Urdu Stories Malik Safdar Hyat

فتنہ گر – پہلا حصہ (ملک صفدر حیات)

رات بھر مطلع ابر آلود رہا! میں صبح جب تیار ہو کر اپنے کوارٹر سے نکلا تو بوندا باندی کا سلسلہ جاری تھا۔ نو بج چکے تھے تھے لیکن سورج کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ گھنگھور گھٹاؤں نے تاحد نگاہ آسمان کو اپنی سیاہ آغوش میں سمیٹ رکھا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا، صبح چڑھنے سے پہلے ہی شام ڈھل آئی ہو۔ میں اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ پتہ چلا، تھری ایٹی میری منتظر ہے آپ الجھیں نہیں، یہ کسی عورت کا نام نہیں بلکہ تھری ایٹی تعزیرات پاکستان کی ایک دفعہ ہے۔ یہ دفعہ سرقہ بہ خانہ آباد کے سلسلے میں لگائی جاتی ہے۔ اب تو آپ یہ خوبی سمجھ گئے ہوں گئے منتظر دفعہ تین سواسی سے میری مراد یہ ہے کہ مجھ سے پہلے چوری کی ایک سنسنی خیز اطلاع تھانے پہنچ گئی تھی۔
یہ اطلاع کا نٹیبل شکور نے مجھ تک پہنچائی تھی۔ میں نے اپنی کرسی سنبھالی ہی تھی کہ وہ کمرے میں آیا اور بڑے ذمہ دار لہجے میں بولا ۔ ملک صاحب! نظام آباد میں ایک چوری ہوگئی ہے۔
نظام آباد اس تھانے سے لگ بھگ دو میل کے فاصلے پر واقع تھا اور میں جانتا تھا کہ کا نٹیبل کا نظام آباد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے سنجیدہ لہجے میں اس سے دریافت کیا۔
شکور ! تم صبح صبح نظام آباد کیا لینے چلے گئے تھے؟“
جناب!“ اس نے متنذ بذب نظر سے مجھے دیکھا اور بولا ۔” میں نظام آباد کیا لینے جاؤں گا جی۔ ادھر سے ایک بندہ چوری کی اطلاع لے کر آیا ہے ۔“
تم نے اُس بندے کا انٹرویو کر لیا ؟“ میں نے پوچھا۔
تھوڑی پوچھ گچھ کی ہے جناب!“ کا نٹیبل نے جواب دیا۔ ”بس ، آپ کا انتظار ہو رہاتھا۔
میں نے کہا۔ پوچھ گچھ کی تفصیل بتاؤ اور اطلاع کنندہ کو میرے پاس لے آؤ۔“
مجھے مختصرسی بریفنگ دینے کے بعد کانسٹیبل شکور کمرے سے باہر نکل گیا۔ ، اس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق نظام آباد کے ایک رہائشی نذیر احمد کے گھر میں گزشتہ رات چوری کی ایک سنگین واردات ہو گئی تھی۔ مذکورہ رات نذیر احمد اپنی بیوی نور جہاں اور بیٹی شادو کے ساتھ گھر کے اندر موجود تھا۔ وہ تینوں افراد گہری نیند کے مزے لے رہے تھے کہ چور اپنا کام کر کے چلتے بنے۔ افراد خانہ کی نیند ایسی یکی ثابت ہوئی کہ آج صبحآس پڑوس والوں نے گھر میں داخل ہو کر انہیں بیدار کیا تھا اور وہ ابھی تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔ لگتا تھا، انہیں کسی خاص دوا کے زیر اثر گزشتہ رات نیند میں پہنچایا گیا ہو۔ یہ ایک تشویش ناک صورت حال تھی۔ بہر حال، نظام آباد چونکہ میرے تھانے کی حدود میں آتا تھا لہذا مجھے اس معاملے کو دیکھنا تھا۔ میں کانسٹیبل کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔
ایک منٹ کے بعد کانسٹیبل شکور، ایک دراز قامت دبلے پتلے شخص کو لے کر میرے پاس آ گیا۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ تھوڑی دیر پہلے اس نے جس اطلاع کنندہ شخص کا ذکر کیا تھا، وہ یہی تھا۔ کانسٹیبل نے میرے سامنے پہنچنے کے بعد کہا۔
ملک صاحب! یہی ہے وہ بندہ جو نظام آباد سے چوری کی اطلاع لے کر آیا ہے۔“ میں نے سرتا پا اس شخص کا تنقیدی جائزہ لیا۔ اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ میں نے پوچھا۔ ”کیا نام ہے تمہارا؟“
محمد رفیق ۔“ اس نے جواب دیا۔
میں نے اپنی میز کے سامنے رکھی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ بیٹھ جاؤ اور تسلی سے مجھے ساری بات بتاؤ ۔“
ایک لمحہ بھیجنے کے بعد اس نے کرسی سنبھال لی۔
میرے استفسار پر محمد رفیق نام کے اس دراز قامت شخص نے جو کچھ بتایا اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی، سوائے اِدھر اُدھر کے چند غیر متعلقہ قصوں کے۔ رفیق ، نذیر احمد کا پڑوسی تھا اور برتنوں کے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ آج کل اس کی رات کی ڈیوٹی تھی اس لئے اطلاع اسی کے ذریعے تھانے پہنچائی گئی تھی۔ میں نے چوری کی واردات کے بارے میں رفیق سے چند سوالات کئے پھر نظام آباد جانے کے لئے تیار ہو گیا۔ صحیح صورت حال کو سمجھنے کے لئے موقع واردات کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔
بوندا باندی کا سلسلہ رک گیا تھا تاہم ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ نومبر کے مہینے میں عموما بارشیں نہیں ہوتیں ۔ اس بے موسم کی غیر متوقع برسات نے موسم کی شدت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔ گرم کپڑے تو ایک ماہ پہلے ہی صندوقوں سے نکا یک ماہ پہلے ہی صندوقوں سے نکل آئے تھے لیکن ان کے استعمال کا درست اور مناسب موقع اب آیا تھا۔ جب کانسٹیبل شکور کو یہ پتہ چلا کہ میں نظام آباد جانے کا ارادہ رادہ رکھتا ہوں تو اس نے دروازے سے باہر دیکھتے ہوئے مشور تا کہا۔
