Urdu Short Stories 3

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 3

شہر کے ایک پرسکون اور درختوں سے گھرے ہوئے کونے میں واقع ورکنگ ویمن ہاسٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے کی کھڑکی کے پاس بانو کھڑی تھی۔ باہر دھوپ چمک رہی تھی، لیکن بانو کے اندر اداس رات کا وہ اندھیرا پھیلا ہوا تھا جو کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس نے اپنے وجود پر اسی پرانی گلابی چادر کو مضبوطی سے لپیٹ رکھا تھا، جس میں سے ابھی تک جھگیاں چولستان کی مٹی اور امجد کی سچی محبت کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی مخملی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں اور ان کے گرد سیاہ ہالے بن چکے تھے۔ وہ اپنی چادر کے پلو کو اپنے دانتوں میں دبائے، سسکیاں روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ذہن کے پردے پر بار بار چودہ سال کے معصوم ساجد کا چہرہ گھوم رہا تھا، جو حویلی کے کارندوں کے رحم و کرم پر اصطبل میں بھوکا پیاسا رو رہا ہوگا، اور اپنے بوڑھے باپ اللہ دتا کی وہ داڑھی یاد آ رہی تھی جو خون سے سرخ ہو چکی تھی۔
“یا اللہ! میں کس جرم کی سزا کاٹ رہی ہوں؟ میرا میٹرک پاس کرنا، میرا پڑھ لکھ جانا کیا میری سب سے بڑی بھول تھی؟ قدرت نے مجھے یہ حسن کیوں دیا جو میرے اپنے خاندان کی بربادی کا سبب بن گیا؟” وہ دل ہی دل میں اپنے رب سے شکوہ کر رہی تھی کہ اسی وقت کمرے کے باہر بھاری اور باوقار قدموں کی آہٹ ہوئی۔
بانو نے فوراً اپنے آنسو پونچھے اور چادر کو اپنے چہرے پر مزید تان کر دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔ دروازہ کھلا اور صلاح الدین اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل اور ہاسٹل کے اخراجات کی رسیدیں تھیں۔ اس کی عقابی، سنجیدہ نظریں جب بانو کے اس سہمے ہوئے اور خوددار وجود پر پڑیں، تو اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ وہ شہر کا ایک بڑا بزنس مین تھا، جس نے زندگی میں کبھی کسی کے آگے سر نہیں جھکایا تھا، لیکن اس معصوم دیہاتی لڑکی کی بے بسی اور حیا کے سامنے وہ خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا تھا۔
“بانو! میں نے ہاسٹل کی وارڈن سے بات کر لی ہے، تم یہاں پوری طرح محفوظ ہو۔ اور یہ تمہاری نوکری کا لیٹر ہے، کل سے تم ہماری کمپنی کے اکاؤنٹ سیکشن میں منشی کے طور پر کام کرو گی، جہاں تمہیں تمہاری محنت کی حلال تنخواہ ملے گی، تاکہ تمہاری خودداری پر کوئی آنچ نہ آئے۔” صلاح الدین نے فائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے دھیمی لیکن بارعب آواز میں کہا۔
بانو نے چادر کی اوٹ سے اپنی نم آلود آنکھیں اٹھائیں اور صلاح الدین کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، “سائیں صلاح الدین! آپ میرے لیے فرشتہ بن کر آئے، میری عزت بچائی، مجھے چھت دی۔۔۔ لیکن میرا دل اس نرم بستر پر کیسے سوئے؟ میری روح تو جھگیاں چولستان کی اس تپتی مٹی میں قید ہے جہاں میرا معصوم بھائی حویلی کے بھیڑیوں کے درمیان رو رہا ہے۔ جب تک ساجد آزاد نہیں ہوتا، بانو کے نصیب میں سکون کا ایک سانس بھی نہیں لکھا، سائیں!” یہ کہتے کہتے بانو کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ فرش پر بیٹھ کر اپنے گھٹنوں میں سر چھپا کر زار و قطار رونے لگی۔ اس کی سسکیوں سے کمرے کی خاموش دیواریں بھی کانپ اٹھیں۔
صلاح الدین وہیں ساکت رہ گیا۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی عورت کو اپنے سامنے یوں روتے نہیں دیکھا تھا اور بانو کا یہ سچا درد اس کی غیرت پر کوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں اتنے زور سے بھینچیں کہ اس کے ہاتھ کے جوڑ سفید پڑ گئے۔ اس کے اندر کا پٹھان اور غیور مرد جاگ چکا تھا۔ وہ دو قدم آگے بڑھا، بانو کے سر پر ہاتھ رکھنے ہی والا تھا لیکن اس کی حیا کا پاس رکھتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ گیا اور ایک ایسی فولادی آواز میں بولا جس نے بانو کو چونکا دیا:
“بانو! صلاح الدین کا ایک اصول ہے، وہ جو وعدہ کرتا ہے، پھر اس کے لیے اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے۔ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ چولستان کا وہ جاگیردار تمہاری چادر کے ایک دھاگے کو بھی نہیں چھو سکتا۔ اب میری بات سنو۔۔۔ کل صبح کی پہلی کرن نکلنے سے پہلے، میں خود جھگیاں چولستان جا رہا ہوں!”
