے قدم کانپ رہے تھے، مگر اس کی آنکھوں میں اب صرف آنسو نہیں تھے، ایک فیصلہ بھی تھا۔
گھر آ کر اس نے احسن اور مریم کو سب بتایا۔ مریم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ “امی، ماموں نے ایسا کیوں کیا؟ وہ تو کہتے تھے ہم ان کے بچے ہیں۔”
نازیہ نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ “بیٹا، کچھ لوگ رشتے بولتے ہیں، نبھاتے نہیں۔”
احسن نے کہا، “امی، ہم کیس کریں گے۔”
نازیہ ڈر گئی۔ “اپنوں کے خلاف عدالت؟ لوگ کیا کہیں گے؟”
احسن نے مضبوط آواز میں کہا، “لوگ اس وقت کہاں تھے جب اپنوں نے ہمارا حق کھایا؟”
یہ جملہ نازیہ کے اندر اتر گیا۔ واقعی، معاشرہ ہمیشہ مظلوم کو صبر کا سبق دیتا ہے، ظالم کو شرم کا نہیں۔
نازیہ نے ایک وکیل سے رابطہ کیا۔ وکیل نے کاغذات دیکھے اور کہا، “معاملہ مشکل ہے کیونکہ دستخط آپ کے ہیں، مگر اگر دھوکے سے لیے گئے ہیں تو کیس بن سکتا ہے۔ ہمیں گواہ، حالات، رقم کی ٹرانزیکشن، اور بھائیوں کے بیانات چاہیے ہوں گے۔”
نازیہ نے کہا، “میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
وکیل کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “آپ فیس کی فکر نہ کریں۔ پہلے سچ سامنے لاتے ہیں۔”
یہ وکیل کوئی اور نہیں، عینی نام کی ایک نوجوان خاتون تھی، جو ایسے کیسز میں غریب عورتوں کی مدد کرتی تھی۔ عینی نے نازیہ سے کہا، “بہن، آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ اور دھوکہ اگر اپنا کرے تو قانون اسے معاف نہیں کر دیتا۔”
کیس شروع ہوا۔ کامران اور آصف کو نوٹس ملا تو پورے خاندان میں طوفان آ گیا۔ رشتہ دار فون کرنے لگے۔ کوئی کہتا، “بہن بھائیوں کا معاملہ عدالت میں لے گئی؟” کوئی کہتا، “عورت کو اتنی زبان اچھی نہیں لگتی۔” کوئی کہتا، “جو ہو گیا، بھول جاؤ۔” مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ کامران نے غلط کیا۔
نازیہ رات کو روتی، مگر صبح پھر اٹھتی۔ سلائی مشین چلاتی، بچوں کو حوصلہ دیتی، عدالت جاتی۔ محلے میں باتیں ہونے لگیں۔ کچھ عورتیں اس کے پاس آ کر آہستہ سے کہتیں، “بہن، تم ہمت کر رہی ہو۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا، مگر ہم بول نہ سکے۔” نازیہ کو احساس ہوا کہ اس کا درد اکیلا نہیں، بہت سی عورتوں کی خاموش کہانی ہے۔
کامران نے کیس کمزور کرنے کے لیے نازیہ پر الزام لگایا کہ اس نے خود پلاٹ بیچا تھا، اب پیسے خرچ کر کے بھائیوں کو بدنام کر رہی ہے۔ آصف نے بھی یہی بیان دیا۔ نازیہ کو یہ سن کر سب سے زیادہ درد ہوا۔ ایک بھائی نے دھوکہ دیا، دوسرے نے جھوٹ کی گواہی دے دی۔ اپنوں کا فریب ایک نہیں، کئی چہروں میں سامنے آ رہا تھا۔
عدالت کے ایک دن احسن برداشت نہ کر سکا۔ اس نے آصف سے کہا، “ماموں، آپ کو شرم نہیں آئی؟ امی نے آپ کو بچپن میں پڑھایا، کھلایا، جب نانی نہیں تھیں تو ماں بنی رہیں۔ آج آپ ان کے خلاف جھوٹ بول رہے ہیں؟”
