نہیں جناب! کہیں سے کوئی رشتہ نہیں آیا ۔ وہ حتمی انداز میں بولا ۔ اور اس کی ایک خاص وجہ ہے ۔ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے پوچھا۔ ” کیا خاص وجہ ہے نذیر احمد ؟“
وہ بات دراصل یہ ہے جناب! کہ جب سے شادو بالغ ہوئی ہے، میری بیوی نے ادھر اُدھر کہنا شروع کر دیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھانجے جہانگیر سے کرے گی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی شادو کے رشتے کی کوئی بات نہیں چلی تھی۔ جہانگیر، نور جہاں کی بڑی بہن حور جہاں کا بیٹا ہے۔ وہ لوگ بستی خدا بخش میں رہتے ہیں جو نظام آباد سے لگ بھگ دس میل دور ہے۔ جہانگیر ایک ٹیکسٹائل مل میں بوائکر آپر یٹر ہے ۔ وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کی غرض سے رکا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔
آپ خود ہی بتائیں تھانے دار صاحب! اگر کسی جوان لڑکی کی ماں اس کے رشتے کےبارے میں اتنے وثوق سے چرچا کرتی رہے تو کون بے وقوف اس گھر میں رشتہ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں ، نور جہاں نے ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت یہ چکر چلایا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی، شادو کے لئے کوئی رشتہ آئے اور اسے اپنی مرضی کا پورا موقع مل جائے اور وہ اس مقصد میں کامیاب کامیاب رہی۔ لیکن اس چوری والے واقعے نے اس کی پلاننگ کی ایسی تیسی کر کے رکھ دی۔ مجھے نہیں امید اب وہ لوگ اس ر مجھے نہیں امید اب وہ لوگ اس رشتے پر تیار ہوں ۔“ اس رشتے پر ۔
وہ یک دم ملول ہو گیا۔ میں نے تسلی بخش لہجے میں کہا۔ یہ تمہارے گھر میں جو کچھ بھی ہوا جو ہوا ہے اس میں بے چاری شادو کا کیا قصور ہے؟ ان لوگوں کو ایسے نا معقول رویے کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔“
نا معقول لوگ، معقول رویے کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہیں تھانے دار صاحب؟“ وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا ۔ میں تو نور جہاں کی وجہ سے مجبور ہو گیا تھا ورنہ وہ لوگ اس قابل نہیں کہ اس گھر میں بیٹی دی جائے ۔ بہر حال، اللہ اس کا نصیب اچھا کرے۔“
تم حوصلہ مضبوط رکھو! سب ٹھیک ہو جائے گا نذیر احمد ! میں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔ ” تھانے دار صاحب! اگر آپ چوروں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے چوری کا سامان برآمد کر لیں تو میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر یاد رکھوں گا۔ کیونکہ دوبارہ مجھے یہ سب کچھ بنانے کے لئے برسوں لگ جائیں گے میں نہیں چاہتا، شادو گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جائے ۔
اس کے شکستہ لہجے میں بڑا درد پنہاں تھا۔ میں فی الحال اس کے لئے تسلی تشفی سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ” تم فکر نہ کرو نذیر احمد ! تمہاری شادو کی شادی بہت جلد ہو جائے گی۔ میں چند دنوں میں اس کیس کو حل کرلوں گا۔
اللہ آپ کی زبان مبارک کرے تھانے دار صاحب! وہ پُر اُمید انداز میں بولا ۔
اچانک مجھے سگریٹ کے اس پیکٹ کا خیال آ گیا جو میں نے کارخانے میں سے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ قیچی مارکہ سگریٹ ۔ رکہ سگریٹ کے اس پیکٹ میں تین چرس سے بھری ہوئی سگریٹ کے علاوہ چرس کی دو ڈلیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ اس لمحے میرے ذہن میں یہ خیال جو آیا تھا کہ کہیں نذیر احمد چرس کا شوق تو نہیں رکھتا۔ میں نے اس سلسلے میں اس سے نہایت ہی محتاط استفسار کیا۔
تم سگریٹ پیتے ہو نذیر احمد؟
جی! وہ شرمندگی سے بولا ۔ یہ بیماری مجھے کئی سال سے لگی ہوئی ہے۔“
سادہ سگریٹ ہی پیتے ہو یا؟“
میں نے دانستہ سوالیہ انداز میں جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ جلدی سے بولا ۔ ”جی، بالکل سادہ پیتا ہوں ۔ آ آپ نے یہ سوال کیوں کیا تھانے دار صاحب؟
بس میں اپنے طور پر یہ جانا چاہتا تھا کہ کہیں تمہیں بھری ہوئی سگریٹ پینے کا شوق تو نہیں ! میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ۔ تو بہ تو یہ اللہ مجھے اس لعنت سے دور ہی
رکھے۔“
میں نے پوچھا۔ ” تم کون سا برانڈ پیتے ہو؟“
ہتھوڑا مار کہ اس نے جواب دیا۔
ان دنوں فوکس ا وکس اون“ کے نام سے ایک سگریٹ آیا کرتی تھی جس کے پیکٹ پر ایک لوہار وزنی ہتھوڑے کی مدد سے کسی ھے۔ سے کسی شے پر ایک آہنی ضرب لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس ہتھوڑے کی وجہ سے فوکس اون سگریٹ ہتھوڑا مار کہ مشہور ہو گیا تھا۔ سرخ پیکٹ والی ہتھوڑا مار کہ یہ سگریٹ پہنچی کے مقا۔ کے مقابلے میں کم چلتی تھی۔ نذیر احمد کے جواب نے مجھے قدرے مایوس کر دیا۔ میں نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر فوکس اون کا پیکٹ نکال لیا اور مجھے دکھاتے ہوئے بولا ۔
میں یہ سگریٹ پیتا ہوں تھانے دار صاحب!“
جواب میں، میں نے اپنی جیب سے قینچی مار کہ سگریٹ کا پیکٹ نکال لیا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
اس نے متذبذب نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے سگریٹ کا پیکٹ میرے ہاتھ سے لے لیا اور الجھے ہوئے انداز میں اسے اپنے ہاتھوں میں گھمانے لگا پھر بولا ۔ ” یہ کس کی سگریٹ “ہے؟
میں نے کہا۔ اسے کھول کر دیکھو ذرا !
