Urdu Short Stories 8

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 8

ہسپتال پر رات کا گھنا اندھیرا اپنی پوری ہیبت کے ساتھ اتر چکا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے، اور ہسپتال کی راہداریوں میں پھیلا ہوا سناٹا کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہو رہا تھا۔ افتخار احمد کے بلائے ہوئے رینجرز اور پولیس کے چند اہلکار ہسپتال کے مین گیٹ اور اٹیچڈ لان میں تعینات تھے، لیکن آئی سی یو (ICU) کے اس کوریڈور میں، جہاں زندگی اور موت کا فیصلہ ہونا تھا، اب صرف مشینوں کی دھیمی اور ہولناک بیپ بیپ (Beep) کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
بانو پچھلے کئی گھنٹوں سے آئی سی یو کے اسی ٹھنڈے شیشے کے باہر مصلے پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے اور اس کے ہونٹ مسلسل صلاح الدین کی زندگی کے لیے ہل رہے تھے۔ اس کی آنکھیں رو رو کر اس حد تک سوج چکی تھیں کہ اب ان سے آنسوؤں کے بجائے جیسے درد بہ رہا تھا۔ اس کے برابر میں بوڑھی بی بی زلیخا تھکن اور صدمے سے چور ہو کر دیوار سے ٹیک لگائے اونگھ رہی تھیں، اور چودہ سالہ ننھا ساجد بانو کے گھٹنوں سے سر ٹکائے گہری اور خوفزدہ نیند میں سو رہا تھا۔
شیشے کے پار، صلاح الدین اسی طرح بے حس و حرکت سفید بستر پر لیٹا ہوا تھا، اس کے چہرے کی رنگت زرد پڑ چکی تھی اور آکسیجن ماسک کے اندر اس کے اکھڑتے سانس مشینوں پر لکیروں کی صورت میں اچھل رہے تھے۔ ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر رات کے اس آخری پہر میں صلاح الدین نے کوئی حرکت نہ کی، تو اس کا دماغ ہمیشہ کے لیے کام کرنا چھوڑ دے گا۔
عین اسی وقت، ہسپتال کے پچھلے عقبی راستے، جہاں مردہ خانہ اور فضلہ پھینکنے کا بڑا لوہے کا دروازہ تھا، وہاں ایک گہری کالی رنگ کی ہائی لکس گاڑی آ کر رکی۔ گاڑی کی ہیڈ لکیریں بند تھیں اور انجن کی آواز کو بڑی مہارت سے دبا دیا گیا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور شاہینہ بیگم کا سب سے سفاک اور مکار غنڈہ، جبار، اپنے ساتھ تین نقاب پوش مصلح افراد کو لیے باہر نکلا۔ جبار کے ہاتھ میں چولستان کی حویلی کا روایتی خنجر تھا اور اس کی جیب میں کلوروفارم (بوش) سے بھیگا ہوا ایک کالا کپڑا تھا، جسے وہ بانو کے منہ پر رکھ کر اسے ہمیشہ کے لیے قید کرنے آیا تھا۔
“دیکھو ریحان! شاہینہ بیگم اور وڈیرے سارنگ شاہ کا صاف حکم ہے،” جبار نے دھیمی اور زہریلی آواز میں اپنے ساتھیوں سے کہا، “مین گیٹ پر پولیس کا پہرا سخت ہے، لیکن ہسپتال کا یہ پچھلا کوریڈور سیدھا آئی سی یو کی بیک سائیڈ پر کھلتا ہے۔ اندر ہسپتال کے وارڈ بوائے کو ہم نے پہلے ہی چولستان کی حویلی کے پیسوں سے خرید لیا ہے۔ وہ پولیس والوں کو چائے میں نشہ آور گولی ملا کر پلا چکا ہے۔ ہمیں بس اندر جانا ہے، اس مزارع کی بیٹی بانو کو اٹھانا ہے اور اس سے پہلے کہ افتخار احمد یا عثمان کو خبر ہو، گاڑی چولستان کی طرف اڑا دینی ہے!”
