محمود کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ شدید ذہنی کشمکش کا شکار اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے بستر پر لیٹ گیا۔ دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان نے اسے بے چین کر دیا تھا اور اسے اپنے ہی وجود سے گھن محسوس ہونے لگی تھی۔ اس کے دل میں چھپی وہ ممنوعہ خواہش اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس کے چچا اور چچی کو اس کے خیالات کا علم ہو جاتا تو وہ اسے بے دردی سے گھر سے نکال دیتے۔ مگر سب سے بڑھ کر وہ خود اپنی نظروں میں گر چکا تھا، اور یہی احساس اسے سب سے زیادہ اذیت دے رہا تھا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار دعا کا سراپا ابھرنے لگا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کمرے کی ہلکی نیلی چھت اسے ایک سکرین کی مانند دکھائی دینے لگی، جس پر کچھ دیر پہلے کے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ دعا کے گیلے بال، جنہیں وہ تولیے سے خشک کر رہی تھی، اس کی گہری سیاہ زلفیں جو اماوس کی رات کو بھی مات دے سکتی تھیں، محمود کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا کر رہی تھیں۔ وہ حسن جو کبھی معصومیت کی علامت لگتا تھا، اب اس کے لیے ایک آزمائش بن چکا تھا، اور یہی احساس اس کے مقدر کی تاریکی کو مزید گہرا کر رہا تھا۔
وہ اپنے خیالات سے خوفزدہ ہو کر خود کو ملامت کرنے لگا۔ اسے اپنی عمر اور دعا کی کم سنی کا فرق شدت سے محسوس ہو رہا تھا۔ ایک طرف اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا تھا اور دوسری طرف اس کا دل عجیب و غریب دلائل دے کر اسے بہکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ خود کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا کہ یہ سب غلط ہے، ناجائز ہے، اور ایک احسان فراموشی کے مترادف ہے۔ اس کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا کہ اس نے دعا کو بچپن سے اپنی گود میں کھلایا ہے، اس کا خیال رکھا ہے، اور ہمیشہ اسے اپنی بہن سمجھا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ایک اور آواز اسے یہ باور کروانے کی کوشش کرتی کہ ان تمام باتوں کے باوجود حقیقت کچھ اور ہے۔ یہی اندرونی جنگ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی۔
آخرکار اس کے ضمیر نے غالب آ کر اسے جھنجھوڑ دیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ اس گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس نے خود کو یقین دلایا کہ وہ مر جانا قبول کر لے گا مگر اس حد کو کبھی پار نہیں کرے گا۔ اسے اپنے چچا کے احسانات یاد آنے لگے، جنہوں نے اسے سہارا دیا، اسے گھر دیا اور اسے ایک نئی زندگی بخشی۔ یہی احساس اس کے دل پر بوجھ بن گیا کہ وہ ان احسانات کے بدلے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔
یہی سوچ اسے ماضی کی طرف لے گئی، جب وہ پہلی بار اس گھر میں آیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی اور وہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہاں پہنچا تھا۔ اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب اس کے چچا اسے اپنے گھر لائے تھے اور اس کی چچی نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے چچا نے بڑے بھائی ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ رکھا، حالانکہ گھر کے حالات بہت زیادہ کشادہ نہیں تھے۔ اس کی چچی کی ناراضی اور گھر میں ہونے والی تلخ گفتگو اس کے معصوم ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئی تھی۔
