Malik Safdar Hayat

جنوں والا پیر (ملک صفدر حیات)

میرے تھانے کے علاقے کے ایک گاؤں کا نمبردار اور دو آدمی تھانے میں مجھے یہ بتانے آئے کہ ایک کھڈ میں ایک آدمی کی لاش پڑی ہے اور وہ اس کو جانتے تھے اس کا نام انور ورما تھا. کسی پر جنات یا کسی بھی قسم کا آسیب کا قبضہ ہو جائے انور ورما اس جن یا آسیب کو حاضر کر کے بھاگ جانے پر مجبور کر دیتا تھا
مشہور تھا کہ اس کے قبضے میں بڑے بڑے خطرناک جنات ہیں اور ایک ناگ بھی اس کے قبضے میں ہے. جس کی عمر ایک سو سال سے اوپر ہے یہ عقیدہ اب بھی موجود ہے کہ جس سانپ کی عمر ایک سو سال تک ہو جاتی ہے وہ انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بعض جنات بھی انسانی شکل اختیار کر لیتے ہیں ایسے انسانوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنی پلکیں نہیں جھپکتے !
انور ورما کے قتل کی رپورٹ دینے والوں نے مجھ سے کہا کہ اسے جنات نے مارا ہے وہ کہتے تھے کہ جنات کو قبضے میں رکھنے والا ہر وقت خطرے میں رہتا ہے اس سےذرا سی بھی بد پرہیزی یا بے احتیاتی ہو جائے تو جنات اسے جان سے مار کر اس کے قبضے سے آزاد ہو جاتے ہیں.
اس کا نام انور ورما تھا اور وہ مسلمان تھا لیکن اپنے نام کے ساتھ ہندووں والا نام ورما بھی لگاتا تھا. مجھے بتایا گیا کہ وہ ہندووں سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں مقبول تھ.ا اس لیے وہ ہر مذہب کا آدمی تھ.ا اس کی عمر تیس اور پینیتس کے درمیان تھی.
کھوجی کو موقعہ واردات پر پہنچنے کا پیغام بھیج کر میں نمبر دار وغیرہ کے ساتھ لاش دیکھنے چلا گیا. انور ورما ایک خوبرو جوان آدمی تھا.رات گیدڑوں وغیرہ نے لاش کی دونوں ٹانگوں اور بازووں کا بہت سا گوشت کھا لیا تھا چہرہ بلکل ٹھیک تھا .میں نے سب سے پہلے لاش کے ارد گرد زمین دیکھی ایسی وارداتوں میں زمین خاموش گواہ ہوتی ہے. زمین پر کھروں کے علاوہ بھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے. جس سے تفتیش میں مدد ملتی ہے مجھے ایسی ایک چیز مل ہی گئی. وہ تھی ٹوٹی ہوئی کانچ کی چوڑیوں کے ٹکڑے. یہ بڑا صاف اشارہ تھا کہ واردات میں عورت شامل تھی جس واردات میں عورت شامل ہو اور دھنگا مشتی ہوئی ہو اور عورت نے کانچ کی چوڑیاں پہن رکھی ہوں. وہاں چوڑیوں کے ٹکڑے ضرور ملتے ہیں.
اکثر یہی ہوتا ہے کہ عورت کے ساتھ دست درازی یا زیادتی ہوتی ہے تو وہ مزاحمت کرتی ہے. اسی کے نتیجے میں ایک دو چوڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں. عورت کو قابو میں لانے کے لیے اس کے بال پکڑے جاتے ہیں لہذا وہاں ایک دو بال نوچے ہوے بعض اوقات بالوں کا گچھا مل جاتا ہے.اس واردات میں بھی عورت کی موجودگی پای گئی تھی کھوجی جلدی پہنچ گیا اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا . یہاں کھرے ڈھونڈنا مشکل نہیں تھے کیونکہ یہ عام راستہ نہیں تھا وہ جگہ اس طرح گہرائی میں چلی تھی کہ اس میں سے برساتی نالہ گزرتا تھا جس کے کنارے کے ساتھ ذرا ذرا سا پانی بہہ رہا تھا.
ادھر سے لوگ نہیں گزرتے تھے عام راستہ دوسری طرف تھا جو ایک کشادہ پگڈنڈی تھی. انور ورما کی لاش جس کھڈ میں پای گئی تھی یہ کھڈ ایک ڈھکی چھپی جگہ تھی. وہاں پر موجود کھرے نمبردار اور اس کے ساتھ آدمیوں نے وہاں گھوم پھر مٹا دیے تھے. اس کے علاوہ کھروں پر گیدڑوں کے پنجوں کے نشان بھی تھے لیکن کھوجی نے وہاں سے تھوڑی دور مقتول اور ایک عورت کے کھرے ڈھونڈ لیے.
عورت برساتی نالے کی طرف سے آئی تھی اور اس کے پاؤں میں گاؤں کے موچی کی بنائی ہوئی جوتی تھی کھروں کے مطابق یہ عورت اکیلی آ رہی تھی اور برساتی نالہ پار کر کے کھڈ کے قریب پہنچی تھی. مقتول کے کھرے مٹی کے ایک ٹیلے کے ساتھ ساتھ وہاں تک پہنچے تھے. میں نے مقتول کی لاش کو الٹ پلٹ کر غور سے دیکھا اس کے کپڑے پھٹے ہوے نہیں تھے گردن پر صاف نیلے نشان تھ.ے اسے ہاتھوں سے گلا دبا کر مارا گیا تھا. اس کا کوئی کپڑا اترا ہوا نہیں تھا
میری رائے یہ تھی کہ اس نے بدی کا ارتکاب نہیں کیا تھا. لاش کے ارد گرد زمین کچی تھی کھوجی نے بتایا کہ یہاں دھنگا مشتی ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا تھا کہ عورت نے اپنی عزت بچانے کے لیے مزاحمت کی ہے . یہ تو واضح ہو گیا کہ قتل کا باعث عورت ہے سوال یہ تھا کہ عورت کے ساتھ کون تھا یا کون آ گیا تھا جس نے مقتول کو قتل کیا اور عورت کو بچا کر لے گیا . سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ اس نے عورت کو بچایا ہو گا یا زبردستی اپنے ساتھ لے گیا ہو گا.
لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوانے کا انتظام کیا .مقتول کا گاؤں وہاں سے ایک میل دور تھا . اس کے گھر والوں کو ابھی پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ قتل ہو چکا ہے
نمبردار اور اس کے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے مجھے کہا دیکھیں جناب آپ پولیس افسر ہیں ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں لیکن ہم اب بھی آپ کو یہی مشورہ دیں گے کہ اس واردات پر مٹی ڈالیں یہ جنوں کی کارستانی ہے اور مجھے چند سال پرانے ایک قتل کی کہانی بھی سنا دی اور آخر میں کہا کہ اس تھانیدرا کو بہت پریشانی اٹھانی پڑی تھی اور اس نے تفتیش روک دی تھی اور کہا کہ یہ واقعی جنات کی کاروائی ہے اور ہم جنات کو نہیں پکڑ سکتے !
میں نے اس کہانی کی تردید نہ کی کیونکہ یہ لوگ سنی سنائی اور من گھڑت کہانیوں کو سچ مانا کرتے تھے مجھے معلوم تھا کہ تھانیدار نے تفتیش سے جان چھڑانے کے لیے مشہور کر دیا ہو گا کہ یہ جنات کی واردات ہے.میں مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا کر مقتول کے گاؤں چلا گیا مقتول کی بیوی سے ملا اس کی اولاد صرف دو بچیاں تھیں بچیوں کی عمریں بارہ اور چودہ سال ہوں گئی. بیوی کو جب بتایا گیا کہ اس کا خاوند قتل ہو گیا ہے تو اس پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو.
اسے حقیقت کو قبول کرنے میں کچھ دیر لگی. میں نے س سے پوچھا کہ اس کے خاوند کا دشمن کون ہو سکتا ہے. اس نے کسی پر بھی شک نہ کیا .اس سے میں نے بہت کچھ پوچھا یہی پتہ چلا کہ مقتول کے پاس زیادہ تر عورتیں آیا کرتی تھیں . جنات کا قبضہ زیادہ تر عورتوں پر ہی ہوا کرتا تھا . مقتول جن نکالنے کے علاوہ مرادیں پوری ہونے کے تعویز بھی دیا کرتا تھا . بیوی کے ساتھ اس کی اتنی بے تکلفی نہیں تھی کہ وہ اس کے پاس آنے والی عورتوں کی باتیں اسے سناتا بیوی کو اس نے غلام بنا کر رکھا ہوا تھا.
میں نے مقتول کی بیوی سے پوچھا کیا تمہارے خاوند کے قبضے میں جن تھے . اس نے کہا میں نے کبھی جن دیکھا نہیں یہ اس کا آبائی پیشہ تھا اس کا باپ بھی یہی کام کرتا تھا. میں نے مقتول انور ورما کی بیوی سے پوچھا کیا رات کو بھی ورما کے پاس عورتیں آتیں تھیں؟ اس نے کہا یہاں دن رات ایک جیسے ہوتے تھے اس کا کمرہ الگ ہے اور اندر سے دروازہ بند رہتا تھا آپ خود سمجھ سکتے ہیں میں کیا کہوں وہ کچھ نہ بتا سکی !
یہ معلوم کرنا بیکار تھا کہ یہاں کون کون سی عورت آتی تھی. آج کل تو دیہاتوں تک بھی علم کی روشنی پہنچ چکی ہے اس کے باوجود انور ورما جیسے عاملوں اور پیروں کو لوگ پہلے کی طرح مانتے ہیں اور اپنی عورتیں ان کے پاس بھیج کر آنکھیں اور کان بند کر لیتے ہیں وہ تو پھر بھی پسماندگی کا زمانہ تھا. اس کے گاؤں میں بھی مجھے یہی بتایا گیا کہ مقتول کو جنوں نے مارا ہے اور یہ کہ میں اس کام میں نہ پڑوں ! لیکن میں ایسی اندھی عقیدت پر ذرا سا بھی حیران نہ ہوا میں نے ان لوگوں سے کچھ بھی نہ کہا مقتول کی بیوی سے میں نے پوچھا کہ مقتول گھر سے کس وقت نکلا تھا اور گھر میں کیا بتا کر گیا تھا ؟
بیوی نے کہا کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے نکلا تھا اور کچھ بھی بتا کر نہیں گیاتھا. میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ کوئی عورت نہیں تھی نہ اس وقت اس کے پاس کوئی عورت آئی تھی !
تھانے میں جا کر میں سوچنے لگا کہ قتل کا باعث کیا ہو سکتا ہے میں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ قتل جنوں نے کیا ہے اور میں یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ انور ورما نے کسی عورت پر دست درازی کی اور اس عورت کے خاوند یا بھائی نے اسے قتل کر دیا ہو گا. کیونکہ انور ورما کو کھڈ میں لے جا کر کسی عورت پر دست درازی کرنے کی کیا ضرورت تھی. اچھی سے اچھی عورت اس کے گھر آ جاتی تھی اور اس کے پاس الگ کمرہ بھی تھا مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ کسی پر جن کا قبضہ ہو جاتا تو لوگ انور ورما کو اپنے گھر بھی بلایا کرتے تھے.
آپ نے شاید دیکھا ہو گا کہ کسی عورت پر جن نکالنے والا عامل عورت کے گھر والوں کو یہ کہہ کر باہر نکال دیتا ہے کہ وہ دروازے بند کر کے جن کی خبر لے گا گھر والے بڑی خوشی سے اجازت دے دیتے ہیں اور اپنی عورت کو عامل کے ساتھ کمرے میں بند کر دیتے ہیں.یہ انور ورما بھی ایسا ہی عامل تھا میرے لیے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں تھا کہ میرے علاقے میں کون کون سے عورت پر جنات کا قبضہ ہے اور مقتول کس کے گھر جاتا تھا مگر میں یہ مان نہیں سکتا تھا کہ وہ اس سلسلے میں قتل ہوا ہے.مجھے ایک بات سمجھ آتی تھی کہ وہ کسی عورت کو اپنے ساتھ لے جا رہا تھا شاید اپنے گھر کو جا رہا ہو گا.اس کھڈ کے قریب اسے رہزن یا کوی پیشہ ور ڈاکو مل گئے. عورت جوان اور خوبصورت ہو گی وہ اسے زبردستی کھڈ میں لے گئے ہوں گے. جہاں عورت نے بھی مقابلہ کیا اور انور ورما نے بھی !