اندر کوریڈور میں، بانو کو اچانک ایک عجیب سی بے چینی کا احساس ہوا۔ ہسپتال کی لائٹس ہلکی سی ٹمٹمائیں اور پھر کوریڈور کے آخری کونے کا بلب ایک زوردار آواز کے ساتھ فیوز ہو گیا۔ گھبرا کر بانو نے چاروں طرف دیکھا۔ کوریڈور میں پھیلا ہوا اندھیرا اور سناٹا اب اسے خوفزدہ کرنے لگا تھا۔ اس نے بی بی زلیخا کے کندھے پر ہاتھ رکھا، “اماں۔۔۔ اماں جاگو! مجھے ڈر لگ رہا ہے اماں! ایسا لگ رہا ہے جیسے چولستان کے بھیڑیے یہیں ہسپتال کے اندر گھس آئے ہیں!”
بی بی زلیخا نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں، “کیا ہوا دھیے؟ کون آیا ہے؟”
ابھی بی بی زلیخا کے الفاظ پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ کوریڈور کے پچھلے شیشے کے بھاری دروازے سے جبار اور اس کے نقاب پوش غنڈے اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں چمکتے ہوئے خنجر اور پسٹل دیکھ کر ساجد کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ خوف سے چیخ اٹھا، “باجی! وہ دیکھو، حویلی کا جبار آ گیا! وہ ہمیں مار ڈالے گا باجی!”
بانو کا دل زور سے دھڑکا، وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی اور ساجد کو اپنے پیچھے چھپاتے ہوئے آئی سی یو کے شیشے سے جا لگی۔
“جبار سائیں! خدا کا خوف کرو!” بانو کی آواز لرز رہی تھی لیکن اس میں چولستان کی مٹی کی غیرت تھی، “یہ ہسپتال ہے، یہاں ایک تڑپتا ہوا انسان زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے! تم لوگ اتنے بے حیا ہو کہ خدا کے گھر جیسے ہسپتال میں بھی گناہ کرنے سے نہیں ڈرتے؟”
جبار نے ایک ہولناک اور مکارانہ قہقہہ لگایا اور اپنے ہاتھ میں موجود کلوروفارم کا کپڑا لہرایا، “بانو بی بی! چولستان کی حویلی کی ریت میں خدا کا خوف نہیں، صرف وڈیرے کا حکم چلتا ہے! وڈیرے سارنگ شاہ نے کہا ہے کہ اگر تو سیدھی طرح حویلی نہیں چلے گی، تو اج تیری لاش چولستان جائے گی، اور تیرے اس معصوم بھائی ساجد کو ہم اسی ہسپتال کی چھت سے نیچے پھینک دیں گے!”
“تمہاری یہ جرات۔۔۔!” بی بی زلیخا روتی ہوئی جبار کے آگے کھڑی ہو گئیں، “میں جیتے جی اپنی بچی کو تمہارے حوالے نہیں کرنے دوں گی!”
جبار نے سفاکی سے بوڑھی بی بی زلیخا کو دھکا دیا، وہ ہسپتال کے لوہے کے بنچ سے ٹکرائیں اور ان کے سر سے خون بہنے لگا۔ ساجد روتا ہوا اپنی دادی کی طرف بھاگا، لیکن ایک نقاب پوش نے ساجد کا گلا دبا کر اسے دیوار سے لگا دیا۔
“اب تیرا کوئی محافظ نہیں ہے بانو!” جبار دیوانہ وار آگے بڑھا اور اس نے بانو کا نازک بازو اپنے فولادی ہاتھ میں دبوچ لیا۔ بانو نے اپنے ناخن جبار کے چہرے پر مارے، “چھوڑو مجھے! او عثمان سائیں! کوئی ہے؟ بچاؤ مجھے! میرے صلاح الدین سائیں کو بچاؤ!”