بانو نے جھٹکے سے اپنا چہرہ اٹھایا، اس کی آنکھوں میں حیرت اور شدید خوف پھیل گیا، “نہ سائیں! خدا کے لیے ایسا نہ کرنا! آپ شہر کے سیدھے سادے لوگ ہو، آپ نہیں جانتے وہ سارنگ شاہ کتنا بڑا بھیڑیا ہے۔ اس نے میرے امجد کو سڑک پر بے دردی سے گولیوں سے بھون دیا۔ اس کے پاس بندوقیں ہیں، سیاسی طاقت ہے، پورا دیہات اس کے باپ کے پیروں میں گرتا ہے۔ اگر آپ وہاں گئے تو وہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑے گا، سائیں! میں اپنے محسن کی لاش نہیں دیکھ سکتی، خدا کے لیے مت جائیں!” بانو نے تڑپ کر صلاح الدین کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
صلاح الدین کے لبوں پر ایک سرد اور باوقار مسکراہٹ ابھری۔ اس کی آنکھوں میں وہ عقابی چمک تھی جو بڑے سے بڑے طوفان کو موڑ دیتی تھی۔ “بانو! وہ جاگیردار چولستان کی ریت پر اپنی بندوقوں کے زور پر وڈیرا بنا بیٹھا ہے نا؟ اسے نہیں معلوم کہ شہر سے چل کر آنے والا یہ صلاح الدین کون ہے۔ وہ اپنی دولت اور حویلی کے رعب میں اندھا ہے، لیکن میں اس کا یہ اندھیرا دور کرنے آ رہا ہوں۔ وہ سارنگ شاہ اگر بھیڑیا ہے، تو اس کا سامنا اب ایک شیر سے ہونے والا ہے۔ میں تمہارے بھائی ساجد کو اس کی حویلی سے نکال کر لاؤں گا، اور تمہارے باپ کے بہتے ہوئے خون کا ایک ایک حساب اسی کی مٹی پر چکتہ کروں گا۔ یہ صلاح الدین کی غیرت کا فیصلہ ہے، اور اب اسے کوئی نہیں بدل سکتا!”