ملک صاحب! باہر تو بارش ہو رہی ہے۔ کیا آپ اس برستی برسات میں یہاں سےجائیں گے؟“
تو؟“ میں نے گھور کر اس کی طرف دیکھا۔ ” تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“
وہ گڑ بڑا کر بولا ۔ میرا مطلب یہ تھا کہ ذرا بارش کو تو رک جانے دیں ۔“
اور اگر یہ بارش شام تک نہ رکی تو ؟“
وہ لا جواب سا ہو کر بغلیں جھانکنے لگا۔
میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ شکور! جتنا جلد ممکن ہو سکے، تم میرے لئے تانگے کا بند و بست کر دو اور ہاں، کانسٹیبل صمد خان کو بھی میرے کمرے میں بھیج دو۔“
او کے سر! اس نے پیشانی تک ہاتھ پہنچا کر مجھے تعظیم دی اور کمرے سے نکل گیا۔
میں رفیق کی جانب متوجہ ہو گیا۔ “تم برتنوں کے کون سے کارخانے میں کام کرتے ہو؟“ میں نے اس سے پوچھ لیا۔
سٹیزن میٹل ورکس ! اس نے جواب دیا۔ ” اس کارخانے میں پیتل اور المونیم کے برتن تیار ہوتے ہیں ۔میں نے سنا ہے، اس قسم کے کارخانوں میں چوبیس گھنٹے کام نہیں ہوتا ۔ میں نے کہا۔ اور تم نے بتایا ہے، آج کل تمہاری رات کی ڈیوٹی ہے ۔ یہ کیا ماجرا ہے رفیق ؟
رفیق نے تامل کرتے ہوئے جواب دیا۔ جناب! سٹیزن میٹل ورکس صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک کھلا رہتا ہے جس میں آٹھ آٹھ گھنٹے کی دو شفٹوں میں کام ہوتا ہے۔ صبح کے سات بجے سے سہ پہر تین بجے تک کی شفٹ دن کی شفٹ کہلاتی ہے اور دوسری شفٹ یعنی سہ پہر تین بجے سے رات گیارہ بجے تک کے دورانئے کو نائٹ شفٹ کہا جاتا ہے۔ میں تین بجے کارخانے پہنچوں گا۔ اس حساب سے آج کل میری رات کی ڈیوٹی ہے۔“ وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کے لئے رکا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا ۔
ہمارے کارخانے میں جتنے افراد بھی کام کرتے ہیں، ٹھیک پندرہ دن کے بعد ان کی ڈیوٹی شفٹ تبدیل ہو جاتی ہے۔ میں پندرہ روز دن کی شفٹ میں اور پندرہ روز رات کی شفٹ میں کام کرتا ہوں ۔ میں کام میں نے اس کی وضاحت کو بڑی توجہ سے سنا اور جب وہ خاموش ہوا تو پوچھا۔ دو تمہیں کچھ اندازہ ہے، نذیر کے گھر میں سے چور کیا کیا چرا کر لے گئے ہیں؟“
مجھے چوری ہونے والے سامان کی تفصیل کا تو علم نہیں جناب! وہ سادگی سے بولا ۔ سامان کا تو البتہ سننے میں یہ آیا ہے کہ نذیر نے شادو کی شادی کے لئے جو کچھ جمع کر رکھا تھا، چور اس پر ہاتھ صاف کر گئے ہیں پتہ نہیں، اس بے چاری کی شادی کا اب کیا ہو گا ! بات کے اختتام پر رفیق کا لہجہ خاصا اُداس ہو گیا۔ اُس کی افسردگی میں کسی قسم کا مصنوعی پن نہیں جھلکتا تھا۔
ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ کانسٹیبل صمد خان میرے کمرے میں آگیا۔ میں نے مختصر الفاظ میں اسے موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد اپنے ارادے سے بھی آگاہ کر دیا اور کہا۔ “صمد خان ! ہمیں ابھی اور اسی وقت نظام آباد روانہ ہوتا ہے۔ شکور کو میں نے تانگے کے بندو بست کے لئے بھیج دیا ہے۔ باقی کی ضروری تیاری تم کر لو۔ میرے ساتھ تم جاؤ گے۔“
تھانے میں موجود عملے کے ہر فرد کو اس چوری کے بارے میں علم ہو چکا تھا۔ صمد خان بھی اس واقعے سے واقف تھا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔
صمد خان ایک تجربہ کار اور قابل بھروسہ پولیس اہلکار تھا۔ میں پہلے بھی دو تین مشکل کیسز میں اسے اپنے ساتھ رکھ چکا تھا اور اس نے کسی بھی مرحلے پر مجھے مایوس نہیں کیا تھا۔ پندرہ ہیں منٹ کے بعد ہم تینوں ایک تانگے پر سوار ہو کر نظام آباد کی سمت جا رہے تھے یعنی میں، کانسٹیبل صمد خان اور اطلاع کننده رفیق! ہمارے علاوہ ایک چوتھا فرد بھی تانگے میں موجود تھا
اور وہ تھا، کو چوان بشیر احمد ۔
ٹھیک دس بجے ہم نظام آباد میں داخل ہوئے۔
××××
نمائی نظام آباد خاصا وسیع و عریض محلہ تھا اور مین روڈ کے قریب ہی واقع تھا۔ اس محلے کے دوسرے سرے پر روڈ کے متوازی ریلوے لائن گزرتی تھی۔ کو چوان بشیر احمد نے رفیق کی راہ میں تانگے کو نظام آباد کے مین بازار میں ایک گھر کے سامنے روک دیا۔تھانے دار صاحب! یہ ہے نذیر احمد کا گھر ۔ رفیق نے ایک دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”اور یہ میرا گھر ہے ۔ اس نے نذیر کے گھر سے ملے دوسرے دروازے کی جانب اشارہ کر دیا۔
نظام آباد کے مین بازار میں گھر اور دکانیں ساتھ ساتھ تھیں بلکہ اکثر دکانیں تو ان گھروں کے بیرونی کمروں ہی میں تھیں ۔ ہم تانگے سے اترے تو ہمارے اردگرد چند لوگ جمع ہو گئے ۔ ایک پستہ قامت گنجا شخص تیزی سے میرے قریب آیا اور اپنے ہاتھ کو پیشانی پر سجاتے ہوئے بولا ۔ سلام تھانے دار صاحب! میں نے ہی نیکے کو تھانے بھیجا تھا۔“
میں نے تنقیدی نظر سے سرتا پا اس پستہ قامت شخص کا جائزہ لیا پھر پوچھا۔ ” تم کون ہو؟
