Malik Safdar Hayat Urdu Novels 2

دستِ انتقام (ملک صفدر حیات)

ایک صبح ایک اے ایس آئی کا دس گیارہ سالہ لڑکا کسی کام سے تھانے آیا ۔اس نے دیکھا کہ اس کے باپ نے ایک نوجوان کو الٹا لٹکا رکھا ہے اور اس پر مختلف طریقوں سے تشدد کر رہا ہے۔ لڑکے نے کھڑکی سے یہ منظر دیکھا۔کچھ دیر وہاں کھڑا رہا۔ پھر خاموشی سے واپس چلا گیا۔ باپ کو نہ اس کے آنے کا پتہ چلا نہ جانے کا۔ شام کے وقت اے ایس آئی نے مجھے بتایا کہ اس کا بیٹا گھر سے بھاگ گیا ہے اور وہ اس کی تلاش میں سرگودھا جا رہا ہے۔ سرگودھا میں لڑکے کا ننھیال تھا اور اے ایس آئی کو پتہ چلا تھا کہ وہیں گیا تھا۔
میرے استفسار پر اے ایس آئی نے بتایا کہ صبح اس کا بیٹا پرویز تھانے آیا تھا اور اس سے ملے بغیر واپس چلا گیا تھا۔
گھر پہنچ کر اس نے ماں سے کہا۔ماں میں اس گھر میں نہیں رہوں گا۔
ماں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔۔ کیا بات ہے؟ تو اس گھر میں کیوں نہیں رہے گا؟ تیرے ابا نے تجھے مارا ہے؟
پرویز نے نفی میں سر ہلایا۔۔بولا۔مجھے تو نہیں مارا ۔پر ابا اچھا آدمی نہیں ہے۔۔میں اس گھر میں نہیں رہوں گا
ماں فکرمند ہوئی پوچھا ۔۔۔کچھ تو پتا تو چلے کہ ہوا کیا ہے۔۔؟
ابا بہت ظالم ہے۔۔ پرویز نے کہا ۔۔اور ایسا ظالم میرا باپ نہیں ہو سکتا ۔۔ وہ ایک آدمی کو الٹا لٹکا کر مار رہا تھا ۔۔اس نے رونا شروع کر دیا۔۔ بہت بری طرح مار رہا تھا۔۔ وہ آدمی چیخیں مار رہا تھا۔۔ پر ابا کو ذرا رحم نہیں آیا۔۔ میں نانا کے گھر جا رہا ہوں۔۔۔
اے ایس آئی بہت غصے میں تھا کہنے لگا۔ایک دفعہ تو میں اسے سیدھا کردوں گا ۔۔ اس عمر میں اسے اتنی بڑی بڑی باتیں آگئی ہیں۔۔ بڑا ہو کر کیا کرے گا۔۔
لڑکا حساس معلوم ہوتا ہے۔۔ میں نے کہا ۔۔اسے غلط فہمی ہو گئی ہے۔۔ تم اپنے سسر کے نام پرچی لکھ دو۔۔ میں کسی آدمی کو بھیج کر لڑکے کو بلوا لیتا ہوں۔۔
اے ایس آئی خود جانا چاہتا تھا۔۔ لیکن میں نے اسے سختی سے روک دیا ۔۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ جاتے ہی پہلے لڑکے کی پٹائی کرے گا۔۔ پھر کوئی دوسری بات کرے گا۔۔
میں نے ایک حوالدار کو سرگودھا بھیج دیا۔۔ جو اگلی صبح لڑکے کو لے کر واپس پہنچ گیا۔۔
ایک بات بتا دوں کہ پرویز نے اپنے باپ کو جس شخص پر تشدد کرتے دیکھا تھا۔۔ اس کا نام یونس تھا۔۔ اس نے 14 سالہ لڑکی کے کانوں سے بالیاں اتار کر اسے قتل کر دیا تھا۔۔بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس نے بالیاں نوچ لی تھیں۔۔ لڑکی کے دونوں کان پھٹے ہوئے تھے اور ان پر خون جما ہوا تھا۔۔یہ بات بعد میں معلوم ہوئی تھی۔۔ ملزم بالیاں بیچتا ہوا پکڑا گیا تھا۔۔ سنار نے جب بالیوں کا باریکی سے معائنہ کیا تو اسے ایک بالی پر معمولی سا خون لگا ہوا دکھائی دیا۔۔ جس سے اسے شک ہوا اس نے ملزم کو باتوں میں لگائے رکھا اور ایک آدمی کو ہمارے پاس بھیج دیا۔
اس سے چار دن قبل ایک چھ سالہ بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی ہم نے ملزم کو شک کی بنا پر گرفتار کرلیا اور لڑکی کے گھر والوں کو بالیاں دیکھائیں۔۔ انہوں نے فورا بالیاں پہچان لیں۔۔ وہ انہی کی بچی کی بالیاں تھیں ۔۔ملزم بالیوں کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ وہ بار بار بیان بدلتا تھا اور ہر بار اس کا بیان جھوٹا ثابت ہوتا تھا۔۔اس کے بیانات سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ اس نے لڑکی کو قتل کرکے لاش کہیں دفن کر دی تھی۔۔ جب مجھے اس کے مجرم ہونے کا پورا یقین ہو گیا تو میں نے اسے ایس آئی کے سپرد کر دیا۔۔ ہم یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اس نے لڑکی کی لاش کہاں دفن کی تھی۔۔
میں نے اے ایس آئی کے بیٹے پرویز کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ وہ گھر سے کیوں بھاگا تھا۔۔؟
میرا ابا بہت ظالم ہے۔۔ اس نے جواب دیا۔۔ میں اس کے پاس نہیں رہوں گا۔۔
میں نے پوچھا۔۔۔ تمہاری کوئی چھوٹی بہن ہے۔۔؟
دو ہیں۔اس نے جواب دیا۔ پھر ہاتھ سے اشارہ کر کے ان کے قد بتائے۔۔ ایک اتنی سی ہے۔ اور ایک اتنی ہے۔
اے ایس آئی نے بتایا کہ ایک دو سال کی ہے اور دوسری پانچ سال کی ہے۔۔
پرویز نے میرے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کی پانچ سالہ بہن کے کانوں میں سونے کی بالیاں ہیں۔۔
بیٹے ایک بات تو بتاؤ۔۔ میں نے کہا ۔۔اگر کوئی بدمعاش تمہاری بہن کی بالیاں نوچ لے۔۔ جس سے اس کے کان زخمی ہوجائیں تو تم کیا کروگے؟
اس نے بڑے جوش سے جواب دیا۔۔میں اس کو مار مار کر سور بنا دوں گا۔۔
اور اگر وہ بدمعاش تمہاری بہن کا گلا گھونٹ کر اس کی لاش جنگل میں پھینک دے تو پھر تم کیا کرو گے۔۔؟
میں اس کا خون پی جاؤں گا اس کو جان سے مار دوں گا۔ میں نے کہا۔ بیٹے کل تمہارا ابا جس بدمعاش کو مار رہا تھا اس نے ایک چھ سالہ لڑکی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر اسے قتل کر دیا ہے ۔۔اور اب یہ نہیں بتا رہا کہ لڑکی کی لاش اس نے کہاں چھپائی ہے۔۔ہم اس سے یہ بات معلوم کرنے کی کوشش رہے ہیں۔
یہ سن کر لڑکے کا غصہ جاتا رہا اور اس نے اپنے باپ سے معافی مانگ لی۔
چند روز کے بعد یونس نے اقبال جرم کرلیا اور ہم نے اس کی نشاندہی پر لڑکی کی لاش برآمد کر لی۔
جب قاتل کو پھانسی دی جاتی ہے تو وہ نہایت بے بس اور مظلوم نظر آتا ہے۔ اس وقت اچھے خاصے آدمی کو اس پر ترس آتا ہے۔کیونکہ اس وقت صرف تصویر کا ایک رخ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کے جرائم نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔
یہ تو قانون کی سزا کا ذکر تھا ۔۔قدرت کی سزا اس سے بھی سخت ہوتی ہے۔ان سزاؤں کو دیکھ کر بعض لوگ ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں اور بعض کے ہارٹ فیل ہو جاتے ہیں۔
انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک حویلی میں آگ لگ گئی۔وہ گرمیوں کا موسم اور دوپہر کا وقت تھا۔اس وقت اہل خانہ آرام کر رہے تھے۔ حویلی کی تعمیر میں لکڑی زیادہ استعمال کی گئی تھی ۔۔چھت کی کڑیاں۔۔ دیواری الماریاں ۔کھڑکیاں دروازے اور دو چھتی وغیرہ سب لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔اس کے علاوہ چارپائیاں بستر اور فرنیچر سمیت بے شمار چیزوں ایسی تھیں جو آگ پکڑنے والی تھیں۔
جس وقت آگ لگی اس وقت حویلی کے اندر درجن بھر کے قریب افراد تھے۔۔ ان میں صاحب خانہ چوہدری غلام قادر اس کی بیوی کلثوم بیگم اس کے دو بیٹے جمال اور فرید اور ایک بیٹی رضیہ شامل تھی۔۔ کہ اس کے علاوہ دو تین ملازم بھی تھے۔
چوہدری غلام قادر ایک دولت مند اور با اثر شخص تھا۔۔ ایسے لوگوں کے کی دشمن بھی ہوتے ہیں۔
آگ کا احوال بیان کرنے سے پہلے میں چودھری کا پس منظر آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آگ کے واقعے سے دو مہینے قبل ایک صبح ایک بوڑھی عورت تھانے میں آئی۔۔ اس نے روایتی انداز میں مجھے دعائیں دیں اور کہا۔۔۔تھانیدار پتر! میں ایک چھوٹی سی عرض لے کر تمہارے پاس آئی ہوں ۔۔
اس کی عمر 60 برس کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی۔۔ اس نے سادہ مگر صاف ستھرا لباس پہن رکھا تھا۔۔ چہرے مہرے سے وہ وضعدار اور جہاندیدہ عورت نظر آتی تھی۔۔ اس کی گفتگو میں بھی شائستگی پائی جاتی تھی۔۔۔
میں نے اسے کرسی پر بٹھایا اور کام پوچھا۔ ۔
اس نے اپنا نام سراج بی بی اور اپنے مرحوم شوہر کا نام چوہدری فضل حسین تھا۔۔
میرے شوہر کو فوت ہوئے اٹھارہ سال ہو چکے ہیں اس نے مزید کہا۔۔وفات سے پہلے اس پر چوہدری غلام قادر کی کچھ رقم واجب الادا تھی۔۔ اس قرض کے عوض ہم نے اپنی تین مربعے زمین چوہدری کے پاس رہن رکھی تھی۔۔ فضل حسین کی وفات کے بعد ہمارے مالی حالات ٹھیک نہیں رہے۔۔ لیکن میں نے قرضے کی قسطیں ادا کرنے میں کبھی سستی نہیں کی۔۔ پورے اٹھارہ سال سے قسطیں ادا کر رہی ہوں۔۔ لیکن چوہدری نے وہ ساری رقم سود کے حساب میں لگائی ہے ۔۔اس کا کہنا کہ اصل رقم میں سے ابھی تک ایک پیسہ بھی نہیں ادا نہیں ہوا۔۔میں انصاف کی تلاش میں تمہارے پاس آئی ہوں ۔۔۔ میں قرضہ ادا کرتے کرتے بوڑھی ہو گئی ہوں۔۔ میری زمین مجھے واپس بلا دوں میں ساری عمر تمہیں دعائیں دوں گی۔۔
وہ کچھ کاغذات وغیرہ بھی ساتھ لائی تھی۔۔ میں نے سرسری انداز میں ان کا معائنہ کیا۔۔۔ یہ بات بالکل صحیح تھی کہ وہ 18 سال سے قسطیں ادا کر رہی تھی۔۔ لیکن ان کا آغاز سے یہ پتہ نہیں چلا تھا کہ اصل رقم کتنی تھی اور اس کا کیا حساب تھا۔
بی بی۔ان کاغذات سے تو کچھ پتہ نہیں چلتا۔۔ میں نے کہا۔۔۔ قرضے کے کاغذات کس کے پاس ہیں۔۔؟
یہی تو سارا مسئلہ ہے۔۔ قرضے کے کاغذات چوہدری کے پاس ہیں۔۔ ہمیں نہیں دکھاتا۔۔ دس ہزار روپے اور مانگتا ہے۔۔ کہتا ہے کہ یہ رقم ادا کردوں تو زمین واپس مل جائے گی۔۔ 18 سال پہلے اس نے مجھے چھ ہزار روپے کا قرضہ بتایا تھا۔۔ اتنا کچھ دینے کے بعد اب بھی دس ہزار اور مانگتا ہے۔۔ اگر یہ بات مجھے پہلے معلوم ہوتی تو میں اپنی زمیں ہی چھوڑ دیتی۔۔
بی بی۔۔۔تم یہ مانتی ہوں کہ تمہارے شوہر میں چوہدری سے قرضہ لیا تھا۔۔ یہ بھی مانتی ہوں کہ یہ قرضہ سود پر لیا تھا۔۔اب سود کا حساب یہ ہے کہ اگر صرف سودا ادا کیا جائے اور اصل رقم میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا جائے تو سود کا حساب ساری عمر ختم نہیں ہو سکتا۔۔اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ دیوانی کیس ہے۔۔ ہم اس میں ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔۔
میں چوہدری پر مقدمہ نہیں کرنا چاہتی۔۔ سراج بی بی نے کہا۔۔میں تو صرف اس لئے تمہارے پاس آئی ہوں کہ تم چوہدری کو سمجھا بجھا کر ہماری زمین واپس دلا دو۔۔میں نے ایک پڑھے لکھے آدمی سے ان رسیدوں کا حساب لگوایا تھا ۔میں بیس ہزار سے اوپر رقم ادا کر چکی ہوں۔۔کل رقم چھ ہزار تھی۔۔ چودھری سے کہو کہ خدا سے ڈرے اور یتیموں کا مال واپس کر دے۔۔خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ یتیموں کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ ڈالتا ہے۔۔میرے دو بچے ہیں۔۔ شوہر کی وفات کے وقت دونوں بہت چھوٹے سے تھے۔۔میں نے بڑی مشقت سے انہیں پالا ہے۔۔اگر چوہدری ان کا حق نہیں دے گا تو یہ آگ اسے جلا ڈالے گی۔۔
تمہاری زمین کے کاغذات کس کے پاس ہے۔۔؟
وہ بھی چوہدری کے پاس ہیں۔۔
تمہارے پاس تو پھر کچھ بھی نہ ہوا۔۔ میں نے کہا۔۔ بہرحال تم اطمینان رکھو۔۔ میں چودھری سے بات کروں گا۔۔ تم دو چار دن کے بعد آنا۔۔ دیکھیں چوہدری کیا کہتا ہے۔
وہ دعائیں دیتی ہوئی رخصت ہو گئی۔