صلاح الدین کے اس بارعب اور فولادی لہجے نے بانو کے روتے ہوئے دل کو ایک عجیب سا حوصلہ اور چھاؤں دے دی۔ وہ حیرت سے اس سچے انسان کو دیکھ رہی تھی جو ایک انجان لڑکی کی عزت اور اس کے خاندان کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگانے جا رہا تھا۔
اس رات، صلاح الدین اپنے عالی شان بنگلے کے کمرے میں کھڑا اپنی پرانی لائسنس یافتہ پسٹل کو صاف کر رہا تھا۔ باہر اندھیرا گہرا تھا اور آسمان پر چاند بادلوں کے پیچھے چھپ رہا تھا، جیسے آنے والے طوفان سے ڈر رہا ہو۔ صلاح الدین نے اپنے خاص اور وفادار سیکورٹی گارڈز کو بلا کر الرٹ کر دیا تھا اور صبح کی روانگی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کسی عام وکیل یا عدالت کے پاس نہیں جا رہا، بلکہ وہ قانون سے دور، چولستان کے اس پسماندہ خطے میں جا رہا تھا جہاں صرف حویلی کا قانون چلتا تھا۔
دوسری طرف، جھگیاں چولستان کی اسی بڑی اور تاریک حویلی کے اندر، سارنگ شاہ اپنے کمرے میں شراب کی بوتل ہاتھ میں لیے دیوانہ وار چیزیں توڑ رہا تھا۔ جبار اس کے سامنے سر جھکائے، پٹیاں باندھے لرزتا ہوا کھڑا تھا۔ سارنگ شاہ کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر تھا کیونکہ شہر میں بانو اس کے چنگل سے نکل چکی تھی اور اس کے سب سے خاص غنڈے کو ایک شہری لڑکے نے سرعام بازار میں ذلیل کیا تھا۔
“ایک شہری بابو۔۔۔ ایک دو ٹکے کا بزنس مین سارنگ شاہ کی پسند کے درمیان میں آیا؟ جبار! تو اتنی بندوقیں لے کر وہاں کیا اپنی ماں کا جنازہ اٹھانے گیا تھا؟” سارنگ شاہ نے شراب کا گلاس دیوار پر مارا جو سیکنڈوں میں چور چور ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں وحشیانہ جنون رقص کر رہا تھا، “اس صلاح الدین کو پتا نہیں ہے کہ اس نے کس کے شکار پر ہاتھ ڈالا ہے۔ جبار! اپنی گاڑیاں تیار کرو، ہم خود شہر جائیں گے اور اس صلاح الدین کے بنگلے کو آگ لگا دیں گے!”
عین اسی وقت، کمرے کا بھاری دروازہ کھلا اور شاہینہ بیگم، اپنے روایتی نوابی رعب اور غرور میں ڈوبی ہوئی، اندر داخل ہوئیں۔ ان کے چہرے پر اپنے بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر شدید غصہ تھا۔
“رک جاؤ سارنگ! تمہیں شہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،” شاہینہ بیگم کی سرد اور زہریلی آواز کمرے میں گونجی۔ “ایک ادنیٰ مزارع کی بیٹی کے لیے تم حویلی کا رعب شہر کی سڑکوں پر مٹی میں ملا رہے ہو؟ وہ لڑکی خود چل کر اس حویلی میں آئے گی، سارنگ! میں نے اللہ دتا کے گھر پر اپنے کارندے بٹھا دیے ہیں، اور اس بوڑھے کو کہہ دیا ہے کہ اگر چوبیس گھنٹوں میں بانو واپس نہ آئی، تو اس کے چودہ سال کے بیٹے ساجد کی لاش چولستان کے گدھوں کو کھلا دی جائے گی۔ ممتا کا درد اس لڑکی کو خود کھینچ کر یہاں لائے گا، تم بس انتظار کرو!” شاہینہ بیگم کے لبوں پر ایک سفاک مسکراہٹ تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ، حویلی کے اس ظلم کا حساب کتاب کرنے کے لیے ایک ایسا طوفان جھگیاں چولستان کی طرف بڑھ رہا ہے جو ان کے خاندانی تکبر کے پرخچے اڑا دے گا!
