Urdu Stories Malik Safdar Hyat

فتنہ گر – پانچواں حصہ (ملک صفدر حیات)

نہیں جانتا تھا، چوہدری نثار کو مجھ سے کس نوعیت کا کام ہے اور اس کی حویلی میں مجھے کتنا وقت لگ جائے گا لہٰذا عقل مندی کا تقاضا یہی تھا کہ اپنے روزمرہ کے کام نمٹانے کے بعد ہی ادھر کا رخ کیا جاتا۔ میری رہائش تھانے سے ملحق سرکاری کوارٹرز میں تھی اور میں آٹھ بجے تک اپنے ضروری کام ختم کر لیتا تھا۔
​چوہدری نثار کی عمر ساٹھ سے متجاوز تھی۔ ہمارے درمیان اچھی یاد اللہ تھی۔ وہ روایتی چوہدریوں سے ہٹ کر خاصا مختلف اور معاملہ فہم آدمی تھا۔ میں نے اسے صلح جو اور امن پسند پایا۔ وہ دنگا فساد اور پنگے بازیوں سے دور رہنے والا شخص تھا۔ قانون کا احترام کرتا تھا اور بے انتہا اثر و رسوخ والا ہونے کے باوجود بھی کبھی اس نے اپنی طاقت اور اختیار کا غلط استعمال کر کے کسی کمزور اور بے کس انسان کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی تھی۔ میں ان شریفانہ طور طریقوں کے باعث اس بھلے مائنس چوہدری کو پسند کرتا تھا۔ ہمارے درمیان استوار دوستانہ مراسم کی وجہ بھی یہی تھی۔
​آٹھ بجے میں پندرہ منٹ باقی تھے کہ ایک کانسٹیبل نے میرے کوارٹر کا دروازہ کھٹکھٹا کر یہ اطلاع دی ”ملک صاحب! وڈے چوہدری کا بندہ تانگے لے کر آیا ہے۔“
​چوہدری نثار حسین آف سکھیکی کو لوگ وڈا چوہدری بھی کہتے تھے۔ میں نے اطلاع فراہم کرنے والے کانسٹیبل سے کہا۔
​”جبار! تم سلطان کو ادھر تھانے ہی میں بٹھاؤ، میں ابھی آتا ہوں۔“
​کانسٹیبل ”یس سر!“ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا۔
​جبار کے جانے کے بعد میں ضروری تیاری میں مصروف ہو گیا۔ اپنے کوارٹر میں آنے کے بعد میں یونیفارم اتار کر ہینگر پر لگا دیتا اور عوامی لباس میں آ جاتا۔ میں رات کا کھانا کھانے کے بعد عشاء کی نماز بھی ادا کر چکا تھا۔ کوارٹر چھوڑنے سے قبل مجھے صرف اتنا کرنا تھا کہ موسم کی مناسبت سے عمومی لباس کے اوپر کوئی گرم کپڑا پہن لیتا۔ کوئی جیکٹ، سویٹر یا کوٹ وغیرہ۔
​دس منٹ بعد میں اپنے کوارٹر سے نکل کر تھانے میں آ گیا۔ سلطان مردانہ اونی شال کی بکل مارے تھانے کے برآمدے میں میرا منتظر تھا۔ مجھ پر نگاہ پڑی تو وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے شبینہ ڈیوٹی والے ایک اے ایس آئی کو ضروری ہدایات دیں اور سلطان کے ہمراہ تھانے سے روانہ ہو گیا۔ تھانے سے باہر، چاردیواری کے ساتھ ایک سجا سجایا تانگا موجود تھا۔ ہم مذکورہ تانگے میں بیٹھے اور کوچوان نے تانگے کو موضع سکھیکی کی جانب بڑھا دیا۔ سواری چوہدری نثار حسین نے میرے لیے بھیجی تھی۔ سکھیکی، جمال پور تارڈ سے محض دو میل کی دوری پر واقع تھا لہٰذا تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم چوہدری کی حویلی میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
​چوہدری نثار نے مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا۔ اس کا شاندار کمرہ حویلی کے ایک دور افتادہ اور پُرسکون گوشے میں واقع تھا اور چوہدری اس وقت کمرے میں اکیلا ہی تھا۔ وہ ایک قیمتی اور گداز لحاف اوڑھے، تکیے سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھا۔ کمرے کو گرم کرنے کے لیے آتش دان میں آگ روشن تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
​ہمارے درمیان ایک پُرخلوص اور گرم جوش مصافحہ ہوا پھر رسمی علیک سلیک کے بعد اس نے مجھے تشریف رکھنے کو کہا۔ چوہدری کے بستر کے نزدیک ہی ایک آرام دہ صوفہ سیٹ موجود تھا۔ میں بہ آہستگی ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ مجھے چوہدری کے کمرے تک سلطان نے پہنچایا تھا۔ چوہدری اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے میری خاطر مدارات کے لیے احکام صادر کرنے لگا۔
​میں نے بڑے واضح الفاظ میں کہہ دیا ”چوہدری صاحب! ابھی تھوڑی دیر پہلے میں بڑے بھرپور انداز میں رات کا کھانا کھا چکا ہوں اس لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں ۔“
​”آپ بھی کمال کرتے ہیں ملک صاحب!“ وہ دوستانہ بے تکلفی سے بولا۔ ”اس میں تکلف والی کون سی بات ہے۔ آپ نے کھانا کھا لیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ باقاعدہ کھانا نہ سہی مگر کھانے کے علاوہ بھی بہت سی نعمتیں ہوتی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے، آپ میری حویلی پر آئیں اور کچھ کھائے پئے بغیر ہی رخصت ہو جائیں۔“
​میں نے زیادہ مزاحمت نہیں کی اور چوہدری کی خواب گاہ کا جائزہ لینے لگا۔ وہ قیمتی سامان سے آراستہ ایک عالی شان اور کشادہ بیڈ روم تھا۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ اس حویلی میں آ چکا تھا لیکن حویلی کی بیٹھک تک محدود رہا تھا، اندرونی حصے میں داخل ہونے کا یہ پہلا موقع تھا۔ کھانے پینے کے حوالے سے چوہدری نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔ وہ نہایت ہی وضع دار اور متواضع طبیعت کا مالک تھا۔۔۔۔۔۔ کھانے اور کھلانے کا شوقین۔
​سلطان، چوہدری کے احکام کی تعمیل کے لیے کمرے سے رخصت ہوا تو میں نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے استفسار کیا۔ وہ اب پوری طرح میری جانب متوجہ تھا۔