اس کوشش میں انور ورما مارا گیا اور ڈاکو عورت کو اپنے ساتھ لے گئے ہوں گے. میں نے اپنے علاقے کے نمبرداروں کو بلا کر کوئی کھوج کھرا نکالنے کی ڈیوٹی لگا دی
اس کیس میں مجھے ایک ہی خدشہ نظر آ رہا تھا کہ سب لوگ اسے جنات کی واردات کہہ رہے تھے اور یہ بھی کہ میں نے اگر جنات کی توہین کر دی تو جنات گاؤں کو نقصان پہنچایں گے وہ سب مقتول کے عقیدت مند تھے ایسا نہ ہوتا تو میں انہی میں سے اس کا کوئی دشمن نکال لیتا !
میں چونکہ عاملوں پیروں اور گدی نشینوں کی پراسرار دنیا سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے مجھے خیال آیا کہ مقتول کی دشمنی اسی کے پیشے کے کسی آدمی کے ساتھ ہو سکتی ہے اور جھگڑا عورت پر ہوا ہو گا ایک خیال یہ بھی آیا کہ اس عورت کو جس کی چوڑیوں کے ٹکڑے میرے پاس تھے اس عورت کو دانے کے طور پراستعمال کیا گیا ہو گا. یعنی انور ورما کو گھر سے باہر پھندے میں لانے کے لیے عورت کا استعمال کیا گیا ہو گا اور انور ورما اس پھندے میں آ گیا اس نے اس عورت کے ساتھ دست درازی کی اتنے میں اس کے دشمن آ گئے. انہوں نے اسے کلہاڑیوں سے قتل کرنے کی بجائے اس کا گلا دبانا اس لیے مناسب سمجھا کہ یہ تاثر پیدا ہو کہ اسے جنات نے مارا ہے .
سورج غروب ہو رہا تھا جب مجھے پوسٹمارٹم رپورٹ ملی مقتول کا گلا دبایا گیا تھا ڈاکٹر کے اندازے کے مطابق مقتول کو مرے ہوے سولہ گھنٹے گزر گئے تھے اس کے مطابق مقتول رات کو نہیں بلکہ سورج غروب کے وقت کے لگ بھگ قتل ہوا تھا. گاؤں کے لوگ لاش لینے آئے ہوئےتھے .میں ان لوگوں سے مختلف سوال جواب کرتا رہا مجھے پتہ چلا کہ میرے علاقے میں ایک اور پیر بھی ہے جو شاہ قلندر کے نام سے مشہور ہے گاؤں کے آدمیوں سے مزید کرید پر پتہ چلا کہ مقتول شاہ قلندر کے خلاف باتیں کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ شاہ قلندر کے قبضے میں کوئی جن نہیں ہے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مقتول کا ایک دشمن مل گیا ہو میں رات کو کھانا کھا کر ایک کانسٹیبل کے ساتھ شاہ قلندر کے ہاں چلا گیا میں اور کانسٹیبل سادہ کپڑوں میں تھے.
شاہ قلندر اس وقت تین چار مریدوں میں بیٹھا ہوا تھا صاف پتہ چلتا تھا کہ شاہ قلندر کو شراب چڑھی ہوئی ہے اسے بتایا گیا کہ میں کون ہوں.اس نے مسکرا کر اور بے نیازی سے گاؤ تکیے پر نیم دراز رہتے ہوئے میرے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیےہاتھ میری طرف بڑھایا میں نے جاہل مریدوں کی طرح اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر چوما اور آنکھوں سے لگایا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا. تھانیدار کو اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر اس کے نشے میں خمار کی کیفیت پیدا ہو گئی اس کی آنکھیں جو کھلی ہوئی تھیں ادھ کھلی ہو گئیں. میں نے مظلوموں کے لہجے میں نے کہا شاہ قلندر سرکار میں بڑی مشکل میں گرفتار ہو کر آپ کے قدموں میں آیا ہوں آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہتا ہوں.
اس کے اشارے پر سب باہر چلے گئے. میرا کانسٹیبل میرے پاس بیٹھا رہا شاہ قلندر نے مخمور آواز میں کہا کہ میں اپنی مشکل بیان کروں. میں نے کہا سرکار انور ورما قتل ہو گیا ہے اور مجھے بتایا جا رہا ہے کہ اسے جنوں نے قتل کیا ہے. میری نوکری کا سوال ہے ہمارا قانون جنوں کو نہیں مانتا .آپ کے ہاتھ میں جو طاقت ہے وہ کسی اور میں نہیں ہے. آپ کے متعلق بہت کچھ سن کر آپ کے پاس آیا ہوں آپ مجھے صرف یہ بتا دیں کہ کیا واقعی اسے جنوں نے مارا ہے اگر تو واقعی ایسا ہے تو میں اس تفتیش سے ہاتھ کھڑا کرلوں ورنہ میں ایسے ہی بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر انہیں مارتا پیٹتا رہوں گا.
شاہ قلندر نے کہا اس بد بخت کو میرے جنوں نے مارا ہے . وہ میرے جنوں کو ورغلاتا رہتا تھا . میرے قبضے میں بڑے ظالم جن ہیں آپ اس مردود کے قتل کی تفتیش کو دفع کریں ورنہ آپ کو بھی نقصان ہو سکتا ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اسے کون سے جن نے مارا ہے. میں نے مسکین صورت بنا کر کہا سرکار کیا وہ جن یہ بیان دے سکتا ہے کہ یہ قتل اس نے کیا ہے کیونکہ مجھے تفتیش روکنے کے لیے کوئی وجہ بھی تو لکھنی پڑے گی ورنہ میرے افسران کہیں گے کہ میں نے جنات کا بہانہ بنا کر تفتیش سے جان چھڑائی ہے.
میں نے اس کے گھٹنوں پر ھاتھ رکھ کر التجا کی کہ سرکار مجھ پر رحم کریں اس جن کو حاضر کر کے بیان دلا دیں ورنہ میں مفت میں رگڑا جاؤں گا مجھے نوکری سے جواب مل جاے گا. شاہ قلندر سوچ میں پڑ گیا .میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا رہا .اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں. کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور بولا اس نیک بخت کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا وہ ادھر ہی موجود ہے کہتا ہے کہ میرے ساتھ بات نہ کرنا اور اس تھانیدار سے کہو کہ یہاں سے چلا جائے ورنہ اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہو گا . شاہ قلندر نے کہا اس جن کی طرف سے میں بیان دے دیتا ہوں کہ یہ قتل اسی جن نے کیا ہے.
کانسٹیبل میرے ساتھ ہی بٹھا ہوا تھا .وہ ایک ذہین آدمی تھا . شاہ قلندر کی بات سن کر اس نے ایسی ایکٹنگ شروع کر دی جیسے واقعی وہاں وہ جن موجود ہو جس کے متعلق شاہ قلندر کہہ رہا تھا کہ اس جن نے قتل کیا ہے. کانسٹیبل ایسے ہو گیا جیسے سخت خوفزدہ ہو گیا ہو .کانسٹیبل نے کانپتی ہوی آواز میں مجھ سے کہا جناب آپ کس چکر میں پڑ گئے ہیں آپ اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی مروایں گے. قلندر سرکار ٹھیک فرما رہے ہیں کہ جن سخت غصے میں ہے . میں بھی کانسٹیبل کے ساتھ بدھو بن گیا اور کانسٹیبل سے کہا شریف تمہاری بات ٹھیک ہے وہ جن ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن میں کاغذوں کا کیا کروں اور اپنے افسران کو کیسے مطمن کروں !
کانسٹیبل نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا. جناب آپ کاغذوں کو چھوڑیں اور یہاں سے اپنی جان بچایں کہیں جن ہمارے پیچھے ہی نہ پڑ جائے. میں نے التجا کے لہجے میں کہا قلندر سرکار تھانے کی تمام زمے داری میرے اوپر ہے اپنے افسران کو جواب دہ بھی میں ہوں. اگر آپ ایک زحمت گوارہ فرمائیں تو ہمارا مسلہ حل ہو سکتا ہے اور ہم اس جن سے بھی بچ جائیں گے. آپ ایسا کریں ہمارے ساتھ تھانے چل کر اپنا بیان دیے دیں یا پھر جن کو یہاں ہمارے سامنے حاضر کر کے اس سے بیان دلا دیں. شاہ قلندر نے دھیما سا قہقہہ لگایا اور بولا او احمق انسان قلندر کا تھانے میں کیا کام اور رہی بات جن کی تو میرا مشورہ یہ ہے کہ اسے ابھی حاضر نہ کرا کیونکہ ابھی وہ بہت غصے میں ہے خوامخواہ اپنا کوئی نقصان کرا بیٹھو گے.
میں نے کہا تو پھر سرکار خود تھانے تشریف لے چلیں.شاہ قلندر گاؤ تکیے پر نیم دراز تھا بلکل ہی لیٹ گیا اور انگڑائی لے کر بولا معلوم ہوتا ہے کہ تو خیریت سے گھر نہیں جانا چاہتا ! تو تو مجھے بھی مروائے گا. میں نے آگے ہو کر شاہ قلندر کی کلائی پر ہاتھ رکھا اور کلائی دبا کر کہا قلندر صاحب آپ کو تھانے تو چلنا ہی پڑے گا اگر ضرورت سمجھو تو اپنے اس جن کو بھی ساتھ لے چلو.
اس نے دبے دبے رعب سے مجھے ٹالنے کی کوشش کی اور اس نے یہ بھی کہا کہ سارا گاؤں اس کا مرید ہے اور گاؤں والے اس پر جانیں بھی قربان کر دیں گے. میں نے اسے جھوٹ بولتے ہوے کہا قلندر تم مجھے اکیلا مت سمجھنا میرے تھانے کا سارا عملہ گاؤں کے باہر میرے اشارے کا منتظر کھڑا ہے اگر اس نے تھانے چلنے میں ٹال مٹول کی تو میں اسے اپنے عملے سے گرفتار کروا کے لے جاؤں گا.میں نے اس سے کہا سنو قلندر میں جانتا ہوں کہ تم قلندر نہیں ہو تم جو کچھ بھی ہو مجھے معلوم ہے. اس نے کہا میں اگر تھانے چلا گیا توگاؤں میں میری بہت بے عزتی ہو گی آپ میرا بیان یہیں لے لیں آپ کی بہت خدمت کروں گا آپ حکم کریں کیا پیش کروں . کیا ساری رات عیش کروا دوں . جیسی عیش آپ کہیں گے ویسی عیش مہیا کروں گا.
میں نے کہا دیکھو قلندر ضدنہ کرو اس وقت رات کا وقت ہے . آدھی رات کے بعد میں خود آ کر تمہیں یہاں چھوڑ جاؤں گا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو گی کہ تم تھانے گئے تھے. اگر کسی کو خبر ہو بھی گئی تو کہنا کہ تھانیدار کے گھر جنات نے گڑ بڑ کر دی ہے اور میں ان جنات کو بھگانے گیا تھا. میں اس کوشش میں تھا کہ یہ شخص باتوں سے ہی میرے ساتھ چل پڑے اور مجھے دوسری کاروائی نہ کرنی پڑے. بہرحال اسے میں نے مطمن کر کے اٹھا لیا اور ہم تھانے کی طرف چل پڑے !
تھانے لا کر میں نے اس سے کہا کہ وہ قاتل جن کو حاضر کرے اور اسے کہے کہ وہ بیان دے مجھے معلوم تھا کہ اس قبضے میں کوئی جن نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جن بیان دینے آئے گا اس نے کہا وہ خود بیان دے گا. میں نے کہا چلو تم ہی بیان دو اس نے جو بیان دیا وہ کچھ اس طرح تھا اس نے بتایا کہ اس کے قبضے میں بڑے ظالم جن ہیں انور ورما اس کے جنات کو پریشان کرتا تھا انور ورما کے قبضے میں جو جنات تھے وہ نوری نہیں ناری تھے . وہ صرف شیطانی کام کرتے تھے اپنے ان جنوں سے مقتول نے میرے جنات کو پریشان کرایا تھا.
