ڈبیا اس باورچی خانے میں بڑی مس فٹ تھی۔“
اس ڈبیا کے اندر کیا ہے؟“ بے ساختہ میری زبان سے نکلا۔
آپ کھول کر دیکھ لیں جناب! وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔ ”ویسے اتنا بتا دوں کہ اس کے اندر نمک ہے اور نہ ہی چینی، میٹھا سوڈا ہے اور نہ ہی بیکنگ پاؤڈر، کوئی عمل انگیز ہے اور نہ ہی کوئی رنگ بسی حیرت ہی حیرت ہے جناب !
وہ بڑے سنسنی خیز انداز میں بات ختم کر کے خاموش ہوا تو میں نے ڈبیا کے ڈھکن کو گھما کر کھول لیا۔ اس کے اندر جھانک کر دیکھا۔ سب سے اوپر ایک نہ شدہ کاغذ رکھا ہوا تھا۔ اس کی تہ بندی پر نظر پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا، کسی تعویذ کے سوا وہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ میں نے اس تہ شدہ کاغذ کو باہر نکال لیا اور کھول کر جب دیکھا تو میرے اندازے کی تصدیق ہو گئی۔ تعویذ کے نیچے لگ بھگ آدھی ڈبیا میں ایک بے ذائقہ سفید رنگ کا پاؤڈر سا بھرا ہوا تھ
جس کے اندر سے ٹالکم پاؤڈر جیسی خوشبو بھی نکل رہی تھی۔
یہ سب کیا ہے صدر خان؟“ میں نے ہونٹ سکوڑتے ہوئے بے اختیار کہا ۔
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا ۔ میرے خیال میں یہ نذیر احمد ، اس کی بیوی اور بیٹی کی گہری نیند کا سبب ہے ایسی میٹھی اور غفلتا نہ نیند کہ چور بڑے مزے اور تسلی سے ان کے گھر کی عقبی دیوار کو توڑتے رہے اور انہیں مطلق خبر نہ ہوئی ۔ ملک صاحب! میں پورے وثوق ق سے کہہ سکتا ہوں ان تینوں کو گہری نیند میں پہنچانے کے لئے یہ پاؤڈر نما سفوف استعمال کیا گیا ہے۔ رات کے کھانے میں ملا کر یا پھر چائے میں حل کر کے ۔“
صمد خان نے بات مکمل کی تو صورت حال روز روشن کی طرح واضح ہو گئی۔ اس پاؤڈر کے لیبارٹری ٹیسٹ سے صمد خان کے دعوے پر تصدیقی مہر لگائی جاسکتی تھی۔ مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ بولا ۔
ملک صاحب! کل موقع کی کارروائی میں ہم اس طرح مصروف ہوئے کہ میں وہاں ایس ڈبیا کا آپ سے ذکر کرنا بھول گیا ورنہ باورچی خانے میں موجود جھوٹے برتنوں کو کیمیائی تجزیے کے لئے کسی لیبارٹری میں بھیجا جا سکتا تھا۔ مجھے یقین ہے، ان تینوں میں سے کسی نے کھانے یا چائے میں خواب آور دوا ملائی ہو گی ۔“
اگر چہ کا نسٹیبل صمد خان کے پاس اپنے دعوے کے لئے فی الحال کوئی ثبوت موجود نہیں تھا لیکن میرا ذہن بھی بے محابا اس رخ پر سوچ رہا تھا۔ باورچی خانے میں رکھے ہوئے جھوٹے برتن تو ہماری موجودگی ہی میں شادو نے دھو ڈالے تھے۔ انہیں لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بھیجنا بے کار تھا۔ البتہ تعویذ اور پاؤڈر نما سفوف والی اس ڈبیا کی مدد سے تفتیش کا کوئی نیا در کھولا جا سکتا تھا۔
میں نے اس ڈبیا کا ڈھکن ، ں ڈبیا کا ڈھکن بند کر دیا اور صمد خان کی طرف دیکھتے ہوئے کمبیر لہجے میں کہا۔ تمہارے دعوے کے مطابق اگر اس ڈبیا میں واقعی کوئی نشہ آور سفوف رکھا ہوا ہے تو پھر ڈبیا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں میں سے کسی کو کھانے یا چائے میں یہ سفوف ملانے کی ۔ ضرورت کیوں پیش آگئی۔ کیا ان میں سے کوئی چوروں سے ملا ہوا ہے؟ اس کی رضامندی اور تعاون سے چور نقب لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بظاہر تو یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔“
میں صورت حال کو مزید واضح اور حتمی بنانے کے لئے دانستہ صمد خان سے اختلافی انداز میں بات کر رہا تھا لیکن در حقیقت میرا ذہن بھی انہی خطوط پر سوچ رہا تھا۔ ان تینوں میں سے ایسی سنگین حرکت وہی کر سکتا تھا جو شادو کی شادی سے خوش نہ ہو!
ان لمحات میں میرا ذہن حیرت انگیز رفتار سے کام کر رہا تھا۔ نور جہاں نے اپنی مرضی اور ۔ بھر پور کوشش سے شادو کا رشتہ اپنے بھانجے جہانگیر سے طے کیا تھا لہذا اس شادی کے معترضین میں اس کو شمار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نذیر احمد اگر چہ اس شادی سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا لیکن اس کی فطرت اور مزاج کو دیکھتے ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا تھا وہ اپنی بیٹی سے کسی بھی صورت ایسی بھیا تک دشمنی نہیں کر سکتا تھا۔ باقی بچتی تھی شادو میرے ذہن نے بڑے خطرناک انداز میں سوچا، کیا شادو جہانگیر سے شادی نہیں کرنا چاہتی اور اس رشتے کو ختم کرنے کے لئے اسی نے کوئی سازش بنی ہے؟
میں اسی نوعیت کے خیالات سے نبرد آزما تھا کہ صمد خان کی مخصوص آواز نے میری سماعت تک رسائی حاصل کی۔ ملک صاحب ! مجھ سے اور بیٹھا نہیں جا رہا۔ میں تو اس ڈبیا کو جیب میں ڈال کر بھول ہی گیا تھا۔ گھر پہنچا تو بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ رات بڑی بے چینی میں گزری ہے۔ صبح تھانے آنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اسی لئے میں نے اپنی طبیعت کی خرابی کی اطلاع پہنچا دی تھی۔ لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے میری بیوی کپڑے دھونے کے لئے بیٹھی تو میری پتلون کی جیب میں سے اسے یہ ڈبیا مل گئی۔ اس نے ڈبیا مجھے دکھائی اور میں گرتا پڑتا ڈبیا کو لے کر آپ کے پاس آ گیا ہوں ۔ اب آپ جانیں اور آپ کا کام ۔ میں تو گھر جا رہا ہوں ۔ ؟ ہا ہوں۔ جیسے ہی طبیعت سنبھلے گی، میں ڈیوٹی پر آ جاؤں گا گا۔ بات ختم کرتے ہی وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
مجبوراً مجھے بھی اپنی سیٹ سے اٹھنا پڑا کیونکہ صمد خان کی طبیعت خاصی ابتر ہو رہی تھی۔ تیز بخار نے اسے بے بس کر رکھا تھا ، اوپر سے زکام نے حالت خراب کر رکھی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام لیا اور ہمدردانہ لہجے میں کہا۔
صمد خان ! تمہیں ٹھیک ٹھاک آرام کی ضرورت ہے۔ میں تمہیں گھر بھجوانے کا بندو بست کرتا ہوں ۔ جب تک تم پوری طرح فٹ نہ ہو جاؤ ، ڈیوٹی پر آنے کے بارے میں نہ سوچنا ۔ اگر مجھے تم سے کوئی ضروری کام پڑ گیا تو میں خود ہی رابطہ کرلوں گا۔“