​”چوہدری صاحب! خیریت تو ہے نا۔ آج آپ نے بڑے پُراسرار انداز میں مجھے بلایا ہے۔“
​وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد گمبھیر آواز میں بولا۔ ”ابھی تک تو خیریت ہی ہے۔“
​میں نے چوہدری کے اس گمبھیر انداز میں کسی بڑے طوفان کو چھپے ہوئے محسوس کر لیا۔ وہ گہری تشویش میں گھرا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ میں نے تھوڑی دیر اس کے مزید بولنے کا انتظار کیا۔
​جب اس کی گمبھیرتا میں کوئی کمی یا تعطل واقع نہ ہوا تو میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
​”چوہدری صاحب! میں محسوس کر رہا ہوں، آپ مستقبل قریب کے کسی بڑے اندیشے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ آپ نے کہا ہے، ابھی تک تو خیریت ہے۔ اس کا مطلب ہے، آپ کو آگے خیریت نظر نہیں آ رہی؟“
​”آپ کا اندازہ بالکل درست ہے ملک صاحب!“ وہ چونکتے ہوئے انداز میں میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”میں خدیجہ کی وجہ سے بلکہ۔۔۔۔۔۔ ریحانہ کے لیے بہت فکر مند ہوں۔“
​چوہدری نثار نے اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے خدیجہ اور ریحانہ کا حوالہ دیا تو میں الجھن آمیز نظر سے اسے دیکھنے لگا۔ میں ان دونوں خواتین کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا لہٰذا چوہدری کی تشویش اور فکر مندی کو ناپنا درست میرے اختیار میں نہیں تھا۔
​اس نے گویا میری سوچ پڑھ لی۔ میرے تذبذب کو بھانپتے ہوئے وضاحت کرنے والے انداز میں بولا۔ ”خدیجہ میری بڑی بیٹی ہے اور ریحانہ اس کی بیٹی یعنی میری دوتری (نواسی) ہے۔“ پھر ایک لمحے کے توقف سے اضافہ کرتے ہوئے اس نے پوچھا۔ ”ملک صاحب! آپ خدیجہ کے حالات سے تو اچھی طرح واقف ہیں نا؟“
​چوہدری کا یہ سوال میرے لیے خاصا مشکل تھا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا، اس کی تین اولادیں تھیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ خدیجہ سب سے بڑی تھی، اس سے چھوٹی زلیخا اور زلیخا سے چھوٹا چوہدری وقار حسین تھا جو چھوٹے چوہدری کے طور پر مشہور تھا۔ وقار کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ زلیخا شادی شدہ تھی۔ وہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی۔ خدیجہ بھی کسی زمانے میں شادی شدہ تھی لیکن اب ایک بیوہ کی حیثیت سے اپنے میکے میں رہتی تھی۔ کافی عرصہ پہلے اس کے شوہر چوہدری فرزند علی کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان سرسری اور بنیادی معلومات میں ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی جس کے سبب چوہدری نثار اچانک بہت زیادہ پریشان ہو جاتا۔ خدیجہ اور ریحانہ تو سالہا سال سے اس کی حویلی میں قیام پذیر تھیں۔ ریحانہ اسی حویلی میں پل بڑھ کر جوان ہوئی تھی۔
​چوہدری کے استفسار کے جواب میں، میں نے کہا۔ ”چوہدری صاحب! میں یہ تو جانتا ہوں، آپ کی بیٹی اپنی بیٹی کے ساتھ کافی عرصے سے یہاں رہ رہی ہے لیکن یہ اندازہ قائم نہیں کر سکتا کہ آپ ان دونوں کے حوالے سے اچانک اتنے فکر مند کیوں نظر آنے لگے ہیں۔ میں نے پہلے کبھی آپ کو اس انداز میں بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔“
​”آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں ملک صاحب!“ وہ ایک بوجھل اور طویل سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ ”ٹھہریں، میں آپ کو تھوڑی تفصیل بتاتا ہوں پھر بات آپ کی سمجھ میں آ جائے گی۔“
​میں ہمہ تن گوش ہو کر چوہدری نثار کی طرف دیکھنے لگا۔
​وہ چند لمحا ت تک گہری سوچ میں ڈوبا رہا پھر نپی تلی گفتگو کرنے لگا۔ میں اس کے بیان میں سے غیر متعلق باتوں کو حذف کر کے خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ میرے ساتھ ساتھ آپ بھی اس کیس کے پس منظر سے آگاہی حاصل کر لیں۔
​چوہدری نثار کی بڑی بیٹی خدیجہ کی شادی لگ بھگ سترہ سال پہلے چوہدری رحمت علی کے بیٹے چوہدری فرزند علی سے ہوئی تھی۔ فرزند علی موضع کوٹ جھمرا کا رہنے والا تھا۔ کوٹ جھمرا، موضع سکھیکی سے شمال مغرب میں واقع تھا۔ دونوں گاؤں کے درمیان آٹھ میل کا فاصلہ حائل تھا۔ البتہ اگر جمال پور تارڈ سے کوٹ جھمرا جانا ہوتا تو مغرب میں صرف چار میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔ موضع سکھیکی، جمال پور تارڈ سے جنوب مشرق کی سمت ایک خاص زاویے پر واقع تھا۔
​خدیجہ کی شادی ہوئی، پھر ایک سال کے اندر ہی اس کی گود ہری ہو گئی۔ یہ ایک خوشی کی خبر تھی لہٰذا سکھیکی اور کوٹ جھمرا کے دونوں چوہدری خاندان مسرت سے جھوم اٹھے۔ شادمانی کے ان لمحات میں وہ اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ زندگی بڑی سفاک اور دورخی ہے۔ اگر کبھی یہ خوشیوں سے معمور نظر آتی ہے تو اس پر قناعت کر کے نہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ کیونکہ جلد ہی اسے غموں سے بھر پور ہونا پڑتا ہے۔ یہ بڑی چال باز ہے۔ موقع محل تاڑ کر انسان کی توقعات کے برعکس بڑی صفائی اور خاموشی سے پینترے بدلتی رہتی ہے!
