Urdu Short Stories 7

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 7

بہاولپور سینٹرل ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) کوریڈور میں پھیلی ہوئی سفید ڈیش لیمپ کی روشنیاں اس وقت کسی قبرستان کی سردی کا احساس دلا رہی تھیں۔ فجر کے بعد کی ہلکی روشنی ہسپتال کی بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی، لیکن وہاں موجود کسی بھی شخص کے دل میں اجالے کی کوئی رمق نہیں تھی۔ آپریشن تھیٹر کے دروازے پر لگی سرخ بتی پچھلے دو گھنٹوں سے مسلسل جل رہی تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ اندر زندگی اور موت کا وہ کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کا فیصلہ کسی بھی پل ہو سکتا تھا۔
کوریڈور کے آخری کونے میں، ٹھنڈے فرش پر بانو اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔ اس کے سر پر موجود اس کی روایتی گلابی چادر، جو کبھی اس کی حیا اور مان کی علامت تھی، اج جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور اس پر صلاح الدین کے خون کے گہرے سرخ دھبے اب سوکھ کر کالے پڑ رہے تھے۔ اس کے معصوم ہاتھ، جو ابھی کچھ دیر پہلے اپنے محافظ کے پیٹ سے بہتے خون کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے، اب لرزتے ہوئے ہوا میں اٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مخملی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں اور ان سے بہنے والے آنسو اس کے گالوں پر جمے خون کو صاف کر رہے تھے۔
“یا باری تعالیٰ! میرے سائیں کو زندگی دے دے۔۔۔” بانو کی دھیمی، سرائیکی کے درد میں ڈوبی آواز کوریڈور کی خاموشی کو چیر رہی تھی۔ “وہ تو شہر کا اتنا بڑا وکیل تھا، اس کا ہم غریبوں سے کیا رشتہ تھا مولا؟ لیکن اس نے میری چادر کی خاطر، میرے معصوم ساجد کی خاطر اپنی جان کی پروا بھی نہیں کی۔ اگر اج اس پاک انسان کو کچھ ہوا، تو چولستان کی مٹی گواہ ہے، بانو جیتے جی مر جائے گی۔ مولا! امجد سائیں کا زخم ابھی ہرا ہے، مجھے دوسرا لاشہ اٹھانے کی ہمت نہیں ہے!”
اس کے برابر میں اس کا چودہ سالہ چھوٹا بھائی ساجد سہم کر کھڑا تھا، اس کی ننھی انگلیاں بانو کی چادر کے پلو کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں، جیسے اسے ڈر ہو کہ اگر اس نے یہ پلو چھوڑا تو کوئی بھیڑیا اسے دوبارہ اٹھا کر چولستان کے اصطبل میں پھینک دے گا۔
کوریڈور کے دوسرے سرے پر افتخار احمد اپنے سیاسی کارندوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کا چہرہ بوڑھا اور آنکھیں سرخ تھیں، لیکن اس حالت میں بھی ان کی سیاسی انا اور خاندانی رعب جھلک رہا تھا۔ عثمان غصے اور پریشانی میں دیوار کے ساتھ سر ٹکائے کھڑا تھا، اس کی مٹھیاں بھیگی ہوئی تھیں اور وہ بار بار آپریشن تھیٹر کے شیشے سے اندر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اسی وقت، کوریڈور کے بھاری شیشے کے دروازے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ کھلے۔ بوٹوں کی بھاری آواز فضا میں گونجی۔
افتخار احمد اور عثمان نے چونک کر دیکھا، تو ان کا خون کھول اٹھا۔ سامنے سارنگ شاہ کھڑا تھا۔ اس کے سر پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جو صلاح الدین کے ہاتھوں رات کو لگنے والی مار کا نشان تھیں، لیکن اس کے چہرے پر خوف کے بجائے وہی پرانا، جاگیردارانہ تکبر اور درندگی رقص کر رہی تھی۔ اس کے دائیں طرف شاہینہ بیگم کالے ریشمی لباس میں ملبوس، اپنے ہاتھ میں سونے کی چھڑی تھامے، پورے رعب کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں۔ ان کے پیچھے چولستان کی حویلی کے چار مسلح گارڈز کھڑے تھے، جنہوں نے ہسپتال کے عملے کو ڈرا کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔
“سارنگ شاہ۔۔۔!” عثمان کی اواز میں ایک ہولناک چنگھاڑ تھی، وہ دیوانہ وار سارنگ شاہ کی طرف بڑھا، لیکن افتخار احمد کے گارڈز نے عثمان کو پکڑ کر پیچھے کیا۔
افتخار احمد اپنے روایتی رعب کے ساتھ آگے بڑھے، ان کی آواز میں بہاولپور کے سب سے بڑے سیاستدان کا جلال تھا، “شاہینہ بیگم! تمہاری یہ جرات کہ تم میرے بیٹے کے خون کا سودا کرنے کے بعد اب ہسپتال کے اندر، میری موجودگی میں پیر رکھو؟ یہ چولستان کی حویلی نہیں ہے، یہ بہاولپور ہے! اگر میں ایک اشارہ کروں، تو تمہارے یہ غنڈے یہاں سے زندہ باہر نہیں جائیں گے!”