میرا نام دلاور ہے لیکن سب مجھے صوبے دار کہتے ہیں۔“ اس نے فخریہ انداز میں سینہ سے پہلے مجھے پتہ چلا پھلاتے ہوئے بتایا ۔ وہ سامنے میں امنے میری دودھ دہی کی دکان ہے۔ سب سے پہ تھا کہ نذیر بوتلوں والے کے گھر میں چوری ہو گئی ہے۔“
و شخص خاصا باتونی دکھائی دیتا تھا۔ میں نے گھور کر اسے دیکھا اور سوال کیا ۔ ” کیا چور جاتے ہوئے تمہارے پاس اپنے کارنامے کا اندراج کروا گئے تھے کہ وہ کون سی کارروائی انجام دے کر جا رہے ہیں یا پھر تم ؟ یا پھر تم بھی انہی کے ساتھی ہو؟“ رجارہے ہیں۔
نہ جی نہ نہ اس نے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو چھ کو چھوا۔ توبہ : ذبہ جی تو بہ ! اللہ نہ کرے تھانے دار صاحب کہ میں کبھی چوری چکاری کے چکر میں پڑوں “ ایک لمحے کو رک کر اس نے تہبند کو درست کیا پھر وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔
وہ یہ ہے کہ جی، بات دراصل یہ ہے کہ نذیر احمد کے گھر کے پیچھے ایک بہت بڑا میدان ہے۔ اس میدان کے آخری سرے پر گورنمنٹ پرائمری سکول واقع ہے۔ اس محلے کے اکثر بچے اس ن میں سے گزر کر اسکول پہنچتے ہیں ۔ اللہ آپ کا بھلا کرے! اتنا کہہ کر وہ سانس ! آپ کا اتنا کڑوہ لینے میدان میں کے لئے ایک مرتبہ پھر متوقف ہوا اور تہبند کو سنبھال کر دوبارہ گویا ہوا۔ میں صبح صبح اپنی دکان کھول لیتا ہوں۔ میرا گھر بھی ادھر ہی دکان کے ساتھ ہے۔ لوگوں کو ناشتے، چائے وغیرہ کے نے کو ناشتے، وغیرہ لئے دودھ دہی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے مجھے روشنی ہوتے ہی دکان کھولنا پڑتی ہے۔ تو ہی دوکان جناب! میں آپ کو بتا رہا تھا ، سکول کے بچوں نے مجھے آکر بتایا کہ نے مجھے آکر بتایا کہ صوبے دار جی! کسی نے نذیر کی دیوار کو توڑ دیا ہے۔ میں دکان چھوڑ کر فوراً مکان کے پیچھے پہنچا اور دیکھا کہ نذیر احمد کے گھر کی پچھلی دیوار میں ایک تازہ تازہ موکھلا بنا ہوا تھا۔ وہاں سے نکالی جانے والی اینٹیں ادھر دیوار کے ساتھ ہی میدان میں پڑی تھیں۔ اس مو کھلے کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا ، نذیر کے گھر میں کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ سب سے پہلے میرا دھیان چوری کی طرف گیا۔ میں نے لوگوں کو موقع پر جمع کر لیا اور پھر ساری صورت حال واضح ہو گئی ۔ نذیر اور اس کے گھر والے بے ہوش پڑے تھے اور ان کی بے خبری میں چور اپنا کام کر کے چلے گئے تھے۔ اس کے بعد ہی میرے مشورے پر نیکے کو آپ کی طرف دوڑایا گیا۔
دلاور نامی یہ شخص بے حد باتونی تھا۔ اس کے فربہ جسم اور فارغ البال سر نے اس کی پستہ قامتی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ تو ند کے سبب اس کا تہبند بار بار اپنی جگہ سے کھسک جاتا جسے سنبھالنے اور درست کرنے کے لئے اسے دونوں ہاتھوں کو اپنی کمر پر مصروف کرنا پڑتا ۔ ولا اور نے نان اسٹاپ جو تقریر جھاڑی تھی ، اس میں کوئی اہم یا نئی بات مجھے پتہ نہ چلی ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تمہارا بہت بہت شکریہ جو تم نے رفیق عرف فیکے کو تھانے بھیجا میں ذرا موقع -واردات کا جائزہ لے لوں ، پھر تم سے بات کرتا ہوں۔“
جناب! آپ کو پتہ ہے، مجھے صوبے دار کیوں کہا جاتا ہے؟ وہ پر اشتیاق انداز میں بولا ۔ بات دراصل یہ ہے جناب
اس کے انداز سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کوئی طولانی قصے کا آغاز کرنے والا ہے۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روک دیا اور قدرے سخت لہجے میں کہا۔
دلا اور ! تم کہیں بھاگے تو نہیں جا رہے۔ میں ذرا ضروری کارروائی سے نمٹ لوں پھر تمہاری اور تمہاری صوبے داری کی کہانی بھی سن لیتا ہوں۔ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں پوچھنا ہیں۔“
آخری جملہ میں نے بڑے معنی خیز انداز میں ادا کیا تھا۔ دلاور یہی سمجھا کہ میں اس کے صوبے دار ہونے سے متاثر ہو گیا ہوں ۔ وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ میں ادھر اپنی دکان پر بیٹھتا ہوں ۔ آپ اپنے کام سے فارغ ہو جائیں۔
میں کانسٹیبل صمد خان کے ساتھ نذیر احمد بوتلوں والے کے گھر میں داخل ہو گیا۔
اس گھر میں صرف تین افراد بستے تھے یعنی نذیر احمد ، اس کی بیوی نور جہاں اور بیٹی شادو. مگر اس وقت افراد خانہ کے علاوہ بھی چند لوگ گھر کے اندر موجود تھے۔ ظاہر ہے، یہ آس پڑوس والے ہوں گے جو اس افسوس ناک واقعے پر اپنے اپنے جذبات کی ترجمانی کے لئے آئے ہوں گے۔ ہمدردی کے موقع پر آس پاس کے لوگ ہی دل جوئی اور ہمت بندھانے آتے ہیں میں نے غیر متعلقہ لوگوں کو وہاں سے رخصت کر دیا۔ نذیر احمد اور اس کے گھر والے پوری طرح بیدار ہو چکے تھے۔ میرے استفسار پر نذیر احمد نے نے مختصر الفاظ میں بتایا۔ رمین بتا ہم حسب معمول رات کو کوئی نو بجے سونے کے لئے لیٹ گئے تھے۔ اس کے بعد گھر