وہ اس دن ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں سہما ہوا بیٹھا تھا۔ بارہ سال کی عمر میں بھی وہ اتنا سمجھدار تھا کہ گھر کے بڑوں کے درمیان ہونے والی بحث کو محسوس کر سکے۔ اس کے دل میں خوف اور بے یقینی نے جگہ بنا لی تھی۔ مگر پھر اس کے چچا کی شفقت بھری آواز نے اسے سنبھالا، جب انہوں نے محبت سے اسے اپنے کمرے کی طرف لے جا کر اس کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس کے دل میں اپنے چچا کے لیے بے حد احترام اور محبت پیدا کی، اور آج وہی احساس اسے اپنے حالیہ خیالات پر شدید شرمندگی میں مبتلا کر رہا تھا۔
رضوان محمود کو کمرہ دکھانے کے لیے ابھی دو قدم ہی چلے تھے کہ رخسانہ سامنے آ کھڑی ہوئی اور اس نے سختی سے ہدایت کی کہ محمود کو سٹور روم والا کمرہ دیا جائے اور اسے فیضان اور افنان کے ساتھ ہرگز نہ رکھا جائے۔ اس کے لہجے میں ناگواری اور سرد مہری صاف جھلک رہی تھی۔ رضوان نے اس بات پر اعتراض کیا اور حیرت سے کہا کہ ایک کم عمر بچہ اکیلا کیسے سوئے گا، اوپر سے سٹور روم میں تو بے شمار پرانا سامان پڑا ہے۔ مگر رخسانہ کے پاس ہر بات کا جواب تیار تھا۔ اس نے بے پروائی سے کہا کہ وہ صفائی کر لے گا، کوئی ننھا بچہ نہیں ہے، اور پھر گھر میں موجود خالی کمروں کا جواز بھی اس نے یہ دے کر ختم کر دیا کہ اگر مہمان آ گئے تو انہیں کہاں ٹھہرایا جائے گا۔ رضوان نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مہمانوں کے آنے تک سب انتظام ہو جائے گا، مگر رخسانہ نے بات ماننے کے بجائے محمود کو ناگواری سے دیکھا اور بڑبڑاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد رضوان نے نرمی سے محمود کو تسلی دی اور اسے اپنے بچوں کے ساتھ والا کمرہ دے دیا، تاکہ وہ اجنبیت اور تنہائی محسوس نہ کرے۔
یہ یادیں محمود کے ذہن میں اس قدر واضح تھیں جیسے کل کی بات ہو، مگر اچانک وہ حال میں واپس آ گیا جب اس کے کانوں میں اپنے چچا کی آواز پڑی جو اسے پکار رہے تھے۔ وہ چونک کر خیالوں کی دنیا سے باہر نکلا اور جلدی سے اپنے کمرے سے باہر آیا۔ ڈرائنگ روم میں اس کے چچا بیٹھے تھے اور ان کے قریب دعا بھی موجود تھی۔ دعا نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر مسکراتے ہوئے محمود کی طرف دیکھا۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی کشش تھی، جیسے اس کے لبوں کے ساتھ پورا ماحول بھی روشن ہو جاتا ہو۔ محمود نے اس دلکش چہرے سے نظریں چرائیں اور خود کو سنبھالتے ہوئے چچا کی طرف متوجہ ہو گیا۔
رضوان نے اسے بتایا کہ وہ اپنے دفتر میں کچھ ضروری فائلیں بھول آئے ہیں اور چونکہ وہ ہمیشہ خود ہی دفتر کو تالا لگاتے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ محمود جا کر وہ فائلیں لے آئے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ محمود اس طرح کے کام انجام دے چکا تھا۔ اس کے چچا اپنے دفتر کے معاملات میں حد درجہ محتاط تھے اور ہر چیز اپنی نگرانی میں کرنا پسند کرتے تھے۔ محمود نے فوراً خوش دلی سے حامی بھر لی اور تفصیل پوچھ لی کہ فائلیں کہاں رکھی ہیں۔ رضوان نے بتایا کہ تمام فائلیں ایک ہی فولڈر میں بند ہیں جو ان کی میز پر رکھا ہوگا۔ محمود نے چابی لی اور جانے کے لیے تیار ہو گیا۔
اسی لمحے دعا نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی، مگر محمود نے فوراً ایک بہانہ بنا دیا کہ اسے ایک ضروری کام سے دوست کے پاس جانا ہے۔ یہ بات اس نے شاید زندگی میں پہلی بار دعا سے اس انداز میں کہی تھی، کیونکہ وہ ہمیشہ اس کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی اس بدلی ہوئی روش نے رضوان کو بھی حیران کیا، مگر اس نے خاموش رہنے کو بہتر سمجھا۔ دعا نے اگرچہ اپنی حیرت ظاہر نہیں کی، مگر اس کے انداز میں ضد اور اپنائیت جھلک رہی تھی۔ اس نے اطمینان سے کہا کہ محمود کا کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے، اس وقت وہ اسے باہر لے کر جا رہا ہے۔ محمود نے جھنجھلاہٹ کے ساتھ اپنی بات دہرانے کی کوشش کی، مگر اس سے پہلے ہی دعا نے ناراضی سے پیر پٹخا اور بات ادھوری چھوڑ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ محمود اسے جاتا دیکھتا رہا، اور اس کے دل میں ایک بار پھر وہی بے نام سی کشمکش جاگ اٹھی، جس سے وہ مسلسل فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