میرے دو جن غنڈہ قسم کے ہیں ان دونوں نے مقتول کی حرکتوں سے تنگ کر اسے قتل کر دیا اور واپس آ کر مجھے بتایا کہ انہوں نے انور ورما کو قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش فلاں کھڈ میں پڑی ہے. ان دونوں جنوں کو شاہ قلندر اپنے موکل کہتا تھا میں نے اس سے پوچھا کیا تمہارے ان دونوں یا دونوں میں سے ایک جن نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں ؟ اور کیا ان کی جوتیاں زنانہ تھیں ؟
شاہ قلندر نے کہا یہ تو میں نے ان سے نہیں پوچھا لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں سے ایک نے عورت کا روپ دھارا ہو گا اور پھر وہی عورت انور ورما کو ورغلا کر کھڈ میں لے گئی ہو گی اور پھر دوسرا جن بھی آ گیا ہو گا اور دونوں نے مل کر انور ورما کو مار ڈالا ہو گا. میں نے کہا شاہ قلندر سرکار ذرا اپنے ان موکلوں سے کہیں کہ وہ تمہیں مجھ سے چھڑا کر لے جائیں اگر وہ نہیں آتے تو ان سے کہو کہ وہ اقبال جرم کریں اگر وہ یہ بھی نہیں کرتے تو پھر تم اقبال جرم کرو کہ انور ورما کو تم نے قتل کیا ہے اگر بیان دے دو گے تو فائدے میں رہو گے.
میری بات سن کر شاہ قلندر کی زبان ہکلانے لگی اور اس کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئی. میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور کہا تم نے بہت گناہ کر لیے قلندر ! تم نے لوگوں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں کی عزت پر بہت عیش کر لی ہے اب تمہارے حساب کا وقت آ گیا ہے کل تک مجھے پتہ چل جائے گا کہ تمہاری کون کون سی مریدنی مقتول کے قبضے میں چلی گئی تھی اور تمہارے روپے پیسے والے کتنے سائیلوں کو مقتول نے ورغلا لیا تھا .میں نے کہا قلندر کیا تم مجھے الو سمجھتے ہو کیا ؟ میں اتنا بھی جانتا کہ تم دونوں میں کاروباری رقابت اور حسد تھا میں تمہارے جنات کا بھوت ہوں.
اس لیے اگر اپنی زبان سے بتادو گے تو میں تمہیں پھانسی سے بچانے کی کوشش کروں اور کیس تھوڑا ڈھیلا تیار کروں گا اور اس کا فائدہ تمہیں پہنچے گا.اب اپنی فریب بازی کو ذہن سے نکال دو . یہ تھانہ ہے یہاں ہتھکڑیاں اور حوالات ہے تمہارے جن یہاں نہیں آ سکتے ! سچ بتاؤ کیا ہوا تھا ؟تم نے انور ورما کو کس طرح قتل کیا یا کرایا ہے اب میرے سامنے جنوں اور موکلوں کا نام بھی نہ لینا.
اس نے وہی حرکت کی جو اکثر ملزم تھانے میں آ کر کیا کرتے ہیں. اس نے میرے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا جناب آپ مجھ پر یقین کریں میں انور ورما کو قتل نہیں کیا. باقی آپ کی ساری باتیں سچ ہیں میں نے کہا کون سی باتیں اس نے کہا یہی کہ نہ میرے قبضے میں کوئی جن تھا اور نہ ہی مقتول کے قبضے میں جن تھا کاروبار ہم دونوں کا اچھا چل رہا تھا آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جنگل میں ایک ہی شیر رہ سکتا ہے ہماری آپس میں کاروبای دشمنی تھی.
لیکن میں نے اسے قتل نہیں کرایا اور نہ خود کیا ہے. میں نے کہا قلندر قتل تم نے ہی کیا یا کرایا ہے اب تم اپنے گھر نہیں جا سکو گے تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ تمہارے خلاف تمہارے اپنے مکروہ گناہوں کی کیسی کیسی شہادت تمہارے سامنے آئیں گی. اسنے کہا اگر آپ مجھے آزاد کر دیں تو میں قاتل کا سراغ لگا دوں گا آپ کو ایسی کوئی شہادت نہیں ملے گی کہ میں نے اسے قتل کیا یا کرایا ہے میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ میرے ساتھ وقت ضایع نہ کریں اور اصل قاتل کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں کہیں میرے چکر میں اصل قاتل آپ کے ہاتھ سے نکل نہ جاے.
شاہ قلندر نے جب اپنے انداز اور اپنی زبان سے قلندری اور شاہی پن کا بہروپ اتارا تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ ذہین اور عقلمند آدمی ہے، اور اس کی باتوں میں ایسا تاثر ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس قسم کے فراڈی انسان ویسے بھی ذہین اور گھاگ ہوتے ہیں۔ ان کا کاروبار اس استادی میں مہارت حاصل کیے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ میں نے اس سے پوچھا، “تمہیں کس نے اور کس وقت بتایا تھا کہ انور ورما قتل ہو گیا ہے؟”
اس نے کہا، “دوپہر کو سارے گاؤں میں خبر پھیل گئی تھی کہ انور ورما مارا گیا ہے، اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اسے جنوں نے مارا ہے۔ آپ کو سچ بات بتاؤں کہ میں نے ہی اپنے مریدوں کے ذریعے یہ بات مشہور کروائی تھی کہ اسے میرے جنوں نے مارا ہے۔
آپ اب بھی میرے گاؤں میں جا کر لوگوں کی باتیں سنیں، وہ یہی کہہ رہے ہوں گے کہ شاہ قلندر جنات کا بادشاہ ہے۔ جب آپ میرے گھر آئے تھے، مجھے اس وقت تک پتا چل چکا تھا کہ انور ورما قتل ہو گیا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی میں نے ایسی ہی باتیں کیں، جن سے آپ کو شک ہو گیا کہ قتل میں نے کیا ہے۔
نہیں جناب! آپ میری قسموں پر اعتبار نہیں کریں گے۔ آپ شہادتیں اکٹھی کریں، آپ کو میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔”
اس نے مجھے بہت سی دلیلیں دے کر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔
اب وہ منت سماجت اور التجا کے لہجے میں بات نہیں کر رہا تھا، بلکہ اس کی آواز میں پختگی اور خوداعتمادی تھی۔ وہ زبان کا جادو چلانا جانتا تھا۔
مجھے یقین ہو گیا تھا کہ قاتل یہی ہے، لیکن اس نے میرے یقین کو شک میں بدلنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ میں اس پر جرح کرتا جا رہا تھا۔ اس کی ہر بات سے ایک نیا سوال پیدا کر لیتا تھا، لیکن وہ ہر سوال کا جواب ایسے انداز سے دیتا تھا جو مجھ پر اثر کرتا تھا۔
اس کے باوجود میں اسے قتل کے الزام سے بری نہیں سمجھ سکتا تھا۔ وہ مشتبہ نمبر ایک تھا۔
پھر اس نے مجھے اپنے کاروبار کے راز بتانے شروع کیے۔ اس نے کہا، “جن بھوت ہوتے ہوں گے، لیکن میرے قبضے میں کوئی جن نہیں ہے۔
البتہ میرے متعلق سب یہی کہتے ہیں کہ میرے قبضے میں جنات ہیں، اس لیے میری بے معنی بات بھی ان پر جادو سا اثر کرتی ہے۔
وہ جانتا تھا کہ عورتوں کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں، لیکن وہ اور اس جیسے عامل اور پیر ان دوروں کو جنات کا قبضہ یا آسیب قرار دیتے ہیں۔
اس نے مجھ سے کہا، “آپ تھانیدار ہیں، اس لیے دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ انسانوں کو پڑھ سکتے ہیں، اور چہرہ دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ یہ شخص مجرم ہے یا بے گناہ۔
لیکن آپ کسی عورت کا چہرہ دیکھ کر اس کے دل کی بات نہیں بتا سکتے۔ میں آپ کو کئی عورتیں دکھا سکتا ہوں جن پر جنوں کا قبضہ بتایا جاتا ہے۔ ان پر جب دورہ پڑتا ہے تو بڑے بڑے جوان مرد اور دلیر آدمی بھی گھبرا جاتے ہیں۔
مگر ان عورتوں پر نہ کسی جن کا قبضہ ہوتا ہے اور نہ کوئی آسیب ہوتا ہے۔ وہ سب ڈھونگ ہوتا ہے۔ عورت ایسی شکل بنا لیتی ہے، اور ایسی حرکتیں اور باتیں کرتی ہے کہ بعض اوقات تجربہ کار عامل بھی دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ ایسی عورتیں کسی عامل، پیر یا مجھ جیسے کسی مولوی کو اپنے راز میں شامل کر لیتی ہیں، اور پھر وہ عامل، پیر یا مولوی اس ڈھونگ کو مزید پختہ بنا دیتا ہے۔
عورت جب اس قسم کے ڈھونگ رچانے پر اتر آتی ہے تو وہ جن کی زبان میں بولتی ہے۔ ایسی عورت پر یہ مصیبت نازل ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کو چاہتی ہے، اور اس کے دل میں اپنے خاوند کے خلاف نفرت ہوتی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو ہی چاہتی ہے، مگر خاوند کسی وجہ سے اس کی جذباتی تسکین کرنے سے معذور ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر عورت چالاک ہو تو وہ اپنے اوپر جنات کا دورہ طاری کر لیتی ہے، اور اگر سیدھی سادی ہو تو خون کے جوش کی وجہ سے اس پر واقعی دورے پڑنے لگتے ہیں۔
ہم عامل لوگ اسے جن یا آسیب کہتے ہیں، لیکن حقیقت میں معاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں بھی مجھ جیسے عامل، پیر وغیرہ خوب کام دکھاتے ہیں۔ عورت کے گھر والوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ عامل یا پیر اسے بند کمرے میں اپنے ساتھ رکھتا ہے، یا کسی خاص عمل کے بہانے عورت کو تنہا اپنے گھر بلاتا ہے۔ لوگ اتنے جاہل ہیں کہ اس علاج کا ذکر بھی فخر سے کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں جو عورت پر جھوٹ موٹ کا جن طاری کر دیتی ہیں۔ بعض عورتوں کی فطرت میں فتنہ اور فساد ہوتا ہے۔ انہیں جھوٹ بول کر فساد پھیلانے میں لطف محسوس ہوتا ہے، مگر وہ معصوم بنی رہتی ہیں۔ پھر جب ان کی پٹائی ہوتی ہے تو وہ ہمدردی سے محروم ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض عورتیں اپنے اوپر جنوں کے قبضے کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔ ایسی عورتیں عاملوں کو بھی اصل حقیقت نہیں بتاتیں، اور سب کو یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی ان پر جنوں کا قبضہ ہے۔
شاہ قلندر نے کہا، “لوگوں کا اندھا یقین ہی انہیں ہم جیسے عاملوں کے جال میں پھنسائے رکھتا ہے۔ جن لوگوں کا کام نہیں بھی ہوتا، وہ بھی اپنے آپ کو دھوکا دے لیتے ہیں کہ ان کا کام ہو گیا ہے۔”
مختصر یہ کہ اس نے مجھ سے جان چھڑانے کے لیے مجھے اپنا اور اپنے جیسے عاملوں، پیروں اور ملّاؤں کا فراڈ بتا دیا۔ یہ فراڈ آج بھی اسی طرح چل رہا ہے۔ علم کی روشنی اور سائنس کی ترقی بھی اس فراڈ میں کوئی کمی نہیں کر سکی۔
میں نے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی جنات کے اس فراڈ کو سچ مانتے دیکھا ہے۔
میں ابھی شاہ قلندر کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوا تھا۔ اس کی زبان کا جادو دیکھ کر مجھے شک ہو رہا تھا کہ وہ مجھے انگلیوں پر نچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا، “اگر تم قاتل نہیں ہو تو پھر سوچو اور مجھے بتاؤ کہ قتل کا باعث کیا ہو سکتا ہے، اور قاتل کون ہو سکتا ہے؟
یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تم اور مقتول جیسے استاد کسی عورت پر ہاتھ رکھو، اور وہ عورت تمہیں قتل کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ تم تو ان دیہاتی عورتوں کے آقا ہو۔”
وہ بولا، “نہیں جناب، ایسا نہیں ہے۔ میں نے آپ سے پہلے بھی کہا ہے کہ آپ عورت کا چہرہ دیکھ کر نہیں بتا سکتے کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ عورت کو ہم جتنا سمجھتے ہیں، حقیقت میں وہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
آپ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ہر عورت اتنی کچی اور موم جیسی ہوتی ہے کہ ہم اسے اپنے قبضے میں کر لیں۔ ہمارے جال میں صرف ایک خاص قسم کی عورتیں آتی ہیں۔ بلکہ زیادہ تعداد ان عورتوں کی ہے جو اپنی عزت پر اپنے بچے بھی قربان کر دیا کرتی ہیں۔ یہ بات مجھے ایک عورت نے کہی تھی۔ بہت عرصے پہلے ایک نہایت خوبصورت عورت میرے پاس آئی۔ اس کی گود میں سات آٹھ ماہ کا ایک بچہ تھا جو سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے تعویذ دیے اور دو تین بار بلایا۔ وہ آتی رہی۔ پھر ایک روز میں نے اس پر اپنی شیطانی نیت کا اظہار کر دیا۔
شاہ قلندر نے مجھے بتایا کہ جب اس نے اس عورت پر اپنی گندی نیت کا اظہار کیا تو وہ غصے میں آ گئی اور نفرت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں نے اس سے کہا، “اگر تم نے مجھے ناراض کیا تو تمہارا بچہ مر جائے گا۔”
عورت نے جواب دیا، “میں ایسے کئی بچے اور پیدا کر لوں گی۔ ابھی میں جوان ہوں، لیکن عزت ایک بار ہاتھ سے گئی تو واپس نہیں آئے گی۔ میرے خاوند کو مجھ پر بھروسا ہے، اس لیے وہ میرے ساتھ نہیں آتا۔”
وہ عورت مجھ پر لعنت بھیج کر، اور میرے وہ تعویذ جو اس کے بچے کے گلے میں پڑے ہوئے تھے، اتار کر میرے سامنے پھینک گئی۔
وہ ساتھ والے گاؤں کی رہنے والی تھی۔ میں اس بچے کے متعلق خبر لیتا رہا۔ ایک سال تک وہ عورت اپنے بچے کو لے کر کئی پیروں، فقیروں اور آستانوں پر جاتی رہی، کئی خانقاہوں پر ماتھا رگڑتی رہی، پھر آخرکار کسی حکیم کی دوا سے وہ بچہ صحت یاب ہو گیا۔شاہ قلندر کی باتیں اتنی دلچسپ تھیں کہ رات گزرنے کا احساس ہی نہ رہا، بلکہ کچھ دیر کے لیے میرے ذہن سے یہ بھی نکل گیا کہ میں ایک قتل کی واردات کی تفتیش کر رہا ہوں۔
شاہ قلندر نے مزید بتایا، “بعض مرد بے غیرت ہو جاتے ہیں، لیکن عورت غیرت کا دامن نہیں چھوڑتی۔ آپ نے ایسی عورتیں ضرور دیکھی ہوں گی۔
اور مجھے یقین ہے کہ انور ورما بھی ایسی ہی کسی غیرت مند عورت پر ہاتھ ڈال بیٹھا ہو گا۔ کوئی عورت جب اپنی عزت بچانے کے لیے مقابلے پر آ جائے تو مجھ اور آپ جیسے مرد یہی کر سکتے ہیں کہ اسے جان سے مار ڈالیں، مگر اس کی عزت کا ہم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔”
ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی۔ میں نے شاہ قلندر کو جانے نہ دیا۔ اس کے لیے ناشتہ منگوایا اور خود گھر چلا گیا۔ چار گھنٹے کی گہری نیند کے بعد میرا دماغ کچھ ہلکا ہوا۔ واپس تھانے آیا تو دیکھا کہ شاہ قلندر رات والے کمرے میں گہری نیند سو رہا تھا۔
تھانے میں دو گاؤں کے نمبردار آئے ہوئے تھے۔ میں نے شاہ قلندر کو نہ جگایا اور نمبرداروں سے رپورٹیں لینے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ کتنی عورتوں پر جنات کا قبضہ بتایا جاتا ہے، کون مقتول انور ورما کے زیرِ علاج تھی، اور کون شاہ قلندر کے زیرِ علاج تھی۔ ایک نمبردار نے بتایا، “ہمارے گاؤں کی ایک نہایت خوبصورت لڑکی، شادو، کی شادی ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اسے دورے پڑ رہے تھے۔ وہ چارپائی پر لیٹے لیٹے اس طرح اچھلتی کہ فرش پر آ گرتی، اپنے بال نوچتی اور چیخیں مارتی تھی۔ بزرگوں نے کہا کہ اس پر جن ہے۔ شاہ قلندر کو بلایا گیا۔ اس نے شادو کو دیکھ کر کہا، ‘یہ بڑا منہ زور جن ہے۔’
پھر اس نے کوئی عمل کیا، جس کے بعد شادو کا جن بول پڑا۔ جن نے کہا، ‘یہ لڑکی مجھے پسند ہے اور میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔’
شاہ قلندر نے وقتی طور پر جن کو الگ کر دیا اور شادو سے کہا کہ وہ اس کے گھر آیا کرے، وہاں وہ اس پر مزید عمل کرے گا۔
شاہ قلندر کا گاؤں شادو کے گاؤں سے سوا میل کے فاصلے پر تھا۔ شادو تین چار مرتبہ اس کے گاؤں گئی، مگر جن نہ نکلا۔
ایک روز شادو کو اتنا شدید دورہ پڑا کہ گھر والے گھبرا گئے۔ جن نے گھر میں طوفان برپا کر دیا۔ فوراً ایک آدمی شاہ قلندر کو بلانے کے لیے دوڑایا گیا۔
شاہ قلندر آیا تو اسے دیکھتے ہی شادو، بلکہ شادو کے جن، نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ جن بولا، ‘جا، یہاں سے چلا جا، اور میرے پیر استاد انور ورما کو بلا۔ وہ نہیں آئے گا تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔’ شاہ قلندر غصے میں واپس چلا گیا۔
گھر والے انور ورما کو بلا لائے۔ انور ورما کو دیکھتے ہی جن ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا، ‘میرے پیر استاد! میں اس لڑکی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے آپ کی اجازت چاہیے۔ انور ورما نے جن سے کہا، ‘مگر یہ لڑکی تو شادی شدہ ہے، اور تم اتنے نیک جن ہو کہ ایسا گناہ نہیں کر سکتے۔’
جن نے جواب دیا، ‘اس کے خاوند سے اسے طلاق دلوا دو۔ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔’
انور ورما نے سب سے کہا کہ وہ کمرے سے باہر چلے جائیں، کیونکہ وہ شادو کے جن سے اکیلے میں بات کرے گا۔ سب لوگ باہر چلے گئے۔ کمرے میں صرف انور ورما اور شادو رہ گئے۔ اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ باہر گاؤں کے مرد اور عورتیں جمع تھے۔ یہ نمبردار بھی وہیں موجود تھا۔نمبردار نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ پندرہ بیس منٹ بعد انور ورما نے دروازہ کھولا۔ سب نے دیکھا کہ شادو سکون سے لیٹی ہوئی تھی۔ انور ورما نے بتایا، “اس کا جن چلا گیا ہے، لیکن پھر آئے گا۔ جب بھی دوبارہ آئے، مجھے بلا لینا۔”
اس کے بعد تین چار مرتبہ شادو کو ایسے ہی دورے پڑے، اور ہر بار انور ورما آتا رہا۔
اب جن نے کہنا شروع کر دیا، “اس لڑکی کا خاوند اسے طلاق دے دے، ورنہ میں اس کے خاوند کو ساری عمر کے لیے معذور کر دوں گا۔”
انور ورما ہر بار سب لوگوں کو کمرے سے باہر نکال دیتا، شادو کے ساتھ اکیلا رہ جاتا اور دروازہ اندر سے بند کر لیتا۔
بعد میں اس نے شادو کے والدین اور اس کے سسرال والوں سے کہا، “جن نے بڑی سخت شرط رکھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شادو کا خاوند اسے جلد از جلد طلاق دے دے، ورنہ وہ شادو کو چھوڑ کر اس کے خاوند سے چمٹ جائے گا۔ لیکن آپ لوگ فکر نہ کریں۔ میں نے جن کو اس بات پر راضی کر لیا ہے کہ طلاق کے بعد لڑکی کی دوسری شادی ہو جائے گی، مگر وہ کہتا ہے کہ لڑکی کی شادی اسی شخص سے ہوگی جسے وہ خود پسند کرے گا۔”
یہ شرط سن کر شادو کے والدین اور سسرال والے بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے انور ورما سے کہا کہ وہ جن سے کوئی اور شرط منوا لے۔
انور ورما نے کہا، “وہ بہت ضدی جن ہے۔ بڑی مشکل سے اس بات پر راضی ہوا ہے۔ اگر اس کی شرط پوری نہ ہوئی تو سب کو نقصان پہنچائے گا۔ آپ لوگ دو چار دن سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں، میں تب تک اس سے مہلت لے لیتا ہوں۔”
اس دوران شادو بالکل ٹھیک ہو کر چلنے پھرنے لگی تھی۔
پھر تیسرے یا چوتھے دن خبر ملی کہ انور ورما کی لاش ایک کھڈ میں پڑی ہے۔ سارے گاؤں پر خوف طاری ہو گیا۔ ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ انور ورما کو اسی جن نے مارا ہے۔
اب شادو کے والدین اور سسرال والے یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کا خاوند اسے طلاق دے دے، ورنہ نہ جانے وہ جن انہیں بھی کیسی سزا دے۔
میں نے نمبردار سے پوچھا، “اس لڑکی کا خاوند کیسا ہے؟”
اس نے کہا، “جتنی خوبصورت لڑکی ہے، خاوند اتنا ہی بدصورت ہے۔ کالے رنگ کا، دبلا پتلا اور بیمار سا آدمی ہے۔”
میں نے کہا، “یعنی یہ بے جوڑ شادی ہے؟”
نمبردار بولا، “برادریوں میں جوڑ نہیں دیکھے جاتے، رشتے بزرگ طے کرتے ہیں۔ لڑکی تندرست، خوبصورت اور بھرپور جوان ہے، جبکہ خاوند چپ چاپ اور مریل سا آدمی ہے۔”
میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میں نے نمبردار سے کہا، “اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ، یا پھر گاؤں سے معلوم کرو کہ کیا لڑکی کسی اور آدمی کو پسند کرتی ہے؟”
نمبردار نے کہا، “گاؤں میں کوئی بات چھپی نہیں رہتی۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک نہایت خوبصورت نوجوان کے ساتھ شادو کا یارانہ ہے، اگرچہ اتنا کھلا نہیں کہ کوئی انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔ عورتوں نے انہیں دو تین مرتبہ اکٹھے دیکھا ہے۔ ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس نوجوان کی شادی طے ہو چکی تھی، مگر اس نے خود رکوا دی۔ وہ منہ زور جوان ہے اور اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔”
میں نے پوچھا، “کیا لڑکی عام دیہاتی لڑکیوں کی طرح سیدھی سادی ہے یا ہوشیار اور چالاک؟”
نمبردار نے کہا، “نہیں جی، وہ لڑکی بڑی تیز ہے، دل کی مضبوط اور اپنی مرضی کرنے والی۔ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ گاؤں کے کئی نامی گرامی جوانوں نے اس پر سونے چاندی کے جال پھینکے، مگر وہ اتنی نڈر ہے کہ بھرے گاؤں میں کھڑی ہو کر انہیں کھری کھری سنا دیتی ہے۔”
شادو کے متعلق یہ اطلاع میرے کام آ سکتی تھی، لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس شخص کی قاتل کیسے ہو سکتی ہے جس کی وہ عقیدت مند تھی۔
البتہ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ شاید اس کے خاوند یا اس کے پسندیدہ آدمی نے اسے مقتول کے ساتھ کھڈ میں جاتے ہوئے دیکھ لیا ہو۔ قاتل غصے سے بے قابو ہو گیا ہو، اس لیے اس نے مقتول کا گلا دبا کر اسے ہلاک کر دیا ہو۔