جولائی کی وہ صبح چولستان کے ریگستان پر کوئی نئی امید لے کر نہیں، بلکہ ایک خونی خاموشی کے ساتھ اتری تھی۔ رات بھر کی حبس کے بعد جب سورج کی پہلی تپتی ہوئی کرن جھگیاں چولستان کے کچے مکانوں پر پڑی، تو فضا میں ایک عجیب سا خوف طاری تھا۔ اللہ دتا کا کچا دالان، جو کبھی بانو کی چاندی کی پازیب کی چھن چھن اور امجد کی محبت سے اباد تھا، اج ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دالان کے ایک کونے میں مٹی پر اللہ دتا بیٹھا تھا، اس کے سر پر بندھی سفید پٹی پر خون کے گہرے دھبے سوکھ چکے تھے اور اس کی انکھیں پتھرائی ہوئی دیواروں کو تک رہی تھیں۔ بلقیس بیگم جائے نماز پر بیٹھی اپنے چودہ سال کے معصوم ساجد کے لیے رو رو کر نڈھال ہو چکی تھیں، ان کی اواز اب گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئی تھی۔ دادی رحمت بی بی چارپائی کے کنارے بیٹھی، کانپتے ہاتھوں سے تسبیح پڑھ رہی تھیں، لیکن ان کا دل بھی بار بار دھک سے رہ جاتا تھا جب حویلی کے مسلح کارندے باہر گلی میں اونچی اواز میں ہنستے اور اپنی بندوقوں کے نال سیدھے کرتے۔
عین اسی وقت، دیہات کے کچے اور دھول اڑاتے راستے پر ایک تیز رفتار سفید فورچیونر گاڑی نمودار ہوئی۔ گاڑی کے پیچھے صلاح الدین کے خاص سیکورٹی گارڈز کی دو اور گاڑیاں تھیں جو مٹی کا طوفان اٹھاتی ہوئی سیدھی اللہ دتا کے کچے مکان کے باہر ا کر رک گئیں۔
گلی میں پہرہ دیتے ہوئے حویلی کے غنڈوں نے جب ان چمکتی ہوئی شہری گاڑیوں کو دیکھا، تو انہوں نے حیرت اور غصے سے اپنی بندوقیں سیدھی کر لیں۔ گاڑی کا بھاری دروازہ کھلا اور صلاح الدین باہر نکلا۔ پینٹ شرٹ پر کالی واسکٹ پہنے، اس کا طویل القامت وجود، گہری سانولی رنگت اور انکھوں میں چھپی عقابی غیرت دیکھ کر کارندوں پر ایک لمحے کے لیے ہیبت طاری ہو گئی۔
“کون ہو تم؟ اور یہاں کس کے حکم سے ائے ہو؟” جبار کے ایک خاص کارندے نے بندوق صلاح الدین کے سینے پر تانتے ہوئے بدتمیزی سے پوچھا۔
صلاح الدین نے ایک سیکنڈ کا بھی فاصلہ نہیں دیا۔ اس نے اپنی مضبوط بائیں بانہہ سے بندوق کی نال کو جھٹکے سے اوپر کیا اور دائیں ہاتھ سے اس کارندے کا گلا پکڑ کر اسے دیوار کے ساتھ اتنے زور سے پٹخا کہ اس کی بندوق ہاتھ سے چھوٹ کر مٹی میں گر گئی۔ صلاح الدین کے گارڈز نے فوراً اپنی اٹو میٹک بندوقیں باقی غنڈوں پر تان لیں، جس سے پورے گلی میں سانپ سونگھ گیا۔
صلاح الدین نے اس لرزتے ہوئے غنڈے کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر سرد اواز میں کہا، “حویلی کے کتو! اپنے وڈیرے سارنگ شاہ کو جا کر بتاؤ کہ جس بانو کو تم ڈھونڈ رہے ہو، اس کا محافظ صلاح الدین جھگیاں چولستان کی مٹی پر پیر رکھ چکا ہے! اور میں یہاں بھیک مانگنے نہیں، اپنا حق چھیننے ایا ہوں۔” اس نے غنڈے کو جھٹکے سے چھوڑا اور خود اللہ دتا کے کچے دالان کے اندر داخل ہو گیا۔
جیسے ہی صلاح الدین اندر پہنچا، بلقیس بیگم اور اللہ دتا نے ڈر کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ صلاح الدین نے نہایت احترام سے اپنی واسکٹ درست کی اور اللہ دتا کے سامنے مٹی پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ شہر کا اتنا بڑا امیر زادہ اج ایک غریب، مظلوم کسان کے سامنے زمین پر بیٹھا تھا، جس نے اللہ دتا کی انکھوں میں انسو لا دیے۔