لگا۔ ایک لمحے کے تذبذب کے بعد اس نے پیکٹ کھول کر دیکھا پھر سوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے میں نے اس کی آنکھوں میں مجسم سوالات کو فوراً پڑھ لیا اور کہا۔ ”سگریٹ کا یہ پیکٹ مجھے تمہارے کارخانے سے ملا ہے۔ اگر یہ تمہارا نہیں تو پھر کس کا ہے؟“
”جناب! اس میں تو بھری ہوئی سگریٹ کے علاوہ چرس کی ڈلیاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ یہ عرب یہ میرا کیسے ہوسکتا ہے؟ میں نے تو آپ کو بتایا ہے تا، میں چھوڑا مارکہ سگریٹ وہ قینچی مار کہ بھری ہوئی سگریٹ اور چرس کی ڈلیوں کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گیا تھا اور یہ گھبراہٹ شریفانہ تھی، اس میں سے کسی جرم کی بو نہیں آتی تھی۔ میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے تسلی بھرے لہجے میں کہا۔
میں نے یہ کب کہا، یہ پیکٹ تمہارا ہے۔ میں تو تم سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ کس کا ہو چھ رہا ہوں کہ یہ تمہارے گھر کی حدود کے اندر پڑا ہوا پایا گیا تجھ تا لئے سکتا ہے؟ تم سے بھی اس لئے پوچھ ر ہے۔
میں اس پیکٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا جناب! وہ سراسیمہ لہجے میں بولا۔ ں تمہارے جاننے والوں میں کوئی شخص قیچی مار کہ سگریٹ پیتا ہے؟“
وہ ایک لمحہ سوچنے کے بع کے بعد نفی میں گردن جھٹکتے ہوئے بولا ۔ ”میں ایسے کسی شخص سے واقف نہیں ہوں جو قیچی مار کہ سگریٹ پیتا ہو اور اس کی ہمارے گھر میں بھی آمد و رفت ہو۔“
اس کا مطلب ہے۔“ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ سگریٹ کا یہ پیکٹ اسی نا معلوم چور کا ہے جو گزشتہ رات تمہارے گھر کی صفائی کر کے غائب ہوا ہے۔ قیمتی ر ہوا ۔ سامان اور طلائی زیورات والا اٹیچی کیس جس کمرے میں پایا گیا ہے وہیں پر سگریٹ کا یہ پیکٹ بھی پڑا ہوا ملا ہے۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ جب وہ شخص یا اشخاص ایچی کیس کو خالی کرنے میں مصروف تھا یا تھے تو ان میں سے کسی کی جیب میں سے یہ پیکٹ وہاں گر گیا ہو !
ابھی تک وثوق کے ساتھ یہ بات نہیں کہی جاسکتی تھی کہ نذیر احمد کے گھر میں سرقہ کی جو واردات ہوئی تھی وہ کسی فرد واحد کا کارنامہ تھا یا اس کار شر میں زیادہ لوگوں نے حصہ لیا کی تھا۔ اس زمانے میں فنگر پرنٹس کا رواج عام پرنٹس کا رواج عام ہوا تھا اور نہ ہی عدالت فنگر پرنٹس رپورٹ کو کوئی اہمیت دیتی تھی۔ سراغ رسانی کا سب سے زیادہ مستعمل ذریعہ کھڑا تھا۔ لیکن سرقہ کی اس واردات میں، میں کسی کھوجی کی خدمات حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ گزشتہ رات مطلع ابر آلود رہا تھا اور وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا تھا اور بوندا باندی تو ابھی تک جاری تھی۔ اس برساتی موسم میں کسی کھوجی کی مدد سے چوروں کا کھڑا تلاش کرنا اندھیرے میں پاؤں چلانے کے مترادف تھا۔ مجھے جو کچھ بھی کرنا تھا، اپنی سمجھ بوجھ اور حکمت عملی ہی سے کرنا تھا۔
قینچی مارکہ سگریٹ کے حوالے سے نذیر احمد نے میری بات کی تائید کی۔ میں نے مزید دو چار سوالات کے بعد اسے فارغ کر دیا اور کہا۔ اب تم اپنی بیوی نور جہاں کو میرے پاس بھیج دو۔ میں اس سے بھی دو باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔“
وہ اٹھا اور خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔
چند لمحات کے بعد نور جہاں اسی جگہ آبیٹھی جہاں سے نذیر اٹھ کر گیا تھا۔ نور جہاں کی عمر کم و بیش چالیس سال تھی۔ وہ بھاری جینے کی مالک ایک زبردست عورت تھی۔ اس کی شخصیت اور رعب داب دیکھ کر مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی وقت محسوس نہ ہوئی کہ نذیر احمد اس کے سامنے دم نہیں مارتا ہو گا۔ اس حقیقت کا اندازہ تو نذیر کی باتوں ہی سے میں نے قائم کر لیا تھا۔ تاہم بہ نفس نفیس نور جہاں کو دیکھ کر اس اندازے پر تصدیقی مہر ثبت ہو گئی۔
میں نے گھما پھرا کر اس سے شادو کی شادی کے بارے میں مختلف سوالات کئے اور نذیر کے خیالات سے بھی اسے آگاہ کر دیا۔ وہ ہاتھ نچاتے ہوئے بولی۔
نذیر کی تو مت ہی ماری گئی ہے۔ بوتلیں بھرتے بھرتے لگتا ہے، یہ خود بھی ایک بوتل میں بند ہو گیا ہے۔ اولاد کے رشتے ہمیشہ اپنے بھائی بہنوں کے گھروں ہی میں تو کئے جاتے ہیں۔ اگر میں نے شادو کی شادی اپنے بھانجے سے طے کر دی تو اس میں کون سی شامت آ گئی۔ میں سمجھتی ہوں، جہانگیر ہر لحاظ سے شادو کے لئے موزوں ہے۔ صحت مند ہے، کماتا دھماتا ہے۔ ایک لڑکے میں اور کون سی خوبیاں ہونا چاہئیں؟“
میں نے موجودہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ نذیر کا خیال ہے اس چوری کے بعد لڑکے والے شادو کو بیاہنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ بنیادی طور پر وہ لالچی لوگ ہیں۔ آپ لوگوں نے انہی کے مطالبے پر ہیں تولے سونے کے زیورات بنائے تھے اور وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولی ۔ نذیر کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ذراسی پریشانی اسے ہوش سے خالی کر دیتی ہے۔ میں مانتی ہوں، میرا بہنوئی خود غرض اور مطلبی سا شخص ہے لیکن میں نے اپنی بڑی بہن کے منہ کو دیکھتے ہوئے شادو کا رشتہ دیا ہے۔ میں حور جہاں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ شادو کو اپنی بیٹی سمجھتی ہے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نذیر خوامخواہ کے واہموں میں گھرا ہوا ہے۔“
وہ اپنے انداز سے اور بات چیت سے مجھے کافی تیز و طرار عورت محسوس ہوئی۔ ہو سکتا ہے وہ بالکل درست کہہ رہی ہو کہ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن زیادہ امکان اس بات کا تھا کہ وہ اپنے پنے کئے کی لیپا پوتی میں مصروف مصروف تھی۔ تھی۔ : میں گھما پھرا کر اسے اصل موضوع کی طرف لے آیا۔ نور جہاں! اچھی طرح سوچ کر بتاؤ ، تمہار۔ مارے خیال میں اس چوری میں کون شخص ملوث ہو سکتا ہے؟ میں تمہارے اندازے کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ۔“ تھانے دار جی! وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔ ”میں اس معاملے میں کوئی اندازہ کیسے لگا سکتی ہوں؟ میں اس بد بخت منحوس چور کے بارے میں کوئی بھی خیال ظاہر نہیں کر سکتی ۔“ میرا اشارہ آپ لوگوں کے کسی ایسے دشمن کی طرف ہے ہے جو شادو کی شادی پر خوش نہ ہو؟