آصف نے نظریں چرا لیں۔ اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے شرمندگی آئی، مگر کامران نے اسے آنکھ دکھائی اور وہ خاموش ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ کیس لمبا ہوتا گیا۔ نازیہ کی صحت خراب ہونے لگی۔ سلائی کا کام، عدالت، گھر، لوگوں کی باتیں، بھائیوں کا فریب، سب نے اسے اندر سے کمزور کر دیا۔ ایک دن وہ سلائی کرتے کرتے بے ہوش ہو گئی۔ ہادیہ نہیں، یہاں مریم تھی، اس نے چیخ کر احسن کو بلایا۔ ڈاکٹر نے کہا، “خون کی کمی ہے، دباؤ بہت زیادہ ہے۔ آرام کی ضرورت ہے۔”
نازیہ نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا، “آرام غریبوں کو کہاں ملتا ہے ڈاکٹر صاحب؟”
مریم نے ماں کا ہاتھ پکڑا۔ “امی، کیس چھوڑ دیں۔ ہمیں پلاٹ نہیں چاہیے۔ ہمیں آپ چاہیے۔”
نازیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “بیٹی، میں پلاٹ کے لیے نہیں لڑ رہی۔ میں اس لیے لڑ رہی ہوں کہ تم کل کسی پر اندھا اعتماد نہ کرو، اور اگر کوئی تمہارا حق کھائے تو تمہیں چپ رہنا ضروری نہ لگے۔”
اسی دوران کیس میں ایک موڑ آیا۔ رانا ڈیلر، جس نے پلاٹ کی ڈیل کروائی تھی، کسی دوسرے فراڈ کیس میں پکڑا گیا۔ وکیل عینی نے اس سے جرح میں وہ سچ نکلوایا جس کا انتظار تھا۔ رانا نے مان لیا کہ نازیہ کو اصل بات نہیں بتائی گئی تھی، کامران نے کہا تھا کہ “بہن کو بس فارم پر سائن کروانے ہیں، باقی ہم دیکھ لیں گے۔” اس نے یہ بھی بتایا کہ رقم کامران اور آصف کے اکاؤنٹس میں گئی، نازیہ کو کچھ نہیں ملا۔
عدالت میں یہ بیان سن کر کامران کا چہرہ اتر گیا۔ آصف کے ہاتھ کانپنے لگے۔ نازیہ خاموش بیٹھی رہی۔ اس کے آنسو نہیں نکلے۔ شاید جب درد حد سے گزر جائے تو آنسو بھی عزت بچانے لگتے ہیں۔
عدالت نے تفصیلی ریکارڈ طلب کیا۔ بینک کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں۔ رقم کی تقسیم ثابت ہوئی۔ پاور آف اٹارنی دھوکے سے حاصل کرنے کے شواہد مضبوط ہوئے۔ کئی مہینوں کی لڑائی کے بعد فیصلہ آیا کہ پلاٹ کی فروخت دھوکہ دہی کے تحت کی گئی، نازیہ کو اس کی رقم واپس کی جائے، اور کامران و آصف کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔
فیصلہ سن کر نازیہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے خوشی نہیں ہوئی، صرف ایک بھاری بوجھ تھوڑا ہلکا محسوس ہوا۔ احسن نے ماں کو گلے لگا لیا۔ مریم رو رہی تھی۔ عینی وکیل نے کہا، “آپ جیت گئیں نازیہ بہن۔”
نازیہ نے آہستہ سے کہا، “نہیں، میں جیتی نہیں۔ میں نے بس اپنی ہاری ہوئی عزت واپس لی ہے۔”
کامران عدالت سے باہر نکلا تو اس کی بیوی پریشان تھی، بچے شرمندہ تھے، لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ نازیہ کے پاس آیا۔ پہلی بار اس کی آواز میں وہ غرور نہیں تھا۔ “نازیہ، مجھ سے غلطی ہو گئی۔”
نازیہ نے اسے دیکھا۔ “غلطی؟ بھائی، غلطی وہ ہوتی ہے جو انجانے میں ہو۔ آپ نے منصوبہ بنایا، جھوٹ بولا، امانت کھائی، پھر مجھے ہی جھوٹا کہا۔ اسے غلطی نہیں، فریب کہتے ہیں۔”
کامران کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “مجھے معاف کر دے۔”
