Sohar Ki Chaal Urdu Story

شوہر کی چال – بیوی کو راستے سے ہٹانے کی سازش

ارم اپنے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑی تھی، ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے، جو اب سرد ہو چکا تھا۔ چاندنی رات کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک گہری بے چینی تھی، جیسے کوئی ان کہا راز اس کے دل کو چھلنی کر رہا ہو۔ اس کا گھر، جو کبھی اسے محبت کا آشیانہ لگتا تھا، اب ایک خالی خول بن چکا تھا، جہاں ہر کونے سے شک کی بو آ رہی تھی۔ زید، اس کا شوہر، رات کے اس وقت کہیں باہر تھا، جیسا کہ وہ اکثر رہتا تھا۔ ارم نے اپنی ساڑھی کے پلّو سے ہاتھ صاف کیا اور کھڑکی سے ہٹ کر بستر کی طرف بڑھی۔
بستر پر زید کا فون پڑا تھا، اس کی سکرین ہلکی سی روشنی سے جگمگا رہی تھی۔ ارم نے کبھی زید کی ذاتی چیزوں کو چھونے کی جرات نہیں کی تھی۔ وہ ہمیشہ سمجھتی تھی کہ محبت میں بھروسہ سب سے اہم ہے، لیکن پچھلے کچھ مہینوں سے زید کی بدلتی عادات،اس کی بے توجہی، رات کو دیر سے گھر آنا، اور فون پر لگاتار مصروف رہنا—اس کے دل میں شک کا بیج بو رہی تھیں۔ آج اس کا دل ایک عجیب سے خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس کی انگلیاں فون کی طرف بڑھیں، جیسے کوئی غیر مرئی قوت اسے کھینچ رہی ہو۔ اس نے فون اٹھایا، اور سکرین پر ایک پیغام چمکا: “سمیرا: کل رات تو بہت خاص تھی۔ آج رات پھر مل رہے ہیں نا؟”
ارم کا دل ایک لمحے کے لیے جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ سمیرا، زید کی بھابھی، اس کے بڑے بھائی کی بیوی۔ وہ عورت جس کی ہر مسکراہٹ میں ایک عجیب سی خود اعتمادی تھی، جس کی باتوں میں ایک چھپا ہوا طنز ہوتا تھا جو ارم کو ہمیشہ چبھتا تھا۔ کیا زید اور سمیرا کے درمیان کچھ چل رہا تھا؟ یہ سوچ اس کے لیے جیسے زہر تھی۔ زید اس کا سب کچھ تھا.اس کا پہلا پیار، اس کا ساتھی۔ لیکن یہ پیغام کیا تھا؟ اس نے فون کو ہاتھ میں مضبوطی سے تھاما اور دوبارہ پیغام پڑھا۔ اس کا دل غصے اور دکھ سے بھر گیا۔
اس نے فون کھولنے کی کوشش کی، لیکن سکرین نے پاس ورڈ مانگا۔ وہ زید کا پرانا پاس ورڈ جانتی تھی.ان کی شادی کی تاریخ، وہ دن جو اس کے لیے ایک خواب کی طرح تھا۔ اس نے نمبر ڈالے، لیکن سکرین پر سرخ رنگ میں لکھا آیا: “Wrong Password”۔ زید نے پاس ورڈ بدل دیا تھا۔ ارم کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، اور اس نے فون واپس بستر پر رکھ دیا۔ کیا وہ واقعی اسے دھوکہ دے رہا تھا؟ سمیرا کے ساتھ؟ اس عورت کے ساتھ جو ہر خاندانی تقریب میں زید کے قریب ہوتی تھی، اس کے ساتھ ہنستی باتی تھی، اور ارم کو ایسی نظروں سے دیکھتی تھی جیسے وہ کوئی غیر اہم چیز ہو؟
صبح جب زید گھر لوٹا، ارم باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ اس نے زید کی طرف دیکھا.اس کی تھکی ہوئی آنکھیں، چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی، اور اس کی جلدبازی جب اس نے فون اٹھا کر جیب میں ڈالا، جیسے کوئی اسے دیکھ لے گا۔ “رات دیر تک کام تھا؟” ارم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، لیکن اس کی آواز میں ایک ٹھنڈک تھی جو اس کے دل کے زخم کو چھپا نہ سکی۔ “ہاں، ایک پروجیکٹ کی ڈیڈلائن تھی۔ جلدی میں فون بھی گھر بھول گیا تھا،” زید نے کہا، لیکن اس کی نظریں ارم سے ملنے سے کترا رہی تھیں۔ ارم نے کچھ کہنا چاہا، لیکن اس کے گلے میں الفاظ اٹک گئے۔ وہ خاموشی سے روٹی بناتی رہی، لیکن اس کا دماغ اس پیغام کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔
دن بھر ارم کے ذہن میں وہی پیغام گونجتا رہا۔ وہ گھر کے کاموں میں مصروف رہی، برتن دھوئے، کپڑوں کو استری کیالیکن اس کی نظریں بار بار زید کے فون کی طرف اٹھتیں۔ اس کا دل کہتا تھا کہ شاید یہ کوئی غلط فہمی ہو، لیکن اس کا دماغ اسے باور کر رہا تھا کہ زید اور سمیرا کے درمیان کچھ تو غلط ہے۔ شام کو جب سمیرا گھر آئی، ارم کا دل ایک بار پھر دھک دھک کرنے لگا۔ سمیرا ہمیشہ کی طرح پر اعتماد تھی۔ اس کی ساڑھی اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی، اس کے بال ہوا میں لہرا رہے تھے، اور اس کی مسکراہٹ میں ایک ایسی چمک تھی جو ارم کو چبھ رہی تھی۔
“ارم، تم کیسی ہو؟” سمیرا نے پوچھا، اس کی آواز میں ایک جھوٹی مٹھاس تھی۔ ارم نے مسکرا کر جواب دیا، “بس، ٹھیک ہوں، بھابھی۔” لیکن اس کے دل میں ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔ سمیرا نے زید کے ساتھ ہنستے ہوئے بات شروع کی، اور ارم نے دیکھا کہ زید کی نظریں سمیرا کے چہرے پر ٹھہر رہی تھیں، جیسے وہ اس کے ہر لفظ کو اپنے دل میں سمو رہا ہو۔ زید نے فون جیب سے نکالا، ایک نظر سکرین پر ڈالی، اور جلدی سے واپس رکھ دیا، ۔ ارم نے اپنی نظر ہٹائی اور باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی، لیکن اس کے کان سمیرا کی ہنسی اور زید کی نرم آواز کو پکڑ رہے تھے۔