شادو کے خاوند کے متعلق مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ کمزور سا آدمی ہے، لیکن قتل صرف پہلوان ہی تو نہیں کیا کرتے۔
میں تصور میں دیکھ رہا تھا کہ اس خاوند کے اندر کیسے ابال اٹھ رہے ہوں گے، جس کی بیوی (جن کی زبان میں) اس سے طلاق لینے کی بات کر رہی تھی۔
اگر اس دوسرے آدمی نے، جسے شادو پسند کرتی تھی، انور ورما کو قتل کیا تھا تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ اس نے دیکھا ہو گا کہ مقتول نے لڑکی کے ساتھ دوروں کی حالت میں ناجائز مراسم پیدا کر لیے ہیں۔
ان نمبرداروں نے شادو کے علاوہ دو اور عورتوں کے واقعات بھی مجھے سنائے۔ وہ عورتیں بھی مقتول کے زیرِ علاج تھیں۔ میں نے ان عورتوں کے متعلق بھی تفصیل سن کر انہیں فہرست میں شامل کر لیا اور تفتیش شادو سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ قلندر تو میرے قبضے میں تھا ہی، لیکن اس پر سے میرا شک ابھی تک دور نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ شادو ایک خوبصورت اور جوان لڑکی ہے۔ وہ پہلے شاہ قلندر کے زیرِ علاج رہی، پھر انور ورما کے پاس آ گئی۔ جن نے شاہ قلندر کو دھتکار کر انور ورما کو بلا لیا تھا، اور یہ شاہ قلندر کے لیے انور ورما کی طرف سے ایک سخت چوٹ تھی۔ چنانچہ ممکن تھا کہ شاہ قلندر نے انور ورما سے انتقام لیا ہو۔
میں نے شاہ قلندر کو جگا لیا۔ میں نے اس سے کہا، “شادو کے متعلق جو کچھ بھی جانتے ہو، مجھے بتا دو۔ اگر تم نے کچھ بھی چھپانے کی کوشش کی تو تمہارے خلاف میرا شک مزید پختہ ہو جائے گا۔”
اس نے بتایا کہ شادو اس کے پاس آئی تھی، اور اس نے اپنی مراد یہ بتائی تھی کہ اس کا خاوند اسے طلاق دے دے اور جس آدمی سے وہ محبت کرتی ہے، وہ اس سے شادی کر لے۔ شادو نے شاہ قلندر کو یہ بھی بتایا کہ وہ آدمی اسے اتنا چاہتا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ کی پسند سے طے ہونے والا رشتہ بھی قبول نہیں کیا۔ شاہ قلندر نے مجھے صاف الفاظ میں بتایا، “یہ لڑکی، شادو، مجھے اتنی اچھی لگی کہ میں اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہو گیا تھا۔”
اس نے لڑکی کو ایک تعویذ دیا، جو پانی میں گھول کر خاوند کو پلانا تھا، اور شادو سے کہا کہ وہ ہر روز اس کے پاس آیا کرے۔ پھر وہ اسے ایسا توڑ بتائے گا کہ اگر وہ چاہے تو اس کا خاوند اچانک بیمار ہو کر مر جائے، اور جسے وہ چاہتی ہے، اس کے ماں باپ خود اس کے رشتے کے لیے دوڑے چلے آئیں۔
لڑکی شاہ قلندر کے پاس آتی رہی، اور شاہ قلندر اسے ہر روز ایک یا دو تعویذ دیتا رہا۔ ایک روز جب شاہ قلندر نے محسوس کیا کہ لڑکی اس کے جال میں آ گئی ہے تو اس نے اسے اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھا لیا اور عملاً اپنی نیت کا اظہار کرنے لگا۔ لڑکی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی، “شاہ جی! میں آپ کو نقد رقم بھی دوں گی اور کچھ زیورات بھی دے دوں گی، لیکن یہ قیمت کبھی نہیں دوں گی۔”
شادو نے کہا، “مجھے معلوم ہے کہ آپ عورتوں سے یہ نذرانہ بھی وصول کرتے ہیں، لیکن شاہ جی! میں آپ کو خدا کا خاص بندہ سمجھ کر آئی تھی۔ ایسے بندے تو مجھے گاؤں میں بھی بہت مل سکتے تھے، جیسے آپ بن گئے ہیں۔”
شاہ قلندر نے اس پر اپنی زبان کا جادو چلانے کی کوشش کی اور کہا، “یہ کام میرے موکل کر دیں گے۔”
لیکن شادو شاہ قلندر کے ہاتھ نہ آئی۔ شاہ قلندر نے تنگ آ کر اسے طعنہ دیا کہ وہ نیک پاک بنی پھرتی ہے، حالانکہ اس کے اپنے تعلقات بھی ایک غیر مرد کے ساتھ ہیں۔ شادو نے جواب دیا، “یہ درست ہے کہ میرے تعلقات ایک غیر مرد کے ساتھ ہیں، لیکن خدا جانتا ہے کہ آج تک میرے جسم کا مالک صرف میرا شوہر ہے۔ بے شک میرے دل میں اپنے خاوند کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، لیکن پھر بھی وہ میرا خاوند ہے۔ اس کے سوا میں کسی کو اپنا جسم نہیں دے سکتی۔”
شاہ قلندر نے مجھے شادو کی یہ بات سناتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا اور کہا، “میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہر عورت ایسی نہیں ہوتی جو لالچ یا مصیبت میں آ کر اپنی عزت سے دستبردار ہو جائے۔”
شاہ قلندر چالاک اور گھاگ آدمی تھا، لیکن شادو اسے دھتکار چکی تھی۔ اس نے بتایا، “پھر شادو نے میرے پاس آنا بند کر دیا۔ اس کے تین چار روز بعد ایک گاؤں سے ایک آدمی آیا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ کہنے لگا کہ اس کی جوان لڑکی پر جن کا قبضہ ہو گیا ہے، اور وہ جن اسے بہت تکلیف دے رہا ہے۔”
شاہ قلندر اس آدمی کے ساتھ اس کے گھر گیا تو اس نے دیکھا کہ وہ شادو تھی، جس نے جن کا ڈھونگ رچا رکھا تھا۔ شاہ قلندر اس کا بھانڈا پھوڑ سکتا تھا، لیکن اسے امید بندھ گئی کہ اگر وہ اس ڈھونگ میں لڑکی کی مدد کرے گا تو شاید وہ اس کے قبضے میں آ جائے اور اس کے دل کی مراد پوری ہو جائے۔
شاہ نے کہا، “وہ لڑکی اتنی چالاک اور نڈر تھی کہ اپنے ڈھونگ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اس نے اپنا حلیہ بگاڑ کر چڑیلوں جیسا بنا لیا تھا۔”
“اس نے جب مجھے دیکھا تو چڑیلوں کی طرح دانت نکال کر چیخنے لگی، پھر بولی، ‘اس شاہ کو باہر نکالو اور میرے پیر استاد انور ورما کو بلاؤ، میں صرف اسی کی بات مانوں گی۔” انور ورما کا نام سن کر میں غصے سے باہر نکل گیا۔ میں نے وہاں کسی کو یہ نہ بتایا کہ لڑکی ڈھونگ کر رہی ہے اور انور ورما بھی اس ڈھونگ میں شامل ہے۔
اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ انور ورما شادو کے گھر جانے لگا ہے۔ شاہ قلندر نے کہا، “میں نے یہ تو نہیں سوچا تھا کہ انور ورما کو قتل کروں گا، البتہ شادو کے اس رویّے کے بعد میں نے انور ورما کو پیغام بھیجا تھا کہ میں نے تمہاری اسامیاں کبھی نہیں توڑیں، مگر تم میری اسامیاں توڑ کر مجھے بدنام کر رہے ہو۔ ان حرکتوں سے باز آ جاؤ۔ اگر میں تمہیں بدنام کرنے پر آ گیا تو تم یہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے۔”
میں نے پوچھا، “اور انور ورما نے تمہیں کوئی جواب دیا تھا؟”
شاہ قلندر نے کہا، “ہاں، اس نے کہلا بھیجا تھا کہ دنیا دیکھے گی کہ کون علاقہ چھوڑ کر بھاگتا ہے۔”
میں نے کہا، “اور پھر تم نے اسے ہمیشہ کے لیے بھگا دیا اور اس کا قتل کرا دیا؟”
شاہ نے کہا، “نہیں جناب! میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ اپنے آدمیوں سے اس کی پٹائی کراؤں۔”
مجھے یہی محسوس ہو رہا تھا کہ شاہ ابھی اعتراف کر لے گا کہ قتل اسی نے کیا ہے، لیکن وہ باقی ہر بات کا اعتراف کر رہا تھا، سوائے قتل کے۔
میں نے اسے حوالات میں بھجوا دیا اور شادو، اس کے خاوند، اور اس آدمی کو تھانے بلوایا جسے شادو پسند کرتی تھی۔ نمبردار نے اس آدمی کا نام شکور بتایا تھا۔
شادو واقعی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ اس کی عمر انیس بیس برس کے قریب تھی اور چہرے سے کنواری معلوم ہوتی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک جلالی سی کیفیت تھی، جو اس کے حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ وہ عام دیہاتی لڑکیوں جیسی نہیں لگتی تھی۔
اس کا خاوند بھی ساتھ تھا، مگر وہ اس کا شوہر کم اور نوکر زیادہ معلوم ہوتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی بھکاری کسی امیرزادی کے پیچھے پیچھے آ رہا ہو۔ یہ برادری کے رسم و رواج کے تحت ہونے والی ایک زبردستی کی شادی تھی، جس میں لڑکی پر بھی ظلم ہوا تھا اور لڑکے کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی تھی۔ ان دونوں کے کچھ دیر بعد شکور بھی آ گیا۔ وہ گندمی رنگت کا ایک خوبرو نوجوان تھا۔ قد کاٹھ بھی اچھا تھا اور شکل و صورت بھی دلکش تھی۔ میں نے شکور کو ان دونوں سے الگ بٹھا دیا اور شادو کے خاوند کو اندر لے گیا۔
میں نے اس سے پوچھا، “تمہاری بیوی کو کیا ہوا ہے؟”
اس نے بالکل معمول کے انداز میں جواب دیا، “میری بیوی پر جن آ گیا ہے۔”
میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا اسے حقیقت معلوم ہے یا نہیں، یعنی یہ کہ اس کی بیوی نے ڈھونگ رچا رکھا تھا اور مقتول انور ورما بھی اس ڈھونگ میں شامل تھا۔
میں نے اس سے پوچھا، “کیا تمہیں یقین ہے کہ واقعی جن ہی نے تمہاری بیوی پر قبضہ کر رکھا ہے؟”
اس نے کہا، “جی ہاں، مجھے یقین ہے کہ یہ جن ہی ہے، اور یہ بھی یقین ہے کہ یہ جن میری بیوی پر انور ورما نے قابض کیا ہے، تاکہ میری بیوی مجھ سے طلاق لے لے۔”
میں نے کہا، “کیا تم مانتے ہو کہ انور ورما کے قبضے میں جنات تھے؟”
اس نے جواب دیا، “جی ہاں، میں مانتا ہوں۔ کیا آپ نہیں مانتے؟”
پھر وہ بولا، “جس طرح سپیرے سانپ پکڑتے ہیں، اسی طرح انور ورما جنوں کو پکڑتا تھا۔”
شادو کے خاوند نے مزید بتایا، “انور ورما نے جو جن میری بیوی پر قابض کیا تھا، اس جن نے انور ورما کے کہنے پر کہا تھا کہ اگر میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں گا تو وہ مجھے بخش دے گا، ورنہ میرا نقصان کرے گا اور مجھے ساری زندگی کے لیے معذور بھی کر سکتا ہے۔”
میں نے اندازہ لگایا کہ شادو کے خاوند کو ذرّہ برابر بھی شک نہیں تھا کہ یہ سب ایک ڈھونگ تھا۔ وہ صرف یہی سمجھ رہا تھا کہ ایک جن کو اپنے ساتھ ملا کر اسے زبردستی طلاق دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
میں نے کہا، “مگر تم نے پھر بھی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔ کیا تم جنوں سے نہیں ڈرتے؟”
اس نے کہا، “جناب! میں تو جن کے آنے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا، لیکن میرا باپ اور بڑا بھائی اتنے بے غیرت ہیں کہ وہ نہیں مانتے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ طلاق دینا بے غیرتی ہے۔ خدا گواہ ہے کہ اس کے ساتھ میرے میاں بیوی والے تعلقات کئی مہینوں سے ختم ہیں۔”
میں نے پوچھا، “کیوں؟ کیا ہوا تھا؟ کیا تمہاری بیوی کا چال چلن ٹھیک نہیں؟”
