Anokha Adventure Urdu Novel

انوکھا ایڈوانچر – (پارٹ 2)

جس وقت میری آنکھ کھلی میں نے خود کو فرش پر لیٹے ہوئے پایا، اب میرے جسم پر قمیض نہیں تھی صرف شلوار تھی اور پورے بدن پر کوئی تیز بو والی کریم سی لگی ہوئی تھی، میری کمر کے نیچے کھجور کی چٹائی تھی اور اوپر لکڑیوں اور سرکنڈوں سے بنی ہوئی چھت تھی جس کی اونچائی زیادہ نہیں تھی، اس جھونپڑی نما کمرے کے دروازے کی جگہ پرانا سا کپڑا لٹکایا ہوا تھا، جس کے سوراخوں سے تیز روشنی چھن چھن کر اندر آ رہی تھی، مجھے اندازہ ہوا کہ دوپہر کا وقت تھا، کچھ دیر میں لیٹا سوچتا رہا کہ میں کہاں پر ہوں، پھر مجھے ایک ایک کر کے سب باتیں یاد آنے لگیں، اور میرا سر چکرانا شروع ہو گیا اتنا کچھ ہو گیا تھا اور میں زندہ بھی بچ گیا تھا لیکن میں اس وقت کہاں پر ہوں؟ یہ خیال آتے ہی میں اٹھ کر بیٹھ گیا، اٹھنے کی وجہ سے کمر میں کافی زیادہ درد نکلی اور میں کراہ کر رہ گیا، اسی وقت دروزے کا پردہ ہٹا اور ایک بوڑھا اندر داخل ہو گیا، اس کی عمر ساٹھ سال سے کم نہیں تھی وہ بھی میری طرح صرف شلوار میں ملبوس تھا، بلکہ شلوار کی جگہ اس کے تہبند باندھی ہوئی تھی جو کافی پرانی اور میلی لگ رہی تھی
بوڑھے کا رنگ سانولا، چھوٹی چھوٹی داڑھی، بڑی سی مونچھیں اور آنکھوں کا رنگ زرد تھا وہ میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اردو اور سندھی کے ملے جلے لہجے میں بولا کہ تمہاری طبیعت کیسی ہے لڑکے؟ ابھی تم مت اٹھو، تمہاری کمر اور چہرے پر چوٹ آئی ہے، میں نے اس سے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟ اس نے غور سے میری جانب دیکھا اور کہنے لگا کہ تم اس وقت ہمارے قبیلے میں ہو، شکر کرو تم زندہ بچ گئے ہو۔۔ پانی ۔۔۔ مجھے تھوڑا سا پانی ملے گا؟ میں نے اپنے خشک حلق پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ؟ تو اس بوڑھے نے وہیں بیٹھے آواز لگائی ” کومل ۔۔ پانی لے کر آؤ، لڑکے کو ہوش آ گئی ہے، بوڑھے کے منہ سے کومل کا نام سن کر مجھے ایکدم سے یاد آیا کہ جب میں ڈھلوان سے نیچے گرا تھا تو اس وقت بھی کسی لڑکی نے کومل کو پکارا تھا، اور پھر کومل پردہ ہٹا کر اندر آ گئی، وہ لمبے قد اور گندمی رنگ کی پرکشش لڑکی تھی، اس کی آنکھیں بڑی بڑی لیکن گہرے کالے رنگ کی تھیں، ایک نظر میں مجھے اتنا ہی معلوم ہو سکا تھا، اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا قدرے صاف برتن تھا، جس میں پانی بھرا تھا اس نے برتن میرے آگے کر دیا،
میں نے اس کے ہاتھ سے برتن جھپٹا اور ندیدوں کی طرف غٹا غٹ پینے لگا، بے صبری کی وجہ سے کچھ پانی تو نیچے ہی گر گیا تھا، میں نے برتن خالی کر کے کومل کو پکڑایا تو وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی شاید اس کو میرے پانی پینے کے انداز پر ہنسی آئی تھی، کچھ دیر میں یوں ہی بیٹھا رہا، اور پھر بوڑھے کے کہنے پر لیٹ گیا، تمہارا نام کیا ہے نوجوان ؟ اس نے گہری نظروں سے میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا تو میں نے اسے اپنا نام بتا دیا، اس نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو اور کہاں جانے کا ارادہ تھا؟ میں نے مختصر الفاظ میں اسے ساری صورت حال بتا دی، وہ غور سے میری باتیں سن رہا تھا، جب میں خاموش ہوا تو کہنے لگا کہ یہ صحرا تو بھٹکنے والوں کے لیے موت ہے۔۔ تم زندہ بچ گئے ہو بڑی بات ہے، میری دونوں بیٹاں سبزی کاٹنے کھیتوں میں گئی ہوئی تھیں جب انہوں نے تم کو اونچے ٹیلے سے نیچے گرتے ہوئے دیکھا تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں، اور میں نے قبیلے کے چند نوجوانوں کو ساتھ لے کر تم کو وہاں سے اٹھایا، اور یہاں اپنی جھونپڑی میں لے آیا، تمہیں دیکھتے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ تم کوئی بھٹکے ہوئے مسافر ہو، تمہارے منہ میں پانی ٹپکانے کے باوجود بھی جب تم کو ہوش نا آئی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ تم زخمی ہوئے ہو،
میری چھوٹی بیٹی رمشا بتا رہی تھی کہ تم نیچے آتے ہوئے زور سے درخت کے ساتھ ٹکرائے تھے، پھر میں نے تمہارے جسم پر ایک خاص کریم کا لیپ کر دیا، جس سے تمہارے درد کو افاقہ ہوا ہو گا، لیکن پھر بھی تم ساری رات بے ہوش رہے ہو، اور آج دوپہر کو تم نے آنکھیں کھولی ہیں، اوپر والے کا شکر ہے تم بچ گئے ہو۔۔ جب بوڑھے نے “اوپر والے کا شکر” کہا تو مجھے شک ہوا کہ کیا یہ مسلمان ہے؟ اگر مسلمان ہوتا تو اللہ کا شکر بھی کہہ سکتا تھا، لیکن اس سے براہ راست یہ بات پوچھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی، وہ کون تھا کیا تھا ؟ جیسا بھی تھا اس نے میری جان بچائی تھی اور میرا محسن تھا، پھر بھی مجھے جو بات بے چین کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ میں اس وقت کہاں پر ہوں؟
اپنے گھر اور اپنے شہر سے کتنا دور ہوں؟ جب میں نے دوبارہ یہ سوال بوڑھے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم اس وقت سنیاسی قبیلے کے مہمان ہو، یہ قبیلہ میرے شہر صادق آباد سے بہت دور انڈیا کے بارڈر کے بالکل پاس بستا تھا، اور چھوٹی چھوٹی درجنوں جھونپڑیوں پر مشتمل تھا، ان لوگوں کا طرز زندگی مہذب نہیں تھا یہ لوگ مسلمان بھی نہیں تھے بلکہ ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا اور مجھے جہاں تک معلوم تھا سنیاسی لوگ ہر طرح کے جنگلی جانور یہاں تک کے کتے بلیاں بھی شوق سے کھا جاتے تھے، یہ سب جان کر مجھے کراہت سی محسوس ہونے لگی تھی لیکن میں اس وقت مجبور تھا، اور اس بوڑھے کے بقول جس کا نام ناشی بابا تھا، میں اکیلا اپنے گھر بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ یہ جگہ میرے شہر سے تیس کلو میٹر دور تھی اور میں پتا نہیں یہاں تک کیسے آن پہنچا تھا سارا راستہ ریگستان سے ہو کر گزرتا تھا، اور میں اکیلا دوبارہ موت کے منہ میں جانا بھی نہیں چاہتا تھا، کم سے کم جب تک مجھے راستے کا ٹھیک سے علم نا ہو جاتا، اور پانی کا انتظام تو اس سے بھی زیادہ ضروری تھا، وہ بوڑھا یعنی ناشی بابا مجھے آرام کرنے کا کہہ کر کھیتوں میں چلا گیا تھا، اور میں قمیض پہن کر وہیں پر لیٹ کر وقت گزاری کرنے لگا،