محمود اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر اس نے اسی لمحے دعا کو منا نہ لیا تو وہ ضد میں آ کر کھانا پینا چھوڑ دے گی۔ دعا کی فطرت ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ محمود کی ذرا سی بے توجہی بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ گھر میں اگر کوئی اس کا سب سے بڑا حمایتی، اس کی ہر بات ماننے والا اور اسے بے انتہا لاڈ پیار دینے والا تھا تو وہ صرف محمود ہی تھا۔ اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ اس کا رویہ ہمیشہ تلخ رہتا، معمولی باتوں پر جھگڑا اس کی عادت بن چکی تھی، اور ان کے درمیان گفتگو اکثر تکرار اور ضد تک محدود رہتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب دونوں بھائی شادی کے بعد الگ ہو گئے تو گھر میں دعا کی توجہ کا مرکز مزید سمٹ کر محمود تک محدود ہو گیا۔
گھر کے بڑوں کے سامنے بھی دعا اکثر غلطی کر بیٹھتی، جس پر اسے ڈانٹ سننا پڑتی، مگر ایسے ہر موقع پر محمود اس کے دفاع کے لیے ڈھال بن کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ اس کی ہر کوتاہی کو نظر انداز کر کے اس کا ساتھ دیتا، یہاں تک کہ کئی مرتبہ اسے اس بات پر چچی اور چچا کی ناراضی بھی برداشت کرنا پڑی۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ کبھی پیچھے نہ ہٹا، کیونکہ دعا اس کے لیے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عزیز ترین ہستی تھی۔ اس کی محبت میں خلوص تھا، ایک ایسا جذبہ جو ہر طرح کی آلودگی اور خود غرضی سے پاک تھا، اور اسی پاکیزہ تعلق نے ہی محمود کو ہمیشہ دعا کے قریب رکھا تھا، یہاں تک کہ آج وہی قربت اس کے دل میں ایک عجیب اور تکلیف دہ کشمکش پیدا کر رہی تھی۔
نامعلوم آج ایسا کیا ہو گیا تھا کہ وہی مقدس، پاکیزہ اور ہر آلودگی سے پاک محبت ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکی تھی۔ یہ ایک ایسا موڑ تھا جو نہ صرف محمود کی ذات کو داغدار کر سکتا تھا بلکہ اسے اپنے چچا اور چچی کی نظروں میں بھی گرا سکتا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود وہ اس حقیقت سے فرار حاصل نہیں کر پا رہا تھا کہ دعا کی ناراضی اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ یہی بے چینی اسے بے اختیار اس کے کمرے کی طرف کھینچ لے گئی۔ وہ اسے منانے کی کوشش میں نرم لہجے اور منت بھرے انداز میں اسے آوازیں دیتا رہا، اسے پیار سے بلاتا رہا اور اپنی بات کو مذاق قرار دے کر اس کی ناراضی کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھے رضوان نے جب یہ منظر دیکھا تو مسکرا کر اسے ٹوکا بھی کہ جب وہ جانتا ہے کہ دعا کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح کی ضد کا کیا فائدہ۔ مگر محمود نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور سیدھا دعا کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہاں وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی، اور اس کے چہرے پر پھیلی ناراضی نے محمود کے دل کی کیفیت کو مزید بگاڑ دیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی ہیں اور وہ خود کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ پہلے وہ بے تکلفی سے اس کے قریب آ جاتا، اسے ہنسا دیتا، حتیٰ کہ اسے گود میں اٹھا لیتا، مگر آج وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر بھی عجیب سی گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا۔