شاہینہ بیگم نے ایک سرد اور مکارانہ ہنسی ہنسی۔ انہوں نے اپنی سونے کی چھڑی کو فرش پر مارا، جس کی آواز کوریڈور میں گونجی، “افتخار احمد صاحب! سیاست کے میدان میں گرجنا بند کیجیے۔ اپ کا بیٹا اندر اخری سانسیں لے رہا ہے، اس کا غرور تو رستم خان نے رات ہی خاک میں ملا دیا تھا۔ ہم یہاں اپ سے کوئی سیاسی سودا کرنے نہیں آئے، نہ ہی ہمیں اپ کے زخمی بیٹے سے کوئی سروکار ہے۔” شاہینہ بیگم کی زہریلی نظریں افتخار احمد کو بائی پاس کرتی ہوئی سیدھی کونے میں بیٹھی بانو پر جا ٹکیں۔
“ہم یہاں اپنی حویلی کی امانت، اس مزارع کی بیٹی بانو کو لینے آئے ہیں!” سارنگ شاہ نے آگے بڑھ کر، دانت پیستے ہوئے کہا، اس کی نظروں میں بانو کو دوبارہ قید کرنے کی وحشیانہ تڑپ تھی، “یہ لڑکی چولستان کی مٹی کی ہے، اور اس کا فیصلہ حویلی کے بند کمرے میں ہی ہوگا۔ صلاح الدین نے اسے چھپانے کی کوشش کی، تو دیکھ لو اس کا کیا حشر ہوا!”
بانو نے جب سارنگ شاہ کی آواز سنی، تو اس کا پورا وجود لرز اٹھا۔ اس نے ساجد کو اپنے پیچھے چھپایا اور فرش سے کھڑی ہو گئی۔ لیکن اج اس کی آنکھوں میں وہ خوف نہیں تھا جو چولستان میں ہوا کرتا تھا؛ اج اس کی آنکھوں میں اس محافظ کا خون تھا جو اندر زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا۔
“وڈیرے سارنگ شاہ!” بانو آگے بڑھی، اس کی آواز ہسپتال کے کوریڈور میں کسی چٹان کی طرح مضبوط تھی، “تم سمجھتے ہو کہ تم بندوقوں کے سائے میں بانو کو دوبارہ اپنی لونڈی بنا لو گے؟ اللہ کی قسم! اگر میرے سائیں صلاح الدین کو کچھ ہوا، تو میں اسی ہسپتال کی چھت سے کود کر جان دے دوں گی، لیکن تمہاری کالی پراڈو گاڑی میں دوبارہ پیر نہیں رکھوں گی! تم نے امجد کو مارا، تم نے میرے سائیں پر وار کیا، تم مرد نہیں ہو، تم چولستان کے جلاد ہو!”
سارنگ شاہ کا غصہ آسمان کو چھونے لگا، وہ بانو کا بازو پکڑنے کے لیے آگے بڑھا، “زبان سنبھال لڑکی! اب تجھے بچانے والا وہ شہری بابو اندر مر رہا ہے!”
“پیچھے ہٹ جاؤ سارنگ شاہ!” عثمان نے اپنے گارڈز کی گرفت سے نکل کر اپنی پسٹل سیدھی سارنگ شاہ کے ماتھے پر تان دی، “اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا، تو صلاح الدین سے پہلے میں تیرا بھیجا اسی فرش پر بکھیر دوں گا!”