میرے رے خیال میں ، سب سے زیادہ نا خوش تو نذیر ہی ہے۔ وہ ہے۔ وہ چیخ کر بولی ۔ نذیر کے علاوہ اپنے کسی بدخواہ کسی دشمن کا نام بتاؤ؟” میں ۔ ن خان کی ان کا نام میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ اپنے شوہر کی طرف ۔ ہر کی طرف سے خاصی بد گمان دکھائی دیتی تھی۔ میں نے نذیر کو اپنے سوالات بد دکھائی دی میں نے نذیر کو اپنے سوالات کی کسوٹی پر اچھی طرح گھس کر یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اگر چہ وہ شادو کی شادی کے سلسلے میں اپنی بیوی سے اتفاق رائے نہیں رکھتا ہے کے نہیں رکھتا لیکن وہ کسی بھی صورت اپنی با کسی بھی صورت اپنی بیٹی کا دشمن نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے سو فیصد یقین تھا، چوری کی اس سنگین واردات میں نذیر احمد کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
کے میرے سوال کے جواب میں نور جہاں نے کہا ۔ دیکھیں تھانے دار جی! انسان . جہاں دس سجن ہوتے ہیں، ہیں ایک آدھ دشمن بھی ضرور ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے، کسی بد نیت ہے ۔ ہو یا شیطان کی نظر ہمارے گھر پر لگی ہو لیکن میں کسی ایسے شخص کی نشاندہی کیسے کر سکتی ہے میں نے کرید جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ہے ہوں؟“
نور جہاں! میرا اشارہ خاص طور پر شادو کی شادی کی طرف ہے۔ یہ سوال میں نے تمہارے خاوند سے بھی پوچھا ہے لیکن اس نے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ تم سوچ سمجھ کر بتاؤ، کیا شادو کا کوئی اور بھی اُمیدوار تھا؟
میں نے ذرا واضح انداز میں کھل کر سوال کیا تو نور جہاں کا چہرہ تمتما اٹھا، اضطراری لہجے میں اس نے مجھ سے پوچھ لیا۔
آپ خاص طور پر شادو کے حوالے سے یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟ میں محسوس کر رہی ہوں ، آپ اپنے طور پر کسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔“
ابھی پہنچا تو نہیں لیکن پہنچنے کی کوشش ضرور کر رہا ہوں ۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے ۔ میں کہا۔ ” تم میرے سوال کا جواب دو تو میں اپنی سوچ کے گھوڑے کو آگے بڑھاؤں ۔“
وہ چند لمحلت تک منذ بذب نظر سے مجھے دیکھتی رہی پھر تامل کرتے ہوئے بولی۔ تھانے ۔ دار جی! آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا سیدھا سیدھا جواب تو یہ ہے کہ شادو کا با قاعدہ کوئی ؟ رشتہ نہیں آیا تھا لیکن جہاں تک اس رشتے میں دلچسپی لینے یا شادو کا امیدوار ہونے کا تعلق : ہے تو ایسا ایک بندہ تھا ۔
وہ بندہ کون تھا؟“ میں کرسی پر پہلو بدل کر رہ گیا۔ اور تھا“ کا تو یہ مطلب ہے کہ وہ اب منظر پر موجود نہیں ۔ وہ شادو کے حصول سے باز آ گیا ہے؟“
ہاں ، کچھ ایسی ہی بات ہے ۔ وہ گول مول انداز میں بولی۔
میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ نور جہاں! تم اس موضوع کو اتنی آسانی سے بند نہیں کر سکتیں۔ مجھے تفصیل سے بتاؤ تم نے جس بندے کا ذکر کیا ہے، وہ کون ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ وہ اس وقت کہاں ہے؟“
میرے پے در پے سوالات نے اسے بوکھلا دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اس موضوع سے کنی کاٹنے کے چکر میں تھی لیکن میں نے اس کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ مجبوراً اسے میرے سوالات کے جوابات دینا پڑے۔ اس نے میرے تیوروں سے بھانپ لیا تھا کہ میں سختی پر بھی اتر سکتا ہوں ۔
تھانے دار جی! وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے ناگواری سے بولی۔ اس بندے کا نام ان بندے کا نام ہے فیروز ۔ فیروز نامی یہ نوجوان پہلے نذیر کے پاس ملازم تھا۔ بوتلیں بھرنے میں اس کی مدد کرتا تھا اور سپلائی کے کام میں بھی اس کا کے کام میں بھی اس کا بھر پور ہاتھ بٹاتا تھا۔ چھ ماہ پہلے نذیر نے فیروز کو نوکری سے نکال دیا ہے ۔“
میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کیس کا کوئی اہم سرا میرے ہور ہاتھ آنے والا ہو۔ میں نے نور جہاں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کڑے لہجے میں استفسار کیا۔
تمہارے خاوند نے فیروز کو نوکری سے کیوں نکال دیا ؟“
میری وجہ سے میرے زور دینے پر ۔”
کیوں تمہیں اس نوجوان میں کیا خرابی نظر آئی تھی ؟“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولی۔ ”انسان کے پاس اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اسے دوسرے انسانوں کی خوبیاں اور خامیاں بڑی آسانی سے نظر آ جاتی ہیں۔ لیکن نذیر تو اس معاملے میں ے بالکل اندھا ہے۔“
وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوئی ، برا سا منہ بنا کر شوہر کے لئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولی ۔ نذیر کی نظر میں فیروز بہت ہی شریف اور محنتی شخص تھا۔ فیروز کی محنت کشی کو میں بھی مانتی ہوں لیکن وہ شریف تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ آپ بتائیں تھانے دار جی!” وہ عجیب سے لہجے میں مجھ سے مستفسر ہوئی ۔ ” جو شخص دوسروں کی بہن بیٹیوں کو بری نظر سے دیکھتا ہو، وہ شریف کیسے ہو سکتا ہے؟“
ہاں واقعی ایسے بد نظر شخص کو شریف النفس تو نہیں کہا جا سکتا۔ میں نے تائیدی انداز میں کہا۔
وہ بات کو آگے کھسکاتے ہوئے بولی۔ نذیر تو اندھا ہے لیکن میں نے محسوس کر لیا کہ فیروز کی نیت ٹھیک نہیں۔ وہ شادو کو بڑی خطر ناک نظر سے گھورتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ میری بیٹی کو کچا چیا جائے گا۔ میں نے یہ سارا گڑ بڑ معاملہ نذیر کے سامنے رکھا مگر اسے میری بات کا یقین ہی نہیں آیا۔ وہ الٹا مجھ پر برس پڑا کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے جو خوامخواہ ایک سیدھے سادھے مزدور پر شک کر رہی ہوں ۔ بہر حال !“
وہ لمحے بھر کو سانس لینے کی خاطر رکی پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔ بہر حال، میں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹی اور نذیر پر دباؤ ڈالے رکھا کہ وہ فیروز کو فارغ کر دے۔ بالآخر اُسے میری ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے اور چھ ماہ پہلے اس نے فیروز کی چھٹی کر دی ۔“