رات کو، جب گھر سو چکا تھا، ارم اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔ زید گہری نیند میں تھا، اس کا فون اس کے سرہانے رکھا تھا۔ ارم نے فون دوبارہ اٹھایا۔ اس بار اس نے دیکھا کہ سکرین پر ایک نیا پیغام آیا تھا، کسی نامعلوم نمبر سے: “آج رات پھر ملاقات ہے۔ پرانا باغیچہ، بارہ بجے۔” ارم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ پیغام سمیرا کا نہیں تھا، کیونکہ اس کا نام فون میں محفوظ تھا۔ لیکن پھر یہ کس کا تھا؟ کیا زید اور سمیرا کسی تیسرے شخص کے ساتھ بھی ملے ہوئے تھے؟ یا یہ سمیرا کا کوئی نیا نمبر تھا؟ ارم کا دماغ تیزی سے چلنے لگا۔ پرانا باغیچہ، وہ جگہ جو گھر سے کچھ فاصلے پر تھی، جہاں رات کے وقت کوئی نہیں جاتا تھا۔ زید وہاں کیا کر رہا تھا؟
ارم نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کو کھولے گی۔ اگلی رات، جب زید نے کہا کہ اسے دفتر کے کام سے دیر ہو جائے گی، ارم نے اس کا پیچھا کیا۔ وہ سائے میں چھپتی ہوئی زید کی گاڑی کے پیچھے چلی۔ زید پرانے باغیچے کی طرف بڑھا، جہاں چاندنی رات میں درختوں کے سائے خوفناک دکھائی دے رہے تھے۔ سمیرا وہاں پہلے سے موجود تھی،۔ ارم نے چھپ کر ان کی بات سنی۔
سمیرا کی آواز دھیمی لیکن پرجوش تھی۔ “زید، ہم کب تک چھپتے رہیں گے؟ یہ لمحات ہی تو ہمارے ہیں۔” زید نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “سمیرا، بس تھوڑا صبر کرو۔ ارم کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے۔” ارم کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ اس کا دل ٹوٹ کر رہ گیا۔ یہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی.زید اور سمیرا واقعی اسے دھوکہ دے رہے تھے۔ اچانک اس کے پاؤں تلے ایک ٹہنی ٹوٹی، اور آواز نے زید اور سمیرا کو چونکا دیا۔ سمیرا نے لالٹین اٹھائی۔ “کون ہے وہاں؟” اس کی آواز میں خوف اور غصہ تھا۔ ارم سامنے آ گئی، اس کے چہرے پر غصہ، دکھ، اور غداری کا احساس تھا۔
“ارم!” زید کے چہرے پر حیرت اور خوف تھا۔ “تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” ارم کی آواز کانپ رہی تھی۔ “یہ سوال میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں، زید۔ اور تم، سمیرا۔ تم دونوں… یہ کیا کر رہے ہو؟” سمیرا نے ایک لمحے کے لیے زید کی طرف دیکھا، پھر ہنسی۔ “ارم، تم غلط سمجھ رہی ہو۔” لیکن اس کی آواز میں کوئی سچائی نہیں تھی۔ ارم نے زید کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ “زید، تم نے مجھ سے یہ کیا کیا؟” زید خاموش رہا، اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ ارم کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ وہ واپس مڑی اور باغیچے سے باہر نکل گئی، لیکن اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس دھوکے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ اس راز کو کھول کر وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنوارے گی، چاہے اسے کتنا ہی درد سہنا پڑے۔
ارم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، ہاتھ میں ایک پرانی چوڑی پکڑے، جو اس نے اپنی شادی کے دن پہنی تھی۔ وہ چوڑی اب اس کے لیے بس ایک یادگار تھی، ایک ایسی محبت کی جو اب زہر بن چکی تھی۔ اس کا دل زید اور سمیرا کے اس راز سے چھلنی تھا جو اس نے ان کے فون کے پیغامات میں دیکھا تھا۔ “سمیرا: کل رات تو بہت خاص تھی۔ آج رات پھر مل رہے ہیں نا؟” یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے، جیسے کوئی تیز دھار خنجر اس کے دل کو کاٹ رہا ہو۔ زید کی وہ جھکی ہوئی نظریں، سمیرا کی وہ چھپی ہوئی مسکراہٹ—یہ سب اس کے لیے ایک عذاب بن چکا تھا۔ اس نے سوچا، “یہ میرا گھر تھا، میری محبت تھی، اور اب یہ دونوں مجھ سے سب کچھ چھین رہے ہیں۔” لیکن ارم اب وہ کمزور عورت نہیں تھی جو چپ چاپ سب سہہ لیتی۔ اس کے اندر ایک آگ سلگ رہی تھی، ایک ایسی آگ جو بدلہ مانگتی تھی، لیکن ساتھ ہی ایک خوف بھی تھا جو اسے کھا رہا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کو سب کے سامنے لائے گی، چاہے اسے کتنا ہی درد سہنا پڑے۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ سمیرا کی وہ خود اعتمادی، اس کا وہ طنزیہ انداز. یہ سب ارم کے لیے ایک چیلنج تھا۔ سمیرا گھر میں ہر ایک کے دل پر راج کرتی تھی، جیسے وہ کوئی ملکہ ہو۔ وہ زید کی ماں کو اپنی باتوں سے رام کر چکی تھی، اور زید تو اس کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن چکا تھا۔ ارم نے سوچا کہ اسے کوئی ایسی چال چلنی ہوگی جو اس گھر کی اس سازش کو بے نقاب کر دے۔ لیکن سب سے پہلے اسے اپنی ساس کی حمایت چاہیے تھی، کیونکہ وہ اس گھر کی سب سے بڑی طاقت تھیں۔