ہسپتال کا کوریڈور ایک دم بارود کے ڈھیر میں بدل گیا۔ شاہینہ بیگم کے گارڈز نے اپنی بندوقیں عثمان اور افتخار احمد پر تان لیں۔ عملہ اور نرسیں جان بچا کر کمروں میں چھپ گئے۔ فضا میں موت کی خاموشی چھا گئی، جہاں کوئی بھی ایک انگلی ہلاتا تو پورا ہسپتال گولیوں کی آواز سے گونج اٹھتا۔
عین اسی وقت، جب دونوں طرف سے ٹریگر دبنے ہی والے تھے، آپریشن تھیٹر کا بڑا ہینڈل گھوما۔ دروازہ کھلا اور سینئر سرجن، اپنے کپڑوں پر خون کے دھبے لیے، چہرے پر شدید تھکن اور سنجیدگی سجائے باہر نکلے۔
سب کی نظریں بندوقوں سے ہٹ کر ڈاکٹر کے چہرے پر جم گئیں۔ بانو پاگلوں کی طرح دوڑتی ہوئی ڈاکٹر کے پاس پہنچی، “ڈاکٹر سائیں! میرے صلاح الدین سائیں کیسے ہیں؟ انکھیں کھولیں انہوں نے؟ بولیں نا سائیں!”
ڈاکٹر نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، اس نے افتخار احمد اور پھر بانو کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات نے سب کے دلوں کی دھڑکنیں روک دیں، “افتخار احمد صاحب۔۔۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔ خنجر کا وار جگر کے بہت پاس تھا اور خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹے صلاح الدین کی زندگی کے لیے انتہائی نازک ہیں۔ وہ اس وقت کوما (Coma) میں جا چکے ہیں، اور اگر اگلے کچھ گھنٹوں میں ان کا جسم دواؤں کا جواب نہیں دیتا۔۔۔ تو شاید ہم انہیں ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔”
ڈاکٹر کے یہ الفاظ بانو کے کانوں میں کسی قیامت کے دھماکے کی طرح گونجے۔ اس کے پیروں تلے سے ہسپتال کا فرش سرک گیا، اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور وہ ایک بے جان لکڑی کی طرح فرش پر گرتی چلی گئی، جبکہ سارنگ شاہ کے لبوں پر ایک ہولناک، فاتحانہ مسکراہٹ ابھر آئی!
ڈاکٹر کے ہولناک الفاظ کوریڈور کی سرد ہوا میں زہر بن کر پھیل چکے تھے، اور ان کے اثر سے بانو ایک بے جان لکڑی کی طرح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر گر چکی تھی۔ ساجد اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھ کر پاگلوں کی طرح چیخنے لگا، “باجی! باجی آنکھیں کھولو! ابا سائیں دیکھو باجی کو کیا ہو گیا ہے!” بوڑھی بی بی زلیخا روتی ہوئی آگے بڑھیں اور انہوں نے بانو کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنا شروع کیے۔
دوسری طرف، سارنگ شاہ کے لبوں پر ابھری وہ وحشیانہ ہنسی کوریڈور میں گونج رہی تھی۔ وہ افتخار احمد کی تنی ہوئی سیکیورٹی اور عثمان کی پسٹل کو اپنے خاندانی تکبر کے پیروں تلے مسلتے ہوئے آگے بڑھا، “افتخار احمد صاحب! سنا آپ نے؟ ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا ہے کہ آپ کا شیر اب کوما میں جا چکا ہے اور اس کا بچنا ناممکن ہے۔ اب اس ہسپتال میں صلاح الدین نام کا کوئی محافظ نہیں رہا جو اس لڑکی کے سر پر چادر بن کر کھڑا ہو۔ جبار! آگے بڑھو اور بانو کو اٹھاؤ، اب یہ یہاں ایک پل بھی نہیں رکے گی!”
جبار جیسے ہی آگے بڑھا، عثمان نے اپنی پسٹل کا ٹریگر دبانے کے لیے انگلی کو حرکت دی، لیکن عین اسی وقت افتخار احمد کا فولادی ہاتھ عثمان کے بازو پر آ گیا۔ افتخار احمد کی آنکھیں اپنے بیٹے کے کوما میں جانے کے صدمے سے لال ہو چکی تھیں، لیکن ان کا سیاسی دماغ اور بہاولپور کا رعب اج بھی جاگ رہا تھا۔
“سارنگ شاہ۔۔۔ شاہینہ بیگم!” افتخار احمد کی آواز میں ایک ایسی سرد اور ہولناک گرج تھی کہ جبار کے قدم وہیں رک گئے۔ “تم نے سمجھا کہ میرا بیٹا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے تو افتخار احمد کمزور ہو گیا ہے؟ عثمان، پسٹل نیچے کرو۔ ان بھیڑیوں کو گولی مار کر ہم اپنے ہاتھ گندے نہیں کریں گے۔” انہوں نے اپنے کوٹ کی جیب سے موبائل نکالا اور بہاولپور کے آئی جی (IG) پولیس کا نمبر ڈائل کر دیا۔
“آئی جی صاحب! افتخار احمد بات کر رہا ہوں۔ سینٹرل ہسپتال کے آئی سی یو کوریڈور میں چولستان کی شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ اپنے مسلح غنڈوں کے ساتھ گھس آئے ہیں اور میرے زخمی بیٹے پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ مجھے یہاں پانچ منٹ کے اندر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری چاہیے، اور اگر ان جاگیرداروں کا ایک بندہ بھی ہسپتال سے باہر گن کے ساتھ دکھے، تو انہیں وہیں شوٹ ایٹ سائٹ (Shoot at Sight) کر دیا جائے!”