نذیر احمد واقعی ایک ایسا بے چارہ شوہر تھا جس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں تھا۔ نور جہاں نے بتایا تھا کہ فیروز کے خلاف وہ اس کی بات سن کر برس پڑا تھا لیکن مجھے نور جہاں کے اس بیان پر یقین نہیں آیا۔ نذیر احمد کا شما گرجنے والوں میں تو میں تو کیا برسنے والوں میں ہرگز نہیں۔
نور جہاں بات مکمل کر کے خاموش ہوئی تو میں نے پوچھا۔ ” کیا فیروز نامی وہ بندہ اسی علاقے کا رہنے والا ہے؟“
“جی جی ہاں ۔“ اس کا گھر بھی نظام آباد ہی میں ہے ۔ اور رہا ہے۔ نور جہاں نے جواب دیا۔ میں نے اس سے فیروز کے گھر کی لوکیشن معلوم کی پھر پوچھا۔ ”آج کل وہ کیا کر تا ہے؟
سنا ہے کسی بس میں کلینڈری کر رہا ہے۔ وہ بیزاری سے بولی۔ میں نے ٹٹولنے والے انداز میں دریافت کیا۔ ”کیا فیروز نے بھی تم میاں بیوی ۔ سامنے شادو کے رشتے کی بات بھی کی تھی یا یونہی خالی خولی وہ تمہاری بیٹی کو تاڑ تا رہتا تھا؟ فے مجھ سے تو اس کی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ وہ فخریہ لہجے میں بولی۔ ” -کبھی نذیر کے کان میں اس سلسلے میں کوئی کھسر پھسر کی ہو تو مجھے پتہ نہیں۔ ویسے نذیر نے اس بارے میں کبھی مجھ سے کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔
اس کا یہی مطلب ہے، فیروز نے نذیر سے بھی بات نہیں کی ہوگی ۔ میں نے اظہا بو خیال کرتے ہوئے کہا۔ ورنہ وہ تم سے ضرور ذکر کرتا۔ میں نے محسوس کیا ہے وہ تم سے خار ہے ڈرتا ہے۔“
نور جہاں کے چہرے پر رعونت اور دبدبے کے آثار پیدا ہوئے۔ اسے میرا آخر الذکر کے جملہ بے حد پسند آیا تھا مگر اگلے ہی لمحے اس نے پینترا بدلا ، چہرے کے تاثرات میں بڑا سرعت سے تبدیلی کی اور طنزیہ لہجے میں بولی۔ نذیر بہت ہی عیار شخص ہے۔ دوسروں کے سامنے یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ مجھ سے ڈاکہ ہے مگر ایسی کوئی بات نہیں ۔ وہ اتنا سیدھا نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔“
میں سمجھ گیا، اب وہ بھر پور اداکاری سے کام ۔ دو بھر پور سے لے رہی تھی۔ میں اس کے ۔ میں اس کے چہرے کے فطرا جو تاثرات کو پڑھ چکا تھا لہذا اس کے بیان پر یقین نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اپنے شوہر کو عیار اور ا ٹائٹل مل دے رہی تھی جبکہ تھوڑی دیر پہلے وہ اسی شخص کو انتہائی بدھو اور عقل کا اندھا گردان پارس پک تھی۔ کوئی بھی عیار شخص عقل کا اندھا ہو سکتا ہے اور نہ ہی بے وقوف بدھو! میں اس کی منافق انفو ہی چال بازی کو بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ بہر حال، اصل موضوع پر رہتے ہوئے میں نے اس نے پوچھا۔ تمہارے خیال میں فیروز چوری کی اس واردات میں ملوث ہو سکتا ہے؟؟ وہ ایک لمحہ سوچنے کے بعد بولی۔ ” میں ! میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھانے دار جی ! ایسا ؟ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔
ایک فوری خیال کے تحت میں نے اس سے پوچھ لیا۔ کیا فیروز سگریٹ پیتا تھا ؟
جی ہاں، پیتا تھا۔ وہ بڑے وثوق سے بولی۔
وہ کون سی سگریٹ پیتا تھا؟“
وہ جز بز ہوتے ہوئے بولی۔ تھانیدار جی! میں کوئی پڑھی لکھی ، لکھی عورت نہیں ہوں ؟
سگریٹوں کی بھی زیادہ پہچان نہیں ہے۔ جن ڈبیوں کے اوپر کوئی نشانی ہو، وہ یاد رہتی ہیں جیسے تی مارکہ ہتھوڑا مار کہ، گل مارکہ لائین مارکہ وغیرہ۔ نذیر ہتھوڑا مار کہ سگریٹ پیتا ہے ۔۔ نور جہاں کے جواب نے بڑی حد تک میرا مقصد پورا کر دیا تھا۔ وہ یہ کہنا چاہتی تھی، ا فیروزان مارکہ والی سگریٹ میں سے کوئی نہیں پیتا۔ اس کی حتمی رائے جاننے کے لئے میں نے پوچھ لیا۔ ہیں، اس بات کا یقین ہے نا، فیروز نیچی مارک سگریٹ نہیں پیتا تھا؟“
اس وقت تو نہیں پیتا تھا۔ اب پینے لگا ہو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتی ۔ وہ ناگواری سے کا بولی ٹھہریں میں آپ کو بتاتی ہوں وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوئی پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
فیروز کے پاس میں نے سگریٹ کی جوڈ بی دیکھی ہے، اس پر ہرے اور لال رنگ سے سزا کوئی چوکور ڈیزائن سا بنا ہوا تھا۔ سوہنا رب ہی بہتر جانتا ہے اس سگریٹ کا کیا نام ہے!
یام نور جہاں نے سبز اور سرخ رنگ کے حوالے سے سگریٹ کی ڈبیا کا جو ڈیزائن بیان کیا، اس سے مجھے یہ سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئی کہ وہ مشہور زمانہ ووڈ بائن، سگریٹ کے سوا اور ڈز کوئی نہیں تھی۔
اس کے بعد میں نے اس سے مال مسروقہ کے بارے میں چند سوالات کئے ۔ اس کے جوابات نے نذیر کے بیان کی تصدیق کر دی۔ میں نے زیورات کے ڈیزائن، انفرادی وزن اور شکل کے بارے میں بھی اس سے پوچھا۔ نیز کپڑوں کے رنگ، ورائٹی ، کوالٹی اور ڈیزائن پ کے بارے میں بھی خصوصی استفسار کیا۔ عورتیں اس قسم کے معاملات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ ے نور جہاں نے میری مطلوبہ معلومات بڑی تفصیل دی تفصیل کے ساتھ فراہم کر دیں ۔ حتی کہ دس جوڑے کپڑوں (آٹھ لیڈیز اور دو جیٹس) کے سلسلے میں بریف کرتے ہوئے اس ۔ نے بہ قول کے، بال کی کھال اتار کر رکھ دی تھی۔ میں نے یہ تمام باتیں اپنے پاس نوٹ کر لیں۔ پوچھ گچھ کے میں ہر لف کر تی ہو کر ایس نے یہ بولے سے اختتام پر میں نے اس سے سوال کیا۔
نذیر نے مجھے بتایا ہے وہ رات ، مجھے بتایا ہے وہ رات کو سونے سے پہلے چائے پینا پسند نہیں کرتا۔ کیا یہ یہ درست ہے کہ پچھلی رات تمہاری فرمائش پر چائے بنائی گئی تھی ؟“ ان لوگوں نے مصدقہ رو یہی قہ طور پر، رات کو سونے سے پہلے جو آخری شے معدے میں اتاری ا چائے تھی۔ پھر وہ رات بھر انٹاغفیلی کی جس کیفیت سے گزرے بلکہ آج صبح آس والوں کی کوششوں سے ان کی آنکھ کھلی اس سے ثابت ہوتا تھا، اس چائے یا اس سے پہلے کھائے جانے والے کھانے کے جانے والے کھانے میں کوئی خواب آور چیز موجود تھی جس کے زیر اثر وہ تینوں پڑوسی
غفلت کی نیند سوتے رہے اور چور اپنا کام کر کے چلتے بنے۔ اسی تناظر میں، میں نے جہاں سے چائے کے بارے میں استفسار کیا۔ ویسے ان تینوں کی غفلتا نہ نیند کا ایک اور بھی ہو سکتا تھا اور وہ یہ کہ چوروں یا چور نے انہیں کوئی ایسا رومال سنگھا دیا ہو جو کسی زاد نیند اور کیمیکل میں بسا ہو۔ بہر حال، مجھے تو ہر پہلو کو چیک کرنا تھا۔نور جہاں نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔
تھانے دار صاحب! بات دراصل یہ ہے کہ چائے پینے کی خواہش شادو کے دل سے جاگی تھی لیکن میں نے خود کو سامنے رکھتے ہوئے چائے بنوالی ۔ اگر شادو کا نام سامنے آن ہمیں نذیر کی ایک لمبی چوڑی تقریر سننا پڑتی ۔ وہ بڑی تفصیل سے بتاتا کہ رات کو سونے پہلے چائے پینے کے کیا کیا نقصانات ہیں ۔ یہ گردوں اور مثانے پر کیسے بد اثرات ڈالتی ۔ میری وجہ سے وہ ایک لفظ نہیں بولا اور خود بھی چائے پی کر خاموشی سے سو گیا۔ چائے کیا چڑھاتے وقت اسے اپنے گردوں کی فکر ہوئی اور نہ ہی یہ خیال آیا کہ اسے رات میں پیٹا کے لئے بار بار اٹھنا پڑے گا۔ اسی کو کہتے ہیں دوسروں کو نصیحت اور خود کو وصیت –
وہ اپنے شوہر کی طرف سے کچھ زیادہ ہی بد گمان نظر آتی تھی۔ اس کی باتوں سے لگتا ۔ نذیر نے ان ماں بیٹی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہو گی ۔ لیکن نور جہاں کے انداز اور روہ دیکھتے ہوئے بڑے وثوق سے کہا جا سکتا تھا، باپ بیٹی اس کے ہاتھوں بڑی مصیبت ہوں گے۔ بہر حال، مجھے ان کے خانگی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے مزیداً دو سوالات کے بعد نور جہاں کو یہ کہتے ہوئے فارغ کر دیا۔
میں پوری کوشش کروں گا کہ جلد از جلد چور کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے مالا مر برآمد کر لیا جائے ۔ اس دورن اگر کوئی خاص بات سامنے آئے تو تم لوگ پہلی فرصت میں اطلاع دینا ۔
اس نے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔
اسی وقت نذیر احمد کمرے میں آگیا۔ میں نے نور جہاں کی موجودگی ہی میں اس ایک دو نئے سوال کئے مثلاً یہ کہ اس کا سابق ملازم فیروز کون سی سگریٹ پیتا تھا۔ اس وڈ بائی کہہ کر میرے اندازے کی تصدیق کر دی۔ پھر میں نے فیروز کی طرف سے کے لئے کسی رشتے وغیرہ کی بابت دریافت کیا تو اس نے صاف انکار کرتے ہوئے ہ فیروز نے اس سے کبھی اس قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا، یا تو واقعی انتہائی احمق انسان تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا، فیروز نے اس کی بیٹی کو اپنی نگاہ میں رکھ ہے اور یا پھر یہ معاملہ سراسر ور جہاں کے ذہن کی اختراع تھی۔ وہ فیروز کے لئے کسی وجہ سے اپنے دل میں معاندانہ جذبات رکھتی تھی اس لئے اس نے ایسی کہانی گھڑ لی تھی۔
کا تیل صمد خان نے جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کرلیا تو میں نے وہاں سے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا۔ جاتے جاتے میں نے نذیر احمد سے پوچھ لیا۔
تمہاری بیٹی شادو کہیں نظر نہیں آرہی۔ ذرا اس کو تو بلاؤ۔ میں دو باتیں اس سے بھی کرنا چاہتا ہوں ۔ نور جہاں نے کہا۔ ” شادو باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھی ٹھہریں، میں اسے بلا کر لاتی ہوں۔“
اس گھر کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے میں باورچی خانے میں بھی گیا تھا اور وہاں میں نے جھوٹے برتنوں کا ایک انبار دیکھا تھا۔ وہ برتن کسی ایک وقت کے کھانے کے نہیں ہو سکتے تھے۔ تین افراد کے استعمال کے لئے عموماً جتنے برتنوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اس کا ایک مطلب تھا کہ وہ رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کے مشترکہ جھوٹے برتن تھے۔
تھوڑی دیر بعد نور جہاں اپنی بیٹی شادو کو لے کر میرے پاس آگئی ۔ شاد و سر پر اوڑھی ہوئی گرم شال کے پلو سے دونوں ہاتھوں کو خشک کرتے ہوئے وہاں پہنچی تھی۔ میں نے ایک ہی نظر میں یہ غور اس کا جائزہ لے لیا۔
شاد و عمر کے حساب سے ہیں اور بائیس کے درمیان رہی ہوگی۔ وہ درمیانے قد کی ایک رہی ۔ وہ کی ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔ جسم قدرے بھاری تھا۔ لیکن موٹاپے کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ اسے بھرے بھرے بدن کی مالک کہا جا سکتا تھا۔ اس وقت وہ انتہائی سنجیدہ اور افسردہ کی تھی۔ یہ اس کا عین فطری رویہ تھا۔ جس کی خوشیوں کو نظر لگ جائے وہ شگفتگی اور زندہ دلی کا مظاہرہ کرنے سے تو رہا!
میں نے گھما پھرا کر اس چوری اور چوروں – کے بارے میں اس سے تین چار سوالات گئے۔ میرے سوالات کے جواب میں اس نے جو کچھ بتایا اس سے اندازہ ہوا وہ اس افسوس ناک واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔
اس بات چیت کے دوران زیادہ وقت اس نے اپنی گردن کو جھکائے رکھا تھا۔ میں نے بڑی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور گہری ہمدردی سے کہا۔
بیٹی! تم پریشان نہیں ہونا ۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں بہت جلد اس واقعے کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کر کے انہیں عبرت ناک سزا دلوانے کی کوشش کروں گا۔ تمہیں فکر مندہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری شادی اپنی مقررہ تاریخ پر، بخیر و خوبی انجام پائے گی۔ میں فی الحال اس ملول اور دل گرفتہ دو شیزہ کو الفاظ کی صورت ہی میں تسلی تشفی دے کر تھا۔ ویسے اسی وقت میں نے جی میں ٹھان لی تھی کہ اس بے چاری سی لڑکی کے جہیز کی چور شدہ ایک ایک شے کو برآمد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔
نذیر احمد اور اس کی بیوی و بیٹی کو دلاسا دینے کے بعد میں کانسٹیبل صمد کے ساتھ گھر باہر نکل آیا۔ ہم گلی میں چلتے ہوئے تانگے کے نزدیک آ گئے ۔ اس وقت تک بوندا باندی سلسلہ موقوف ہو چکا تھا۔ کوچوان بشیر احمد تانگے میں بیٹھا ہماری واپسی کا انتظار کر رہا تھا۔ ہمیں اپنی سمت بڑھتا دیکھ کر وہ ایک دم الرٹ ہو گیا۔
ہم تانگے میں سوار ہونے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ گنجا صوبے دار کیسی چراغی جن کی مانند میرے سامنے حاضر ہو گیا۔ دلاور کی اسی گلی میں دودھ دہی کی دکان تھی۔ اس کی سرپ آمد سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ نذیر احمد کے گھر کے دروازے پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا کہ ادھر میں گھر سے نکلوں ، ادھر وہ میری طرف لپک آئے ۔
مختصر سی ملاقات کے تجربے میں مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ دلاور ایک انتہائی باتونی شخص تھا۔ ایسے لوگ کام کی باتیں کم اور فضول گوئی پر زیادہ کمر بستہ رہتے ہیں۔ وہ مجھے یہ بتانے مشتاق تھا کہ لوگ اسے صوبے دار کیوں کہتے ہیں اور میں اسے وعدہ فردا پر ٹرخا کر نذیر کے گھر میں داخل ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا، اس سے پیش تر کہ وہ کوئی لا یعنی تقریر شروع کر دے، میں ہی اپنے چیک کرتا ہوں۔