غلام قادر کے بارے میں جو رپورٹ مجھے ملی تھی وہ اچھی نہیں تھی۔۔وہ اپنے آپ کو بہت بڑا جاگیر دار سمجھتا تھا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔۔چونکہ معاملہ ایک بیوہ عورت اور یتیم بچوں کا تھا۔۔ اس لئے میں اس سے ملنے چلا گیا۔۔ میں نے سوچا شاید وہ میرے کہنے پر بیوہ عورت سے نرم رویہ اختیار کرنے پر تیار ہو جائے۔ایک ملازم نے مجھے کشادہ بیٹھک میں بٹھایا اور اندر خبر کرنے چلا گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد چودھری جھومتا جھامتا بیٹھک میں داخل ہوا ۔۔اس نے سفید قمیض اور سفید ہی دھوتی باندھ رکھی تھی۔مونچھیں خاصی گھنی تھیں۔۔قد چھ فٹ سے کچھ زیادہ ہی تھا۔۔اور عمر 70 سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی۔۔
اس نے پرجوش انداز میں مجھ سے ہاتھ ملایا اور گہری نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ ملک صاحب! آج ہماری حویلی کا راستہ کیسے بھول گئے؟
میں ادھر سے گزر رہا تھا۔۔ میں نے سوچا کہ آپ کو سلام کرتا چلوں۔۔
بڑی نوازش ہے آپ کی۔۔ کیا پئیں گے؟
تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
اس نے بھی زیادہ زور نہیں دیا۔۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔۔ پھر میں نے کہا۔۔ چودھری صاحب جب روز پہلے ایک بیوہ عورت میرے پاس آئی تھی۔
کون سی بیوہ عورت؟ اس نے آنکھیں پھیلائیں۔۔ اس بستی میں بیوہ عورتیں بہت ہوگئی ہیں۔۔
اس نے اپنے شوہر کا نام چودھری فضل حسین بتایا تھا۔۔اتنے میں ایک 35 36 سالہ شخص کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس نے بھی گھنی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور خاصہ قوی الجثہ شخص تھا۔۔۔
چوہدری نے اسے مخاطب کرکے کہا۔۔ پتر جمال۔۔ ملک صاحب کی بات سنی تم نے۔۔؟ یہ کہتے ہیں فضل حسین بھی چودھری تھا۔۔اوہ وہی وہی سراج بی بی کا بندہ۔۔
نووارد اس کا بیٹا جمال قادر تھا۔۔ اس نے مجھے سلام کیا اور صوفے پر بیٹھے ہوئے بولا۔۔ فضل حسین زندگی میں تو چودھری نہیں تھا۔۔ مرنے کے بعد چوہدری بن گیا ہو تو پتا نہیں۔۔ اس کی بیوہ تو لوگوں کے برتن مانجھ کر گزارا کرتی ہے۔۔
میں نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئےکہا۔۔ چوہدری صاحب میں نے سنا ہے کہ سراج بی بی کی زمین آپ کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے۔۔؟
جمال قادر نے پوچھا۔۔۔ کیا اس نے ہمارے خلاف کوئی پرچہ کٹوا دیا ہے۔۔؟
پرچہ وغیرہ تو نہیں کٹوایا۔۔ ویسے ہی میرے پاس آئی تھی کہہ رہی تھی کہ وہ 18 سال سے قسطیں ادا کر رہی ہے۔
ملک صاحب! آدمی ادھار لیتا ہے تو قسطیں بھی دینی پڑتی ہیں۔۔چودھری نے کہا۔۔ یہ ہماری شرافت ہے کہ ہم نے اپنا پیسہ وصول کرنے کے لیے کبھی سختی سے کام نہیں لیا۔۔
آپ نے زمین کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔۔
پتا نہیں آپ کس زمین کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔زمین کا حساب کتاب تو پٹواری کے پاس ہوتا ہے۔۔
میں جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔۔ آپ سچ کہتے ہیں۔۔ میں نے کہا ۔۔ مجھے پٹواری کے پاس جانا چاہیے تھا۔۔ آپ کو خواہ مخواہ کی تکلیف دی۔۔
اسے فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔۔ پٹواری کا ذکر کر کے اس نے مجھے راستہ دکھا دیا تھا ۔۔
ملک صاحب! آپ تو ناراض ہوگئے۔۔ اس نے اٹھ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ آپ بیٹھیں تو سہی۔۔
چودھری صاحب! بات یہ ہے کہ میری سراج بی بی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔۔ وہ میرے پاس ایک مسئلہ لے کر آئی تھی۔۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کی بات میں جھوٹ کتنا ہے اور سچ کتنا ہے۔۔۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ بات پسند نہیں آئی۔۔
ملک صاحب آپ وردی میں ہمارے گھر آئے ہیں۔۔ جمال قادر نے کہا ۔۔ اس لیے ہم یہی سمجھیں گے کہ آپ تھانیدار کی حیثیت سے ہمارے پاس آئے ہیں۔۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ ذاتی حیثیت میں یہاں آئے ہیں تو ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں ۔۔اور جس مسئلے کے سلسلے میں آپ آئے ہیں۔۔ اس کے بارے میں اتنا ہی بتانا کافی ہے کہ وہ قابل دخل اندازی پولیس نہیں ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ سراج بی بی نے ہم سے سود پر قرضہ لیا تھا۔وہ تو اسے ادا کرنا ہی پڑے گا۔۔اگر اسے اس معاملے میں کوئی سہولت جائے تو بڑی خوشی سے ہمارے پاس آ جائے۔۔ہم ہمدردی سے اس کی بات سنیں گے اور جو کچھ ہم سے ہو سکے گا وہ ضرور کریں گے۔۔
بڑے چودھری نے قدرے سوچتے ہوئے کہا۔۔میں تو اس عورت کا پردہ رکھتا رہا ہوں۔۔ مگر معلوم ہوتا ہے اسے اپنا پردہ منظور نہیں ہے ۔۔ قصہ یہ ہے کہ اس کا آدمی جس سے یہ اب چودھری کہتی ہے ۔۔ بہت بڑا جعلساز تھا۔۔ اس نے ایک بیوہ عورت کی جو اس کی دشتے دار تھی۔۔ چھ مربعے زمین جعلی کاغذات کے ذریعے ہمارے پاس فروخت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عین وقت پر ہمیں اس کی جعلسازی کا علم ہو گیا اور ہم نے زمین خریدنے سے انکار کردیا۔۔
بعد میں معاملہ پولیس تک پہنچ گیا پولیس نے فضل حسین اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔۔ہم بیعانہ دے چکے تھے ۔ فضل حسین نے اپنی بیوی کو میرے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ فی الحال وہ ہمارا بیعانہ واپس نہیں کر سکتا۔سراج بی بی نے میرے پیر پکڑ لیے۔۔کہنے لگی۔۔چوہدری صاحب آپ کے پیسے میں واپس کر دوں گی۔۔ آپ مجھ سے پکا کاغذ لکھوا لیں۔ مگر میرے آدمی کے خلاف عدالت میں گواہی نہ دیں۔۔ اسے اپنی غلطی پر بہت افسوس ہے۔۔ مجھے اس عورت پر رحم آگیا۔۔ میں نے اس کی عزت کا خیال کرتے ہوئے فضل حسین کے خلاف گواہی نہیں دی۔۔ لیکن پھر بھی اسے سات سال کی سزا ہوگئی۔۔جو رقم اس نے بطور بیعانہ مجھ سے لی تھی۔وہ تھانے کچہری کے چکر میں خرچ ہوگئی۔۔ بلکہ سراج بی بی نے ہم سے کچھ اور قرضہ بھی لیا۔پانچ سال کے بعد فضل حسین کا جیل میں انتقال ہوگیا۔۔اس کا ایک چھوٹا بھائی بھی تھا۔۔تجمل حسین اس کا نام تھا۔۔ اس کا بھی آوارہ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔۔ فضل حسین کی موت کے ایک سال بعد وہ اپنے کسی ساتھی کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔۔اب یہ بیوہ عورت رہ گئی ہے۔۔ہماری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔ قرضے کے حساب میں یہ جو کچھ بھی دیتی ہے وہ ہم لے لیتے ہیں۔۔ بیوہ عورت تو پریشان کرنے کا کیا فائدہ۔۔
چھوٹے چوہدری نے کہا۔۔ ملک صاحب! یہ بیس سال پرانا قصہ ہے۔۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا لیکن مجھے ساری باتیں یاد ہیں۔۔
انہوں نے مجھے سارے قصے سنا دیے تھے ۔مگر زمین کا ذکر ایک بار بھی نہیں کیا تھا۔۔ یعنی سراج بی بی کی زمین کا۔۔۔۔ میں نے اس بات پر زیادہ زور دینا مناسب نہیں سمجھا اور واپس آگیا۔ ۔
تین چار روز بعد سراج بی بی میرے پاس آئی تو میں نے اسے چودھری غلام قادر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں بتایا۔۔وہ یہ بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گئی پھر اس نے اپنے شوہر کی جعلسازی اور چوہدری کے بیعانہ کے بارے میں ایک نئی کہانی سنائی۔۔
تھانیدار پتر۔میری بات میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ۔ اس نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا۔۔ اس بستی میں ابھی بھی اس واقعے کئی گواہ موجود ہیں۔۔سب سے بڑا گواہ محمد حسین پٹواری ہے۔۔ اس کے علاوہ ماسٹر محمد طفیل جنجوعہ اور رحمت علی صراف بھی ابھی زندہ ہیں۔۔تم ان لوگوں سے بے شک پوچھ لو اگر میری بات غلط ہو تو جو چاہے سزا دینا۔
محمد حسین پٹواری ریٹائر ہو چکا تھا اور کبھی کبھار مجھ سے ملتا رہتا تھا۔۔وہ خاصا بوڑھا آدمی تھا اور دل میں خوف خدا رکھتا تھا۔۔ایک روز میں نے اس سے سراج بی بی اور چوہدری غلام قادر کے تنازعے کا ذکر کیا۔۔چونکہ وہ ان دنوں پٹواری تھا اس لیے اس نے تفصیل سے ساری بات بتائی۔۔اس کے بیان سے سراج بی بی کے بیان کی تصدیق ہوتی تھی۔۔
اس کے علاوہ میں نے چند اور بوڑھے لوگوں سے بھی بات چیت کی۔۔ ان سب لوگوں کے بیانات سے جو کہانی سامنے آئی وہ میں اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔۔
زمینداروں کی دو پارٹیوں میں لڑائی کے نتیجے میں فریقین کے پانچ آدمی مارے گئے ۔ایک فریق کے تین آدمی کام آئے ان تین آدمیوں کی موت کے بعد خاندان میں ایک بھی مرد باقی نہیں رہا۔۔صرف سربراہ خاندان کی بوڑھی بیوی زندہ بچی۔۔اس کے دو جوان بیٹے اور شوہر نگاہ میں ہلاک ہوگئے ۔۔ اس عورت کا نام حرمت بیگم تھا۔۔ہنگامے کے فورا بعد اس نے اپنی حویلی ملازموں کے سپرد کیا اور اپنی بیٹی کے ہمراہ شہر منتقل ہو گئی۔ اسے ڈر تھا کہ مخالف پارٹی اسے بھی ختم نہ کر دے۔۔
چوہدری غلام قادر ان دونوں پارٹیوں کے بارے میں غیر جانبدار تھا۔۔اس نے دیکھا کہ حرمت بیگم کی زمین سنبھالنے والا کوئی شخص نہیں بچا تھا۔مرد لڑائی میں مارے گئے تھے اور جو ہوشیار اور وفادار ملازم تھے ان کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔۔مالک پیچھے نہ ہو تو ملازموں کی ضمانتیں مشکل ہی ہوا کرتی ہیں۔۔
حرمت بیگم کو بے سہارا دیکھ کر چوہدری غلام قادر نے اس سے تعلقات بڑھانا شروع کر دیے۔۔ لیکن درحقیقت اس کی نظر حرمت بیگم کی زمینوں پر تھی۔۔ ایک آدھ سال میں اس نے اس کی زمینوں کا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں کرلیا۔۔وفادار ملازموں کی چھٹی کردی اور ان کی جگہ پر اپنے مطلب کے آدمی رات لیے۔۔
سراج بی بی کا شوہر فضل حسین ایک ہوشیار آدمی تھا اور محکمہ مال میں ملازم تھا۔۔اس نے ملازمت کے دوران چند مربعے زمین بھی خرید لی تھی۔۔اس کا چوہدری غلام قادر کے ساتھ خاصہ میل ملاپ تھا۔
ایک روز چوہدری غلام قادر نے اسے کھانے پر بلایا اور کھانے کے بعد کہا۔۔فضل حسین ہمارا ایک چھوٹا سا کام اٹکا ہوا ہے۔آپ کوشش کریں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔ فضل حسین نے کہا۔۔ آپ کا کام ہو اور اٹک جائے۔ حکم کریں۔ کیا کام ہے؟
زمین کے انتقال کا معاملہ ہے۔۔ چودھری نے تامل کرتے ہوئے کہا۔۔ ویسے زمین تو ہمارے ہی قبضے میں ہے۔۔ میں چاہتا ہوں کے کاغذات بھی ہمارے نام ہو جائیں۔۔
فضل حسین ہولے ہولے سرہلانے لگا بولا۔۔۔ غالباً آپ حرمت بیگم کی زمین کی بات کر رہے ہیں۔۔
آپ نے بالکل صحیح اندازہ لگایا ۔۔ ہمیں اس سے زمین کے کاغذات کی نقول چاہیں۔۔
جعلی خریداری۔۔۔؟
چوہدری نے اثبات میں سر ہلایا۔۔بولا۔۔یہی بات ہے۔۔ ویسے ہم حرمت بی بی کو کچھ نہ کچھ دیتے رہیں گے۔۔آٹھ دس سال تک اس کا اس جعلسازی کی طرف دھیان نہیں جائے گا۔۔ وہ بوڑھی عورت ہے جلدی اللہ کو پیاری ہو جائے گی۔۔
آپ کا کام ہو جائے گا فضل حسین سوچتے ہوئے بولا۔۔بڑے آرام سے ہو جائے گا ۔۔ زمین کتنی ہے۔؟
زیادہ نہیں ہے پانچ چھ مربعے ہوگی چوہدری نے کہا۔۔کام زیادہ نہیں ہے۔۔ آپ کو ایک ہزار روپے مل جائیں گے لیکن یہ بات راز میں رہنی چاہیے۔۔