ارم نے زید کی والدہ کو گھر بلایا۔ وہ جانتی تھی کہ ساس اس کی بات پر فوراً یقین نہیں کریں گی، کیونکہ سمیرا نے انہیں اپنی میٹھی باتوں اور چالاکی سے اپنے جال میں پھنسا رکھا تھا۔ جب ساس آئیں، ارم نے انہیں بیٹھایا اور دھیرے دھیرے اپنی کہانی شروع کی۔ “امی، زید اور سمیرا کے درمیان کچھ غلط چل رہا ہے۔ میں نے ان کے پیغامات دیکھے ہیں۔” اس نے زید کے فون سے نقل کیا ہوا پیغام دکھایا: “ارم کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے۔” ساس کا چہرہ سخت ہو گیا۔ “ارم، یہ کیا بکواس ہے؟ سمیرا ہماری بہو ہے، زید تیرا شوہر۔ تو ہمارے خاندان کی عزت کو کیوں داغ لگا رہی ہے؟” ارم نے کہا، “امی، یہ سچ ہے۔ وہ دونوں مجھے دھوکہ دے رہے ہیں۔” لیکن ساس نے اس کی بات کو جھٹلا دیا۔ “یہ سب جھوٹ ہے۔ سمیرا ہمارے گھر کی رونق ہے۔ وہ زید کی بھابی ہے، وہ کیسے اس کے ساتھ غلط کر سکتی ہے؟ تو سمیرا سے حسد کرتی ہے!” ارم حیران رہ گئی۔ ساس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ سمیرا کی باتوں کے جادو میں گرفتار ہوں۔ ارم نے سوچا، “یہ کیا ہو رہا ہے؟ سمیرا نے امی کو کیسے اپنے بس میں کر لیا؟” ساس نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “ارم، اگر تو اس گھر کی بہو رہنا چاہتی ہے، تو یہ باتیں چھوڑ دے۔ زید سے بات کرو، لیکن ہمارے خاندان کو بدنام نہ کر۔” یہ کہہ کر وہ اٹھ کر چلی گئیں۔ ارم کا دل ڈوب گیا۔ ساس کی باتوں میں ایک دھمکی تھی، لیکن ساتھ ہی ایک عجیب سی بے چینی بھی تھی، جیسے وہ خود اپنی باتوں پر یقین نہ رکھتی ہوں۔
ارم نے سوچا کہ سمیرا نے پورے گھر کو اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے۔ وہ زید کی ماں کو اپنی باتوں سے رام کرتی تھی، انہیں تحفے دیتی تھی، ان کی ہر بات مانتی تھی، لیکن ارم جانتی تھی کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا۔ سمیرا کی نیت اس گھر کی جائیداد پر تھی۔ اس نے زید کو اپنی باتوں میں پھنسا رکھا تھا، اور اب وہ زید کے بھائی کی بیوی ہونے کے باوجود اس گھر کی مالک بننا چاہتی تھی۔ ارم نے سوچا کہ وہ اس سازش کو بے نقاب کرے گی، لیکن اسے پہلے ثبوت جمع کرنے تھے۔
اسی شام، جب ارم گھر کے کاموں میں مصروف تھی، اچانک بجلی کی تاروں سے ایک عجیب سی آواز آئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے کمرے کی دیوار سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ وہ چیخ پڑی اور فوراً بجلی کا مین سوئچ بند کیا۔ گھر میں آگ لگتے لگتے بچ گیا، لیکن ارم کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس نے زید سے پوچھا، “یہ کیا تھا؟” زید نے بے نیازی سے کہا، “بس، شاید بجلی کا شارٹ سرکٹ۔ تم فکر نہ کرو۔” لیکن اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ ارم سمجھ گئی کہ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا. یہ زید اور سمیرا کی پہلی چال تھی۔ اس نے اپنے فون سے تاروں کی تصویر لی اور اپنی دوست، شازیہ، کو بھیجی۔ شازیہ ایک ڈاکٹر تھی اور ارم کی پرانی سہیلی تھی۔ ارم نے لکھا، “شازیہ، یہ کوئی اتفاق نہیں۔ زید اور سمیرا کچھ کر رہے ہیں۔” شازیہ نے فوراً جواب دیا، “ارم، تم ٹھیک ہو؟ یہ خطرناک ہے۔ میں کل صبح آتی ہوں۔”
اگلے دن، ارم باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی جب اس نے دیکھا کہ اس کے کھانے میں کچھ عجیب سا پاؤڈر ملا ہوا ہے۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے فوراً وہ کھانا پھینک دیا اور زید سے پوچھا، “یہ کیا تھا؟” زید نے حیرت سے کہا، “تم کیا کہہ رہی ہو؟ کچھ نہیں تھا۔” لیکن اس کی آواز میں جھوٹ صاف جھلک رہا تھا۔ ارم سمجھ گئی کہ یہ ان کی دوسری کوشش تھی.زہر کے ذریعے اسے ختم کرنے کی۔ اس نے اس پاؤڈر کی تصویر لی اور شازیہ کو بھیجی۔ شازیہ نے فون پر کہا، “ارم، یہ کوئی زہریلا مادہ ہو سکتا ہے۔ میں اسے لیبارٹری میں ٹیسٹ کرواؤں گی۔ تم فوراً گھر سے نکلو۔” لیکن ارم نے کہا، “شازیہ، میں اب بھاگ نہیں سکتی۔ مجھے ان کا سامنا کرنا ہے۔”
ارم نے شازیہ سے ملاقات کی۔ اس نے اسے سب کچھ بتایا.زید کا دھوکہ، سمیرا کا راز، بجلی کا شارٹ سرکٹ، اور اب یہ زہریلا پاؤڈر۔ شازیہ نے کہا، “ارم، یہ بہت خطرناک ہے۔ یہ کوئی عام دھوکہ نہیں۔ سمیرا اور زید تمہاری جان لینا چاہتے ہیں۔” ارم نے کہا، “لیکن کیوں؟” شازیہ نے سوچتے ہوئے کہا، “جائیداد۔ تمہارے سسرال کی جائیداد بہت بڑی ہے۔ سمیرا اسے ہتھیانا چاہتی ہے۔ وہ زید کو اپنی باتوں میں پھنسا کر اس گھر کی مالک بننا چاہتی ہے۔” ارم کے دل میں ایک عجیب سا خوف جاگا۔ کیا یہ سب جائیداد کے لیے تھا؟ اس نے شازیہ سے کہا، “لیکن امی میری بات کیوں نہیں مان رہی ہیں؟” شازیہ نے کہا، “سمیرا نے انہیں اپنی چالاکی سے اپنے بس میں کر رکھا ہے۔ وہ ان کی ہر بات مانتی ہے، انہیں تحفے دیتی ہے، ان کی خوشامد کرتی ہے۔ وہ امی کو تمہارے خلاف کر رہی ہے تاکہ جائیداد اس کے ہاتھ آ جائے۔”