جبار نے غصے میں بانو کو ایک زوردار تھپڑ مارا، جس سے اس کے منہ سے خون نکل آیا، اور اس نے کلوروفارم کا کپڑا بانو کے ناک اور منہ پر جما دیا۔ بانو کی آنکھیں تڑپیں، اس کے ہاتھ شیشے پر لگے صلاح الدین کی طرف اٹھے، اور وہ آہستہ آہستہ جبار کے بازوؤں میں بے ہوش ہونے لگی۔
عین اسی وقت، جب جبار بانو کو گھسیٹ کر پچھلے دروازے کی طرف لے جانے لگا، آئی سی یو کے اندر لگی مشینوں کی بیپ بیپ (Beep) اچانک ایک مسلسل، تیز اور ہولناک سائرن کی آواز میں بدل گئی!
شیشے کے پار، بے ہوش لیٹے صلاح الدین کی انگلیوں میں ایک شدید جھٹکا لگا۔ اس کا بند دماغ جیسے بانو کی آخری چیخ سن کر جاگ اٹھا تھا۔ آکسیجن ماسک کے اندر اس کے اکھڑتے سانسوں نے رفتار پکڑ لی، اور مانیٹر پر لگی دل کی لکیریں دیوانہ وار اوپر نیچے ہونے لگیں۔ صلاح الدین کی وہ عقابی آنکھیں، جو پچھلے بارہ گھنٹوں سے بند تھیں، ایک ہولناک جھٹکے کے ساتھ کھل گئیں! اس کی آنکھیں صدمے اور غصے سے بالکل لال تھیں، اور اس نے اپنے بازو سے لگی ڈرپ کی سوئیاں اور منہ کا آکسیجن ماسک ایک ہی جھٹکے میں کھینچ کر پھینک دیا!
ڈاکٹروں کا وہ معجزہ ہو چکا تھا جس کی امید کسی کو نہیں تھی، لیکن صلاح الدین جب ہوش میں آیا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے شیشے کے پار جبار بانو کو بے ہوشی کی حالت میں گھسیٹ کر لے جا رہا تھا! صلاح الدین کے زخمی وجود میں جیسے کسی شیر کی طاقت آ گئی۔ وہ بستر سے اٹھا، اس کے پیٹ کے زخم کے ٹانکے ٹوٹ گئے اور خون تیزی سے اس کے لباس پر پھیلنے لگا، لیکن اس نے اپنے درد کی پروا کیے بغیر آئی سی یو کا بھاری دروازہ ایک ہی لات مار کر کھول دیا!
“جبااااااار۔۔۔!!!” صلاح الدین کی ایک ایسی ہولناک اور شیر جیسی چنگھاڑ ہسپتال کے کوریڈور میں گونجی کہ جبار اور اس کے غنڈوں کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی! جبار نے مڑ کر دیکھا تو اس کے چہرے سے ہوائیاں اڑ گئیں؛ سامنے موت کا دوسرا نام، صلاح الدین، اپنے پیٹ سے بہتے خون کے ساتھ، آنکھوں میں قیامت کا جلال لیے کھڑا تھا!