چوہدری صاحب۔۔ کاغذات تو میں کل ہی آپ کو پہنچا سکتا ہوں لیکن صرف کاغذات سے آپ کا کام نہیں بنے گا۔۔ آپ کو دس جگہ جانا پڑے گا اور ہر جگہ پیسے خرچ کرنا پڑیں گے۔۔ میں آپ کا سارا کام کروا دیتا ہوں ۔۔۔انتقال کے مکمل کاغذات آپ کو بغیر کسی محنت کے مل جائیں گے۔۔
یہ ہو جائے تو پھر کیا ہی بات ہے۔۔ کل کتنی رقم خرچ ہو جائے گی۔۔؟
میں آپ سے دو ہزار روپے فی مربع لوں گا۔۔۔
وہ نہری زمین تھی اور خاصی زرخیز تھی۔۔چوہدری نے فضل حسین کو دس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا اور نصف رقم پیشگی ادا کردی۔۔
فضل حسین نے چند روز کے اندر کاغذات تیار کروا لیے۔۔ جعلی دستخط ہو گئے ۔۔ مہریں لگ گئیں۔ ضروری اندراجات ہوگئے ۔۔لیکن آخری موقع پر اس جعلسازی کا پول کھل گیا۔۔
پولیس نے فضل حسین اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا
۔ نیز جعلی کاغذات اپنے قبضے میں کر لئے۔۔
چوہدری فورا تھانے پہنچا اور فضل حسین سے علیحدگی میں کہا۔۔فضل حسین کا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔۔ میں آپ کو بڑے آرام سے بری کروا لوں گا۔لیکن اس کیس میں میرا ذکر نہیں آنا چاہیے۔۔
آپ کا ذکر تو ضرور آئے گا۔۔ فضل حسین نے کہا۔۔ کیونکہ کاغذات آپ ہی کے نام بنائے گئے تھے ۔۔
میرا یہ مطلب ہے کہ جعلسازی کے ضمن میں میرا ذکر نہیں آنا چاہیے۔۔ آپ کے بیان میں یہ اقرار ہونا چاہیے کہ میں جعلسازی میں شامل نہیں تھا۔۔ آپ پر جعل سازی کا الزام تو آہی چکا ہے۔۔ میرے اس الزام میں شامل ہونے سے کیس کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔میں اس الزام سے باہر رہ کر آپ کی زیادہ مدد کر سکتا ہوں۔۔
لیکن آپ اپنے آپ کو اس الزام سے کیسے بری ثابت کریں گے۔۔؟مجھے تو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔۔
میں وکیل سے مل کر کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوں گا ۔۔
میں ایک شرط پر سارا الزام اپنے سر لے سکتا ہوں۔۔ فضل حسین نے کہا ۔۔ اگر کیس میرے خلاف ہو گیا تو آپ اس رقم کا مطالبہ نہیں کریں گے جو میں آپ سے پیشگی وصول کرچکا ہوں ۔۔
رقم کی فکر مت کرو دولت آنی جانی شے ہے۔۔
فضل حسین چودھری کی باتوں میں آگیا اور اس کی مرضی کے مطابق بیان دے دیا۔۔
اس بیان سے چودھری ناصرف قانون کی گرفت سے بچ گیا بلکہ اس سے اسے حرمت بیگم کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کا جواز بھی مل گیا۔۔
اس نے حرمت بیگم کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا۔۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص آستین کا سانپ ثابت ہوگا ۔۔جب اسے معلوم ہوا کہ آپ کی زمینوں کا انتظام میرے ہاتھ میں ہے تو اس نے اپنی سرکاری حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کی زمین کے کاغذات نکلوائے اور میرے نام خریداری کے جعلی کاغذات تیار کروا کے میرے پاس پہنچ گیا۔۔کہنے لگا دس ہزار روپے دے دیں اور زمین کے مالک بن جائیں۔اگر میں اس شخص کو لعن طعن کرکے بھگا دیتا تو پھر یہ کسی اور سے سودے بازی کرنے کی کوشش کرتا۔لہذا میں باظاہر خریدار بن گیا اور ثبوت ہاتھ میں آنے کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا ۔
بوڑھی حرمت بیگم نے کہا۔۔چوہدری صاحب اللہ آپ کو اس نیک کام کا اجر دے گا۔شوہر اور جوان بیٹوں کی موت کے بعد میں زمین کے جھگڑوں سے دور ہی رہنا چاہتی ہوں۔۔ اگر ہماری آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ ہوتا تو میں یہ زمین فوراً فروخت کر دیتی۔۔
آپ اطمینان رکھیں۔۔ چودھری نے کہا۔۔ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی شخص آپ کی زمین پر بری نظر نہیں ڈال سکتا۔۔
حرمت بی بی کو مطمئن کرنے کے بعد وہ فضل حسین کی بیوی سے سراج بی بی کے پاس پہنچا اور اسے پانچ ہزار روپے کی وہ رسید دکھائی جو اس نے فضل حسین سے حاصل کی تھی۔۔
سراج بی بی کو یہ بات معلوم تھی کہ اس کا شوہر رشوت بھی لیتا تھا اور کبھی کبھار جعلسازی بھی کر لیتا تھا۔۔
چوہدری نے کیس کی تفصیل بتانے کے بعد کہا۔۔ پولیس یہ چاہتی ہے کہ میں تمہارے شوہر کے خلاف بیان دوں۔۔ لیکن ابھی تک میں نے کوئی بیان نہیں دیا۔۔ یہ رسید تمہارے شوہر کے جرم کا پکا ثبوت ہے۔۔ اگر میں نے یہ رسید عدالت میں پیش کر دی اور اس کے خلاف بیان دے دیا تو وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا۔۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ بری ہوجائے۔۔
چوہدری صاحب آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔۔ سراج بی بی نے کہا۔۔ آپ کسی طرح اسے سزا سے بچا لیں۔۔
میں تو یہی چاہتا ہوں۔۔ چوہدری نے چالاکی سے کہا۔۔ لیکن فضل حسین میری بات نہیں مانتا۔۔ وہ میرے خلاف بیان دینے پر تلا ہوا ہے۔۔ کہتا ہے کہ میں یہ پانچ ہزار روپے اسے معاف کر دوں ورنہ وہ مجھے بھی اپنے جرم میں شامل کر لے گا۔۔ میں اسی مسئلہ کے سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں۔۔
سراج بی بی کا بیان چوہدری کی توقع کے عین مطابق تھا۔۔ اس نے کہا چودھری صاحب آپ پیسوں کی فکر نہ کریں آپ کا قرضہ میں ادا کروں گی ۔۔ فضل حسین کے علاوہ ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے۔۔
وہ تو ٹھیک ہے۔۔ مگر بات پکی ہونی چاہئے۔۔ یہ نہ ہو کے بری ہونے کے بعد فضل حسین رقم دینے سے انکار کردے۔۔۔
آپ مجھ سے کاغذ لکھوا لیں۔۔
خالی کاغذ لکھوانے سے کیا ہوتا ہے۔۔ کاغذ کے ساتھ کوئی ضمانت بھی ہونی چاہیے۔۔
سراج بی بی نے پریشانی سے پوچھا کیسی ضمانت۔۔۔؟
چوہدری نے سوچنے کی اداکاری کی۔۔ حالانکہ ساری بات اس نے پہلے ہی سوچ رکھی تھی بولا۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ فضل حسین کے پاس پانچ مربعے بنجر زمین پر پڑی ہے ۔۔ میں تمہاری وہ زمین پانچ ہزار روپے کے عوض رہن رکھ سکتا ہوں ۔۔ اگر تم اس پر راضی ہو تو میں پکا کاغذ تیار کروا لیتا ہوں ۔۔۔ لیکن یہ کام آج ہی ہو جانا چاہیے۔۔
سراج بی بی سخت پریشان تھی وہ زمین رہن رکھنے پر تیار ہوگئی۔۔۔
شام کے وقت چوہدری پکا کاغذ لے کر سراج بی بی کے پاس پہنچ گیا۔۔ اس کے ساتھ اس کا وکیل اور دو گواہ بھی تھے۔۔ ایک گواہ فضل حسین کا چھوٹا بھائی تجمل حسین تھا۔۔
اس نے چلاکی یہ کی کہ فضل حسین کے چھوٹے بھائی کو بھی ہمدردی کا فریب دے کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔۔پٹواری نے بتایا کہ تجمل حسین لالچی آدمی تھا ۔۔ چودھری نے اسے کچھ پیسے بھی دیئے تھے۔۔ اسٹامپ پیپر پر دستخط ہوگئے اور سراج بی بی نے زمین کے کاغذات چودھری کے حوالے کر دیے تو اس کے وکیل نے قرضے کی شرائط پڑھ کر سنائیں۔ان شرائطِ میں سے ایک شرط سود کی تھی اور رقم چھ ہزار روپے رکھی گئی تھی۔۔
سراج بی بی نے اس پر اعتراض کیا۔۔ چوہدری صاحب۔ آپ نے سود کا ذکر تو نہیں کیا تھا اور رقم بھی آپ نے زیادہ لکھی ہے۔۔
رقم کی بات یہ ہے کہ مجھے تمہارے شوہر کی رہائی کے لئے بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی۔۔وکیل۔۔۔۔۔ پولیس۔۔۔۔۔۔ کچہری۔۔۔۔ ان سب جگہوں پر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔۔اور جہاں تک سود کا تعلق ہے تو یہ کاروباری بات ہے ۔۔ اگر میں یہی رقم کسی کاروبار میں لگاؤں گا تو مجھے اس معمولی سود سے زیادہ فائدہ ہوگا۔۔ ویسے میں تمہیں چھ مہینے کی چھوٹ دے سکتا ہوں۔۔ اگر تم چھ مہینے تک قرض ادا کر دو تو میں کوئی سود نہیں لوں گا۔۔ آگے جو تمہاری مرضی۔۔۔ چاہو تو اپنے کاغذات واپس لے لو۔۔
سراج بی بی نے اپنے دیور تجمل حسین سے مشورہ کیا۔۔ وہ تو چودھری سے پیسے کھائے بیٹھا تھا ۔۔اس نے بھاوج کو وہی مشورہ دیا جو چودھری کے مفاد میں جاتا تھا۔۔
سراج بیوی کو مجبوراً ساری شرائط ماننا پڑیں۔۔
رخصت ہونے سے پہلے چودھری نے سراج بی بی اور تجمل حسین سے علیحدگی میں کہا۔۔ اس لکھت پڑھت کا کسی اور کو نہیں پتہ چلنا چاہیے۔۔ اگر فضل حسین تک یہ بات پہنچ گئی تو وہ غصے میں اپنا کیس خراب کر لے گا۔۔
دونوں نے راز داری کا وعدہ کیا اور چوہدری اپنی کامیابی پر خوش خوش وہاں سے رخصت ہو گیا۔۔
میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے دنیا کی فراخی عطا کی ہے ان میں سے بعض غریبوں پر ظلم کر کے ایک خاص لذت محسوس کرتے ہیں اور اس بات کی بالکل پروا نہیں کرتے کہ اس کائنات کے مستحب اعلی ایک دن آپ کے عملوں پر انہیں پکڑنے والا ہے۔۔
اپنے قرضے کی وصولی کا پکا انتظام کرنے کے بعد چوہدری غلام قادر نے عدالت میں جو بیان دیا وہ سراسر فضل حسین کے خلاف تھا۔۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ فضل حسین حرمت بی بی کے نمائندے کی حیثیت سے اس کے پاس آیا تھا۔۔ اسے اس کی جعلسازی کا بعد میں علم ہوا تھا۔۔
جیسا کے میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں فضل حسین کو جعلسازی کے جرم میں سات سال کی سزا ہو گئی اور سزا کے پانچ سال بعد اس کا جیل میں انتقال ہوگیا۔۔
اس کی وفات کے بعد اس کے چھوٹے بھائی تجمل حسین نے چودھری سے بھائی کی زمین کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا۔لیکن چودھری کی نیت خراب تھی۔ وہ زمین واپس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تجمل حسین کے بارے میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ خاصا سخت مزاج آدمی تھا اور کچھ جرائم پیشہ لوگوں سے اس کے تعلقات بھی تھے۔۔ اس نے چوہدری سے کہا کہ وہ اس کے قرضے کی آدھی رقم پہلے ادا کر دے گا اور آدھی زمین کا قبضہ ملنے کے بعد۔۔
غالباً وہ زمین فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ اس ضمن میں اس نے اپنی بھابی کو بھی راضی کر لیا تھا لیکن نیت اس کی بھی اچھی نہیں تھی۔۔اس نے ادھر ادھر سے دباؤ ڈال کر چودھری کو زمین واپس کرنے پر راضی کرلیا تھا۔مگر چند ہفتوں کے بعد کسی نے اسے بے خبری میں وار کر کے ہلاک کر دیا۔۔
دیور کی موت کے بعد سراج بی بی نے خود کو بالکل بے سہارا محسوس کرنا شروع کر دیا۔۔ اس وقت اس کے صرف دو بچے تھے ۔۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔۔ جب فضل حسین کو سزا ہوئی تو ان کی عمر بلترتیب تیرہ اور نو سال تھی۔۔ لڑکا چھوٹا تھا۔۔
یہ تھا وہ پس منظر جو میں آپ کو بتلانا چاہتا تھا۔۔ جب چوہدری غلام قادر نے سراج بی بی کی زمین کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا تو میں نے سراج بیوی کو مشورہ دیا کہ وہ تحصیلدار کے دفتر سے اپنی زمین کے بارے میں پتہ کرے اور کوشش کرکے زمین کے کاغذات کی نقول حاصل کرلے۔ایسا نہ ہو کہ چوہدری جعلی کاغذات کے ذریعے زمین اپنے نام کروا لے۔
اس کے چند روز بعد سراج بی بی میرے پاس آئی اور بتایا کہ چوہدری اس کے پاس آیا تھا۔۔