ارم نے سوچا کہ اسے سمیرا کی اس سازش کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ اس نے شازیہ سے کہا، “ہمیں ثبوت جمع کرنے ہوں گے۔ اگر ہم زید اور سمیرا کی باتوں کو ریکارڈ کر لیں تو شاید امی کو یقین آ جائے۔” شازیہ نے کہا، “یہ خطرناک ہوگا، لیکن ہم کوشش کریں گے۔” ارم نے زید کے فون کو دوبارہ چیک کیا جب وہ نہانے گیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سمیرا کے نئے پیغامات ہیں: “زید، امی کو ہمارے ساتھ رکھو۔ وہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔” ارم کا خون کھول اٹھا۔ سمیرا نہ صرف زید کو اپنے جال میں پھنسا رہی تھی، بلکہ ساس کو بھی اپنی کٹھ پتلی بنا رہی تھی۔ ارم نے وہ پیغامات شازیہ کو بھیجے اور کہا، “ہمیں امی کو یہ دکھانا ہوگا۔” شازیہ نے کہا، “لیکن ارم، اگر امی نے یہ بھی ماننے سے انکار کر دیا تو؟ سمیرا نے ان پر اتنا اثر کر رکھا ہے کہ وہ کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں ہوں گی۔”
ارم نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ساس سے دوبارہ بات کرے گی۔ اس نے امی کو دوبارہ بلایا اور پیغامات دکھائے۔ “امی، یہ دیکھیں۔ سمیرا آپ کو استعمال کر رہی ہے۔” لیکن ساس نے پھر سے اس کی بات کو جھٹلا دیا۔ “ارم، تو بس سمیرا سے جلتی ہے۔ سمیرا ہمارے گھر کی بہو ہے۔ وہ ایسی عورت نہیں جو یہ سب کرے۔” ارم نے دیکھا کہ ساس کی آنکھوں میں وہی عجیب سی چمک ہے، جیسے وہ سمیرا کی باتوں کے جال میں پھنسی ہوئی ہوں۔ ارم نے سوچا کہ سمیرا کی یہ چالاکی کوئی عام بات نہیں۔ وہ گھر کے ہر فرد کو اپنی مٹھی میں کر رہی تھی، اور اس کا مقصد جائیداد تھی۔
اسی صبح، زید نے ارم کو اس کے میکے چھوڑا، جو دو گلیوں کے فاصلے پر تھا۔ پھر زید دفتر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے ارم کو فون کیا اور پوچھا، “ارم، تم کہاں ہو؟” ارم نے جواب دیا، “امی کے گھر، جہاں آپ نے صبح چھوڑا تھا۔” زید نے کہا، “ٹھیک ہے۔” اس کے بعد زید دفتر سے جلدی نکلا اور گھر جا کر کچن میں گیس کھول دی۔ پھر اس نے ارم کو فون کیا اور کہا، “ارم، گھر جاؤ، میں تمہارے لیے ایک سرپرائز لے کر آرہا ہوں۔ آج تمہیں چائے بنانی ہے، تم سرپرائز دیکھ کر بہت خوش ہو جاؤ گی۔” یہ سن کر ارم کا دل خوشی سے ناچ اٹھا، لیکن اس بے چاری کو کیا پتا کہ یہ زید اور سمیرا کی سازش تھی۔
ارم جلدی جلدی گھر پہنچی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے ایک عجیب سی بو آئی، جیسے گیس لیک ہو رہی ہو۔ لیکن وہ زید کے سرپرائز کے چکر میں اسے نظر انداز کر گئی۔ وہ سیدھا کچن میں گئی اور چولہا جلانے کے لیے ماچس کی تیلی سلگائی۔ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا، اور پورا کچن دھوئیں سے بھر گیا۔
باورچی خانے سے اچانک ایک زوردار دھماکے کی آواز بلند ہوئی، جیسے آسمان ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا ہو۔ شعلے چاروں طرف لپٹ اٹھے، دھواں ہوا میں گھل گیا، اور ارم کی ایک تیز چیخ فضا میں گونج کر خاموش ہو گئی۔ محلے والوں نے دروازہ توڑ کر گھر میں قدم رکھا تو ارم زمین پر پڑی تھی، اس کا جسم آگ سے بری طرح جھلسا ہوا تھا۔ اس کی سانسوں کی آواز اتنی کمزور تھی کہ جیسے زندگی اس سے رخصت ہو رہی ہو۔ ایک پڑوسی نے فوراً ایمبولینس بلائی، اور ارم کو ہسپتال لے جایا گیا۔ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی. آکسیجن ماسک لگایا، زخموں پر پٹیاں باندھیں، دل کی دھڑکن کو مانیٹر کیالیکن ارم کے زخم اتنے شدید تھے کہ وہ اس درد سے لڑ نہ سکی۔ ڈاکٹروں نے سر جھکا کر اعلان کیا کہ ارم اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ گیس کے دھماکے نے اس کی زندگی کو نگل لیا تھا۔
ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ ایک سرد اور اداس منظر پیش کر رہا تھا۔
ارم کی ساس چیختی ہوئی وارڈ میں داخل ہوئیں، “ہائے میری ارم! یہ کیا ہو گیا؟” لیکن ان کی چیخیں جیسے ایک تیار کردہ ڈرامہ تھیں۔ زید کوریڈور کے ایک کونے میں کھڑا تھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں، لیکن یہ آنسو جھوٹ کا پردہ تھے۔ وہ سب کے سامنے روتا رہا، اپنی ساس کو گلے لگاتا رہا، اور پڑوسیوں سے کہتا رہا، “یہ کیسے ہو گیا؟ ارم میری جان تھی!” لیکن اس کا دل ایک خفیہ راز سے جھوم رہا تھا۔ زید نے چھپ کر ارم کے نام پر پانچ کروڑ کی انشورنس پالیسی کرائی تھی، اور اب وہ اس رقم کو وصول کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ سمیرا وہاں خاموش کھڑی تھی، اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو اس کی کامیابی کی گواہی دے رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ان کی تیسری چال پہلے بجلی کا شارٹ سرکٹ، پھر زہریلا پاؤڈر، اور اب یہ گیس کا دھماکہ،کامیاب ہو چکی تھی۔ لیکن اسے زید کی انشورنس پالیسی کا راز نہیں پتہ تھا، ایک راز جو بعد میں اس کے لیے ایک طوفان بننے والا تھا۔