صلاح الدین کی وہ ہولناک چنگھاڑ کوریڈور کی سرد ہواؤں میں بارود بن کر گھل چکی تھی۔ آئی سی یو (ICU) کا بھاری شیشے کا دروازہ جب ایک زوردار دھماکے سے کھلا، تو جبار کا خون جم گیا۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی انسان کی آنکھوں میں ایسا جلال نہیں دیکھا تھا۔ صلاح الدین کے پیٹ کا گہرا زخم ابھی کچھ ہی گھنٹے پہلے سی گیا تھا، لیکن اس وقت اس کے سفید ہسپتال کے لباس پر ٹانکے ٹوٹنے کی وجہ سے خون کا ایک بڑا فوارہ ابل رہا تھا، جو نیچے فرش پر گر کر سرخ لکیریں بنا رہا تھا۔ مگر اس کے چہرے پر درد کا ایک تپکا بھی نہیں تھا؛ وہاں صرف اور صرف بانو کی چادر پر ہاتھ ڈالنے والے کے لیے موت لکھی تھی۔
“صلاح الدین سائیں۔۔۔!” جبار کے منہ سے خوفزدہ آواز نکلی۔ اس کے ہاتھ سے بے ہوش بانو کا بازو ہلکا سا پھسلا، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ “اوئے ریحان! خان! دیکھ کیا رہے ہو؟ یہ ابھی کوما سے اٹھا ہے، اس کے اندر جان نہیں ہے۔ گولی مارو اسے!”
جبار کے حکم پر ان کے دو نقاب پوش غنڈے پسٹل تان کر صلاح الدین کی طرف دوڑے۔ لیکن وہ یہ بھول چکے تھے کہ صلاح الدین جب اپنی غیرت پر آتا ہے، تو وہ بندوقوں کے سائے کو بھی خاک میں ملا دیتا ہے۔ جیسے ہی پہلے غنڈے نے ٹریگر دبانے کی کوشش کی، صلاح الدین نے ایک بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس کا ہاتھ دبوچ لیا۔ ایک ہولناک کڑک کی آواز آئی—صلاح الدین نے اس غنڈے کی کلائی کو اتنے زور سے مروڑا کہ اس کی ہڈی چور چور ہو گئی اور پسٹل فرش پر جا گری۔
صلاح الدین نے اسی غنڈے کو بانہوں سے پکڑا اور دوسرے نقاب پوش کی طرف اتنے زور سے پٹخا کہ وہ دونوں ہسپتال کی لوہے کی بنچوں سے ٹکرا کر وہیں بے ہوش ہو گئے۔ صلاح الدین کا سانس تیز ہو رہا تھا، اور اس کے پیٹ سے بہتا خون اب اس کے پیروں تک آ چکا تھا، لیکن اس کی عقابی نظریں اب سیدھی جبار پر جمی ہوئی تھیں۔
جبار نے جب دیکھا کہ اس کے ساتھی سیکنڈوں میں ڈھیر ہو چکے ہیں، تو اس نے بانو کو فرش پر پھینکا اور اپنی کمر سے وہی چمکتا ہوا خنجر نکال لیا جو شاہینہ بیگم نے اسے دیا تھا۔ “آؤ شہری بابو! رات رستم خان کا وار خالی گیا تھا، لیکن اج جبار تمہارا سینہ چاک کرے گا!”
جبار دیوانہ وار خنجر لہراتا ہوا صلاح الدین پر جھپٹا۔ صلاح الدین نے پیچھے ہٹنے کے بجائے جبار کے خنجر والے ہاتھ کو ہوا میں ہی دبوچ لیا۔ دونوں کے درمیان کوریڈور کے فرش پر ایک ہولناک مٹھ بھیڑ شروع ہو گئی۔ جبار اپنی پوری طاقت سے خنجر صلاح الدین کے سینے کی طرف دبا رہا تھا، اور صلاح الدین کے پیٹ کا زخم خون کے فوارے چھوڑ رہا تھا۔
“ساجد۔۔۔! پسٹل اٹھا!” صلاح الدین نے دانت پیستے ہوئے، شدید درد کے عالم میں دیوار سے سہمے کھڑے چودہ سالہ ساجد کو چلاتی ہوئی آواز میں کہا۔