وہ چاہتا ہے کہ میں زمین اس کے ہاتھ فروخت کر دوں۔۔ اس نے مزید کہا۔۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے محنت کرکے زمین کو قابل کاشت بنایا ہے اس لیے وہ زمین واپس نہیں کر سکتا ۔۔
پندرہ بیس سال پہلے وہ زمین بنجر پڑی تھی۔۔ لیکن ان دنوں نئی نہر کی کھدائی سے وہ زمین زرخیز ہو گئی تھی اور اس کی قیمت میں خاصا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔
میرے استفسار پر سراج بی بی نے بتایا کہ چوہدری نے اسے دس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔۔ یعنی قرض ختم سمجھا جائے گا اور دس ہزار نقد مل جائیں گے۔۔
لیکن سراج بی بی زمین چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔۔ وہ اور اس کی اولاد 17 18 سال سے زمین کی واگزاری کی امید لگائے بیٹھے تھے۔۔انہیں توقع تھی کہ زمین حاصل ہونے کے بعد ان کے بھی دن پھر جائیں گے۔۔
سراج بی بی نے مجھے پرنم آنکھوں سے بتایا کہ اس کا بیٹا 13 14 سال کی عمر سے کام کر رہا تھا۔۔ اس کی بیٹی سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھی۔۔ وہ خود بھی اٹھارہ سال سے محنت مشقت کر رہی تھی اور ان کی آمدنی میں سے آدھا حصہ زمیندار کی جیب میں چلا جاتا تھا۔ صرف اس امید پر کے ایک دن ان کی زمین واپس مل جائے گی اور ان کے گھر میں بھی خوشحالی آجائے گی لیکن اب چوہدری زمین واپس کرنے پر تیار نہیں تھا۔۔
اس قسم کے حالات دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے۔۔ وہ کیسا انسان تھا جو 18 سال سے ایک بیوہ اور دو یتیموں کی نصف آمدنی کھا رہا تھا اور اب ان کی زمین واپس کرنے پر تیار نہیں تھا۔۔
میں بحیثیت تھانے دار کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔ کیونکہ وہ دیوانی کیس تھا۔اگر معاملہ عدالت میں جاتا تو اس نے یقیناً برسوں لگ جاتے اور حاصل پر بھی کچھ نہ ہوتا۔۔
میں نے علاقے کے دو معتبر آدمیوں سے کہا کہ وہ اس بیوہ کی مدد کرے اور اس کی زمین واپس دلانے کی کوشش کریں۔۔اگر چوہدری وہ زمین خریدنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ موجودہ قیمت لگائے۔۔
وہ دونوں معتبرین ناکام واپس آگئے۔۔چوہدری نے نا صرف زمین کے معاملے میں تعاون کرنے سے انکار کردیا۔۔ بلکہ میرے بارے میں دھمکی آمیز کلمات بھی کہے۔۔اس نے کہا۔۔ ملک سے کہہ دینا کہ ہمارے معاملے میں دخل اندازی نہ کرے۔۔ ورنہ میں اسے لائن حاضر کروا دوں گا۔۔ اتنی پہنچ ہے میری۔۔۔
اس کے دو تین روز بعد وہ تھانے پہنچا اور بغیر کسی تمہید کے بولا۔۔ ملک صاحب میں ایک شخص کے خلاف پرچہ کٹوانا چاہتا ہوں۔۔ اس نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے۔۔
میں نے پوچھا اس شخص کا نام پتہ کیا ہے۔۔؟ میں اسے ابھی تھانے میں بلوا لیتا ہوں۔۔؟
اس کا خیال تھا کہ میں اس کی بات سن کر رپورٹ لکھنے میں پس و پیش کروں گا۔۔میرے جواب سے اس کے چہرے کی سختی جاتی رہی۔۔وہ میری میز کے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔ اور بولا اس کا نام اشرف ہے۔۔
میں نے فوراً حوالدار کو اپنے کمرے میں بلایا۔۔ چودھری غلام قادر سے اشرف کا پتہ پوچھ کر اسے نوٹ کرایا اور کہا۔۔ ایک آدمی اپنے ساتھ لے جاؤ اور اس شخص کو پکڑ کر تھانے لے آؤ۔۔
حوالدار کے جانے کے بعد میں نے چودھری کے لیے بوتل منگوائی اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں سراج بی بی کی زمین کا ذکر نہ اس نے کیا نہ میں نے۔۔
تقریباً نصف گھنٹے کے بعد حولدار ایک دبلے پتلے نوجوان کو ساتھ لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔نوجوان کی عمر 27 سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی۔۔ وہ ان مسکین لوگوں میں سے معلوم ہوتا تھا جن کی ساری زندگی دوسروں کی چاکری میں گزر جاتی ہے ۔۔ اور وہ اپنے رویے کی وجہ سے پیدائشی خدمت گار معلوم ہوتے ہیں۔۔
وہ خوفزدہ سا کمرے میں داخل ہوا۔۔ جب اس کی نظر چودھری پر پڑی تو قدرے جھکا۔ کندے تھوڑے سے اونچے کیے اور عاجزانہ انداز میں دونوں ہاتھ سلام کے لئے بڑھائے لیکن چودھری میں دوسری طرف منہ پھیر لیا۔۔
ادھر بات کرو۔۔ اس نے میری طرف اشارہ کیا۔ تمہیں تھانے دار صاحب نے بلایا ہے۔۔
نوجوان نے جھک کر سلام کیا اور ادب سے میرے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔۔ میرا تجربہ کہہ رہا تھا کہ وہ نوجوان کوشش کرکے بھی کسی کو دھمکی نہیں دے سکتا۔۔
میں نے پوچھا۔۔کیا نام ہے تمہارا۔۔؟
جی۔ میرا نام اشرف حسین ہے۔۔ اس نے جواب دیا۔۔
کیا کام کرتے ہو۔؟
جی خراد کا کام کرتا ہوں لاہور کے ایک کارخانے میں ۔۔۔
ان کو چوہدری صاحب کو جانتے ہو۔؟
جی۔۔ بڑی اچھی طرح جانتا ہوں۔۔ ان سے ہمارے بڑے پرانے تعلقات ہیں۔۔ میں چھوٹا سا تھا۔ جب یہ پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے تھے۔۔ پر آج انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔۔
اوئے۔۔ زیادہ باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ چوہدری نے اسے ڈانٹا۔۔ ملک صاحب جو سوال کرتے ہیں اتنا ہی جواب دو۔۔
بہت اچھا چوہدری صاحب۔۔ اس نے پہلی دفعہ سپاٹ لہجے میں کہا۔۔ مجھے آپ کیا ڈانتے ہیں۔۔ میں تو ویسے ہی آپ کا نوکر ہوں۔ حکم کا بندہ ہوں۔۔
اشرف حسین۔۔ کیا تم نے چودھری صاحب کو قتل کی دھمکی دی ہے ۔؟
میں نے قتل کی دھمکی! اس نے حیرانی سے کہا۔۔نہیں جناب ہرگز نہیں۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ چودھری صاحب میرے بزرگ ہیں۔۔میں ان کی بڑی عزت کرتا ہوں ۔۔
میں نے چودھری سے پوچھا یہ کون ہے؟ کیا اس سے آپ کا کوئی تنازع چل رہا ہے ۔۔؟
ملک صاحب۔۔ یہ اس بڑھیا کا بیٹا ہے ۔۔جو روز آپ کے پاس آنسو بہانے آ جاتی ہے ۔۔۔ وہی سراج بی بی۔
اچھا۔۔ اچھا یہ بات ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ ان لوگوں نے اپنی زمین آپ کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے ۔
وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔۔
یہ دھمکی اس نے کس سلسلے میں دی ہے۔؟
جناب! میں نے کوئی دھمکی نہیں دی۔۔
تم ذرا صبر کرو۔۔ میں نے چودھری کو سنانے کے لئے سخت لہجے میں کہا۔۔۔ میں چوہدری صاحب سے بات کر رہا ہوں۔۔
چوہدری ذرہ خوش ہوا۔۔ وہ سمجھا کہ میں اس سے دب کر بات کر رہا ہوں بولا۔۔ملک صاحب یہ ان پڑھ اور جاھل آدمی ہیں اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ میں اس کے باپ کے لیے کیا کچھ کر چکا ہوں ۔۔ مجھے کیوں دھمکی دی ہے اس کی وجہ تو یہی جانے۔لیکن میرے پاس گواہ موجود ہیں۔۔ آپ اس کے خلاف پرچہ کاٹیں اور ضروری کارروائی کریں۔۔دھمکی کی وجہ خود بخود سامنے آ جائے گی۔
اشرف حسین پریشانی کے عالم میں کبھی میری طرف دیکھتا تھا اور کبھی چوہدری کی طرف۔
میں نے ہیڈ کلرک کو بلایا اور کہا کہ وہ چوہدری صاحب کی رپورٹ روزنامچے میں درج کر لے۔۔ میں نے چودھری کے ساتھ ہمدردانہ رویہ برقرار رکھا اور رپورٹ میں رہن شدہ زمین اور قرضے کا ذکر بھی کر دیا۔۔ میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا تھا کہ سراج بی بی نے اپنی تین مربع زمین چھ ہزار روپے میں چوہدری غلام قادر کے پاس رہن رکھی تھی اور اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود قرضہ ادا نہیں کر پائی تھی۔۔ اس کے بیٹے اشرف حسین کے دل میں اس وجہ سے رنجش پائی جاتی تھی اور اس نے چوہدری کو قتل کی دھمکی دی تھی۔
رپورٹ درج ہوگئی اور چوہدری نے اس پر دستخط بھی کر دیئے۔۔ اگلے روز میں نے چوری کے بتائے ہوئے گواہوں کے بیانات بھی لے لیے اور ان سے بھی یہ بات کی کہلوالی کے سارا جھگڑا مرہونہ زمین کی وجہ سے تھا۔۔
اشرف حسین کو میں نے کچھ دیر تھانے میں بٹھائے رکھا اور پھر یہ سمجھا کر گھر بھیج دیا کہ وہ ایک دو روز گھر سے باہر نہ نکلے۔۔
تیسرے روز میں نے سراج بی بی کو تھانے بلایا اور اس کی طرف سے چوہدری غلام قادر کے خلاف خیانت مجرمانہ کا پرچہ کٹوا دیا۔۔اس رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا۔۔
چوہدری غلام قادر نے 18 سال قبل چھ ہزار روپے کے عوض سراج بی بی کی تین مربعے زمین رہن رکھی تھی۔۔مدعاعلیہ یعنی چوہدری نے مدعیہ کے نا خواندہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رسید میں سود کی شرط بھی شامل کر دی تھی۔۔مدعیہ اصل رقم سے کہیں زیادہ رقم ادا کر چکی تھی۔۔رہن اور قرضے کے معاہدے کے مطابق چوہدری کو زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن چوہدری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مدعیہ کی زمین کو گزشتہ 18 سال سے استعمال کر رہا تھا۔مدعیہ نے درخواست کی تھی کہ مدعا علیہ سے نہ صرف اس کی زمین واپس دلائی جائے بلکہ 18سال کی پیداوار کا کم از کم نصف حصہ بھی دلایا جائے۔
یہ رپورٹ درج کرنے کے بعد میں نے ایک تند مزاج۔۔۔ اے ایس آئی کو تفتیش کے لئے بھیج دیا اور اس کو سمجھا دیا کہ وہ چوہدری کے ساتھ ہرگز کوئی نرمی نہ کرے۔۔
چند گھنٹوں کے بعد اے ایس آئی واپس آگیا اور بتایا کہ چوہدری نے اسے لمبی چوڑی رشوت کی پیشکش کی تھی۔۔
میں نے پوچھا تم نے کیا جواب دیا۔۔؟
میں نے رشوت لینے سے صاف انکار کر دیا اس نے مجھے بتایا یہ سن کر اس نے مجھے دھمکیاں دینے کی کوشش کی۔۔ اس پر میں نے بھی سختی سے بات کی اور کہا کہ یہ معاملہ ہمارے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔۔ہمیں اوپر سے ہدایت ملی ہے کہ بیوہ کے ساتھ انصاف کیا جائے۔۔میرا خیال ہے کہ چوہدری آپ سے بات کرنے میں آئے گا۔۔
اس کا خیال صحیح نکلا۔۔ شام کے وقت چوہدری چند آدمیوں کے ہمراہ تھانے پہنچ گیا۔۔ میں نے اسے کچھ دیر باہر بیٹھائے رکھا۔۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد وہ میرے ماتحتوں کے ساتھ الجھنے لگا۔۔تب میں نے اسے اندر بلا لیا۔۔ اس کے ساتھیوں کو باہر بٹھایا رکھا۔۔
ملک صاحب۔ یہ کیا اندھیر نگری مچی ہوئی ہے۔۔ اس نے آتے ہی کہا۔۔ آپ کے نیچے والے تو آپ سے بھی دو ہاتھ آگے جا رہے ہیں ۔۔ میں ایک گھنٹے سے باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ اتنا انتظار تو مجھے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بھی نہیں کرنا پڑتا۔۔
میں ذرا مصروف تھا۔۔ میں نے خشک لہجے میں کہا۔۔ اس وقت گورنر بھی آتا تو اسے انتظار کرنا پڑتا۔ حکم کریں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟
صبح آپ کا ایک اے ایس آئی ہمارے پاس آیا تھا۔۔ بڑا شور مچا رہا تھا۔۔ مجھے پتا چلا ہے کہ اس مائ نے ہمارے خلاف کوئی پرچہ کٹوایا ہے۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دن پورے ہو گئے ہیں۔۔ وہ سمجھتی کیا ہے آپ کو۔۔۔
چودھری صاحب۔۔ یہ تھانہ ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ ہم ہر شخص کی فریاد سننے کے پابند ہیں۔۔۔ ہمیں بھی جواب دینا پڑتا ہے۔۔
آپ کا اے ایس آئی کہہ رہا تھا کہ اس معاملہ میں آپ کو اوپر سے حکم ملا ہے۔۔۔ کیا یہ سچ ہے۔؟