میں کیا ہوتا رہا، ہمیں کچھ خبر نہیں ۔ اگلی صبح یعنی آج محلے والوں نے آکر مجھے جگا؟ ہے۔ دستک کی تیز آواز پر میری آنکھ کھلی۔ مجھے یوں محسوس ہوا اگر میں نے تھوڑی دیر مز یا دروازہ نہیں کھولا تو دستک دینے والا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائے گا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور جا کر دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ دروازہ یک بیک کھل گیا۔ سامنے محلے والوں کو پریشان کھڑے دیکھا تو مجھے شدید حیرت ہوئی۔ پھر انہی کی زبانی پتہ چلا کہ میرے گھر کی پچھلی دیوار کو توڑ کر کوئی اندر گھسا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد میں نے اپنے گھر کا جائزہ لیا تو پتہ چلا ، چور میرے گھر جھاڑو پھیر گئے ہیں۔
میں نے شادو کی شادی کے لئے جو کچھ بھی جمع کیا تھا وہ سب ایک صندوق میں رکھا تھا۔ وہ مردود صندوق کا سارا سامان نکال کر لے گئے اور خالی صندوق کو میرے کارخانے میں پھینک گئے ہیں ۔ جاتے جاتے وہ لوگ گھر کے بیرونی دروازے کو باہر سے کنڈی بھی لگا گئے ۔ وہ تو محلے والوں نے دروازہ کھول کر ہمیں جگایا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پتہ نہیں ، ہم کب تک بے خبری کی نیند سوتے رہتے۔ دستک دینے والوں کو بھی کچھ دیر کے بعد ہی پتہ چلا کہ دروازہ باہر سے بند ہے۔ ورنہ وہ اتنی زحمت نہ کرتے اور فوراً دروازہ کھول کر اندر آ جاتے ۔ بہر حال ! اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ بات کے اختتام پر نذیر احمد کا لہجہ روہانسا ہو گیا۔ شدت غم سے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ نذیر احمد ایک باپ تھا۔ اس نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کے لئے جو کچھ بھی جوڑ رکھا تھا، چور اسے اُڑا لے گئے تھے۔ یہ بڑا تکلیف دہ واقعہ تھا۔ اس کا رنجیدہ اور غم زدہ ہونا عین فطری بات تھی۔ میں نے مزید پوچھ کچھ سے پہلے جائے واردات کا جائزہ لینا زیادہ ضروری سمجھا اور صمد خان کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ ہم دونوں گھر کے مختلف حصوں میں شواہد جمع کرنے لگے۔
نذیر احمد نذیر بوتلوں والا کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں دیسی بوتلیں بھرنے کا ایک چھوٹا سا پلانٹ لگا رکھا تھا۔ بوتلیں برانڈ ڈ نہیں تھیں لہٰذا وہ نہایت ہی کم قیمت پر انہیں فروخت کرتا تھا۔ آس پاس کی چھوٹی بستیوں اور محلوں میں اس کی تیار کردہ کولڈ ڈرنکس بہت چلتی تھیں۔ وہ اپنے کارخانے میں چار قسم کی بوتلیں یعنی دومٹو، لیمن، روز اور اورنج تیار کرتا تھا۔ و مٹو کوک کی ، لیمن سیون اپ کی ، اور نج فانٹا کی نقل تھی اور ذائقے میں یہ بوتلیں اصل سے بڑی حد تک ملتی جلتی تھیں جبکہ روز سوڈا واٹر پر مشتمل تھی ۔ سرخ رنگ کی یہ بوتل موسم گرما میں زیادہ چلتی تھی کیونکہ لوگ دودھ سوڈا بنانے کے لئے اسے استعمال کرتے تھے ۔ گلابی رنگ کا دودھ سوڈا گرمی کا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ جس کمرے میں نذیر احمد نے بوتلیں بھرنے والا پلانٹ نصب کر رکھا تھا اسے وہ اپنا کارخانہ کہتا تھا اور یہ کوئی غلط بات بھی نہیں تھی۔ گھر کا وہ خانہ، کار کے لئے استعمال ہو رہا تھا لہذا کارخانہ ہی تو تھا ! اس گھر میں کل تین کمرے تھے۔ گھر کے بیرونی حصے میں داخلی دروازے کے ساتھ کارخانہ واقع تھا۔ اس کے بعد کشادہ صحن تھا۔
گھر کے پچھلے حصے میں مزید دو کمرے موجود تھے جن میں سے ایک اچھا خاصا بڑا اور مربع شکل کا تھا جبکہ دوسرا مستطیل صورت میں تھا۔ اسی مستطیل کمرے کی سیدھ میں باورچی خانہ، غسل خانہ اور ٹوائلٹ وغیرہ تھا۔ بڑے کمرے کے سامنے برآمدہ واقع تھا۔ وقوعہ کی رات گھر کے تینوں افراد اسی مربع کمرے میں سوئے
تھے جبکہ قیمتی سامان سے بھرا ہوا صندوق مستطیل کمرے میں رکھا تھا۔ اس کمرے کی عقبی دیوار میں موکھلا نکالا گیا تھا!
گھر کے اندرونی حصے کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد میں مکان کے عقب میں پہنچ گیا۔ وہاں ایک وسیع و عریض میدان نظر آیا۔ میں یہ غور اس مو کھلے کا معائنہ کرنے لگا۔ جس کو دیکھ کر سکول کے بچوں نے شور مچایا تھا اور اس چوری کی اطلاع مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے تھانے پہنچی تھی۔ عقبی دیوار میں سے صرف اتنی اینٹیں نکالی گئی تھیں کہ ایک آدمی با آسانی گھر کے اندر داخل ہو سکے۔ اس مکان کی تعمیر میں سیمنٹ کی بجائے مٹی، گارے کا استعمال ہوا تھا۔ اینٹوں کی چنائی گارے سے کی گئی تھی اور دیواروں پر کسی قسم کا پلاسٹر وغیرہ بھی نہیں ہوا تھا۔ اگر چہ سیمنٹ کی بہ نسبت گارے والی چنائی کی اینٹوں کو اُکھاڑنا قدرے آسان ہوتا ہے لیکن اتنا آسان بھی نہیں کہ اس ٹھوکا پیٹی کی خبر اندر موجود افراد تک نہ پہنچ سکے۔ ہاں ، اگر کوئی بھنگ پی کر انشا فیل ہوا ہو تو دوسری بات ہے!