ویسے بھی کمر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اٹھنے اور چلنے پھرنے میں دقت تھی اور میری جو حالت ہو چکی تھی اس میں مجھے آرام کی کافی ضرورت تھی، لیکن میں اپنے گھر والوں کے لیے پریشان تھا، وہ یقیناً مجھے ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہوں گے، پھر مجھے اپنے دونوں ساتھیوں کا خیال آیا تو میرا دل بے چین ہو گیا، میں تو زندہ بچ گیا تھا لیکن ان کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا، ناشی بابا نے مجھے بتایا تھا کہ اس صحرا میں ان کے ساتھیوں کو کئی بار مسافروں کے ڈھانچے ملے ہیں، یہ خونی ریگستان ہے جو مسافروں کی جان لینے میں زرا بھی دیر نہیں کرتا، میں نے دل میں اپنے دوستوں کی زندگی کے لیے دعا کی، اور جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل باہر نکال لیا، جو ابھی تک میرے پاس تھا، سگنل تو اس پورے علاقے میں یوں غائب تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، لیکن بیٹری کافی چارج تھی کیونکہ استعمال نہیں کیا تھا، میں ایسے ہی گیلری کھول کر اپنی فیملی اور دوستوں کی تصویریں دیکھ کر ان کو یاد کرنے لگا، اچانک کومل پردہ ہٹا کر جھونپڑی میں آ گئی، اس کے ہاتھ میں کھانے والی ٹرے تھی، کھانا میرے قریب زمین پر رکھتے ہوئے وہ بولی کہ بابا کہہ کر گئے تھے آپ کو کھانا دے دوں، اچانک کومل کی نظریں میرے موبائل پر پڑیں تو وہ حیران ہو گئی، یہ کیا چیز ہے جی؟
اس نے حیرت اور دلچسپی سے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو میں اس سے بھی زیادہ حیران ہوا کہ ان لوگوں نے آج تک شاید موبائل دیکھا ہی نہیں تھا، میں نے اس کو موبائل کے بارے میں بتایا اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کی تصویریں دکھائیں تو وہ حیرت سے منہ پھاڑے سب کچھ دیکھتی رہی، اس نے پرجوش ہو کر اپنی چھوٹی بہن رمشا کو بھی جھونپڑی میں بلا لیا تھا، رمشا بھی کومل کی کاپی تھی بس عمر میں دو تین سال چھوٹی تھی، مجھے ڈھلوان سے نیچے گرتے سب سے پہلے رمشا نے ہی دیکھا تھا اور پھر کومل کو آواز لگائی تھی، اب وہ دونوں بہنیں دلچسپی سے میرے موبائل میں تصویریں دیکھ رہی تھیں، میں نے موبائل کا کیمرہ کھول کر دونوں بہنوں کی تصویر بنا کر ان کو دکھائی تو وہ اتنی حیران ہوئیں کہ مجھے ہنسی آ گئی پھر وہ شرما گئیں، کومل بولی کہ آپ کھانا کھا لو، ٹھنڈا ہو رہا ہے، میں نے برتن اٹھا کر دیکھا تو کسی جانور کا بھنا ہوا گوشت تھا،۔ مجھے کراہت محسوس ہونے لگی اور میں پوچھ ہی لیا کہ کیا یہ بلی کا گوشت ہے یا گیدڑ کا؟ کومل جلدی سے بولی کہ یہ جنگلی خرگوش کا گوشت ہے اور بابا نے رات ہی شکار کیا تھا،
خرگوش کا سن کر میرے منہ میں پانی بھر آیا اور پھر میں نے ڈٹ کر کھانا کھایا، اور جب دونوں بہنیں خالی برتن اٹھا کر واپس چلی گئیں تو میں دوبارہ لیٹ گیا، پیٹ میں کھانا جاتے ہی مجھے نیند نے آن گھیرا تھا اور میں بے خبر ہو کر سو گیا۔۔
جس وقت میری آنکھ کھلی جھونپڑی میں اندھیرا چھایا ہوا تھا، جس کو چھوٹی سی لالٹین سے کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، یہ لالٹین شاید کسی جانور کی چربی کے تیل سے جل رہی تھی جس کی عجیب سی ناگوار بو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، میں اٹھ کر بیٹھ گیا اب میری طبیعت کافی بہتر تھی اور میں خود کو تازہ دم محسوس کر رہا تھا، میں جھونپڑی سے باہر نکل آیا، یہ چھوٹا سا گھر تھا جس میں اس طرح کی دو اور بھی جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں، ناشی بابا باہر صحن میں چارپائی ڈالے تمباکو پھونک رہا تھا کومل اور رمشا شاید کچھ پکانے میں مصروف تھیں، ایک تو مجھے بھوک نہیں تھی دوسرا میں نے سوچا ہوا تھا کہ جب تک بھی یہاں رہوں گا کھانا بہت کم اور ضرورت پڑنے پر کھاؤں گا، کیونکہ یہ لوگ جو کچھ کھاتے تھے مجھے سوچ کر ہی الٹی آنے لگتی تھی، ناشی بابا نے مجھے اپنے قریب بٹھا کر تمباکو کی آفر کی، لیکن میں نے مسکراتے ہوئے منع کر دیا، مجھے ایسی کوئی عادت نہیں تھی، دونوں لڑکیاں آتے جاتے دلچسپی سے مجھے دیکھ رہی تھیں، جب کھانا کھانے کی باری آئی تو میں نے بھوک نا ہونے کا کہہ کر منع کر دیا، لیکن جب چاولوں کی خوشبو ناک میں چڑھی تو میں خود کو روک نا پایا، اور پیٹ بھر کر چاول کھائے جو کافی مزے کے بنے تھے، کھانے سے فارغ ہو کر ناشی بابا کہنے لگا کہ میرے ساتھ باہر چلو، آج رات چاند کی چودھویں ہے اور ہمارے قبیلے میں شکاری میلہ لگا ہوا ہے۔۔ میں نے پوچھا کہ یہ شکاری میلہ کیا ہوتا ہے؟