​دونوں خاندانوں کی خوشیوں کو اس وقت نظر لگ گئی۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریحانہ کی پیدائش کے بعد دونوں میاں بیوی کے درمیان زیادہ اتحاد اور اتفاق پیدا ہو جاتا۔ اولاد، والدین کے درمیان پائی جانے والی زنجیر کی سب سے اہم کڑی ہوتی ہے جو کسی پل ایسا کردار ادا کرتی ہے، دونوں کو باندھ کر، جوڑ کر رکھتی ہے۔ مگر خدیجہ اور فرزند علی کے معاملے میں یہ کڑی، یہ پل کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکا۔ ان کے بیچ تنازع کی ایسی فصیل اٹھنے لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے آسمان تک بلند ہو گئی۔ دونوں اپنی اپنی ذات کے قلعے میں محصور ہو کر رہ گئے۔ اس ذہنی اور قلبی دوری کے دوران ہی چوہدری فرزند علی کا انتقال ہو گیا۔
​فرزند علی کی موت کا ذمہ دار بے چاری خدیجہ کو ٹھہرایا گیا۔ سسرال میں سب لوگ اسے منحوس سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہ اس کی نند بشریٰ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک ڈائن ہے جو اس کے بھائی کو کھا گئی۔ ریحانہ اس وقت بہ مشکل ایک سال کی تھی۔ اس نوعیت کی صورتِ حال نے خدیجہ کا کوٹ جھمرا میں رہنا دوبھر کر دیا۔ ان حالات سے چوہدری نثار بھی بہ خوبی آگاہ تھا لیکن اپنی صلح جو طبیعت کے باعث وہ مصلحت کی کوئی راہ نکالنے کے لیے کوشاں تھا۔ تاہم اس سلسلے میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بالآخر یہی فیصلہ کیا گیا کہ خدیجہ اور ریحانہ کو سکھیکی واپس بلا لیا جائے۔
​کوٹ جھمرا کی زمین اور آسمان ان ماں بیٹی کے لیے اس قدر تنگ ہو چکے تھے کہ جب چوہدری نثار نے اپنے سمجھی چوہدری رحمت علی کو اس فیصلے سے آگاہ کیا تو دوسری طرف سے کسی قسم کی کوئی مخالفت یا مزاحمت پیش نہ کی گئی اور۔۔۔۔۔۔ خدیجہ اپنی بیٹی ریحانہ کو لے کر موضع سکھیکی آ گئی۔ یہ ایک طرح سے دونوں چوہدری خاندانوں میں غیر اعلانیہ قطع تعلق بھی تھا۔
​بیٹیاں اپنے ماں باپ کے لیے بوجھ نہیں ہوتیں۔ وہ تو ان کی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کے لیے انہیں اپنے گھر سے پرائے گھر رخصت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور یہ پرایا گھر در حقیقت ان کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ اگر وہ اس گھر کو اپنا لیں تو یہ پرایا گھر نمونہ جنت بن جاتا ہے۔ خدیجہ نے اس پرائے گھر کو جی جان سے اپنایا تھا لیکن اس کے نصیب میں اپنے گھر کا سکون نہیں لکھا تھا لہٰذا وہ واپس والدین کے گھر پہنچ گئی۔ اسی لیے یہ دعا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بچیوں کا نصیب اچھا کرے! کیونکہ نصیب کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس میں کسی امیر یا غریب کی بیٹی کی کوئی تخصیص نہیں۔ نصیب کوئی بکاؤ جنس نہیں کہ جسے خرید کر گھر میں ڈال لیا جائے۔
​خدیجہ کو اپنی بیٹی کے ساتھ میکے میں رہتے ہوئے کم و بیش پندرہ سال ہو گئے تھے۔ ریحانہ کی عمر اب لگ بھگ سولہ سال ہو چکی تھی۔ وہ میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی۔ دونوں چوہدری خاندانوں کے درمیان ماضی بعید کے اس تلخ واقعے کے بعد کسی قسم کا کوئی تعلق یا رابطہ نہیں تھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ ماضی کی راکھ میں دبی ایک چنگاری نے اچانک شعلے کا روپ دھار لیا۔
​اس شعلے کی تپش نے چوہدری نثار حسین کو پریشان کر دیا تھا اور اس نے اپنی فکر مندی شیئر کرنے کے لیے مجھے حویلی میں بلا لیا تھا۔ چوہدری کی دانست میں یہ ایک ایسا موذی شعلہ تھا جس کی روک تھام کے لیے اگر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے آتشیں طوفان کی شکل اختیار کر جائے گا کہ اس حویلی کے در و دیوار اور ان در و دیوار کے اندر بسنے والے افراد کو پلک جھپکنے میں چاٹ ڈالے گا۔
​میں نے چوہدری نثار حسین کی پوری گمبھیر گفتگو پوری توجہ سے سنی اور اس کے خاموش ہونے پر سوال کیا۔ ”چوہدری صاحب! ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد کوٹ جھمرا کے چوہدری سکندر علی کو اپنی بھتیجی ریحانہ کا خیال کیونکر آیا؟ وہ اس کی واپسی کے لیے کوئی خطرناک پلاننگ کیوں کر رہا ہے؟“
​چوہدری سکندر علی، مرحوم چوہدری فرزند علی کا چھوٹا بھائی تھا۔ ان کا باپ چوہدری رحمت علی بھی اب دوسری دنیا میں منتقل ہو چکا تھا۔ اس خاندان کے صرف دو افراد ہی باقی بچے تھے یعنی چوہدری سکندر علی اور اس کی بڑی بہن بشریٰ۔ بشریٰ، خدیجہ کی ہم عمر تھی۔ کوٹ جھمرا والی حویلی پر ان دونوں چوہدری سکندر علی کی حکمرانی تھی اور حویلی کے اندر یا باہر ہونے والے تمام فیصلوں میں اسی کا ہاتھ ہوتا تھا۔