ساجد نے جب دیکھا کہ اس کے محسن کی جان خطرے میں ہے، تو اس کے اندر کا خوف بھی غائب ہو گیا۔ وہ زمین پر رینگتا ہوا گیا اور بے ہوش غنڈے کی گری ہوئی پسٹل اپنے دونوں ننھے ہاتھوں میں اٹھا لی۔ “سائیں صلاح الدین! میں نے اٹھا لی!” ساجد روتے ہوئے چلایا۔
جبار نے چونک کر ساجد کی طرف دیکھا، اور اسی ایک سیکنڈ کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر صلاح الدین نے جبار کا ہاتھ گھمایا اور خنجر کا رخ سیدھا جبار کی اپنی ٹانگ کی طرف کر دیا۔ ایک گہری کراہ کے ساتھ جبار کا اپنا خنجر اس کی ران میں اتر گیا۔ جبار درد سے چلاتا ہوا فرش پر گر پڑا۔
صلاح الدین نے جھک کر جبار کے گریبان کو پکڑا اور اسے دیوار کے ساتھ اتنے زور سے مارا کہ جبار کے منہ سے خون نکل آیا۔ “اوئے کتے! جا کر اپنی اس مکار شاہینہ بیگم اور وڈیرے سارنگ شاہ سے کہہ دینا۔۔۔ صلاح الدین ابھی زندہ ہے! اور جب تک میرا ایک بھی سانس باقی ہے، چولستان کی حویلی کا کوئی بھی غنڈہ بانو کی چادر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا!”
عین اسی وقت، کوریڈور کے دوسرے سرے سے عثمان، افتخار احمد اور پولیس کی ایک بھاری نفری دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ عثمان نے جب یہ منظر دیکھا—کوریڈور میں خون کے تالاب، غنڈوں کی لاشیں اور صلاح الدین کو اپنے زخم سے بہتے خون کے ساتھ کھڑا دیکھا—تو وہ ہکا بکا رہ گیا۔
“صلاح الدین بھائی۔۔۔!” عثمان نے آگے بڑھ کر صلاح الدین کو سنبھالا، کیونکہ صلاح الدین کی آنکھوں کے آگے اب اندھیرا چھا رہا تھا اور وہ دوبارہ فرش پر گرنے ہی والا تھا۔ “ڈاکٹر! جلدی آؤ! اس کے ٹانکے ٹوٹ گئے ہیں!” عثمان چلایا۔
پولیس نے جبار اور اس کے غنڈوں کو وہیں ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ افتخار احمد کا چہرہ غصے سے نیلا پڑ چکا تھا، انہوں نے پولیس افسر کی طرف دیکھا، “ان بدماشوں کو ابھی لاک اپ میں ڈالو، اور شاہینہ بیگم کے خلاف ہسپتال پر حملے اور اغوا کا مقدمہ درج کرو!”
دوسری طرف، بی بی زلیخا نے بانو کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ بانو نے جب آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں، تو کلوروفارم کا اثر ابھی باقی تھا، لیکن اس کی نظریں سب سے پہلے سامنے کھڑے صلاح الدین پر پڑیں۔ صلاح الدین عثمان کے سہارے کھڑا تھا، اس کا پورا وجود خون سے سرخ ہو چکا تھا، لیکن اس کی آنکھیں بانو کو محفوظ دیکھ کر پرسکون ہو گئی تھیں۔
“سائیں۔۔۔ صلاح الدین سائیں۔۔۔” بانو کے منہ سے ایک دھیمی، لرزتی ہوئی آواز نکلی۔ وہ فرش پر رینگتی ہوئی صلاح الدین کے پیروں کے پاس آئی۔ اس کے اپنے ہاتھ جبار کے تھپڑ کی وجہ سے سوج چکے تھے، لیکن اس وقت اسے اپنے درد کا کوئی احساس نہیں تھا۔ “آپ ہوش میں آ گئے سائیں؟ اللہ نے میری دعا سن لی۔۔۔ لیکن آپ کا یہ خون۔۔۔ آپ نے پھر اپنی جان خطرے میں ڈال دی سائیں!” بانو زار و قطار رو رہی تھی، اس کی تڑپ اج محبت کی اس حد کو چھو رہی تھی جہاں ایک عورت اپنے مجازی خدا کو موت کے منہ سے واپس دیکھتی ہے۔