پھر میں نے ایک کانسٹیبل کو آواز دے کر اپنے کمرے میں طلب کیا اور صمد خان کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی۔
اسے تانگے میں بٹھا کر پہلے سیدھا ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔ دوائی وغیرہ دلوانے کے بعد اس کے گھر پر چھوڑ دینا۔ پھر میں نے صدر خان کی طرف دیکھتے ہوئے دوستانہ لہجے میں استفسار کیا۔ تمہیں پیسوں وغیرہ کی ضرورت ہو تو بلا تکلف بتا دو۔“
نہیں ملک صاحب! اللہ کا بڑا کرم ہے۔ وہ نحیف مگر پر اعتماد آواز میں بولا۔ اور ویسے بھی ابھی تو مہینے کا آغاز ہی ہے۔ اس قسم کی ضروریات عموماً مہینے کے آخری ہفتے میں۔ پیش آیا کرتی ہیں ۔
میں نے بڑی محبت سے اس کا کندھا تھپتھپایا اور کانسٹیبل کے ہمراہ رخصت کر دیا۔ دو پہر کے کھانے کے دوران میں مسلسل نذیر احمد اور اس کے گھر ہونے والی چوری کے . بارے میں سوچتا رہا۔ پہلا شک فیروز کی طرف گیا تھا۔ مشکوک افراد کی فہرست میں اب شادو کا نام بھی شامل ہو چکا تھا۔ مرکزی کروم والی ڈبیا کے منظر عام پر آنے سے اس بات کے امکانات پیدا ہو گئے تھے کہ اگر شادو واقعی اس شادی کے لئے تیار نہیں تھی تو وہ چوروں کے ساتھ کسی بھی ایسے گٹھ جوڑ میں شریک ہو سکتی تھی جس کے نتیجے میں وہ شادی رک جائے ۔
شادی میں رکاوٹ کے آثار بڑے واضح نظر آ رہے تھے۔ میری سوچ نے پردہ تصور پر دو خاکے تیار کئے اور دونوں خاکوں کو ایک ایک نام سے پُر کر دیا۔ ایک خاکے میں شادو اور دوسرے میں فیروز کا نام چمکنے لگا۔ یہ ایک طرح کی تھیوری تھی۔ یعنی اگر وہ چوری شادو کی مرضی سے ہوئی تھی تو پھر چور فیروز بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن اس تھیوری کے لئے ایک لازمی شرط تھی اور وہ یہ کہ اس صورت میں دو طرفہ پسندیدگی کا ہونا ضروری تھا۔ اگر فیروز ، شادو کو پسند کرتا تھا تو شادو پر بھی لازم تھا کہ وہ اسے چاہتی ہو اور کسی بھی صورت جہانگیر والی شادی کو ٹالنا اس کا مقصد ہوتا کہ بعد میں فیروز سے سے اس اس کی شادی کے امکانات پیدا پیدا ہوسکیں ہوا اور اس منصوبہ بندی میں فیروز نے اس کا بھر پور ساتھ بھی دیا ہو!
جب انسان پوری توجہ سے کسی ایک نکتے یا نقطے پر غور کر رہا ہو تو نئی نئی راہیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ان لمحات میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ میرے ذہن میں جس تھیوری نے ایک نا دیدہ، متعدد زاویاتی اور دو رخی جال سا بن دیا تھا اسے تجربے کی کسوٹی پر پر کھنے کی ضرورت تھی تا کہ کوئی حتمی نتیجہ نکل کر سامنے آسکے۔
مجھے اپنی تھیوری کو پریکٹیکل سے گزارنے کے لئے دو کرداروں کی ضرورت تھی یعنی شادو اور فیروز کی تلاش کے لئے میں نے اے ایس آئی اور جمال کو بس اسٹینڈ کی جانب روانہ کر رکھا تھا۔ شادو کی خبر گیری کے لئے میں نے خود نظام آباد جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر میں طریقے سلیقے سے شادو کو ٹولتا تو کامیابی کے بڑے روشن امکانات تھے۔ میں نے سہ پہر تین بجے تک جمال کی واپسی کا انتظار کیا۔ جب وہ نہیں آیا تو میں کانسٹیبل شکور کے ساتھ نذیر احمد بوتلوں والا کے گھر کی سمت روانہ ہو گیا۔
××××
نذیر احمد مجھے اپنے گھر کے پچھواڑے ملا۔ وہ اینٹیں رچ کر اس مو کھلے کو بند کر رہا تھا جو کسی سفاک چور کی بڑی ہی بے رحم شیطانی کے نتیجے پر وجود میں آیا تھا۔ گزشتہ روز میں اس کے گھر سے رخصت ہوتے وقت اس مو کھلے کے بارے میں ہدایات دینا بھول گیا تھا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے اس سے کہا۔ نذیر احمد ! میں نے اس چین کے حوالے سے جائے واردات کی ضروری کارروائی مکمل کر لی ہے۔ پولیس رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔ تم چاہو تو اب اس ہنگامی در کو مستقل طور پر بند کر سکتے ہو۔“
اس نے ممنونیت بھری نظر سے مجھے دیکھا پھر بڑی امید سے پوچھنے لگا۔ تھانے دار صاحب! کیا چوروں کے بارے میں آپ کو کوئی سراغ ملا ہے؟“
نذیر احمد کی ساری امیدیں مال مسروقہ کی واپسی سے بندھی ہوئی تھیں اور یہ مال مسروقہ چونکہ چوروں کی گرفتاری کے بعد ہی ہاتھ آ سکتا تھا اس لئے وہ ان کے کسی سراغ کے بارے میں استفسار کر رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت ہی ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
ہاں بھئی، ایک سراغ ملا تو ہے!“
اس کا چہرہ خوشی کے تاثرات سے چمک اٹھا۔ اضطراری لہجے میں بولا۔ ” کیا آپ نے چوروں کو پکڑ کر ان کے قبضے سے میرا سامان برآمد کر لیا ہے؟“
مین چوروں پر ہاتھ ڈالنے ہی والا ہوں ۔ میں نے اپنے لہجے میں موجود سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ ” جب وہ میرے ہاتھ آجائیں گے تو میں دوسرا ہاتھ ان کے حلق میں ڈال کر تمام کا تمام مال مسروقہ ایک ہی جھٹکے میں برآمد کرلوں گا۔“ وہ بے چینی سے بولا ۔ ”کون ہیں وہ لوگ ؟“
اس موضوع پر ہم تمہارے گھر کے اندر بیٹھ کر بات کریں گے۔” میں نے کہا۔ “میں اسی مقصد کے لئے ادھر آیا ہوں۔ تمہاری بیٹی شادو تو گھر میں ہی ہے نا؟”
”آپ شادو کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟” وہ متذبذب نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے آواز کو دھیما رکھتے ہوئے کہا۔ “مجھے اس سے چند ضروری باتیں کرنا ہیں۔”
”کیا باتیں؟” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر حیرت سے مجھے دیکھنے لگا۔
”میں نے کہا نا، ضروری باتیں!” میں نے لہجے کو بدستور دھیما رکھتے ہوئے شدید انداز میں کہا۔ “ایسی اہم باتیں یہاں کھڑے کھڑے تو نہیں ہو سکتیں نا؟”
وہ ذہن میں الجھن کو سجائے، مجھے اپنے ہمراہ گھر کے اندر لے آیا پھر میری ہدایت پر وہ شادو کو بلا لایا۔ نور جہاں کو بھی بے چینی تھی کہ میں شادو سے کیا پوچھنے کے لئے دوبارہ ان کے گھر آیا ہوں۔ لیکن میں نے ان دونوں میاں بیوی کو کمرے میں نہیں ٹھہرنے دیا اور دو ٹوک لہجے میں کہا۔