ناشی بابا نے بتایا کہ ہمارے قبیلے کا رواج ہے ہر چاند کی چودھویں رات کو شادی کے خواہشمند نوجوان شکار مار کر لاتے ہیں ، جس کا شکار سب سے اچھا ہو، اس کی شادی اس کی من پسند لڑکی سے کر دی جاتی ہے، آج رات بھی قبیلے کے باہر کھلے میدان میں شکار میلہ سج چکا تھا، میرے لیے یہ دلچسپ بات تھی، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہاں پر نوجوان کیسا شکار کرتے ہیں اور آج رات کا شکار تگڑا ہو گا، ناشی بابا نے مجھے ایک چادر پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے چاروں جانب لپیٹ لو، میں نہیں چاہتا کہ ہر کوئی تمہیں دیکھ کر تمہارے بارے میں سوال پوچھے، میں نے خود کو چادر میں چھپا لیا اور ناشی بابا کے ساتھ چل پڑا، جلد ہی ہم جھونپڑیوں کے قبیلے سے باہر ایک کھلے میدان میں پہنچ چکے تھے، یہاں پر خاصا رش تھا، ہر عمر کے مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی، اب ہم ایک بڑے سے دائرے کے پاس پہنچ چکے تھے، تھوڑی دیر بعد قبیلے کے نوجوان ایک ایک کر کے اپنے شکار کو کندھوں پر لاد کر لانے لگے۔ اور ایک جگہ جمع کرتے گئے، اچھے اور بڑے شکار کا فیصلہ آخر میں قبیلے کے سردار نے کرنا تھا جو ابھی تک نہیں آیا تھا، یہ دلچسپ تماشہ جاری تھا کہ ایک پندرہ بیس سال کا لڑکا بھاگتا ہوا آیا، اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آنکھیں خوف کے مارے اوپر کو چڑھ گئی تھیں، اس نے لوگوں کے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا کہ ماکھے کی لاش قریبی جھاڑیوں میں پڑی ہے، کسی درندے نے اس کا نرخرہ چبا ڈالا ہے، یہ سنتے ہی ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔۔
لڑکے کے منہ سے ماکھے کی موت کی خبر سن کر لوگ ایک طرف کو بھاگنے لگے، ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ پہلے جا کر اس کی لاش دیکھے، میں نے ناشی بابا سے پوچھا کہ یہ ماکھا کون ہے اور اس کی موت کا سن کر ہر کوئی چیخ و پکار کیوں کرنے لگا ہے؟ ناشی بابا نے میرا ہاتھ پکڑا اور لوگوں کے درمیان میں سے جگہ بناتا ہوا مجھے بھی اس طرف لے جانے لگا، لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو جھونپڑیوں سے نکل کر صحرا میں لڑکے کی بتائی ہوئی جگہ کی طرف جا رہا تھا، ناشی بابا نے آہستہ آواز میں مجھے بتایا کہ یہ لڑکا ماکھا، قبیلے کے سردار تارا خان کا اکلوتا بیٹا ہے بہت بہادر اور خوبصورت جوان تھا، آج رات ہونے والے شکار مقابلے میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب سے تگڑا شکار مار کر لائے گا، اور اپنی پسند کی لڑکی کو بیاہ کر لے جائے گا، یہی وجہ ہے کہ اس کی اچانک موت کا سن کر سب لوگ پریشان ہو گئے ہیں، اچھا اور بہادر لڑکا تھا لیکن معلوم نہیں کس جانور نے الٹا اس کا شکار کر لیا تھا،
ناشی بابا کا کہنا تھا کہ ہمارے قبیلے کی تاریخ میں پہلی بار ایسا واقعہ ہوا ہے، میں نے ناشی بابا سے کہا کہ ہو سکتا ہے اسے کسی جانور نے نا مارا ہو، بلکہ کسی انسان نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہو، ناشی بابا کہنے لگا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ قبیلے کے سردار کا بیٹا تھا اس کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور قبیلے والوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت ہی اچھا تھا یہی وجہ ہے کہ اس کی موت کا سن کر ہر کوئی آہ و بکا کرنے لگ گیا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ ابھی وہاں پر پہنچ کر سب کچھ معلوم ہو جائے گا، جلد ہی ہم لوگ بستی سے تھوڑا دور اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں ماکھے کی لاش پڑی ہوئی تھی ، وہ ایک جھاڑی پر ایسے گرا تھا کہ آدھا جسم جھاڑی کے اوپر تھا اور آدھا نیچے، گاؤں کے کچھ لوگ لالٹین بھی ساتھ لائے تھے جن کی روشنی میں صاف پتا چل رہا تھا کہ کسی جنگلی جانور نے بہت بے رحمی سے اس کا گلا چبا کر چھوڑ دیا تھا،
اس کے کپڑوں پر بھی خون کے دھبے تھے اور کئی جگہ سے قمیض پھٹ گئی تھی، قریب ہی لمبے دستے والی ایک کلہاڑی اور رسی پڑی تھی، جس سے ماکھا شکار کرنے نکلا تھا، لڑکے کا رنگ سانولا تھا لیکن قد و قامت سے کافی مضبوط اور بہادر دکھائی دیتا تھا، قبیلے کے چند سرکردہ افراد نے لوگوں کے ہجوم کو پیچھے ہٹا دیا تھا، تاکہ غور سے لاش کا جائزہ لے کر اس کی موت کی وجہ معلوم کر سکیں، ناشی بابا بھی ان چند لوگوں میں شامل تھا جو ماکھے کی لاش کے پاس موجود تھے اسی وجہ سے مجھے بھی سب کچھ قریب سے دیکھنے کا موقع مل گیا تھا، ناشی بابا نے لالٹین کی روشنی میں آس پاس کی زمین کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا، چونکہ یہ ریگستان کا علاقہ تھا اس لیے کسی درندے کے عجیب سے قدموں کے نشان کسی سے چھپے نا رہے، آگے اور پیچھے والے بڑے بڑے پنجے انسانی ہاتھ سے بھی بڑے تھے،
ان نشانات نے سب کو حیران اور خوفزدہ کر دیا تھا ناشی کا کہنا تھا ہمارے علاقے میں اس طرح کے قدموں والا کوئی بھی درندہ آج تک نہیں آیا، اس ریگستان میں صحرائی لومڑ، گیدڑ، جنگلی سور، اور بڑی جسامت والے جنگلی بلے وغیرہ تو بکثرت پائے جاتے تھے، لیکن اتنے بڑے پیروں والا درندہ تو کوئی بھی اس علاقے میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا، یہی چیز سب کو حیران کر رہی تھی، اسی وقت شور مچ گیا کہ قبیلے کا سردار یعنی ماکھے کا باپ بھی پہنچ گیا ہے، سب لوگ سائیڈ کو کھسک کر اس کے لیے جگہ بنانے لگے اور پھر سردار آ گیا، وہ بھی لمبے قد اور بھاری جسم والا آدمی تھا، سردار کا رنگ سیاہ کالا تھا اور آنکھیں بڑی بڑی، جو دیکھنے والے کو خوفزدہ کر دیں، سردار کے لمبے بال شانوں تک لہرا رہے تھے، وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے بیٹے کی لاش تک آیا اور کچھ دیر پاس کھڑا ہو کر اس کا جائزہ لیتا رہا، سب لوگ دم سادھے کھڑے تھے، پھر سردار نے ماکھے کی لاش کو ٹھوکر مار کر غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا کہ اسے لے جاؤ میری آنکھوں کے سامنے سے، ایسے بزدل کی موت یوں ہی ہوتی ہے،