اس نے بمشکل ہمت کر کے نرمی سے اسے منانے کی کوشش کی، مگر دعا اپنی ضد پر قائم رہی اور صاف انکار کر دیا۔ محمود چند لمحوں تک بے بسی سے اسے دیکھتا رہا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ اس کا ساتھ نہ دے رہے ہوں۔ آخرکار اس نے اپنی ہمت جواب دیتے ہوئے دھیمے لہجے میں اس کی مرضی پر چھوڑنے کا کہا اور واپس مڑ گیا۔ اس کا یہ رویہ دعا کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ حیرت اور صدمے کے عالم میں اس کی جاتی ہوئی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔
محمود کے کمرے سے نکلتے ہی دعا کے اندر جیسے جذبات کا طوفان امڈ آیا۔ اس نے غصے اور دکھ کے ملے جلے احساس میں سامنے رکھی تپائی کو زور سے ٹھوکر ماری اور خود کو بستر پر گرا کر خاموش آنسو بہانے لگی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی چبھن تھی، جیسے کوئی انجان سا دکھ اسے اندر ہی اندر کاٹ رہا ہو۔ محمود کا اس طرح اسے چھوڑ کر چلے جانا اس کی سمجھ سے بالاتر تھا اور اسی الجھن نے اسے مزید بے چین کر دیا تھا۔
ٹھوکر کے باعث تپائی پر رکھا شیشے کا جگ دیوار سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا، اور اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے رضوان تک بھی پہنچ گئی۔ وہ فوراً غصے میں اس کے کمرے میں آئے اور سخت لہجے میں اس کے اس رویے پر سوال کیا، مگر دعا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بدستور اوندھے منہ لیٹی، سسکیوں کو دبانے کی ناکام کوشش کرتی رہی، جیسے اس کے اندر کا دکھ الفاظ میں ڈھلنے سے انکار کر رہا ہو۔
رضوان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ محمود تو اسے بلانے آیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ اس طرح ضد کر کے رو رہی ہے۔ مگر دعا اس وقت کسی دلیل کو سننے کے لیے تیار نہ تھی۔ اس نے تکیے سے چہرہ اٹھایا، آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور لہجہ شدید غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس نے اعلان کر دیا کہ وہ نہ کھانا کھائے گی، نہ نماز پڑھے گی اور نہ ہی پڑھائی کرے گی۔ اس کی باتوں میں بچپنا بھی تھا اور ضد بھی، جیسے وہ اپنے دکھ کو کسی نہ کسی طرح ظاہر کرنا چاہتی ہو۔ رضوان نے اس کی بات سن کر بمشکل اپنی ہنسی کو قابو میں رکھا اور بے نیازی سے کندھے اچکا دیے، گویا اس کی اس ضد کو وہ سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کی عادت سمجھ رہا ہو۔
دعا نے فوراً اصرار کیا کہ وہ ابھی اسی وقت محمود کو فون کر کے سب کچھ بتائیں، مگر رضوان نے صاف انکار کر دیا۔ اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ یہ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔ البتہ اس نے اسے تنبیہ ضرور کی کہ اگر اس نے مزید توڑ پھوڑ کی تو اسے سزا بھی ملے گی، اور جو شیشے کا جگ ٹوٹا ہے وہ بھی اس کے جیب خرچ سے پورا کروایا جائے گا۔ اس سختی میں بھی ایک باپ کی تربیت اور توازن جھلک رہا تھا، جو بیٹی کی ضد کو حد سے بڑھنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
دعا نے روتے ہوئے شکایت کی کہ اس کے بھائی نے اسے دھتکار دیا ہے، اور اب اس کے دوست اور دوسرے کام اس کے لیے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ اس کے الفاظ میں حسد نہیں بلکہ ایک گہری وابستگی اور محرومی کا احساس تھا۔ رضوان نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی کو بھی ضروری کام پیش آ سکتا ہے، مگر دعا اس وقت منطق سے بہت دور جا چکی تھی۔ اس نے بے زاری اور غصے سے کہہ دیا کہ اسے کچھ نہیں معلوم، اور دوبارہ منہ پھیر کر لیٹ گئی۔