”میں شادو سے کھل کر علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ چند سوالات کے بعد میں اسے فارغ کر دوں گا پھر آپ لوگ بھی کمرے میں آ جانا۔ باقی کی باتیں آپ دونوں کی موجودگی میں ہوں گی۔”
میرے حتمی اور قدرے جارحانہ انداز کو دیکھتے ہوئے وہ کمرے سے جانے کے لئے مجبور ہو گئے۔ اگلے ہی لمحے میں اور شادو بڑے مربع کمرے میں اکیلے رہ گئے۔ وہ میرے سامنے چارپائی پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔ میں نے سرسراتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
”شادو! تم نے شرم و حیا سے نگاہیں نیچی کر رکھی ہیں یا کسی ندامت آمیز پشیمانی نے تمہاری گردن جھکا دی ہے؟”
اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اس کا انداز اتنا بے ساختہ اور میکانکی تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا، میرے طریقے کار نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہو۔ وہ ایک دم بہت گھبرائی ہوئی نظر آنے لگی۔ میرے لئے اتنا سا اشارہ ہی کافی تھا، میرے لہجے میں درشتی شامل ہو گئی۔
”تم خاموش کیوں ہو؟ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی ہو؟”
”م۔۔۔ میں۔۔۔ کس بات پر شرمندہ ہوں گی جی؟” وہ ہراساں لہجے میں بولی۔
”شادو!” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنسناتے ہوئے لہجے میں کہا۔ “میں نے تمہاری چوری پکڑ لی ہے۔ اور یہی چوری، چوروں کو پکڑنے میں میری مددگار ثابت ہو گی۔”
اس کی گھبراہٹ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اضطراری انداز میں بولی۔ “نہیں۔۔۔ آپ یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں؟ میں کوئی چوری کیوں کروں گی؟”
”شادو!” میں نے اسے دوسرے زاویے سے گھیرتے ہوئے کہا۔ “تمہاری ماں نے مجھے بتایا تھا، وقوعہ کے روز تمہاری فرمائش پر چائے بنی تھی۔ یہ چائے یقیناً تم نے ہی بنائی ہو گی؟”
”نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ چائے میں نے بنائی تھی۔” وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔
”اور کھانا بھی اس رات تم ہی نے تیار کیا تھا؟”
”جی۔۔۔ جی ہاں!” اس نے جواب دیا۔
”تم نے بے ہوشی کی دوا کھانے میں ملائی تھی یا چائے میں؟”
”بے ہوشی کی دوا؟” اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں الجھن تیر گئی۔ “نہیں۔۔۔ میں نے تو۔” مجھے یہ سمجھتے ہوئے دیر نہ لگی کہ میرا انکشاف اسے ہضم نہیں ہوا تھا۔ وہ حیرت اور بے یقینی سے یک ٹک مجھے دیکھتی چلی گئی۔ میں نے صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
”وقوعہ کی رات تم تینوں غفلت کی نیند سوتے رہے اور چور بڑی تسلی سے اپنا کام کر کے چلے گئے۔ اس رات کھانا اور چائے تم نے بنائی تھی اور اسی کھانے یا چائے میں کوئی ایسی شے ضرور شامل تھی جس کے زیرِ اثر تم تینوں اگلی صبح تک بے خبر سوتے رہے۔ اور ہوش و حواس سے بیگانہ کر دینے والی ایسی چیز تم ہی کھانے یا چائے وغیرہ میں ملا سکتی ہو۔”
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام لیا اور روہانسی آواز میں بولی۔
”آ۔۔۔ آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں۔ میں بڑی سے بڑی قسم کھانے کو تیار ہوں کہ میں نے چائے یا کھانے میں کوئی نیند آور دوا نہیں ملائی تھی۔۔۔ میں۔۔۔ میں ایسا کیوں کروں گی؟”
”میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “شادو! تم جیسی معصوم لڑکیوں کے لئے تھانہ کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مجھے مجبور نہ کرو کہ میں پوچھ گچھ کی غرض سے تمہیں اپنے ساتھ تھانے لے جاؤں۔ سچ کا اعتراف کر لو۔ میں تمہارے لئے کوئی رعایت نکالنے کی کوشش کروں گا۔”
”میں نے آپ سے کوئی غلط بیانی نہیں کی۔” وہ وحشت زدہ نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “آپ یقین کریں یا نہ کریں مگر سچ یہی ہے کہ میں نے کھانے یا چائے میں ایسی کوئی چیز شامل نہیں کی تھی جس کے اثر سے ہم پر گہری اور بے خبری کی نیند طاری ہو جائے۔”
”میرے پاس تمہارے اس کارنامے کا ثبوت موجود ہے۔” میں نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا۔
”ثبوت۔۔۔” اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ “کون سا ثبوت؟”
شادو کے اب تک کے رویے اور ردِ عمل سے میں نے یہ تو بھانپ لیا تھا کہ اسی کے معاملات میں کہیں نہ کہیں کوئی گڑ بڑ موجود ہے۔ اسی گڑ بڑ کے معاملے کو اندر سے کھینچ کر باہر لانے کی ضرورت تھی۔ میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر مرکری کروم کی شیشی والی وہ لیو ٹری (لیبارٹری) ڈبیا برآمد کر لی جو صمد خان کو شادو کے گھر کے باورچی خانے سے ملی تھی۔ اس ڈبیا کے اندر کسی سفید، بے ذائقہ سفوف کے اوپر ایک عدد تعویذ بھی رکھا ہوا تھا. میں نے مذکورہ ڈبیا کو شادو کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
”اس کو پہچانتی ہو؟”
اس کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ وہ بے حد گھبرائی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ لکنت زدہ لہجے میں مستفسر ہوئی۔ “یہ۔۔۔ یہ آپ کو۔۔۔ کہاں سے ملی؟”
”جہاں تم نے رکھی تھی۔” میں نے تیکھی نظر سے اسے دیکھا اور کہا۔ “تمہارا سوال یہ بتاتا ہے کہ تم نے اس ڈبیا کو بہت اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ اب جلدی سے یہ بھی بتا دو، اس کے اندر کیا رکھا ہوا ہے؟”
”م۔۔۔ میں۔۔۔ کچھ نہیں جانتی۔” وہ ایک دم فرار پر اتر آئی۔
”تم کچھ نہیں جانتی ہو۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا شادو!” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ “میں تو سب کچھ جان گیا ہوں نا۔۔۔ میں تمہاری بات کا یقین کیسے کر سکتا ہوں۔ اگر تم اپنی بے خبری پر اتنی ہی مُصر ہو تو سنو!” میں نے سانس لینے کو لمحے بھر کا توقف کیا پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