شازیہ، ارم کی قریبی دوست اور ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹر، اس وقت ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھی جب ارم کی موت کا اعلان ہوا۔ اس کا دل جیسے ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ وہ ارم کے ساتھ اپنی ہر یاد کو ذہن میں دوہرا رہی تھی.وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ راز جو ارم نے اسے بتائے تھے۔
شازیہ جانتی تھی کہ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ ارم نے اسے زید اور سمیرا کی سازش کے بارے میں سب کچھ بتایا تھا.بجلی کا شارٹ سرکٹ جو گھر کو آگ لگانے کی کوشش تھی، زہریلا پاؤڈر جو ارم کے کھانے میں ملا تھا، اور اب یہ گیس کا دھماکہ۔ شازیہ نے اپنے آنسوؤں کو روکا اور دل میں عہد کیا کہ وہ ارم کے قاتلوں کو بے نقاب کرے گی، چاہے اسے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ اس نے ہسپتال کے ریکارڈز چیک کیے، گیس دھماکے کی رپورٹ پولیس کو دی، اور ہر ممکن ثبوت جمع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن زید اور سمیرا نے سب کچھ اس طرح ترتیب دیا تھا کہ یہ ایک حادثہ لگے۔ پولیس نے تفتیش شروع کی، لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے کیس چند ہفتوں میں بند کر دیا گیا۔ شازیہ کا خون کھول رہا تھا، لیکن وہ جانتی تھی کہ اسے صبر سے کام لینا ہوگا۔ اس نے ایک ایسی چال سوچی جو زید اور سمیرا کو ان کے ہی جال میں پھنسا دے۔
ارم کی موت کی خبر جب اس کے ماں باپ تک پہنچی، تو ان کی دنیا جیسے پلٹ گئی۔ حاجی فیاض، ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر، جن کی زندگی کا محور ان کی اکلوتی بیٹی ارم تھی، اور نرگس، ایک سادہ گھریلو عورت، جن کے لیے ارم ان کی ہر خوشی تھی، اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے۔ جب وہ ہسپتال پہنچے، تو لاش دیکھ کر نرگس زمین پر گر پڑیں۔ “میری بیٹی! میری ارم!” وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھیں، ان کی آواز ہسپتال کے کوریڈورز میں گونج رہی تھی۔ حاجی فیاض نے اپنی بیوی کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن ان کے اپنے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ انہوں نے زید سے پوچھا، “یہ سب کیسے ہوا، زید؟” زید نے اپنی اداکاری جاری رکھی۔ “ابو، یہ ایک حادثہ تھا۔ ارم نے شاید چولہا کھلا چھوڑ دیا۔” لیکن حاجی فیاض کی آنکھوں میں شک کی ایک لکیر ابھری۔ وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتے تھے—ارم اتنی لاپرواہ نہیں تھی کہ گیس کھلی چھوڑ دے۔ نرگس نے زید کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “زید، تم نے میری بیٹی کو کیوں نہیں بچایا؟ تم اس کے شوہر تھے!” زید نے سر جھکا کر کہا، “امی، میں نے سب کچھ کیا، لیکن…” اس کی بات ادھوری رہ گئی، کیونکہ اس کی آواز میں جھوٹ کی جھلک صاف تھی۔
چند دن بعد، دبئی سے ایک فون آیا۔ یہ سمیرا کے شوہر، عاصم، کا تھا۔ عاصم ایک کامیاب کاروباری تھا، لیکن ایک رن مرید قسم کا آدمی، جو سمیرا کے سامنے کبھی زبان نہیں کھولتا تھا۔ جب اسے ارم کی موت کی خبر ملی، وہ فوراً پاکستان کے لیے روانہ ہوا۔ کراچی کے ایئرپورٹ پر اترتے ہی وہ سیدھا اپنے گھر پہنچا۔ سمیرا نے اس کا استقبال اپنی میٹھی باتوں اور آنسوؤں کے ڈرامے سے کیا۔ “عاصم، یہ ایک خوفناک حادثہ تھا۔ ارم ہماری بہن تھی، ہم سب اس سے محبت کرتے تھے۔” عاصم نے خاموشی سے سمیرا کی بات سنی، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سا شک جاگا۔ شازیہ نے عاصم سے ہسپتال میں ملاقات کی اور سب کچھ بتایا—زید اور سمیرا کی سازش، انشورنس پالیسی، جائیداد کا لالچ۔ اس نے ارم کے پیغامات اور تصاویر دکھائیں۔ عاصم نے کہا، “تمہیں یقین ہے کہ سمیرا اس میں ملوث ہے؟” شازیہ نے کہا، “ہاں، عاصم بھائی۔ ارم نے مجھے سب کچھ بتایا تھا۔” عاصم نے گہری سانس لی۔ “میں اس کی تہہ تک جاؤں گا۔ لیکن ہمیں ٹھوس ثبوت چاہیے۔” شازیہ نے کہا، “میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ہم مل کر انہیں بے نقاب کریں گے۔”