میں نے اس کی لب کشائی سے پہلے ہی پوچھ لیا۔ صوبے دار! کیا تمہیں فیروز کے گھرا پتہ ہے؟“
اس کے چہرے پر فخر و انبساط کے تاثرات اُبھر آئے ۔ مجھے یہ اندازہ لگانے میں ذرا بھی وقت محسوس نہ ہوئی کہ اسے خود کو صوبے دار کہلوانا بہت پسند تھا۔ میرے سوال کے جواب میں اس نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا۔
آپ کسی فیروز کا پوچھ رہے ہیں سرکار؟“
کیا اس محلے میں ایک سے زیادہ فیروز بستے ہیں؟“
وہ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ۔ ”جی ہاں، نظام آباد میں تین فیروز ہیں ۔ میں نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس نوجوان فیروز کی بات کر ہوں جو چھ ماہ پہلے نذیر بوتلوں والے کے پاس ملازم تھا اور اب کسی بس کی کلینڈری کرو ہے۔
اوہ اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چک نمودار ہ ے پر ایک خاص قسم کی چمک نمودار ہوئی ۔ ” میں بھی یہی سوچ کر رہا تھا کہ آپ کی فیروز کے ہار میں ہیں اور سے کر کے آتے ر کے بارے میں پوچھ رہے ہوں گے۔“ وہ معنی خیز انداز میں متوقف ہوا سے بولا۔ میں اس فیروز کے گھر تک آپ کو ابھی پہنچا سکتا ہوں ۔ وہ اُدھر ریکوئے لائن کے قریب رہتا ہے لیکن اگر آپ اس سے ملنا چاہتے ہیں تو بات نہیں بنے گی۔“ خاموش ہو کر اس نے متاسفانہ انداز میں اپنے ہونٹ سکوڑے پھر خود ہی اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔
جناب! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو جس فیروز کی تلاش ہے وہ ہفتے میں صرف ایک دن گھر پر ملتا ہے۔ باقی کے چھ دن وہ دن رات بس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ ہفتے کی رات وہ گھر آتا ہے پھر دوسرے دن یعنی اتوار کی شام کو دوبارہ ڈیوٹی پر چلا جاتا ہے ۔“ صوبے دار خاموش ہوا تو میں اس کی بتائی ہوئی تفصیل کی روشنی میں حساب لگانے لگا۔ اس روز نو نوم تاریخ اور جمعہ کا دن تھا اس کا مطلب تھا، آئندہ روز رات سے پہلے اسے گھر پر نہیں پکڑا جا سکتا تھا۔ مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر دلاور نے پر اشتیاق لہجے میں پوچھا۔ سرکار! آپ کو اس فیروز سے کیا کام پڑ گیا ہے؟“ اس کے انداز میں بڑی کرید تھی۔
کیا نذیر کے گھر میں ہونے والی چوری کے سلسلے میں اس سے کوئی کچھ پر تیت کرنا ہے؟“ سچی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس سرقہ بہ خانہ آباد کے حوالے سے مشکوک افراد کی فہرست میں صرف ایک ہی نام درج ہوا تھا یعنی بس کلینڈر (کلینز) فیروز کا اندراج شادو کی ماں نور جہاں نے کروایا تھا لیکن میں دلاور کو سر دست اس بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا لہذا اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے استفسار کیا۔
صوبے دار! ہفتے کے باقی چھ دن اگر اس سے کوئی کام پڑ جائے تو اسے کہاں تلاش کیا جائے؟“
تلاش کہاں کرنا ہے مائی باپ!” وہ سادگی سے بولا ۔ ”سیدھا بسوں کے اڈے پر چلے جائیں۔ وہ آج کل راجا ٹریولز کی بس پر کلینڈری کر رہا ہے۔ یہ بس سیالکوٹ اور لائل پور کے درمیان چلتی ہے۔ ہمارا قصبہ راستے میں پڑتا ہے اور یہاں پر اس بس کا پورے پانچ منٹ کا اسٹاپ ہے۔ بس کے اڈے سے اس کے بارے میں سب کچھ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ وہ پینتی بتی پر ہوتا ہے۔“
پیتی ہی سے اس کی مراد پینتیس بتیں تھی یعنی وہ راجا ٹریولز کی بس نمبر پہنتیں ہیں پر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ ٹرانسپورٹ کی دنیا میں بسوں کے نمبر وغیرہ اسی طرح یاد رکھے جاتے ہیں۔ عموماً ایک بس پر تین افراد کا عملہ موجود ہوتا ہے۔ نمبر ایک ڈرائیور، نمبر دو کنڈیکٹر اور نمبر تین کلینز – کلیز ایک طرح سے کنڈیکٹر کا معاون ہوتا ہے۔ بس کی جھاڑ پونچھ اور صفائی ستھرائی کے علاوہ مختلف امور میں کنڈیکٹر کا ہاتھ بھی بٹاتا ہے۔ اس کلینز بے چارے ۔ کو عرف عام میں کلینڈر“ کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ کنڈیکٹر ہی کو کلینڈر سمجھتے ہیں جو کہ تی۔ نہیں۔ کلینڈر، کلینز کا بگاڑ ہے۔
میں نے صوبے دار دلاور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں پوچھا۔ ” تمہیں اس فیروز کی بڑی خیر خبر رہتی ہے؟“
بس جناب! اس سے گپ شپ ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ نذیر بوتلوں والے کے پاس ہے ایت کا زیادہ میں نے بھی روانی ہی میں ایسی بوتلیں کام کرتا تھا تو رکھی ہوئی ہیں۔ وہ بوتلوں کے کریٹ دینے آتا تو تھوڑی دیر رک کر گفتگو کر لیتا تھا۔ اب تو ی ہوئی ہیں ۔ وہ بولوں کے کریٹ دینے آتا تو تھوڑی و بہت کم ملاقات ہوتی ہے۔ بس، اتوار کے اتوار تھوڑی بات چیت ہو جاتی ہے۔“
وہ تفصیل بتانے کے بعد خاموش ہوا تو میں نے دھیمے لہجے میں پوچھ لیا ۔ صوبے دارا نذیر کے گھر میں ہونے والی چوری کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ میرا مطلب ہے، یہ کس نا مراد کی حرکت ہو سکتی ہے؟“
آپ نے بالکل ٹھیک کہا تھا نے وار جی! وہ اپنے گنجے سر کو جلدی سے اثبات میں ہے حرکت دیتے ہوئے بولا ۔ اس قسم کا کام کوئی کمینہ نا مراد ہی کر سکتا ہے۔ لیکن آپ یقین جائیں، مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ چوری کی اس واردات میں کون ملوث ہو سکتا ہے!“
اس کے لہجے سے جھلکتی معذوری نے مجھے بتا دیا کہ وہ دروغ گوئی سے کام نہیں لے رہاہے تھا۔ میں نے پوچھا۔ ”تمہاری نظر میں یہ بس کلینڈر فیروز کیسا بندہ ہے؟“
میں نے تو اسے ٹھیک ٹھاک ہی پایا ہے۔ وہ الجھن زدہ انداز میں میری طرف دیکھتے ۔ ہوئے بولا ۔
میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے استفسار کیا۔ ” کیا اس چوری میں فیروز کا کوئی ہاتھ ہو سکتا ہے؟“۔
اس نے بے یقینی سے چونک کر میری جانب دیکھا اور متاملانہ لہجے میں بولا ۔ وہ ایسا کیوں کرے گا جی؟“
فیروز کے بارے میں دلاور کی جانکاری کو در جانکاری کو دیکھتے ہوئے میں ۔ ہوئے میں نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اگر فیروز کی تمہارے ساتھ گپ شپ چلتی رہتی ہے ہے تو تمہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ وہ نذیر کی بیٹی شادو کو پسند کرتا ہے اور اسی معاملے سے کی وجہ سے نذیر نے اسے نوکری سے نکالا تھا ؟“ ہے.