ہم آپ کو اندر کی باتیں نہیں بتا سکتے۔۔ نہ ہی ہم کسی کو اوپر جانے سے روک سکتے ہیں۔۔ آپ اپنا جواب داخل کر دیں۔۔ ہم اپنی تفتیش مکمل کر کے کیس عدالت میں پیش کردیں گے۔۔
اس نے کچھ دیر سوچا پھر بولا۔۔۔ ایک کام کریں۔۔ میں نے اشرف کے خلاف جو رپورٹ درج کرائی ہے اسے ختم کر دیں۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ وہ رپورٹ ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی نقل ایس پی کے دفتر میں جا چکی ہے۔۔
چھوڑیں ملک صاحب آپ چاہیں تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور خرچہ کی فکر نہ کریں ۔۔ہم نے پیسہ خرچ کرنے میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا۔۔۔ حکم کریں کیا چاہیے آپ کو۔۔؟
نہیں اس کیس میں سودے بازی نہیں ہو سکتی۔۔
میرا خیال ہے کہ آپ اوپر والوں سے ڈرتے ہیں اچھا ایک کام اور کریں ماہی کو یہاں بلا لیں اور ہمارا راضی نامہ کرا دیں۔
یہ بات آپ کی معقول ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ صلح صفائی بہت اچھی چیز ہے۔۔ میں آدمی بھیج کر سراج بی بی تو بلوا لیتا ہوں۔۔
میں نے ایک حوالدار کو بلایا اور کہا سراج بی بی اور اس کے بیٹے اشرف کو بلاؤ۔ انہیں ساتھ ہی لے آنا ۔۔
حوالدار کے جانے کے بعد چوہدری نے کہا۔۔ ملک صاحب کیس کی تفصیل تو آپ کو معلوم ہی ہے۔۔ اگر آپ تھوڑی سی کوشش کریں گے تو یہ معاملہ جلدی حل ہو جائے گا ۔
میں کوشش کرنے کے لیے ہی اس کرسی پر بیٹھا ہوں۔۔
آپ میرا مطلب نہیں سمجھے۔۔ چوہدری نے کہا۔۔ اصل جھگڑا زمین کا ہے۔۔ میں یہ زمین کسی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہتا۔۔ ہم نے اس زمین پر بڑی محنت کی ہے۔۔ اسے کاشت کے قابل بنایا ہے۔۔ ایک بات اور بھی ہے۔۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک کمی خاندان ہمارے مقابلے پر کھڑا ہوجائے۔۔ زمیندار اور چوہدری کہلوانے لگے۔۔
ملک صاحب! اس بات پر تو ہم لوگ سر کٹوالیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یا کاٹ لیتے ہیں۔۔۔
چودھری صاحب ۔۔راضی نامہ دوطرفہ ہوتا ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ صرف ایک فریق کی شرطوں پر راضی نامہ نہیں ہوا کرتا۔۔ ویسے میں سراج بی بی کو سمجھاؤں گا کہ وہ زمین فروخت کرنے پر راضی ہو جائے۔۔
میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔ اس نے کہا۔۔ اگر وہ اس بات پر راضی نہیں ہوگی تو نقصان اٹھائے گی۔۔
اس کی ہر بات میں دھمکی کا پہلو غالب تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سراج بی بی حوالدار کے ہمراہ تھانے پہنچ گئی۔۔ اس کے ساتھ اس کے بیٹے اشرف کے علاوہ محمد حسین پٹواری بھی تھا۔۔ چوہدری نے پٹواری کو دیکھ کر تیوری چڑھائی اور پوچھا۔۔ آپ کس سلسلے میں یہاں آئے ہیں۔۔؟
میں سراج بی بی کے کہنے پر آیا ہوں۔۔ بوڑھے پٹواری نے کہا۔۔ اس کی عمر 70 کے لگ بھگ تھی۔۔ دو صلح کرنے والوں کے درمیان گواہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔۔ چوہدری صاحب آپ کوئی فکر نہ کریں۔۔ میں کوئی ناانصافی کی بات نہیں کروں گا۔۔۔
محمد حسین۔۔ یہاں انصاف یا نا انصافی کا نہیں خاندانی عزت کا مسئلہ ہے۔۔خیر آپ آ ہی گئے ہیں تو بیٹھیں لیکن ایک بات کا خیال رکھیں۔۔ میں اپنے معاملے میں کسی کی بے جا دخل اندازی پسند نہیں کرتا ۔۔پھر وہ سراج بی بی کی طرف متوجہ ہوا۔۔ہاں تو مائی۔۔میں نے ملک صاحب کے ساتھ ساری بات کر لی ہے۔۔ تم بولو کیا چاہتی ہو۔۔؟
چوہدری کے طرز تخاطب سے اشرف کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔بولا۔۔چودھری صاحب ہم لوگ غریب ضرور ہیں لیکن رذیل نہیں ہیں۔۔میری ماں آپ سے عمر میں بہت چھوٹی ہیں۔۔ آپ انہیں مائی کہہ کر مخاطب نہ کریں۔۔
اوئے۔۔ تم کون سے لاٹ صاحب کے پتر ہو ۔۔چوہدری نے غصے سے کہا۔۔ تم سے تو ہمارے نوکر چاکر ہی زیادہ اچھے ہیں۔۔ ہم اپنے مقابلے پر کھڑے ہونے والوں کے سر اتار دیا کرتے ہیں۔۔ تم ہو ہی کیا چیز۔۔ تجھے یاد نہیں رہا کہ تیرا باپ ایک عادی مجرم تھا۔۔ رشوت خور اور جعلساز جس کی موت جیل کے اندر واقع ہوئی تھی۔۔ کہتا ہے کہ ہم رذیل نہیں ۔۔ہونہہ۔۔۔
اشرف نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا۔۔ لیکن اس کی ماں نے اسے روک دیا۔۔ بولی۔۔ کوئی بات نہیں بیٹا۔۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔۔ہم چودھری کے مقابلے پر نہیں کھڑے ہو سکتے۔۔
چوہدری صاحب۔۔ مجھے صرف اپنا حق چاہیے اور کچھ نہیں چاہئے۔۔
چوہدری نے حقارت سے کہا۔۔ اگر حق کی بات ہے تو پھر تمہارا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ تمہاری زمین 18 سال پہلے ہماری ہو گئی تھی۔۔ تم نے چھ مہینے کے وعدے پر قرضہ لیا تھا۔۔اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر قرضہ واپس نہ کیا جائے تو رہن شدہ چیز ضبط ہو جاتی ہے۔۔لیکن میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتا۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔۔ میں تمہیں دس ہزار روپے دینے پر تیار ہوں۔۔اگر ملک صاحب کہیں گے تو تھوڑا بہت اضافہ کر دوں گا۔۔ اس سے زیادہ مجھ سے کوئی امید نہ رکھو۔۔
اس زمانے میں زیر بحث زمین کی قیمت 20 سے 25 ہزار روپے فی مربع تھی یعنی تین مربع کی قیمت 70 ہزار کے لگ بھگ تھی۔
چوہدری صاحب۔۔ میں اس طرح زمین فروخت نہیں کروں گی۔۔ پہلے مجھے زمین کا قبضہ ملنا چاہیے۔۔ اس کے بعد فروخت کی بات ہوگی۔۔ اور خریداری کا پہلا حق آپ کا ہوگا۔۔
زمین کو بھول جاؤ ۔۔سراج بی بی۔۔
میں نے پوچھا۔۔ چودھری صاحب قرضے کی اصل رقم کتنی ہے۔۔؟
چھوڑیں جی۔۔ اس رقم کا اب کیا ذکر۔۔ چودھری نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔۔ وہ تو بات ہی ختم ہو چکی ہے۔۔
اگر وہ بات ختم ہوگئی تھی تو اب تک آپ ہم سے قسطیں کیوں وصول کرتے رہے ہیں۔
اوہ کاکا ۔۔توں اپنی بوتھی بند رکھ۔۔۔
کیوں جی۔۔ میں کیوں اپنی بوتھی بند رکھوں۔۔میں اپنی بارہ تیرہ سال کی محنت کی کمائی آپ کی جھولی میں ڈالتا رہا ہوں۔۔ آپ مجھے بولنے سے نہیں روک سکتے۔۔ میں نے کوئی ناجائز بات نہیں کی۔۔
محمد حسین پٹواری نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔۔ چودھری صاحب ٹھنڈے دل سے بات چیت کرکے کوئی سمجھوتا کر لیں۔۔ غصے سے بات نہیں بنا کرتی۔۔
میں نے کہا ۔۔چودھری صاحب پہلے یہ بات ہو جانی چاہیے کہ تنازعے کی بنیاد کیا ہے۔۔ اس کے بعد ہی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔۔ اس لیے پہلے آپ قرضے کی رقم بتائیں۔۔ پھر یہ بتائیں کہ کل کتنی رقم باقی ہے۔۔۔
قرضے کی کل رقم پانچ ہزار تھی۔۔ سراج بی بی نے کہا۔۔
پانچ نہیں چھ ہزار ۔۔چودھری نے فورا کہا۔۔۔
کاغذ میں تو چھ ہزار ہی لکھی ہے۔۔ سراج بی بی نے کہا۔۔ مگر اصل رقم پانچ ہزار تھی۔۔ آپ نے ایک ہزار روپے میرے آدمی کے مقدمے پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔۔ مگر الٹا اس کے خلاف بیان دے کر اسے سزا کروا دی۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا سزا کروا دی۔؟ چوہدری نے جاننا چاہا۔۔ سزا دینا عدالت کا کام ہے۔۔ میں نے وہی بیان دیا تھا جو مجھے دینا چاہیے تھا۔۔ اور جعلسازی کرنے والوں کو عدالت سزا ہی دیا کرتی ہے۔۔
اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ ہم اس رقم کو تسلیم کریں گے جو رسید میں لکھی ہوئی ہے۔۔ کیوں جی چودھری صاحب ۔ ٹھیک ہے۔۔؟
جی ہاں ۔۔بلکل ٹھیک ہے۔۔
سراج بی بی۔۔ اب تم یہ بتاؤ کہ تم کتنی رقم ادا کر چکی ہو۔۔؟
اللہ آپ کا بھلا کرے۔۔ بیس ہزار سے زیادہ دے چکی ہوں۔۔ سراج بی بی نے جواب دیا۔۔ میرے پاس چوہدری صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی رسیدیں موجود ہیں۔۔
بیس ہزار روپے! پٹواری نے حیرانی سے کہا۔۔ اور ابھی تک قرضہ ادا نہیں ہوا۔۔؟
محمد حسین! اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔۔ چوہدری نے کہا۔۔ قرضہ سود پر لیا گیا تھا۔۔
ٹھیک ہے۔۔ ٹھیک ہے۔۔ میں نے کہا ۔۔چودھری صاحب آپ یہ بتائیں کہ اس وقت کتنا قرضہ باقی ہے۔۔؟
ملک صاحب۔۔ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ مسئلہ قرضے کا نہیں زمین کا ہے۔۔ میں نے اس زمین پر بہت محنت کی ہے۔۔
میں آپ کی بہت اچھی طرح سمجھ رہا ہوں۔۔ میں نے کہا۔۔ اس طرف آنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ایک واضح صورت ہمارے سامنے آ جائے۔۔
چوہدری تامل کرتے ہوئے بولا ۔۔میرے حساب سے تقریبا دس ہزار روپے اور نکلتے ہیں۔۔
اشرف نے کہا۔۔ یہ تو سخت زیادتی ہے۔۔
تم ذرا خاموش رہو۔۔ میں نے اشرف سے کہا۔۔ پھر چوہدری کی طرف متوجہ ہوا۔۔ چودھری صاحب۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں قرضے کی رسید دیکھنا چاہتا ہوں۔۔
رسید دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟ اس نے کہا۔۔
میں چاہتا ہوں کہ ہر چیز ریکارڈ میں آ جائے آپ ایسا کریں کہ کل کسی وقت یہاں تشریف لے آئیں۔۔
ملک صاحب۔ اس جھگڑے کو آج ہی ختم کریں۔۔ میں اپنا آدمی بھیج کر ابھی رسید منگوا لیتا ہوں۔۔
وہ اٹھ کر باہر گیا اور اپنے کسی آدمی کو رسید لانے کے لئے حویلی بھیج دیا۔۔ وہ شخص پندرہ بیس منٹ میں واپس آگیا۔۔
اس تحریر کے مطابق سراج بی بی نے چوہدری غلام قادر سے چھ ہزار روپے بطور قرضہ بیس فیصد سالانہ سود پر لیا تھا اور اپنی تین مربعے زمین اس قرضے کے عوض رہن رکھی تھی۔۔۔
تحریر میں رقم کی واپسی کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔۔ سود کے بارے میں یہ وضاحت نہیں تھی کہ وہ سود دور سود تھا۔۔ لہذا تحریر کی رو سے وہ سادہ سود تھا۔۔ ایسی بھی کوئی شرط نہیں تھی کہ چوہدری زمین کو استعمال کر سکتا تھا اور اس کی ساری آمدنی خود رکھ سکتا تھا۔۔
میں نے محمد حسین پٹواری سے سود کا حساب نکالنے کے لیے کہا۔۔ اس نے ایک منٹ میں حساب سامنے رکھ دیا۔۔
بیس فیصد سالانہ کے حساب سے چھے ہزار روپے پر اٹھارہ سال کا سود اکیس ہزار چھ سو روپے بنتا ہے۔۔ اس میں اصل رقم بھی ملا لی جائے تو کل رقم ستائیس ہزار چھ سو روپے بنتی ہے۔۔
ملک صاحب آپ اس چکر کو چھوڑیں اصل بات۔
میں نے چودھری کی بات کاٹتے ہوئے کہا اس حساب سے سراج بی بی کے ذمے تقریبا ساڑھے سات ہزار روپے نکلتے ہیں۔۔ کیونکہ بیس ہزار روپے ادا کیے جا چکے ہیں ۔۔
نہیں اصل رقم اس سے بہت کم ہوگی۔۔ محمد حسین نے کہا۔۔ جو رقم ادا ہوجائے گی اس پر سود نہیں لگایا جا سکتا۔۔
چوہدری اپنے جوش پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔۔۔ اس حساب کتاب کو گولی مارو جی۔۔۔ میں ان لوگوں کو بارہ ہزار روپے دے دوں گا۔۔۔
میں نے پٹواری سے پوچھا اس زمین کی موجودہ قیمت کیا ہوگی۔۔۔؟
اس وقت اس زمین کی قیمت بیس پچیس ہزار روپے مربع سے کم نہیں ہوگی۔۔ بوڑھے پٹواری نے جواب دیا۔۔ اچھا گاہک مل جائے تو زیادہ قیمت بھی مل سکتی ہے۔۔