“چچا اللہ دتا! میرا نام صلاح الدین ہے۔ میں بہاولپور شہر سے ایا ہوں، آپ کی بیٹی بانو میرے پاس پوری طرح محفوظ ہے، وہ ایک ہاسٹل میں ہے اور اس کی عزت پر کوئی انچ نہیں ائی۔” صلاح الدین نے جب یہ الفاظ کہے، تو بلقیس بیگم کے منہ سے ایک شکرانے کی چیخ نکلی اور وہ فرش پر گر کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگیں۔
اللہ دتا نے کانپتے ہاتھوں سے صلاح الدین کا بازو پکڑا، اس کی اواز میں ایک باپ کا پورا درد تھا، “سائیں! میری بانو تو بچ گئی۔۔۔ لیکن میرا معصوم ساجد۔۔۔ میرا چودہ سال کا بچہ حویلی کے اصطبل میں قید ہے۔ وہ شاہینہ بیگم اور سارنگ شاہ اسے مار ڈالیں گے سائیں! انہوں نے کہا ہے اگر بانو شام تک نہ ائی تو ساجد کی لاش ملے گی۔ میں ایک غریب کسان ہوں سائیں، میں جاگیرداروں کے اس ظلم کے سامنے ہار گیا، میری غیرت اج مٹی میں مل گئی!” بوڑھا باپ صلاح الدین کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
صلاح الدین کے دل پر جیسے کسی نے جلتی ہوئی سلاخ رکھ دی ہو۔ اس نے اللہ دتا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور ایک ایسی فولادی، جاندار اواز میں بولا کہ پورے دالان میں ایک نئی زندگی دوڑ گئی:
“چچا! آپ کا سر پھٹا ہے، لیکن آپ کی غیرت نہیں مری۔ آپ اس بانو کے باپ ہیں جس نے اپنی عزت کی خاطر اس چولستان کے سب سے بڑے جاگیردار کے منہ پر طمانچہ مارا اور شہر بھاگ گئی۔ اب آپ میری بات سنیں۔ آپ کا بیٹا ساجد اج دوپہر کا سورج ڈھلنے سے پہلے اس کچے دالان میں آپ کی گود میں ہوگا، اور یہ صلاح الدین کا وعدہ ہے! میں اس حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، لیکن ایک معصوم بچے پر ظلم برداشت نہیں کروں گا۔” صلاح الدین اٹھ کھڑا ہوا، اس کے چہرے پر چمکتا ہوا غصہ اج چولستان کے جولائی کے سورج سے بھی زیادہ تیز تھا۔ وہ دادی رحمت بی بی کے سر پر ہاتھ رکھ کر دالان سے باہر نکل ایا۔
باہر اتے ہی اس نے اپنے گارڈز کو گاڑیوں میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور سفید فورچیونر کا رخ سیدھا چوہدری صاحب داد شاہ کی اس عالی شان، بڑی حویلی کی طرف کر دیا جو دیہات کے وسط میں ایک کالے قلعے کی طرح کھڑی تھی۔
حویلی کے بڑے لوہے کے پھاٹک پر درجنوں مسلح کارندے پہرہ دے رہے تھے، جب انہوں نے صلاح الدین کی گاڑیوں کا قافلہ نہایت تیز رفتاری سے اپنی طرف اتے دیکھا۔ گاڑی ایک زوردار بریک کے ساتھ پھاٹک کے بالکل سامنے رکی۔ صلاح الدین گاڑی سے اترا، اس کے پیچھے اس کے گارڈز پوزیشن لے چکے تھے۔
“پھاٹک کھولو! اور سارنگ شاہ کو باہر بلاؤ!” صلاح الدین کی اواز حویلی کی اونچی دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔
حویلی کے اندر، عالی شان برآمدے میں سارنگ شاہ اور شاہینہ بیگم صبح کی چائے پی رہے تھے جب جبار بھاگتا ہوا اندر ایا، اس کا چہرہ خوف سے پیلا ہو چکا تھا، “سائیں! وہ۔۔۔ وہ شہری لڑکا صلاح الدین، جس نے مجھے شہر میں مارا تھا، وہ خود اپنی گاڑیوں اور بندوق برداروں کے ساتھ حویلی کے پھاٹک پر ا کھڑا ہوا ہے! وہ ساجد کو مانگ رہا ہے سائیں!”