”اس ڈبیا کے اندر کسی قسم کے سفوف کے اوپر ایک عدد تعویذ رکھا ہوا ہے۔ اس تعویذ کے سلسلے میں ماہرانہ تحقیق تو بعد میں ہوتی رہے گی لیکن میں نے سفوف کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا ہے اور مجھے پتہ چلا ہے، یہ ایک انتہائی زود اثر خواب آور سفوف ہے۔ مجھے یہ ڈبیا تمہارے باورچی خانے میں سے ملی ہے۔ بتاؤ، اب تمہارے پاس کسی انکار یا فرار کی گنجائش باقی بچی ہے؟”
بعض اوقات جھوٹ بڑا مفید ثابت ہوتا ہے، بس اس کے استعمال کا سلیقہ آنا چاہئے۔ عام طور پر لوگ کسی حقیقت کی پردہ پوشی کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ ذرا حکمتِ عملی سے کام لیا جائے تو جھوٹ کو کسی سچائی کو آشکار کرنے کے لئے بھی کام میں لایا جا سکتا ہے جیسا کہ اس وقت میں کر رہا تھا۔ سفوف کے لیبارٹری ٹیسٹ کے حوالے سے میں نے دروغ گوئی سے کام لیا تھا جو بے حد مفید ثابت ہوا۔
”خواب آور سفوف!” وہ خواب ناک لہجے میں بولی۔ “لیکن فیروز نے تو کہا تھا—” وہ بولتے بولتے اچانک اس طرح رکی جیسے اس کی زبان پر کسی زہریلے سانپ نے ڈنک مار دیا ہو۔ اس کا اس انداز میں رکنا میرے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کر گیا۔ اس کی زبان سے فیروز کا نام سن کر میں حقیقت کی تہہ تک اتر گیا۔ وہ فیروز کے حوالے سے کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے والی تھی مگر یک دم اس کی گویائی کو بریک لگ گئے۔
میں نے قدرے سخت لہجے میں استفسار کیا۔ “شادو! یہ سفوف دیتے ہوئے فیروز نے تم سے کیا کہا تھا؟”
”کچھ نہیں میں کسی فیروز کو نہیں جانتی۔” وہ چیخ سے مشابہ آواز میں بولی۔
اسی لمحے کمرے کے دروازے پر دستک ہونے لگی۔ نذیر احمد کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔ “تھانے دار صاحب خیریت تو ہے۔ شادو کیوں چیخ رہی ہے؟”
میں نے ان میاں بیوی کو کمرے سے رخصت کرنے کے بعد دروازے کو بھیڑ دیا تھا۔ لیکن مجھے صد فیصد یقین تھا کہ وہ بھیڑے ہوئے دروازے کے عقب میں کان لگائے کھڑے ہوں گے۔ اسی لئے جب شادو کی آواز بلند ہوئی تو ان کے کان کھڑے ہو گئے۔ نذیر احمد کا استفسار بھی فطری اور بروقت تھا۔
میں نے تسلی بخش لہجے میں اسے جواب دیا۔ “نذیر احمد!فکر اور پریشانی والی کوئی بات نہیں تم تھوڑا انتظار کرو، تم دونوں کو میں اندر بلانے ہی والا ہوں۔ تمہاری بیٹی خیر و عافیت سے ہے۔”
پھر میں نے روئے سخن شادو کی جانب موڑا اور نہایت ہی سنجیدگی سے کہا۔ “شادو! کل میں نے تمہیں بیٹی کہہ کر اس واقعے پر دلاسا دیا تھا۔ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری شادی اپنی مقررہ تاریخ پر بہ خیر و خوبی انجام پائے گی۔ میں بہت جلد چوروں کو گرفتار کر کے انہیں عبرت ناک سزا دلواؤں گا۔” میں لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
”میں اب بھی اپنے وعدے پر قائم ہوں لیکن یہ وعدہ اب مشروطی کیفیت میں چلا گیا ہے۔ اگر تم مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دو تو میں تمہیں اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے تھانے نہیں لے جاؤں گا۔ یہ معاملہ یہیں، اسی کمرے میں نمٹ جائے گا۔ بہ صورتِ دیگر میں تمہیں تھانے لے جا کر تفتیش کے لئے مجبور ہو جاؤں گا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ مجھ سے تعاون کرنا چاہتی ہو یا تھانے جا کر جگ ہنسائی کے لئے تیار ہو۔ اگر ایک مرتبہ تم تفتیش کی چکی میں آ گئیں تو پھر وہ ذلت و رسوائی ہو گی جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتی ہو۔”
میرے اس تان مانے کلام کا اس پر خاطر خواہ اثر ہوا۔ وہ کوئی شدید ردِ عمل ظاہر کرنے کیبجائے خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو گھورنے لگی۔ اس خاموشی میں گہرا تذبذب بھی شامل تھا۔ اس بات کا تذبذب کہ وہ میرے سامنے زبان کھولے یا نہیں، مجھ پر بھروسہ کرے یا نہیں۔ میں اس کی اس گومگو کیفیت سے بہت کچھ سمجھ گیا۔ اس کیس کی گم شدہ کڑیاں خود بخود ایک ایک کر کے میرے ذہن میں ترتیب پانے لگیں۔ مجھے یقین ہو چلا کہ اگر میں اسی طرح محبت کی زبان میں بہلا پھسلا کر گرید جاری رکھوں تو وہ مجھ پر پوری طرح کھل جائے گی۔ کامیابی مجھے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی۔
اس کی متذبذب اور پراسرار خاموشی کے ٹوٹنے سے پہلے ہی میں نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا۔ “شادو بیٹی! میں جانتا ہوں تم اپنے خالہ زاد جہانگیر کو بالکل پسند نہیں کرتی ہو۔ یہ شادی تمہاری مرضی کے خلاف زبردستی کی جا رہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمہاری پسندیدگی کا رجحان فیروز کی طرف ہے۔”
یہ ایک طرح کا نفسیاتی ٹریٹمنٹ تھا۔ میں اب تک حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر قائم کردہ اپنے اندازوں کی روشنی میں شادو کو ہینڈل کر رہا تھا۔ میرے اس اٹل اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت نے جلد ہی مجھے کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ میرے محبت اور خلوص بھرے استفسارات کی آنچ نے اس موم کی گڑیا کو پگھلا دیا۔ وہ اچانک بڑے دھواں دھار انداز میں پھٹ پڑی۔
”جہانگیر مجھے ایک نظر نہیں بھاتا۔ اس نے چاروں طرف سے دباؤ ڈال کر یہ رشتہ طے کیا ہے۔ میں مجبور تھی، کوئی میرا احتجاج سننے کو تیار نہیں۔ میں کیا کرتی، کس سے مدد لیتی؟” وہ جذبات کی تند رو میں بہتی چلی گئی۔ “اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کسی بھی صورت جہانگیر سے شادی کے لئے ہاں نہ بھرتی۔ وہ ہے کیا؟ نہ منہ نہ متھا، جن پہاڑوں لتھااوٹپٹانگ!”
اس نے نفرت کی شدت سے اپنے چہرے کو کچھ زیادہ ہی بگاڑ لیا اور باغیانہ لہجے میں بولی۔ “جہانگیر تو روزانہ آئینے میں اپنی صورت دیکھتا ہو گا لیکن پتہ نہیں، اس کو اپنے بہانے میں کیا نظر آ گیا ہے۔ وہ تو پہلے ہی کسی مڈبھیڑ سے کم نہیں تھا۔ ہوا کے سامنے اپنی دے دے کر بالکل ابا ہوا مضحکہ بن گیا ہے!”