میں گھر کے عقبی حصے کے معائنے سے فارغ ہوا تو ایک مرتبہ پھر بوندا باندی کا آغاز ہو ۔ گیا۔ جب ہم تھانے سے روانہ ہوئے تھے تو ہلکی پھوار پڑ رہی تھی تاہم نظام آباد پہنچنے تک یہ سلسلہ رک چکا تھا۔ صمد خان نے بڑی عقل مندی کا ثبوت دیا تھا کہ اس نے اپنے ساتھ دو چھتریاں بھی رکھ لی تھیں ۔ اگر چہ ابھی تک ان چھتریوں کو کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ گھر کے اندر آنے کے بعد میں نذیر احمد کے کارخانے یعنی بوتل روم کے معائنے میں مصروف ہو گیا۔
یہ کمرا در حقیقت اس گھر کی بیٹھک تھی جسے نذیر کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کر رہا تھا۔ اس کمرے کے بیش تر حصے پر بوتل پلانٹ نے قبضہ جما رکھا تھا۔ ایک دیوار کے ساتھ بوتلوں والے کریٹ رکھے تھے۔ ان رچے ہوئے کریس میں آدھے خالی اور آدھے بھرے ہوئے تھے جن میں مختلف رنگ کی بھری ہوئی دیسی “کولڈ ڈرنکس موجود تھیں ۔ ایک کونے میں پانی والا ڈرم اور مختلف کیمیکلز کے چند ڈبے رکھے تھے۔
چور جاتے وقت قیمتی سامان والے صندوق کو اسی کمرے میں خالی کر کے چھوڑ گئے تھے۔ وہ صندوق در حقیقت ریگزین سے تیار کردہ ایک بڑا اٹیچی کیس تھا۔ گاؤں دیہات میں بعض لوگ اٹیچی کیس اور اس سے ملتی جلتی ہر شے کو صندوق ہی کہتے ہیں۔بہر حال، میں نے مذکورہ اٹیچی کیس کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ اس میں اکا دُکا کپڑوں اور پرانے اخبارات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ چور وہاں سے رخصت ہوتے وقت خالی انیچی کیس کو پانی والے ڈرم کے اوپر پھینک گئے تھے۔ میں نے ڈرم کے قریب فرش پر نگاہ ڈالی تو وہاں مجھے سگریٹ کا ایک پیکٹ پڑا ہوا دکھائی دیا۔ وہ قینچی مار کہ سگریٹ کا ایک پیکٹ تھا۔ میں نے جھک کر اس پیکٹ کو اٹھا لیا۔
ان دنوں قینچی مار کہ سگریٹ عوام میں بے حد مقبول تھا۔ ایک پیکٹ میں دس سگریٹ ہوتی تھیں۔ میں نے اس پیکٹ کو کھول کر دیکھا۔ پیکٹ کے اندر مجھے صرف تین سگریٹ نظر آئیں اور ان تین سگریٹ کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ انہیں کسی قسم کی کارروائی سے گزارا گیا ہو گا۔ اس کارروائی کا بین ثبوت بھی اس پیکٹ کے اندر موجود تھا۔
تجربہ کار سگریٹ نوش اس بات کی تہہ تک پہنچ گئے ہوں گے۔ نا تجربہ کاروں کے لئے عرض کرتا چلوں کہ اس پیکٹ میں رکھی ہوئی تینوں سگریٹ بھری ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں ہیروئن ہوتی تھی اور نہ ہی ویمپ، اول و آخر چرس ہی کی حکمرانی تھی یا پھر بھنگ بھی خاصی مستعمل تھی۔ یہ دونوں نشے نشہ بازوں میں بہت مقبول تھے۔ قصہ مختصر، قینچی مار کہ وہ تینوں سگریٹ چرس سے بھری ہوئی تھیں ۔ علاوہ ازیں چرس کی میانہ سائز دو ڈلیاں بھی پیکٹ کے اندر موجود تھیں۔ میں نے خاموشی سے اس پیکٹ کو اپنی جیب میں رکھ لیا۔غالب امکان اسی بات کا تھا کہ قینچی مار کہ سگریٹ کا وہ پیکٹ نذیر کا ہو گا۔
اتفاق سے میں اس وقت اکیلا ہی اس کارخانے کا معائنہ کر رہا تھا۔ نذیر احمد صمد خان کے ساتھ گھر کے اندرونی حصے میں تھا۔ میں کارخانے سے فارغ ہونے کے بعد باہر نکلا تو کانسٹیبل صمد خان کی صورت نظر آئی۔ وہ اس وقت باورچی خانے کے دروازے میں کھڑا تھا۔ مجھے اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کا جوش نظر آیا۔ اس جوش کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے باورچی خانے میں کوئی اہم شے دریافت کر لی ہو۔
میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ صمد خان ! کوئی خاص بات؟“
جی ملک صاحب ! ایک مس فٹ ملی ہے ! وہ ذو معنی لہجے میں بولا ۔
مس فٹ ؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔
اسی لمحے نذیر احمد ہمارے قریب پہنچ گیا۔ وہ خاصا دل گرفتہ اور تھکا تھکا سا دکھائی دیتا تھا۔ مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے دُکھی لہجے میں بولا ۔ تھانے دار صاحب! آپ چوروں کو پکڑ لیں گے نا ؟
میں پوری کوشش کروں گا نذیر احمد ! میں نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ ” نہ صرف یہ کہ وہ چور بہت جلد قانون کی گرفت میں آ جائے گا بلکہ میں اس کے پاس سے مال مسروقہ بھی برآمد کرلوں گا لیکن اس کام کے لئے مجھے تمہارے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔“
آپ جیسا تعاون چاہیں گے میں کرنے کو تیار ہوں ۔ وہ گلو گیر آواز میں بولا۔ بس کسی طرح آپ چوری ہونے والا سامان واپس لے آئیں۔ میں نے دن رات محنت کر کے شادو کی شادی کے لئے کپڑے اور طلائی زیور جمع کیا تو کیا تھا۔ نا مراد سب کچھ لے گئے ۔ اگر کے چوری ہونے والا یتی سامان واپس نہ آیا تو میری بیٹی کی شادی نہیں ہو سکے گی۔“
میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں نذیر احمد ! سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں تم تینوں کے بیانات لینا چاہتا ہوں ۔ پھر اس نے ادھر اُدھر نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا۔ اور اس کام کے لئے اطمینان سے کہیں بیٹھنا ہو گا۔“
وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیا اور جلدی سے بولا ” آپ اس کمرے میں آجائیں۔ میں آپ کے لئے کرسی رکھ دیتا ہوں ۔“
اس کا اشارہ بڑے، مربع کمرے کی جانب تھا۔ میں نے کانسٹیبل کو جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کرنے کی ہدایت دی اور خود نذیر احمد کے ساتھ مذکورہ کمرے میں آ بیٹھا۔ وہ مستطیل کمرے سے میرے لئے ایک کرسی اٹھا لایا تھا۔ مجھے کرسی پر بٹھانے کے بعد وہ خود چار پائی پر میرے سامنے بیٹھ گیا۔