“کیا۔۔۔؟” سارنگ شاہ جھٹکے سے اٹھا، اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ نیچے گرا اور ٹوٹ گیا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور شدید وحشیانہ غصہ ابھر ایا، “ایک شہری چوزا۔۔۔ میری حویلی کے دروازے پر ا کر مجھے للکار رہا ہے؟ اس کی اتنی جرات؟”
شاہینہ بیگم کے چہرے پر بھی خاندانی تکبر کا زہر پھیل گیا، “جاؤ سارنگ! اسے بتاؤ کہ حویلی میں انے والے زندہ واپس نہیں جاتے، اس کا غرور اسی مٹی میں ملا دو!”
سارنگ شاہ نے اپنی ڈبل بیرل بندوق اٹھائی اور جبار کے ساتھ حویلی کے بڑے صحن کی طرف بڑھا۔ پھاٹک کھول دیا گیا تھا اور صلاح الدین اپنے دو گارڈز کے ساتھ حویلی کے وسیع و عریض صحن کے وسط میں کھڑا تھا، جہاں پرانی حویلی کے در و دیوار پر ظلم کی داستانیں لکھی تھیں۔
سارنگ شاہ اپنے پندرہ بیس بندوق بردار غنڈوں کے ساتھ برآمدے سے اتر کر صحن میں ایا۔ اس کے چہرے پر ایک مکروہ اور متکبرانہ ہنسی تھی، “تو تم ہو وہ صلاح الدین؟ شہر کے منڈے، بزنس مین! تم نے شہر میں میرے بندے پر ہاتھ اٹھانے کی جرات کی اور اب میری ہی حویلی میں ا کر موت کو دعوت دے رہے ہو؟ تمہیں پتا ہے یہ جھگیاں چولستان ہے، یہاں پرندہ بھی پر مارتا ہے تو میری اجازت سے! وہ بانو میری پسند ہے، میرا جنون ہے، اور تم اس کے بیچ میں ا کر اپنی قبر خود کھود رہے ہو!” سارنگ شاہ نے بندوق کا رخ سیدھا صلاح الدین کے ماتھے پر کر دیا۔
صلاح الدین اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔ اس کی عقابی نظریں سارنگ شاہ کے وحشی چہرے پر جم گئیں، اور وہ انتہائی سکون لیکن ہولناک سرد لہجے میں بولا:
“سارنگ شاہ! تم اپنی ان بندوقوں اور غریب مزارعوں پر ظلم کر کے خود کو یہاں کا خدا سمجھ بیٹھے ہو نا؟ لیکن اج تمہارا سامنا ایک ایسے مرد سے ہے جو تمہارے اس جھوٹے رعب کو تمہارے ہی پیروں تلے مسلنے ایا ہے۔ تم نے ایک غیور عاشق امجد کو پیٹھ پیچھے گولیاں ماریں، تم نے ایک معصوم چودہ سال کے بچے ساجد کو اغوا کیا، اور ایک غریب بوڑھے کا سر پھاڑا۔ اگر تم میں مردانگی ہوتی، تو تم شہر کے بازار میں مجھ سے لڑتے، ایک مظلوم لڑکی کے پیچھے نہ چھپتے!”