​اس سے قبل کہ چوہدری نثار حسین میرے سوال کا جواب دیتا، سلطان انواع و اقسام کے لوازمات خورد و نوش سے لدی پندری چوپی ٹرالی کو دھکیلتے ہوئے کمرے میں آ گیا۔ ہم دونوں کے بیچ حائل خاموشی نے ڈیرا ڈال دیا۔
​سلطان کے جانے کے بعد چوہدری نثار نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ ”ملک صاحب! باتیں تو ہوتی ہی رہی ہیں، ساتھ ساتھ ہاتھ بھی چلاتے جائیں۔ قدرت نے یہ ساری نعمتیں ہم انسانوں کے لیے ہی تو پیدا کی ہیں۔“
​چوبی ٹرالی پر ڈرائی فروٹس کے علاوہ موسم سرما کی مناسبت سے مختلف نوعیت کی مخصوص گھریلو ڈشیں بھی موجود تھیں۔ کستوری والا مگتا دودھ بھی ایک جگ میں رکھا دکھائی دے رہا تھا۔ اگرچہ میں تھوڑی دیر پہلے شکم سیر ہو کر کھانا کھا چکا تھا تاہم چوہدری کا دل رکھنا مقصود تھا لہٰذا ایک محتاط رفتار سے اپنے ہاتھوں کو حرکت میں لے آیا۔
​چوہدری میرے سوال کے جواب میں گویا ہوا۔ ”ملک صاحب! اس بارے میں، میں نے بھی کافی غور وخوض کیا ہے کہ پندرہ سال گزر جانے کے بعد ان لوگوں کو ریحانہ کی واپسی کی کیوں سوجھ رہی ہے اور اس واپسی کے لیے وہ لوگ کوئی بھی خطرناک راہ اختیار کر سکتے ہیں!“ چوہدری لمحے بھر کو سانس لینے کے لیے متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
​”سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ سارا چکر خاندان کی بقا کے لیے چلایا جا رہا ہے۔“
​”خاندان کی بقا۔۔۔۔۔۔“ میں نے حیرت سے چوہدری کی طرف دیکھا۔ ”میں کچھ سمجھا نہیں جناب؟“
​”ملک صاحب! بات دراصل یہ ہے کہ“ چوہدری نثار نے کہنا شروع کیا۔ ”بڑے چوہدری رحمت علی کا عرصہ ہوا انتقال ہو چکا ہے۔ میرا جوائی (داماد) فرزند علی بھی گزر گیا۔
​اب آجا کر سکندر علی اور بشریٰ باقی بچے ہیں۔ بشریٰ کی شادی کو تیرہ چودہ سال گزر گئے لیکن ابھی تک وہ بے اولاد ہے۔ اس کی سسرال والوں نے اسے بانجھ قرار دے دیا ہے اور اس کا گھر والا آج کل دوسری شادی کے لیے پر تول رہا ہے۔ اولاد کی خواہش ایک فطری امر ہے جو ہر شادی شدہ انسان کے دل میں موجود ہوتی ہے۔ اپنے سسرالی حالات کے پیشِ نظر بشریٰ روٹھ کر میکے میں آ بیٹھی ہے اور جہاں تک چوہدری سکندر علی کی بات ہے تو وہ۔۔۔۔۔۔“
​چوہدری نثار نے جملہ ادھورا چھوڑ کر ایک گہری سانس لی پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔ ”اس کی شادی کو بھی آٹھ سال گزر گئے ہیں مگر ابھی تک اس حویلی کے آنگن میں کوئی پھول نہیں کھلا۔ پچھلے دنوں سننے میں آیا تھا کہ سکندر نے اپنا اور اپنی بیوی کا علاج ایک مستند حکیم سے کروایا ہے۔ حکیم نے انہیں کوئی قوی امید نہیں دلائی، بس خدا پر بھروسہ کرنے کو کہا ہے۔ ان حالات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر طبی انداز میں پاسی کا حادثے کے نتیجے میں سکندر اور بشریٰ چل بستے ہیں تو پھر کوٹ جھمرا کا چوہدری خاندان ختم ہو جائے گا، کوئی ان کا نام لیوا باقی نہیں بچے گا چنانچہ۔۔۔۔۔۔“ وہ ایک بار پھر سانس لینے کی غرض سے متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔
​”چنانچہ ان حالات میں سکندر علی کو اپنی بھتیجی کی بہت ’یاد‘ آ رہی ہے۔ ریحانہ اس کے بھائی فرزند علی کی بیٹی ہے، ان کے خاندان کا خون ہے۔ اگر وہ لوگ ریحانہ کو اپنے قبضے میں کر لیں تو ان کے خاندان کا نام زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ ہے سارا قصہ جناب!“
​”اوہ!“ میں نے ایک طویل سانس خارج کی اور کہا۔ ”قصہ تو میں نے سن لیا چوہدری صاحب! مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ ریحانہ اپنی ننھیال میں رہے یا ددھیال میں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ خاندان کی آخری نشانی تو موجود رہے گی۔ سب لوگ جانتے ہیں، ریحانہ چوہدری فرزند علی کی بیٹی ہے۔“
​”ملک صاحب! آپ کی بات تکنیکی اعتبار سے تو بالکل درست ہے۔“ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ”لیکن اگر اپنی شے اپنے قبضے میں ہو تو اس کا ایک الگ ہی مزہ ہوتا ہے۔ چوہدری سکندر پر یہ دھن سوار ہو گئی ہے کہ ریحانہ کو اس کی حویلی میں ہونا چاہئے۔“
​”اور اپنی اس دھن میں وہ خطرناک حدود کو عبور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔“ میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”آپ نے شروع میں یہی بتایا تھا نا چوہدری صاحب؟“