اس نے کہا، “نہیں جی، ایسی کوئی بات نہیں۔ اور نہ ہی میں اتنی کم ظرف طبیعت کا آدمی ہوں کہ اگر میری بیوی مجھے پسند نہیں کرتی تو میں ثبوت اور شہادت کے بغیر اس پر کوئی ایسا الزام لگا دوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس شادی پر راضی نہیں تھا۔ لڑکی بہت خوبصورت ہے، اور میں جو کچھ ہوں، آپ کے سامنے ہوں۔ مگر کیا کرتا؟ برادری کے فیصلے کو ٹال نہیں سکتا تھا۔
شادو میرے گھر دلہن بن کر ایسے آئی جیسے پتھر آ گیا ہو۔ میں نے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لی کہ میں اس کے قابل نہیں ہوں۔ پھر مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس کی بات چیت شکور نام کے ایک آدمی کے ساتھ ہے۔ شادی کے چوتھے مہینے شادو نے مجھے کہنا شروع کر دیا، ‘میں تمہارے ساتھ صرف جسمانی تعلق رکھ سکتی ہوں، کیونکہ تم میرے خاوند ہو، لیکن میں تمہیں وہ محبت نہیں دے سکتی جو میرے دل میں شکور کے لیے ہے۔ اگر تم مجھ پر بدچلنی کا الزام لگانا چاہتے ہو تو لگا دو، لیکن خدا تو پردوں کے اندر کا حال بھی جانتا ہے۔ میں مسجد میں جا کر قرآنِ پاک کی قسم کھا سکتی ہوں کہ میں ناپاک نہیں ہوں۔ میری محبت شکور کے ساتھ پاک ہے۔’
اسے دیکھ کر لوگ یہی کہتے ہیں کہ لڑکی کا چلن ٹھیک نہیں، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے کردار کے معاملے میں بہت مضبوط ہے۔ وہ مجھے بار بار کہنے لگی کہ کسی بہانے سے مجھے طلاق دے دو۔ میں نے اپنے باپ اور بھائی سے بات کی تو الٹا انہوں نے مجھے بے غیرت کہنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا، ‘عورت ذات کو اپنی جوتی کے نیچے رکھو۔ اگر تم دوسری شادی کرنا چاہتے ہو تو کر لو، مگر اسے طلاق نہیں دیں گے۔ اسی کے ہوتے ہوئے دوسری دلہن لے آئیں گے۔ میں مجبور ہو گیا، مگر میں نے اسے دل ہی دل میں طلاق دے دی تھی۔ صرف زبان سے کہنا باقی رہ گیا تھا، اسی لیے ہمارے میاں بیوی والے تعلقات ختم ہو چکے تھے۔”
میں نے کہا، “کیا تم اس سارے معاملے میں شکور کو اپنا دشمن سمجھتے ہو؟”
وہ بولا، “نہیں جی! اگر بیوی خود اس کے پیچھے جائے تو میں اسے اپنا دشمن کیوں سمجھوں گا؟ ہاں، اگر میری بیوی مجھے یہ کہتی کہ شکور اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا ہے تو پھر دنیا دیکھتی کہ شکور کی لاش کہاں پڑی ہوتی۔”
شادو کے خاوند نے مزید کہا، “مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری بیوی شاہ قلندر کے پاس بھی جاتی رہی ہے، اور وہ مجھے شاہ قلندر کے دیے ہوئے تعویذ پانی میں گھول کر پلاتی رہی ہے۔ میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس پانی میں تعویذ گھلا ہوا ہے، خاموشی سے پی لیتا تھا، جیسے مجھے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔”
میں نے اس سے کہا، “مجھے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ تمہاری بیوی نے انور ورما کے ساتھ مل کر اپنے اوپر جن کا ڈراما رچایا تھا، اور وہ جن یہی کہتا تھا کہ شادو کو اس کے خاوند سے طلاق دلاؤ۔ پھر یقیناً تم نے انور ورما سے انتقام لینے کا سوچا ہو گا۔”
اس نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا، “نہیں جی! میں جنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ جنوں نے تو اپنے پیر استاد کو ہی مار ڈالا، تو میں کس کھیت کی مولی ہوں؟”
میں نے شادو کے خاوند کو بہت ٹھونک بجا کر دیکھا۔ ایسے ایسے سوال کیے اور ایسی ایسی جرح کی کہ وہ چکرا جاتا تھا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ قتل کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، پھر بھی میں نے اسے مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل رکھا۔ میں نے اسے باہر بیٹھنے کو کہا اور شکور کو اندر بلا لیا۔
شکور اندر آیا تو میں نے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور قدرے رعب دار لہجے میں کہا، “دیکھو شکور! میں تم سے ادھر اُدھر کی کوئی بات نہیں سنوں گا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ فوراً مان لو کہ تم نے شادو کو طلاق دلوانے کے لیے انور ورما کے ساتھ مل کر جن والا ڈراما رچایا تھا۔
اب وہ جن کہاں ہے؟ اب وہ شادو پر کیوں نہیں آ رہا؟ شادو اب بالکل ٹھیک ہے، اسے دورے کیوں نہیں پڑ رہے؟”
شکور نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا، “وہ تو جی انور ورما کا جن تھا۔ انور ورما مر گیا تو اس کا جن آزاد ہو کر کہیں چلا گیا۔”
میں غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا، “شکور! تم نے پھر وہی بکواس شروع کر دی، جس سے میں نے تمہیں منع کیا تھا۔ جب تک اصل بات نہیں بتاؤ گے، تھانے سے نہیں جا سکو گے۔ مجھے بتاؤ، تم نے انور ورما کو کیوں قتل کیا؟”
وہ اس طرح ہڑبڑا کر کرسی سے اٹھا جیسے کسی نے اسے گہرے پانی میں دھکا دے دیا ہو۔ سخت گھبرائی ہوئی آواز میں ہکلاتے ہوئے بولا، “خدا کی قسم! قرآنِ پاک کی قسم! میں نے انور ورما کو نہیں مارا۔ اور بھلا اسے کون مار سکتا ہے؟ اس کے قبضے میں تو بڑے بڑے جنات تھے۔ وہ ہر وقت جنات کے سخت پہرے میں رہتا تھا۔ اتنے سخت پہرے میں اسے کون مار سکتا تھا؟ اسے تو اس کے اپنے جنات نے مارا ہے۔”
میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا، “بکواس بند کرو! اس کے قبضے میں کوئی جن نہیں تھا۔ تم نے شادو کو انور ورما کے ساتھ کھڈ میں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور غصے اور جذبات میں آ کر اس کا گلا دبا کر مار ڈالا۔”
شکور رونے کے قریب ہو گیا، مگر میں نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ میں اس پر مسلسل الزام لگاتا رہا اور ایسی ایسی شہادتوں کا ذکر کرتا رہا جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ وہ بری طرح تڑپنے لگا۔ اس کی حالت غیر ہو گئی۔
اس نے کہا، “میں آپ کو ایک بات بتاتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ڈر اس بات کا ہے کہ آپ کہیں گے میری انور ورما سے دشمنی ہو گئی تھی، اس لیے میں نے ہی اسے مارا ہو گا۔”
میں نے شکور سے کہا، “میرا دماغ خراب نہیں ہے۔ تم نے اپنے دل میں جو کچھ بھی چھپا رکھا ہے، وہ مجھے بتا دو گے تو تمہارے ہی فائدے میں رہے گا۔
اور دوسری بات یہ کہ مجھے اس کافر کے مرنے کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ اچھا ہوا، ایک دھوکے باز انسان مارا گیا۔ وہ میرا کچھ نہیں لگتا تھا۔ مجھے تو صرف کاغذوں کا پیٹ بھرنا ہے۔ تم پر مقدمہ بنا کر مجھے بھی دکھ ہو گا، اس لیے میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم مجھ سے کوئی بات نہ چھپاؤ۔”
میرے بدلے ہوئے لہجے سے اس کی جان میں جان آ گئی۔
اس نے بھکاریوں جیسے لہجے میں کہا، “آپ صرف یہ بات مان لیں کہ میں نے انور ورما کو قتل نہیں کیا۔ اگر مجھے جنوں کا ڈر نہ ہوتا تو شاید میں اسے ضرور قتل کر دیتا۔ میرا زور صرف شادو پر چل سکتا تھا۔ میں نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ اب میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ جہاں چاہیں میری شادی طے کر دیں۔”
شکور بھی مجھے قتل کے الزام سے بری نظر آنے لگا۔ اس کے انکار کا انداز ایسا تھا کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ یہ شخص قاتل نہیں ہو سکتا۔ پولیس والوں کو پیشہ ور مجرم اکثر چکر دے جاتے ہیں۔ وہ بڑی مہارت سے جھوٹ بولتے ہیں، اور چونکہ تجربہ کار ہوتے ہیں، اس لیے اپنے جھوٹ پر قائم رہتے ہیں۔
لیکن شکور جیسے دیہاتی، چاہے کتنے ہی منہ زور کیوں نہ ہوں، پولیس سے اپنا جرم آسانی سے نہیں چھپا سکتے۔ ان کے چہروں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ سچ ہے یا جھوٹ۔ شکور کا انکار بھی مجھے سچا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود میں نے اسے خوف میں مبتلا رکھا کہ وہ اب بھی مشتبہ ہے۔ میں نے اس سے کہا، “مجھے پوری بات بتاؤ کہ آخر تم نے شادو سے شادی کرنے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟
شکور نے مجھے بتایا، “میری اور شادو کی بہت گہری محبت تھی، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ہماری شادی نہ ہو سکی۔ شادو نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے خاوند سے طلاق لے لے گی، مگر جب اس کے بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود بھی اس کے خاوند نے اسے طلاق نہ دی تو اس نے ایک اور راستہ اختیار کیا۔وہ شاہ قلندر کے پاس گئی اور اس سے اپنی طلاق کے لیے تعویذ مانگا۔
شاہ قلندر نے اس کام کے لیے جو قیمت مانگی، وہ شادو کو منظور نہ تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ شاہ قلندر اس سے کس قسم کی قیمت وصول کرنا چاہتا ہے، تو میں نے اسے فوراً شاہ قلندر کے پاس جانے سے روک دیا۔ پھر ہم دونوں انور ورما کے پاس گئے اور اسے اپنا مسئلہ بتایا۔ انور ورما نے ہمیں ایک ترکیب بتائی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے ایک جن کو استعمال کرے گا۔ وہ جن شادو پر قابض ہو جائے گا اور کہے گا کہ شادو کا خاوند اسے طلاق دے دے، کیونکہ یہ لڑکی جن کو پسند آ گئی ہے۔ اگر جن کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ نہ صرف اس کے خاوند کو معذور کر دے گا بلکہ اس کے خاندان کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
اس طرح سب لوگ جن کے خوف سے شادو کو طلاق دینے پر مجبور ہو جائیں گے، اور بعد میں وہی جن اعلان کرے گا کہ اس لڑکی کی شادی اسی شخص سے ہونی چاہیے جسے وہ پسند کرتا ہے۔ آخر میں وہ میرا نام لے گا، اور اس طرح سب لوگ جن کا حکم مان کر ہماری شادی کروا دیں گے۔”
شادو اور مجھے انور ورما کی یہ ترکیب پسند تو آئی، لیکن ہم دونوں ڈر بھی رہے تھے کہ کہیں جن کوئی الٹا سیدھا کام نہ کر دے۔
انور ورما نے ہمیں یقین دلایا کہ جن اس کا تابعدار ہے اور اس کے حکم کے مطابق ہی عمل کرے گا۔ چنانچہ شکور سے شادی کرنے کی خواہش میں شادو اس منصوبے پر راضی ہو گئی اور اس نے اپنے اوپر جن کا ڈراما کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انور ورما نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا کہ اسے کس طرح اداکاری کرنی ہے۔