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ اس کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔ فیروز نے اپنی پسندیدگی کے بارے میں ڈھکے چھپے الفاظ میں مجھے بتایا تھا لیکن اس کی پسند کا اس چوری سے کیا تعلق؟
تعلق ہو سکتا ہے صوبے دار صاحب! میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ ”تمہیں یہ تو پتہ ہی ہو گا کہ نذیر کی بیٹی شادو کی شادی اس کے خالہ زاد جہانگیر سے ہونے والی ہے۔ نیروز، شادو کو پسند کرتا ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ وہ شادو کو حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ بات بھی بند ہے یہ ہے و کرتا ہے ہے کہ وہ ھکی چھپی نہیں ہو گی کہ شادو کے ہونے والے سسرالی بہت ہی لالچی اور خود غرض لوگ ہیں۔ – ہی اور جہیز کے بغیر وہ اس کی ڈولی اٹھانے پر تیار نہیں ہوں گے۔“ میں لمحے بھر کو سانس لینے کے لئے رکا پھر اپنے اندیشے کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا ۔ اس صورت حال میں فیروز یہ سوچ سکتا ہے کہ اگر شادو کی شادی کے قیمتی سامان کو اڑا یا جائے تو اس شادی کو رکوایا جا سکتا ہے۔ شادو اگر اسے نہیں مل سکتی تو پھر کسی کو بھی نہ ملے۔
عام طور پر محروم اور نا کام لوگ انتقاماً ایسا ہی سوچتے ہیں ۔ دلاور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں چند لمحات تک یک تک مجھے تکتا چلا گیا پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔
تھانے دار صاحب! فیروز تو بہت سیدھا سادھا بندہ ہے۔ اس قسم کی شاطرانہ منصوبہ بندی اس کے بس کی بات نہیں اور وہ تو آج کل محلے میں بھی موجود نہیں ہے، مجھے یقین ہے وہ ایسی گھٹیا حرکت نہیں کر سکتا ۔“
فیروز کے بارے میں دلاور عرف صوبے دار کی رائے مجھے معلوم ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں اس سے مزید کوئی بات کرنے کا فائدہ نہیں تھا۔ میں چند لمحات تک سوچتی ہوئی نظر سے اسے دیکھتا رہا پھر یکسر موضوع کو بدلتے ہوئے پوچھا۔
تم مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے والے تھے؟“
وہ میری بات کو سمجھ نہ سکا اور متذبذب انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ “تم شاید مجھے اپنی صوبے داری کی کہانی سنانا چاہتے تھے۔“
اوہ، ہاں وہ پر مسرت انداز میں دہانہ کھولتے ہوئے بولا ۔ ”میں کوئی وہ فوج الا صوبے دار نہیں ہوں بلکہ “ اس نے تو ند پر ڈھلکتے ہوئے تہبند کو بڑی شد و مد سے درست کرنے کے بعد سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا۔ بلکہ میں نے چند سال پہلے یک مزاحیہ اسٹیج ڈرامے میں صوبے دار کا کردار کیا تھا۔ میرا کام دیکھنے والوں کو اس قدر پسند آیا کہ وہ میرے اصل نام کو بھول کر مجھے صوبے دار کہنے لگے ہیں اور دوسر کے منہ سے اپنے لئے صوبے دار کا لفظ سن کر مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے۔“
میں نے دلاور گنجے کے مضحکہ خیز ڈیل ڈول اور سراپا پر گہری نظر ڈالتے ہوئے نہار سنجیدگی سے پوچھا۔ سے پوچھا۔ ”صوبے دار صاحب! آپ کو مزاحیہ اداکاری کرنے میں کوئی دشوار پیش نہیں آئی ہو گی !
وہ میرے ان معنی خیز الفاظ کو اپنی تعریف سمجھا اور دوفور مسرت سے باچھیں پھیلا ہوئے بڑی سرعت سے بولا ۔ نہیں سرکار بالکل نہیں ! میں اس کی حماقت آمیز سادگی پر دل ہی دل میں مسکرا اٹھا اور تانگے پر سوار ہو کر تھا۔ کی جانب روانہ ہو گیا۔ ہم راستے ہی میں تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔
××××
نذیر احمد بوتلوں والے کے گھر میں چوری کی واردات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی ہوئی تھی اور اگلے روز یعنی جمعہ، نو نومبر کو تھانے میں اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔ جمعہ کا دن وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کی نذر ہو گیا۔
آئندہ روز ہفتہ کی صبح مطلع صاف تھا۔ آسمان کی صورت اور فضا کی کیفیت بتاتی تھی۔ آج بارش کا کوئی پروگرام نہیں۔ میں تیار ہو کر تھانے پہنچا اور کانسٹیبل صمد خان کو اپنے کمرے میں طلب کر لیا۔
چند لحات بعد مجھے بتایا گیا کہ صمد ابھی تک تھانے نہیں پہنچا۔ صمد کی بجائے اس کی بیات کی اطلاع آئی تھی۔ گزشتہ روز بارش میں بھیگنے کے سبب اسے تیز بخار ہو گیا تھا۔ اللہ کا شکر میں محفوظ تھا۔ دراصل میں نے صدر کو بس اسٹینڈ کی جانب روانہ کرنے کے لئے بلایا تھا۔ پہلی فرصت میں مسمی فیروز سے ایک بھر پور ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ صمد کو غیر حاضر پا کر نے یہ فریضہ اے ایس آئی جمال کو سونپ دیا۔ وہ مجھ سے ضروری ہدایات لے کر تھانے ۔
رخصت ہو گیا۔
ان دنوں میں جس تھانے میں تعینات تھا، وہ قصبہ قلعہ شیخو پورہ کے نزدیک تھا۔ سیالکو سے لائل پور (موجودہ فیصل آباد ) آنے جانے والی بسیں اسی قصبے کے قریب سے گزرا۔ تھیں اور بس اسٹینڈ تھانے سے زیادہ فاصلے . فاصلے پر نہیں تھا۔ ایک طرح سے میرا تھانہ گوجرانوالہ اور ضلع لائل پور کے وسط مین روڈ پر واقع تھا۔ میں نے ایسے ایس آئی کو بس ال کی سمت بھیجتے ہوئے تاکید کر دی تھی کہ راجا ٹریولز کی بس نمبر پینتیس بتیس کے لئے چاہے بھی انتظار کرنا پڑے وہ فیروز کو اپنے ساتھ ہی لے کر تھانے آئے ۔ مجھے قوی امید تھی۔
سوورج ڈھلنے سے پہلے کامیاب لوٹے گا کیونکہ دن میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور مذکورہ بس، نما سٹینڈ پر پانچ منٹ کا اسٹاپ کرتی تھی۔