اس حساب سے تین مربع زمین کے ساٹھ پینسٹھ ہزار روپے بنتے ہیں۔۔ میں نے چودھری سے مخاطب ہو کر کہا۔۔ اگر یہ زمین خریدنا ہی چاہتے ہیں تو اس کی صحیح قیمت لگائیں اور بات ختم کریں۔۔
اور جو ہم زمین پر محنت کرتے رہے ہیں۔۔ اس کا کیا حساب کتاب ہوگا۔۔۔؟
ہم نے زمین گروی رکھی تھی۔۔ پٹے پر نہیں دی تھی۔۔ سراج بی بی نے کہا۔۔ آپ زمین کو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔۔
تم نے میرا پیسہ استعمال کیا یا نہیں کیا۔۔؟ چودھری نے غضب ناک نظروں سے سراج بی بی کو گھورا۔۔ میں نے زمین کو استعمال کر لیا تو کون سی قیامت آ گئی۔۔۔
چودھری صاحب۔۔ اس تحریر میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ میں نے کہا۔۔ میں آپ کی خاطر ان لوگوں کو زمین فروخت کرنے پر مجبور کر سکتا ہوں۔۔ لیکن قیمت آپ کو مارکیٹ کے حساب سے لگانی ہوگی۔۔ اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے۔۔
ملک صاحب۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔
پٹواری محمد حسین اور سراج بی بی ایک طرف جا کر کچھ بات چیت کرنے لگے۔۔۔ پھر دونوں واپس آ گئے اور سراج بی بی نے کہا۔۔ چودھری صاحب آپ میرے ساتھ پیسوں کا حساب کر لیں۔۔ میں آپ کو بقایا رقم کل تک ادا کر دوں گی۔۔۔
چوہدری پٹواری کو گھورنے لگا۔۔ محمد حسین تیرے جیسے پٹواری میری ڈب میں پڑے رہتے ہیں۔۔ میں تمہاری چالوں کو خوب سمجھتا ہوں۔۔ اس زمین پر قبضہ کرنے کا خیال دل سے نکال دو۔۔ یہ زمین میری ہے اور میرے ہی پاس رہے گی۔۔
چودھری ذرا سوچ سمجھ کر بات کرو۔۔ بوڑھے پٹواری نے غصے سے کہا۔۔ میں بھی چھوٹا ذمہ دار نہیں ہوں۔۔ میری زمینیں تجھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوں گی۔۔ یاد رکھ یتیموں کا مال ہضم نہیں ہوگا۔۔۔
چوہدری غصے سے کھڑا ہو گیا۔۔ بولا ملک صاحب ۔۔میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ سب ملی بھگت ہے۔۔ اس قسم کے ڈرامے ہم نے بہت کیے ہیں۔۔۔ اس طرح بات نہیں بنے گی۔۔۔
چودھری صاحب میرا بھی یہی خیال ہے کہ اس طرح بات نہیں بنے گی۔۔اگر آپ تعاون نہیں کریں گے تو مجھے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرنے پڑیں گے۔۔
بڑے شوق سے استعمال کریں آپ نے قانونی اختیارات۔۔ اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔۔ آپ مجھے گرفتار کر لیں۔۔ حوالات میں بند کر دیں۔۔ ان کا مقدمہ عدالت میں پہنچا دیں۔۔ زیادہ سے زیادہ ان کے حق میں ڈگری ہو جائے گی۔۔ اور کیا ہوگا۔؟ زمین تو کہیں نہیں جائے گی۔۔۔ اس میں کاشتکاری کون کرے گا۔۔؟
وہ کھلی دھمکی تھی۔۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نہ تو اسے قانون کی پرواہ کی اور نہ ہی کسی عدالتی فیصلے کی وہ زمین کا قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو پھر بڑے زمیندار سے ٹکر لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔ یہ لوگ خونریزی سے بھی باز نہیں آتے۔۔فریق مخالف اگر کمزور ہو اور اس میں جوانوں کی کمی ہو تو وہ کچھ نہیں کر سکتا۔۔
سراج بی بی نے ہمت کر کے کہا۔۔۔میرا پتر اور جوائی کاشتکاری کرے گا۔۔ ہم سب مل کر کام کریں گے۔۔
چوہدری طنزیہ انداز میں ہنسا اور بولا۔۔ سراج بی بی زمینوں کو گھبرو نوجوان سنبھالا کرتے ہیں۔۔ تیرا پتر اپنا وجود نہیں سنبھال سکتا۔۔۔ یہ زمین کیا سمبھالے گا۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔
چوہدری یتیموں کا مال نہ کھاؤ۔۔ بوڑھے پٹواری نے کہا۔۔ اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے۔۔ جو لوگ اس ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں یقیناً آگ بھرتے ہیں اور وہ یقیناً شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔۔
چوہدری نے استہزائیہ انداز میں ادھر دیکھا بولا۔۔ کدھر ہے آگ۔۔ مجھے تو کہیں آگ نظر نہیں آتی۔۔۔۔
چوہدری ایک بات اچھی طرح سن لو۔۔ محمد حسین نے کہا۔ جس دن آگ نظر آئے گی اس دن تمہیں بچنے کا راستہ نظر نہیں آئے گا۔۔ اس لئے خدا سے ڈرو۔۔۔
چوہدری دروازے کی طرف مڑا۔۔ پھر رک کر بولا۔ ملک صاحب میں زیرحراست تو نہیں ہوں۔۔
فی الحال آپ آزاد ہیں۔۔
شکریہ اس نے مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جاتے جاتے ایک بات ضرور کہوں گا۔۔ چوہدری غلام قادر کا خاندان جدی پشتی اس علاقے میں آباد ہے اور آئندہ بھی آباد رہے گا ۔۔مگر تھانے دار آتے جاتے رہتے ہیں۔۔
بات ختم کرتے ہی وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔
دوستوں۔۔۔ شروع میں میں نے حویلی کی آگ کا ذکر کیا تھا اور یہ حویلی چوہدری غلام قادر کی تھی۔۔
وہ گرمیوں کے دن تھے اور دوپہر کا وقت تھا۔۔ اس وقت میں ایک تفتیش کے سلسلے میں قریب ہی موجود تھا۔۔ شور سن کر میں اپنے ساتھیوں سمیت موقع پر پہنچ گیا۔۔
حویلی چاروں طرف سے آگ کی لپیٹ میں تھی۔۔لوگ پانی کی بالٹیاں اٹھائے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔۔ لیکن آگے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔ دوپہر کا وقت گرمیوں کا موسم اور بھڑکتی ہوئی آگ کی تپش پندرہ بیس گز کے فاصلے تک آگ کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔۔
صرف پانچ روز پہلے چوہدری غلام قادر نے استہزائیہ انداز میں کہا تھا۔۔۔ کدھر ہے آگ۔؟ مجھے تو کہیں آگ نظر نہیں آتی۔۔۔۔
اور محمد حسین پٹواری نے کہا تھا کہ جس دن آگ نظر آئے گی اس دن تمہیں بچنے کا راستہ نظر نہیں آئے گا۔۔۔
یہ ساری باتیں لفظ بہ لفظ پوری ہو رہی تھی۔۔ لوگ چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ چوہدری کا پورا خاندان آگ میں گھرا ہوا ہے۔۔۔ ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔۔۔ عورتیں آہ و بکا کر رہی تھیں۔۔
لوگ پانی کی بالٹیاں بھر بھر کر لا رہے تھے۔۔ آگ کی طرف پھینک رہے تھے۔۔ مگر پانی آگ تک نہیں پہنچ رہا تھا۔۔ ہر طرف بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔۔
اچانک صحن کی طرف سے زیادہ شور سنائی دیا۔۔ لوگوں کا ہجوم اس طرف بھاگا۔۔ میں بھی صحن میں پہنچ گیا۔۔ اس طرف خواب گاہ کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔۔ کھڑکی کے راستے دھوئیں کے بادل باہر آرہے تھے لیکن کھڑکی ابھی آگ کی لپیٹ میں نہیں آئی تھی۔۔ اس کھڑکی کے پاس ایک چیختا ہوا ہیولا نظر آ رہا تھا۔۔ وہ دونوں ہاتھ چلاتے ہوئے مدد کے لیے پکار رہا تھا لیکن وہ باہر نہیں آ سکتا تھا۔۔کیونکہ کھڑکی پر مضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھی اور دروازہ آگ کی لپیٹ میں تھا۔۔
کسی نے چیخ کر کہا۔۔ یہ بڑے چودھری صاحب ہیں۔۔۔ یہ بڑے چودھری صاحب ہیں۔۔ خدا کے لئے کوئی ان کی مدد کرے۔۔
مسئلہ یہ تھا کہ کھڑکی برآمدے میں تھی اور برآمدہ بھی آگ کی لپیٹ میں تھا۔۔ لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے تھے اور آگ کی تپش محسوس کر کے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔۔۔
چند آدمی لمبا سا شہتیر اٹھا لائے اور اس جلتے ہوئے دروازے کو ٹھوکریں مارنے لگے۔۔تب ہی میں نے دیکھا کہ دروازے کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔۔ میرے ذہن میں فوراً تخریب کاری کا خیال آیا ۔۔ کیا کسی نے خواب گاہ کا دروازہ باہر سے بند کرکے حویلی کو آگ لگا دی تھی۔۔؟
شہتیر کی مسلسل جوڑوں کے دروازے کے دونوں پٹ فرش پر ڈھیر ہو گئے۔۔ وہ نصف سے زیادہ جل چکے تھے اور ان میں ہنوز آگ بھڑک رہی تھی۔۔
دروازہ گرنے کے ساتھ ہی ایک ہیولا تیزی سے دروازے میں نمودار ہوا لیکن جیسے ہی اس نے برآمدے میں قدم رکھا۔۔ ایک جلتا ہوا شہتیر اس کے سر پر گرا اور وہ شہتیر کے ساتھ ہی فرش پر ڈھیر ہو گیا۔۔باہر کھڑے ہوئے لوگوں کی بے ساختہ چیزیں نکل گئیں۔۔۔
چند لوگوں نے چادریں گیلی کرکے اپنے گرد لپیٹیں اور خود کو خطرے میں ڈال کر جلتے ہوئے شخص کو پیروں سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لائے۔۔وہ چوہدری غلام قادر تھا۔۔اس کا پورا لباس۔بلکہ جسم تک جل چکا تھا۔۔۔اس کی طرف دیکھ کر بدن پر ہیبت طاری ہوتی تھی۔۔آگ نے اس کے جسم کو مسخ کر کے رکھ دیا تھا۔۔جب اس کا معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ اس کے اندر زندگی کی کوئی رمق نہیں رہی تھی۔۔
وہ مر چکا تھا۔۔۔
لوگ رونے لگے ۔عورتیں بین کرنے لگی۔۔
میں ایک طرف ہوگیا ۔۔ مجھے اے ایس آئی کا 11 سالہ بیٹا یاد آگیا۔۔ جو باپ کو ظالم سمجھ کر گھر سے بھاگ گیا تھا۔۔ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے ویسا ہی منظر تھا۔۔ وہاں کہیں لوگ قدرت کو ظالم سمجھ رہے تھے۔۔ چودھری کو مظلوم سمجھ رہے تھے۔۔اس کی ہولناک موت پر آنسو بہا رہے تھے۔۔ کیونکہ اس وقت ان کے سامنے تصویر کا صرف ایک رخ تھا۔۔ ان کو چودھری کے ظلم نظر نہیں آرہے تھے۔۔ اس وقت یہ بات سوچنے والا شاید کوئی نہیں تھا کہ چوہدری غلام قادر نے یتیموں۔ بیواؤں اور مجبور لوگوں پر کتنے ظلم کیے تھے۔۔ وہ یتیموں کی آہوں کی آگ تھی جس نے اسے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔۔۔
آگ میں 9 افراد جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔۔ چوہدری کے خاندان میں میں سے بس ایک شخص زندہ بچا تھا۔۔ وہ چوہدری کا 26 27 سالہ بیٹا تھا۔۔ اس کا نام فرید قادر تھا اور وہ پیدائشی پاگل تھا ۔۔
اگلے روز جب ایک ہی وقت میں نو جنازے اٹھے تو ہر شخص سوگوار اور پرنم تھا۔۔ لیکن فرید اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہا تھا اور خوش ہو رہا تھا۔۔ اس کے خیال میں کوئی تفریحی میلا تھا ۔۔
کیوں کہ مجھے اس حادثے کے بارے میں تخریبی یا انتقامی کاروائی کا شبہ ہوا تھا۔۔ اس لئے میں نے حویلی کے گرد پہرہ بٹھا دیا ۔۔آگ اگرچہ بجھ چکی تھی۔مگر رات بھر دبی ہوئی آگ سے دھواں اٹھتا رہا۔۔حویلی کھنڈر بن چکی تھی۔۔کئئ کمروں کی چھتیں بیٹھ گئی تھیں۔۔
اگلی صبح پانچ آدمی تھانے آئے۔ ان میں سے ایک شخص چوہدری غلام قادر کا دور کا رشتے دار تھا۔۔اس نے اپنا نام رجب علی بتایا اور کہا کہ وہ چوہدری غلام قادر اور اس کے خاندان کے قتل کی رپورٹ درج کروانا چاہتا ہے۔۔وہ ادھیڑ عمر کا پڑھا لکھا شخص نظر آتا تھا۔۔باقی چار افراد چوہدری غلام قادر کے ملنے جلنے والے اور پڑوسی تھے۔۔
میں اس وقت تفتیش کے لیے حویلی جانے کا ارادہ کر رہا تھا۔۔ میں نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی اور کہا کہ رپورٹ ابتدائی چھان بین کے بعد لکھی جائے گی۔۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آگ دانستہ لگائی گئی تھی یا وہ ایک اتفاقی حادثہ تھا۔۔۔
آگ دانستہ لگائی گئی تھی۔۔ رجب علی نے کہا۔۔ ہم اس لئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔۔
کیا آپ کسی ثبوت کے ساتھ آئے ہیں۔۔؟