ایک دن زید کے دفتر میں ایک نئی لڑکی آئی۔ اس کا نام تھا نورین۔ نورین ایک ایسی عورت تھی جس کی خوبصورتی ہر ایک کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ اس کی گہری آنکھیں، ہلکی سی مسکراہٹ، اور نرم لہجہ زید کو موہ لیتا تھا۔ نورین کو زید کے کاروبار میں پروجیکٹ مینیجر کے طور پر رکھا گیا تھا۔ پہلی میٹنگ میں ہی زید نے اس سے زیادہ بات کی، اس کی ہر بات پر ہنسی، اور اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ نورین نے اس کی توجہ کو محسوس کیا، لیکن وہ ہر بار اپنی مسکراہٹ کے پیچھے اپنا ارادہ چھپا لیتی تھی۔ ایک عجیب بات تھی—جب نورین اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی تھی یا چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑتی تھی، تو اس کا انداز ارم سے ملتا جلتا تھا۔ زید نے ایک لمحے کے لیے سوچا، لیکن پھر اس خیال کو جھٹک دیا۔ “ارم تو مر چکی ہے،” اس نے خود سے کہا۔ لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی جاگ اٹھی۔ چند ہفتوں میں زید اور نورین کے درمیان قربت بڑھنے لگی۔ زید اسے لنچ پر لے جانے لگا، رات کو دیر تک میٹنگز کے بہانے اس کے ساتھ وقت گزارتا۔ ایک رات، جب وہ دفتر میں اکیلے تھے، زید نے نورین کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “نورین، تم مختلف ہو۔ تمہاری وجہ سے میری زندگی میں ایک نئی روشنی آئی ہے۔” نورین نے مسکراتے ہوئے کہا، “زید، ہم بس اچھے دوست ہیں۔ یہ سب ٹھیک نہیں۔” لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو زید کو اور قریب کھینچ رہی تھی۔
سمیرا کو زید کے بدلتے رویے کا احساس ہوا۔ ایک دن اس نے زید کے فون میں نورین کے پیغامات دیکھے۔ اس کا خون کھول اٹھا۔ اس نے زید سے لڑائی کی۔ “زید، تم اس لڑکی کے چکر میں ہو؟ کیا تم بھول گئے کہ ہم نے ارم کو کیوں ہٹایا؟ یہ جائیداد ہماری ہے!” زید نے سمیرا کو چپ کرایا۔ “سمیرا، نورین بس ایک وقت گزرنے کی بات ہے۔ جائیداد ہمارے پاس ہی رہے گی۔” لیکن سمیرا کو زید کی باتوں پر یقین نہیں تھا۔ ایک دن اسے زید کے دفتر سے انشورنس پالیسی کا کاغذ ملا، جس سے پتہ چلا کہ زید نے ارم کے نام پر پانچ کروڑ کی پالیسی کرائی اور رقم وصول کر لی۔ اس نے غصے سے زید سے کہا، “تم نے مجھ سے یہ راز کیوں چھپایا؟ ہم ہر سازش میں ساتھ تھے!” زید نے کہا، “سمیرا، یہ پیسے ہمارے لیے ہیں۔” لیکن سمیرا کے دل میں شک کا بیج بو دیا گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نورین کو راستے سے ہٹائے گی۔ اس نے ساس کو قائل کیا کہ نورین جائیداد کے لیے خطرہ ہے۔ ساس نے زید سے بات کی، لیکن زید نے ان کی بات ٹال دی۔
شازیہ نے انشورنس پالیسی کی کاپی حاصل کی اور پتہ لگایا کہ زید نے گیس چیک اپ روک دیا تھا۔ اس نے نورین کو زید کے قریب بھیجا تاکہ وہ راز کھولے۔ نورین نے زید سے شراب کے نشے میں اعتراف لیا، “میں نے ارم کو ہٹایا کیونکہ وہ ہمارے درمیان آ رہی تھی۔ سمیرا نے منصوبہ بنایا، اور میں نے اسے پورا کیا۔” نورین نے یہ بات ریکارڈ کر لی اور شازیہ کو بھیج دی۔ شازیہ نے عاصم اور ارم کے والدین کو ریکارڈنگ سنائی۔ حاجی فیاض نے کہا، “یہ ارم کی آواز ہے جو انصاف مانگ رہی ہے۔” عاصم نے کہا، “ہم اسے پولیس تک لے جائیں گے۔” لیکن اس کے دل میں سمیرا کا خوف اب بھی تھا۔
اس نے زید سے کہا، “اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو، تو اپنے راز بتاؤ۔” زید نے ہنسا، “نورین، تم میرے دل کی رانی ہو۔” لیکن نورین تیار تھی۔ شازیہ نے زید کے دفتر میں خفیہ مائیک لگایا، جس سے زید کی نورین سے بات ریکارڈ ہوئی، “سمیرا ہمارے راز جانتی ہے۔ اگر وہ بول پڑی تو ہم پکڑے جائیں گے۔” شازیہ نے یہ ریکارڈنگ پولیس کو دینے کا فیصلہ کیا۔ عاصم نے سمیرا سے آخری بار بات کی، “تم نے ارم کو مارا۔ سچ بولو، شاید سزا کم ہو۔” سمیرا ہنسی، “تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔” لیکن عاصم کا فیصلہ پختہ ہو چکا تھا۔
زید اپنے دفتر کے ایک کونے میں بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک خالی کافی کا مگ تھا، اور اس کا ذہن نورین کے خیالوں میں گم تھا۔ نورین—وہ عورت جس کی ایک نظر زید کے دل کو بے قرار کر دیتی تھی، جس کی ہر بات میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔ اس کی مسکراہٹ زید کو ایک نئی دنیا کی طرف کھینچ رہی تھی، لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ یہ دنیا اس کی تباہی کا آخری پڑاؤ ہے۔
سمیرا اپنے گھر کے لاؤنج میں بے چین قدم گھسیٹ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں زید کا ایک پرانا لیپ ٹاپ تھا، جسے اس نے چھپ کر چیک کیا تھا۔ اسے ایک ای میل ملی جس میں نورین نے زید سے کہا تھا، “ہم جلد ہی سب کچھ سنبھال لیں گے۔ بس تم اپنا وعدہ پورا کرو۔” سمیرا کا دل غصے سے دھک دھک کر رہا تھا۔ وہ زید کے کمرے میں طوفان کی طرح داخل ہوئی۔ “زید! یہ نورین کے ساتھ کیا چل رہا ہے؟ تم اس کے ساتھ ہماری جائیداد کو برباد کر دو گے!” اس کی آواز میں ایک ایسی تلخی تھی جو برسوں کے دھوکے اور سازشوں سے نکلی تھی۔ زید نے اس کی طرف ایک دیکھا۔ “سمیرا، تم ہر بات کو اپنی مرضی سے جوڑتی ہو۔ نورین میری زندگی کا نیا رنگ ہے۔ تم تو بس اپنی جائیداد کی فکر میں ڈوبی رہتی ہو!” سمیرا نے ایک کڑوی ہنسی کے ساتھ کہا، “جائیداد؟ زید، یہ جائیداد ہم نے مل کر بنائی! ارم کو ہٹانے کا منصوبہ میرا تھا، لیکن تم اسے بھول کر اس نورین کے پیچھے پڑ گئے!”