رضوان نے بے بسی سے سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ دعا کی یہ ضد اور ناراضی صرف ایک ہی شخص ختم کر سکتا ہے، اور وہ محمود تھا۔ اس کے علاوہ نہ وہ کسی کی بات سنے گی اور نہ ہی مانے گی۔ یہی حقیقت اسے مزید سوچ میں ڈال رہی تھی، کیونکہ آج پہلی بار محمود کا رویہ بھی بدلا ہوا تھا، اور یہی تبدیلی آنے والے حالات کی ایک خاموش پیش گوئی بن رہی تھی۔
حیات محمد ایک سادہ مگر خوددار انسان تھا، جس کی پوری زندگی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے گرد گھومتی رہی۔ اس کے چار بیٹے تھے: احسان، رضوان، سلمان اور عمران، جبکہ ایک بیٹی شہناز تھی جو سب سے بڑی تھی۔ ایک باپ ہونے کے ناطے اس کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ اس کے بیٹے تعلیم حاصل کر کے ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ اس نے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوشش کی، مگر قسمت نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ سوائے رضوان کے، کوئی بھی بیٹا پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ رضوان ہی وہ واحد چراغ تھا جس نے باپ کے خواب کو کچھ حد تک حقیقت کا روپ دیا۔ گاؤں کے اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے شہر چلا گیا، جہاں اس نے محنت اور لگن سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔
ادھر باقی بیٹوں نے اپنی اپنی راہیں اختیار کر لیں۔ بڑے بیٹے احسان نے کھیتوں اور زمینوں کی ذمہ داری سنبھال لی، جبکہ سلمان اور عمران نے محنت مزدوری کر کے گھر کا بوجھ بانٹنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف رضوان کی محنت رنگ لائی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسے ایک غیر ملکی کمپنی میں اچھی نوکری مل گئی۔ اس کی کامیابی نہ صرف اس کے لیے بلکہ پورے خاندان کے لیے باعثِ فخر تھی۔
گھر کی بڑی بیٹی شہناز کی شادی ان کے ماموں فیض علی کے بیٹے اکرام سے کر دی گئی تھی، اور حیات محمد نے یہی سوچ رکھا تھا کہ اپنے بیٹوں کی شادیاں بھی اسی خاندان میں کرے گا تاکہ رشتے مزید مضبوط ہوں۔ اس نے احسان اور رضوان کے لیے فیض علی کی بیٹیوں کا انتخاب بھی کر لیا تھا، مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔ رضوان نے اس فیصلے سے صاف انکار کر دیا، کیونکہ اس کے دل میں پہلے ہی کسی اور کے لیے جگہ بن چکی تھی۔ اس کے انکار کے بعد احسان اور سلمان کی شادیاں فیض علی کی بیٹیوں سے کر دی گئیں، جبکہ رضوان نے اپنے لیے ایک مختلف راستہ چن لیا۔
رضوان کو اپنے خاندان سے باہر کی ایک لڑکی پسند آ گئی تھی، اور وہ اپنی پسند پر قائم رہا۔ اس کے اصرار پر حیات محمد نے بالآخر رخسانہ کے والد سے بات کی۔ رخسانہ کے والد جیسے اس رشتے کے منتظر ہی تھے، اس لیے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ رشتہ طے پا گیا اور دونوں کی شادی ہو گئی۔ شادی کے ابتدائی دن خوشیوں سے بھرپور تھے، اور کچھ ہی عرصے بعد رضوان اپنی نئی دلہن کو لے کر شہر منتقل ہو گیا۔ وہاں اس کی ملازمت اچھی تھی اور آمدنی بھی معقول، جس نے اسے ایک مستحکم زندگی کی طرف گامزن کر دیا۔
رضوان نے اپنی جمع پونجی کو سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے بارہ مرلے کا ایک پلاٹ خریدا، جو اس کے خوابوں کے گھر کی بنیاد بننے والا تھا۔ مکان کی تعمیر کے لیے اسے کمپنی کی طرف سے کچھ مالی مدد بھی مل گئی، جبکہ باقی رقم اس کے سسر نے فراہم کر دی۔ یوں آہستہ آہستہ اس نے اپنے لیے ایک نیا آشیانہ تیار کیا، جہاں اس کی زندگی ایک نئے باب میں داخل ہونے والی تھی۔