صلاح الدین نے نہایت نقاہت اور باوقار آواز میں بانو کی طرف دیکھا، “بانو۔۔۔ تم محفوظ ہو نا؟ ساجد ٹھیک ہے نا؟ بس۔۔۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔ صلاح الدین اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتا۔” یہ کہتے ہی صلاح الدین کے قدم بالکل جواب دے گئے اور وہ عثمان اور ڈاکٹروں کے اسٹرکچر پر بے ہوش ہو کر گر پڑا، اسے دوبارہ ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا گیا۔
اگلی صبح، چولستان کی اسی تپتی ہوئی کالی حویلی کے اندر ایک بار پھر ماتم کا سماں تھا۔ شاہینہ بیگم اپنے سنگھار میز کے سامنے بیٹھی تھیں جب ان کا ایک خاص مخبر دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا اور خوف سے کانپتے ہوئے بولا:
“شاہینہ بیگم! بہت بڑا انرتھ ہو گیا ہے! جبار اور اس کے بندے بہاولپور ہسپتال کے اندر ہی پکڑے گئے ہیں۔ شہری بابو صلاح الدین کوما سے جاگ اٹھا ہے! اس نے اکیلے ہی جبار اور ہمارے غنڈوں کو اس قدر مارا کہ وہ ہسپتال سے باہر نہیں نکل سکے۔ پولیس نے جبار کو گرفتار کر لیا ہے اور آپ کے خلاف اغوا کا پرچہ کٹ چکا ہے!”
شاہینہ بیگم کے ہاتھ سے کاجل کی ڈبی چھوٹ کر فرش پر گر گئی اور اس کا کالا رنگ فرش پر پھیل گیا۔ ان کے چہرے کا خاندانی تکبر ایک پل میں خوف اور صدمے میں بدل گیا۔ سارنگ شاہ جو پاس ہی کھڑا تھا، غصے سے پاگل ہو گیا، “امی جی! اب وہ شہری وکیل ہمیں جیل بھیجے گا؟ ہم چولستان کے وڈیرے ہیں، ہماری یہ ذلت؟”
شاہینہ بیگم کی آنکھوں میں اب ایک بالکل الگ، سفاک اور آخری چال کا زہر ابھر آیا۔ انہوں نے دانت پیستے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “خاموش ہو جاؤ سارنگ! صلاح الدین نے ہماری غیرت پر آخری وار کیا ہے نا؟ اب قانون اور پولیس کی یہ جنگ ختم! اب چولستان کی مٹی کا قانون چلے گا۔ اگر بانو ہسپتال سے باہر نہیں آ رہی، تو ہم اسے باہر آنے پر مجبور کریں گے!”
انہوں نے مخبر کی طرف دیکھا اور اپنا سب سے ہولناک حکم جاری کیا، “جاؤ چولستان! اور بانو کے بوڑھے باپ، اللہ دتا کو اٹھا کر حویلی کے اصطبل میں قید کر دو! اور بہاولپور ہسپتال میں پیغام پہنچا دو کہ اگر یہ لڑکی چوبیس گھنٹے کے اندر خود چل کر حویلی نہیں آئی، تو اس کے باپ کی لاش چولستان کی ریت میں دفن کر دی جائے گی! اب دیکھیں گے کہ وہ زخمی صلاح الدین ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر اس بوڑھے مزارع کو کیسے بچاتا ہے!”
کہانی اب ایک ایسے آخری، ہولناک اور جگر چیر دینے والے موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی، جہاں صلاح الدین دوبارہ آپریشن تھیٹر میں تھا، بانو اپنے محسن کے خون کے قرض تلے دبی ہوئی تھی، اور دوسری طرف اس کے اپنے بوڑھے باپ کی زندگی اب حویلی کے جلادوں کے ہاتھ میں تھی!

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 9