گھر جا کر شادو نے فوراً یہ ڈراما شروع کر دیا۔ پہلے شاہ قلندر کو بلایا گیا، لیکن شادو نے مطالبہ کر دیا کہ اس کے پیر استاد انور ورما کو بلایا جائے۔
یوں انور ورما کو بلا لیا گیا، اور مجھے بھی اطلاع مل گئی کہ اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ میں بہت خوش تھا۔ ایک عورت روزانہ مجھے خبر دیتی تھی کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ چار پانچ دن بعد میں انور ورما سے ملا تو اس نے مجھ سے کہا، “اب شادو کو اپنے دل سے نکال دو، کیونکہ اب وہ میری بیوی بننے والی ہے۔ میری اور اس کی بات ہو چکی ہے۔ اب وہ تم سے نہیں، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔”
یہ سن کر میں آگ بگولا ہو گیا۔ میں نے کہا، “تم میرے ساتھ دھوکا کر رہے ہو۔”
انور ورما نے فوراً اپنے جنوں کا رعب جھاڑنا شروع کر دیا اور مجھے جنوں سے ڈرانے لگا۔ لیکن میں اتنے غصے میں تھا کہ میں نے اسے گالیاں دینا شروع کر دیں۔
اس نے کہا، “ہمارا صرف نکاح ہونا باقی ہے، ورنہ شادو تو میری بیوی بن چکی ہے۔ ہم میاں بیوی والے تعلقات بھی قائم کر چکے ہیں۔ کیا تمہیں کسی نے نہیں بتایا کہ شادو روز ایک گھنٹہ میرے ساتھ بند کمرے میں اکیلی رہتی ہے اور مجھ سے بہت خوش ہے؟
اگر تم نے زیادہ بکواس کی تو میں یہی جن تمہارے اوپر مسلط کر دوں گا۔ پھر یہی جن تمہیں پاگل کر کے گاؤں گاؤں پھراتا پھرے گا۔”
“پھر، جناب تھانیدار صاحب! میں نے جنوں کے خوف سے اپنا خون پی لیا اور اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیا۔
میں نے اس عورت کے ذریعے، جو میرے اور شادو کے درمیان پیغام لایا کرتی تھی، شادو کو پیغام بھیجا کہ اس نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ وہ عورت میرا پیغام لے کر شادو کے پاس گئی۔ شادو نے جواب بھیجا کہ میں اس سے ملوں، اور ملنے کی ایک جگہ بھی بتا دی۔ میں اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ شادو بھی وہاں آ گئی۔
میں نے اسے بہت برا بھلا کہا اور یہ بھی کہا کہ میں نے صرف اس کی خاطر اپنی منگنی نہیں ہونے دی، اور اس نے جا کر انور ورما کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیا۔
وہ میری باتیں سن کر بہت پریشان ہوئی۔ قسمیں کھانے لگی کہ یہ سب بالکل جھوٹ ہے۔
میں نے کہا، ‘یہ بات مجھے خود انور ورما نے بتائی ہے۔’
میں نے اس کی قسموں پر اعتبار نہ کیا۔
میں نے سوچا کہ جو لڑکی اپنے خاوند سے اتنی چالاکی سے جان چھڑا رہی ہے، وہ کل میری بیوی بن کر مجھے بھی دھوکا دے سکتی ہے۔
میں نے اسے صاف بتا دیا کہ اب میں وہاں شادی کروں گا جہاں میرے ماں باپ چاہیں گے۔ میں نے اسے اتنی ذلیل باتیں کہیں کہ وہ غصے میں آ گئی۔
تھانیدار صاحب! آپ اسے نہیں جانتے۔ وہ بہت سخت طبیعت کی لڑکی ہے، اس میں مردوں جیسی ہمت ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ میں اس کی قسموں پر بھی یقین نہیں کر رہا تو اس نے منت سماجت کرنے کے بجائے غصے میں وہاں سے چلی جانا بہتر سمجھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے کہہ دیا کہ وہ میری منگنی کر دیں۔
تیسرے ہی روز خبر ملی کہ انور ورما کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اسے اسی جن نے مارا ہے۔ میں نے سن رکھا ہے کہ بعض جن ایسے ہوتے ہیں کہ جس پیر یا عامل کے قبضے میں ہوں، اگر وہ کوئی بری حرکت کرے تو پہلے اسے سمجھاتے ہیں، اور اگر وہ باز نہ آئے تو اسے بھی مار ڈالتے ہیں۔”
میں شکور کی باتیں بڑی توجہ سے سن رہا تھا، اور مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ یہ پیر اور عامل ان سیدھے سادے لوگوں کو کس قدر دھوکے میں رکھتے ہیں۔ میں ابھی شکور کو بے گناہ قرار نہیں دے سکتا تھا، کیونکہ اس نے انور ورما سے دشمنی کی ایک مضبوط وجہ خود بیان کر دی تھی۔ میں یہ ضرور مان چکا تھا کہ وہ جنوں سے ڈرتا تھا، لیکن بعض حالات میں بزدل آدمی بھی پاگل پن کی حد تک دلیر ہو جاتا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ پہلے شادو سے پوچھ گچھ کر لوں۔
میرے سامنے اب تین مشتبہ افراد تھے۔ پہلے نمبر پر شاہ قلندر، دوسرے نمبر پر شکور، اور تیسرے نمبر پر شادو کا خاوند۔ شادو پر قتل کا براہِ راست شک نہیں ہو سکتا تھا۔ جہاں شکور جیسا منہ زور اور دلیر شخص جنوں سے ڈرتا تھا، وہاں ایک عورت اتنی جرأت نہیں کر سکتی تھی۔ شادو میرے سامنے بیٹھی تھی۔ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ وہ کتنی خوبصورت تھی۔ اس میں ایک عجیب سی کشش تھی، جو میں نے اس سے زیادہ حسین عورتوں میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ میں کچھ دیر تک اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، اس کے چہرے کی گھبراہٹ بڑھتی گئی اور وہ بے چین ہونے لگی۔ میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، “شادو! مجھ سے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ خیال دل سے نکال دو کہ تم تھانے میں بیٹھی ہو۔ مجھے تم پر کوئی شک نہیں، لیکن پھر بھی تم جو کچھ جانتی ہو، مجھے سچ سچ بتا دو۔ مجھ سے کوئی بات چھپانے کی کوشش نہ کرنا، اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔”
اس نے فوراً کہا، “میں نے انور ورما کو قتل نہیں کیا۔ میں ایک عورت ہو کر اتنی دور کھڈ میں جا کر ایک طاقتور مرد کو کیسے قتل کر سکتی تھی؟”
میں نے کہا، “میں نے تو تم پر شک ہی نہیں کیا، پھر تم اتنی گھبرا کیوں رہی ہو؟”
اسی دوران اچانک میری نظر اس کی کلائیوں پر پڑی۔ دونوں کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں تھیں، مگر ایک ہاتھ میں زیادہ اور دوسرے میں کم۔ یہ دو مختلف رنگوں کی چوڑیاں تھیں۔ جس کلائی میں چوڑیاں کم تھیں، اس پر مجھے کچھ اور بھی نظر آیا۔ میں نے فوراً لپک کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور آستین سے کلائی کو چھپا لیا۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسے اچانک کوئی راز کھل گیا ہو۔
مجھے اب بھی یہ یقین نہیں تھا کہ قتل اسی نے کیا ہے، لیکن ایک بات تقریباً یقینی ہو گئی تھی کہ کھڈ میں جو عورت گئی تھی، وہ یہی تھی۔ اور اگر وہی تھی تو قاتل تک پہنچنے کی کنجی بھی اسی کے پاس تھی۔ میرے پاس کھڈ سے ملے ہوئے چوڑیوں کے ٹکڑے موجود تھے، اور وہ بھی انہی دو رنگوں کے تھے جو شادو کی چوڑیوں کے تھے۔ اگرچہ یہ کوئی حتمی ثبوت نہیں تھا، کیونکہ دیہات کی بہت سی عورتیں ایسے ہی رنگوں کی چوڑیاں پہنتی ہیں۔ لیکن چوڑیوں کے ساتھ ساتھ مجھے اس کی کلائی پر ایک خراش بھی نظر آئی تھی، اور اس نے کلائی چھپا کر خود اپنے خلاف شک پیدا کر دیا تھا۔ میں نے میز کی دراز سے چوڑیوں کے وہ ٹکڑے نکال کر اس کے سامنے رکھ دیے اور نظریں اس کے چہرے پر جما دیں۔
جوں ہی اس نے چوڑیوں کے ٹکڑے دیکھے، اس کے چہرے سے وقار، خوداعتمادی اور بے خوفی کے تمام آثار غائب ہو گئے۔ صرف خوف اور گھبراہٹ باقی رہ گئی۔ میں نے اس کی کلائی دوبارہ پکڑ کر اپنی طرف کی۔ اس پر تقریباً ایک انچ سے کچھ زیادہ لمبی خراش تھی، جس کا ایک سرا نسبتاً گہرا تھا۔ اب کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی کہ مقتول نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑی تھی اور اسی کشمکش میں چوڑیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا اور دوستانہ لہجے میں پوچھا،
“تمہارے ساتھ اور کون تھا؟”
وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتی رہی، جیسے اس نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔
میں نے دوبارہ کہا، “بولو شادو… تمہارے ساتھ کون تھا؟ یا پھر وہ کون تھا جو اچانک وہاں آ گیا تھا؟”
شادو چپ چاپ میرے منہ کی طرف دیکھتی رہی مجھے شک ہونے لگا جیسے وہ بیٹھے بیٹھے مر گئی ہو اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا میں نے اس کے کندھے پر ھاتھ رکھ کر پیار سے کہا شادو !
کیا ہو گیا تمہیں مجھے کچھ بتاو میں تمہارے خلاف کوئی کاروائی نہیں کروں گا مجھے بتا دو کون تھا تمہارے ساتھ ؟
میں نے ہمدردی اور شفقت کے لہجے میں اس کا دل مضبوط کرنے کے لیے ایسی ایسی باتیں کییں کہ اس کے آنسو نکل آے تھوڑی دیر بعد اس نے بڑی لمبی آہ بھری اور میری طرف دیکھا اب اس کے چہرے پر بے بسی کے تاثرات تھے. میں نے اسے اور زیادہ حوصلہ دیا تو اس نے ہلکی آواز میں کہا تھانیدار صاحب آپ تو میری کوی مدد نہیں کر سکتے !
میں نے کہا کیوں نہیں کر سکتا ابھی سارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہے تم کچھ کہو تو سہی جو مدد مانگو گی دوں گا. وہ بولی تو آپ ایسا کریں کہ مجھے اتنی مہلت دے دیں کہ میں شکور کو قتل کر سکوں !
میں نے حیران ہوتے ہوے کہا شکور کو قتل ؟
پر شکور نے تمہارا کیا بگاڑا ہے اور کیا یہ جانتی ہو کہ قتل کی سزا کیا ہوتی ہے؟
اس نے کہا قتل ایک ہو یا دو سزا تو ایک بار ہی ملے گی نا.
پھر اس نے یہ کہہ کر مجھے سر سے پاؤں تک ہلا کر رکھ دیا کہ اس فریبی اور دھوکے باز انور ورما کو اسی نے قتل کیا ہے صرف اپنی عزت کی خاطر !
شادو نے کہا وہ عورتیں اچھی رہتی ہیں جنہیں اپنی عزت کی پرواہ نہیں ہوتی پھر اس نے اپنے جرم کی تمام تفصیل مجھے سنا دی !
اس نے بتایا کہ جوان ہوئی تو اسے شکور اچھا لگنے لگا تھا لیکن شادو کی برداری کے بزرگوں نے شادو کی شادی برادری کے ایک شخص کے ساتھ کر دی یہ خاوند اسے اچھا نہیں لگتا تھا اپنے خاوند کو اس نے طلاق کے لیے کہا. لیکن خاوند اسے طلاق دینے پر راضی نہ تھا شادو نے شکور کو بتایا کہ اس کا خاوند اس طرح طلاق نہیں دے گا کچھ کرنا پڑے گا. شکور نے اسے کہا کہ شاہ قلندر کی کرامات کی بہت شہرت سنی ہے وہ شاہ قلندر کے پاس جاے شکور کے کہنے پر وہ شاہ قلندر کے پاس گئی لیکن شاہ قلندر کی نیت اس پر خراب ہوگئی اس نے شکور کو بتایا کہ شاہ قلندر کے پاس بدمعاشی کے سوا کچھ نہیں شکور نے اسے شاہ قلندر کے ہاں جانے سے روک دیا.