​”جی ملک صاحب! یہی بتاما تھا ۔“ اس نے سر کو اثباتی جنبش دی اور بولا۔ ”وہ ریحانہ کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی میں پڑنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔ ایسی کسی بھی کوشش سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بچی کا باپ چوہدری فرزند علی نہیں رہا۔ وہ ایک طویل عرصے سے اپنی ماں کے پاس ہے اور خوش ہے۔ اپنی ددھیال سے اسے شدید نفرت ہے۔ وہ کسی بھی صورت وہاں جانے کو تیار نہیں ہوگی۔ اگر کبھی یہ معاملہ کسی عدالت تک پہنچا بھی تو فیصلہ انشاء اللہ ہمارے ہی حق میں ہوگا۔ اس صورتِ حال کا چوہدری سکندر کو بھی بہ خوبی اندازہ ہے اسی لیے وہ ریحانہ کے حصول کی خاطر کوئی ٹیڑھی میڑھی راہ اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔“
​”چوہدری صاحب! آپ نے ریحانہ کے چچا چوہدری سکندر علی کے خطرناک ہتھکنڈوں اور ٹیڑھی راہ کا تو ذکر کر دیا لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا، اس نے ایسا کون سا منصوبہ بنایا ہے جس نے آپ کو اتنا فکر مند کر رکھا ہے؟“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
​وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ ”سکندر، ریحانہ کے اغوا کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔“
​”اغوا۔۔۔۔۔۔؟“ میں نے بے یقینی سے چوہدری نثار حسین کی طرف دیکھا۔
​”جی ہاں، یہی سننے میں آیا ہے۔“
​”آپ کو یہ اطلاع کس ذریعے سے ملی ہے؟“ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
​چند لمحے خاموش رہنے کے بعد چوہدری نے جواب دیا۔ ”مجھے تو یہ بات میرے بیٹے وقار حسین نے بتائی ہے۔ وقار کو اس کے ایک خاص بندے کی زبانی چوہدری سکندر کی اس سازش کا پتہ چلا ہے۔ اس طرح یہ بات مشتاق سے وقار تک اور پھر وقار سے مجھ تک پہنچی ہے ملک صاحب!“
​”اوہ!“ میں نے متاسفانہ انداز میں ایک گہری سانس لی اور سوال کیا۔ ”کیا یہ خاص بندہ مشتاق عرف مشتاق اپنے نظریے میں قابلِ بھروسہ شخص ہے؟“
​”وقار حسین، مشتاق پر خاصا اعتبار کرتا ہے۔“ چوہدری نے بتایا۔ ”مشتاق کا کافی عرصے سے ہمارے ساتھ ہے۔ اس کا سابقہ ریکارڈ شاندار رہا ہے۔“
​میں گہری سوچ میں ڈوب گیا، چند لمحات کے توقف کے بعد میں نے کہا۔ ”میں پہلی فرصت میں آپ کے صاحبزادے وقار حسین اور اس کے خاص بندے مشتاق سے ملنا چاہوں گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ویسے میرے خیال میں اگر چوہدری سکندر واقعی ریحانہ کے اغوا کے بارے میں سوچ رہا ہے تو یہ اس کی ایک احمقانہ حرکت ہوگی۔ پتہ نہیں، وہ ایسی نادانی کیوں کرنا چاہتا ہے۔“
​میرے اُلجھے ہوئے انداز کے جواب میں چوہدری نثار حسین نے بتایا۔ ”ادھر ون پورہ، میں آج کل ایک میلہ لگا ہوا ہے۔ دو دن پہلے وقار حسین، مشتاق کا کے ہمراہ میلہ دیکھنے گیا تھا۔ مشتاق کا ایک دیرینہ دوست نذیر احمد عرف جیدا موضع کوٹ جھمرا میں رہتا ہے۔ جیدا کا چوہدری سکندر کی حویلی میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے۔ یہ خطرناک خبر جیدا ہی نے مشتاق تک پہنچائی ہے۔ جیدا اپنے چند جن بیلیوں کے ساتھ وسن پورہ والے میلے میں آیا ہوا تھا چوہدری نثار حسین سانس ہموار کرنے کے لیے تھا پھر گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مستفسر ہوا۔ ”ملک صاحب! آپ نے چوہدری سکندر کی کون سی نادانی اور حماقت کا ذکر کیا ہے؟ میں کچھ سمجھ نہیں سکا۔“
​”چوہدری صاحب! یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے۔ اغوا کیا جائے یا کرایا جائے ایک ہی بات ہے اغوا ایک سنگین جرم ہے۔اگر چوہدری سکندر اس اس جرم کے ارتکاب کے لیے پر تول رہا ہے تو وہ اس جرم کو چھپا نہیں پائے گا۔ وہ ریحانہ کو اپنے خاندان کی آخری نشانی اپنی بقا کے طور پر حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر ہے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد ریحانہ کو اپنی حویلی میں رکھنا بھی چاہے گا۔ اس طرح اس کا یہ جرم بے نقاب ہو جائے گا۔ جب اس کا جرم کھل کر سامنے آ جائے گا تو پھر وہ سزا سے کیونکر بچ سکے گا۔ لہٰذا۔۔۔۔۔۔ میں نے معنی خیز انداز میں جملہ نامکمل چھوڑا پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد بات پوری کرتے ہوئے کہا۔
​”لہٰذا میرے خیال میں وہ ایسی حماقت کبھی نہیں کرے گا۔“
​”ہوں!“ چوہدری نثار نے پُرسوچ انداز میں ہنکارا بھرا۔ پھر آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے دبی زبان میں بولا۔ ”ملک صاحب! آپ نے وہ محاورہ تو سن رکھا ہو گا۔۔۔۔۔۔ نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری!“