میں نے اس لیے اسے پال کر اتنا بڑا نہیں کیا تھا کہ یہ کسی بلی یا کتے کے ہاتھوں مارا جائے،، یہ ماجرا دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا، قبیلے کے لوگوں میں سے کسی نے بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں کی تھی، سردار واپس مڑنے لگا تو ہجوم میں سے ایک عجیب سے حلیے والا بوڑھا آدمی نکل کر آگے آ گیا اور کہنے لگا کہ سردار بات یہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہو، سارے لوگ مڑ کر اس عجیب سے آدمی کی جانب دیکھنے لگے، اس کے سر ، داڑھی مونچھوں اور پلکوں کے بال سرے سے موجود ہی نہیں تھے، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت عجیب اور ڈراؤنا سا دکھائی دیتا تھا، سردار نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا اور سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا یوں لگتا تھا کہ سردار خود بھی اس بوڑھے کی بات کو اہمیت دیتا ہے، وہ مزید بولا کہ سردار اس میں قصور ماکھے کا نہیں ہے، ماکھا تو واقعی ہی بہت بہادر اور جوان لڑکا تھا، اتنا کہہ کر وہ عجیب شکل بوڑھا خاموش ہو گیا، سردار تارا خان نے دو قدم اس کی جانب بڑھائے اور پوچھا کہ تم کہنا کیا چاہتے ہو بابا؟ کیا قصور اس بلی یا کتے کا ہے جس نے میرے بیٹے کو مار دیا ہے؟ اب میں اس جانور کو پکڑ کر اس کو سزا دوں؟ تم یہ کہنا چاہتے ہو تو پھر خاموش ہی رہو۔۔۔
لیکن وہ بوڑھا سردار سے خوفزدہ ہونے کے بجائے کہنے لگا کہ سردار ماکھے کو جس جانور نے بھی مارا ہے وہ جانور نا تو ہمارے خطے کا ہے اور نا ہی کوئی بلی یا کتا ہے وہ کوئی ایسا درندہ ہے، جس کے بارے میں ہم نے ساری زندگی کچھ نہیں سنا، نا ہی اسے دیکھا ہے، زرا اس کے قدموں کے نشانات تو دیکھو ، ہاتھی کے پیروں سے بڑے تو اس کے پنجے ہیں، معلوم نہیں وہ کون سا درندہ ہے جو ہمارے علاقے میں گھس آیا ہے، آج اس نے ماکھے کی جان لی ہے کل کو کسی اور کا شکار کرے گا، اور پھر ایک وقت آئے گا کہ ہمارا قبیلہ جوان اور بہادر نوجوانوں سے خالی ہو جائے گا۔۔
اس بوڑھے بابا کی باتوں میں کچھ ایسا تھا کہ سردار سمیت وہاں موجود سب لوگ خاموش ہو گئے، پھر سردار نے کہا کہ میرے بیٹے کی لاش اٹھا کر قبیلے میں لاؤ، اور آخری رسومات آج رات ہی ادا کر دو، آج چاند کی چودھویں رات ہے اوپر والا اس کی قربانی قبول کرے گا۔ اور تم سب لوگ میرے گھر پہنچو، میں نے تم سے مشورہ کرنا ہے کہ اس درندے کو کیسے قابو کرنا ہے،۔ یہ نا ہو کل کو کسی اور کا گھر اجڑ جائے، ہم سب نے مل کر اس کو تلاش کرنا ہے اور اس کا کام تمام کرنا ہے، ورنہ میرے قبیلے کے نوجوان شکار کھیلنے باہر نہیں جایا کریں گے، اور ڈر کے مارے گھروں میں ہی بیٹھے رہیں گے، سردار کی باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بیحد بہادر اور سمجھدار آدمی ہے، سردار کی باتیں سن کر میرے ذہن میں یہی بات آئی کہ اس نے اپنے بیٹے کی لاش کو ٹھوکر بھی اسی لیے ماری تھی تاکہ لوگوں کے دل میں اس درندے کا خوف نا بیٹھ جائے، لوگ یہی سمجھیں کہ درندہ خطرناک نہیں تھا بلکہ ماکھا ہی بزدل تھا جو اس کے ہاتھوں مارا گیا،
اپنے قبیلے کے لوگوں کے لیے سردار کی یہ حرکت میرے دل میں اس کی عزت بنا گئی تھی، پھر سنیاسی قبیلے کے لوگوں نے ماکھے کی لاش کو اٹھایا اور اسے قبیلے میں لے آئے، ناشی بابا ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے درندے کو پکڑنے اور مارنے کے لیے سردار کے ساتھ مشاورت کرنی تھی، اس نے مجھے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو شاید تمہارا کوئی مشورہ کام آ جائے اور سردار تم سے مل کر خوش ہو گا، چونکہ قبیلے کے بہت سے لوگوں نے تم کو میرے ساتھ دیکھ لیا ہے اس لیے، اس سے پہلے کہ لوگ سوال کریں میں خود ہی تم کو سردار سے ملوانا چاہتا ہوں، مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا، سردار جیسے بہادر آدمی سے ملنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی،
لیکن یہ کام ابھی ممکن نہیں تھا کیونکہ پہلے سردار کے بیٹے کی آخری رسومات ہونا تھیں اور اس کے بعد ہی مجلس بیٹھنی تھی اس لیے ناشی بابا نے مجھے کہا کہ تم ابھی گھر چلے جاؤ، کومل اور رمشا اکیلی ہیں، ماکھے کو زمین کے حوالے کر کے پھر میں تم کو لینے آؤں گا اور ہم سردار کے گھر چلیں گے، ابھی میں وہاں سے نکلا ہی تھا کہ ایک جانب سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں یہ ایک جھونپڑی جیسا گھر تھا جو قبیلے کے آخری کونے پر بنا ہوا تھا، یہ چیخیں عورت اور بچوں کی تھیں، میں اور سردار ناشی بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے، تب تک آس پاس سے کچھ اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے تھے، ایک عورت زمین پر بیٹھی چیخ و پکار کر رہی تھی، اور ساتھ ہی ایک جانب اشارے سے کچھ بتا رہی تھی لیکن خوف اور صدمے سے اس کے گلے سے صرف چیخیں ہی نکل رہی تھیں، اس بستی پر کوئی عذاب ٹوٹ پڑا تھا اور اس کا ذمہ دار یہ لوگ مجھے سمجھنے والے تھے۔۔۔ میں ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنسنے والا تھا ۔
××××
اتنی دیر میں آس پاس کے گھروں سے چند عورتیں بھی وہاں پہنچ گئی تھی، انہوں نے اس بین کرتی عورت کو سنبھالا اور رونے کی وجہ پوچھی تو اس عورت نے بتایا کہ اس کا شوہر کھیتوں کی طرف گیا تھا،
لیکن واپس نہیں آیا، ابھی میں اس کے پیچھے جانے کے لیے گھر سے نکلی تو وہاں پر کوئی خوفناک بلا تھی جو میرے شوہر کو زمین پر گرا کر اس کے سینے پر چڑھی بیٹھی تھی، میرے سامنے ہی اس نے میرے شوہر کا گلہ اپنے جبڑوں میں لے کر ایک جھٹکا دیا اور پھر بڑے بڑے قدموں سے ریگستان کی جانب نکل گئی، میں اتنی گھبرا گئی تھی کہ الٹے پیروں گھر کی جانب بھاگی اور یہاں صحن میں آ کر گر گئی، ہائے اس نے میرے شوہر کو مار ڈالا کوئی جا کر پتا کرے اس کا، یہ کہتے ہی وہ عورت دوبارہ سے آہ و فغاں کرنے لگی، اس کے رونے کی آواز سے پوری بستی گونج رہی تھی، اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں جمع ہو چکے تھے، کچھ لوگ بھاگتے ہوئے عورت کے شوہر کی تلاش میں باہر نکل گئے.