جی ہاں۔۔۔ثبوت کے ساتھ ہی آئے ہیں۔۔یہ بات آپ کے علم میں ہو گی کہ چوہدری صاحب کا اشرف حسین نامی ایک شخص سے زمین کا تنازعہ چل رہا تھا۔۔ اس شخص نے چند روز پہلے چودھری صاحب کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کی حویلی میں آگ لگا دے گا۔۔ یہ بات مرحوم چودھری صاحب نے دو روز پہلے ہمیں بتائی تھی۔۔ یہ سب لوگ وہاں موجود تھے اور دوسری بات یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے کچھ لوگوں نے اشرف حسین کو حویلی کے آس پاس منڈلاتے دیکھا تھا۔۔ اس سازش میں محمد حسین پٹواری بھی شامل ہے۔ اس کا نام بھی رپٹ میں شامل کریں۔۔
چودھری صاحب نے بتایا تھا کہ محمد حسین پٹواری اشرف حسین کی زمین خریدنا چاہتا تھا۔۔ رجب علی کے ایک ساتھی نے کہا۔۔ اور وہی اسے چودھری صاحب کے خلاف بھڑکا رہا تھا۔۔
اشرف حسین کے خلاف ہم پہلے ہی پرچہ کاٹ چکے ہیں۔۔ میں نے انہیں بتایا۔۔ چوہدری صاحب نے چند روز پہلے اس کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔ میں اسے تھانے بلا کر اچھی طرح پوچھ گچھ کرتا ہوں۔۔ اگر مجھے اس کے خلاف کوئی شہادت ملی تو میں اس کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کروں گا۔۔
اشرف کے بارے میں مجھے یقین نہیں تھا کہ حویلی میں اس نے آگ لگائی تھی۔۔ وہ اس ٹائپ کا نوجوان نہیں تھا۔۔ لیکن اگر محرک بہت بڑا ہو تو بعض اوقات ایک کمزور آدمی بھی بہت بڑی حرکت کر گزرتا ہے۔۔اور محرک یہ تھا کہ وہ لوگ 18 سال سے اپنی زمین کی واگزاری کی امید لگائے بیٹھے تھے۔۔ لیکن آخری ملاقات میں چودھری نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی شخص بڑے سے بڑا قدم اٹھا سکتا تھا۔۔ لہذا میں نے اشرف کو بھلانے کے لئے ایک آدمی بھیج دیا اور خود حویلی پہنچ گیا۔۔ سب سے پہلے میں یہ اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ آگ کس طرح لگی تھی۔۔
حویلی کے بیشتر کمرے جل کر خاک ہو چکے تھے۔۔ بعض کی چھتیں گری ہوئی تھیں۔۔ میں نے چھتوں کا ملبہ ہٹانے کے لیے چند مزدور لگا دیئے اور ایک اے ایس آئی کو ان کی نگرانی پر مقرر کر دیا۔۔ میں نے اسے اس بات کی تاکید کردی کہ کمروں کی جلی ہوئی چیزوں کو نہ چھیڑا جائے۔۔ صرف اوپر سے گرنے والا ملبہ احتیاط سے ہٹا دیا جائے۔
یہ انتظام کرنے کے بعد میں واپس تھانے پہنچا تو اشرف اور اس کی ماں سراج بی بی وہاں موجود تھے۔۔
میں نے اشرف سے کہا۔۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نے چودھری غلام قادر کی حویلی کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی۔۔
جناب! میں نے کسی کو دھمکی نہیں دی۔۔ اس نے جواب دیا۔
ہماری تو اللہ نے عزت رکھ لی۔۔ ورنہ چوہدری نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔
میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔۔
سراج بی بی نے کہا۔۔ جس روز یہاں تھانے میں ہماری چوہدری سے بات ہوئی تھی اس کے اگلے روز چودھری جمال قادر کچھ غنڈے لے کر ہمارے گھر پہنچ گیا تھا۔۔
غنڈے لے کر پہنچ گیا تھا۔۔ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔۔؟
بات یہ ہے بیٹا کہ ہم ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔۔ میں نے تو بس اوپر والے کی عدالت میں اپنا مسئلہ پیش کردیا تھا۔۔ اس کی مہربانی سے ہماری عزت بچ گئی۔
دونوں نے جو ملی جلی تفصیل بتائی اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔۔
گزشتہ منگل کے روز رات کے نو بجے سراج بی بی نے دستک کی آواز پر دروازہ کھولا تو چار آدمی اسے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔۔اس روز سراج بی بی کی شادی شدہ بیٹی بھی اس کے گھر آئی ہوئی تھی۔۔ اس کے ہمراہ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں جن کی عمر بارہ اور چودہ سال تھی۔۔
گھر میں داخل ہونے والے چار آدمیوں میں سے ایک چودھری جمال قادر تھا۔۔ باقی افراد سراج بی بی کے لئے اجنبی تھے ان کی شکلیں خوفناک تھیں۔۔ وہ سب مسلح تھے۔۔ ایک کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کا کنستر تھا۔۔۔
جمال قادر نے اندر گھستے ہی اشرف کو گریبان سے پکڑا اور اس کے منہ پر تھپڑ مارے۔۔ یہ دیکھ کر لڑکیاں چیخنے لگیں تو جمال قادر کے ساتھیوں نے انہیں بالوں سے پکڑ لیا اور ان کے منہ بند کر دیئے۔۔
اوئے۔۔بڑے چودھری صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ تم تھانے میں بہت اچھل اچھل کر باتیں کر رہے تھے۔۔ جمال قادر نے اشرف سے کہا۔۔ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ بڑی سخت بد کلامی کی تھی۔۔۔
اشرف نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔۔ نہیں جناب میں نے تو بڑے ادب سے بات کی تھی۔۔۔ بڑے چودھری صاحب میرے ابا کے دوست تھے۔۔ میں ان کے ساتھ کیسے بدکلامی کر سکتا ہوں۔۔
تیرا مطلب ہے کہ ابا جی نے جھوٹ بولا ہے۔۔؟
جی میں نے یہ تو نہیں کہا۔۔۔۔ آپ بے شک ملک صاحب سے پوچھ لیں۔۔۔ میں نے تو کوئی غلط بات نہیں کی۔۔۔
جمال قادر اس کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے بولا۔۔ فکر نہ کر ملک صاحب کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔۔ ایسے کئی ملک آئے اور کئی گئے۔۔ اور سنا ہے تم لوگوں کو حساب کتاب کرنا بھی آگیا ہے۔۔۔ زمین کے پیسے مانگتے ہو۔۔۔
سراج بی بی نے منت کرتے ہوئے کہا۔۔۔ بیٹا تم جس طرح کہو گے ویسے ہی کر لے گے۔۔۔
جمال قادر نے اسے پرے دھکا دیا بولا۔۔۔ پرے ہٹ مائی۔۔آئندہ مجھے بیٹا مت کہنا۔۔۔ تم نے ہمارے خلاف دھوکہ دہی کی رپورٹ درج کرائی ہے۔۔
ہمیں معاف کر دو۔۔ چودھری۔۔۔ ہماری رپورٹ لکھانے کی مرضی نہیں تھی۔۔ یہ رپورٹ تھانے دار صاحب نے خود ہی لکھ لی تھی۔۔
خود ہی لکھ لی تھی۔۔! جمال قادر نے منہ بگاڑ کر کہا۔۔ انگوٹھا بھی خود ہی لگا لیا تھا۔۔
سراج بی بی کی بیٹی اور نواسیاں بدمعاشوں کی گرفت میں بری طرح کانپ رہی تھیں۔۔ سراج بی بی نے جمال قادر کے پیر پکڑ لیے۔۔بولی ۔۔چوہدری صاحب ۔۔ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔۔ نہ زمین چاہیے اور نہ ہی پیسہ۔۔
آج ہم جھگڑا ہی ختم کرنے آئے ہیں۔۔ جمال قادر نے کہا۔۔ پھر اپنے ساتھی سے بولا۔۔۔ رب نواز چلو اپنا کام شروع کرو۔۔ دونوں کمروں میں اچھی طرح مٹی کا تیل چھڑک دو۔۔ ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچنا چاہیے۔۔
یہ کوئی نئی یا عجوبہ بات نہیں تھی۔۔ متکبر فرعون صفت جاگیردار اس قسم کی انسانیت سوز حرکتیں اکثر کرتے رہتے ہیں ۔۔ پہلے بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔۔ جب مظلوم اور بے بس افراد آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔۔ تو یہ شیطان باہر کھڑے ہوکر قہقہے لگاتے ہیں۔۔ یہ لوگ نہ بوڑھوں کی پرواہ کرتے ہیں۔۔ نہ عورتوں کی اور نہ انہیں چلتے ہوئے بچوں پر ترس آتا ہے۔۔
جب رب نواز نامی بدمعاش نے تیل کا کنستر اٹھایا تو۔ ۔ سراج بی بی اس کا پورا کنبہ جمال قادر کے قدموں میں گر پڑا اور آہ و بکا کرنے لگا۔۔
سراج بی بی نے کہا۔۔چودھری صاحب ہمیں کچھ نہیں چاہئے۔۔ آپ ہماری زمین بھی رکھ لیں۔۔ ہم یہ بستی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔۔ دوبارہ کبھی ادھر کا رخ نہیں کریں گے۔۔ جیسا کاغذ چاہو ہم سے لکھوا لو ۔۔پر ہمارے اوپر یہ ظلم نہ کرو ۔۔میں تمہیں اللہ اور رسول کا واسطہ دیتی ہوں کہ ہمیں زندہ نہ جلاؤ۔ ۔ ہم خاموشی سے یہ بستی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔۔ کسی سے کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔
ربنواز ذرا ٹھہرو۔۔۔ جمال قادر نے کہا۔۔ اس بڑھیا کی بات کچھ سمجھ میں آتی ہے۔۔۔
ربنواز روک گیا بولا۔۔۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ کچھ تماشہ دیکھیں گے۔۔۔ پر جیسے آپ کی مرضی۔۔۔
جمال قادر نے کچھ سادہ کاغذ اور اسٹامپ پیپر نکالے اور ان پر سراج بی بی سے انگوٹھے لگوائے اور اشرف سے دستخط کروا لیے پھر بولا۔۔ میں تم لوگوں کو بستی چھوڑنے کے لئے صرف تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔۔ اگر تم لوگ تین دن کے بعد یہاں نظر آگئے تو پھر میں کوئی سوال جواب نہیں کروں گا۔۔ تم لوگوں کو اندر بند کر کے آگ لگا دوں گا۔۔ تمہارا یہ مکان ربنواز نے خرید لیا ہے۔۔ دو ہزار روپے میں۔۔کوئئ پوچھے تو بتا دینا۔۔ زمین بھی ہم نے خرید لی ہے۔۔اب تمہاری اس علاقے میں کوئی جائداد نہیں۔۔سمجھیں۔؟
تین دن تو بہت تھوڑے ہیں۔۔ سراج بی بی منت کرتے ہوئے بولی۔۔ اتنی جلدی ہم کہاں انتظام کریں گے۔۔ کم ازکم پندرہ دن کی مہلت دے دیں۔۔
پندرہ دن کی مہلت نہیں مل سکتی زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی مہلت دیتا ہوں۔۔ اور ہاں۔۔۔۔ اگر وہ تھانے دار تیرے پاس آئے تو اسے کہہ دینا کہ تیرا ہمارے ساتھ راضی نامہ ہو گیا ہے۔۔ کہہ دینا کہ تجھے زمین کے بیس ہزار مل گئے ہیں۔۔
جانے سے پہلے ان بدمعاشوں نے لڑکیوں کی بے حرمتی بھی کی تھی۔۔ سراج بی بی نے مجھے بتایا کہ چودھری کے جانے کے بعد وہ ساری رات رو رو کر خدا کو پکارتی رہی ۔۔اس کے بچوں اور نواسیوں کو بھی ساری رات نیند نہیں آئی۔۔
پانچ روز کے بعد جب اس نے چوہدری کے پورے کنبے کے جلنے کی خبر سنی تو سجدے میں گر گئی اور اس نے شکرانے کے دو نفل پڑھے ے۔۔۔
تھانے دار پتر۔۔۔یہ سب کچھ اللہ نے کیا ہے۔۔ سراج بی بی نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔۔ جس وقت حویلی میں آگ لگی اس وقت اشرف لاہور گیا ہوا تھا ۔۔ مکان کا بندوبست کرنے۔۔ ساتھ اس کا دوست ساجد علی بھی تھا۔۔ دونوں کل شام کو واپس آئے ہیں۔۔۔
اشرف نے لاہور میں اپنی مصروفیات کی پوری تفصیل بتائی۔۔ دونوں کے بیانات میں کوئی خامی نظر نہیں آتی تھی۔۔ لہذا میں نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔۔۔ تاہم جانے سے پہلے مشورہ دیا کہ وہ پٹواری محمد حسین کی مدد سے اپنی زمین کے کاغذات کی نقول نکلوا لے۔مجھے یقین تھا کہ چوہدری کے پاس جو کاغذات تھے وہ سب جل چکے ہوں گے۔۔۔
دوستوں۔۔۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کہانی ختم ہو چکی ہے۔۔ اب کوئی کہنے سننے والی بات باقی نہیں رہی۔۔۔
تو عرض ہے کہ ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔۔ ہنوز ایک عجیب بات باقی ہے اور شاید یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے یہ واقعہ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔
تھانے کے کاموں سے فارغ ہوکر میں چار پانچ بجے کے قریب حویلی پہنچا۔۔ اے ایس آئی بڑی بے چینی سے میرا انتظار کر رہا تھا۔۔
ملک صاحب! ایک بڑی عجیب چیز میں نے دیکھی ہے۔۔۔ ابھی تک اس کی کوئی وجہ میرے سمجھ میں نہیں آئی۔۔
وہ مجھے جلی ہوئی خواب گاہ میں لے گیا وہاں ہر شے جل کر راکھ ہو چکی تھی۔۔ اے ایس آئی نے ایک جلی ہوئی چارپائی کے درمیان اشارہ کیا۔۔ میں نے خاکستر فریم اور راکھ کے درمیان ایک چوہے کے ڈھانچے کو دیکھا۔جو جل کر خاک ہو چکا تھا۔۔