زید نے میز پر زور سے مگ رکھا اور غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “سمیرا، تم نے ہمیشہ مجھے اپنی انگلیوں پر نچایا! انشورنس کے پانچ کروڑ میری محنت سے ملے، اور اب میں فیصلہ کروں گا کہ ان کا کیا کرنا ہے!” سمیرا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ “پانچ کروڑ؟ تم نے مجھ سے یہ راز چھپایا؟ زید، ہم نے مل کر ارم کو راستے سے ہٹایا، اور اب تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو!” اس نے زید کے کندھے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا۔ “تم نے سوچا کہ تم نورین کے ساتھ نئی زندگی شروع کر لو گے؟ وہ تمہیں تباہ کر دے گی!” زید نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ “سمیرا، اگر تم نے منہ کھولا تو ہم دونوں جیل جائیں گے! تم بھی اس سازش میں برابر کی شریک ہو!” سمیرا نے ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “زید، اگر میں ڈوبوں گی تو تمہیں بھی لے ڈوبوں گی۔ یہ نورین کوئی عام لڑکی نہیں۔ مجھے لگتا ہے…” وہ رکی، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا شاک جاگا۔ “مجھے لگتا ہے وہ ارم ہے۔” زید ہنس پڑا۔ “سمیرا، تم پاگل ہو گئی ہو! ارم مر چکی ہے!” لیکن اس کے دل میں ایک ہلکی سی لرزش پیدا ہوئی۔ سمیرا نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا، “زید، تم خود اپنی قبر کھود رہے ہو۔”
شازیہ ہسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی تھی، جہاں وہ رات گئے تک اپنے پلان پر کام کر رہی تھی۔ اس کے پاس ایک نئی ویڈیو تھی جو نورین نے بھیجی تھی۔ اس میں زید اپنے ایک پرانے دوست، راشد، سے فون پر بات کر رہا تھا۔ “راشد، سمیرا اب کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔ اس نے ارم کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اب وہ مجھ پر الزام لگا رہی ہے۔ اگر وہ پولیس کے پاس گئی تو ہم دونوں پکڑے جائیں گے۔” شازیہ نے یہ ویڈیو سنی اور سوچا، “زید, تم نے خود اپنا راز کھول دیا۔” اس کے پاس ایک اور ثبوت بھی تھا. ایک پرانا گھریلو ملازم, جو زید کے گھر کام کرتا تھا, اس نے شازیہ کو بتایا کہ زید نے اسے گیس پائپ کی مرمت سے روکا تھا کیونکہ “اسے کچھ اور کرنا تھا۔” یہ ثبوت شازیہ نے ایک پرائیویٹ تفتیش کار سے تصدیق کروائے تھے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا راز وہ تھا جو صرف اسے معلوم تھا.ارم زندہ تھی۔ نورین, جو زید کے دل میں جگہ بنا چکی تھی, دراصل ارم تھی, جس کی جان شازیہ نے اس رات ہسپتال میں بچائی تھی۔
حاجی فیاض اور نرگس اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی جنگ لڑتے لڑتے تھک چکے تھے۔ وہ ہر روز مسجد میں دعائیں مانگتے, اپنی بیٹی کی یادوں کو دل سے لگائے رکھتے۔ ایک رات, نرگس نے حاجی فیاض سے کہا, “فیاض, میرا دل کہتا ہے کہ ارم کہیں ہے۔ وہ ہمارے پاس واپس آئے گی۔” حاجی فیاض نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا, “نرگس, ہماری بیٹی کو انصاف ملے گا۔” شازیہ ان سے باقاعدگی سے ملتی, لیکن اس نے وہ راز چھپایا جو ان کی دنیا بدلنے والا تھا۔
عاصم, سمیرا کا شوہر, جو ہمیشہ اس کی باتوں کے آگے جھکتا تھا, اب اپنے دل کے زخموں سے لڑ رہا تھا۔ شازیہ نے اسے ایک خفیہ ملاقات میں زید اور سمیرا کے راز سے آگاہ کیا۔ اس نے اسے ایک ای میل دکھائی جس میں سمیرا نے زید کو لکھا تھا: “ہم نے ارم کو ہٹایا, لیکن اب تم مجھے تنہا چھوڑ رہے ہو۔” عاصم کا دل جیسے پتھر ہو گیا۔ اس نے شازیہ سے کہا, “شازیہ, یہ سچ ہے؟ میری بیوی نے یہ سب کیا؟” شازیہ نے کہا, “عاصم بھائی, تم سمیرا کو جانتے ہو۔ اب فیصلہ تمہارا ہے۔” عاصم نے گھر واپس جا کر سمیرا سے کہا, “تم نے مجھے دھوکہ دیا, سمیرا۔ زید کے ساتھ تمہارا راز اب راز نہیں رہا۔” سمیرا نے طنزیہ ہنسی۔ “عاصم, تم کچھ نہیں کر سکتے۔ تم وہی کمزور عاصم ہو۔” لیکن عاصم نے اس کی طرف ایک آخری بار دیکھا۔ “سمیرا, یہ تمہاری آخری جیت ہے۔ میں جا رہا ہوں۔” اس نے اپنا سامان اٹھایا اور دبئی کی فلائٹ لے لی, اس گھر اور اس شہر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر۔