دوپہر تک میں اس چوری کی واردات کے بارے میں سوچتا رہا۔ ایسا کوئی واضع اشارہ یانکتہ ابھر کر سامنے نہیں آرہا تھاجس کی انگلی پکڑ کر میں چور یا چوروں تک رسائی حاصل کر سکتا میں نے اس علاقے کے عادی چوروں کی فہرست کا بھی بغور جائزہ لیا لیکن کوئی مفید ت معلوم نہ ہو سکی۔ ایسے تین چار جرائم پیشہ افراد حالات و واقعات کی رو سے اس واردات تھاں ملوٹ دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اب آجا کر ساری امی میں فیروز ہی سے لکھی ہوئی تھیں است
میں دو پہر کے کھانے کے لئے اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ پتہ چلا کانسٹیبل صمد خان انے پہنچ گیا ہے۔ میں نے فورا اسے اپنے کمرے میں بلا لیا۔ اس کی صورت اور چال نے ہے اس کی بیماری سے مکمل طور پر آگاہ کر دیا۔ وہ شدید قسم کے زکام اور بخار میں مبتلا ہو گیا کا۔ کمرے میں داخل ہونے سے لے کر مجھ سے بات کرنے تک کے دوران وہ تین مرتبہ مینک لیا۔
تھی میں نے اسے کرسی پر پیٹنے کو کہا اور قدرے خفگی آمیز انداز میں بولا ی محمد خان ! جب تم کر نے اپنی بیماری کی اطلاع بھجوا دی تھی تو پھر خود یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی ؟“ میں بھی ادھر آنے کی ہمت نہ کرتا ملک صاحب ! وہ جھر جھراتی ہوئی آواز میں بولا ۔ لیکن ایک مجبوری نے اس حالت میں بھی مجھے یہاں پہنچا دیا ہے۔ اس کے لہجے میں ؟ اسی سنتی تھی۔
کون سی مجبوری صمد خان؟“ میں نے الجھن زدہ نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
وہ مجبوری میری جیب میں رکھی ہے۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی جیب کو ٹٹولتے ہوئے بولا ۔ میں ابھی آپ کو دکھاتا ہوں نکال کر میں متجسس نگاہ سے اس کے ہاتھوں کی کارروائی کو دیکھنے لگا۔
تھوڑی سی کوشش کے بعد صد خان نے اپنی جیب سے ایک لمبوتری سی پلاسٹک کی ڈبیا اکید دنیا کو رزند کی۔ اس ڈبیا کی رحمت کا کروچ سے بہت ملتی جلتی تھی۔ بناوٹ اور سائز میں وہ کیمرہ فلم نیا کی ڈبیا سے گہری مشابہت رکھتی تھی۔ مذکورہ لمبوتری ڈبیا پر کوئی لیبل بھی چسپاں تھا۔ میں خانه، سوالیہ نظر سے صد خان کو دیکھا اور پوچھا۔
یہ ڈبیا کیسی ہے؟”
وہ براہ راست میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے گمبھر آواز میں بتانے لگا۔ ”کل ہ گیری و توں والے کے گھر میں جب آپ اس کے کارخانے کا معائنہ کر کے باہر نکلے تھے تو میں اس وقت باورچی خانے کے دروازے میں کھڑا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو سانس ہموار کرنے غرض سے متوقف ہوا تو مجھے وہ منظر یاد آگیا۔رائٹ،ارشد بھٹی، اس وقت مجھے صمد خان کے چہرے پر ایک دیا جوش دکھائی دیا تھا جیسے وہ باورچی خانے میں سے کوئی وہ باورچی خانے میں سے کوئی نہایت ہی اہم چیز برآمد کرنے کامیاب ہو گیا ہو۔ وہ سنسنی خیز لمحات میری نگاہ میں گھوم گئے ۔
اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ گویا ہوتا، میں نے اضطراری لہجے میں کہا۔ ہاں، مجھے یادا میں نے اس وقت تم سے پوچھا تھا ، صمد خان ! کوئی خاص بات ہے؟ میرے اس معنی خیز ہو کے جواب میں تم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بتایا تھا، جی ملک صاحب! ایک میں ملی ہے۔ ”
وہ مس فٹ یہی تھی ۔ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈبیا کو میری جانب بڑھاتے ہو بولا۔
میں نے مذکورہ ڈبیا کو ہاتھوں میں لے کر دیکھا اور اس پر چسپاں لیبل کو بغور پڑھا۔ -رنگ کے اس لیبل پر مرکزی کروم کے جلی الفاظ انگریزی میں چھپے ہوئے تھے اور آ بریکٹ میں قدرے خفی لفظ کرسٹلز بھی موجود تھا۔ میں مرکزی کروم …. ( کرسٹلز ) اس مختصر سی عبارت سے کچھ بھی نہ سمجھ سکا اور الجھن زدہ نظر سے صمد خان کی طرف دیکھنے ۔ وہ میری نگاہ میں پوشیدہ سوال کو فوراً سے پیشتر سمجھ گیا اور وضاحت کرتے ہوئے !
ملک صاحب! آپ کو معلوم ہے، میں نے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں آنے سے پہلے کچھ -ایک ڈاکٹر کے ساتھ کمپاؤنڈر کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے۔ اس ڈاکٹر کے کلینک پر رش رہتا تھا لہذا مریضوں کو سنبھالنے کے لئے میرے علاوہ بھی دو کمپاؤنڈر موجود تھے ۔ کمپاؤنڈر صرف انجکشن لگاتا تھا، دوسرا دوائیں دیتا تھا اور میرے ذمے ہر قسم کی مرہم پی لے کرتی تھی۔ اس لئے یہ مرکزی کروم میرے لئے کوئی نئی سے نہیں ۔ مرکزی کروم کے سے لال رنگ کی ایک دوا تیار کی جاتی ہے جو جو جراثیم جراثیم کش کش ہونے ہونے کے ساتھ ہی زخم کوئی کو کرنے میں بھی بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ لال دوائی اسپرٹ یا نیک طرح جسم کے متاثرہ حصے میں آگ بھی نہیں بھرتی ”
وہ لمحہ بھر کے لئے متوقف ہوا تو میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ گویا ہوا ۔ ملک صاحب ! مرکزی کروم والی یہ ڈبیا کل مجھے نذیر احمد کے باد خانے سے ملی تھی۔ اس ڈبیا کی وہاں موجودگی مجھے ہضم نہیں ہوئی اور اندرونی تجس ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے اسے کھول کر دیکھ لیا۔ اس کے ساتھ ہی میری حیرت کی ان -رہی۔ اسی حیرت کی بنا پر میں نے کہا تھا۔ ایک مس فٹ ملی ہے ملک صاحب !
ڈ بیا اس باورچی خانے میں بڑی مس فٹ تھی ۔“
اس ڈبیا کے اندر کیا ہے؟“ بے ساختہ میری زبان سے نکلا۔
” آپ کھول کر دیکھ لیں جناب! وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔ ویسے اتنا بتا دا ا۔ دوں کہ اس کے اندر نمک ہے اور نہ ہی چینی ، میٹھا سوڈا ہے اور نہ ہی بیکنگ پاؤڈر، کوئی عمل انگیز ہے اور نہ ہی کوئی رنگ بس حیرت ہی حیرت ہے جناب !
وہ بڑے سنسنی خیز انداز میں بات ختم کر کے خاموش ہوا تو میں نے ڈبیا کے ڈھکن کو گھما کر کھول لیا۔ اس کے اندر جھانک کر دیکھا۔