نذیر احمد کی عمر پینتالیس اور پچاس کے درمیان رہی ہو گی ۔ وہ ایک دراز قد اور چھریرے بدن کا مالک تھا۔ رنگ سانولا اور ہاتھ پاؤں سے محنت کشی جھلکتی تھی۔ اس نے خاصی بھاری بھر کم مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے کے نقوش سے پتہ چلتا تھا، وہ خاصا ہنس مکھ اور زندہ دل ہو گا۔ تاہم موجودہ واقعے نے اس کی زندہ دلی کو گہنا کر رکھ دیا تھا۔
میں نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور اس سے پوچھا۔ نذیر احمد ! سب سے پہلے تو مجھے اس سامان کی تفصیل بتاؤ جو چوری ہوا ہے ۔ بات ختم کرتے ہی میں نے کاغذ قلم سنبھال لیا۔ جناب! کیا بتاؤں ۔” وہ دُکھی لہجے میں بولا ۔ دن رات خون پسینہ ایک کر کے میں نے شادی کی تیاری کی تھی ۔ کپڑا، زیورات ، نقدی سب چوری ہو گیا۔ مجھے نہیں امید ، لڑ کے والے اب سامان کے بغیر میری بیٹی کو بیاہنے پر تیار ہوں گے۔ حالانکہ لڑکا شادو کی سگی خالہ کا بیٹا ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں وہ لوگ نہایت ہی لالچی اور خود غرض ہیں ۔ وہ کسی بھی صورت بغیر جہیز کے اس رشتے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ بہر حال ! وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کی خاطر متوقف ہوا پھر افسردگی سے اضافہ کرتے ہوئے بولا ۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے، میں کون سا دکھڑا لے کر بیٹھ گیا ہوں ۔ آپ نے مجھے سے جو سوال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ” وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا اور اس کے بعد مجھے مال مسروقہ کی تفصیل بتانے لگا۔ “جناب! میں تولے سونے کے تو صرف زیورات ہی تھے۔ اس کے علاوہ دس جوڑے کپڑے کے تھے، آٹھ جوڑے دُلہن کے لئے اور دو جوڑے دُلہا کے لئے ۔ نقدی کی صورت میں بھی ایک ہزار کے نوٹ تھے۔“
اس زمانے میں ایک ہزار روپے کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ آج کل کی طرح کرنسی بے وقعت نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اس کے خاموش ہونے پر کہا۔
اللہ کے بندے ! تم نے نقدی، زیورات اور قیمتی ملبوسات کو ایک ہی اٹیچی میں بھر رکھا تھا۔ اگر یہ سامان مختلف جگہوں پر محفوظ کیا ہوتا تو تمہیں کم سے کم نقصان اٹھانا پڑتا ۔“
جناب تھانے دار صاحب! وہ اُداس نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمارے گھر چوری ہو سکتی ہے۔ آج تک اس گھر کی ایک سوئی یا سلائی ادھر سے اُدھر نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے اس گھر کو ۔” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ نذیر احمد ! جو کام کبھی نہیں ہوا ہوتا، وہ کبھی نہ کبھی ہو بھی جاتا ہے۔ اس لئے یہ سوچنا سراسر حماقت ہو گی کہ چوری کیوں اور کیسے ہو گئی۔ بہر حال، یہ بتاؤ کس کس کو یہ بات معلوم تھی کہ تم لوگوں نے اپنی بیٹی کی شادی کا سارا قیمتی سامان اور زیورات اس اٹیچی کیس میں رکھے ہوئے ہیں؟“
جناب! ہم آنے والے موسم بہار میں شادو کی شادی کرنے والے تھے ۔“ وہ تھکے ہوئے لہجے میں وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔ ” جس گھر میں شادی کی تیاریاں ہو رہی ہوں وہاں پائے جانے والے قیمتی سامان کی تو بھی کو توقع ہوتی ہے۔ ہمارے آس پڑوس والوں کو بھی خبر ہے کہ ہم نے شادو کے لئے کون کون سی چیز تیار کروائی ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
ہوں! میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ وہ ایک نارمل اور معقول بات کر رہا تھا۔ میں نے ایک لمحے کے توقف سے استفسار کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ نذیر احمد! یہ بات تو طے ہے، چور کوئی بھی ہے یا ہیں وہ اس بات سے بہ خوبی آگاہ تھا یا تھے کہ تم نے تمام قیمتی سامان ایک ہی اٹیچی میں چھپا رکھا ہے۔ چنانچہ وہ اس اٹیچی کیس کو صاف کر کے چلتا بنا یا بنے۔ اس واردات سے ظاہر ہوتا ہے، چور محض اس اٹیچی کیس کے لئے گھر میں گھسا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا، وہ تمہارے گھر کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ کیونکہ اگر یہ کسی نا واقف چور کا کارنامہ ہوتا تو وہ گھر کی دوسری چیزوں کو بھی ضرور چیک کرتا ۔ صرف اٹیچی کیس پر ہی قناعت کر کے چلتا نہ بنتا۔ تم اس سلسلے میں کیا کہتے ہو؟“
میں آپ کی بات سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوں تھانے دار صاحب! وہ گہری سنجیدگی سے بولا ۔ کیونکہ آپ نے ایک سچی اور منطقی بات کی ہے۔ مجھے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔
اگر تم واقعی ایسا محسوس کر رہے ہو تو پھر تمہیں یہ بھی اندازہ ہو گا، یہ کام کس کا ہو سکتا ہے؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں جناب! میں اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا۔ خواہ مخواہ کسی پر الزام لگانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ مجھے مر کر اپنی قبر میں جانا ہے تھانے دار صاحب!
مرنے کے بعد سب کو اپنی ہی قبر میں ابدی نیند سونا ہوتا ہے۔“ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ ”میرے پوچھنے کا مقصد صرف اتنا سا تھا کہ آیا تمہیں کسی پر شک تو نہیں ہے؟“ وہ چند لمحات تک سوچنے کے بعد بولا ۔ نہیں جناب! مجھے کسی پر شک نہیں ۔“ تمہارے دونوں طرف والے پڑوسی کیسے لوگ ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
بہت اچھے لوگ ہیں ۔ اس نے جواب دیا۔ ”ہم لوگ برسوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں لیکن کبھی کسی کو کسی سے شکایت کا موقع نہیں ملا۔ یہ لوگ تو شادو کی شادی کی تیاریوں میں -جی جان سے ہمارا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شادو میری نہیں بلکہ ان کی اپنی لا بیٹی ہو۔ ان لوگوں پر چوری کے حوالے سے معمولی سا شک کرنا بھی گناہ ہو گا تھانے دار -صاحب !