نورین زید کے دفتر میں اپنی آخری چال چل رہی تھی۔ اس نے زید کو اس قدر اپنی طرف مائل کر لیا تھا کہ وہ اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک شام, زید نے نورین سے کہا, “نورین, میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں گا۔ یہ جائیداد, یہ پیسے, سب تمہارے نام کر دوں گا۔” نورین نے ایک پراسرار ہنسی کے ساتھ کہا, “زید, یہ بہت بڑی بات ہے۔ لیکن اس کے لیے تمہیں مجھ پر پورا یقین کرنا ہوگا۔” زید نے اپنے انشورنس اکاؤنٹ کا خفیہ کوڈ نورین کو دے دیا, جس میں پانچ کروڑ روپے تھے۔ نورین نے اپنی چالاکی سے وہ ساری رقم ایک خفیہ آف شور اکاؤنٹ میں منتقل کر دی۔ جب زید کو پتہ چلا, وہ پاگل ہو گیا۔ اس نے نورین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی, لیکن وہ غائب ہو چکی تھی۔ اس کا فون بند تھا, اس کا گھر خالی تھا۔ زید نے اپنے دوست راشد سے کہا, “راشد, مجھے لگتا ہے نورین ارم تھی۔ وہ زندہ ہے!” راشد ۔ “زید, تم پریشان ہو۔ ارم مر چکی ہے۔” لیکن زید کے دل میں ایک خوفناک شک جاگ اٹھا۔
سمیرا نے زید کے اس نقصان کی خبر سنی تو وہ زید کے گھر پہنچی۔ “زید, تم نے ہمارے پانچ کروڑ ڈبو دیے! زید نے چیخ کر کہا, “سمیرا, مجھے لگتا ہے وہ ارم ہے! وہ زندہ ہے!” سمیرا نے اس کی طرف ایک زہریلی نظروں سے دیکھا۔ اگر یہ سچ ہے, تو ہم دونوں تباہ ہو جائیں گے!” دونوں کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہوئی جو برسوں کے دھوکے اور نفرت سے بھری تھی۔ سمیرا نے کہا, “زید, اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو میں پولیس کو سب بتا دوں گی!” زید نے دھمکی دی, “سمیرا, اگر تم نے منہ کھولا تو تم بھی جیل جاؤ گی!” لیکن ان کی یہ لڑائی ان کی آخری لڑائی تھی۔
شازیہ نے اپنے پلان کا آخری مرحلہ شروع کیا۔ اس نے پولیس کو زید کی ویڈیو, انشورنس کے کاغذات, اور گھریلو ملازم کے بیان کے ثبوت دیے۔ پولیس نے زید اور سمیرا کو گرفتار کر لیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا۔ زید نے چیخ کر کہا, “نورین ارم ہے! وہ زندہ ہے! اس نے ہمیں پھنسایا!” سمیرا نے بھی چیخا, “ہاں, وہ ارم ہے! ہم نے اسے دیکھا تھا!” لیکن جج نے ان کی بات کو مسترد کر دیا۔ “آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ یہ سب آپ کی کہانی ہے۔” پولیس نے بھی ان کے دعوے کو نظر انداز کیا, کیونکہ ہسپتال کے ریکارڈز میں ارم کی موت درج تھی۔ عدالت نے زید اور سمیرا کو قتل کی کوشش, دھوکہ دہی, اور جائیداد کی ہیرا پھیری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ زید نے جیل جاتے ہوئے چیخا, “ارم, تم کہاں ہو؟” لیکن اس کی آواز فضا میں گم ہو گئی۔
اس رات, شازیہ نے حاجی فیاض اور نرگس کو اپنے گھر بلایا۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی امید کھو چکے تھے۔ شازیہ نے کہا, “ابو, امی, میں آپ کو ایک راز بتاتی ہوں۔ ارم زندہ ہے۔ اس رات جب وہ ہسپتال آئی, اس کی حالت خراب تھی, لیکن وہ زندہ تھی۔ اسی رات ایک دوسی لاش ہسپتال آئی, جو ارم سے ملتی جلتی تھی۔ میں نے اپنے ایک دوست ڈاکٹر کے ساتھ مل کر وہ لاش بدل دی, تاکہ سب کو لگے کہ ارم مر چکی ہے۔” حاجی فیاض اور نرگس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ “ارم زندہ ہے؟” نرگس نے روتے ہوئے پوچھا۔ اسی لمحے, دروازہ کھلا, اور ارم اندر آئی۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو اس کی ماں نے برسوں پہلے دیکھی تھی۔ “امی, ابو, میں آپ کی ارم ہوں۔” نرگس نے اسے گلے لگایا, اور حاجی فیاض کے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے۔ ارم نے کہا, “امی, ابو, میں نے زید اور سمیرا سے بدلہ لے لیا۔ انشورنس کے پیسے میرے پاس ہیں, اور وہ اب جیل میں ہیں۔”
ارم نے انشورنس کے پانچ کروڑ سے اپنے ماں باپ کے لیے ایک نیا گھر بنایا اور ایک خیراتی ادارہ شروع کیا جہاں غریب خواتین کو تعلیم اور صحت کی سہولیات دی جاتی تھیں۔ شازیہ نے اپنی ملازمت جاری رکھی, لیکن اب وہ ایک ہیرو کی طرح جانی جاتی تھی۔ عاصم دبئی میں ایک نئی زندگی شروع کر چکا تھا, لیکن اس کے دل میں ہمیشہ ایک خلا رہا۔ زید اور سمیرا جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی باقی زندگی کاٹ رہے تھے, جہاں وہ ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے۔ ارم ایک شام اپنے گھر کی چھت پر کھڑی تھی, اس نے سوچا, “میں نے اپنی زندگی واپس لی۔ اب یہ میری ہے۔” اس کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی تھی. ایک عورت کی جو اپنی موت سے لڑی اور فتح یاب ہوئی۔

ختم شد