میرے چائے ہوئے ہوئے تمام تیر اپنے اپنے نشانے پر بیٹھ گئے تو میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “جب تم نے خود کو بے بس اور بے یار و مددگار محسوس کیا تو فیروز کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئی۔ ایک وہی شخص تھا جو تمہیں اس منجدھار سے نکال سکتا تھا۔ تم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہو۔ وہ تمہاری خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہو جاتا، یہ چوری چکاری تو معمولی سی بات ہے۔ اس نے تمہیں بے ہوش کرنے والی دوا کی ڈبیا لا کر دی تمنے۔”
”آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں تھانے دار صاحب!” وہ میری بات کو کاٹ کر احتجاجی لہجے میں بولی۔ “اس سفوف میں بے ہوش کرنے والی کوئی شے نہیں تھی۔” بات مکمل کرتے ہی وہ پریشان نظر سے مجھے دیکھنے لگی۔
اس کے انداز اور چہرے کے تاثرات سے پتہ چلتا تھا کہ ان لمحات میں اس کا ذہن بری طرح الجھا ہوا ہے۔ میں نے اپنے “دعوے” کو دہراتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔
”لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ اگر سامنے نہ آئی ہوتی تو میں شاید تمہاری بات کا یقین کر لیتا۔ رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ڈبیا والے سفوف میں سریع الاثر خواب آور دوا شامل ہے۔” میں نے لمحاتی توقف کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
”اگر تم اپنی جگہ بالکل درست کہہ رہی ہو تو پھر تمہارے پاس تم تینوں کی گہری بے ہوشی کا کیا جواز ہے۔ اسی سفوف کے زیرِ اثر تم لوگ اگلی صبح تک بے خبر کیوں سوتے رہے؟”
یہ ایک ایسا سوال تھا کہ جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہو سکتا تھا۔ اس نے ابھی تک اپنی زبان سے اقرار کرنے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ اس نے وہ خواب آور سفوف کھانے میں ملایا تھا یا پھر چائے میں لیکن اس کے رویے سے ثابت ہوتا تھا وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کر چکی ہے۔ وہ چند لمحات تک شدید اُلجھن کا شکار رہی پھر نکھرے ہوئے لہجے میں بولی۔
”لیکن۔۔۔۔ فیروز نے تو مجھ سے کہا تھا۔ یہ دم کیا ہوا سفوف ہے۔” اس کا انداز خود کلامی جیسا تھا۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور اضطراری لہجے میں پوچھا۔ “دم کیا ہوا سفوف۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟”
تھوڑے سے تامل کے بعد اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سفوف والی وہ لیبارٹری ڈبیا اور یہ شدہ تعویذ فیروز نے اسے لا کر دیا تھا۔ اس نے شادو کو بتایا تھا کہ وہ یہ دونوں چیزیں ایک بہت ہی پہنچے ہوئے بابا سے لے کر آیا ہے۔ اگر شادو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اس سفوف کو کسی کھانے وغیرہ میں شامل کر کے اپنی ماں کے معدے میں اتار دے تو وہ اس کا رشتہ اپنے بھانجے سے توڑ کر فیروز سے کرنے کو تیار ہو جائے گی۔ فیروز نے اسے یقین دلایا کہ اس پہنچے ہوئے بابا نے خصوصی طور پر سفوف پر دم کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک زبردست تعویذ بھی دیا ہے۔ شادو کو آدھا سفوف کھانے میں ملانا تھا اور تعویذ کو اسی ڈبیا میں بند کر کے رکھ دینا تھا۔ فیروز نے اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ سفوف پورے کھانے یا چائے میں ملایا جائے۔ اس پر جب شادو نے یہ اعتراض کیا کہ اس طرح تو وہ تینوں ہی، اس پپڑ ہوئے سفوف کے اثر میں آ جائیں گے جبکہ مسئلہ تو صرف اس کی اماں کا ہے۔ اگر نور جہاں راضی ہو جائے تو بگڑی ہوئی تقدیر بن سکتی تھی۔ شادو کے اعتراض کے جواب میں فیروز نے یہ کہہ کر اسے مطمئن کر دیا۔
”بابا نے کہا ہے، جس کے نام سے دم کیا گیا ہے، اثر صرف اس پر ہو گا۔ باقی سب محفوظ رہیں گے اور میں اپنی طرف سے ایک بھی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ بابا ہی کی ہدایت ہے کہ پورے گھر کے کھانے میں وہ دم شدہ سفوف ملا دیا جائے۔”
شادو کے پاس فیروز کی بات پر یقین کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ سچے دل سے اسے چاہتی تھی اور وہ دونوں گاہے بہ گاہے چھپ چھپا کر ایک دوسرے سے ملتے بھی رہتے تھے۔ شادو اپنی بات مکمل کر کے جب خاموش ہوئی تو میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
ایک طرح سے سرقہ بہ خانہ آباد کا یہ کیس حل ہو چکا تھا۔ فیروز کو گرفت میں لے کر مالِ مسروقہ کو برآمد کرنا باقی تھا۔ صورتِ حال پوری طرح میرے سامنے کھل گئی تھی۔ اس واقعے کی چابی فیروز ہی تھا۔ اس نے شادو کو بے وقوف بناتے ہوئے دم شدہ سفوف اور تعویذ کا چکر چلا دیا۔ اس کے ذہن میں یہ منصوبہ رہا ہو گا کہ جب وہ تینوں خوب آور دوا کے زیرِ اثر غفلت کی نیند سو رہے ہوں گے تو وہ اپنا “کام” دکھا جائے گا۔ شادو سے میل ملاقات کے سبب اسے اس گھر کی ایک ایک بات کی خبر ہونا لازمی تھا اور وہ بہ خوبی یہ بھی جانتا ہو گا، کس کمرے میں کون سی چیز، کہاں رکھی ہے۔ بے ہوشی کی دوا شادو کو تھماتے ہوئے اس نے کسی پہنچے ہوئے بابا کی کہانی بھی اس کے ساتھ نتھی کر دی، یہ ایک طرح کا انتہائی محفوظ نفسیاتی حربہ تھا۔ لڑکیاں اور عورتیں ان “پہنچے ہوئے باباؤں” کے ایسے چکر میں بہت آسانی سے آ جاتی ہیں۔
میں فیروز کی چال کو بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھ گیا تھا۔ تاہم وہاں سے رخصت ہونے سے پہلے میں نے شادو سے پوچھ لیا۔ “نذیر دکون سے بابا سے یہ سفوف دم کروا کے لایا تھا؟”
”یہ تو اس نے مجھے بتایا ہی نہیں۔” وہ بے بسی سے بولی۔
”کوئی بات نہیں بیٹی!” میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ “تم فکر نہ کرو۔ یہ بات میں خود فیروز سے پوچھ لوں گا۔”
نذیر احمد کے گھر میں مزید رکنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا تھا۔ اپنی سوچ اور عمل کے تمام گھوڑوں کو فیروز کی جانب دوڑانے کا ارادہ باندھ کر میں وہاں سے اٹھ آیا۔
××××
شام سے تھوڑی دیر پہلے اے ایس آئی جلال خالی ہاتھ واپس آ گیا۔
”خالی ہاتھ” ان معنوں میں کہ فیروز اس کے ساتھ نہیں تھا البتہ وہ اس شخص کے بارے میں خاصی اہم اطلاعات ضرور لایا تھا۔ میرے استفسار پر اس نے رپورٹ پیش کرنے والے انداز میں بتایا۔