اس کا مطلب ہے تم کسی خاص بندے یا بندوں پر شک کا اظہار کر رہے ہو ۔ میں نے -پر سوچ انداز میں کہا۔ چوری کے کیس میں اگر کچھ لوگ نشانے پر آجائیں تو تفتیش میں بڑی 1 آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بہر حال، اس سلسلے میں مجھے شواہد کا سہارا لینا پڑے گا۔ جلد یا بہ دیر، میں چوری کے ذمے داروں تک پہنچ ہی جاؤں گا ۔“
وہ منت ریز لہجے میں بولا ۔ تھانے دار صاحب! جتنی بھی جلدی ممکن ہو، آپ شادو کی ۔ شادی کا سامان برآمد کروا لیں ۔ اگر دیر ہو گئی تو میری بیٹی کی شادی کھٹائی میں پڑ جائے گی۔ ف اللہ آپ کو اس نیکی کا بہت ہی عظیم اجر دے گا۔
میں نے کہا۔ – اجر اور ثواب والا معاملہ تو سراسر اس ذات کے ہاتھ میں ہے جو کل تے کائنات کا مالک و مختار ہے۔ میں کسی لالچ اور امید میں نہیں بلکہ اپنا فرض جان کر اس کیس کو تو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تم حوصلہ رکھو، تمہاری بیٹی کی ڈولی ضرور اٹھے گی اور اسی گھر سے اٹھے گی اپنے مقررہ وقت پر “ اپنے پر وہ ممنونیت بھری نظر سے میری طرف دیکھنے لگا۔
میں نے پوچھا۔ تم نے بتایا ہے، شادو کے ہونے والے سسرالی بہت خود غرض اور لالچی قسم کے لوگ ہیں اور اس چوری کی وجہ سے وہ اس شادی سے انکار بھی کر سکتے ؟ ہیں۔ تم نے ایسے کم ظرف لوگوں میں بیٹی کا رشتہ کیسے طے کر دیا؟“
اس نے ایک لمحہ سوچتی ہوئی نظر سے مجھے دیکھا پھر قدرے دھیمے لہجے میں بولا۔ ”جناب! میں تو حور جہاں کے بیٹے کو رشتہ دینے کے لئے بالکل تیار نہیں تھا لیکن کیا کروں، اپنی بیوی کی وجہ سے مجبور ہوں۔ اس کا سارا زور اپنی بہن کے گھر کی طرف ہے۔ میں اس رشتے کی مخالفت کر کے اپنے گھر کو جنگ کا میدان نہیں بنا سکتا جناب! یہی سوچ کر خاموش تھا کہ چلو نور جہاں اپنا شوق پورا کر لے۔ لیکن اب تو اس کا شوق بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ میں جانتا ہوں ، وہ لوگ انتہائی طوطا چشم اور مطلبی ہیں۔ شادو کے جہیز کا تمام قیمتی سامان تو چور لے گئے ۔ اب وہ کوئی بھی داؤ مار کر اس رشتے سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں ۔“
نذیر احمد کے انداز سے مجھے یہ محسوس کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں ہوا کہ وہ ایک امن پسند اور صلح : شخص تھا اور ہر امن پسند ، مصلحت کوش اور دور اندیش شوہر کی طرح وہ اپنی بیوی نور جہاں سے ڈرتا بھی تھا۔ اسی لئے بیوی کے ذکر پر اس نے اپنی آواز کو خاصا دھیما کر لیا تھا جیسے خدشہ ہو کہ وہ سن لے گی اور میرے رخصت ہونے کے بعد وہ اس کی کھچائی کر نے وہ کی ڈالے گی۔
ہمارے ایک ڈی ایس پی صاحب ہوا کرتے تھے۔ نام تو ان کا اللہ یار تھا لیکن وہ اللہ کے بندوں کے بھی گہرے دوست تھے۔ انتہائی ہمدرد اور مخلص ۔ خانگی زندگی کے بارے میں ان کا وسیع تجربہ تھا، خاص طور پر میاں بیوی کے معاملات میں انہیں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں ان کے فتوے کو رد کرنا یا غلط ثابت کرنا ناممکنات میں سے تھا۔ وہ کہا کرتے تھے، انسان کا گھر اور باہر کی زندگی دو انتہائی مختلف محاذ ہیں جن میں بہ یک وقت آپ کو کامیابی نہیں مل سکتی۔ کامیابی کے لئے آپ کو کسی ایک محاذ کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ ایک محاذ کا فالح بننے کے لئے دوسرے محاذ پر ہتھیار پھینکنا ضروری ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گھر کے اندر خصوصاً بیوی پر آپ کی حکمرانی ہو تو آپ گھر سے باہر بہت سے لوگوں کی غلامی کے لئے تیار ہو جائیں، چاہے صورت کوئی بھی رہے۔ اور اگر آپ دنیا والوں پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں تو پھر بیوی کی عمل داری میں آجائیں۔ اس فتوے کے اختتام پر وہ قہقہ لگاتے ہوئے یہ بھی کہتے تھے، جو شوہر اپنی بیویوں سے ڈرتے ہیں وہ سیدھے جنت میں جائیں گے ۔“
ڈی ایس پی اللہ یار صاحب اب مرحوم ہو چکے ہیں۔ زندگی میں ہمیشہ ان کا یہ دعوئی رہا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بہت ڈرتے ہیں۔ اس وقت وہ جنت میں ہیں یا نہیں، اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہیں اپنی آنکھوں سے جنت میں زندگی گزارتے ہوئے دیکھنے کے لئے ”انا للہ ہونا شرط ہے۔ البتہ جب تک وہ زندہ رہے، میں نے انہیں اپنے شعبے میں بادشاہت کرتے ہی دیکھا تھا۔
نذیر احمد کے انداز کو دیکھ کر بے ساختہ مجھے اللہ یار کی یاد آگئی تھی۔ اگلے ہی لمحے میں دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہو گیا اور پوچھا۔
نذیر احمد! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چور تمہارے گھر کی عقبی دیوار کو توڑ کر اندر گھسے تھے اور واپسی کے لئے انہوں نے بیرونی دروازہ استعمال کیا اور جاتے جاتے باہر سے کنڈی لگا کر تم تینوں کو گھر کے اندر بند بھی کر گئے ۔ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ جس دوران چور تمہارے گھر کی دیوار توڑ رہے تھے، تمہیں خبر کیوں نہ ہوئی۔ تم لوگ مردوں جیسی بے خبر نیند کیوں سو رہے تھے؟“
یہی بات تو اب تک میری سمجھ میں بھی نہیں آئی ۔“ وہ اپنی پیشانی کو مسلتے ہوئے بولا ۔ ہم تینوں حسب معمول رات کو سوئے تھے۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ میں فجر کی نماز با جماعت ادا کرتا ہوں لیکن آج صبح میری آنکھ نہیں کھل سکی بلکہ صبح کیا، ہمیں تو آس کل تشکی بلکہ تو پڑوس والوں نے دروازہ پیٹ پیٹ کر اس وقت جگایا ہے جب سورج کو طلوع ہوئے اچھا خاصا وقت گزر چکا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ آج بارش کی وجہ سے سورج کو دیکھنا ممکن نہیں !