فون بند کرتے ہی افتخار احمد نے شاہینہ بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “شاہینہ بیگم! یہ آپ کی چولستان کی ریت نہیں ہے جہاں آپ قانون کو اپنے پیروں تلے مسل دیں۔ باہر ہسپتال کو پولیس نے گھیر لیا ہے۔ اگر آپ اپنی بقیہ خاندانی عزت بچا کر یہاں سے نکلنا چاہتی ہیں، تو اپنے اس وحشی بیٹے کو لے کر ابھی دفع ہو جائیں، ورنہ اج رات آپ دونوں بہاولپور کی اسی جیل میں ہوں گے جہاں سے سارنگ شاہ کل ہی رہا ہو کر آیا ہے!”
شاہینہ بیگم کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا۔ وہ ایک منجھی ہوئی سیاستدان تھیں اور جانتی تھیں کہ اس وقت افتخار احمد کا غصہ ان کی پوری حویلی کو مٹا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی سونے کی چھڑی کو فرش پر مارا اور سارنگ شاہ کا بازو پکڑ کر پیچھے کھینچا، “رک جاؤ سارنگ! اس بوڑھے سیاستدان سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا بیٹا ویسے ہی موت کے منہ میں ہے، اور یہ مزارع کی بیٹی بانو۔۔۔ یہ کب تک اس ہسپتال کے اندر چھپی رہے گی؟ اسے ایک نہ ایک دن باہر آنا ہی ہے، اور چولستان کی مٹی اپنا شکار کبھی نہیں چھوڑتی۔”
شاہینہ بیگم نے نفرت سے بانو کی طرف دیکھا اور سارنگ شاہ کو لے کر تیز قدموں سے کوریڈور سے باہر نکل گئیں، ان کے گارڈز بھی اپنی بندوقیں چھپاتے ہوئے ان کے پیچھے بھاگے۔ ہسپتال میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، جس سے کوریڈور کا ماحول تھوڑا پرسکون ہوا، لیکن اصل طوفان تو ابھی بانو کے دل کے اندر جاگنے والا تھا۔
کچھ دیر بعد، بانو نے ہلکی سی سسکیاں لیتے ہوئے اپنی مخملی آنکھیں کھولیں۔ بی بی زلیخا اور ساجد اس کے سرہانے بیٹھے رو رہے تھے۔ بانو جیسے ہی ہوش میں آئی، اسے یاد آیا کہ اس کا محافظ، اس کا سائیں صلاح الدین اندر اکیلا موت سے لڑ رہا ہے۔ وہ دیوانہ وار فرش سے اٹھی اور آئی سی یو (ICU) کے اس بڑے شیشے کے مصلے کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی، جہاں سے اندر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔
شیشے کے پار، سفید بستر پر صلاح الدین لیٹا ہوا تھا؛ اس کا طویل، باوقار وجود اج بے جان تھا، اس کے سر اور پیٹ پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جن سے خون کے ہلکے دھبے اب بھی باہر آ رہے تھے، اور اس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا۔ اس کے پورے جسم سے مختلف تاریں اور مشینیں جڑی ہوئی تھیں جو ایک دھیمی، ہولناک بیپ بیپ (Beep) کی آواز پیدا کر رہی تھیں، جو اس بات کا اعلان تھی کہ صلاح الدین کا سانس صرف ان مشینوں کا محتاج ہے۔
بانو نے اپنے دونوں ہاتھ اس ٹھنڈے شیشے پر رکھ دیے۔ اس کے آنسو شیشے پر گر کر مٹ رہے تھے۔ وہ شیشے سے اپنا سر ٹکا کر، سرائیکی کے اس حد درجہ دردناک اور تڑپا دینے والے بین میں رونے لگی جسے سن کر ہسپتال کی نرسیں اور دور کھڑے گارڈز بھی اپنے آنسو نہ روک سکے:
“سائیں صلاح الدین! انکھیں کھولو سائیں! بانو آپ کے شیشے کے باہر کھڑی آپ کی زندگی مانگ رہی ہے۔ سائیں، آپ نے چولستان کے مزارع کی بیٹی کے لیے اپنی جان کیوں وار دی؟ آپ کا اور میرا رشتہ کیا تھا سائیں؟ آپ تو شہر کے اتنے بڑے وکیل تھے، محلوں میں رہنے والے تھے۔۔۔ پھر اس غریب دیہاتی لڑکی کی چادر بچانے کے لیے آپ نے اپنا سینا خنجر کے آگے کیوں کر دیا؟ سائیں! امجد کا لاشہ اٹھا کر بانو پہلے ہی اندر سے مر چکی تھی، اب اگر آپ کو کچھ ہوا، تو میں اس دنیا کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لوگ کہیں گے کہ بانو ایک ایسی منحوس لڑکی ہے جو اپنے ہر محافظ کو موت کے کنویں میں دھکیل دیتی ہے! سائیں! خدا کے لیے ایک بار اپنی یہ عقابی انکھیں کھول کر بانو کو دیکھو، دیکھو آپ کا ساجد بھی یہاں آ گیا ہے سائیں!”
بانو کی یہ دردناک پکار آئی سی یو کے شیشے کو چیر تو نہیں سکتی تھی، لیکن اس کے دل کے اندر امجد کے دکھ کے ساتھ ساتھ اب صلاح الدین کے لیے ایک ایسی بے پناہ، گہری اور سچی تڑپ نے جنم لے لیا تھا جو محبت سے بھی اونچی چیز تھی—یہ عقیدت، حیا اور اپنے محافظ کے لیے روح کی پکار تھی۔ وہ وہیں شیشے کے نیچے فرش پر بیٹھ گئی، اپنا مصلہ بچھایا اور رو رو کر سجدے میں گر گئی، “یا باری تعالیٰ! میری عمر بھی میرے سائیں صلاح الدین کو لگا دے، اسے زندہ کر دے مولا!”
دوسری طرف، ہسپتال کے باہر کالی پراڈو گاڑی میں بیٹھے سارنگ شاہ کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ وہ گاڑی کے اسٹیئرنگ پر اپنے ہاتھ مار رہا تھا، “امی جی! آپ نے مجھے کیوں روکا؟ میں اس لڑکی کو اسی وقت افتخار احمد کے سامنے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال لیتا!”
شاہینہ بیگم کے چہرے پر ایک گہری، شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے سارنگ شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیمی، ہولناک آواز میں بولیں، “صبر کرو سارنگ! افتخار احمد نے پولیس بلا لی تھی، اگر وہاں گولی چلتی تو ہماری سیاست اور حویلی کا نام مٹی میں مل جاتا۔ شاہینہ بیگم کا وار کبھی خالی نہیں جاتا۔ صلاح الدین کوما میں ہے، اس کا بچنا ناممکن ہے۔ اور جب تک وہ کوما میں ہے، افتخار احمد ہسپتال سے باہر نہیں نکلے گا۔”
انھوں نے جبار کی طرف دیکھا اور اپنا اگلا کالا پلان کھولا، “جبار! ہسپتال کے اندر ہمارے کچھ وفادار لوگ موجود ہیں۔ جیسے ہی رات گہری ہو اور پولیس کی توجہ ہٹے، بی بی زلیخا اور ساجد کو وہیں ہسپتال کے پچھلے دروازے سے ڈرا کر باہر نکالو، اور بانو کو جیسے ہی اکیلا دیکھو، اسے کلوروفارم (بوش) سنگھا کر ہسپتال کے عقبی راستے سے گاڑی میں ڈال لو! صلاح الدین کے مرنے سے پہلے ہی بانو چولستان کی حویلی کے بند کمرے میں پہنچ چکی ہونی چاہیے!”
کہانی اب ایک ایسے ہولناک اور سنسنی خیز موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں صلاح الدین اکیلا آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا، بانو مصلے پر رو رو کر اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی، اور دوسری طرف رات کے اندھیرے میں سارنگ شاہ کا اگلا خونی وار ہسپتال کے اندر بانو کو اغوا کرنے کے لیے تیار ہو چکا تھا!

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 8