نازیہ کے دل میں طوفان اٹھا۔ یہ وہی بھائی تھا جس کی انگلی پکڑ کر وہ بچپن میں گلی پار کرتی تھی۔ یہی بھائی کبھی اسے میلے سے چوڑیاں لا دیتا تھا۔ یہی بھائی اس کے شوہر کے جنازے پر کہہ رہا تھا، “میں ہوں نا۔” اور یہی بھائی اس کے بچوں کا مستقبل بیچ چکا تھا۔
نازیہ نے بہت دیر بعد کہا، “میں تمہیں بددعا نہیں دوں گی، کیونکہ تم میرے بھائی ہو۔ مگر معافی اتنی سستی نہیں ہوتی کہ تم عدالت کے باہر دو آنسو بہاؤ اور سب ٹھیک ہو جائے۔ میں اپنے دل سے نفرت نکالنے کی کوشش کروں گی، مگر تمہیں اپنی اولاد کے سامنے سچ ماننا ہو گا۔ انہیں بتانا ہو گا کہ تم نے اپنی بہن کے ساتھ فریب کیا، تاکہ وہ کل کسی کی امانت نہ کھائیں۔”
کامران سر جھکا کر کھڑا رہا۔ اس کے پاس انکار کی جگہ نہیں بچی تھی۔
آصف بعد میں نازیہ کے گھر آیا۔ وہ دروازے پر کھڑا رہا، اندر آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ نازیہ نے دروازہ کھولا۔ آصف رو پڑا۔ “باجی، میں ڈر گیا تھا۔ کامران بھائی کے سامنے بول نہیں سکا۔”
نازیہ نے کہا، “آصف، ظلم کرنے والا ایک ہوتا ہے، مگر ظلم کو سہارا دینے والے کئی ہوتے ہیں۔ تم نے میرا ساتھ نہیں دیا، چلو۔ مگر جھوٹ کا ساتھ کیوں دیا؟”
آصف نے ہاتھ جوڑ دیے۔ “باجی، میں شرمندہ ہوں۔”
نازیہ نے کہا، “شرمندگی تب مکمل ہوتی ہے جب انسان آئندہ کسی ظالم کے ساتھ کھڑا نہ ہو۔”
اس دن نازیہ نے دروازہ بند نہیں کیا، مگر اس نے دل کا دروازہ بھی فوراً نہیں کھولا۔ اسے معلوم تھا کہ رشتے دوبارہ بن سکتے ہیں، مگر پہلے ان کی بنیاد میں سچ ڈالنا پڑتا ہے۔
رقم واپس ملنے میں وقت لگا، مگر آخر ایک حصہ نازیہ کو مل گیا۔ پلاٹ واپس نہ آ سکا، کیونکہ آگے فروخت ہو چکا تھا، مگر عدالت کے حکم سے اس کی قیمت ملی۔ نازیہ نے اس رقم سے پہلے بچوں کی تعلیم محفوظ کی۔ احسن نے قانون پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مریم نے نفسیات پڑھنے کا ارادہ کیا، کیونکہ وہ کہتی تھی، “امی، اپنوں کے دھوکے سے جو دل ٹوٹتا ہے نا، اس کا علاج بھی کوئی کرے۔”
نازیہ نے کچھ رقم سے ایک چھوٹا سا سلائی سینٹر کھولا۔ اس نے اس کا نام رکھا، “اعتماد.” مگر دروازے کے اندر ایک جملہ لکھوایا: “اعتماد کریں، مگر اپنی سمجھ بند نہ کریں۔”
اس سینٹر میں وہ بیوہ، طلاق یافتہ اور کمزور عورتوں کو سلائی سکھاتی۔ ساتھ ساتھ انہیں کاغذات پڑھنے، دستخط سوچ کر کرنے، اور قانونی حق جاننے کی بات بھی بتاتی۔ وہ کہتی، “بہنو، رشتہ اپنی جگہ، کاغذ اپنی جگہ۔ محبت میں دستخط نہ کریں، سمجھ کر کریں۔”
کئی عورتیں اس کی بات سن کر رو پڑتیں۔ کسی کی زمین بھائی نے لے لی تھی، کسی کا زیور سسرال والوں نے، کسی کی تنخواہ شوہر نے، کسی کا وراثتی حق چچا نے۔ نازیہ ہر ایک سے کہتی، “خاموشی صبر نہیں ہوتی جب کوئی آپ کا حق کھا رہا ہو۔ صبر دل کو گناہ سے بچاتا ہے، ظلم کو طاقت نہیں دیتا۔”