اس میں کیا عجیب بات ہے۔؟ میں نے کہا۔۔ حویلی میں چوہے کی موجودگی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔۔۔
اب اس تار کو بھی دیکھیں۔۔۔
لوہے کا ایک پتلا سا تار چوہے کی دم کے قریب پڑا تھا۔۔ اس کے ایک سرے کو موڑ کر آنکھ سے بنا دی گئی تھی۔۔
یہ تار چوہے کی دم کے ساتھ منسلک تھا۔۔ اے ایس آئی نے کہا۔۔ جلنے کی وجہ سے الگ ہو گیا ہے۔۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو۔۔؟
میرے پاس اس کا ثبوت بھی ہے۔۔ آئیں میرے ساتھ۔۔ اس نے مجھے ویسا ہی ایک اور مردہ چوہا دکھایا یہ چوہا خواب گاہ سے ملحقہ اسٹور میں مرا پڑا تھا۔۔۔اس چوہے کی دم کے ساتھ بھی تار کا ویسا ہی ٹکڑا منسلک تھا۔۔اسٹور میں رضائیاں اور گدے بھرے ہوئے تھے جو سب جل کر راکھ ہو گئے تھے۔۔مردہ چوہا گدوں کی راکھ کے قریب پڑا تھا۔۔اس کی دم سے منسلک تار کے دوسرے سرے پر جلے ہوئے کپڑے کی راکھ پڑی تھی۔۔غالبا وہ کپڑا تار کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔۔ویسا ہی ایک تیسرا چوہا برآمدے میں پڑا ہوا تھا۔۔وہ جلے ہوئے فرنیچر کے نیچے پڑا تھا۔۔ اس کی دم کے ساتھ بھی تار منسلک تھا۔۔بات بڑی واضح معلوم ہوتی تھی کسی نے چوہوں کی دم کے ساتھ کپڑے کے ٹکڑے باندھ کر انہیں آگ لگائی اور چوہوں کو حویلی میں چھوڑ دیا۔۔
بظاہر یہ نظر آتا تھا کہ ساری کاروائی بڑی منصوبہ بندی سے کی گئی تھی۔۔ چوہوں کو اس طریقے سے چھوڑا گیا تھا کہ آگ بھڑک اٹھنے کے بعد باہر نکلنے کے راستے مسدود ہوگئے تھے ۔چوہے آگ کی تپش کے باعث دوڑتے رہے تھے اور جگہ جگہ آگ لگاتے چلے گئے تھے۔۔
برآمدے میں ایک مٹی کے تیل کا کنستر بھی پڑا ہوا تھا ۔۔ وہ پہلو کے بل پڑا تھا اور خالی تھا۔ تاہم اس میں مٹی کے تیل کی بو موجود تھی۔۔۔
میرا خیال ہے کہ یہ کسی گھر کے بیٹی کا کام ہے اے ایس آئی نے کہا اور یہ سارا کام برآمدے میں کیا گیا تھا تھا جو ہے کی قوموں کے ساتھ جو کپڑے باندھے گئے تھے انہیں تیل میں بھگویا تھا اور اس طرف کے یہ تینوں دروازے باہر سے بند تھے۔۔
یہ چوہوں والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔۔ میں نے کہا۔۔ اگر کسی نے اس برآمدے سے یہ سارا ڈرامہ کیا ہے تو اسے چوہوں کا چکر چلانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ وہ بڑے آرام سے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا سکتا تھا۔۔ پہلے چوہے چھوڑنا۔۔ پھر مٹی کے تیل کا کنستر اوندھا کرنا۔۔یہ کچھ عجیب سی بات لگتی ہے۔۔۔
اے ایس آئی نے کہا۔۔ ملک صاحب۔۔ سارے مجرم عقلمند نہیں ہوتے۔۔ یہ کسی احمق مجرم کا کام معلوم ہوتا ہے۔۔
سراج بی بی نے رب نواز نامی ایک شخص کا ذکر کیا تھا۔۔ میں نے آس پاس کے لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔۔ اور دو سپاہی بھیج کر اسے حویلی بلا لیا۔۔ وہ ان چھوٹے بدمعاشوں میں سے تھا جو جاگیرداروں کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔۔ اور ان کے اشاروں پر اپنے ہی طبقے کے افراد پر ظلم ڈھاتے ہیں۔۔ وہ خاصا پلا ہوا شخص تھا۔۔۔
میں نے کہا۔۔ربنواز تیرے ان داتا تو مر گئے۔۔
وہ پیلے دانت نکال کر بولا ۔۔ کوئی بات نہیں سرکار۔۔ کوئی اور حویلی دیکھ لیں گے۔۔
میں نے بڑے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا وہ اس اچانک تھپڑ کے لئے بالکل تیار نہیں تھا۔۔۔ بری طرح بوکھلا گیا۔۔۔
حویلی نہیں۔ حوالات۔ کتے کے بچے۔
تھانے دار صاحب۔ یہ۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟
اس وقت ہم حویلی کے برآمدے میں کھڑے تھے۔۔ میں نے ایک سپاہی سے کہا۔۔ جاؤ۔۔ پرچون کی دکان سے مٹی کے تیل کی ایک بوتل لے آؤ۔۔سپاہی کے جانے کے بعد میں نے اے ایس آئی سے کہا اس کے ہاتھ پیر باندھ دو۔۔ میں اس کے اوپر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے آگ لگاؤں گا۔۔
اس کے چہرے پر خوف اتر آیا۔۔ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔۔ تھانے دار صاحب۔۔ میرا کوئی قصور بھی پتا چلے۔۔
میں نے ایک تگڑے سے سپاہی سے کہا کہ اسے پیچھے سے قابو کرکے کھڑا ہوجائے سپاہی نے اسے شکنجے میں کس لیا۔۔
سن اوئے ربنواز۔۔ مجھے تیری بدمعاشی کا سارا قصہ معلوم ہو چکا ہے۔۔ لیکن اب یہ قصہ میں تیری زبان سے سننا چاہتا ہوں۔۔ اگر تیرے منہ سے ایک بھی غلط لفظ نکلا تو یہاں سے تیری لاش ہی جائے گی۔۔ پہلے تو اس کنستر کو دیکھ۔۔ کیا تو اس کو پہچانتا ہے۔۔؟
میں نے اپنا رولر بالکل تیار پکڑا ہوا تھا۔۔
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔۔۔ یہ مٹی کے تیل کا کنستر ہے۔۔
میں نے رولر سے اس کے کندھے پر ضرب لگائی اور کہا۔۔ میں نے پہچاننے کی بات کی ہے۔۔ کیا یہ وہی کنستر ہے جسے تم جمال قادر کے ہمراہ سراج بی بی کے گھر لے کر گئے تھے۔۔؟
اس نے لمحہ بھر توقف کیا۔۔ پھر میرا ہاتھ بلند ہوتے دیکھ کر بولا جج۔۔۔۔۔۔ جی یہی ہے۔۔
کتے۔۔۔۔ تم اس بیوہ عورت کو اس کی بیٹی بیٹے اور نواسیوں کو گھر کے اندر جلا کر تماشہ دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔
وہ کراہ کر بولا۔۔۔جج۔۔۔۔۔۔۔ جناب اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔ اس کا حکم بڑے چودھری صاحب نے دیا تھا۔۔۔
اوئے۔۔ کچھ عبرت پکڑ۔۔ دیکھتا نہیں تیرا بڑا چوہدری اپنے خانوادے سمیت کتے کی موت مر گیا۔۔۔ یاد رکھ بیواؤں اور یتیموں پر ظلم کرنے والوں کو خدا آگ میں جھونک دیا کرتا ہے۔۔ اس کے لیے یہاں بھی آگ ہے اور وہاں بھی آگ ہے۔۔ تیرے دوسرے دو ساتھیوں کا کیا نام ہے۔۔۔؟
ایک کا نام جیلا تیلی اور دوسرے کا نام چوہدری رجب علی ہے۔۔
یہ رجب علی وہی تھا جو صبح چار آدمیوں کے ہمراہ اشرف کے خلاف پرچہ کٹوانا آیا تھا۔۔ میں نے ایک حوالدار سے کہا کہ وہ دو تین آدمی ساتھ لے جائے اور رجب علی اور جیلے تیلی کو پکڑ کر تھانے لے آئے۔۔
ربنواز اس حویلی میں کس نے آگ لگائی ہے۔۔؟
وہ قسمیں کھانے لگا کہ اسے اس آگ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے اس کا بیان سچا معلوم ہوتا تھا۔۔
قدرت کا عجیب فیصلہ تھا۔۔ چودھری نےجس تیل سے ایک بیوہ اور اس کے کنبے کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔۔ وہی تیل اس کی اپنی ہلاکت کا باعث بن گیا تھا۔۔۔
لیکن چوہوں والا معما ہنوز حل نہیں ہوا تھا۔۔
اگلے روز میں نے اس پاس رہنے والوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔۔ کسی اجنبی کو حویلی میں داخل ہوتے یا نکلتے نہیں دیکھا گیا تھا۔۔ زندہ بچ جانے والا واحد فرد چوہدری کا پاگل بیٹا فرید قادر تھا۔۔ وہ نہ کوئی بات سمجھتا تھا کچھ بتا سکتا تھا۔۔
اے ایس آئی کافی دیر تک اس کے ساتھ مغز ماری کرتا رہا مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔۔فرید اس ساری گفتگو کو تفریح سمجھتا تھا۔۔وہ کبھی ہنسنے لگ جاتا۔کبھی تالیاں بجاتا اور کبھی اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگ جاتا۔۔۔
میں نے اس سے ٹھہر ٹھہر کر پوچھا۔۔۔فرید۔۔جب آگ لگی تم کہاں تھے۔؟
آگ۔۔۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے۔۔تماشا۔۔۔۔۔۔۔بہت سارے لوگ۔۔۔تماشا ۔۔۔۔۔۔ہو ہو ہو۔
تمہارے ساتھ کون تھا۔۔؟
آگ ۔۔۔۔۔بہت ساری۔۔۔۔۔تماشا۔۔۔۔۔۔ہوہوہو۔۔۔۔۔۔
کافی دیر تک ایسے ہی سوال جواب کے بعد مجھے اچانک ایک خیال آیا۔۔ میں نے پوچھا۔۔ فرید۔۔۔۔۔۔ چوہا۔۔۔۔۔ تم نے چوہا دیکھا۔۔۔؟
اس کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی۔ بولا۔ چوہا۔۔۔۔۔ تماشا۔۔۔۔ آگ۔۔۔
غالباً کوئی بات اس کے ذہن میں آرہی تھی۔۔ میں نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔۔ہاں ہاں۔۔۔۔۔۔۔شاباش۔ تم نے چوہا کہاں دیکھا؟ چوہا۔۔۔
اس نے سینے پر ہاتھ مارا۔بولا۔چوہا ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔جیرا۔۔۔۔۔تماشا۔۔۔۔ہوہوہو۔
پہلی دفعہ ایک نام اس کی زبان پر آیا تھا۔۔
جیرا کون ہے۔؟ میں نے پوچھا۔۔
اس نے پھر سینے پر ہاتھ مارا۔۔بولا جیرا ۔۔۔۔میں ۔۔۔چوہا۔۔
یہ جیرا کوئی ملازم معلوم ہوتا ہے۔۔ میں نے اے ایس آئی سے کہا تم آس پاس سے پتا کرو۔ اور اس نام کے جتنے لوگ ہیں انہیں ساتھ لے آؤ۔۔۔
کوئی آدھے پونے گھنٹے بعد اے ایس آئی نو دس سالہ لڑکے کو ساتھ لیے مجھے حویلی میں پہنچ گیا۔۔لڑکے کے ساتھ اس کا باپ بھی تھا۔۔ دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے۔۔ لڑکا کچھ زیادہ ہی خوفزدہ نظر آتا تھا۔۔ اس کا نام نذیر عرف جیرا تھا۔۔
فرید نے جیرے کو دیکھا تو خوشی سے تالیاں بجانے لگا۔۔جیرا آگیا۔۔۔جیرا آگیا۔۔۔۔جیرا آگیا۔۔۔
میں نے جیرے کی گھبراہٹ دور کرنے کے لیے دو چار دوستانہ سوالات کیے۔۔پھر پوچھا۔۔جیرے یہ چوہوں کا کیا قصہ ہے؟
یہ سوال سنتے ہی اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں بولا۔سوں رب دی۔میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔۔ اس نے ۔۔۔ فرید نے مجھ کو کہا تھا کہ آؤ چوہوں کا تماشہ کرتے ہیں۔۔
گھبراؤ نہیں پتر۔۔ہم نے کب کہا ہے کہ تمہارا قصور ہے۔۔ ویسے ہوا کیا تھا۔۔ چوہے کون لایا تھا۔۔؟
چوہے توجی پنجرے میں پھنسے ہوئے تھے۔۔ چار پانچ تھے۔۔ چاچی نے مجھے پنجرا دیا اور کہا کہ چوہوں کو چھپڑ میں ڈبو کر مار دو۔۔میں جانے لگا تو فرید نے مجھے روک لیا کہنے لگا۔۔ آؤ چوہوں کا تماشہ کرتے ہیں۔۔۔
کون سی چاچی نے پنجرہ دیا تھا۔۔؟
فرید کی اماں نے۔۔
اچھا پھر کیا ہوا۔؟
جی۔ پہلے تو ہم چوہوں کو ایسے ہی چھیڑتے رہے۔۔ پھر یہ فرید کہنے لگا کہ چوہوں کی دم میں کپڑا باندھ کر آگ لگاتے ہیں۔ میں نے اس کو منع بھی کیا لیکن یہ نہیں مانا۔۔۔
تم لوگوں نے چوہوں کی دم کے ساتھ کپڑا کیسے باندھا۔۔؟
یہ جی ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر چوہا پڑتا تھا۔۔ میں تار کے ساتھ کپڑا باندھ کر تار کو چوہے کی دم پر لپیٹ دیتا تھا۔۔۔
کپڑے پر مٹی کا تیل بھی ڈالا تھا۔۔۔؟
آہو جی۔۔اس نے کپڑے کو کنستر میں ڈبویا تھا۔۔
پھر کیا ہوا۔۔؟
پھر یہ ماچس لے آیا اور ایک ایک چوہے کپڑے کو آگ لگا کر چھوڑتا گیا۔۔ دو تین چوہے کمروں میں گھس گئے۔۔ میں نے فرید سے کہا کہ اب تمہارے ابا جی تمہیں بہت مارے گے۔۔ اس نے ڈر کے مارے سارے دروازے بند کر دیے۔۔ تھوڑی دیر بعد اندر شور مچ گیا۔۔ ادھر بھی آگ لگ گئی۔۔ ہم ڈر کے مارے باہر بھاگے تو فرید کی کنستر سے ٹکر ہو گئی اور وہ کنستر الٹ گیا۔
بات ختم کرتے ہی اس نے رونا شروع کر دیا۔۔ وہ بار بار یہی کہتا تھا۔۔ ایمان سے میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔
میں نے اسے اس کے باپ کے ہمراہ رخصت کر دیا۔۔ اس کا واقعی کوئی قصور نہیں تھا۔۔ قصور اس پاگل فرید کا بھی نہیں تھا۔۔
اس ساری کارروائی میں درحقیقت قدرت کا دست انتقام کام کر رہا تھا۔
ختم شد