بستی سے کوئی دو سو میٹر باہر اس آدمی کی لاش مل گئی تھی، اس کا گلہ بھی اسی طرح چبایا گیا تھا جیسے سردار کے بیٹے ماکھے کا، جب اس کی لاش گھر پہنچی تو قبیلے کا سردار تارا خان بھی وہاں پہنچ گیا، اس نے عورت سے پوچھا کہ تم نے جو بلا دیکھی وہ کیسی تھی، اور کتنی بڑی تھی مجھے تفصیل سے بتاؤ، اس عورت نے بتایا کہ وہ بلا جسامت میں بھینس جتنی بڑی تھی لیکن اس کے جسم پر سیاہ بال اتنے بڑے تھے کہ زمین تک پہنچتے تھے، پھر جب وہ میرے شوہر کو مار کر وہاں سے بھاگی تو میں نے دیکھا کہ اس نے دونوں اگلی ٹانگیں اوپر اٹھا لی تھیں اور پچھلی ٹانگوں پر بھاگتی جا رہی تھی، اتنا کہہ کر وہ عورت بے ہوش ہو کر گر پڑی، پوری بستی میں موت کا سناٹا چھا گیا تھا، دو تین عورتیں مل کر بے ہوش پڑی اس عورت کو سنبھالنے لگیں، سردار تارا خان بولا کہ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اس طرح کا تو ریچھ ہوتا ہے، لیکن ہمارے علاقے میں اب ریچھ نہیں ہوتے، اگر کوئی ہو گا تو وہ بھینس جتنا بڑا نہیں ہو سکتا، یقیناً اس عورت کو غلط فہمی ہوئی ہے.
سردار کی بات سن کر مجمع میں سے وہی شخص آگے آیا، جس کے سر اور چہرے پر کوئی بال نا تھا، یہ وہ شخص تھا جس نے سردار کو یقین دلایا تھا کہ تمہارا بیٹا ماکھا بزدل نہیں تھا بلکہ اس کو مارنے والا درندہ بہت بڑا تھا، وہ عجیب صورت آدمی سردار کے سامنے آ کر بولا کہ سردار یہ بات ہم کو مان لینی چاہیے کہ وہ بلا واقعی بہت بڑی ہے، اور میں نے اپنے علم سے حساب لگایا ہے کہ یہ آفت ہماری بستی پر کیوں ٹوٹی ہے،
عجیب صورت شخص کی بات اور لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ سب لوگ سانس روک کر اس کی بات سن رہے تھے، کیا مطلب تمہارا؟ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ جیسے ہی وہ آدمی خاموش ہوا تو سردار نے بے صبری سے پوچھا، وہ آدمی کہنے لگا کہ ہماری بستی میں اور ہم لوگوں کے درمیان ایک منحوس آدمی آیا ہے، اور اس کی نحوست کا سایہ ہے کہ ہمارا اوپر والا دیوتا ہم سے ناراض ہو گیا ہے، میں نے یہ بات اپنے علم سے جان لی ہے، وہ شخص بے دین ہے اور ہمارے اوپر والے دیوتا کو نہیں مانتا، اگر اس کو فوراً سے پکڑ کر قبیلے سے باہر نا نکالا گیا تو پھر روز لاشیں اٹھانی پڑیں گی۔۔
عجیب صورت آدمی کی باتیں سن کر میں اندر سے کانپ کر رہ گیا تھا،۔ اس بستی میں اجنبی تو صرف میں ہی تھا،۔ اور مجھے واقعی ان لوگوں کے دیوتا یا بھگوان سے کوئی سروکار نہیں تھا نا ہی میں اس کو مانتا تھا،۔ ایک مسلمان بھلا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی پاور کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے، اگر میں ان لوگوں کے لیے بے دین تھا تو وہ ان کی اپنی سوچ تھی، لیکن صورت حال میرے خلاف ہو چکی تھی،
سردار تارا خان گرجتے ہوئے بولا کہ کون آیا ہے ہماری بستی میں؟ اور مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ کون ہے وہ منحوس جس کی وجہ سے دیوتا ہم سے ناراض ہو کر ہمارے لوگوں کی زندگیاں لے رہا ہے؟
یہ بات واضح کر دوں کہ اب تک اس قبیلے کے کافی لوگ مجھے دیکھ چکے تھے اور میرے بارے میں جان بھی گئے تھے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں،
وہ عجیب صورت آدمی، جس کی یہاں پر حیثیت شاید مذہبی پیشوا یا نجومی کی تھی، اس کو بھی میرے بارے میں اس وقت معلوم ہو گیا جب میں ناشی بابا کے ساتھ ماکھے کی لاش دیکھنے گیا تھا، میں نے اس آدمی کی نظروں میں اپنے لیے نفرت دیکھی تھی لیکن میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، اب موقع دیکھ کر وہ آدمی کھل کر میرے خلاف آگیا تھا، تھوڑی دیر بعد میں سر جھکائے مجرموں کی سردار تارا خان کے سامنے کھڑا تھا، اس نے بڑے مشکوک انداز میں کرید کرید کر مجھ سے سوال پوچھے، کہ میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کس خدا کو مانتا ہوں وغیرہ وغیرہ، سردار نے ناشی بابا کو سرزنش کی اور کہا کہ تم کو فوراً مجھے اطلاع دینی چاہیے تھی کہ ایک اجنبی لڑکا ہمارے قبیلے میں آیا ہے، ورنہ ہمارا اتنا نقصان نا ہوتا،
تمہاری غفلت کی وجہ سے مجھے اپنا اکلوتا بیٹا گنوانا پڑا، اور یہ دوسرا آدمی جس کی لاش تمہارے سامنے پڑی ہے یہ بھی اسی وجہ سے مرا ہے، یقیناً دیوتا ہم سے ناراض ہو گیا ہے، اور اس نے یہ عذاب ہم پر نازل کر دیا ہے، کچھ دیر پہلے جس سردار کو میں بہت عقل مند اور بہادر سمجھ رہا تھا اس کا عقیدہ اتنا کمزور اور گمراہ کن دیکھ کر مجھے افسوس ہوا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ لوگ میرے ساتھ کیا کرنے والے ہیں، سردار تارا خان نے حکم دیا کہ اس لڑکے کو لے جا کر قید کر دو، ہم مرنے والے دونوں افراد کی رسومات سے فارغ ہو کر اس منحوس نوجوان کے بارے میں فیصلہ کریں گے، اور پھر چار ہٹے کٹے آدمی آگے بڑھے اور مجھے بازوؤں سے پکڑ کر دھکے مارتے ہوئے ایک جانب لے جانے لگے، میں نے مڑ کر اس عجیب صورت والے نجومی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں کی چمک اور پراسرار سی مسکراہٹ مجھے اشارہ دے رہی تھی کہ مجھے پھنسا کر وہ بہت خوش ہے، چاروں آدمی مجھے پکڑ کر ناشی بابا کے گھر کی جانب لے گئے، اس کے گھر کے ساتھ ہی ایک اور گھر تھا، جس کے اندر کافی زیادہ جھونپڑیاں بنی ہوئی تھیں، مجھے ایک جھونپڑی میں ڈال کر دو آدمی باہر کھڑے ہو گئے اور دو واپس چلے گئے، ایک طرح سے یہ ان کا قید خانہ تھا
جہاں پر مجھے قید کر دیا گیا تھا، مجھے معلوم تھا کہ اس بستی میں اگر کسی کو مجھ سے ہمدردی ہے تو صرف ناشی بابا اور اس کے گھر والوں کو تھی باقی سب لوگ تو میرے دشمن بن گئے تھے، مجھے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں مجھے قتل نا کر دیں، کیونکہ ان کے نزدیک میں منحوس تھا، آج رات میری تقدیر کا فیصلہ ہونے والا تھا، میں چھوٹی سی جھونپڑی میں بے چینی سے وقت گزار رہا تھا، آخر کار مجھے نیند نے گھیر لیا، اور میں زمین پر لیٹ کر سو گیا اور صبح تک سوتا رہا، اگلی صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اٹھ کر جھونپڑی سے باہر جھانکا تو وہاں پر دو کی بجائے صرف ایک پہریدار کھڑا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ رات تمہارے قبیلے والوں نے میرے لیے کیا فیصلہ کیا ہے؟ تو اس نے جو کچھ مجھے بتایا، وہ سن کر میں کانپ کر رہ گیا