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ” کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ تینوں نے رات کے کھانے میں کوئی ایسی ویسی شے کھالی ہو جس نے معمول کی نیند کو گہری بے ہوشی میں بدل دیا ! ایک لمحے کے توقف سے اضافہ کرتے ہوئے میں نے معنی خیز لہجے میں مزید کہا۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے، ایسی کوئی نشہ آور شے کسی نے آپ لوگوں کو دانستہ کھلا دی ہو؟“ و لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے تھانے دار صاحب؟“ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔ کیا کیسے ہو سکتا ہے؟“ میں نے الٹ اس سے پوچھ لیا۔
وہ گڑ بڑائے ہوئے لہجے میں بولا ۔ جناب! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے گھر میں پکا ہوا کھانا کھایا تھا۔ کوئی بھی شے باہر سے لا کر نہیں کھائی گئی۔ ہم تینوں کے سوا اس گھر میں کوئی چوتھا فرد بھی موجود نہیں تھا جو اس پر شک کیا جائے اور ہم میں سے کوئی ایسی حرکت کیوں کرے گا۔ ہم سب کا مفاد ایک دوسرے سے بندھا ہوا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم تینوں میں سے کوئی چوروں کے ساتھ مل گیا ہو اور اس نے ان کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھانے میں کوئی خواب آواز چیز ملا دی ہو ۔ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے !
اصولاً تو آپ میں سے کسی کو بھی ایسا سوچنا اور کرنا نہیں چاہئے ۔“ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا۔ پھر اچانک اس سے سوال کیا۔ نذیر احمد ! تمہارے گھر میں کھانا پکانے کی ذمے داری کس کے سر ہے؟“
میری بیٹی شادو بڑی ہی سمجھ دار اور خدمت گزار ہے تھانے دار صاحب! وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔ جھاڑو پونچھا، کپڑوں کی دُھلائی سے لے کر کھانے پکانے تک ہر کام اسی نے سنبھال رکھا ہے۔ اپنی ماں کو تو وہ باورچی خانے کی طرف جانے بھی نہیں دیتی ۔ ایسی سگھڑ اور سلیقہ شعار بیٹیاں تو قسمت والوں کو ملتی ہیں ۔
اللہ تمہاری بیٹی کا نصیب اچھا کرے نذیر احمد ! میں نے دعائیہ انداز میں کہا پھر پوچھا۔ ”کل رات کو تمہارے گھر میں کون سا کھانا پکا تھا؟
سالن تو شلجم گوشت کا تھا۔ نذیر احمد نے جواب دیا۔ ” اس کے ساتھ تنور کی روٹی تھی۔ کر کھانا کھایا تھا۔ اس کے بعد سونے کے لئے اس ہم تینوں نے باورچی خانے میں بیٹھ کر کھ ہم کمرے میں آگئے تھے۔“
کیا تم لوگ روزانہ اسی کمرے میں سوتے ہو؟“ میں نے سوال کیا۔
اس نے اثبات میں جواب دیا۔
میں نے پوچھا ۔ وقوعہ کی رات یعنی گزشتہ رات تم لوگ لگ بھگ کتنے بجے سونے کے لئے لیٹ گئے تھے؟“
میرا خیال ہے ، اس وقت کم و بیش نو بجے تھے ۔“ اس نے جواب دیا۔
اور رات کا کھانا تم لوگوں نے کتنے بجے کھایا تھا؟“
آٹھ بجے۔“
اس کے جواب نے مجھے اُلجھا دیا۔ تھوڑی دیر پہلے اس نے مجھے بتایا تھا کہ کھانا کھانے کے بعد وہ سونے کے لئے اس کمرے میں آگئے تھے۔ کھانا آٹھ بجے کھایا گیا اور نو بجے وہ لوگ سونے کے لئے بستر پر پہنچے اس حساب سے کھانا کھانے میں کم و بیش ایک گھنٹہ لگا اور یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی۔ میں نے جب اس سلسلے میں نذیر احمد سے استفسار کیا تو وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔
جناب! بات دراصل یہ ہے کہ رات کا کھانا تو ہم نے آٹھ بجے ہی کھایا تھا اور کھانا کھاتے ہی بستر پر بھی آگئے تھے لیکن اس کے بعد چائے کا ایک دور بھی چلا لہذا ہمارے سونے تک رات کے نو بج گئے ۔“
اس کی وضاحت اپنی جگہ مکمل تھی لیکن مجھے کرید ہی کے ذریعے اس کیس کے کسی سرے
تک رسائی حاصل ہو سکتی تھی لہٰذا سوالات کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھ لیا۔
کیا آپ لوگ روزانہ رات کو سونے سے پہلے چائے پینے کے عادی ہیں؟“
ایسی کوئی بات نہیں جناب! وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔ ” بلکہ میں تو اس وقت چائے پینے کے سخت خلاف ہوں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا فرمائشی پروگرام بھی ہو جاتا ہے۔ یا پھر گھر میں کوئی مہمان آیا ہوا ہو تو اس کی خاطر چائے بن جاتی ہے۔
کیا گزشتہ رات تمہارے گھر میں کوئی مہمان آیا ہوا تھا ؟“
اس نے نفی میں جواب دیا۔
میں نے پوچھا ۔ اس کا مطلب ہے، تمہارے گھر میں گزشتہ رات جو چائے بنی وہ ایک فرمائشی پروگرام تھا۔ تم تو رات کو چائے پینے ۔ کے سخت خلاف ہو۔ مجھے بتاؤ ، رات تمہارے گھر میں کس کی فرمائش پر چائے بنی تھی ؟“
”میری بیوی نور جہاں کی فرمائش پر۔ جہاں کی فرمائش پر ۔“ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں بتایا۔
اوہ! میں نے ایک گہری سانس خارج کی۔ بیوی کی فرمائش کے آگے تو تم دم مارنے کی ہمت نہیں کر سکتے ۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟“
وہ نگاہ چراتے ہوئے بولا۔ ” آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
میں نے اسے شرمندگی سے بچانے کے لئے موضوع بدل دیا اور پوچھا۔ نذیر احمد ! تمہارے دشمنوں کی تعداد کتنی ہے؟“
جناب! میں نے کبھی کسی کو دشمن بنانے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ سادگی سے بولا ۔ ” میں نہیں سمجھتا، کوئی شخص اپنے دل میں میرے لئے مخالفانہ جذبات رکھتا ہو۔“ ایک لمحے کے توقف سے وہ اضافہ کرتے ہوئے بولا ۔ ویسے آپ نے یہ دشمنوں والی بات کیوں پوچھی “ہے؟
اس لئے پوچھی ہے کہ تمہارے گھر میں گزشتہ رات جو واقعہ پیش آیا ہے وہ کسی دوست کا کارنامہ تو نہیں ہو سکتا۔ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ” جس گھر میں بیری کا درخت لگا ہو وہاں پتھر تو آتے ہی رہتے ہیں ۔ تم میرا اشارہ سمجھ رہے ہونا ؟“
وہ متاملانہ لہجے میں بولا۔ کچھ کچھ سمجھ رہا ہوں ۔ اگر آپ وضاحت کر دیں تو مہربانی ہو گی۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں نذیر احمد ! میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ” کیا تمہاری بیٹی کے لئے کہیں سے کوئی اور رشتہ بھی آیا ہے؟“

فتنہ گر – دوسرا حصہ (ملک صفدر حیات)