شادو بہت مایوس اور پریشان ہوئی ان کی راز دار ایک عورت تھی جو ان کے پیغام انہیں پہنچاتی تھی.اس عورت نے شادو کو بتایا کہانور ورما کے قبضے میں جن ہیں وہ اپنے جنوں کے ذریعے تمہارا کام کر سکتا ہے اس عورت نے شادو کو انور ورما کی کرامت کی ایک کہانی بھی سنا دی کہ فلاں گاؤں کے ایک آدمی نے ایک بندے کو قتل کر دیا تھا اور اسے پھانسی کی سزا ہو گئی. اس آدمی کے باپ نے انور ورما کو بہت رقم دی پھر لوگوں نے دیکھا کہ انور ورما کے جن اس آدمی کو پھانسی کے تختے سے اٹھا لائے تھے. اس عورت کے مشورے پر شکور اور شادو الگ الگ انور ورما سے ملے دونوں اس یقین کے ساتھ انور ورما کے پاس گئے تھے کہ اس کے قبضے میں جن ہیں اور وہ اپنے جنات کےذریعے ان کا کام کر دے گا.
انور ورما نے شادو کو اکیلے میں بلایا۔ وہ گئی تو انور ورما نے اسے بتایا کہ وہ گھر جا کر یوں ہاتھ مروڑے، چیخیں مارے، آنکھیں چڑھائے، لیٹے لیٹے اچھلے اور فرش پر گر جائے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔ انور ورما نے اسے خود یہ حرکتیں کر کے دکھائیں اور باقاعدہ ریہرسل بھی کروائی۔ شادو سے کہا کہ جب اس پر اس جھوٹے دورے کی کیفیت طاری ہو گی، تو اس کے گھر والے اسے یعنی انور ورما کو ہی بلائیں گے۔ علاقے میں ‘شاہ قلندر’ بھی جنوں والی سرکار کے نام سے مشہور تھا۔ انور ورما نے سمجھایا کہ اگر اس کے گھر والے شاہ قلندر کو بلا لیں، تو وہ اور بھی منہ زور ہو جائے اور کہے کہ “میرے پیر استاد انور ورما کو بلاؤ!”
شادو نے یہ ناٹک بڑی خوش اسلوبی سے کھیلا۔ وہ ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی کہ انور ورما اس کے اوپر واقعی کوئی جن قابض کرے گا جو اس کا کام کر دے گا۔ جب شاہ قلندر کو دھتکار کر انور ورما کو بلایا گیا، تو اس نے آ کر اعلان کیا کہ یہ بڑا خطرناک جن ہے جو ذرا مشکل سے ہی نکلے گا۔ انور ورما نے سب کو کمرے سے باہر نکال کر شادو کو کمرے میں بند کر لیا اور اسے مزید ہدایات دینے لگا۔ شادو نے یہ ایکٹنگ بڑی کامیابی سے کی؛ وہ ہر روز اپنے اوپر جن کا دورہ طاری کر لیتی اور انور ورما کو بلا لیا جاتا، جو آ کر شادو کے ساتھ کمرے میں بند ہو جاتا۔
ایک روز جب انور ورما شادو کے ساتھ کمرے میں بند ہوا، تو شادو نے اس سے پوچھا: “آپ کا جن کہاں ہے؟” انور ورما نے ہنس کر بات ٹالنی چاہی، لیکن شادو نے کہا: “میرے لیے یہ سب کرنا بہت مشکل کام ہے، اس لیے آپ یہ کام اپنے جن سے کروائیں۔” انور ورما نے جواب دیا: “تمہیں اپنے مطلب سے غرض ہونی چاہیے، جن اصلی ہو یا نقلی، کیا فرق پڑتا ہے؟ تمہارا کام ہو جائے گا اور تمہیں طلاق مل جائے گی۔” ایسے ہی ایک دورے کے دوران شادو نے انور ورما سے ضد کی کہ وہ جن دیکھنا چاہتی ہے، ورنہ وہ یہ ڈھونگ ختم کر دے گی۔
انور ورما کو اس طرح بہت نقصان ہوتا۔ ایک تو اس کی بدنامی ہوتی، دوسرے شکور نے اسے خاصی رقم دینے کا وعدہ کر رکھا تھا؛ شادو نے بھی کہا تھا کہ وہ منہ مانگا انعام دے گی، اور پھر شادو کے گھر والوں سے بھی ہر دورے پر اسے اچھے خاصے پیسے مل جاتے تھے۔ یعنی اگر شادو اس کھیل کو ختم کرتی، تو انور ورما کا نقصان ہی نقصان تھا۔ شادو کے بار بار کہنے پر انور ورما نے تنگ آ کر اسے بتا دیا کہ اس کے پاس کوئی جن نہیں ہے۔ اگر اسے اپنا کام کرانا ہے تو اسے خود ہی جن بننا پڑے گا۔ اس نے شادو کو بتایا کہ وہ پہلے بھی دو تین عورتوں کے کام اسی طریقے سے کرا چکا ہے۔ شادو کو مایوسی تو ہوئی مگر وہ اپنی مراد پوری کرنے کے لیے یہ ڈھونگ کرتی رہی۔
شادو کو دوسری مایوسی یہ ہوئی کہ ایک دورے کے دوران جب انور ورما نے اسے بتایا کہ اس کے سسرال والے اسے طلاق دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں کیونکہ وہ جن سے ڈر گئے ہیں، تو شادو یہ سن کر خوش ہوئی۔ انور ورما نے اس سے کہا کہ اس نے منہ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ وعدہ اب پورا کرے۔ شادو نے پوچھا: “بتاؤ، کیا دوں؟” انور ورما نے بھی وہی انعام مانگا جو شاہ قلندر نے مانگا تھا۔ یہ سن کر شادو کا خون کھول اٹھا۔ اس نے انور ورما سے کہا کہ اس کا ایک فریب تو اسے پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے اور اب وہ اسے بدکاری پر آمادہ کر رہا ہے، لہٰذا اب وہ یہ ڈھونگ ختم کر دے گی۔ انور ورما نے شادو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ سب کو بتا دے گا کہ اس لڑکی پر کوئی جن نہیں آتا اور اس نے شکور کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔
شادو پھر بھی اس کے جال میں نہ آئی۔ انور ورما نے شادو سے کہا: “چلو سوچ لو، اگر تم یہ ناٹک جاری رکھو گی تو میں تمہارا کام کر دوں گا۔” شادو نے شکور کو حاصل کرنے کے لیے ناٹک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور کھیل چلتا رہا۔ ایک روز وہ عورت، جو شکور کے پیغامات لایا کرتی تھی، آئی اور شادو کے کان میں کہا کہ شکور اسے بلا رہا ہے۔ شادو موقع پا کر چلی گئی۔ شکور سخت غصے میں تھا؛ اس نے شادو سے کہا: “مجھے انور ورما نے بتایا ہے کہ تم طلاق لے کر اس سے شادی کرو گی!” شکور نے یہ بھی الزام لگایا کہ تم بند کمرے میں اس کی بیوی بن چکی ہو، اب صرف نکاح پڑھنا باقی ہے۔ شادو نے شکور کو یقین دلانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ مانا۔ اس نے شادو سے کہا کہ وہ اپنے ماں باپ کی پسند کی لڑکی سے شادی کر رہا ہے۔ شکور نے ایسی بیہودہ باتیں کیں کہ شادو بھی بھڑک اٹھی اور واپس گھر آ گئی۔ انور ورما نے ایسی چال چلی تھی کہ شادو کے سارے خواب ٹوٹ گئے تھے۔ اس کے بعد شادو نے اپنے اوپر جن طاری کرنا چھوڑ دیا، وہ بس اندر ہی اندر جلتی اور کڑھتی رہی۔
شادو نے مجھے بیان دیتے ہوئے کہا: “میں پاگل ہوتی جا رہی تھی، ایک ہی ارادہ بار بار سامنے آتا تھا کہ انور ورما کو قتل کر دوں۔ میرے دل سے یہ خوف تو نکل چکا تھا کہ انور ورما کے قبضے میں کوئی جن ہے، میں تڑپ رہی تھی مگر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔” شادو ہر جمعرات کی شام گاؤں سے ایک میل دور ایک خانقاہ پر دیا جلانے جایا کرتی تھی، یہ اس کی ایک منت تھی۔ وہ ہر جمعرات ایک نیا دیا خریدتی اور اس میں تیل کی جگہ دیسی گھی ڈال کر خانقاہ پر جلا آتی تھی۔ یہ بھی جمعرات کا دن تھا۔ وہ دیا لے کر خانقاہ پر گئی، وہاں اسے کسی اور گاؤں کی دو عورتیں مل گئیں۔ وہ ان کے ساتھ باتوں میں ایسی لگی کہ اسے خیال ہی نہ رہا کہ سورج غروب ہو رہا ہے، جبکہ عام طور پر وہ اس وقت تک اپنے گھر پہنچ جایا کرتی تھی۔
وہ بہت تیز تیز چل پڑی۔ راستہ مختصر کرنے کے لیے وہ اس طرف سے چلی جہاں واردات والا کھڈ تھا۔ وہ جب برساتی نالے سے گزر رہی تھی تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ یہ عام راستہ نہیں تھا۔ اس نے نالہ پار کیا اور جب مٹی کے ٹیلے کے قریب پہنچی تو اسے آواز سنائی دی: “شادو!” اپنا نام سن کر وہ ڈر گئی اور اور تیز چلنے لگی۔ اسے پھر آواز آئی تو اس نے رک کر پیچھے دیکھا؛ وہ انور ورما تھا جو مٹی کے ٹیلے کے ساتھ ساتھ اس کی طرف آ رہا تھا۔ شادو کو معلوم نہیں تھا کہ انور ورما اس کا تعاقب کر رہا تھا یا اتفاق سے ادھر آ نکلا تھا۔

مزید پڑھیں :: بہتان – (ملک صفدر حیات)

شادو رک گئی۔ وہ شادو کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ اپنے دورے جاری رکھے۔ اسے دیکھ کر ہی شادو کا خون کھولنے لگا تھا، کیونکہ اسی شخص نے اس سے شکور کو چھینا تھا۔ شادو نے انور ورما کو خوب جلی کٹی سنائیں، مگر انور ورما ہنستا رہا اور بولا: “میں شکور کو تمہارے قدموں میں ڈال دوں گا، پہلے تم میرے ساتھ ذرا ادھر آؤ!” اس نے شادو کو بازو سے پکڑا اور کھڈ کی طرف لے جانے لگا۔ شادو اس کی نیت سمجھ گئی اور رک گئی۔ انور ورما نے اسے گھسیٹا؛ شادو نے اس سے آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ ایک مرد کا مقابلہ نہ کر سکی۔ آخر کار اس نے انور ورما سے کہا: “چلو، پہلے تم کھڈ میں چلو، میں آتی ہوں۔”
انور ورما کھڈ میں چلا گیا اور شادو بھی اس کے پیچھے کھڈ میں داخل ہوئی۔ جونہی انور ورما پیچھے مڑا، شادو نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی گردن جکڑ لی۔ انور ورما نے ایک ہاتھ اپنی گردن پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے شادو کی کلائی پکڑ لی۔ اس کے ہاتھ کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ شادو کی تین چار چوڑیاں ٹوٹ گئیں اور ایک ٹکڑے نے اس کی کلائی کو زخمی کر دیا۔ انور ورما بہت تڑپا اور جب اس کا جسم ساکن ہو گیا تو شادو نے اس کی گردن چھوڑ دی۔ وہ نیچے گر پڑا۔
شادو کو تو یہ خیال ہی نہیں آیا تھا کہ انور ورما مر جائے گا۔ جب وہ گرا، تو شادو ڈر کر گھر بھاگ آئی۔ اس نے کسی کو نہ بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ وہ رات بھر سوچتی رہی کہ صبح انور ورما آ کر کیا کرے گا؛ اسے ڈر تھا کہ صبح وہ اس کے خاوند، سسر اور باپ کو بتا دے گا کہ شادو نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ مگر جب صبح ہوئی تو اسے پتہ چلا کہ انور ورما کی لاش کھڈ میں پڑی ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ اسے اس کے جنوں نے مار ڈالا ہے۔ البتہ، پولیس کے لیے کیس بالکل صاف تھا، اور جرم ثابت ہونے پر شادو کو عمر قید ہو گئی۔

(ختم شد)