پہریدار کے مطابق آج شام کو قبیلے والے مجھے بستی سے باہر لے جا کر ویران جگہ پر ایک درخت کے ساتھ باندھنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ رات کو وہ خوفناک بلا مجھے قتل کر دے اور یوں قبیلے سے نحوست کا سایہ ٹل سکتا تھا، یہ بات جان کر میں بہت بے چین ہو گیا تھا، میں کسی خونی درندے کا نشانہ بننا نہیں چاہتا تھا، لیکن سب کچھ میرے اختیار میں نہیں تھا، مزید بے بسی کی بات یہ تھی کہ میں یہاں سے کسی طرح بھاگ بھی جاتا تو صحرا میں بھوک اور پیاس سے لازمی مر جاتا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ صحرا کتنا خطرناک اور جان لیوا تھا،
دوپہر سر پر آ گئی تھی اور مجھے بھوک ستانے لگی تھی کیونکہ مجھے قید میں ڈالنے سے لے کر اب تک صرف پانی ہی دیا گیا تھا، پہریدار نے مجھے بتایا کہ تمہارے کھانے کا انتظام ناشی بابا ہی کرے گا اور تھوڑی دیر بعد تم کو آخری کھانا کھلا دیا جائے گا، اور پھر شام کا اندھیرا پھیلنے سے پہلے تم کو بستی سے باہر ویران جگہ پر باندھ کے بلا کے ہاتھوں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، یہ باتیں سن کر میری بھوک اڑ گئی تھی ، تھوڑی دیر بعد جھونپڑی میں ناشی بابا آ گیا، اس کے پیچھے پیچھے کومل بھی تھی جس نے کھانے کے برتن ہاتھ میں پکڑ رکھے تھے، میں نے دیکھا کہ کومل کی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں، یقیناً وہ مجھے یوں مرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
کومل کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں شاید وہ مجھے مرتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتی تھی، میری بھوک تو ختم ہو چکی تھی لیکن پھر بھی تھوڑا سا کھانا کھا ہی لیا، ناشی بابا کہنے لگا کہ تم جانتے ہو کہ آج رات یہ لوگ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہیں؟ میں نے سر ہلا کر بتایا کہ مجھے پتا چل گیا ہے، ناشی بابا بولا کہ مجھے افسوس ہے میں چاہ کر بھی تمہاری مدد نہیں کر سکا، میری دو جوان بیٹیاں ہیں اگر میں تمہارے ساتھ کوئی نرمی کروں گا تو قبیلے والے مجھے اپنا دشمن سمجھیں گے، میں نے کھانا کھا کر برتن واپس کر دیے، اور ناشی بابا اور کومل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں نے میری جان بچائی، مجھے اپنے گھر میں پناہ دی، میرے لیے یہ بڑی بات ہے، اس سے زیادہ تم لوگ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے اور مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے، ناشی بابا اٹھتے ہوئے بولا کہ ہم چلتے ہیں گھر میں رمشا اکیلی ہے، پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکل گیا اور کومل برتن سمیٹنے لگی، میں نے پہلی بار قریب سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا، وہ نا صرف خوبصورت تھی بلکہ نرم دل کی مالک تھی،
میں دعا کروں گی کہ تم زندہ بچ جاؤ اور کسی طرح اپنے گھر واپس چلے جاؤ، اچانک کومل نے میری طرف دیکھ کر دھیرے سے کہا تو میں نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔۔ پھر وہ کہنے لگی کہ تمہارے موبائل میں میری اور رمشا کی تصویر بھی ہے، اگر تم اپنے گھر پہنچ گئے تو تصویر کو دیکھ کر مجھے یاد کیا کرنا، میں نے کومل سے کہا کہ چلو ایک تصویر تمہاری اکیلی کی بناتا ہوں، امید تو نہیں ہے کہ یہ لوگ مجھے زندہ چھوڑیں گے، پھر بھی اگر میں بچ گیا تو لازمی تمہاری تصویر دیکھ کر تم کو یاد کیا کروں گا، میری بات سن کر وہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگی، اور میں نے جھٹ سے اس کی تصویر کھینچ لی، پھر وہ جانے کے لیے اٹھی اور جب جھونپڑی کے دروازے کے پاس گئی تو رک کر مجھے دیکھنے لگی اور بولی کہ میں بھی تم کو یاد کروں گی، اور آخری بات۔۔۔ میں جو کچھ کر سکی، تمہارے لیے کروں گی
پھر وہ جلدی سے باہر نکل گئی۔۔۔
اور میں افسردگی سے اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا، جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو میں زمین پر لیٹ گیا اور شام ہونے کا انتظار کرنے لگا، میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، شام ڈھلتے ہی قبیلے کے سات آدمی مجھے لینے آ گئے، ان کے پاس ایک سیاہ رنگ کا بکرا بھی تھا، جس کو ساتھ لانے کا مقصد مجھے سمجھ نہیں آیا تھا، انہوں نے مجھے بازؤں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے لے کر ایک جانب چلے گئے، ان ساتوں آدمیوں نے سر منڈوایا ہوا تھا، اور ان کے کپڑے بھی ایک جیسے تھے صرف ایک آدمی ایسا تھا جس نے اپنا چہرہ نقاب میں چھپا رکھا تھا، مجھے سمجھنے میں زرا دیر نہیں لگی تھی کہ وہ مجھے اس خونی بلا کے سامنے ڈالنے والا کام مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کرنے والے تھے، کافی دیر چلنے کے بعد وہ مجھے ایسی جگہ لے آئے جہاں پر چاروں جانب ریت کے بلند ٹیلے تھے اور ان کے درمیان اکلوتا درخت سر اٹھائے کھڑا تھا، انہوں نے مجھے اس درخت کے ساتھ کھڑا کر کے پہلے میرے دونوں ہاتھ باندھے، اور پھر رسی کے ساتھ مجھے چاروں جانب سے جکڑ کر درخت کے تنے سے باندھ ڈالا، رسی اتنی مضبوط تھی کہ میں کبھی بھی اس کو کھول یا توڑ نہیں سکتا تھا، جب وہ اس کام سے فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے لباس سے چاقو نکال کر بکرے کی گردن کاٹ دی، اور اس کے خون کو اچھی طرح آس پاس گرا دیا،