“زبان سنبھال اوئے شہری!” سارنگ شاہ نے غصے سے چلایا اور بندوق کا گھوڑا دبانے ہی والا تھا کہ اچانک حویلی کے باہر دو سرکاری پولیس کی گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی داخل ہوئیں، جن کے پیچھے بہاولپور کے ڈپٹی کمشنر اور رینجرز کی ایک بڑی گاڑی بھی تھی۔
سارنگ شاہ اور اس کے غنڈے ایک دم سکتہ میں ا گئے۔ حویلی کے پھاٹک سے بہاولپور کے سب سے بڑے پولیس افسر (ایس پی) باہر نکلے اور انہوں نے صلاح الدین کو دیکھتے ہی بڑے احترام سے سلام کیا، “سر صلاح الدین! آپ کے والد افتخار احمد صاحب کا فون ایا تھا، رینجرز اور پولیس فورس اپ کی حفاظت اور اس اغوا کار جاگیردار کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ چکی ہے۔”
شاہینہ بیگم جو برآمدے میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں، ان کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ وہ بھول گئی تھیں کہ صلاح الدین صرف ایک بزنس مین نہیں، بلکہ شہر کے سب سے بااثر اور طاقتور سیاستدان افتخار احمد کا اکلوتا بیٹا ہے، جس کی ایک کال پر پوری حکومت ہل سکتی تھی۔
صلاح الدین نے سارنگ شاہ کی طرف دیکھا جو اب پولیس اور رینجرز کے اسلحے کے سامنے بالکل بے بس اور خوفزدہ کھڑا تھا، اس کی بندوق لرز رہی تھی۔ صلاح الدین نے ایک قدم آگے بڑھایا، سارنگ شاہ کے ہاتھ سے بندوق جھٹکے سے چھینی اور اسے زمین پر پھینکتے ہوئے بولا:
“سارنگ شاہ! میں قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتا، لیکن قانون کو اپنی جیب میں رکھتا ہوں۔ تم اپنی اس حویلی کے رعب پر ناز کرتے تھے نا؟ اب تمہاری پوری زندگی جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں امجد کے قتل کے کیس میں سڑتے ہوئے گزرے گی۔ جبار! جاؤ اور اصطبل سے ساجد کو ابھی کے ابھی باہر لے کر اؤ، ورنہ اس حویلی کو اج ہی سرکاری تحویل میں لے کر بلڈوزر چلا دیا جائے گا!”
جبار ڈر کے مارے بھاگا اور دو منٹ کے اندر روتے ہوئے، بھوکے پیاسے معصوم ساجد کو باہر لے ایا۔ ساجد کو دیکھتے ہی صلاح الدین کی انکھوں میں نرمی ائی۔ اس نے ساجد کو اپنے سینے سے لگایا اور اسے اپنے گارڈ کے حوالے کیا۔ پولیس نے آگے بڑھ کر سارنگ شاہ اور جبار کو ہتھکڑیاں لگائیں اور انہیں گھسیٹتے ہوئے گاڑیوں کی طرف لے جانے لگے۔ سارنگ شاہ ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا بھی صلاح الدین کو دیکھ کر پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا، “صلاح الدین! میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا! بانو میری ہے، میں جیل سے نکل کر تم دونوں کو زندہ جلا دوں گا!”
صلاح الدین نے اس کے چیخنے کی پروا نہیں کی اور ساجد کو لے کر واپس اللہ دتا کے کچے مکان کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب سفید فورچیونر سے ساجد اترا اور دوڑتا ہوا اپنی ماں بلقیس بیگم اور باپ اللہ دتا کے سینے سے لگ گیا، تو اس کچے دالان میں خوشی کے انسوؤں کا سیلاب ا گیا۔ بوڑھے باپ نے صلاح الدین کے ہاتھ چوم لیے اور دادی رحمت بی بی نے روتے ہوئے صلاح الدین کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، “پتر! تو نے اج ایک مظلوم خاندان کی اجڑی ہوئی دنیا دوبارہ بسا دی، خدا تجھے دنیا کی ہر خوشی دے اور میری بانو کے نصیب اچھے کرے!”
شام کو جب صلاح الدین بہاولپور شہر واپس پہنچا اور ہاسٹل جا کر بانو کو ساجد کی آزادی اور سارنگ شاہ کی گرفتاری کا سارا احوال بتایا، تو بانو کے منہ سے ایک لفظ نہ نکل سکا۔ اس کی بڑی بڑی مخملی انکھوں سے انسوؤں کے موتی ٹوٹ کر بہنے لگے۔ وہ اس سچے، غیور اور بارعب انسان کو دیکھ رہی تھی جس نے اس کی زندگی کے سب سے بڑے طوفان کو ایک ہی دن میں خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے دل میں امجد کی اداس یاد تو تھی، لیکن صلاح الدین کی اس بے پناہ غیرت اور احسان نے اس کے دل کے کسی گوشے میں ایک ایسی پاکیزہ عقیدت اور چھاؤں کا احساس پیدا کر دیا تھا جو ان دونوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جوڑنے والی تھا!

تیرے عشق کی چھاؤں میں – قسط نمبر 4