​”ہاں!“ میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ ”میں آپ کی بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں چوہدری صاحب!“
​وہ پہلو بدلتے ہوئے مزید وضاحت کرنے لگا۔ ”ٹھیک ہے، میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ ریحانہ کو اغوا کرنے کے بعد حویلی کے اندر رکھنا چوہدری سکندر کے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ایک ناممکن کام ہوگا مگر اگر اس بات کو نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا نا کہ وہ محض دشمنی نکالنے۔۔۔۔۔۔ اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ قبیح قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اگر ریحانہ ان لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتی یا حاصل نہیں ہو سکتی تو پھر ہمارے پاس بھی کیوں رہے۔ میں جانتا ہوں، اگر ان لوگوں کو اپنے خون سے ذرا سی بھی محبت ہوتی، ریحانہ کا شمہ بھر خیال بھی ہوتا تو وہ اتنے طویل عرصے تک سکون سے بیٹھے نہیں رہتے، چوہدری سکندر ریحانہ کو اغوا کرانے کے بعد۔۔۔۔۔۔“ چوہدری نثار حسین سنسنی خیز انداز میں بات ادھوری چھوڑ کر اچانک خاموش ہو گیا۔
​یہ سمجھنے میں چنداں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ وہ آگے کیا کہنے جا رہا تھا۔ اس نے چونکہ دانستہ خاموشی اختیار کی تھی چنانچہ میں نے بھی کرید مناسب نہ سمجھی اور نہایت ہی ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔
​”فروحی باتوں کو چھوڑیں چوہدری صاحب! یہ بتائیں، میں اس سلسلے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جو بھی ممکن ہو سکا، میں ضرور کروں گا۔“
​”میں ریحانہ کی حفاظت کے لیے بہت فکر مند ہوں۔“ وہ گمبھیر انداز میں بولا۔
​”کیا آپ اپنی اس حویلی کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
​”کسی مائی کے لال میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ میلی نگاہ سے میری حویلی کی طرف دیکھ سکے۔“ چوہدری نثار کو تاؤ آ گیا۔ ”اگر بات اس حویلی یا پھر سکھیکی تک محدود ہوتی تو میں دیکھ لیتا، چوہدری سکندر کتنا بڑا سورما ہے۔“ وہ خاصے جوش میں بولتا چلا گیا۔ ”بات دراصل یہ ہے کہ ریحانہ کا اسکول آپ کے علاقے موضع جمال پور تارڈ میں واقع ہے۔ وہ میٹرک میں پڑھتی ہے۔ ایک دو ماہ بعد اس کے سالانہ امتحانات ہونے والے ہیں۔ اسے اسکول سے اٹھا کر گھر بٹھا دینا مناسب نہیں ہو گا۔ آخری دنوں میں جو پڑھائی اسکول میں کرائی جاتی ہے اس کی خاطر روزانہ اسکول جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔“ وہ سانس لینے کی خاطر ذرا دیر کو رکا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
​”ریحانہ روزانہ تانگے میں بیٹھ کر اسکول جاتی ہے۔ کوچوان ہمارے بھروسے کا بندہ ہے۔ اس تانگے کے علاوہ بھی ایک دو بندوں کو تانگے کے ساتھ بھیج سکتا ہوں لیکن اگر اس معاملے میں مجھے آپ کا تعاون بھی حاصل ہو جائے تو اطمینان ہو جائے گا۔ یہ تو آپ بھی مانیں گے کہ سکھیکی سے جمال پور تارڈ اور جمال پور تارڈ سے سکھیکی کا راستہ ریحانہ کے لیے غائباً محفوظ نہیں ہے کہ نشان زدہ نہیں ہو کر بیٹھ جائے ۔“
​”یہ تو آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“ میں نے تائیدی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ ”سکھیکی اور جمال پور تارڈ میں لگ بھگ دو میل کا فاصلہ حائل ہے اور یہ تمام تر راستہ کھیتوں اور کھلیانوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ اور اس حوالے سے خاصا غیر محفوظ بھی ہے۔“
​ملے لمحے بھر کو متوقف ہوا پھر گہری سنجیدگی سے کہا۔ ”چوہدری صاحب! میں آپ کی
​تشویش اور پریشانی کو بڑی تفصیل کے ساتھ سمجھ گیا ہوں اور فوری طور پر میرے ذہن اس مسئلے کا ایک حل بھی آ گیا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں مل جل کر اس معاملے کو ہینڈل کرنا چاہئے۔“
​”جی ہاں۔۔۔۔۔۔ فرمائیں ملک صاحب!“ چوہدری نثار بیڈ کی پشت گاہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہشاش بشاش لہجے میں بولا۔ ”بتائیں، آپ کے ذہن میں کیا بات آئی ہے؟“
​میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ”ریحانہ کو باقاعدگی کے ساتھ اسکول جانے دیں البتہ کوچوان کے علاوہ تانگے میں ایک نہایت ہی قابلِ بھروسہ بندے کا اضافہ کر دیں جو ہتھیار بند ہو تو زیادہ اچھی بات ہے۔ دوسری جانب میں ریحانہ کی حفاظت کا بندوبست کر دیتا ہوں ۔ اس کے اسکول کے باہر ایک سادہ لباس کانسٹیبل کو متعین کر دوں گا جو دوسروں کی نظروں میں آئے بغیر بڑی چابک دستی سے گرد و نواح پر گہری نگاہ رکھیں گے اور اگر ان کی طرف سے کوئی سرگرمی دکھائی دی تو آنِ واحد میں اس کا منہ توڑ جواب دینے کے قابل بھی ہوں گے۔ پھر جب ریحانہ واپس میں بیٹھ کر اسکول سے روانہ ہو گی تو دونوں کانسٹیبلوں میں سے ایک تھوڑا فاصلہ رکھ کر تانگے کے پیچھے اپنی سائیکل پر سکھیکی تک چلا آئے گا۔ اس کا انداز ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی عام مسافر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے۔ تعاقب کے حوالے سے کوئی بھی کانسٹیبل پر شک نہیں کر سکے گا۔ میرے تعینات دونوں کانسٹیبل باری باری یہ ڈیوٹی دیں گے لیکن اس سلسلے میں آپ کو ایک احتیاط لازمی برتنا ہو گی چوہدری صاحب!“
​میں نے سوالیہ انداز میں بات مکمل کی تو چوہدری بڑی بے تابی سے مستفسر ہوا۔ ”کون سی بات ملک صاحب؟“
​”دونوں کانسٹیبلوں کی تعیناتی اور نگرانی و تعاقب والی بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔“ میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ ”آپ ریحانہ یا کوچوان یا ان کے ساتھ بھیجے ہوئے بندے یا کسی بھی اور شخص کو اس بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نا؟“
​”جی، بالکل سمجھ رہا ہوں۔“ اس نے جوشیلے انداز میں سر کو اثباتی جنبش دی۔ ”بالکل بے فکر ہو جائیں۔ راز کی یہ بات ہم دونوں کے بیچ رہے گی۔“
​”بس تو پھر ٹھیک ہے۔“ میں نے مطمئن انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ ”میں کل اپنے حصے کا بندوبست کر دیتا ہوں۔ آپ اپنی ذمہ داری کو دیکھ لیں۔ علاوہ ازیں میں کوٹ جھمرا کے چوہدری سکندر علی کی بھی سن گن لیتا ہوں۔ ذرا پتہ تو چلے، وہ کن ہوائی پروں اڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔“
​”یہ کام آپ کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگا ملک صاحب!“ چوہدری نثار حسین نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”سکھیکی، کوٹ جھمرا، جمال پور تارڈ، ون پورہ اور عظیم آباد آپ کی عمل داری میں آتے ہیں۔ آپ اپنے تھانے کی حدود میں بادشاہ ہیں۔“
​میں نے اس ملاقات کے اختتام پر چوہدری سے پوچھا۔ ”میں آپ کے صاحبزادے چوہدری وقار حسین اور اس کے قابلِ اعتماد بندے مشتاق سے ایک مختصر سی میٹنگ کرنا چاہتا ہوں۔ کیا وہ دونوں اس وقت حویلی میں موجود ہیں؟“
​چوہدری نثار نے سلطان کو اپنے پاس بلایا اور وقار حسین و مشتاق کے بارے میں استفسار کیا۔ سلطان ”ابھی بتا تا ہوں چوہدری جی!“ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔
​چوہدری نثار حسین اپنی نواسی ریحانہ کی وجہ سے بے حد پریشان تھا اور اس پریشانی کا محرک وہ اطلاع تھی جو مشتاق اور چوہدری وقار سے ہوتے ہوئے بڑے چوہدری صاحب تک پہنچی تھی لہٰذا ان دونوں افراد کا ’انٹرویو‘ نہایت ہی اہم تھا تاکہ اس اطلاع کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ چوہدری سکندر علی آف کوٹ جھمرا کو اس تصدیق کے بعد ہی ’ڈٹھولا‘ جا سکتا تھا۔
​تھوڑی دیر بعد سلطان واپس آیا اور کر اس نے بتایا کہ مشتاق عرف مشتاق تو حویلی سے اپنے گھر جا چکا ہے اور چھوٹے چوہدری جی سو گئے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد چوہدری نثار نے مجھ سے کہا۔
​”ملک صاحب! اگر آپ کہیں تو میں ابھی مشتاق کو اس کے گھر سے بلوا لیتا ہوں۔ وہ ادھر ہی سکھیکی میں رہتا ہے اور وقار حسین۔“
​”اس کی ضرورت نہیں چوہدری صاحب!“ میں نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا۔ ”چھوٹے چوہدری صاحب کو سونے دیں۔ کافی دیر ہو گئی ہے اور مشتاق کو بھی کل دیکھ لوں گا۔ آپ ایسا کریں، کل کسی وقت ان دونوں کو میرے پاس تھانے بھیج دیں۔“
​اس وقت رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔ موسم سرما اپنے عروج پر تھا۔ پانچ، سوا پانچ بجے سورج اپنا مکھڑا چھپا کر بیٹھ جاتا۔ چھ بجے تک تو تاریکی اپنے پنکھ پوری طرح پھیلا کر ماحول کو اپنے رنگ میں رنگ چکی ہوتی۔ میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد چوہدری کی حویلی پہنچا تھا اور اب تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آدھی رات گزر چکی ہو۔ ​چوہدری نثار حسین نے مجھے یقین دلایا کہ وہ آئندہ روز میرے مطلوبہ افراد کو تھانے بھیج دے گا۔