پھر وہ ساتوں آدمی درخت کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے، اور بلند آواز میں مل کر کچھ پڑھنے لگے، کچھ دیر بعد وہ ساتوں واپسی کے لیے چل پڑے، ان میں سے جو نقاب پوش تھا وہ سب سے پیچھے پیچھے جا رہا تھا، اچانک وہ رک گیا اور میری جانب دیکھنے لگا اور پھر اس نے اپنا نقاب ہٹا دیا، یہ تو وہی عجیب صورت گنجا تھا جس نے سردار تارا خان کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا کر مجھے مروانے کا انتظام کیا تھا، میرا بس چلتا تو میں رسی تڑوا کر اس بدنیت کو پکڑ کر مار ہی ڈالتا لیکن میں بے بس تھا، وہ آدمی چند لمحے میری بے بسی کا تماشہ دیکھ کر مسکراتا رہا پھر واپس پلٹ گیا اور جلد ہی وہ ساتوں میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، میں اس بدنصیب بکرے کے ٹھنڈے ہوئے جسم کو دیکھ رہا تھا جو مجھ سے پہلے ہی اگلی دنیا میں جا چکا تھا اور سنیاسی قبیلے کی کسی فضول رسم کی بھینٹ چڑھ گیا تھا اچانک میرے دماغ میں ایک بات آئی اور میں لرز کر رہ گیا، مجھے یہ خیال پہلے ہی آجانا چاہیے تھا، بکرے کا گلہ کاٹ کر اس کا خون آس پاس پھیلانا کوئی مذہبی رسم نہیں تھی بلکہ یہ ان لوگوں کا مجھے بلا کے ہاتھوں مروانے کے پلان کا حصہ تھا، وہ جانتے تھے کہ رات ہوتے ہی اگر بلا اس جانب نا بھی آئی تو خون کی بو سونگھ کر تو لازمی آ جائے گی اور پھر سب سے پہلے میرا نرخرہ چبائے گی،
اور بعد میں بکرے کو کھائے گی، میرے لیے ہر طرف سے امید کے دروازے بند ہو چکے تھے، پچھلی رات اس خونی بلا نے جس طرح دو بندوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا تو مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے بھی نہیں چھوڑے گی، اور کسی بھی وقت حملہ آور ہو جائے گی، اندھیرا تیزی سے پھیلتا جا رہا تھا، اور خوف اور پریشانی سے میرا دل بیٹھ رہا تھا، میں دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر خونی بلا اس جانب نا بھی آئی تو بھوک اور پیاس مجھے مار ہی ڈالے گی، میں ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنس گیا تھا، یہاں سے زندہ بچنے کے چانس کم ہی تھے، اب مکمل رات چھا گئی تھی چاند بھی نکل آیا تھا، جس کی روشنی میں ریگستان بہت پراسرار لگ رہا تھا، پھر ایک جانب سے صحرائی لومڑیوں کا ایک غول نمودار ہوا، اور دانت نکوستا ہوا مردہ بکرے کی جانب بڑھنے لگا، خون کی بو ان کو یہاں کھینچ لائی تھی، پھر میری آنکھوں کے سامنے وہ بکرے کے جسم کو نوچ نوچ کر کھانے لگیں،
یہ منظر بہت دردناک تھا لومڑیوں کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا، اور پھر ایک دم سے تیز ہوا چلنی شروع گئی، اس ہوا نے دیکھتے ہی دیکھتے آندھی کی شکل اختیار کر لی، اور گرد و غبار کے بادل ہر جانب پھیل گئے، چاند کی روشنی مدہم ہو کر غائب ہو گئی تھی، تیز آندھی کی سرسراہٹ میں لومڑیوں کے چیخنے اور غرانے کی آوازیں دل کو دہلا رہی تھیں، میں جان گیا تھا کہ یہ سب کچھ مل کر خونی بلا کو اس جانب متوجہ کر دیں گے، اور پھر وہی ہوا، اس شور و غل میں مجھے کسی چیز کے قدموں کی آوازیں سنائی دینے لگیں، دوڑتے قدموں کی یہ آوازیں لمحہ بہ لمحہ قریب آتی جا رہی تھیں یوں لگتا تھا کہ خونی بلا کسی بھی وقت یہاں پہنچ جائے
گی۔ اگر گرد و غبار کا طوفان نا ہوتا تو شاید مجھے کچھ نظر آجاتا، لیکن ریت کے ذرے آنکھوں کو کھلنے نہیں دے رہے تھے، کچھ لمحوں بعد مجھے لگا کہ قدموں کی آوازیں میرے سر پر آ گئی ہیں،
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو مجھے شدید حیرانی ہوئی، میرے سامنے کوئی خونی بلا نہیں بلکہ دو گھوڑے اپنے سواروں سمیت کھڑے تھے، دونوں نے اپنے جسم چادروں میں اور چہرے نقاب میں چھپا رکھے تھے، پھر وہ گھوڑوں کو میرے قریب لے آئے، اور باری باری دونوں نیچے اتر گئے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں کون ہیں اور مجھ سے کیا چاہتے تھے، پھر ایک نقاب پوش گھڑ سوار نے لباس میں ہاتھ ڈال کر بڑا سا چمکیلا خنجر نکال لیا، اور میرے قریب کھڑا ہو کر مجھے دیکھنے لگا،
میں سمجھا کہ قبیلے والوں نے خونی بلا سے پہلے ہی مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے، مجھے مت مارو، میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ میں تو پہلے سے ہی بھٹکا ہوا بدنصیب مسافر ہوں. میں نے کانپتی آواز میں اس آدمی سے کہا تو اس نے ایک دم سے خنجر والا ہاتھ بلند کیا اور گھما کر اس رسی پر وار کیا جس سے مجھے باندھا گیا تھا، اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا، رسی ٹوٹ کر زمین پر گر چکی تھی، میں سمجھ رہا تھا کہ اس میں بھی ان گھڑسواروں کی کوئی چال ہے اور یہ مجھے ریگستان میں بھگا کر مارنا چاہتے ہیں، پھر ایک نقاب پوش نے اپنا نقاب نیچے کر دیا، اور حیرت سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، کومل تم؟؟ میں نے حیرانی سے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی کہ میں نے وعدہ کیا تھا نا کہ جو کچھ ہو سکا تمہارے لیے کروں گی، تبھی دوسرے نقاب پوش نے بھی اپنا نقاب ہٹا دیا، اب وہ میرے ہاتھوں کی رسیاں کاٹ رہا تھا وہ ناشی بابا تھا، کومل کا باپ، خوشی سے میرے آنسو نکل آئے، مجھے آزاد کر کے ناشی بابا کہنے لگا کہ شکیل، تم فوراً روانہ ہو جاؤ، ورنہ ہماری جان کو بھی خطرہ ہو جائے گا،
ہم نے تمہاری جان بچانے کے لیے اپنے قبیلے والوں سے غداری کی ہے، لیکن ناشی بابا۔۔۔ میں یہاں سے کس طرف کو جاؤں، میں دوبارہ بھٹک کر بھوک پیاس سے مر جاؤں گا، میں نے پریشانی سے پوچھا تو کومل بولی کہ تم کو لگتا ہے کہ ہم تم کو بھٹک کر بھوک پیاس سے مرنے دیں گے، یہ گھوڑا جس پر میں آئی ہوں، یہ بہت سدھرا ہوا ہے، یوں سمجھو کہ ریگستان کا شہزادہ ہے، اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتا، اور یہ جو تھیلے ساتھ لٹک رہے ہیں، ان میں پانی اور کھانے کی وافر چیزیں موجود ہیں، پانچ دن بھی تم سے ختم نہیں ہوں گی، اب تم جاؤ، تمہارے منزل پر پہنچنے میں ہی ہماری خوشی ہے،