”ملک صاحب! میں صبح جب بس اسٹینڈ پر پہنچا تو پتہ چلا، بس نمبر پینتیس تین تھوڑی دیر پہلے لائل پور کے لئے روانہ ہوئی ہے۔ آپ کا حکم تھا، چاہے کتنی بھی دیر ہو جائے، میں فیروز کو اپنے ساتھ لے کر آؤں۔ لہٰذا میں ادھر بس اسٹینڈ پر رک کر انتظار کرنے لگا۔ اس بس اڈے کا مالک باؤ سکندر بڑا بھلا مانس ہے۔ میری کبھی کبھار اس سے علیک سلیک ہو جاتی ہے۔ میں نے مختصراً اسے صورتِ حال کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگا۔ “سرکار! آپ آرام سے تھانے جا کر بیٹھیں۔ یہ بس جب بھی لائل پور سے واپس آئے گی، میں فیروز کو کسی بندے کے ساتھ آپ کے پاس بھیج دوں گا۔”
لیکن میں نے باؤ سکندر کی بات سے اتفاق نہ کیا اور کہا۔ “باؤ جی! پولیس کی نوکری میں آرام کیسا۔ میں ادھر ہی رک کر فیروز کا انتظار کروں گا” اور یہ تھا، انچارج کا حکم بھی ہے۔
وہ بولا۔ “اے ایس آئی صاحب! میں نے اس تھانے دار کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اصولوں کے معاملے میں بڑا سخت ہے۔ بڑے بڑے مجرم اس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ وہ کسی کی سفارش سنتا ہے اور نہ ہی۔”
بات کو ادھورا چھوڑ کر باؤ سکندر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ایسے انداز میں حرکت دینے لگا جیسے تصویر میں کرنسی نوٹ گن رہا ہو۔ میں فوراً سمجھ گیا، وہ طنزیہ انداز میں آپ کے حوالے سے رشوت نہ لینے والے معاملے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں باؤ سکندر سے کہا۔ “ہاں، یہ تو تم ٹھیک کہتے ہو۔ ملک صاحب ایک سچے اور کھرے پولیس آفیسر ہیں اور کھرے آدمی اصولوں کا تو سخت ہوتا ہی ہے۔” مجھے آپ کی حمایت میں بولتے دیکھ کر اس نے اس موضوع کو لپیٹ دیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ باؤ سکندر نے بس اسٹینڈ پر ہی ایک کمرے میں اپنا دفتر بنا رکھا ہے۔ وہ مجھے اپنے دفتر میں لے گیا۔ اس سے پہلے اس نے اپنے بندوں کو ہدایت کر دی تھی کہ جیسے ہی فیروز والی بس لائل پور سے واپس آئے، اسے اطلاع دے دی جائے۔
”ملک صاحب!” اے ایس آئی جلال نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “میں نے دوپہر کا کھانا باؤ سکندر کے دفتر میں ہی کھایا اور ہم کھانے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ بس نمبر پینتیس ہمیں لائل پور سے واپس آ گئی۔ اس بس کو پانچ منٹ کے لئے یہاں رکنا تھا۔ بس کی آمد سے ہمیں فوراً مطلع کیا گیا لیکن پتہ چلا کہ کلینر فیروز اس بس کے اسٹاف میں شامل
نہیں۔ اس کی جگہ ایک دوسرا کلینر وہاب نامی شخص موجود تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہاب اسی روٹ کی ایک دوسری بس میر ائنڈر میں کلینر ہے۔ حیرت انگیز (خیر و عافیت) میں کوئی تکنیکی خرابی واقع ہو گئی تھی جس کے سبب اسے دو گھنٹے تک لائل پور میں رکنا پڑ گیا تھا۔ لیکن وہاب نامی اس کلینر کو کسی ضروری کام سے بروقت سیالکوٹ پہنچنا تھا لہٰذا اس نے فیروز سے منت کی کہ وہ اس کی بس کے لئے لائل پور میں رک جائے اور وہ خود فیروز والی بس کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کی غرض سے متوقف ہوا پھر اضافہ کرتے ہوئے بولا۔
”میں ایک مرتبہ پھر انتظار کے لئے باؤ سکندر کے دفتر جا بیٹھا، وہاب والی بس یعنی “میرا ئنڈر” دو گھنٹے کے بعد وہاں آئی جس میں فیروز سے ملاقات ہو سکتی تھی اور اتفاق دیکھیں ملک صاحب!” اس نے عیاری سے لبریز لہجے میں مجھے مخاطب کیا۔ “آج کا دن اچھا نہیں ہے۔ جب مذکورہ بس، بس اسٹینڈ میں آ کر رکی تو پتہ چلا، فیروز اس بس کے ساتھ بھی نہیں آیا۔ تحقیق اور تفتیش سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ لائل پور کے بس اڈے میں اسے ایک دیرینہ دوست مل گیا تھا اور وہ اس کے ساتھ لاہور کی طرف چلا گیا ہے۔ اس نے وہاب والی بس کے ڈرائیور کو یہ بتایا ہے کہ رات کو وہ نظام آباد واپس آ جائے گا۔ یہ ہے کل کہانی ملک صاحب!”
اے ایس آئی جلال کی طویل وضاحت ختم ہوئی تو میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پتہ نہیں، کیوں مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ غیاب کی اس چکر بازانہ اتفاق گری میں سراسر فیروز کا ہاتھ ہے۔ وہ دانستہ چھپتا پھر رہا ہے۔ بہرحال، یہ اطلاع خوش آئند تھی کہ وہ آج رات نظام آباد پہنچنے والا تھا. یہ اطلاع فراہم کرتے ہوئے اگر اس نے خیر و عافیت والے ڈرائیور سے کوئی غلط بیانی نہ کی ہو تو!
اس روز ہفتے کا دن تھا اور اب یہ دن اختتام پر تھا۔ گنجے صوبے دار دلاور سے مجھے فیروز کے جن معمولات کا پتہ چلا تھا ان کے مطابق وہ ہفتے کی رات کو نظام آباد آتا تھا اور اگلے روز یعنی اتوار کی شام وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر چلا جاتا۔ اس حساب سے آج رات نظام آباد میں اس کی آمد معمول کے عین مطابق ہوتی۔
میری اب تک کی تفتیش کے مطابق فیروز تک رسائی اس کیس کو حل کرنے کے لئے بہت ضروری تھی۔ شادو سے ملاقات کے دوران جو حقائق سامنے آئے ان کی روشنی میں فیروز نامی وہ بندہ نذیر احمد کے گھر میں ہونے والی چوری کی واردات میں بلا واسطہ ضرور ملوث تھا۔ ان حالات کے پیشِ نظر میں نے فیروز کو آج رات اس کے گھر میں چھاپہ مارنے کا فیصلہ کیا اور اے ایس آئی کو اہم ہدایات دے دیں۔ اگر ایک مرتبہ فیروز میرے ہتھے چڑھ جاتا تو میں اس کی زبان کھلوا کر کسی مثبت نتیجے پر پہنچ سکتا تھا۔
ٹھیک دس بجے رات ہم پوری تیاری کے ساتھ نظام آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ میرے ساتھ اے ایس آئی کے علاوہ کانسٹیبل شکور بھی تھا۔ میں اگر چاہتا تو اے ایس آئی کو شکور کے ساتھ بھی ادھر روانہ کر سکتا تھا لیکن میں نے ازخود بھی جانا ضروری سمجھا۔ پتہ نہیں کیوں میرے اندر فیروز کو جلد از جلد گرفت میں لانے کا اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔
ہمارا تانگہ نظام آباد کے مین بازار سے گزرتے ہوئے صوبے دار کی دکان تک جا پہنچا۔ صوبے دار دکان کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کام میں بارہ تیرہ سال کا ایک لڑکا بھی اس کی مدد کر رہا تھا۔ ہمارے تانگے پر نگاہ پڑی تو وہ رک گیا، پھر تانگے میں مجھے بیٹھا ہوا دیکھا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ادھر ہی آ گیا اور حیرت بھرے لہجے میں بولا۔
”تھانے دار صاحب۔۔۔۔ آپ اس وقت۔ خیریت تو ہے نا؟”
میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ “لگتا ہے تم اپنی دکان کو بند کر کے جانے ہی والے تھے۔”
”جی ہاں!” اس نے اثبات میں اپنے گنجے سر کو حرکت دی۔ اس حرکت میں بڑی برکت تھی کیونکہ اس کے ساتھ ہی اس کی توند میں بھی اچھی خاصی تھرتھراہٹ پیدا ہوئی تھی چنانچہ اس کے دونوں ہاتھ بے ساختہ توند کو سنبھالا دینے کے لئے “دُڑ” پڑے مگر وہ پھولے ہوئے لہجے میں بولا۔ “جناب! میں تو نو بجے تک دکان بند کر دوں لیکن یہ نہیں کرنے دیتی!”