سالوں بعد نازیہ کے گھر کا سفید دروازہ بدل گیا۔ اب وہاں ایک نیا دروازہ لگا تھا، سادہ مگر مضبوط۔ احسن وکیل بن چکا تھا۔ مریم بھی پڑھائی مکمل کر رہی تھی۔ فرزانہ جیسی کوئی بہن اس کہانی میں نہیں تھی، مگر نازیہ کی اپنی بیٹی مریم اس کی سب سے بڑی سہیلی بن گئی تھی۔ نازیہ اب بھی سلائی کرتی تھی، مگر مجبوری میں نہیں، عزت سے۔ اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کم ہو چکی تھی، آنکھوں کی تھکن کچھ کم ہوئی تھی، مگر دل پر لگے نشان کبھی مکمل مٹ نہیں سکے۔
ایک عید پر کامران اپنے بچوں کے ساتھ نازیہ کے گھر آیا۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی تھی، چہرے پر شرمندگی۔ نازیہ نے دروازہ کھولا۔ کچھ لمحے دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر کامران نے آہستہ سے کہا، “عید مبارک، بہن.”
نازیہ کے دل میں بہت کچھ ٹوٹ کر پھر سے جڑنے لگا۔ اس نے مٹھائی لے لی اور کہا، “عید مبارک.”
کامران کی بیٹی آگے بڑھی اور نازیہ کے ہاتھ چوم لیے۔ “پھوپھو، ابو نے ہمیں سب بتا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امانت کبھی نہیں کھانی چاہیے، چاہے اپنے ہی کی کیوں نہ ہو۔”
نازیہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے محسوس کیا کہ اس کی لڑائی صرف اپنے پلاٹ کے لیے نہیں تھی، اگلی نسل کے ضمیر کے لیے بھی تھی۔کامران اندر آیا، مگر اس بار وہ پہلے والا بڑا بھائی نہیں تھا جو حکم دیتا تھا۔ وہ ایک شرمندہ انسان تھا جو اپنی بہن کے گھر اجازت لے کر داخل ہو رہا تھا۔ نازیہ نے اسے چائے دی۔ دونوں کے درمیان بہت خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں اب نفرت کم اور سبق زیادہ تھا۔
اس رات مریم نے ماں سے پوچھا، “امی، کیا آپ نے ماموں کو معاف کر دیا؟”
نازیہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ “بیٹی، معافی ایک دن میں نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی انسان بار بار معاف کرتا ہے، ہر اس یاد کو جو واپس آ کر درد دیتی ہے۔ میں کوشش کر رہی ہوں۔”
مریم نے کہا، “کیا آپ انہیں دوبارہ پہلے جیسا بھائی سمجھ سکیں گی؟”
نازیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “پہلے جیسا کچھ نہیں ہوتا۔ ٹوٹا ہوا شیشہ جڑ بھی جائے تو نشان رہتا ہے۔ مگر نشان کا مطلب یہ نہیں کہ روشنی اندر نہیں آ سکتی۔”
اس کہانی کا سبق یہی ہے کہ اپنوں کا فریب سب سے گہرا زخم دیتا ہے، کیونکہ انسان دشمن سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اپنوں پر اعتماد کر لیتا ہے۔ رشتے بہت قیمتی ہوتے ہیں، مگر حق سے زیادہ قیمتی نہیں۔ بھائی، بہن، چچا، ماموں، شوہر، کوئی بھی ہو، اگر امانت میں خیانت کرے تو اسے محبت کا نام دے کر چھپانا ظلم ہے۔ اللہ ہم سب کو ایسے اپنوں سے محفوظ رکھے جو مسکرا کر دھوکہ دیتے ہیں، اور ہمیں اتنی ہمت دے کہ جب حق چھینا جائے تو ہم خاموشی کو تقدیر سمجھ کر نہ بیٹھ جائیں۔ کیونکہ انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، مگر اپنوں کا فریب روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:: جلن – حسد کی آگ میں جلتی عورت