میں نے ناشی بابا اور بالخصوص کومل کا شکریہ ادا کیا، اس لڑکی نے دو بار میری جان بچائی تھی، پہلی بار جب میں ہمت ہار کر ڈھلوان سے نیچے گرا تھا اور دوسری بار آج ناشی بابا نے اپنے تجربے کی بنیاد کر مجھے بتا دیا تھا کہ میرا شہر کس طرف ہے اور مجھے کتنا وقت لگ سکتا ہے، میرا اندازہ تھا کہ اگر میں صحیح سمت میں چلتا رہا تو ایک ڈیڑھ دن میں اپنے گاؤں پہنچ جاؤں گا، پھر میں نے اپنے دونوں محسن انسانوں پر الوداعی نگاہ ڈالی اور رات کے اندھیرے میں اپنی منزل کی جانب نکل پڑا، چند قدم آگے جانے کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دونوں باپ بیٹی واپس جانے کے لیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو چکے تھے، پھر میں نے گھوڑے کی رفتار بڑھا دی، اگرچہ اس سے پہلے میں گھوڑے پر کبھی سوار نہیں ہوا تھا، لیکن یہ گھوڑا سدھایا ہوا تھا، اور اپنے سوار کا خیال رکھنے والا تھا، جلد ہی میں اس خوفناک علاقے سے خوبصورت یادیں لے کر بہت آگے نکل آیا، اب موسم صاف ہو گیا تھا اور چاند کی روشنی ہر طرف پھیل چکی تھی،
چاروں جانب ریت کا پھیلا سمندر عجیب اور پراسرار لگ رہا تھا، ہلکی ہلکی ٹھنڈک بہت خوش گوار لگ رہی تھی، میں بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر گھوڑے کو آگے بڑھا رہا تھا، چاند کی وجہ سے مجھے سمت تلاش کرنے میں آسانی ہو رہی تھی، میں چاہتا تھا کہ رات کو موسم چونکہ ٹھنڈا ہوتا ہے اس لیے جتنا ہو سکا رات کو ہی سفر کروں گا، اور دن کو کسی جگہ آرام کروں گا، تاکہ گھوڑا بھی تازہ دم ہو سکے، ساری رات چلنے کے بعد صبح سویرے میں جیسے ہی ایک ٹیلے سے نیچے اترا تو میری خوشی کی انتہا نا رہی، سامنے ایک آدمی بھیڑ بکریوں کا ریوڑ لے کر ان کو چرانے جا رہا تھا،
مجھے دیکھ کر وہ بھی رک گیا اور میں اس کے قریب جا پہنچا، گھوڑے سے نیچے اتر کر میں اس سے ملا اور اپنے شہر صادق آباد کا راستہ پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ تم بالکل قریب پہنچ چکے ہو، یہ والا راستہ پکڑ لو، ایک گھنٹے بعد تمہارا علاقہ شروع ہو جائے گا میں اس کی بات سن کر بہت خوش ہوا، اس کا شکریہ ادا کر کے گھوڑے پر سوار ہونے ہی والا تھا کہ وہ آدمی بولا کہ رکو زرا ، میں رک کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا، وہ آدمی کہنے لگا کہ تم وہی تو نہیں ہو جس کے دو ساتھی اور بھی تھے جو صحرا میں الگ ہو گئے تھے، اس آدمی کی بات سن کر حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں، میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس آدمی کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ میں وہی ہوں اور وہ دونوں میرے ساتھی تھے، تم کو کیسے پتا چلا، وہ دونوں کیسے ہیں، کہاں ہیں، زندہ تو ہیں نا؟ میں نے ایک ہی سانس میں بہت سے سوال پوچھ ڈالے تھے تو وہ مسکراتے ہوئے بولا کہ حوصلہ رکھو، تمہارے دونوں ساتھی ڈیڑھ دن میرے گھر میں مہمان رہنے کے بعد کل رات ہی واپس اپنے گھر چلے گئے ہیں،
میں معمول کے مطابق بکریوں کا ریوڑ لے کر نکلا ہوا تھا، دوپہر کا وقت تھا جب میں نے ویرانے میں دو آدمی کو زمین پر گرے ہوئے پایا۔۔ میں بھاگ کر ان کے پاس گیا تو میرا شک صحیح نکلا، وہ دونوں بھٹکے ہوئے مسافر تھے اور ان کی حالت بہت خراب تھی، میں فوراً واپس گھر گیا، ایک برتن میں کچھ پانی اور اپنے بھائی اور بھتیجوں کو ساتھ لے کر دوبارہ وہاں گیا، دونوں کے منہ میں پانی ٹپکایا تو ان کو تھوڑا سا ہوش آیا، ایک لڑکے کی حالت زیادہ خراب تھی اس کے پاؤں پر کسی زہریلی چیز نے کاٹا ہوا تھا،
ہم ان دونوں کو کسی نا کسی طرح اٹھا کر اپنے گھر لے گئے، ان کو پانی پلایا، کھانا کھلایا، اور گاؤں کے حکیم سے اس لڑکے کا علاج کروایا، جس کے پاؤں پر کسی چیز نے کاٹ لیا تھا، چونکہ اس صحرا میں زہریلی چیزیں کثرت سے پائی جاتی ہیں، اس لیے ہمارے حکیم کے پاس ان کے علاج کے لیے اچھی دوا بھی ہوتی ہے، ایک دن بعد ہی دونوں لڑکے بھلے چنگے ہو گئے تھے ہم نے مزید ان کو ایک دن اپنے ہاں مہمان رکھا اور پھر کل ہی میرا بھائی ان دونوں کو بحفاظت گھر تک چھوڑ کر آیا ہے، ان لڑکوں نے ہمیں تمہارے بارے میں بتایا تھا اور تمہارا حلیہ بھی اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ ہمارا ایک ساتھی اور بھی تھا اگر کہیں پر نظر آیا تو اس کی مدد ضرور کرنا،
وہ دونوں کہہ رہے تھے کہ اگر تم گھر نا پہنچے ہوئے تو وہ گاؤں والوں کو ساتھ لے کر اونٹ اور گھوڑوں کی مدد سے سارا ریگستان چھان ماریں گے، اور تم کو لازمی بچا لیں گے، ہو سکتا ہے آج صبح وہ لوگ تم کو ڈھونڈنے صحرا کی جانب نکلنے والے ہوں، اس لیے تم جلدی سے گھر جا کر ان سے مل لو، اس آدمی کی باتیں سن کر میرا دل خوش ہو گیا تھا، پھر اس کے پوچھنے پر میں نے اسے بتا دیا کہ مجھے کوئی اچھا انسان مل گیا تھا اس نے اپنا گھوڑا اور ضرورت کا سامان مجھے دے کر وہاں سے بھیج دیا، باقی باتیں میں گول کر گیا تھا، پھر میں نے اس آدمی سے ہاتھ ملایا اور اس کے بتائے راستے پر گھوڑے کو بھگانا شروع کر دیا، ایک گھنٹے بعد اس وقت میری آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسو آ گئے،
جب میرا گاؤں میری نظروں کے سامنے تھا، میں اب جلد سے جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میرے دوست تو گھر واپس پہنچ گئے ہیں لیکن میری وجہ سے میرے گھر والے اور سب لوگ پریشان ہوں گے اور ابھی گاؤں جا کر سب کو اس “انوکھے ایڈونچر” کی داستان بھی تو سنانی تھی نا، اور ہاں میں نے دوبارہ بھی اس قبیلے میں واپس جانا تھا۔۔ کیونکہ میرا دل بار بار مجھے کومل کی جانب کھینچتا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ وہ بھی میری راہ دیکھا کرے گی اور اس خونی بلا کا بھی تو پتا کرنا تھا نا کہ وہ قبیلے والوں کے قابو آئی تھی یا نہیں۔

ختم شد