والدین کی وفات کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریاں بڑے بیٹے احسان کے کندھوں پر آ گئیں۔ اس نے بڑے پن کا حق ادا کرتے ہوئے تمام بھائیوں کو اکٹھا کیا اور زمین و جائیداد کو انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیا۔ مگر اس موقع پر رضوان نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ اس نے والد کے ترکے میں سے کچھ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے نزدیک اس کے بھائیوں کی معاشی حالت اس بات کی متقاضی تھی کہ وہی اس جائیداد کے زیادہ حق دار ہیں۔ اگرچہ وہ اپنی بیوی رخسانہ کے مزاج سے بخوبی واقف تھا اور جانتا تھا کہ وہ اس فیصلے کو آسانی سے قبول نہیں کرے گی، مگر اس کے باوجود اس نے اپنے ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ چنانچہ اس بات پر دونوں کے درمیان خاصا جھگڑا بھی ہوا، مگر رضوان اپنے فیصلے پر قائم رہا۔
وقت کا پہیہ مسلسل گھومتا رہا اور زندگی نئے رنگ دکھاتی رہی۔ رضوان کے گھر دو بیٹوں، فیضان اور افنان کی پیدائش ہوئی، جنہوں نے اس کے گھر کو خوشیوں سے بھر دیا۔ دوسری طرف اس کے بڑے بھائی احسان کی زندگی ایک مختلف امتحان سے گزر رہی تھی۔ اس کا صرف ایک ہی بیٹا محمود تھا، اور بیٹے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی بیوی دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔ اس صدمے کے باوجود احسان نے دوسری شادی نہ کی اور اپنی ساری توجہ بیٹے کی پرورش پر مرکوز کر دی۔ اس نے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرتے ہوئے محمود کو بھرپور محبت اور توجہ دی۔ وہ خود تعلیم حاصل نہ کر سکا تھا، مگر اس کے دل میں یہ شدید خواہش تھی کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بنے، بالکل اپنے چچا رضوان کی طرح۔
لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ محمود کی زندگی میں ایک اور اندھیرا اس وقت آیا جب اس کے باپ کو بھی موت نے اچانک آ لیا۔ ایک سیاہ رات، جب احسان کھیتوں کو پانی دے رہا تھا، وہ ایک زہریلے سانپ کا شکار ہو گیا اور لمحوں میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ یوں محمود کے سر سے باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا اور وہ مکمل طور پر یتیم ہو گیا۔ یہ سانحہ نہ صرف محمود کے لیے بلکہ پورے خاندان کے لیے ایک گہرا صدمہ تھا۔
بھائی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے رضوان اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ گاؤں پہنچا۔ رخسانہ نے رسمِ سوگ کے طور پر ایک رات قیام کیا اور پھر اپنے بچوں کے ساتھ واپس شہر لوٹ گئی، مگر رضوان تین دن تک وہیں ٹھہرا رہا۔ ان دنوں میں اس نے نہ صرف بھائی کے غم کو محسوس کیا بلکہ اپنے یتیم بھتیجے کے مستقبل کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا۔ واپسی کے وقت اس نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور محمود کو اپنے ساتھ شہر لے آیا، تاکہ اسے تعلیم دلا کر اپنے بڑے بھائی کی ادھوری خواہش کو پورا کر سکے۔
وقت کے دھارے میں بہتے ہوئے یہ سب واقعات جیسے ایک تسلسل کا حصہ بن چکے تھے، مگر حال میں لوٹتے ہوئے محمود نے اپنے چچا کے سامنے فائلوں کا فولڈر رکھ دیا۔ رضوان نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اس کی پھرتی کی تعریف کی۔ محمود نے ہلکی سی تھکن کا بہانہ کیا، مگر رضوان اس کی کیفیت کو بخوبی سمجھ رہا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے چھیڑا کہ وہ جانتا ہے یہ کیسی تھکن ہے، اور یقیناً اسی وجہ سے وہ اپنا ضروری کام بھی ادھورا چھوڑ آیا ہے۔ پھر اس نے ہلکے انداز میں اسے دعا کا پیغام بھی سنا دیا کہ وہ نہ کھانا کھائے گی، نہ پڑھائی کرے گی اور نہ ہی نماز ادا کرے گی۔ اس بات میں ہلکی سی شوخی بھی تھی اور ایک گہری حقیقت بھی، جو محمود کے دل کی حالت کو مزید پیچیدہ بنا رہی تھی۔