اس نے آخری جملہ ایسی معنی خیز سادگی سے ادا کیا کہ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔ “وہ کون ہے صوبے دار جی! جو تمہیں دکان بند کرنے سے روک دیتی ہے۔”
میرے اس سنجیدہ استفسار پر وہ جِز بز سا ہو کر رہ گیا پھر کھسیانا سا ہو کر بولا۔ “جناب! میرا مطلب تھا۔ برفی!” ایک لمحے کا توقف کرنے کے بعد وہ اضافہ کرتے ہوئے بتانے لگا۔ “میں دودھ دہی اور ٹھنڈی بوتلوں کے علاوہ اس دکان میں برفی بھی بنا کر بیچتا ہوں۔ آج کل بوتلوں والا کام تو موسم کی وجہ سے ٹھنڈا ہی جا رہا ہے البتہ میری بنائی ہوئی برفی لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ جب تک برفی والا تھال خالی نہیں ہو جاتا، میں دکان بند نہیں کرتا۔ بعض اوقات رات کے گیارہ، ساڑھے گیارہ بھی بج جاتے ہیں۔”
”اور یہ لڑکا کون ہے؟” میں نے اس کے مددگار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا۔
”میرا بیٹا ہے سرکار!” اس نے جواب دیا۔ “ہاتھ بٹانے کے لئے دکان پر آ جاتا ہے۔ پھر ہم رات کو ایک ساتھ ہی دکان بند کر کے گھر جاتے ہیں۔”
”بس تو پھر تمہارے پاس صرف تین منٹ کا وقت ہے۔” میں نے اپنی رسٹ واچ پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ “تم دکان کو جلدی سے بند کر لو۔ تمہیں میرے ساتھ چلنا ہو گا۔ ابھی اور اسی وقت۔”
”کہاں؟” صوبے دار دلاور نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ “فیروز کے گھر۔”
”اوہ!” وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔ “تو یہ خیر آپ تک پہنچ گئی کہ فیروز نظام آباد میں قدم رکھ چکا ہے۔ وہ ابھی پندرہ بیس منٹ پہلے ہی تو مجھ سے علیک سلیک کر کے اپنے گھر کی طرف گیا ہے۔ میں نے اسے نذیر بوگس والے کے گھر میں ہونے والی چوری کی واردات کے بارے میں بتایا تو وہ سخت افسوس کرنے لگا۔”
”تفصیلات” کے صحیح معنی تو فیروز کو اس وقت پتہ چلیں گے جب وہ میرے تھانے کی حوالات میں پہنچے گا۔” میں نے سنگین لہجے میں کہا۔ “فوراً دکان بند کر کے تانگے میں آ جاؤ۔ فیروز کے گھر تک ہمیں تم ہی پہنچاؤ گے۔”
وہ متذبذب نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ “اس نے ایسا کیا کر دیا ہے تھانے دار صاحب؟”
”ساتھ چل رہے ہو نا!” میں نے قدرے درشت لہجے میں کہا۔ “سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔”
”ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے جناب!” وہ بڑی سرعت سے یوٹرن لیتے ہوئے بولا۔ “آپ خانہ ہوں، میں حتیٰ متیٰ دکان کو تالا لگاتا ہوں۔”
××××
فیروز کی زبان کا تالا کھلوانے میں مجھے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رات گیارہ بجے میں نے اسے اس کے گھر سے گرفتار کر کے تھانے پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے اور اس کے ساتھ ہی صوبے دار نے بھی اس گرفتاری کا سبب جاننے کی بہت کوشش کی لیکن میں نے صرف ایک جملہ بول کر سب کی زبانیں بند کر دیں۔ “سوال و جواب تھانے پہنچنے کے بعد ہوں گے۔”
اور اب فیروز میرے روبرو بیٹھا ہوا تھا۔ ہم دونوں کے سوا کمرے میں اور کوئی بھی نہیں تھا۔ صوبے دار کو میرے حکم پر باہر ہی روک لیا گیا تھا۔ میں نے حوالدار کرامت اللہ کو ہدایت کر دی کہ صوبے دار اگر گھر جانا چاہے تو اسے روکنے کی کوشش نہ کی جائے اور اگر وہ یہ بیٹھے تو فیروز کے بارے میں اسے حقیقتِ حال سے آگاہ کر دیا جائے۔ میں جانتا تھا وہ اپنے تعلق دار فیروز کی گرفتاری کا سبب جاننے کے لئے ہمارے ساتھ تھانے چلا آیا تھا اور میں نے راستے میں اس سلسلے میں کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ فیروز کو اپنے کمرے میں لانے کے بعد میں اس کے ساتھ مصروف ہو گیا۔
فیروز کی عمر پچیس اور ستائیس سال کے درمیان رہی ہو گی۔ وہ مناسب جسم کا مالک ایک درمیانہ قد شخص تھا، اس کی صورت شکل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جس کا خاص طور پر ذکر کیا جائے۔ حلیہ اور وضع قطع مزدوروں جیسی تھی۔ وہ نظام آباد میں اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا گھر ریلوے لائن کے قریب واقع تھا۔ اس کی گرفتاری پر بوڑھی ماں نے خاصا واویلا مچایا تھا لیکن میں نے بہار بی بی کی تسلی کی خاطر کہہ دیا تھا کہ میں ایک ضروری معاملے میں پوچھ گچھ کے لئے اس کے بیٹے کو ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ اگر وہ بے قصور ہوا تو صحیح سلامت واپس آ جائے گا۔ وہ بے چاری سوائے صبر کے اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
میں چند لمحات تک بڑی گہری نظر سے فیروز کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلتا رہا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اس سے دریافت کیا۔
”جانتے ہو، تمہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟”
”یہ بات اگر مجھے معلوم ہوتی تو میں آپ سے کیوں پوچھتا جناب!” وہ سخت پریشانی کے عالم میں بولا۔ “خدارا! مجھے بتائیں، اس گرفتاری کا آخر مقصد کیا ہے؟”
”میں نے پوچھا۔ “کیا تم شادو کو جانتے ہو؟”
میں نے غیر محسوس انداز میں اسے گھیرنے کی کوشش شروع کی تو وہ جلدی سے بولا۔ “کیا آپ نذیر بوگس والے کی بیٹی شادو کا ذکر کر رہے ہیں وہ شادو جس کے گھر میں چوری ہو گئی ہے؟”
”ہاں، میں بالکل اسی شادو کا ذکر کر رہا ہوں۔” میں نے بہ دستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “تمہارے جواب سے پتہ چلتا ہے، تمہیں شادو کے حالات سے پل پل کی خبر ہے۔” میں نے پھر تھوڑا توقف دے کر گرجدار لہجے میں پوچھا۔ “کیا یہ درست ہے، تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو؟”
”نہیں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔” وہ گڑ بڑا کر رہ گیا۔
”یہ نہیں، ہاں” کیا ہوتا ہے؟” میں نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا۔ “ایک اور واضح جواب دو۔ کچھ بھی بولنے سے پہلے یہ ذہن میں ضرور رکھنا کہ میں تم سے پہلے، اس معاملے پر شادو سے بڑی تفصیلی بات کر چکا ہوں۔”
وہ چند لمحات تک متذبذب نظر سے مجھے دیکھتا رہا پھر محتاطانہ انداز میں اس نے اقرار کر
لیا۔ “جی ہاں، یہ سچ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور۔۔۔۔”
”یہ جاننے کے باوجود بھی کہ شادو کے رشتے کی بات پکی ہو چکی ہے۔” میں نے اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے کہہ دیا۔ “تم ابھی تک اسے حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ تمہارا یہ فعل انتہائی غیر شریفانہ ہے۔”
”جناب! محبت کرنا کوئی گناہ تو نہیں؟” وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔ “ہم دونوں ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں—— پاکیزہ اور بے داغ محبت!”
میں نے اسے گھیرنے کے لئے سوالات کا زاویہ قدرے تبدیل کر دیا اور پوچھا۔ “تم اپنی اس پاکیزہ محبت میں شادو کو حاصل کرنے کے لئے کیا کیا کر سکتے ہو؟” میرے لہجے میں ہلکا سا طنز شامل تھا۔
اس نے بڑے دھڑلے سے جواب دیا۔ “سب کچھ!”