​دو چار مزید ضروری باتوں کے بعد میں حویلی سے واپسی کے لیے روانہ ہو گیا۔ مجھے واپس تھانے پہنچانے کی ذمہ داری بھی سلطان کو ہی سونپی گئی تھی۔ لگ بھگ دس بجے رات میں اپنے کوارٹر میں تھا۔ ​آئندہ روز دوپہر کے وقت چوہدری وقار حسین اور اس کا قابلِ بھروسہ بندہ مشتاق میرے پاس تھانے میں موجود تھے۔ میں نے چوہدری نثار حسین سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دے کر ان سے کوٹ جھمرا کے چوہدری سکندر علی کے عزائم کے بارے میں استفسار کیا لیکن پندرہ بیس منٹ کی اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی نئی بات سامنے نہ آ سکی۔ چوہدری نثار حسین مجھے جو کچھ بتا چکا تھا، معاملہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ میں نے براہِ راست مشتاق کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
​”تم نے اپنے جس دوست کا ذکر کیا ہے، اس کا چوہدری سکندر کی حویلی سے کتنا گہرا تعلق ہے؟“
​”تعلق تو جیدے کا اس حویلی سے بڑا گہرا ہے تھانیدار صاحب!“ مشتاق نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔ ”اسی لیے تو اسے اتنی اہم بات کا پتہ چل گیا ورنہ وہ چوہدری سکندر کے ارادے تک کیسے پہنچ سکتا تھا۔ جیدے کا حویلی میں روزانہ آنا جانا ہوتا ہے۔ چوہدری سکندر اس سے کام لیتا رہتا ہے۔“
​”کیا کوٹ جھمرا کا چوہدری اس بات سے واقف ہے کہ جیدے کی تم سے دوستی ہے؟“ میں نے پوچھا۔
​”میرا خیال ہے، چوہدری سکندر یہ بات نہیں جانتا۔“
​”صرف خیال ہے۔ کیا تمہیں اس بات کا یقین نہیں؟“ میں نے اسے تیز نظر سے گھورا۔
​وہ میرے سوال کے جواب میں کچھ نہیں بولا، خاموش بیٹھا ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ میں مشتاق کے جوابات سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوا تھا۔ اگر واقعی جیدا اور مشتاق میں گہری دوستی تھی اور جیدا نے اسے اپنے آقا چوہدری سکندر علی کے ایک راز سے آگاہ کیا تھا تو اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ جیدا نے نمک حرامی کا ثبوت دیا تھا۔ اس روشنی میں مشتاق سے بھی کسی وقت ایسے رویے کی توقع کی جا سکتی تھی۔ اس بات سے یکسر انکار ممکن نہیں تھا کہ ہو سکتا ہے کسی نہ کسی حوالے سے مشتاق جیسے کردار کا مظاہرہ کر رہا ہو۔ مخالف کیمپوں میں دشمنوں کے آدمی ہوا ہی کرتے ہیں۔
​میں نے روئے سخن چوہدری وقار حسین کی طرف موڑا اور پوچھا۔ ”چوہدری صاحب! ون پورہ والے میلے میں آپ بھی مشتاق کے ساتھ گئے تھے جہاں جیدے نے مشتاق کو اس بارے میں بتایا۔ کیا جیدے نے آپ کے سامنے یہ اطلاع دی تھی؟“
​”نہیں۔“ اس نے بڑی شدت سے نفی میں گردن ہلائی۔ ”جب ان کے درمیان یہ بات ہوئی، میں موجود نہیں تھا۔“
​میں نے مشتاق کو تھوڑی دیر کے لیے باہر بھیج دیا۔ جب چوہدری وقار حسین میرے پاس رہ گیا تو میں نے قدرے دھیمے انداز میں اس سے استفسار کیا۔ ”چوہدری صاحب! آپ مشتاق کی بات پر کس حد تک یقین کر سکتے ہیں؟“
​”مشتاق کو مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“ چوہدری وقار حسین پُر اعتماد لہجے میں بولا۔ ”اس نے پہلے بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔ جیدے نے یقیناً اس سے یہ بات کی ہوگی۔“
​میں نے وقار حسین کی نظر میں مشتاق کو معتبر پایا تو اس سلسلے میں زیادہ کرید مناسب نہ سمجھی اور تسلی بخش انداز میں کہا۔
​”چوہدری چوہدری صاحب! آپ بالکل بے فکر ہو جائیں۔ میں اپنے طور پر معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ چوہدری سکندر کا ارادہ کیا ہے۔“
​”اس کا ارادہ تو میری سمجھ میں آ گیا ہے۔“ وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔ ”اور مجھے فکر مند ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے اس کی ہر چال کو ناکام بنانے کا بندوبست کر لیا ہے۔ ہم کوئی ادھر سکھیکی میں چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے۔“
​چوہدری وقار حسین خاصا غصیلا اور اکھڑ مزاج تھا۔ بھانجی والے معاملے نے اسے کچھ زیادہ ہی مکدر اور جنگ مزاج بنا دیا تھا۔ میرے پاس بھی وہ بڑے چوہدری کے کہنے پر آ گیا تھا ورنہ میں نے اس کی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ اپنے طور پر کوئی خطرناک منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے۔ اسی حوالے سے میں نے تنبیہی انداز میں کہا۔
​”تم جوش میں آ کر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنا وقار حسین! میں خود دیکھ لوں گا، اس معاملے کو کیسے نمٹایا جا سکتا ہے۔“
​اس نے ہاں یا نہ میں کوئی جواب نہ دیا اور سوچتی ہوئی نظر سے مجھے دیکھتا رہا۔ ​میں نے ضروری ہدایات کے بعد اسے رخصت کر دیا۔

فتنہ گر -چھٹاحصہ (ملک صفدر حیات)