”مثلاً چوری چکاری؟”
”یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں جناب؟” وہ حیرت بھری نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے کہا۔ “محبت کرنے والے تو اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے لئے آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے کرتے ہیں، پہاڑ کو کاٹ کر دودھ کی نہر نکالنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں اور آبلہ پا ریگ زاروں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن تم نے تو عاشقوں کی ناک کٹوا دی ہے فیروز!”
”جی جی یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں! اس کی حیرت کی چند ہو گئی۔ “پہلے آپ نے چوری چکاری کا ذکر کیا اور اب ناک کٹوانے کی بات کر رہے ہیں۔یہ یہ کیا ماجرا ہے جناب؟”
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا۔ “ماجرا یہ ہے کہ تم نے شادو کے گھر میں چوری کر کے یا کروا کے، آج تک پیدا ہونے والے تمام عاشقوں کی برادری میں بھونچال لا دیا ہے۔ اسے کہتے ہیں، ناک کٹوانا!”
اس کی آنکھوں میں وحشت سی بھر گئی۔ ہکلاتے ہوئے لہجے میں بولا۔ “جناب! آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں۔ آپ کو کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ شادو کے گھر میں نے چوری نہیں کی۔ میں ایسا نہیں ہوں تھانے دار صاحب! کسی نے آپ کو میرے بارے میں غلط اطلاع دی ہے۔”
”میں نے کہا تھا نا، اس بات کو ذہن میں رکھنا کہ میں شادو سے اس معاملے پر بڑی تفصیلی بات کر چکا ہوں۔” میں نے اس کے چہرے کو گھورتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔
”لیکن لگتا ہے تمہاری یادداشت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ تمہیں ایک رات کے لئے اپنا مہمان بنانا پڑے گا۔ ہماری خاطر تواضع سے تو انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، اس کے بعد پندرہواں طبق خود بخود روشن ہو جاتا ہے اور مہمان کسی ٹیپ ریکارڈ کی مانند بولنے لگتا ہے۔”
میرے الفاظ کی سنگینی کو محسوس کر کے وہ سراسیمہ ہو گیا پھر سرسراتی ہوئی آواز میں پوچھا۔ “جناب! کیا یہ چوری والی بات آپ کو شادو نے بتائی ہے؟ میں کسی بھی قیمت پر یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ وہ میرے متعلق اس قسم کی جھوٹی اور بے سروپا باتیں بھی گھڑ سکتی ہے۔” وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا پھر بڑی شدت سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
”میں ایک مرتبہ پھر یہی کہوں گا تھانے دار صاحب۔۔۔۔ کہ میرے بارے میں آپ کو کوئی غلط فہمی۔۔۔۔”
”اوئے غلط فہمی کے گھوڑے!” میں نے گرج کر اس کی بات کاٹ دی اور تفتیش کے تند و تیز تیروں کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ “آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی رات تم کہاں تھے؟”
آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی شب نذیر احمد کے گھر میں چوری ہوئی تھی یعنی جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات، اس نے خوف زدہ نظر سے مجھے دیکھا اور میرے سوال کے جواب میں بتایا۔
”جناب! میں اپنی ڈیوٹی پر تھا۔ آج ہی واپس آیا ہوں۔”
”کیا یہ سچ ہے، تم ہر اتوار کو شام کو ڈیوٹی پر جاتے ہو؟” میں نے تیز نظر سے اسے گھرا۔ “اور ہفتے کی رات کو واپس گھر آتے ہو۔ یہی تمہارا معمول ہے؟”
”جی ہاں، یہ بات سو آنے درست ہے۔” وہ سادگی سے بولا۔ “آپ میرے ساتھیوں سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں، ڈرائیور حشمت علی اور کنڈیکٹر مطلوب میری بات کی گواہی دیں گے۔”
”ضرورت محسوس ہوئی تو میں پینتیس بتیس کے سارے عملے کو لائن حاضر کر دوں گا۔” میں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔ “فی الحال تو تم اس بات کا جواب دو کہ اگر تم ہر ہفتے کی بس کی “کلیئری” کرتے ہو تو آٹھ نومبر جمعرات کی صبح تم نظام آباد میں کیا کر رہے تھے؟”
اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر گزر گیا۔
میں نے تیکھے لہجے میں دریافت کیا۔ “کیا یہ درست ہے کہ جمعرات کی صبح تم صرف اور صرف شادو سے ملنے کے لئے نظام آباد آئے تھے؟” لمحہ بھر کے توقف کے بعد میں نے سنسنی خیز انداز میں اضافہ کیا۔ “جھوٹ بول کر تم خود کو ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار کر رہے ہو، سچ بولنے کی صورت میں، میں تمہارے لئے کوئی گنجائش نکال سکتا ہوں۔”
ان لمحات میں، وہ مجھے بڑی کڑی آزمائش سے دوچار نظر آیا تاہم وہ جس نوعیت کی صورتِ حال میں پھنس گیا تھا اس کے پیشِ نظر فرار کی بجائے اس نے اقرار ہی میں عافیت جانی اور ممیاتی ہوئی آواز میں بولا۔
”جی۔۔۔۔ میں شادو سے ملنے آیا تھا۔”
”کیوں۔۔۔۔ کیا اچانک کوئی ضروری کام یاد آ گیا تھا؟” میں نے چبھے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔
”جی، ایک ضروری کام ہی تھا۔” وہ جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
”اور وہ ضروری کام کیا تھا؟”
بات ختم کرتے ہوئے میں نے میز کی دراز میں سے مرکری کروم والی ڈبیا نکال لی پھر مذکورہ ڈبیا کو فیروز کے سامنے میز پر رکھ دیا اور انگلی سے ڈبیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوالیہ نظر سے فیروز کو گھورنے لگا۔
وہ لکنت زدہ لہجے میں بولا۔ “یہ۔۔۔۔ یہ آپ کو۔۔۔۔ کہاں سے ملی؟”
”میں نے جب نذیر شادو کو دکھائی تھی تو اس نے بھی تم سے ملتا جلتا ہی سوال کیا تھا۔” میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا پھر سخت لہجے میں استفسار کیا۔ “کیا تم جمعرات کی صبح یہی ڈبیا شادو کو دینے کے لئے نظام آباد پہنچے تھے نا؟”
اقرار کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ کار نہیں بچا تھا۔ شکست خوردہ انداز میں اس نے یکلخت جواب دیا۔ “ہاں۔۔۔۔!”
”تم نے یہ ڈبیا شادو کو کس مقصد کی خاطر دی تھی؟” میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا پھر فوراً ہی تنقیدی اضافہ بھی کر دیا۔ “میں تمہارے منہ سے وہ جواب نہیں سننا چاہتا جو کہانی تم نے شادو جیسی بھولی بھالی لڑکی کو سنائی ہے۔”
”میں نے شادو سے کوئی غلط بیانی نہیں کی تھی۔” وہ بے یقینی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ “اور آپ سے بھی کوئی جھوٹ نہیں بولوں گا جناب اس ڈبیا کے اندر ایک تعویذ تھا اور کچھ دم کیا ہوا سفوف تھا۔”
”اور یہ دونوں چیزیں تم کسی پہنچے ہوئے بابا سے لے کر آئے تھے۔” میں نے اس کی بات کاٹ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔ “تاکہ شادو کی ماں رام ہو جائے۔ وہ شادو کی منگنی توڑ کر اس کی شادی تم سے کر دے۔ ہے نا؟”
”جی، جی۔ بالکل یہی بات ہے۔” وہ جلدی سے بولا۔ “لگتا ہے شادو نے آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے۔”